ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نیند سے جاگ جائے تو اپنا ہاتھ اپنے وضو کے پانی میں نہ ڈالے، یہاں تک کہ اسے تین بار دھو لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں کہاں رہا ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "A man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: O Messenger of Allah, what kind of charity brings the greatest reward? He said: To give in charity when you are healthy and feeling miserly, and fearing poverty and hoping for a long life. Do not wait until the (death rattle) reaches the throat and then say: "This is for so and so" and it nearly became the property of so and so (the heirs).
صحيح ق وليس عند خ العددصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ مسواک کر رہے تھے اور مسواک کا سرا آپ ﷺ کی زبان پر تھا، اور آپ: عأعأ کی آواز نکال رہے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Musa said: “I came to the Messenger of Allah ﷺ when he was using the Siwak, and the end of the Siwak was on his tongue, and he was saying, “a’, ‘a’.”(Sahih)
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، میرے ساتھ قبیلہ اشعر کے دو آدمی تھے، ان میں سے ایک میرے دائیں اور دوسرا میرے بائیں تھا، رسول اللہ ﷺ مسواک کر رہے تھے، تو ان دونوں نے آپ ﷺ سے کام (نوکری) کی درخواست کی ٢ ؎، میں نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے، ان دونوں نے اپنے ارادے سے مجھے آگاہ نہیں کیا تھا، اور نہ ہی مجھے اس کا احساس تھا کہ وہ کام (نوکری) کے طلب گار ہیں، گویا میں آپ ﷺ کی مسواک کو (جو اس وقت آپ کر رہے تھے) آپ کے ہونٹ کے نیچے دیکھ رہا ہوں اور ہونٹ اوپر اٹھا ہوا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہم کام پر اس شخص سے مدد نہیں لیتے جو اس کا طلب گار ہو ٣ ؎، لیکن (اے ابوموسیٰ! ) تم جاؤ (یعنی ان دونوں کے بجائے میں تمہیں کام دیتا ہوں) ، چناچہ آپ ﷺ نے ان کو یمن کا ذمہ دار بنا کر بھیجا، پھر معاذ بن جبل ؓ کو ان کے پیچھے بھیجا۔
It was narrated from Abu Burdah that Abu Musa said: “I came to the Prophet ﷺ when he Was using the Siwak and with me Were two men of the Ash’aris — one on my right and the other on my left — who were seeking to be appointed as officials. I said: ‘By the One Who sent you as a Prophet ﷺ with the truth, they did not tell me why they wanted to come with me and I did not realize that they were seeking to be appointed as officials.’ And I could see his Siwak beneath his lip, then it slipped and he said: ‘We do not’ — or; ‘We will never appoint as an official anyone who seeks that. Rather you should go.” So he sent him (Abu Musa) to Yemen, then he sent Muadh bin Jabal (RA) to go after him. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4
Notes · وضاحت
١ ؎ نسخہ نظامیہ میں يستاک کا لفظ ہے، بقیہ تمام نسخوں میں يستن کا لفظ موجود ہے۔ ٢ ؎: یعنی اس بات کی درخواست کی کہ آپ ہمیں عامل بنا دیجئیے یا حکومت کی کوئی ذمہ داری ہمارے سپرد کر دیجئیے۔ ٣ ؎: کیونکہ اللہ کی توفیق و مدد ایسے شخص کے شامل حال نہیں ہوتی، وہ اپنے نفس کے سپرد کردیا جاتا ہے، جیسا کہ عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ سے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تھا: لا تسال الإمارة فإنك إن اعطيتها عن مسالة وکلت إليها حکومت کا سوال نہ کرنا اس لیے کہ اگر تمہیں مانگنے کے بعد حکومت ملی تو تم اس کے حوالے کر دئیے جاؤ گے (صحیح البخاری: ٧١٤٦ )۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: مسواک منہ کی پاکیزگی، رب تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ ہے ۔
Abdur-Rahman bin Abu ‘Atiq said: “My father told me: ‘I heard Aishah (RA) say, (narrating) from the Prophet ﷺ: “Siwak is a means of purification for the mouth and is pleasing to the Lord.” (Sahih)
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں اپنی امت کے لیے باعث مشقت نہ سمجھتا تو انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Were it not that it would be too difficult for my Ummah, I would have commanded them to use the Siwak at (the time of) every Salah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 7
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وجوبی حکم دیتا، رہا مسواک کا ہر نماز کے وقت مسنون ہونا تو وہ ثابت ہے، اور باب سے مناسبت یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا یہ حکم عام ہے، صائم اور غیر صائم دونوں کو شامل ہے، اسی طرح صبح، دوپہر اور شام سبھی وقتوں کو شامل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٨ (٨٨٧)، موطا امام مالک/الطھارة: ٣٢ (١١٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٤٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة ١٥ (٢٥٢)، سنن ابی داود/ فیہ ٢٥ (٤٦)، سنن الترمذی/ فیہ ١٨ (٢٢)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٧ (٢٨٧)، موطا امام مالک/فیہ ٣٢ (١١٤)، مسند احمد ٢/٢٤٥، ٢٥٠، ٣٩٩، ٤٠٠، سنن الدارمی/الطہارة ١٧ (٧١٠)، یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ فرمائیں ٥٣٥ (صحیح )
شریح کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا کہ نبی اکرم ﷺ جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تو کون سا کام پہلے کرتے؟ انہوں نے کہا: مسواک سے (پہل کرتے) ١ ؎۔
It was narrated from Al-Miqdam— Abu Shuraih — that his father said: “I said to ‘Aishah (RA): ‘What did the Prophet ﷺ, start with when he entered his house?’ She said: ‘The Siwak.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 8
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی طبیعت میں کس درجہ لطافت تھی کہ منہ میں معمولی تغیر کا پیدا ہونا بھی گوارا نہ تھا۔
ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: فطری (پیدائشی) سنتیں پانچ ہیں، ختنہ کرنا، زیر ناف کے بال صاف کرنا، مونچھ کترنا، ناخن تراشنا، اور بغل کے بال اکھیڑنا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “The Fitrah are five: Circumcision, removing the pubes, trimming the mustache, clipping the nails, and plucking the armpit hairs .“ (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 9
Notes · وضاحت
فطرت سے مراد جبلت یعنی مزاج و طبیعت کے ہیں جس پر انسان کی پیدائش ہوتی ہے، یہاں مراد قدیم سنت ہے جسے انبیاء کرام (علیہم السلام) نے پسند فرمایا ہے اور تمام قدیم شریعتیں اس پر متفق ہیں، گویا کہ یہ پیدائشی معاملہ ہے۔ یہاں حصر یعنی ان فطری چیزوں کو ان پانچ چیزوں میں محصور کردینا مراد نہیں ہے، بعض روایتوں میں عشر من الفطرة کے الفاظ وارد ہیں۔ (یعنی دس چیزیں فطری امور میں سے ہیں)۔ ایک حدیث کی رو سے چالیس دن سے زیادہ کی تاخیر اس میں درست نہیں ہے۔ مونچھ کترنا، اس سے مراد لب (ہونٹ) کے بڑھے ہوئے بالوں کا کاٹنا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ بڑی اور لمبی مونچھیں ناپسندیدہ ہیں۔ (یعنی فطری چیز کو ان پانچ چیزوں میں محصور کردینا)۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں: مونچھ کترنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناخن تراشنا، زیر ناف کے بال صاف کرنا، اور ختنہ کرنا ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The Fitrah are five: Trimming the mustache, plucking the armpit hairs, clipping the nails, removing the pubes, and circumcision.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 10
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ١٤ (٢٧٥٦)، مسند احمد ٢/٢٢٩، ٢٨٣، ٤١٠، ٤٨٩، (تحفة الأشراف: ١٣٢٨٦)، یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: (٥٢٢٧) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرنا، زیر ناف کے بال مونڈنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناخن تراشنا، اور مونچھ کے بال لینا (یعنی کاٹنا) ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “The Fitrah are five: Circumcision, shaving the pubes, plucking the armpit hairs, clipping the nails and taking from the mustache.” (Sahih)
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ناخن تراشنا، مونچھ کے بال لینا، اور زیر ناف کے بال مونڈنا فطری (پیدائشی) سنتیں ہیں ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: “The deeds connected to the Fitrah are: Clipping the nails, removing the mustache and shaving the pubes.” (Sahih)
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مونچھ کترنے، ناخن تراشنے، زیر ناف کے بال صاف کرنے، اور بغل کے بال اکھیڑنے کی مدت ہمارے لیے مقرر فرما دی ہے کہ ان چیزوں کو چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے رکھیں ١ ؎، راوی نے دوسری بار أربعين يومًا کے بجائے أربعين ليلة کے الفاظ کی روایت کی ہے۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: “A time limit was set for us, by the Messenger of Allah ﷺ , regarding trimming the mustache, clipping the nails and plucking the pubes; we were not to leave that for more than forty days,” on one occasion he said: “Forty nights.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 14
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ تحدید اکثر مدت کی ہے مطلب یہ ہے کہ چالیس دن سے انہیں زیادہ نہ چھوڑے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مونچھوں کو خوب کترو ١ ؎، اور داڑھیوں کو چھوڑے رکھو ٢ ؎۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet ﷺ said: “Trim the mustache and let the beard grow.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 15
Notes · وضاحت
١ ؎: أحفو کے معنی کاٹنے میں مبالغہ کرنے کے ہیں۔ ٢ ؎: داڑھی کے لیے صحیحین کی روایتوں میں پانچ الفاظ استعمال ہوئے ہیں: اعفوا، أو فوا، أرخو اور وفروا ان سب کے معنی ایک ہی ہیں یعنی: داڑھی کو اپنے حال پر چھوڑے رکھو، البتہ ابن عمر اور ابوہریرہ وغیرہ صحابہ کرام ؓ اجمعین کے عمل سے یہ ثابت ہے کہ وہ ایک مٹھی کے بعد زائد بال کو کاٹا کرتے تھے، جب کہ یہی لوگ إعفاء اللحی ۃ کے راوی بھی ہیں، گویا کہ ان کا یہ فعل لفظ إعفائ کی تشریح ہے، اسی لیے ایک مٹھی کی مقدار بہت سے علماء کے نزدیک فرض ہے اس لیے ایک مٹھی سے کم کی داڑھی خلاف سنت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ١٦ (٢٥٩)، (تحفة الأشراف: ٨١٧٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس ٦٤ (٥٨٩٢)، ٦٥ (٥٨٩٣)، سنن ابی داود/الترجل ١٦ (٤١٩٩)، سنن الترمذی/الأدب ١٨ (٢٧٦٣)، ط: الشعر ١ (١)، مسند احمد ٢/١٦، ٥٢، ١٥٧ یہ حدیث مکرر، دیکھئے: ٥٠٤٨، ٥٢٢٨)، ولفظہ عند أبي داود ومالک: أمر بإحفاء الشوارب وإعفاء اللحی (صحیح )
عبدالرحمٰن بن ابی قراد ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قضائے حاجت کے لیے نکلا، اور آپ جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو دور جاتے ١ ؎۔
It was narrated that ‘Abdur Rahman bin Abi Qurad said: “I went out with the Messenger of Allah ﷺ to an isolated area, and when he wanted to relieve himself he moved far away.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 16
Notes · وضاحت
١ ؎: تاکہ لوگ آپ کو دیکھ نہ سکیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطہارة ٢٢ (٣٣٤)، (تحفة الأشراف: ٩٧٣٣)، مسند احمد ٣/٤٤٣ و ٤/٢٢٤، ٢٣٧ (صحیح )
مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب پاخانے کے لیے جاتے تو دور جاتے، مغیرہ بن شعبہ کہتے ہیں کہ آپ اپنے ایک سفر میں قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے (تو واپس آ کر) آپ نے فرمایا: میرے لیے وضو کا پانی لاؤ ، میں آپ کے پاس پانی لے کر آیا، تو آپ نے وضو کیا اور دونوں موزوں پر مسح کیا۔ امام نسائی کہتے ہیں اسمائیل سے مراد: ابن جعفر بن ابی کثیر القاری ہیں۔
It was narrated from Al-Mughira bin Shu’bah that when the Prophet ﷺ would go away (to relieve himself) he would go far away. He went to relieve himself when he was on one of his journeys, and said: “Bring me (water for) Wudu.“ So I brought him (water for) Wudu’ and he performed Wudu and wiped over his Khuffs. (Sahih)
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 17
حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ لوگوں کے ایک کوڑے خانہ پر پہنچے تو آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ١ ؎، میں آپ سے دور ہٹ گیا، تو آپ نے مجھے بلایا ٢ ؎، (تو جا کر) میں آپ کی دونوں ایڑیوں کے پاس (کھڑا) ہوگیا یہاں تک کہ آپ (پیشاب سے) فارغ ہوگئے، پھر آپ نے وضو کیا اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔
It was narrated that Hudhaifah said: “I was walking with the Messenger of Allah ﷺ and he came to some people’s garbage dump and urinated while standing up. I turned to go away, but he called me back (to conceal him), and I was just behind him. Then when he had finished, he performed Wudu and wiped over his Khuffs.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 18
Notes · وضاحت
١ ؎: کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی علماء نے متعدد توجیہیں بیان کیں ہیں، سب سے مناسب توجیہ یہ ہے کہ اسے بیان جواز پر محمول کیا جائے، حافظ ابن حجر نے اسی کو راجح قرار دیا ہے۔ ٢ ؎: تاکہ میں آڑ بن جاؤں دوسرے لوگ آپ کو اس حالت میں نہ دیکھ سکیں۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب پاخانہ کی جگہ میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: اللہم إني أعوذ بک من الخبث والخبائث اے اللہ! میں ناپاک جنوں اور جنیوں (کے شر) سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ entered Al-Khala’ (the toilet) and said: ‘Allahumma inni a’udhu bika min al-khubuthi wal-khaba‘ith (Allah, I seek refuge with You from male and female devils).” (Sahih)
رافع بن اسحاق سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوایوب انصاری ؓ کو مصر میں ان کے قیام کے دوران کہتے سنا: اللہ کی قسم! میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کھڈیوں کو کیا کروں؟ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: جب تم میں سے کوئی پاخانے یا پیشاب کے لیے جائے تو قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کرے ۔
It was narrated from Rafi’ bin Ishaq that he heard Abu Ayyub Al-Ansari say — when he was in Egypt: “By Allah, I do not know what I should do with these Karais (toilets). The Messenger of Allah ﷺ said: ‘When any one of you goes to defecate or urinate, let him not face toward the Qiblah, nor turn his back towards it.” (Sahih)