2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsانوار البیان

Ayah 2:198

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ فَاِذَاۤ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ١۪ وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْ١ۚ وَ اِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 2:198 in the Quran reader

اس کا تمہیں کچھ گناہ نہیں کہ (حج کے دنوں میں بذریعہ تجارت) اپنے پروردگار سے روزی طلب کرو اور جب عرفات سے واپس ہونے لگو تو مشعر حرام (یعنی مزدلفہ) میں خدا کا ذکر کرو اور اس طرح ذکر کرو جس طرح اس نے تم کو سکھایا اور اس سے پیشتر تم لوگ (ان طریقوں سے) محض ناواقف تھے

جناح۔ گناہ۔ جنوح سے ماخوذ ہے جس کے معنی ایک طرف مائل ہونے کے ہیں۔ اس لئے وہ گناہ جو انسان کو حق سے مائل کر دے اور دوسری طرف جھکادے۔ جناح سے موسوم ہوا۔ اور پھر ہر گناہ کے لئے اس کا ستعمال ہونے لگا۔ مائل ہونے کے معنی میں : وان جنحوا للسلم فاجنح لہا (8:61) اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہوجاؤ۔ ان تبتغوا فضلا۔ میں ان مصدریہ ہے۔ تبتغوا مضارع جمع مذکر ابتغاء (افتعال) مصدر اصل میں تبتغون تھا۔ ان کے عمل سے نون اعرابی حذف ہوگیا۔ تم چاہتے ہو، تم ڈھونڈھتے ہو، تم تلاش کرتے ہو۔ فضلا اسم فعل (حالت نصب) تجارت کے ذریعے سے رزق۔ روزی۔ اور بھی کئی معانی میں مستعمل ہے۔ روزی کی تلاش کے معنی میں اور جگہ قرآن مجید میں ہے فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ (62:10) پھر جب نماز ہوچکے تو زمین پر چلو پھر و اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ ولا خلاف بین العلماء فی ان المراد بالفضل المذکور فی الایۃ ربح التجارۃ (اور اس بارے میں علماء میں کوئی اختلاف نہیں کہ آیت مذکور میں الفضل سے مراد منفعت تجارت ہے) ۔ مصدر سے ہے۔ مادہ فیض ہے (باب ضرب) فاض الماء کے معنی کسی جگہ سے پانی اچھل کر بہہ نکلنے کے ہیں۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے تری اعینھم تفیض من الدمع (5:83) تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں۔ اور افاض (باب افعال) اناءہ کے معنی برتن کو لبالب بھر دینے کے ہیں کہ پانی اس سے نیچے گرنے لگے۔ اور افضتہ کے معنی اوپر سے گرانے اور بہانے کے ہیں چناچہ قرآن مجید میں ہے ان افیضوا علینا من الماء (7:50) کہ کسی قدر ہم پر پانی بہاؤ۔ وفاض الخبر خبر کا منتشر ہونا یا پھیلنا۔ اور اسی لئے حدیث منتفیض کے معنی منتشر یعنی عام پھیلی ہوئی بات کے ہیں۔ راغب اصفہانی لکھتے ہیں : افاضۃ کے معنی مجمع کثیر کے یکبارگی لوٹنے کے ہیں اور یہ فیضان الماء (یعنی پانی کا زور سے بہہ نکلنا) کے ساتھ تشبیہ دے کر بولا جاتا ہے۔ باوجد اس تمام تشریح کے اس لفظ کا استعمال حاجیوں کے عرفات میں قیام کے بعد مزدلفہ یا منی کی طرف واپس لوٹنے کے لئے مخصوص ہے چناچہ معجم الوسیط میں یوں تحریر ہے (افاض الحجاج من عرفات الی منی : ای انصرفوا الیہا بعد انقصاء الموقف یعنی وہ (حجاج) واپس لوٹے اس (منی) کی طرف وقوف (عرفات) پورا کرلینے کے بعد واپسی۔ اور افاضۃ : انصراف الحجاج عن الموقف فی عرفۃ۔ حاجیوں کی وقوف عرفات کے بعد واپسی۔ اور طواف الافاضۃ طواف یوم النحر ینصرف الحجاج من منی الیٰ مکۃ فیطوف ویعود۔ اور طواف افاضہ : قربانی کے دن کا طواف جب حاجی منی سے لوٹ کر مکہ جا کر طواف کرتے ہیں۔ اور پھر واپس (منی کی طرف) مڑتے ہیں۔ المشعر الحرام۔ موصوف و صفت۔ المشعر۔ اسم ظرف ہے بمعنی علامت، نشان، مشاعر الحج کے معنی رسوم حج ادا کرنے کی جگہ کے ہیں۔ اس کا واحد مشعر ہے اور انہیں شعائر الحج بھی کہا جاتا ہے اس کا واحد شعیرہ ہے۔ المشعر الحرام۔ حرمت والا نشان حج بمعنی مزدلفہ۔ فائدہ : عرفات ۔ مکہ معظمہ سے جو سڑک مشرق کی جانب طائف کو جاتی ہے اس پر مکہ سے کوئی بارہ میل کے فاصلہ پر کئی مربع میل کے رقبہ کا ایک طویل و عریض میدان ہے اس عرفات کہتے ہیں اسی نام کی ایک پہاڑی بھی اسی میدان میں واقع ہے جو سطح زمین سے کوئی دو صد گز بلند ہے۔ مسجد نمرہ اسی میدان میں واقع ہے جہاں ظہر اور عصر کی نمازیں اکٹھی پڑھی جاتی ہیں اس مسجد کو مسجد ابراہیم یا مسجد عرفہ بھی کہا جاتا ہے عرفات کے اصل پہاڑی سلسلہ سے ذرا الگ میدان عرفات سے شمال مشرق میں سرخ رنگ کی ایک مخروطی پہاڑی ہے جسے جبل الرحمت کہتے ہیں۔ (2) مزدلفہ یا مشعر الحرام۔ جب عرفات سے منی کی طرف جائیں اور عرفات کے دونوں کنارے چھوڑ دیں تو مزدلفہ شروع ہوجاتا ہے جس کی حد مازماں سے لے کہ محسر تک ہے اور دو پہاڑوں کے درمیان یہ سارا علاقہ مزدلفہ ہے خود مازمان اور وادی محسر مشعر الحرام میں شامل نہیں ۔ حاجی حضرات یہاں مغرب و عشاء کی نمازیں اکٹھی کرکے پڑھتے ہیں۔ واذکروہ کما ھدکم۔ واؤ عاطفہ ہے۔ اذکروا فعل امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔ کما میں کاف تشبیہ کا ہے اور ما مصدریہ ہے ھدی فعل ماضی واحد مذکر غائب ضمیر فاعل کا مرجع بھی اللہ ہے۔ کم ضمیر مفعول مرجع مذکر حاضر۔ اور یاد کرو اسے جس طرح اس نے تم کو بتایا ہے۔ وان کنتم من قبلہ لمن الضالین ۔ واؤ حالیہ ہے ان محففہ ہے اصل میں ان تھا قبلہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ہدایت ہے۔ لام فارقہ ہے الضالین ۔ الضال کی جمع ہے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ ضلال (باب ضرب) مصدر گمراہ ہونا۔ راہ حق سے ہٹ جانا۔ راستہ سے بھٹک جانا فراموش کرنا۔ گمراہ کرنا۔ (کوشش کا) برباد ہوجانا۔ (جبکہ ضلال کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں خواہ وہ ہٹنا سہوا ہو یا عمدا۔ تھوڑا ہو یا زیادہ۔ تو جس سے بھی کسی قسم کی غلطی سرزد ہوگی اس کے متعلق ہم ضلالت کا لفظ استعمال کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء اور کفار دونوں کی طرف ضلالت کی نسبت کی گئی ہے۔ گو ان دونوں قسم کی ضلالت میں بون بعید پایا جاتا ہے۔ دیکھئے آنحضرت ﷺ کو آیت کریمہ : ووجدک ضالا فھدی (93:7) میں ضالا فرمایا ہے ۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ ہدایت نبوت عطا ہونے سے قبل تم اس راہنمائی سے محروم تھے ۔ راغب) ترجمہ آیت کا یہ ہوگا : اور بیشک اس سے قبل تم ناواقفوں میں سے تھے۔ نہ جاننے والوں میں سے تھے۔ (حق کی طلب میں تھے)
Ayah 2:199

ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:199 in the Quran reader

پھر جہاں سے اور لوگ واپس ہوں وہیں سے تم بھی واپس ہو اور خدا سے بخشش مانگو بیشک خدا بخشنے والا اور رحمت کرنے والا ہے

(2:199) ثم۔ حرف عطف ہے ماقبل سے مابعد کے متؤخر ہونے پر دلدلت کرتا ہے خواہ تاخر زمانی ہو یا رتبہ کے لحاظ ہو۔ مولانا عبد الماجد دریا آبادی (رح) رقمطراز ہیں۔ ثم۔ یہاں تاخر زمانی کے لئے نہیں فصل کلام کے لئے ہے۔ یعنی ایک بات ختم ہوئی اب دوسری ہدایت سنو ! جیسے اردو میں موقع پر ” اچھا تو “ یا ” ہاں تو “ کہتے ہیں۔ جملہ ثم افیضوا ۔۔ کا عطف جملہ سابقہ فاذا افضتم پر ہے اور ثم یہاں تراخی فی التربۃ کے لئے آیا ہے مطلب یہ کہ جب تم عرفات سے وقوف عرفہ کے بعد منی کی طرف واپس مڑو تو مشعر الحرام کے پاس اللہ کا ذکر کرو۔ ہاں تو اس سے بھی بڑھ کر بات یہ ہے کہ تم وہاں سے مڑ اکرو جہاں سے لوگ واپس مڑا کرتے ہیں (یعنی عرفات سے نہ کہ مزدلفہ سے) ۔ افیضوا۔ فعل امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر، افاضۃ (افعال) مصدر سے۔ تم واپس مڑو، تم بہاؤ (پانی کو) یہاں اول الذکر معنی مراد ہیں۔ اس امر کے مخاطبین قریش ہیں جو حمس (شدر والے اور حیثیت والے کہلاتے تھے اور وہ اور ان کے حلیف عرفات میں دوسرے اہل عرب کے ساتھ ٹھہرنے کو عار سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اہل اللہ ہیں۔ اور اس کے حرم کے رہنے والے ہیں اس لئے ہم حرم کو نہیں چھوڑتے اور یہاں سے نہیں نکلتے۔ پھر جب لوگ عرفات سے چلتے تھے تو حمس مزدلفہ سے کوچ کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ مثل اوروں کے عرفات میں ٹھہریں اور وہاں وقوف کے بعد سب کے ساتھ مزدلفہ جائیں اور پھر وہاں سے واپس منی جائیں۔ من حیث۔ جہاں سے۔ جس جگہ سے۔ حیث اسم ظرف مکان ہے اور مبنی برضمہ ہے۔ الناس۔ سے حمس کے سوائے تمام لوگ مرا ہیں۔ المراد من الناس الجنس (روح المعانی) الناس سے مراد جنس انسان ہے۔ ضماک نے کہا ہے کہ الناس سے یہاں مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مراد ہیں جیسے ام یحسدون الناس (4:54) میں الناس سے مراد حضرت محمد ﷺ مراد ہیں ۔
Ayah 2:200

فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا١ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ Open ayah 2:200 in the Quran reader

پھر جب حج کے تمام ارکان پورے کر چکو تو (منی میں) خدا کو یاد کرو جس طرح اپنے باپ دادا کو یاد کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بعض لوگ ایسے ہیں جو (خدا سے) التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو (جو دینا ہے) دنیا ہی میں عنایت کر، ایسے لوگوں کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں

(2:200) قضیتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ قضاء مصدر (باب ضرب) قضی مادہ۔ جب تم نے ادا کرلیا۔ جب تم پورے کر چکو۔ مناسککم۔ مضاف مضاف الیہ۔ اپنے (حج کے) ارکان منسک واحد۔ کذکرکم اباء کم۔ کاف حرف تشبیہ ہے ذکر کم۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف۔ اباء کم۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ۔ تمہارے اپنے آباء اجداد کے ذکر کی طرح یعنی جس طرح تم اپنے باپ دادا کو یاد کرتے ہو اسی طرح اللہ کا ذکر کرو۔ او۔ یہاں اختیار کے معنی میں نہیں۔ بلکہ ترقی کے لئے ہے اور بل کا ہم معنی ہے یعنی بلکہ ان کو ذکر سے بھی بڑھ کر اللہ کو یاد کرو۔ اشد کرا۔ صاحب تفسیر حقانی فرماتے ہیں : اشدذکرا میں اگرچہ لوگوں نے بہت قیل وقال کی ہے مگر صاف قول یہ ہے کہ اشد منصوب ہے حال ہونے کی وجہ سے اور یہ حال ذکرا سے ہے۔ اور ممکن ہے کہ اس کی صفت ہو۔ اور ذکرا تمیز ہے اشد کی۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ خلاق۔ حصہ۔ اپنے خلق اور عادت سے جو فضیلت انسان حاصل کرے اس کا نام خلاق ہے۔ حسنۃ۔ بھلائی یہ نیکی۔ نعمت جو مسرت کا سبب ہو۔ سیئۃ کی ضد ہے۔
Ayah 2:201

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 2:201 in the Quran reader

اور بعضے ایسے ہیں کہ دعا کرتے ہیں کہ پروردگار ہم کو دنیا میں بھی نعمت عطا فرما اور آخرت میں بھی نعمت بخشیو اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھیو

(2:201) قنا۔ ق۔ نا۔ ق۔ فعل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے اور نا ضمیر مفعول جمع متکلم ۔ وقائ۔ وقایۃ۔ وقی۔ واقیۃ۔ مصادر (لفیف مفروق) بمعنی بچانا۔ پرہیز کرنا ۔ احتیاط کرنا۔ وقی یقی (باب ضرب سے) کسی دکھ دینے والی ضرر رساں چیز سے بچانا۔ ق نا۔ تو ہم کو بچا۔ تو ہم کو محفوظ رکھ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے : یایھا الذین امنوا قوا انفسکم واہلیکم نارا (66:6) اے ایمان والو ! اپنے رب کو اور اپنے اہل و عیال کو آتش (جن ہم) سے بچاؤ۔ وفی سے مضارع اصل میں یوقی تھا۔ لفیف مفروق میںکلمہ کی تعلیل مثل معتل الفاء (مثال کے ہوتی ہے۔ لہٰذا مثال کی تعلیل کے مطابق کہ مضارع مکسور العین میں عین کلمہ سے پہلے جو واؤ واقع ہوتا ہے وہ حذف ہوجاتا ہے۔ جیسے وعد یوعد سے یعد لہٰذا یوقی یقی ہوگیا۔ لفیف مفروق کے لام کلمہ کی تعلیل مثل ناقص یائی ہوتی ہے لہٰذا مثل رمی میں ی پر ضمہ دشوار ہونے کی وجہ سے حذف ہوجاتا ہے یفیف مفروق کے لام کلمہ میں تعلیل کی وجہ سے یقی یقی ہوگیا۔ اسی کے مطابق صیغہ امر بنانے کے لئے علامت مضارع کو حذف کیا۔ اور آخر میں حرف علت کو گرا دیا تو ق رہ گیا جو امر واحد مذکر حاضر کا صیغہ بن گیا۔
Ayah 2:202

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 2:202 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے لئے ان کاموں کا حصہ (یعنی اجر نیک تیار) ہے اور خدا جلد حساب لینے والا (اور جلد اجر دینے والا) ہے

(2:202) اولئک۔ اسم اشارہ جمع مذکر۔ وہ سب۔ اس میں مشار الیہم وہ مؤمنین ہیں جو دنیا اور آخرت دونوں میں حسنۃ کی دعا کرتے ہیں۔ نصیب۔ حسہ۔ خواہ ثواب کا ہو۔ میراث کا ہو۔ یا حکومت کا ہو۔ کسبوا۔ ماضی جمع مذکر غائب انہوں نے کمایا۔ کسب۔ کمائی کرنا۔ نفع کے لئے کوئی کام کرنا۔ خواہ نتیجہ اچھا نکلے یا برا۔ قرآن مجید میں کسب کا استعمال اس طرح کیا گیا ہے۔ (1) قلبی ارادہ اور نیت کی پختگی جیسے ولکن یؤاخذکم بما کسبت قلوبکم (2:225) لیکن جو قسمیں قصد دل سے کھاؤ گے ان پر مواخذہ کرے گا۔ (2) اچھا برا قول یا فعل ۔ جیسے : ثم توفی کل نفس ما کسبت (3:161) پھر ہر شخص کو اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ (3) نیک کام کرنا۔ جیسے لہا ما کسبت (3:161) اچھا کام کرے گا تو اس کو اس کا فائدہ ملے گا ۔ (4) برے کام کرنا۔ جیسے ولا تکسب کل نفس الا علیہا (6:65) اور جو (کوئی برا کام کرتا ہے تو اس کا ضرر اسی کو ہوتا ہے۔ (5) مال کمانا۔ جیسے انفقوا من طیبت ما کسبتم (2:267) پاکیزہ اور عمدہ مال جو تم کماتے ہو۔ اس میں سے (خدا کی راہ میں) خرچ کرو واللہ سریع الحساب۔ واؤ عاطفہ۔ سریع۔ جلدی کرنے والا۔ سرعۃ (باب فتح) سے جس کے معنی جلدی کرنے کے ہیں۔ بروزن فعیل بمعنی فاعل صفت مشبہ کا صیغہ ہے سریع الحساب ترکیب اضافی ہے سریع مضاف الحساب مضاف الیہ۔ جلدی حساب کرنے والا۔ مضاف مضاف الیہ مل کر اللہ مبتدا کی خبر ہے۔ اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔
Ayah 2:203

وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۚ وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۙ لِمَنِ اتَّقٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 2:203 in the Quran reader

اور (قیام منی کے) دنوں میں (جو) گنتی کے (دن ہیں) خدا کو یاد کرو اگر کوئی جلدی کرے (اور) دو ہی دن میں (چل دے) تو اس پر بھی کچھ گناہ نہیں اور جو بعد تک ٹھیرا رہے اس پر بھی کچھ گناہ نہیں یہ باتیں اس شخص کے لئے ہیں جو (خدا سے) ڈرے اور تم لوگ خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ سب اس کے پاس جمع کئے جاؤ گے

(3:203) فی ایام معدودات دن جو معدودے چند ہیں۔ چند گنتی کے دن، چند دن گنتی کے۔ فائدہ : حج کا ذکر ہو رہا ہے مزدلفہ میں رات بسر کرکے دسویں تاریخ ذوالحجہ کو صبح سویرے بعد از نماز فجر وہاں سے نکل کر منی پہنچے۔ 10 /11/12 تاریخ کو منیٰ میں قیام کیا اور ذکرو اذکار میں مشغول رہے۔ اور دیگر مناسک حج کی ادائیگی کی مثلاً دس تاریخ کو جمرہ عقبہ کی رمی کی ، قربانی دی، سرمنڈایا، احرام سے باہر آئے، طواف زیارت کیا۔ صفا ومروہ کے درمیان سعی کی۔ اور واپس منیٰ آئے۔ اب منیٰ سے مکہ کی طرف واپسی کی دو صورتیں ہیں اگر کوئی شخص دسویں تاریخ کے بعد صرف دو دن قیام کرکے بارہ تاریخ کی شام کو مکہ معظمہ چلا جائے تو بھی درست ہے اور جس کا جی چاہیے بارہ تاریخ کو وہیں ٹھہرے۔ اور تیرہ تاریخ کی شام کو مکہ معظمہ واپس مڑے تب بھی درست ہے فمن تعجل فی یومین ۔۔ لمن اتقی میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ ٍ 9 کی فجر تا 13 ذوالجحہ کی عصر تک ایام تشریق کہلاتے ہیں۔ تعجل۔ ماضی واحد مذکر غائب تعجل (تفعل) مصدر اس نے جلدی کی۔ اس نے عجلت سے کام لیا من تعجل فی یومین۔ جو شخص جلدی کرکے دو دن میں ہی چلا گیا۔ یعنی یوم النحر (دسویں تاریخ کے بعد 11 اور 12 کو منیٰ میں ٹھہر کر 12 کی شام کو مکہ معظمہ میں واپس ہوگیا۔ فلا اثم علیہ اس پر کوئی حرج نہیں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع من موصولہ ہے۔ من تاخیر۔ تاخر۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ تاخر (تفعل) مصدر پیچھے رہنا۔ پیچھے ہوجانا۔ وہ پیچھے رہ گیا۔ یا پیچھے رہا۔ جس نے تاخیر کی۔ یعنی 12 تاریخ کو بھی منیٰ میں ٹھہرا رہا اور 12 کی شام کو واپس ہوا۔ لمن اتقی۔ ای ذلک التخیر ونفی الاثم للحاج المتقی یعنی اس تاخیر میں اس حاجی کے لئے کوئی حرج نہیں جو دل میں خوف خدا رکھتا ہو۔ اور جس نے یہ تاخیر تقویٰ کی خاطر کی ہو۔ تحشرون ۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر، تم اکٹھے کئے جاؤ گے۔ حشر (باب نصر، ضرب) مصدر ۔
Ayah 2:204

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ Open ayah 2:204 in the Quran reader

اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنے مافی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے

(2:204) ومن الناس من یعجبک قولہ۔ واؤ عاطفہ ہے اس جملہ کا عطف جملہ فمن الناس من یقول ۔۔ (آیہ 200) پر ہے۔ آیہ 200 میں ذکر تھا کہ بعض ایسے بھی ہیں کہ جو حج کے ایام اور ایسے مواضع میں صرف دنیا خدا تعالیٰ سے مانگتے ہیں کس لئے کہ آخرت اور وہاں کی نعمتوں کا ان کو یقین ہی نہیں۔ اور بعض ایسے بھی ہیں کہ دنیا و آخرت دونوں کا سوال کرتے ہیں۔ اب یہاں ان دونوں گروہوں کی تشریح ہے۔ من تبعیضیہ ہے اور من موصولہ۔ یعجبک۔ مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ اعجاب (افعال) مصدر ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر تجھ کو بھلا لگتا ہے۔ تجھ کو پسند آتا ہے۔ فی الحیوۃ الدنیا۔ متعلق قول سے ہے۔ ای فی امور الدنیا و اسباب المعاش یعنی اس کی گفتگو بابت امور دینا و اسباب مواش۔ مطلب یہ ہے کہ دنیاوی امور کے متعلق یا اس کی غرض سے اظہار دعوی محبت اور آپ سے اظہار اسلام وہ ایسے فصیح اور شیریں کلام میں کرتا ہے جو آپ کو متاثر کرتا ہے۔ یشھد اللہ۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اشھاد (افعال) مصدر اللہ۔ مفعول ۔ وہ اللہ کو گواہ بناتا ہے۔ یعنی اللہ کی قسمیں کھا کر کہتا ہے کہ جو کچھ اس کے دل میں ہے وہ اس کی زبان کے مطابق ہے۔ وھو الذ الخصام ۔ جملہ حالیہ الد۔ سخت جھگڑا لو۔ لدیلد (باب نصر) افعل التفضیل کا صیغہ لد مصدر خصام۔ خضم کی جمع جیسے بحار۔ بحر یا صیعاب صعب کی جمع ہے۔ خضم جھگڑنے والا۔ الد الخصام جھگڑا کرنے والوں میں سب سے زیادہ جھگڑالو۔ بہت بڑا جھگڑالو۔ خصام مصدر بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں الد الخصام بمعنی شدید الخصومۃ ہوگا۔
Ayah 2:205

وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ Open ayah 2:205 in the Quran reader

اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین پر دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے اور کھیتی کو (برباد) اور (انسانوں اور حیوانوں کی نسل کو نابود کر دے اور خدا فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا

(2:205) تولی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ وہ لوٹا۔ وہ پھرا۔ اس نے منہ موڑا۔ اس نے پیٹھ پھیردی۔ سعی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ سعی۔ مصدر (باب فتح) اس نے کوشش کی۔ اس نے جلدی کی اس نے قصد کیا۔ لیفسد۔ میں لام تعلیل کا ہے اور سعی سے متعلق ہے یعنی وہ زمین میں اس واسطے دوڑتا پھرتا ہے کہ فساد پھیلا دے۔
Ayah 2:206

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 2:206 in the Quran reader

اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے

(2:206) اتق۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر اتقاء (افتعال) مصدر تو ڈر۔ وقی مادہ۔ اخذتہ العزۃ بالاثم۔ العزۃ۔ عزت ۔ غرور۔ غلبہ۔ بزرگی۔ عز۔ عزۃ۔ مصدر (باب ضرب) بالاثم۔ میں باء سببیہ ہے۔ غرور اور تکبر نے اس کو گناہ پر آمادہ کیا۔ حسبہ۔ اس کو بس ہے۔ اس کو کافی ہے۔ اس کو کفایت ہے۔ حسب مضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب مضاف الیہ ۔ حسب۔ کافی۔ کفایت۔ المھاد۔ اسم ۔ بچھونا۔ ٹھکانا۔ قرار گاہ۔ مھد۔ بشتر، گہوارہ۔ مھاد (بستر) کی جمع امھدۃ اور مھد ہے۔ فائدہ : علامہ بغوی (رح) تعالیٰ نے بروایت کلبی و مقاتل وعطا فرمایا ہے کہ اخنس بن شریق بنی زہرہ کا حلیف تھا۔ یہ شخص بہت شریں کلام اور خوبصورت ملیح تھا۔ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آتا تھا۔ بیٹھتا اور باتیں بناتا تھا۔ اور قسمیں کھا کھا کر کہتا تھا کہ مجھے آپ سے محبت ہے اور حضور ﷺ بھی اس سے ملاطفت فرماتے تھے۔ واقع میں وہ منافق تھا۔ اس کے بارے میں آیات 204 تا 206 نازل ہوئیں۔ (آیت 206 میں لہ۔ اخذتہ اور فحسبہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب اخنس کی طرف راجع ہے) اسی اخنس نے اپنے مخالف بنو ثقیف پر شب خون مار کر ان کی کھیتیاں جلادیں۔ اور ان کے مویشی ہلاک کردیئے۔ اور اپنے ایک مدیون کے پاس تقاضے کے لئے طائف گیا اور وہاں جاکر اس کی کھیتی جلا دی اور اس کی گدھی کی ٹانگیں کاٹ دیں۔ اگرچہ ابتدائے کلام میں ومن الناس من یعجبک ۔۔ سے اشارہ ایک واحد شخص کی طرف ہے جو بروایات اخنس بن شریق تھا ۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ ومن الناس سے مراد ایک ہی شخص ہو بلکہ اس سے بہت سے اشخاص بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا ان آیات کا انطباق محض اسی ایک ہی شخص تک محدود نہیں۔ بلکہ جہاں کہیں بھی وہ صفات پائے جائیں گے وہاں یہ آیات چسپاں ہوں گے۔
Ayah 2:207

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 2:207 in the Quran reader

اور کوئی شخص ایسا ہے کہ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے اور خدا بندوں پر بہت مہربان ہے

(2:207) یشری۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ شری مصدر (باب ضرب) وہ فروخت کرتا ہے وہ اطاعت الٰہیہ کے لئے وقف کردیتا ہے شراء اور بیع دونوں لازم ملزوم ہیں کیونکہ مشتری کے معنی قیمت دے کر اس کے بدلے میں کوئی چیز لینے والے ہیں۔ اور بائع اسے کہتے ہیں جو چیز دے کر قیمت لے۔ اور یہ اس وقت کہا جاتا ہے جب ایک طرف سے نقدی اور دوسری طرف سے سامان ہو۔ لیکن جب خریدو فروخت جنس کے عوض جنس ہو تو دونوں میں سے ہر ایک کو بائع اور مشتری تصور کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیع و شراء کے الفاظ ایک دوسرے کہ جگہ استعمال ہوتے ہیں اور عام طور پر شریت بمعنی بعت اور ابتعت بمعنی اشتریت آتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے وشروہ بثمن بخس (12:20) اور انہوں نے اس کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالا۔ اور اشتروا الحیوۃ الدنیا بالاخرۃ (2:86) جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خریدی۔ آیت ہذا میں یشرون بمعنی فروخت کردینا ہے۔ ترجمہ ہوگا۔ اور انسانوں میں کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو اپنی جان تک اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے بیچ ڈالتا ہے۔ رءوف۔ رءیرء(کرم) رأفۃ مصدر سے۔ بروزن فعول صفت مشبہ کا صیغہ ہے اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے مہربان۔ شفقت کرنے والا۔ امام خطابی رأفت اور رحمت میں فرق تحریر فرماتے ہیں کہ : ” رحمت تو کسی مصلحت کی بناء پر کبھی ناپسندیدگی میں بھی ہوتی ہے۔ لیکن رأفت ناپسندیدگی میں تقریباً نہیں ہوتی۔ نفسہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اپنی جان کو۔ ابتغائ۔ چاہتا۔ تلاش کرنا، بروزن افتعال ۔ مصدر ہے۔ ابتغاء سخت کوشی کے لئے مخصوص ہے اگر اچھے مقصد کے لئے ہو تو محمود ہے ورنہ مذموم۔ مرضات۔ مرضاۃ۔ مصدر میمی واسم مصدر۔ پسند کرنا۔ رضا مند ہونا۔ پسندیدگی۔ خوشنودی، رضا مندی (باب سمع) مرضات اللہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کی رضا مندی۔ اللہ کو خوشنودی۔ ابتغاء مرضات اللہ۔ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے۔
Ayah 2:208

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً١۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:208 in the Quran reader

مومنو ! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے پیچھے نہ چلو وہ تو تمہارا صریح دشمن ہے

(2:208) فی السلم۔ اسلام۔ اسم ہے مذکر مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ کافۃ۔ ادخلوا فی السلم کے فاعل سے حال ہے۔ اسم فاعل مفرد ہے۔ مؤنث منصوب ۔ کاف مذکر۔ کا فات جمع کف مادہ ومصدر۔ دفع کرنا۔ اسم فاعل مفرد مذکر منصوب بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں ۃ علامت مبالغہ ہے یہ تنقیح لفظی ساخت کی ہے۔ استعمال میں کافۃ ہمیشہ حال منصوب اور نکرہ آتا ہے جس کے معنی ہیں سب کے سب پورے کے پورے۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے۔ وقاتلوا المشرکین کافۃ (9:36) تم سب کے سب کافروں سے لڑو۔ اور وما ارسلنک الا کافۃ للناس (34:27) اور ہم نے تم کو سب لوگوں کے لئے بھیجا ہے۔ ولا تتبعوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم اتباع مت کرو۔ تم پیروی نہ کرو۔ تم نقش قدم پر مت چلو۔ خطوت الشیطن۔ مضاف مضاف الیہ۔ شیطان کے قدم۔ مبین۔ ظاہر۔ صریح۔ کھلا ہوا۔
Ayah 2:209

فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:209 in the Quran reader

پھر اگر تم احکام روشن پہنچ جانے کے بعد لڑکھڑا جاؤ تو جان رکھو کہ خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

(2:209) زللتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ زل۔ زلل۔ زلول۔ (باب ضرب۔ سمع) پاؤں یا زبان کا پھسل جانا۔ تم ڈگمگائے۔ تم نے لغزش کی۔ تم نے ٹھوکر کھائی۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے۔ ولا تتخذوا ایمانکم دخلا م بینکم فتزل قدم بعد ثبوتھا (16:94) اور اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ نہ بناؤ کہ (لوگوں) کے قدم جم چکنے کے بعد لڑ کھڑا جائیں۔ البینت ۔ بینۃ کی جمع ۔ کھلے دلائل۔ روشن دلیلیں۔ فان زللتم ۔۔ البیت۔ جملہ شرطیہ۔ فاعلموا ۔۔ حکم۔ جواب شرط۔
Ayah 2:210

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیَهُمُ اللّٰهُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 2:210 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اسی بات کے منتظر ہیں کہ ان پر خدا (کا عذاب) بادل کے سائبانوں میں آ نازل ہو اور فرشتے بھی (اتر آئیں) اور کام تمام کردیا جائے ؟ اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے

ہل۔ حرف استفہام ہے۔ یہاں استفہام انکاری کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ہل ینظرون۔ ای ما ینظرون۔ ینظرون بمعنی ینتظرون۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ نظر (باب نصر) مصدر سے ضمیر فاعل، ان لوگوں کے لئے ہے جو اسلام میں پورے پورے داخل نہیں ہوئے۔ ای من یترک الدخول فی السلم کافۃ۔ ہل ینظرون ای ما ینتظرون۔ الا۔ حرف استثنائ۔ ظلل۔ سائبان۔ بدلیاں۔ ظللۃ کی جمع ہے جیسے غرفۃ کی جمع غرف ہے۔ الغمام۔ ابر۔ سفیدابر۔ غمامۃ کی جمع۔ ہل ینظرون الا ان یاتیھم اللہ فی ظلل من الغمام والملئکۃ۔ یہ انتظار نہیں کر رہے مگر (اس بات کی) کہ اللہ اور اس کے فرشتے (ان کے اعتقاد کے موافق) سفید بادلوں کے سائبانوں کے سایہ تلے۔ ان کے اوپر آویں (جیسا کہ کوہ طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد میں بادلوں میں سے دھواں اور خڑک اور شعلہ معلوم ہوا اور خدا وند تعالیٰ کا جلوہ دکھائی دیا) تفسیر حقانی۔ وقضی الامر۔ قضی۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ اور معاملہ کا فیصلہ کیا جائے۔ اور معاملہ نپٹا دیا جائے (یعنی وہ امور جو ابھی تک نو مسلم یہودیوں اور نصاری کے دلوں میں جاگزیں تھے اور ون کا کافۃ اسلام میں داخل ہونے سے مانع تھے ان کو رو برو فیصلہ ہوجاویں) نیز ملاحظہ ہو نوٹ نمبر 764 سورة البقرۃ تفسیر ماجدی) ۔ والی اللہ ترجمع الامور۔ اور اللہ کی ہی طرف تمام امور (قطعی فیصلہ کے لئے) لوٹائے جاتے ہیں ۔ ترجع۔ مضارع مجہول واحد مؤنث غائب۔ رجع مصدر سے۔ (باب ضرب) باب ضرب سے ہی مصدر رجع سے بطور فعل لازم بمعنی لوٹنا آتا ہے۔ آیت ہذا میں بصورت اول مستعمل ہے۔ آیت ہذا کی مزید تشریح کے لئے عبد اللہ یوسف علی کی تفسیر نوٹ نمبر 231 بھی ملاحظہ ہو) ۔
Ayah 2:211

سَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 2:211 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ بنی اسرائیل سے پوچھو کہ ہم نے ان کو کتنی کھلی نشانیاں دیں اور جو شخص خدا کی نعمت کو اپنے پاس آنے کے بعد بدل دے تو خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

(2:211) کم۔ استفہام کے لئے آئے تو اس کی تمیز مفرد منصوب ہوتی ہے جیسے کہ درھما عندک تیرے پاس کتنے درہم ہیں۔ اور اگر خبر یہ ہو اور مقدار کی بیشی اور تعداد کی کثرت کو ظاہر کرے تو تمیز مفرد مجرور ہوتی ہے جیسے وکم قریۃ اہلکناھا۔ ہم نے بہت سی بستیوں کو ہلاک کردیا۔ کبھی تمیز سے پہلے من آتا ہے جیسے کم من قریۃ اہلکناھا (7:4) یا آیت ہذا میں : کم من ایۃ بینۃ کتنی ہی کھلی نشانیاں اتینھم ہم نے ان کو دیں۔ من شرطیہ ہے اور ومن یبدل ۔۔ ماجاء تہ۔ جملہ شرطیہ ہے اور فان اللہ شدید العقاب جواب شرط ہے۔ یبدل مضارع مجزوم (بوجہ شرط) واحد مذکر غائب تبدیل (تفعیل) مصدر (جو) بدل ڈالے۔ یعنی بجائے شکر کے کفر کرے۔ نعمۃ اللہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کی نعمت۔ نعمت سے مراد وہ معجزے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس پر انعام کئے۔ نعمت ان کو اس لئے اس لئے کہا گیا کہ وہ ہدایت کا سبب ہیں۔ یا اس سے مراد اللہ کی کتاب ہے۔ اور تبدیل سے مراد یہ ہے کہ اس پر عمل نہ کیا۔ شدید العقاب سخت عذاب دینے والا۔ (ملاحظہ ہو 2:196)
Ayah 2:212

زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۘ وَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 2:212 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں ان کے لیے دنیا کی زندگی خوشنما کردی گئی ہے اور وہ مومنوں سے تمسخر کرتے ہیں لیکن جو پرہیزگار ہیں وہ قیامت کے دن ان پر غالب ہوں گے اور خدا جس کو چاہتا ہے بیشمار رزق دیتا ہے

(2:212) زین۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ تبدیل (تفعیل) مصدر (وہ سنوارا گیا۔ وہ مزین کیا گیا۔ اسے اچھا (کرکے) دکھایا گیا۔ مطلب یہ کہ دنیا کی زندگی اسے پرکشش اور مزین کر کے دکھائی گئی ۔ الحیوۃ الدنیا۔ موصوف و صفت مل کر مفعول مالم یسم فاعلہ۔ ویسخرون۔ میں واؤ عاطفہ ہے یسخرون کا عطف زین پر ہے۔ سخر (باب سمع) مصدر سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے وہ مذاق بناتے ہیں۔ وہ ٹھٹھا کرتے ہیں۔ من کے صلہ کے ساتھ ان معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں اور جگہ ہے ان تسخروا منا فانا نسخر منکم (11:38) اگر تم ہم سے تمسخر کرتے ہو تو ہم سے تمسخر کریں گے۔ فوقھم۔ فوق۔ ظرف منصوب۔ مضاف۔ ھم ضمیر جمع مذکر غائب۔ مضاف الیہ ان کے اوپر۔ ان سے بڑھ کر، ان سے زیادہ، ان پر غالب۔ والذین اتقوا فوقھم یوم القیامۃ۔ والذین اتقوا۔ مبتداء فوقھم خبر یوم القیمہ ظرف ۔
Ayah 2:213

كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً١۫ فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١۪ وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْهِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ۚ فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:213 in the Quran reader

(پہلے تو سب) لوگوں کا ایک ہی مذہب تھا (لیکن وہ آپس میں اختلاف کرنے لگے) تو خدا نے (ان کی طرف) بشارت دینے والے اور ڈر سنانے والے پیغمبر اور ان پر سچائی کے ساتھ کتابیں نازل کیں تاکہ جن امور میں لوگ اختلاف کرتے تھے ان کا ان میں فیصلہ کر دے اور اس میں اختلاف بھی انہیں لوگوں نے کیا جن کو کتاب دی گئی تھی باوجود یکہ انکے پاس کھلے ہوئے احکام آچکے تھے (اور یہ اختلاف انہوں نے صرف) آپس کی ضد سے کیا، تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھا دی اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے

(2:213) امۃ واحدۃ۔ موصوف صفت مل کر کان کی خبر۔ امۃ بمعنی امت ۔ جماعت، مدت ، دین، یہاں بمعنی دین مستعمل ہے۔ امۃ واحدۃ ای علی دین واحد۔ فبعث اللہ النبیین۔ بعث ماضی واحد مذکر غائب بعث (باب فتح) مصدر۔ اس نے بھیجا اس نے بھیجے (نبی) جملہ ہذا سے قبل فاختلفوا محذوف ہے عبارت یوں ہوگی : کان الناس امۃ واحدۃ فاختلفوا فیعث اللہ النبین (ابتداء میں لوگ ایک ہی دین پر تھے۔ پھر ان کا آپس میں اختلاف ہوگیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو بھیجا۔ مبشرین ومنذرین۔ اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب بوجہ مال نبیین سے (اہل ایمان کو جنت کے دیگر انعامات کی) خوشخبری دینے والے اور (منکرین کو ان کے گناہوں کی پاداش میں سزا سے) ڈرانے والے۔ معہم۔ ای مع النبیین۔ الکتب سے مراد جنس کتاب ہے۔ بالحق کتاب سے حال واقع ہے یعنی مشتملا علی الحق (حق پر مشتمل) لیحکم میں لام تعلیل کی ہے۔ اور یحکم میں ضمیر فاعل کا مرجع اللہ یا کتب ہے یا اس کتاب کے ساتھ جو نبی ہے تاکہ اختلافی امور میں لوگوں کے درمیان فیصلہ دیا کرے فیما اختلفوا فیہ ما موصولہ ہے اور فیہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع۔ اس امر کے متعلق جس میں انہوں نے اختلاف کیا۔ مطلب یہ کہ : اس نے نبیوں کو مبشرین و منذرین بنا کر بھیجا۔ اور ان (میں بعض) پر کتاب نازل فرمائی جو سراسر حق باتوں پر مشتمل تھی تاکہ اللہ تعالیٰ خود یا اس کی مشتمل برحق کتاب یا نبی جس وہ کتاب نازل کی گئی ان باتوں کے متعلق جن میں لوگوں کا اختلاف تھا (ٹھیک ٹھیک) فیصلہ کر دے۔ وما اختلف فیہ الا الذین اوتوہ۔ فیہ میں ضمیر ہ واحد مذکر غائب کا مرجع الحق ہے یا کتاب الذین موصول عہد کے لئے ہے۔ اور اس سے مراد یہود اور نصاریٰ ہیں۔ اوتوہ۔ اوتوا ماضی مجہول کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جو کتاب کی طرف راجح ہے۔ یعنی جنہیں وہ کتاب دی گئی مطلب یہ کہ اس حق میں جس پر یہ کتاب جو یہود و نصاری کو دی گئی مشتمل تھی۔ انہوں نے ہی اختلاف اختیار کیا۔ (کتاب سے مراد یہاں توراۃ اور انجیل ہے جو حضرت موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) پر نازل کی گئی اور اختلاف سے مراد یہ امور ہوسکتے ہیں : (1) باہمی ضد اور حسد کی وجہ سے ایک دوسرے کی تکفیر (2) کتاب میں تحریف اور تبدیل پر اختلاف۔ (3) حضرت محمد ﷺ کی نبوت کے متعلق توراۃ و انجیل میں حوالہ جات جو صریحاً آنحضرت ﷺ کی نبوت پر دال تھے ان پر ان کا باہمی اختلاف۔ من بعد ما جاء تھم البینت۔ بینت سے مراد وہ محکم آیات جو تورات میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والی اور محمد ﷺ کی بشارت دینے والی اور آپ کے اوصاف کریمہ کو بیان کرنے والی تھیں۔ یہ جملہ اختلف سے متعلق ہے۔ بغیا بینھم۔ باہمی ضد اور حسد۔ یہ اختلف کا مفعول لہ ہے۔ فھدی اللہ الذین امنوا لما اختلفوا فیہ من الحق باذنہ۔ ھدی لہ۔ راستہ بتلانا۔ سیدھے راستہ پر قائم رکھنا۔ ھدی۔ ھدی۔ ھدایۃ مصدر۔ من الحق حال ہے ضمیر فیہ سے یا ما سے باذنہ حال ہے الذین امنوا سے ای ماذونا لہم۔ باذنہ اپنے امر و ارادہ سے۔ اپنے فضل و کرم سے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے والوں کو حق میں جو بھی ان کو اختلاف تھا اپنے حکم سے راہ ہدایت دکھائی۔ یعنی ایمان والے اگر حق بات کے متعلق آپس میں کوئی اختلاف رکھتے بھی تھے تو چونکہ وہ بغیا بینھم پر مبنی نہ تھا۔ بلکہ محض لاعلمی یا ناسمجھی یا لاشعوری کی وجہ سے تھا ۔ لیکن ان کی نیتوں میں خلوص اور جذبہ ایمان تھا اس لئے خدا و ند تعالیٰ نے اپنے حکم (فضل و کرم) سے ان کو اس اختلاف سے نکال کر ہدایت کا راستہ دکھا دیا۔ صاحب تفسیر ماجدی لکھتے ہیں لما اختلفوا فیہ میں ذکر اہل حق کے اختلاف کا ہے اہل باطل سے باذنہ میں اذن کے معنی فضل ، توفیق اور لطف کے ہیں۔
Ayah 2:214

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ١ؕ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ Open ayah 2:214 in the Quran reader

کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ (یونہی) بہشت میں داخل ہوجاؤ گے اور ابھی تم کو پہلے لوگوں کی سی (مشکلیں) تو پیش آئی ہی نہیں۔ ان کو (بڑی بڑی) سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ (صعو بتوں میں) ہِلا ہلا دیئے گئے یہاں تک کہ پیغمبر اور مومن لوگ جو ان کے ساتھ تھے سب پکار اٹھے کہ کب خدا کی مدد آئے گی ؟ دیکھو خدا کی مدد (عن) قریب (آیا چاہتی) ہے۔

(2:214) ام۔ ام منقطعہ ہے اور بمعنی بل (حرف اضراب آیا ہے۔ اور اس کے ساتھ ہمزہ مقدر ہے۔ لفظ بل کلام سابق سے اعراض کے لئے ہے ۔ یہاں یہود اور نصاری کے اختلاف اور ان کے متاع حیات دنیوی پر فخر بےجاہ اور پھر اس کے بل بوتے پر مومنوں سے تمسخر سے اعراض کرنے کے لئے آیا ہے اور ہمزہ استفہامیہ مؤمنین کے خیال کے انکار و استبعاد کے واسطے سے پہلے کے انبیاء اور مؤمنین کی طرح تمہیں بھی تنگی و سختی ۔ فقرو بیماری اور طرح طرح کی بلاؤں اور مصیبتوں کی آگ سے گزرنا پڑے گا۔ تب جاکر تم جنت کے مستحق بنوگے۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ فراء کا قول ہے کہ ام کے معنی احسبتم اور میم زائد ہے۔ (ام پر تفصیلی نوٹ 18:9 پر ملاحظہ ہو) حسبتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر، حسبات (باب حسب یحسب) مصدر۔ تم سمجھ بیٹھے ہو۔ تم نے خیال کیا۔ یا گمان کیا۔ ان تدخلوا۔ ان مصدریہ ہے۔ تدخلوا۔ مضارع منصوب جمع مذکر حاضر۔ کہ تم داخل ہوگے۔ ولما یاتکم مثل الذین خلوا من قبلکم۔ جملہ حالیہ لما۔ ابھی تک نہیں ۔ ترجمہ آیت کا یوں ہوگا۔ کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ (یوں ہی) بہشت میں داخل ہوجاؤ گے۔ حالانکہ ابھی تک تم کو پہلے لوگوں کی سی (مشکلیں) تو پیش آئی ہی نہیں۔ مثل الذین۔ ای مثل مثلہم کلام میں مضاف محذوف ہے۔ الذین صفت ہے مؤمنین محذوف کی۔ من قبلکم متعلق ہے خلوا سے۔ مستہم الباساء والضراء بیان ہے مثل سے۔ الباسائ۔ سختی ، فقر، تنگی، اسم مؤنث ہے۔ بؤس سے مشتق ہے بعض کے نزدیک صفت ہے جو قائم مقام ہے موصوف کے۔ الضرائ۔ تکلیف۔ سختی، تنگی، مرض ، مصیبت اسم مؤنث ہے اور سرائ۔ نعماء کی ضد ہے۔ باساء و ضراء دونوں اسم مؤنث ہیں۔ ان کا مذکر نہیں آتا۔ ان کی جمع فراء کے نزدیک ابوس واضر بروزن نعماء انعم جائز ہے۔ وزلزلوا۔ واؤ عاطفہ ہے اور اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ زلزلوا ماضی مجہول کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ زلزلۃ۔ زلزال۔ مصدر وہ جھڑ جھڑائے گئے۔ وہ زلزلہ میں آگئے وہ ہلا ڈالے گئے۔ لما۔ حرف جازم ہے لم کی طرح فعل پر داخل ہوتا ہے اور اس کو جزم دیتا ہے ۔ اور مضارع کو ماضی منفی کے معنی میں کردیتا ہے۔ جیسے لما یدخل الایمان فی قلوبکم (49:14) لم اور لما کے درمیان بوجوہ ذیل فرق کیا جاسکتا ہے۔ (1) لم حرف شرط کے ساتھ آسکتا ہے جیسے فان لم تفعل لیکن لما نہیں آسکتا۔ (2) لما سے جس نفی کا حصول ہوتا ہے وہ زمانہ حال تک ممتد۔ مسلسل اور مستمر ہوتی ہے ۔ جیسے آیتہ ہذا ۔ یا ولما یدخل الایمان فی قلوبکم اور ایمان ابھی تک تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ شاش عبدی ممزق کا شعر ہے ؎ فان کنت ما کو لا فکن خیرا کل والا فادرکنی ولما امزق ترجمہ : اگر مجھے خوراک ہی بننا ہے تو تو ہی بہتر کھانے والا بن جا۔ ورنہ میری مدد کو پہنچ ابھی تک میں تکا بوٹی نہیں کیا گیا۔ لما سے جس نفی کا حصول ہوتا ہے اس کا تسلسل اور اتصال کبھی تو حال تک ہوتا ہے جیسے ولم اکن بدعائک رب شقیا (19:4) (اے میرے رب ابھی تک تجھے پکار کر میں نامراد نہیں رہا اور کبھی حال سے پہلے نفی کا انقطاع ہوجاتا ہے جیسے لم یکن شیئا مذکررا (76:1) پہلے وہ کوئی ناقابل ذکر چیز نہ تھا۔ یعنی پہلے وہ بالکل معدوم تھا اب موجود ہوگیا۔ (3) لما سے حاصل شدہ نفی ماضی قریب میں ہوتی ہے اور لم سے حاصل شدہ نفی ماضی مطلق میں خواہ قریب ہو یا بعد۔ اسی لئے لم یکن زید فی العام الماضی مقیما۔ (زید گذشتہ سال مقیم نہ تھا۔ ماضی بعید) صحیح ہے۔ لیکن لما کا استعمال اس جگہ صحیح نہیں کیونکہ سال گذشتہ ماضٰ بعید ہے ماضی قریب نہیں۔ (4) لما سے جس چیز کی نفی ہوتی ہے آئندہ اس کے ہونے کی توقع ہوتی ہے جیسے بل لما یذوقوا عذاب۔ بلکہ انہوں نے ابھی تک میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔ یعنی آئندہ چکھنے کی توقع ہے۔ لم میں یہ شرط نہیں ہے۔ (5) لما کا مدخول جائز الحذف ہے لیکن لم کا ایسا حال نہیں ہے۔ جیسے ؎ فجئت قبورھم بدعا ولما فنادیت القبور فکم یجبنہ (یعنی لما الن بدئ) میں ان کی قبروں پر سردار قوم کی حالت میں پہنچا اور اس سے پہلے میں سراد ہوا ہی نہیں تھا۔ میں نے قبروں کو پکارا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ لما (جب) حرف شرط ہے یا حرف وجود لوجود یا حرف و جوب لوجوب۔ ماضی کے دو جملوں پر آتا ہے شرط و جزا۔ ابن سراج۔ ابن جنی اور فارسی وغیرہ کا قول ہے کہ لما حرف شرط نہیں بلکہ اسم ظرف ہے حین کا ہم معنی۔ ابن مالک نے کہا ہے لما اذ کی طرح ہوتا ہے۔ اذ کا مدخول بھی جملہ ماضیہ ہوتا ہے اور لما کا بھی۔ لما کی جزاء کا فعل ماضی ہونا بالاتفاق صحیح ہے بلکہ جمہور کے نزدیک شرط ہے جیسے فلما نجکم الی البر اعرضتم (17:67) جب اس نے بچا کر تم کو خشکی تک پہنچا دیا تو تم نے روگردانی کی۔ ابن مالک کہتا ہے لما کی جزاء کے مقام میں کبھی ایسا جملہ اسمیہ واقع ہوتا ہے جس کا آغاز اذا مفاجاتیہ سے ہوتا ہے جیسے فلما الی البر اذاھم یشرکون ۔ (69:65) جب اس نے ان کو بچا کر خشکی تک پہنچا دیا تو ایک دم وہ شرک کرنے لگے۔ یا اس کے شروع میں فاء ہوتی ہے جیسے فلما انجھم الی البر فمنھم مقتصد (31:32) جب ان کو بچا کر خشکی تک پہنچا دیا۔ تو ان میں کچھ لوگ سیدھی چال پر رہے۔ ابن مصفور نے صراحت کی کہ لما کی جزا میں کبھی فعل مضارع آتا ہے جیسے فلما ذھب عن ابراہیم الروع وجاء تہ البشری یجاد لنا فی قوم لوط (11:74) جب ابراہیم (علیہ السلام) کے دل سے خوف جاتا رہا۔ اور خوشخبری پہنچ گئی تو ہمارے فرشتوں سے قوم لوط کے بارے میں جھگڑنے لگے۔ لما (مگر) استثنائیہ بھی آتا ہے الا کا ہم معنی۔ جیسے ان کل نفس لما علیہا حافظ (86:4) کوئی نفس ایسا نہیں کہ اس کے اعمال کا نگران (فرشتہ) نہ ہو۔ یہ ترجمہ لما نافیہ کا ہے جیسا کہ بعض لوگ اس جگہ قائل ہیں۔ محل استثناء کے لحاظ سے ترجمہ اس طرح ہوگا : کوئی نفس نہیں مگر اس پر نگران (فرشتہ) مامور ہے۔ (لغات القرآن از مولانا عبد الدائم الجلالی) الا۔ خبردار ہوجاؤ۔ جان لو، سن رکھو، خبردار۔ یہ حرف کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً (1) تنبیہ۔ جیسے الا انھم ھم السفھاء (2:13) سن لو کہ یہی بیوقوف ہیں (2) تو بیخ وا نکار جیسے الا زید قائم (3) تمنی جیسے الا تنزل عندی (4) عرض۔ یعنی کسی چیز کا نرمی سے مانگنا جیسے الا تحبون ان یغفر اللہ لکم (24:22) کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تم کو معاف کر دے۔ (5) تخصیص کے لئے۔ یعنی کسی چیز کے سختی کے ساتھ مطالبہ کے لئے جیسے الا تقاتلون قوما نکثوا ایمانھم وھموا باخراج الرسول وھم بدء وکم اول مرۃ (9:13) بھلا تم ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا اور پیغمبر خدا کے جلاوطن کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا اور انہوں نے تم سے (عہد شکنی کی) پہل کی۔ علامہ زمخشری (رح) قاضی بیضاوی (رح) اور علماء کی ایک جماعت کے خیال میں الا ہمزہ استفہام اور لام نافیہ سے مرکب ہے جو اپنے مابعد کے تحقیق و ثبوت پر دلالت کرتا ہے ۔ دلیل یہ ہے کہ جب استفہام نفی پر داخل ہوتا ہے تو اس سے مزید ثبوت مقصود ہوتا ہے چناچہ آیت الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی (75:40) کیا اس (خدا) کو اس بات پر قدرت نہیں کہ مردوں کو زندہ کر دے۔ الا ان نصر اللہ قریب میں الا بطور حرف تنبیہ آیا ہے اور مابعد کی تحقیق پر دلالت کرتا ہے یعنی سن لو اللہ کی مدد آیا ہی چاہتی ہے۔
Ayah 2:215

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ Open ayah 2:215 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کس طرح کا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ (جو چاہو خرچ کرو لیکن) جو مال خرچ کرنا چاہو وہ (درجہ بدرجہ اہل استحقاق یعنی) ماں باپ کو اور قریب کے رشتہ داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو (سب کو دو ) اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے

(2:215) ماذا۔ کیا چیز ہے، کیا ہے، ما حرف استفہام ہے اور ذا فصل کے لئے آیا ہے تاکہ ما نافیہ اور ما استفہامیہ میں تمیز ہوسکے۔ یا ما استفہامیہ ہے اور ذا موصولہ ہے۔ یا ما استفہامیہ ہے اور ذا زائد ہے۔ ینفقون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ وہ خرچ کرتے ہیں۔ وہ خرچ کریں۔ انفاق (افعال) مصدر ما انفقتم۔ میں ما موصولہ ہے بمعنی الذی۔ من خیر۔ ای من مال۔ خیر کے معنی بہتر، بھلائی۔ نیکی، نیک کام۔ پسندیدہ چیز ۔ شر کی ضد ہے۔ خیر بمعنی مال قرآن مجید میں اور جگہ بھی آیا ہے جیسے ان ترک خیران الوصیۃ (2:18) (جب تم میں سے کسی پر موت کا وقت آجائے اور) اگر وہ کچھ مال چھوڑ جانیوالا ہو تو تم پر دستور کے مطابق والدین اور اقرباء کے لئے وصیت کرنا فرض ہے خدا سے ڈرنے والوں پر یہ ایک حق ہے۔ یا وانہ لحب الخیر لشدید (100:8) اور وہ مال کی سخت محبت کرنے والا ہے۔ فللوالدین۔ ای فانفقو علی الوالدین۔ ابن السبیل۔ سافر۔ لفظی معنی ہیں راستہ کا بیٹا۔ چونکہ مسافر راہ نور دی کرتا ہے اس لئے اسے ابن السبیل کہتے ہیں۔ وما تفعلوا من خیر۔ میں ما موصولہ ہے اور خیر سے مراد نیکی (کوئی بھی ہو کسی بھی صورت میں ہو) ہے۔ یہ جمہ شرط کے معنوں میں ہے اور فان اللہ بہ علیم جواب شرط ہے۔
Ayah 2:216

كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:216 in the Quran reader

(مسلمانو ! ) تم پر (خدا کے راستے میں) لڑنا فرض کردیا گیا ہے وہ تمہیں ناگوار تو ہوگا مگر عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بھلی ہو اور عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ تمہارے لیے مضر ہو اور (ان باتوں کو) خدا ہی بہتر جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

(2:216) کتب علیکم۔ کتب علی۔ واجب قرار دینا۔ فرض کردینا۔ القتال ای الجھاد۔ کرۃ۔ ناگوار چیز۔ کریہہ۔ مشقت۔ مصدر بمعنی مفعول (مکروہ) ہے جیسے نقص بمعنی منقوص ہے۔ عسی۔ عنقریب ہے، شتاب ہے ، ممکن ہے، توقع ہت۔ اندیشہ ہے۔ کھٹکا ہے افعال مقاربہ میں سے ہے۔ محبوب چیز میں امبد کے لئے اور مکروہ بات میں خوف کے لئے ہے۔ تکرھوا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ کرہ (باب سمع) مصدر۔ تم ناپشند کرتے ہو۔ تم ناپسند کرو۔ تم مکروہ سمجھو، تم کو ناگوار معلوم ہو، تم کو برا لگے۔ تم کو دشوار لگے۔
Ayah 2:217

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْهِ١ؕ قُلْ قِتَالٌ فِیْهِ كَبِیْرٌ١ؕ وَ صَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ كُفْرٌۢ بِهٖ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۗ وَ اِخْرَاجُ اَهْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ الْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ١ؕ وَ لَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى یَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِیْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا١ؕ وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:217 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ لوگ تم سے عزت والے مہینوں میں لڑائی کرنے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان میں لڑنا بڑا (گناہ) ہے اور خدا کی راہ سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام (یعنی خانہ کعبہ میں جانے) سے (بند کرنا) اور اہل مسجد کو اس میں سے نکال دینا (جو یہ کفار کرتے ہیں) خدا کے نزدیک اس سے بھی زیادہ (گناہ) ہے اور فتنہ انگیزی خونزیری سے بھی بڑھ کر ہے اور یہ لوگ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ اگر مقدور رکھیں تو تم کو تمہارے دین سے پھیر دیں اور جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر (کر کافر ہو) جائے گا اور کافر ہی مرے گا تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں برباد ہوجائیں گے اور یہی لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں جس میں ہمیشہ رہیں گے

(2:217) الشھر الحرام۔ موصوف و صفت۔ حرمت والا مہینہ۔ فائدہ : جمادی الثانی سنہ 2 ھ کو آنحضرت ﷺ نے حضرت عبد اللہ بن حجش ؓ کو آٹھ (یا بعض کے نزدیک بادہ) مہاجرین کا سردار بنا کر قریش کے ایک قافلہ کے مقابلہ میں بھیجا۔ جس شب یہ مقابلہ ہوا جس میں قریش کے چند آدمی مارے گئے تھے وہ رجب کی پہلی تاریخ تھی۔ لیکن حضرت عبد اللہ ؓ اور ان کے ساتھی اسے جمادی الثانی کی آخری تاریخ سمجھ رہے تھے۔ چونکہ رجب کا مہینہ ماہ حرم ہے جس میں قتال ممنوع تھا۔ اس لئے حضرت عبد اللہ اور ان کے ساتھی سخت دلگیر ہوئے کہ ان سے ایسی غلطی سرزد ہوئی۔ اس پر یہ آیت نازل کوئی کہ اہل مکہ نے جو گناہ قصداً اور عناداً کئے تھے مثلاً لوگوں کو اسلام سے روکنا۔ اللہ کو نہ ماننا۔ لوگوں کو مسجد حرام سے روکنا۔ اور اس کے رہنے والوں کو وہاں سے نکال دینا۔ (یعنی مسجد والوں کو اور وہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ تھے) اور شرک کرنا۔ جو قتل سے بھی زیادہ سخت گناہ ہے۔ یعنی خود تو اہل مکہ ایسے گناہوں کے مرتکب تھے۔ ان کو کیا حق ہے کہ وہ مسلمانوں پر طعن و تشنیع کریں۔ باوجود اس کے کہ ان سے یہ فعل غلطی سے سرزد ہوگیا تھا۔ قتال فیہ کبیر۔ قتال باب مقاعلۃ سے مصدر ہے مقاتلۃ بھی باب مفاعلہ سے مصدر ہے فیہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الشھر الحرام ہے کبیر صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر ہے بڑا (یہاں گناہ ہونے کے لحاظ سے بڑا مراد ہے) صد۔ صد یصد (باب ضرب ونصر) کا مصدر ہے۔ رکنا ۔ (فعل لازم) روکنا (فعل متعدی) دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ صد عن سبیل اللہ۔ خدا کے راستہ سے روکنا یعنی لوگوں کو اسلام لانے سے روکنا۔ کفر بہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے اور اس سے کفر کرنا اللہ کو نہ ماننا۔ والمسجد الحرام۔ ای وصد عن المسجد الحرام اور مسجد حرام سے روکنا۔ اخراج اہلہ۔ ای اہل المسجد الحرام۔ الفتنۃ۔ فساد وشرک۔ القتل۔ بمعنی عمر و حضری کا قتل جو قریش کے قافلہ میں سے تھا۔ اور عام فساد اور شرک بھی مراد ہوسکتا ہے۔ ولا یزالون یقاتلونکم۔ لا نفی۔ یزالون مضارع جمع مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ (یہ لوگ) ہمیشہ لڑتے رہیں گے (کفار مکہ کی طرف اشارہ ہے) لایزال۔ ما زال ما دام۔ ما انفک۔ افعال ناقصہ ہیں ہمیشہ حرف نفی کے ساتھ مستعمل ہوتے ہیں لیکن مثبت کے معنی ادا کرتے ہیں۔ ان استطاعوا۔ ان شرطیہ ہے ان استطاعوا جملہ شرطیہ ہے اور لا یزالون ۔۔ عن دینکم جزا۔ حتی یردونکم۔ حتی تعلیل کے لئے ہے جیسا کہ کہتے ہیں اعبد اللہ حتی ادخل الجنۃ میں اللہ کی عبادت کرتا ہوں تاکہ جنت میں جاؤں۔ یردوکم مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب رد (باب نصر) سے مصدر کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر، تاکہ وہ تم کو لوٹا دیں۔ وہ تم کو مرتد بنادیں۔ آیت کا ترجمہ ہوگا : یہ لوگ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے تاکہ اگر مقددر رکھیں تو تم کو تمہارے دین سے پھیر دیں۔ ومن یریدد منکم۔ میں من شرطیہ ہے یرتدد۔ مضارع واحد مذکر غائب ارتداد (افتعال) مصدر بمعنی لوٹ جانا۔ مرتد ہوجانا۔ اور جو تم میں سے مرتد ہوگیا یعنی اپنے دین سے پھر گیا۔ فیمت اور مرگیا (اس کا عطف یریدد پر ہے) ۔ وھو کافر جملہ حالیہ ہے درآں حال یہ کہ وہ کافر ہو۔ ومن یریدد سے لے کر وھو کافر تک شرط۔ اور اس سے اگلا جملہ فاولئک ۔۔ خالدون جزاء ہے۔ فاولئک میںجواب شرط کے لئے ہے۔ اولئک اسم اشارہ جمع مذکر غائب اور من یرتدد منکم میں ضمیر فاعل مشار الیہ ہے۔ حبطت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ ھبط (باب سمع) مصدر۔ وہ اکارت گئے۔ وہ مٹ گئے۔ وہ ضائع ہوگئے۔ فیہا۔ فی حرف جار۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ النار (دوزخ) کے لئے ہے۔ ای فی النار۔ خلدون ۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ خلود (باب نصر) مصدر۔ ہمیشہ رہنے والے۔ سدا رہنے والے۔
Ayah 2:218

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:218 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور خدا کے لئے وطن چھوڑ گئے اور (کفار سے) جنگ کرتے رہے وہی خدا کی رحمت کے امید وار ہیں اور خدا بخشنے والا (اور) رحمت کرنے والا ہے

(2:218) ھاجروا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ مھاجرۃ (مفاعلۃ) مصدر انہوں نے (اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے) وطن چھوڑا جاھدوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ مجاھدۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ انہوں نے جہاد کیا۔ یرجون۔ مضارع جمع مذکر غائب رجاء (باب نصر) وہ امید رکھتے ہیں۔
Ayah 2:219

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ١ؕ قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ١٘ وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلِ الْعَفْوَ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَۙ Open ayah 2:219 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ لوگ تم سے شراب اور جوئے کا حکم دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان میں نقصان بڑے ہیں اور لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں مگر ان کے نقصان فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کونسا مال خرچ کریں کہہ دو کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو، اس طرح خدا تمہارے لئے اپنے احکام کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو

(2:219) الخمر۔ شراب انگوری۔ اصل میں تو انگور کے کچے پانی کا نام جبکہ وہ نشہ آور ہو ” خمر “ ہے لیکن مجازاً ہر نشیلی شراب کو خمر کہہ دیتے ہیں۔ خمر یا تو اختمار بروزن (افتعال) سے ماخوذ ہے جس کے معنی خمیر اٹھنے کے ہیں چونکہ اس میں بھی خمیر اٹھ کر جوش پیدا ہوتا ہے اور جھاگ آنے لگتے ہیں اس لئے اس کا نام خمر ہوا۔ یا یہ مخامرۃ (مفاعلۃ) سے مشتق ہے جس کے معنی چھپالینے کے ہیں۔ چونکہ یہ وسواس کو گم کردیتی ہے اور عقل و ہوش کو چھپا دیتی ہے۔ اس لئے خمر سے موسوم ہوئی۔ خمار وہ چیز جس سے کوئی چیز چھپائی جاوے۔ خمار۔ عورت کی اوڑھنی جس کے ساتھ وہ اپنے سر کو چھپاتی ہے اس کی جمع خمر ہے۔ قرآن مجید میں آیا ہے ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن (24:31) وہ (عورتیں) اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں۔ المیسر۔ اسم ومصدر میمی ۔ جوا ۔ جوا کھیلنا۔ یسر۔ ییسر۔ یسر (باب ضرب) جوا کھیلنا۔ یسر آسانی (جوا میں بھی مال آسانی سے حاصل ہوتا ہے) ۔ فائدہ : قرآن حکیم میں شراب کے حرام ہونے کے متعلق بتدریج مندرجہ ذیل آیات ہیں : (1) ومن ثمرات النخیل والاعناب تتخذون منہ سکرا ورزقا حسنا۔ ان فی ذلک لایۃ لقوم یعقلن (16:67) اس میں سکرا کو رزقا حسنا سے علیحدہ کردیا ہے یعنی کھجور اور انگور سے نشہ حاصل کرنا رزق حسن نہیں ہے۔ یہاں شراب کے خلاف لطیف اشارہ ہے۔ (2) یسئلونک عن الخمر والمیسر۔۔ الخ (2:219) آیہ ہذا۔ اس کے متعلق شراب کے متعلق فرمان ہے کہ اس میں گو لوگوں کے لئے منافع بھی ہیں لیکن اس کا گناہ منافع سے بڑھ کر ہے۔ یہ حرمت شراب کے متعلق دوسرا قدم ہے۔ (3) یایھا الذی امنوا لا تقربوا الصلوٰۃ وانتم سکاری حتی تعلموا ما تقولون (4:43) یہاں ایک حد تک صریحا ممانعت کردی اور یہ حرمت شراب کی طرف تیسرا قدم تھا۔ (4) یایھا الذین امنوا انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ تفلحون (5:9) یہاں شراب قطعی طور پر حرام ہوگئی اس کو شیطان کا فعل قرار دیکر اجتناب کا حکم ہوگیا اور جہاں نہی کسی فعل کی ہو اس کا کرنا صریحا حرام ہے۔ آیۃ شریف 5:91 بھی اسی مضمون کے متعلق ہے۔ ماذا۔ ملاحظہ ہو آیت 2:215 ۔ متذکرۃ الصدر۔ العفو۔ ای قل انفقوا العفو۔ العفو۔ آسان ۔ حاجت سے زیادہ ۔ معاف کردینا۔ یہ عفا یعفوا (باب نصر) کا مصدر ہے بقدر طاقت جو بن آئے ۔ جو اپنے اور عیال کے خرچ سے زائدہو۔ عفو بروزن فعول بہت زیادہ معاف کرنے والا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔ بین۔ مضارع واحد مذکر غائب تبیین (تفعیل) مصدر کھول کر بیان کرتا ہے۔
Ayah 2:220

فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰى١ؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌ١ؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:220 in the Quran reader

(یعنی دنیا اور آخرت کی باتوں) میں (غور کرو) اور تم سے یتیموں کے بارے میں بھی دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان کی (حالت کی) اصلاح بہت اچھا کام ہے اور اگر تم ان سے مل جل کر رہنا (یعنی خرچ اکٹھا رکھنا) چاہو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے کہ خرابی کرنے والا کون ہے اور اصلاح کرنے والا کون اور اگر خدا چاہتا تو تم کو تکلیف میں ڈال دیتا بیشک خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

(2:220) قل اصلاح اعظم اجرا۔ یعنی یتیموں کے اموال یا کاروبار میں بغیر اجرت و عوضانہ ترقی کی کوشش کرنا۔ تمہارے لئے بہتر اجر کا باعث ہوگا۔ ان تخالطوھم۔ ان شرطیہ تخالطوا مضارع مجزام جمع مذکر حاضر، مخالطۃ (مفاعلۃ) مصدر ہم ضمیر مفعول جماع مذکر غائ۔ اگر تم ان کو ملا لو۔ ان سے مشارکت کرلو ۔ جملہ شرطیہ ہے فاخوانکم جواب شرط۔ تو وہ تمہارے بھائی ہی ہیں اس لئے مشارکت میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ المفسد۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ فساد (باب ضرب۔ نصر) مصدر۔ بگاڑنے والا۔ المصلح۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ اصلاح (افعال) مصدر، درستی کرنے والا۔ بگاڑ نہ کرنے والا۔ صالح نیک۔ درست عمل کرنے والا۔ ولو شاء اللہ لا عنتکم۔ واؤ لو حرف شرط شاء ماضی کا صیغہ واحد غائب ۔ مشیئۃ (باب سمع) سے مصدر اور اگر اللہ چاہتا۔ شاء اصل میں شیئی تھا۔ ی متحرک۔ ما قبل مفتوح اس لئے ی کو الف سے بدلا گیا ہے۔ ولو شاء اللہ جملہ شرطیہ ہے۔ لاعنتکم۔ لام تاکید کے لئے ہے یا جواب شرط کے لئے ہے۔ اعنت ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اعنات (افعال) مصدر سے۔ جس کے معنی مشقت میں ڈالنے کے ہیں۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ تو تمہیں مشکل میں ڈال دیتا یعنی اس باب میں کوئی سخت قانون بنا دیتا۔ یہ جملہ جواب شرط ہے۔
Ayah 2:221

وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى یُؤْمِنَّ١ؕ وَ لَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْكُمْ١ۚ وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْا١ؕ وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلَى الْجَنَّةِ وَ الْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖ١ۚ وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:221 in the Quran reader

اور (مومنو ! ) مشرک عورتوں سے جب تک ایمان نہ لائیں نکاح نہ کرنا کیونکہ مشرک عورت خواہ تم کو کیسی ہی بھلی لگے اس سے مومن لونڈی بہتر ہے اور (اسی طرح) مشرک مرد جب تک ایمان نہ لائیں مومن عورتوں کو ان کی زوجیت میں نہ دینا کیونکہ مشرک (مرد) سے خواہ تم کو کیسا بھلا لگے مومن غلام بہتر ہے یہ (مشرک لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور خدا اپنی مہربانی سے بہشت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اور اپنے حکم لوگوں سے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ نصیحت حاصل کریں

(2:221) لاتنکحوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ نکال (باب ضرب، نصر) مصدر۔ تم نکاح مت کرو۔ تم عقد نہ کرو۔ المشرکت۔ مشرک عورتوں کے ساتھ۔ یؤمن۔ مضارع جمع مؤنث غائب۔ ایمان (افعال) مصدر۔ یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں ۔ ولامۃ۔ لام تحقیق کے معنوں میں ہے۔ امۃ۔ لونڈی، باندی، اسم ہے علامہ بیضاوی کے نزدیک امۃ سے مراد عورت ہے خواہ حرہ ہو خواہ لونڈی ہو۔ کیونکہ سب مرد و عورت اللہ تعالیٰ کے غلام اور باندیاں ہیں والامۃ۔ ای والمرأۃ المؤمنۃ حرۃ کانت او مملوکۃ فان الناس کلہم عبید اللہ واماء ہ۔ ولو اعجبتکم۔ واؤ حالیہ ہے لو بمعنی اگرچہ ۔ عبارت کچھ یوں ہوگی۔ ولو کان الحال ان المشرکۃ تعجبکم و تحبو تھا اگرچہ حال یہ ہو کہ مشرکہ عورت تمہیں بھلی لگے اور تم اسے چاہتے ہو۔ اعجبتکم ماضی واحد مؤنث غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اعجاب (افعال) مصدر۔ وہ تم کو بھلی لگی۔ اعجب کے اصل معنی Toexcite. wonder to کے ہیں۔ دوسرے میں پسند اور کشش کے جذبات ابھارنا۔ یعنی اگرچہ وہ عورت تم میں پسند اور کشش کے جذبات کے موجب ہو۔ پکھٹال نے اس کا انگریزی میں ترجمہ یہ کیا ہے Thogh she please you اور عبد اللہ یوسف علی اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں Even though she allure you ولا تنکحوا۔ واؤ عاطفہ لاتنکحوا فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ انکاح (افعال) مصدر۔ تم نکاح نہ کردو۔ تم عقد کرادو۔ المشکرین یہ لا تنکحوا کا مفعول ہے جملہ میں ایک مفعول محذوف ہے تقدیر کلام ہے ولا تنکحوا المشرکین اور تم اپنی مومن عورتوں کا عقد مشرکین سے کراؤ۔ ولواعجبکم : اگرچہ حال یہ ہو کہ مشرک تمہیں بھلا لگے۔ پسند آئے۔ اولئک۔ المشرکین والمشرکت کی طرف اشارہ ہے۔ اولئک ۔۔ الخ علت بیان کی گئی ہے مندرجہ بالا حکم کی۔