Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 2 of 289

21Sunan An Nasai

پیشاب یا پاخانہ کرنے کے وقت بیت اللہ کی جانب پشت کرنے کی ممانعت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا لِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا.

ابوایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پاخانہ و پیشاب کے لیے قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کرو، بلکہ پورب یا پچھم کی طرف کرو ۔

It was narrated from Abu Ayyub that the Prophet ﷺ said: “Do not face toward the Qiblah nor turn your backs toward it when defecating or urinating, rather face toward the east or the west.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 21
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ خطاب اہل مدینہ اور ان لوگوں کو ہے جو خانہ کعبہ سے اتر یا دکھن کی سمت میں رہتے ہیں، اس سے مقصود اس سمت کی جانب رہنمائی ہے جس میں قبلہ نہ آدمی کے آگے ہو نہ پیچھے، برصغیر ہند و پاک والوں کا قبلہ چونکہ پچھم میں ہے اس لیے یہاں اس حدیث کے مطابق اتر اور دکھن کی طرف منہ یا پیٹھ کی جائے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ١١ (١٤٤)، الصلاة ٢٩ (٣٩٤)، صحیح مسلم/الطھارة ١٧ (٢٦٤)، سنن ابی داود/فیہ ٤ (٩)، سنن الترمذی/فیہ ٦ (٨)، سنن ابن ماجہ/فیہ ١٧ (٣١٨)، (تحفة الأشراف: ٣٤٧٨)، مسند احمد ٥/٤١٦، ٤١٧، ٤٢١، سنن الدارمی/فیہ ٦ (٦٩٢) (صحیح )
22Sunan An Nasai

یعقوب بن ابراہیم، غندر، معمر، ابن شہاب، عطا بن یزید، حضرت ابوایوب انصاری

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْأَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ، فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَكِنْ لِيُشَرِّقْ أَوْ لِيُغَرِّبْ.

ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کے لیے جائے تو قبلہ کی طرف رخ نہ کرے، بلکہ پورب یا پچھم کی طرف کرے ۔

It was narrated that Abu Ayyub Al-Ansari said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘When any one of you goes to defecate, let him not face toward the Qiblah, rather let him face toward the east or the west.”(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 22
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
23Sunan An Nasai

مکانات میں پیشاب پاخانہ کے وقت بیت اللہ کی جانب چہرہ یا پشت کرنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَقَدِ ارْتَقَيْتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى لَبِنَتَيْنِمُسْتَقْبِلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دو کچی اینٹوں پر قضائے حاجت کے لیے بیت المقدس کی طرف منہ کئے ہوئے بیٹھے دیکھا ١ ؎۔

It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Umar said: “I climbed on the roof of our house and saw the Messenger of Allah ﷺ on two bricks, facing toward Bait Al-Maqdis (Jerusalem), relieving himself.”(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 23
Notes · وضاحت
١ ؎: مدینہ منورہ میں بیت المقدس کی طرف رخ کرنے والے کی پیٹھ مکہ مکرمہ کی طرف ہوگی، چونکہ بیت الخلاء گھر میں تھا اس لیے آپ ﷺ نے ایسا کیا، کھلے میدان میں یہ جائز نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ١٢ (١٤٥)، ١٤ (١٤٨، ١٤٩)، الخمس ٤ (٣١٠٢)، صحیح مسلم/الطہارة ١٧ (٢٦٦)، سنن ابی داود/فیہ ٥ (١٢)، سنن الترمذی/فیہ ٧ (١١)، سنن ابن ماجہ/فیہ ١٨ (٣٢٢)، (تحفة الأشراف: ٨٥٥٢)، موطا امام مالک/القبلة ٢ (٣)، مسند احمد ٢/١٢، ١٣، ٤١، سنن الدارمی/طہارة ٨ (٦٩٤) (صحیح )
24Sunan An Nasai

قضائے حاجت کے وقت شرم گاہ کو دائیں ہاتھ سے چھونے کی ممانعت

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ الْقَنَّادُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَأْخُذْ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ.

ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو داہنے ہاتھ سے اپنا ذکر (عضو تناسل) نہ پکڑے ١ ؎۔

It was narrated from ‘Abdullah bin Abi Qatadah, from his father, that the Messenger of Allah ﷺ said: “When any one of you urinates, let him not hold his penis in his right hand.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 24
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ ناپسندیدہ کاموں کے لیے بایاں ہاتھ استعمال کیا جائے تاکہ داہنے ہاتھ کا احترام و وقار قائم رہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ١٨ (١٥٣)، ١٩ (١٥٤)، الأشربة ٢٥ (٥٦٣٠) مطولاً، صحیح مسلم/الطہارة ١٨ (٢٦٧)، سنن ابی داود/فیہ ١٨ (٣١)، سنن الترمذی/فیہ ١١ (١٥)، سنن ابن ماجہ/فیہ ١٥ (٣١٠)، (تحفة الأشراف: ١٢١٠٥)، مسند احمد ٤/٣٨٤، ٥/٢٩٥، ٢٩٦، ٣٠٠، ٣٠٩، ٣١٠، ٣١١، سنن الدارمی/الطہارة ١٣ (٧٠٠) (صحیح )
25Sunan An Nasai

قضائے حاجت کے وقت شرم گاہ کو دائیں ہاتھ سے چھونے کی ممانعت

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ يَحْيَى هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پاخانہ کی جگہ میں داخل ہو تو اپنے داہنے ہاتھ سے اپنا ذکر نہ چھوئے ۔

It was narrated from ‘Abdullah bin Abi Qatadah that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘When any one of you enters Al-Khala’ (the toilet), let him not touch his penis with his right hand.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 25
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
26Sunan An Nasai

صحرا میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا بیان

أَخْبَرَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا.

حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے کوڑا خانہ پر آئے تو کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔

It was narrated from Hudhaifah that the Messenger of Allah ﷺ came to some people’s garbage dump and urinated while standing. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 26
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٨ (صحیح )
27Sunan An Nasai

صحرا میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قال: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، أَنَّ حُذَيْفَةَ، قال: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا.

حذیفہ ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے کوڑا خانہ پر آئے تو کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔

It was narrated that Mansur said: “I heard Abu Wa’il (say) that Hudhaifah said: ‘The Messenger of Allah ﷺ came to some people’s garbage dump and urinated while standing.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 27
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٨ (صحیح )
28Sunan An Nasai

صحرا میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا بیان

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قال: أَنْبَأَنَا بَهْزٌ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْحُذَيْفَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَمَشَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا. قَالَ سُلَيْمَانُ فِي حَدِيثِهِ: وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِوَلَمْ يَذْكُرْ مَنْصُورٌ الْمَسْحَ.

حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ لوگوں کے ایک کوڑا خانہ پر چل کر آئے تو آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔

It was narrated from Hudhaifah that the Prophet ﷺ went to some people’s garbage dump and urinated while standing. In his narration, Sulaiman bin ‘Ubidullah said: “And he wiped over his Khuffs,” but Mansur did not mention the wiping.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 28
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٨ (صحیح )
29Sunan An Nasai

مکان میں بیٹھ کر پیشاب کرنا

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَنْ حَدَّثَكُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ قَائِمًا فَلَا تُصَدِّقُوهُ، مَا كَانَ يَبُولُ إِلَّا جَالِسًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جو تم سے یہ بیان کرے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، تو تم اس کی تصدیق نہ کرو، آپ ﷺ بیٹھ کر ہی پیشاب کیا کرتے تھے ١ ؎۔

It was narrated that ‘Aishah (RA) said: “Whoever tells you that the Messenger of Allah ﷺ urinated standing up, do not believe him, for he would not urinate except while squatting.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 29
Notes · وضاحت
١ ؎: حذیفہ اور ام المؤمنین عائشہ ؓ دونوں کی روایتوں میں تعارض ہے لیکن حذیفہ ؓ کی روایت کو ترجیح حاصل ہے کیونکہ سنداً وہ عائشہ ؓ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، اور اگر دونوں روایتوں کو صحت میں برابر مان لیا جائے تو جواب یہ ہوگا کہ عائشہ ؓ کی نفی حذیفہ ؓ کے اثبات میں قادح نہیں کیونکہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کی نفی ان کی معلومات کی حد تک ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا عام دستور یہی تھا کہ آپ بیٹھ کر پیشاب کیا کرتے تھے، اور بیان جواز کے لیے آپ نے کھڑے ہو کر بھی پیشاب کیا ہے جیسا کہ حذیفہ ؓ کی روایت سے ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہارة ٨ (١٢)، سنن ابن ماجہ/فیہ ١٤ (٣٠٧)، (تحفة الأشراف: ١٦١٤٧)، مسند احمد ٦/١٣٦، ١٩٢، ٢١٣ (صحیح) (سند میں شریک بن عبداللہ القاضی حافظہ کے کمزور راوی ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی ٢٠١، تراجع الالبانی ٢ )
30Sunan An Nasai

کسی شے کی آڑ میں پیشاب کرنا

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ، قال: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ كَهَيْئَةِ الدَّرَقَةِ فَوَضَعَهَا ثُمَّ جَلَسَ خَلْفَهَا فَبَالَ إِلَيْهَا. فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: انْظُرُوا يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ، فَسَمِعَهُ، فَقَالَ: أَوَ مَا عَلِمْتَ مَا أَصَابَ صَاحِبُ بَنِي إِسْرَائِيلَ، كَانُوا إِذَا أَصَابَهُمْ شَيْءٌ مِنَ الْبَوْلِ قَرَضُوهُ بِالْمَقَارِيضِ فَنَهَاهُمْ صَاحِبُهُمْ فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ.

عبدالرحمٰن بن حسنہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، آپ کے ہاتھ میں ڈھال کی طرح کوئی چیز تھی، تو آپ نے اسے رکھا، پھر اس کے پیچھے بیٹھے، اور اس کی طرف منہ کر کے پیشاب کیا، اس پر لوگوں نے کہا: ان کو دیکھو! یہ عورت کی طرح پیشاب کر رہے ہیں، آپ ﷺ نے سنا تو فرمایا: کیا تمہیں اس چیز کی خبر نہیں جو بنی اسرائیل کے ایک شخص کو پیش آئی، انہیں جب پیشاب میں سے کچھ لگ جاتا تو اسے قینچی سے کاٹ ڈالتے تھے، تو ان کے ایک شخص نے انہیں (ایسا کرنے سے) روکا، چناچہ اس کی وجہ سے وہ اپنی قبر میں عذاب دیا گیا ۔

It was narrated that ‘Abdur Rahman bin Hasanah said: “The Messenger of Allah ﷺ came out to us with a small leather shield in his hand. He put it down, then he sat behind it and urinated toward it. Some of the people said: ‘Look, he is urinating like a woman.’ He heard that and said: ‘Do you not know what happened to the companion of the Children of Israel? If they got any urine on themselves they would clip that part of their garments off. Their companion told them not to do that and he was punished in his grave.” (Da’if)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 30
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١١ (٢٢)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٢٦ (٣٤٦)، (تحفة الأشراف: ٩٦٩٣)، مسند احمد ٤/١٩٦ (صحیح )
31Sunan An Nasai

پیشاب سے بچنے کا بیان

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قال: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يُحَدِّثُ عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرَيْنِ، فَقَالَ: إِنَّهُمَا يُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا هَذَا فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنْ بَوْلِهِ، وَأَمَّا هَذَا فَإِنَّهُ كَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ، ثُمَّ دَعَا بِعَسِيبٍ رَطْبٍ فَشَقَّهُ بِاثْنَيْنِ فَغَرَسَ عَلَى هَذَا وَاحِدًا وَعَلَى هَذَا وَاحِدًا، ثُمَّ قَالَ: لَعَلَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا. خَالَفَهُ مَنْصُورٌ، رَوَاهُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ طَاوُسًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: یہ دونوں قبر والے عذاب دئیے جا رہے ہیں، اور کسی بڑی وجہ سے عذاب نہیں دیے جا رہے ہیں ١ ؎، رہا یہ شخص تو اپنے پیشاب کی چھینٹ سے نہیں بچتا تھا، اور رہا یہ (دوسرا) شخص تو یہ چغل خوری کیا کرتا تھا ، پھر آپ ﷺ نے کھجور کی ایک تازہ ٹہنی منگوائی، اور اسے چیر کر دو ٹکڑے کیے اور ہر ایک کی قبر پر ایک ایک شاخ گاڑ دی، پھر فرمایا: امید ہے کہ جب تک یہ دونوں خشک نہ ہوجائیں ان کے عذاب میں تخفیف کردی جائے ٢ ؎۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ passed by two graves and said: ‘These two are being punished, but they are not being punished for something that was difficult to avoid. As for this, he used not to take precautions to avoid (his body or clothes being soiled by) urine, and this one used to walk around spreading malicious gossip.’ Then he called for a fresh palm-leaf stalk and split it in two, and placed one piece on each of the two graves. They said: ‘Messenger of Allah ﷺ , why did you do that?’ He said: ‘Perhaps the torment will be reduced for them so long as this does not dry out.” (Sahih) Mansur contradicted him, he reported it from Mujahid from Ibn ‘Abbas, but he did not mention Tawus in it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 31
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٥٥ (٢١٦)، ٥٦ (٢١٨)، الجنائز ٨١ (١٣٦١)، ٨٨ (١٣٧٨)، الأدب ٤٦ (٦٠٥٢)، ٤٩ (٦٠٥٥)، صحیح مسلم/الطہارة ٣٤ (٢٩٢)، سنن ابی داود/فیہ ١١ (٢٠)، سنن الترمذی/فیہ ٣ ٥ (٧٠)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٢٦ (٣٤٧)، (تحفة الأشراف: ٥٧٤٧)، مسند احمد ١/٢٢٥، سنن الدارمی/الطہارة ٦١ (٧٦٦)، و یأتي عند المؤلف في الجنائز ١١٦ (رقم: ٢٠٧٠، ٢٠٧١) (صحیح )
32Sunan An Nasai

برتن میں پیشاب کرنا

أَخْبَرَنَا أَيَّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَتْنِي حُكَيْمَةُ بِنْتُ أُمَيْمَةَ، عَنْ أُمِّهَاأُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ، قَالَتْ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَحٌ مِنْ عَيْدَانٍ يَبُولُ فِيهِ وَيَضَعُهُ تَحْتَ السَّرِيرِ.

امیمہ بنت رقیقہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس لکڑی کا ایک پیالہ تھا، جس میں آپ پیشاب کرتے اور اسے تخت کے نیچے رکھ لیتے تھے۔

It was narrated that Umaimah bint Ruqaiqah said: “The Prophet ﷺ had a vessel made from a date tree in which he would urinate and place it under the bed.” (Hasan)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 32
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١٣ (٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٨٢) (حسن صحیح )
33Sunan An Nasai

طشت میں پیشاب کرنا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: أَنْبَأَنَا أَزْهَرُ، أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: يَقُولُونَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّلَقَدْ دَعَا بِالطَّسْتِ لِيَبُولَ فِيهَا فَانْخَنَثَتْ نَفْسُهُ. وَمَا أَشْعُرُ فَإِلَى مَنْ أَوْصَى، قَالَ الشَّيْخُ: أَزْهَرُ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے (مرض الموت میں) علی ؓ کو وصی بنایا، حقیقت یہ ہے کہ آپ نے تھال منگوایا کہ اس میں پیشاب کریں، مگر (اس سے قبل ہی) آپ کا جسم ڈھیلا پڑگیا۔ (آپ فوت ہوگئے) مجھے پتہ بھی نہ چلا، تو آپ نے کس کو وصیت کی؟

It was narrated that ‘Aishah (RA) said: “They say that the Prophet ﷺ made a will for ‘Ali, but he called for a basin in which to urinate, then he went flaccid suddenly (and died), so how could he leave a will?!”(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 33
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوصایا ١ (٢٧٤١)، المغازي ٨٣ (٤٤٥٩)، صحیح مسلم/الوصیة ٥ (١٦٣٦)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٦٤ (١٦٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٧٠)، مسند احمد ٦/٣٢، ویأتي عند المؤلف في الوصایا ٢ (رقم: ٣٦٥٤) (صحیح )
34Sunan An Nasai

سوراخ میں پیشاب کرنے کی ممانعت

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قال: لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي جُحْرٍ. قَالُوا لِقَتَادَةَ: وَمَا يُكْرَهُ مِنَ الْبَوْلِ فِي الْجُحْرِ ؟ قَالَ: يُقَالُ: إِنَّهَا مَسَاكِنُ الْجِنِّ.

عبداللہ بن سرجس ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی سوراخ میں ہرگز پیشاب نہ کرے ، لوگوں نے قتادہ سے پوچھا ؛ سوراخ میں پیشاب کرنا کیوں مکروہ ہے؟ تو انہوں نے کہا: کہا جاتا ہے کہ یہ جنوں کی رہائش گاہیں ہیں ١ ؎۔

It was narrated from Qatadah, from ‘Abdullah bin Sarjis, that the Prophet of Allah ﷺ said: “None of you should urinate into a burrow in the ground.” They said to Qatadah (RA) : “Why is it disliked to urinate into a burrow in the ground?” He said: “It is said that these are dwelling- places of the jinn.” (Daif)

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 34
Notes · وضاحت
١ ؎: سوراخ میں پیشاب کرنے سے منع کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سانپ، بچھو وغیرہ سوراخ سے نکل کر ایذا نہ پہنچائیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١٦ (٢٩)، (تحفة الأشراف: ٥٣٢٢)، مسند احمد ٥/٨٢ (ضعیف) (قتادہ کا سماع عبداللہ بن سرجس سے نہیں ہے، نیز قتادہ مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، تراجع الالبانی ١٣١ )
35Sunan An Nasai

ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے کی ممانعت کا بیان

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُنَهَى عَنِ الْبَوْلِ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ forbade urinating into standing water.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 35
Notes · وضاحت
١ ؎: ٹھہرے ہوئے پانی سے وہ پانی مراد ہے جو دریا کے پانی کی طرح جاری نہ ہو، جیسے گڈھا، جھیل، تالاب وغیرہ کا پانی، ان میں پیشاب کرنا منع ہے تو پاخانہ کرنا بطریق اولیٰ منع ہوگا، ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں ویسے ہی سڑاند اور بدبو پیدا ہوجاتی ہے، اگر اس میں مزید نجاست و غلاظت ڈال دی جائے تو یہ پانی مزید بدبودار ہوجائے گا، اور اس کی عفونت اور سڑاند سے قرب و جوار کے لوگوں کو تکلیف پہنچے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ٢٨ (٢٨١)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٢٥ (٣٤٣)، (تحفة الأشراف: ٢٩١١)، مسند احمد ٣/٣٥٠ (صحیح )
36Sunan An Nasai

غسل خانہ میں پیشاب کرنا منع ہے

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُسْتَحَمِّهِ، فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ.

عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنے غسل خانے میں پیشاب نہ کرے، کیونکہ زیادہ تر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں ۔

It was narrated from ‘Abdullah bin Mughaffal that the Prophet ﷺ said: “None of you should urinate in the place where he bathes, for most Waswas (devilish whispers) come from that.” (Hasan)

صحيح دون قوله فإن عامة الوسواس منهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 36
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١٥ (٢٧)، سنن الترمذی/فیہ ١٧ (٢١)، سنن ابن ماجہ/فیہ ١٢ (٣٠٤)، (تحفة الأشراف: ٩٦٤٨)، مسند احمد ٥/٥٦ (صحیح )
37Sunan An Nasai

پیشاب کرنے والے شخص کو سلام کرنا

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، وَقَبِيصَةُ، قَالَا: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْنَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرا، آپ ﷺ پیشاب کر رہے تھے، تو اس نے آپ کو سلام کیا مگر آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا ١ ؎۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “A man passed by the Prophet ﷺ when he was urinating and greeted him with Salam, but he did not return his greeting.” (Sahih)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 37
Notes · وضاحت
١ ؎: سلام کا جواب نہیں دیا کا مطلب ہے فوری طور پر جواب نہیں دیا بلکہ وضو کرنے کے بعد دیا، جیسا کہ اگلی روایت میں آ رہا ہے، نیز یہ بھی احتمال ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے بطور تادیب سرے سے سلام کا جواب ہی نہ دیا ہو۔ قال الألباني:(صحيح دون قوله: فإن عامة الوسواس منه ۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٢٨ (٣٧٠)، سنن ابی داود/الطہارة ٨ (١٦)، سنن الترمذی/فیہ ٦٧ (٩٠)، الاستئذان ٢٧ (٢٧٢٠)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٢٧ (٣٥٣)، (تحفة الأشراف: ٧٦٩٦) (حسن صحیح )
38Sunan An Nasai

وضو کرنے کے بعد سلام کا جواب دینا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، قال: أَنْبَأَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ حُضَيْنٍ أَبِي سَاسَانَ، عَنْ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، أَنَّهُسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى تَوَضَّأَ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ رَدَّ عَلَيْهِ.

مہاجر بن قنفذ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا، اور آپ پیشاب کر رہے تھے، تو آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا یہاں تک کہ وضو کیا، پھر جب آپ نے وضو کرلیا، تو ان کے سلام کا جواب دیا۔

It was narrated from Al-Muhajir bin Qunfudh that he greeted the Prophet ﷺ with Salam while he was urinating, and he did not return the greeting until he had performed Wudu’. When he had performed Wudu’ he returned the greeting. (Da’if)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 38
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٨ (١٧) مطولاً، سنن ابن ماجہ/فیہ ٢٧ (٣٥٠) مطولاً، (تحفة الأشراف: ١١٥٨٠)، مسند احمد ٤/٣٤٥، ٥/٨٠، سنن الدارمی/الاستئذان ١٣ (٢٦٨٣) (صحیح )
39Sunan An Nasai

ہڈی سے استنجا کرنے کی ممانعت

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ بْنِ سَنَّةَ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى أَنْ يَسْتَطِيبَ أَحَدُكُمْ بِعَظْمٍ أَوْ رَوْثٍ.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ تم میں سے کوئی ہڈی یا گوبر سے استنجاء کرے ١ ؎۔

It was narrated from ‘Abdullah bin Masud, that the Messenger of Allah ﷺ forbade cleaning oneself with bones or dung. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 39
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض روایتوں میں اس ممانعت کی علت یہ بتائی گئی ہے کہ یہ تمہارے بھائی جنوں کی خوراک ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٩٦٣٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ٣٣ (٤٥٠) مطولاً، سنن الترمذی/الطہارة ١٤ (١٨) (صحیح )
40Sunan An Nasai

لید سے استنجا کرنے کی ممانعت

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِى ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، قال: أَخْبَرَنِي الْقَعْقَاعُ، عَنْأَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ أُعَلِّمُكُمْ، إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْخَلَاءِ فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا وَلَا يَسْتَنْجِ بِيَمِينِهِ. وَكَانَيَأْمُرُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں تمہارے لیے باپ کے منزلے میں ہوں (باپ کی طرح ہوں) ، تمہیں سکھا رہا ہوں کہ جب تم میں سے کوئی پاخانہ جائے تو قبلہ کی طرف نہ منہ کرے، نہ پیٹھ، اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے ، آپ (استنجاء کے لیے) تین پتھروں کا حکم فرماتے، اور گوبر اور بوسیدہ ہڈی سے (استنجاء کرنے سے) آپ منع فرماتے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said:“I am like a father teaching you. When any one of you goes to Al-Khala’ (the toilet), let him not face toward the Qiblah nor turn his back toward it, and let him not clean himself with his right hand.” And he used to tell them to use three stones, and he forbade using dung or old bones. (Hasan)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 40
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں مراد مطلق ہڈی ہے جیسا کہ دوسری روایتوں میں آیا ہے، یا یہ کہا جائے کہ بوسیدہ ہڈی جو کسی کام کی نہیں ہوتی جب اسے نجاست سے آلودہ کرنے کی ممانعت ہے تو وہ ہڈی جو بوسیدہ نہ ہو بدرجہ اولیٰ ممنوع ہوگی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داودالطہارة ٤ (٨)، سنن ابن ماجہ/فیہ ١٦ (٣١٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٥٩)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة ١٧ (٦٥) مختصراً، مسند احمد ٢/٢٤٧، ٢٥٠، سنن الدارمی/الطہارة ١٤ (٧٠١) (صحیح )