پیشاب کرنے والے شخص کو سلام کرنا
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، وَقَبِيصَةُ، قَالَا: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْنَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرا، آپ ﷺ پیشاب کر رہے تھے، تو اس نے آپ کو سلام کیا مگر آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا ١ ؎۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “A man passed by the Prophet ﷺ when he was urinating and greeted him with Salam, but he did not return his greeting.” (Sahih)
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 37
Notes · وضاحت
١ ؎: سلام کا جواب نہیں دیا کا مطلب ہے فوری طور پر جواب نہیں دیا بلکہ وضو کرنے کے بعد دیا، جیسا کہ اگلی روایت میں آ رہا ہے، نیز یہ بھی احتمال ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے بطور تادیب سرے سے سلام کا جواب ہی نہ دیا ہو۔ قال الألباني:(صحيح دون قوله: فإن عامة الوسواس منه ۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٢٨ (٣٧٠)، سنن ابی داود/الطہارة ٨ (١٦)، سنن الترمذی/فیہ ٦٧ (٩٠)، الاستئذان ٢٧ (٢٧٢٠)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٢٧ (٣٥٣)، (تحفة الأشراف: ٧٦٩٦) (حسن صحیح )