Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 1 of 289

1Sunan An Nasai

اللہ تعالیٰ کا ارشاد اے لوگو جب تم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو تو اپنا چہرہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھوؤ کی تفسیر

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ، فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي وَضُوئِهِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نیند سے جاگ جائے تو اپنا ہاتھ اپنے وضو کے پانی میں نہ ڈالے، یہاں تک کہ اسے تین بار دھو لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں کہاں رہا ہے ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "A man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: O Messenger of Allah, what kind of charity brings the greatest reward? He said: To give in charity when you are healthy and feeling miserly, and fearing poverty and hoping for a long life. Do not wait until the (death rattle) reaches the throat and then say: "This is for so and so" and it nearly became the property of so and so (the heirs).

صحيح ق وليس عند خ العددصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٢٦ (١٦٢)، صحیح مسلم/الطہارة ٢٦ (٢٧٨)، سنن ابی داود/الطھارة ٤٩ (١٠٣)، سنن الترمذی/الطھارة ١٩ (٢٤)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٤٠ (٣٩٣)، (تحفة الأشراف: ١٥١٤٩)، موطا امام مالک/ فیہ ٢ (٩)، مسند احمد ٢/٢٤١، ٢٥٣، ٢٥٩، ٣٤٩، ٣٨٢، سنن الدارمی/الطہارة ٧٨ (٧٩٣)، ویأتي عند المؤلف برقم: ١٦١، ٤٤١ (صحیح )
2Sunan An Nasai

رات کو بیدار ہونے کے بعد مسواک کرنا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ.

حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو (نماز تہجد کے لیے) اٹھتے تو اپنا منہ مسواک سے خوب صاف کرتے ١ ؎۔

It was narrated that Huthaifah said: “When the Messenger of Allah ﷺ got up at night, he would brush his mouth with the Siwâk.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٧٣ (٢٤٥)، الجمعة ٨ (٨٨٩)، التہجد ٩ (١١٣٦)، صحیح مسلم/الطہارة ١٥ (٢٥٥)، سنن ابی داود/فیہ ٣٠ (٥٥)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٧ (٢٨٦)، (تحفة الأشراف: ٣٣٣٦)، مسند احمد (٥/٣٨٢، ٣٩٠، ٣٩٧، ٤٠٢، ٤٠٧)، سنن الدارمی/الطہارة ٢٠/٧١٢، وأعادہ المؤلف في قیام اللیل: ١٠، رقم: ١٦٢٣ (صحیح )
3Sunan An Nasai

طریقہ مسواک

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَوَهُوَ يَسْتَنُّ وَطَرَفُ السِّوَاكِ عَلَى لِسَانِهِ وَهُوَ يَقُولُ: عَأْ عَأْ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ مسواک کر رہے تھے اور مسواک کا سرا آپ ﷺ کی زبان پر تھا، اور آپ: عأعأ کی آواز نکال رہے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Musa said: “I came to the Messenger of Allah ﷺ when he was using the Siwak, and the end of the Siwak was on his tongue, and he was saying, “a’, ‘a’.”(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حلق صاف کر رہے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٧٣ (٢٤٤)، صحیح مسلم/الطہارة ١٥ (٢٥٤)، سنن ابی داود/فیہ ٢٦ (٤٩)، (تحفة الأشراف: ٩١٢٣) وقد أخرجہ: مسند احمد ٤/٤١٧ (صحیح )
4Sunan An Nasai

کیا حاکم اپنی رعایا کی موجودگی میں مسواک کرسکتا ہے؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي رَجُلَانِ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ، أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِي وَالْآخَرُ عَنْ يَسَارِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ فَكِلَاهُمَا سَأَلَ الْعَمَلَ قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا، مَا أَطْلَعَانِي عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمَا وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى سِوَاكِهِ تَحْتَ شَفَتِهِ قَلَصَتْ، فَقَالَ: إِنَّا لَا أَوْ لَنْ نَسْتَعِينَ عَلَى الْعَمَلِ مَنْ أَرَادَهُ، وَلَكِنْ اذْهَبْ أَنْتَ، فَبَعَثَهُ عَلَى الْيَمَنِ ثُمَّ أَرْدَفَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، میرے ساتھ قبیلہ اشعر کے دو آدمی تھے، ان میں سے ایک میرے دائیں اور دوسرا میرے بائیں تھا، رسول اللہ ﷺ مسواک کر رہے تھے، تو ان دونوں نے آپ ﷺ سے کام (نوکری) کی درخواست کی ٢ ؎، میں نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے، ان دونوں نے اپنے ارادے سے مجھے آگاہ نہیں کیا تھا، اور نہ ہی مجھے اس کا احساس تھا کہ وہ کام (نوکری) کے طلب گار ہیں، گویا میں آپ ﷺ کی مسواک کو (جو اس وقت آپ کر رہے تھے) آپ کے ہونٹ کے نیچے دیکھ رہا ہوں اور ہونٹ اوپر اٹھا ہوا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہم کام پر اس شخص سے مدد نہیں لیتے جو اس کا طلب گار ہو ٣ ؎، لیکن (اے ابوموسیٰ! ) تم جاؤ (یعنی ان دونوں کے بجائے میں تمہیں کام دیتا ہوں) ، چناچہ آپ ﷺ نے ان کو یمن کا ذمہ دار بنا کر بھیجا، پھر معاذ بن جبل ؓ کو ان کے پیچھے بھیجا۔

It was narrated from Abu Burdah that Abu Musa said: “I came to the Prophet ﷺ when he Was using the Siwak and with me Were two men of the Ash’aris — one on my right and the other on my left — who were seeking to be appointed as officials. I said: ‘By the One Who sent you as a Prophet ﷺ with the truth, they did not tell me why they wanted to come with me and I did not realize that they were seeking to be appointed as officials.’ And I could see his Siwak beneath his lip, then it slipped and he said: ‘We do not’ — or; ‘We will never appoint as an official anyone who seeks that. Rather you should go.” So he sent him (Abu Musa) to Yemen, then he sent Muadh bin Jabal (RA) to go after him. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4
Notes · وضاحت
١ ؎ نسخہ نظامیہ میں يستاک کا لفظ ہے، بقیہ تمام نسخوں میں يستن کا لفظ موجود ہے۔ ٢ ؎: یعنی اس بات کی درخواست کی کہ آپ ہمیں عامل بنا دیجئیے یا حکومت کی کوئی ذمہ داری ہمارے سپرد کر دیجئیے۔ ٣ ؎: کیونکہ اللہ کی توفیق و مدد ایسے شخص کے شامل حال نہیں ہوتی، وہ اپنے نفس کے سپرد کردیا جاتا ہے، جیسا کہ عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ سے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تھا: لا تسال الإمارة فإنك إن اعطيتها عن مسالة وکلت إليها حکومت کا سوال نہ کرنا اس لیے کہ اگر تمہیں مانگنے کے بعد حکومت ملی تو تم اس کے حوالے کر دئیے جاؤ گے (صحیح البخاری: ٧١٤٦ )۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإجارة ١ (٢٢٦١)، المرتدین ٢ (٦٩٢٣) مطولا، الأحکام ٧ (٧١٤٩) ١٢ (٧١٥٦) مختصرا، صحیح مسلم/الإمارة ٣ (١٧٣٣)، سنن ابی داود/الأقضیة ٣ (٣٥٧٩)، الحدود ١ (٤٣٥٤)، (تحفة الأشراف: ٩٠٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٩٣، ٤٠٩، ٤١١) (صحیح )
5Sunan An Nasai

فضیلت مسواک

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَتِيقٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: مسواک منہ کی پاکیزگی، رب تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ ہے ۔

Abdur-Rahman bin Abu ‘Atiq said: “My father told me: ‘I heard Aishah (RA) say, (narrating) from the Prophet ﷺ: “Siwak is a means of purification for the mouth and is pleasing to the Lord.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ١٦٢٧١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ٢٧ (تعلیقا: ١٩٣٤)، مسند احمد ٦/٤٧، ٦٢، ١٢٤، ٢٣٨، سنن الدارمی/الطہارة ١٩ (٧١١) (صحیح )
6Sunan An Nasai

کثرت کے ساتھ مسواک کرنے کی ہدایت

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَكْثَرْتُ عَلَيْكُمْ فِي السِّوَاكِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے مسواک کے سلسلے میں تم لوگوں سے بارہا کہا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘I have indeed urged you with regard to the Siwak.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 6
Notes · وضاحت
١ ؎: أکثرت بصیغہ مجہول بھی منقول ہے یعنی مجھے بارہا یہ حکم دیا گیا کہ میں تمہیں باربار مسواک کرنے کی تاکید کروں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٨ (٨٨٨) (تحفة الأشراف: ٩١٤)، مسند احمد (٣/١٤٣، ٢٤٩)، سنن الدارمی/الطہارة ١٨ (٧٠٩) (صحیح )
7Sunan An Nasai

روزہ دار شخص کے لئے تیسرے پہر تک مسواک

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں اپنی امت کے لیے باعث مشقت نہ سمجھتا تو انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Were it not that it would be too difficult for my Ummah, I would have commanded them to use the Siwak at (the time of) every Salah.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 7
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وجوبی حکم دیتا، رہا مسواک کا ہر نماز کے وقت مسنون ہونا تو وہ ثابت ہے، اور باب سے مناسبت یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا یہ حکم عام ہے، صائم اور غیر صائم دونوں کو شامل ہے، اسی طرح صبح، دوپہر اور شام سبھی وقتوں کو شامل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٨ (٨٨٧)، موطا امام مالک/الطھارة: ٣٢ (١١٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٤٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة ١٥ (٢٥٢)، سنن ابی داود/ فیہ ٢٥ (٤٦)، سنن الترمذی/ فیہ ١٨ (٢٢)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٧ (٢٨٧)، موطا امام مالک/فیہ ٣٢ (١١٤)، مسند احمد ٢/٢٤٥، ٢٥٠، ٣٩٩، ٤٠٠، سنن الدارمی/الطہارة ١٧ (٧١٠)، یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ فرمائیں ٥٣٥ (صحیح )
8Sunan An Nasai

ہر وقت مسواک کرنا

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ الْمِقْدَامِ وَهُوَ ابْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَبِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ ؟ قَالَتْ: بِالسِّوَاكِ.

شریح کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا کہ نبی اکرم ﷺ جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تو کون سا کام پہلے کرتے؟ انہوں نے کہا: مسواک سے (پہل کرتے) ١ ؎۔

It was narrated from Al-Miqdam— Abu Shuraih — that his father said: “I said to ‘Aishah (RA): ‘What did the Prophet ﷺ, start with when he entered his house?’ She said: ‘The Siwak.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 8
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی طبیعت میں کس درجہ لطافت تھی کہ منہ میں معمولی تغیر کا پیدا ہونا بھی گوارا نہ تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ١٥ (٢٥٣)، سنن ابی داود/فیہ ٢٧ (٥١)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٧ (٢٩٠)، مسند احمد ٦/٤١، ١١٠، ١٨٢، ١٨٨، ١٩٢، ٢٣٧، ٢٥٤، (تحفة الأشراف: ١٦١٤٤) (صحیح )
9Sunan An Nasai

پیدائشی سنتیں جیسے ختنہ وغیرہ کرنے کا بیان

أَخْبَرَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَع، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْفِطْرَةُ خَمْسٌ: الِاخْتِتَانُ وَالِاسْتِحْدَادُ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَنَتْفُ الْإِبْطِ.

ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: فطری (پیدائشی) سنتیں پانچ ہیں، ختنہ کرنا، زیر ناف کے بال صاف کرنا، مونچھ کترنا، ناخن تراشنا، اور بغل کے بال اکھیڑنا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “The Fitrah are five: Circumcision, removing the pubes, trimming the mustache, clipping the nails, and plucking the armpit hairs .“ (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 9
Notes · وضاحت
فطرت سے مراد جبلت یعنی مزاج و طبیعت کے ہیں جس پر انسان کی پیدائش ہوتی ہے، یہاں مراد قدیم سنت ہے جسے انبیاء کرام (علیہم السلام) نے پسند فرمایا ہے اور تمام قدیم شریعتیں اس پر متفق ہیں، گویا کہ یہ پیدائشی معاملہ ہے۔ یہاں حصر یعنی ان فطری چیزوں کو ان پانچ چیزوں میں محصور کردینا مراد نہیں ہے، بعض روایتوں میں عشر من الفطرة کے الفاظ وارد ہیں۔ (یعنی دس چیزیں فطری امور میں سے ہیں)۔ ایک حدیث کی رو سے چالیس دن سے زیادہ کی تاخیر اس میں درست نہیں ہے۔ مونچھ کترنا، اس سے مراد لب (ہونٹ) کے بڑھے ہوئے بالوں کا کاٹنا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ بڑی اور لمبی مونچھیں ناپسندیدہ ہیں۔ (یعنی فطری چیز کو ان پانچ چیزوں میں محصور کردینا)۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٦٣ (٥٨٨٩)، ٦٤ (٥٨٩١)، الاستئذان ٥١ (٦٢٩٧)، صحیح مسلم/الطہارة ١٦ (٢٥٧)، سنن ابی داود/الترجل ١٦ (٤١٩٨)، سنن الترمذی/الأدب ١٤ (٢٧٥٦)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٨ (٢٩٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٣٤٣)، موطا امام مالک/صفة النبی ﷺ ٣ موقوفا (٤)، مسند احمد ٢/٢٢٩، ٢٤، ٢٨٤، ٤١١، ٤٨٩ (صحیح )
10Sunan An Nasai

ناخن کاٹنے کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ مَعْمَرًا، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ وَنَتْفُ الْإِبْطِ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَالِاسْتِحْدَادُ وَالْخِتَانُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں: مونچھ کترنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناخن تراشنا، زیر ناف کے بال صاف کرنا، اور ختنہ کرنا ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The Fitrah are five: Trimming the mustache, plucking the armpit hairs, clipping the nails, removing the pubes, and circumcision.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 10
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ١٤ (٢٧٥٦)، مسند احمد ٢/٢٢٩، ٢٨٣، ٤١٠، ٤٨٩، (تحفة الأشراف: ١٣٢٨٦)، یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: (٥٢٢٧) (صحیح )
11Sunan An Nasai

بغل کے بال اکھاڑنے کا بیان۔

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: الْخِتَانُ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَنَتْفُ الْإِبْطِ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَأَخْذُ الشَّارِبِ.

ابوہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرنا، زیر ناف کے بال مونڈنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناخن تراشنا، اور مونچھ کے بال لینا (یعنی کاٹنا) ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “The Fitrah are five: Circumcision, shaving the pubes, plucking the armpit hairs, clipping the nails and taking from the mustache.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 11
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٦٣ (٥٨٨٩)، ٦٤ (٥٨٩١)، الإستئذان ٥١ (٦٢٩٧)، صحیح مسلم/الطہارة ١٦ (٢٥٧)، سنن ابی داود/الترجل ١٦ (٤١٩٨)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٨ (٢٩٢)، مسند احمد ٢/٢٣٩، (تحفة الأشراف: ١٣١٢٦) (صحیح )
12Sunan An Nasai

ناف کے نیچے کے بال کاٹنے کا بیان

أَخْبَرَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْفِطْرَةُ قَصُّ الْأَظْفَارِ وَأَخْذُ الشَّارِبِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ناخن تراشنا، مونچھ کے بال لینا، اور زیر ناف کے بال مونڈنا فطری (پیدائشی) سنتیں ہیں ۔

It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: “The deeds connected to the Fitrah are: Clipping the nails, removing the mustache and shaving the pubes.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 12
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٦٣ (٥٨٨٨)، ٦٤ (٥٨٩٠)، (تحفة الأشراف: ٧٦٥٤)، مسند احمد ٢/١١٨ (صحیح )
13Sunan An Nasai

مونچھ کترنا

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَمْ يَأْخُذْ شَارِبَهُ فَلَيْسَ مِنَّا.

زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اپنی مونچھ کے بال نہ لے وہ ہم میں سے نہیں ١ ؎۔

It was narrated that Zaid bin Arqam (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever does not trim his mustache, he is not from one of us.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 13
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہماری روش پر چلنے والوں میں سے نہیں، یہ تعبیر تغلیظ و تشدید کے لیے ہے، اسلام سے خروج مراد نہیں اس لیے اس میں غفلت و سستی نہ کریں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ الأدب ١٦ (٢٧٦١)، (تحفة الأشراف: ٣٦٦٠)، (مسند احمد ٤/٣٦٦، ٣٦٨) یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے (٥٠٥٠) (صحیح )
14Sunan An Nasai

مذکورہ اشیاء کی مدت سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: وَقَّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَصِّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ وَحَلْقِ الْعَانَةِ وَنَتْفِ الْإِبْطِ، أَنْ لَا نَتْرُكَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا. وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: أَرْبَعِينَ لَيْلَةً.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مونچھ کترنے، ناخن تراشنے، زیر ناف کے بال صاف کرنے، اور بغل کے بال اکھیڑنے کی مدت ہمارے لیے مقرر فرما دی ہے کہ ان چیزوں کو چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے رکھیں ١ ؎، راوی نے دوسری بار أربعين يومًا کے بجائے أربعين ليلة کے الفاظ کی روایت کی ہے۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: “A time limit was set for us, by the Messenger of Allah ﷺ , regarding trimming the mustache, clipping the nails and plucking the pubes; we were not to leave that for more than forty days,” on one occasion he said: “Forty nights.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 14
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ تحدید اکثر مدت کی ہے مطلب یہ ہے کہ چالیس دن سے انہیں زیادہ نہ چھوڑے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ١٦ (٢٥٨)، سنن ابی داود/الترجل ١٦ (٤٢٠٠)، سنن الترمذی/الأدب ١٥ (٢٧٥٨)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٨ (٢٩٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٠)، مسند احمد ٣/١٢٢، ٢٠٣، ٢٥٦ (صحیح )
15Sunan An Nasai

مونچھ کے بال کترنے اور داڑھی کے چھوڑنے کا بیان

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا اللِّحَى.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مونچھوں کو خوب کترو ١ ؎، اور داڑھیوں کو چھوڑے رکھو ٢ ؎۔

It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet ﷺ said: “Trim the mustache and let the beard grow.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 15
Notes · وضاحت
١ ؎: أحفو کے معنی کاٹنے میں مبالغہ کرنے کے ہیں۔ ٢ ؎: داڑھی کے لیے صحیحین کی روایتوں میں پانچ الفاظ استعمال ہوئے ہیں: اعفوا، أو فوا، أرخو اور وفروا ان سب کے معنی ایک ہی ہیں یعنی: داڑھی کو اپنے حال پر چھوڑے رکھو، البتہ ابن عمر اور ابوہریرہ وغیرہ صحابہ کرام ؓ اجمعین کے عمل سے یہ ثابت ہے کہ وہ ایک مٹھی کے بعد زائد بال کو کاٹا کرتے تھے، جب کہ یہی لوگ إعفاء اللحی ۃ کے راوی بھی ہیں، گویا کہ ان کا یہ فعل لفظ إعفائ کی تشریح ہے، اسی لیے ایک مٹھی کی مقدار بہت سے علماء کے نزدیک فرض ہے اس لیے ایک مٹھی سے کم کی داڑھی خلاف سنت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ١٦ (٢٥٩)، (تحفة الأشراف: ٨١٧٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس ٦٤ (٥٨٩٢)، ٦٥ (٥٨٩٣)، سنن ابی داود/الترجل ١٦ (٤١٩٩)، سنن الترمذی/الأدب ١٨ (٢٧٦٣)، ط: الشعر ١ (١)، مسند احمد ٢/١٦، ٥٢، ١٥٧ یہ حدیث مکرر، دیکھئے: ٥٠٤٨، ٥٢٢٨)، ولفظہ عند أبي داود ومالک: أمر بإحفاء الشوارب وإعفاء اللحی (صحیح )
16Sunan An Nasai

پیشاب پاخانہ کے لئے دور جانا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنِيالْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ، وَعُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْخَلَاءِ، وَكَانَإِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ أَبْعَدَ.

عبدالرحمٰن بن ابی قراد ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قضائے حاجت کے لیے نکلا، اور آپ جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو دور جاتے ١ ؎۔

It was narrated that ‘Abdur Rahman bin Abi Qurad said: “I went out with the Messenger of Allah ﷺ to an isolated area, and when he wanted to relieve himself he moved far away.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 16
Notes · وضاحت
١ ؎: تاکہ لوگ آپ کو دیکھ نہ سکیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطہارة ٢٢ (٣٣٤)، (تحفة الأشراف: ٩٧٣٣)، مسند احمد ٣/٤٤٣ و ٤/٢٢٤، ٢٣٧ (صحیح )
17Sunan An Nasai

پیشاب پاخانہ کے لئے دور جانا

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا ذَهَبَ الْمَذْهَبَ أَبْعَدَ. قَالَ: فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ وَهُوَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَقَالَ: ائْتِنِي بِوَضُوءٍ، فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ. قَالَ الشَّيْخُ إِسْمَاعِيلُ: هُوَ ابْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ الْقَارِئُ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب پاخانے کے لیے جاتے تو دور جاتے، مغیرہ بن شعبہ کہتے ہیں کہ آپ اپنے ایک سفر میں قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے (تو واپس آ کر) آپ نے فرمایا: میرے لیے وضو کا پانی لاؤ ، میں آپ کے پاس پانی لے کر آیا، تو آپ نے وضو کیا اور دونوں موزوں پر مسح کیا۔ امام نسائی کہتے ہیں اسمائیل سے مراد: ابن جعفر بن ابی کثیر القاری ہیں۔

It was narrated from Al-Mughira bin Shu’bah that when the Prophet ﷺ would go away (to relieve himself) he would go far away. He went to relieve himself when he was on one of his journeys, and said: “Bring me (water for) Wudu.“ So I brought him (water for) Wudu’ and he performed Wudu and wiped over his Khuffs. (Sahih)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 17
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١ (١)، سنن الترمذی/فیہ ١٦ (٢٠)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٢٢ (٣٣١)، (تحفة الأشراف: ١١٥٤٠)، مسند احمد ٣/٤٤٣، ٤/٢٢٤، ٢٣٧، ٢٤٨، سنن الدارمی/الطہارة ٤ (٦٨٦) (حسن صحیح )
18Sunan An Nasai

قضائے حاجت کے لئے دور نہ جانا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَانْتَهَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا، فَتَنَحَّيْتُ عَنْهُ، فَدَعَانِي وَكُنْتُ عِنْدَ عَقِبَيْهِ حَتَّى فَرَغَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ.

حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ لوگوں کے ایک کوڑے خانہ پر پہنچے تو آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ١ ؎، میں آپ سے دور ہٹ گیا، تو آپ نے مجھے بلایا ٢ ؎، (تو جا کر) میں آپ کی دونوں ایڑیوں کے پاس (کھڑا) ہوگیا یہاں تک کہ آپ (پیشاب سے) فارغ ہوگئے، پھر آپ نے وضو کیا اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔

It was narrated that Hudhaifah said: “I was walking with the Messenger of Allah ﷺ and he came to some people’s garbage dump and urinated while standing up. I turned to go away, but he called me back (to conceal him), and I was just behind him. Then when he had finished, he performed Wudu and wiped over his Khuffs.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 18
Notes · وضاحت
١ ؎: کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی علماء نے متعدد توجیہیں بیان کیں ہیں، سب سے مناسب توجیہ یہ ہے کہ اسے بیان جواز پر محمول کیا جائے، حافظ ابن حجر نے اسی کو راجح قرار دیا ہے۔ ٢ ؎: تاکہ میں آڑ بن جاؤں دوسرے لوگ آپ کو اس حالت میں نہ دیکھ سکیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٦١ (٢٢٤)، ٢٦ (٢٢٥) مختصراً، المظالم ٢٧ (٢٤٧١)، صحیح مسلم/الطہارة ٢٢ (٢٧٣)، سنن ابی داود/فیہ ١٢ (٢٣)، سنن الترمذی/فیہ ٩ (١٣)، سنن ابن ماجہ/فیہ ١٣ (٣٠٥)، ٨٤ (٥٤٤)، (تحفة الأشراف: ٣٣٣٥)، لم یذکر بولہ علیہ السلام، مسند احمد ٥/٣٨٢، ٤٠٢، سنن الدارمی/الطہارة ٩ (٦٩٥) (صحیح )
19Sunan An Nasai

پاخانہ کے لئے جانے کے وقت کی دعا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب پاخانہ کی جگہ میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: اللہم إني أعوذ بک من الخبث والخبائث اے اللہ! میں ناپاک جنوں اور جنیوں (کے شر) سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ entered Al-Khala’ (the toilet) and said: ‘Allahumma inni a’udhu bika min al-khubuthi wal-khaba‘ith (Allah, I seek refuge with You from male and female devils).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 19
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء ٩ (١٤٢)، الدعوات ١٥ (٦٣٢٢)، صحیح مسلم/حیض ٣٢ (٣٧٥)، سنن ابی داود/الطہارة ٣ (٤)، سنن الترمذی/فیہ ٤ (٥)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٩ (٢٩٨)، (تحفة الأشراف: ٩٩٧)، مسند احمد ٣/١٠١، ٢٨٢، سنن الدارمی/الطہارة ١٠ (٦٩٦) (صحیح )
20Sunan An Nasai

قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی جانب منہ کرنے کی ممانعت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ إِسْحَاقَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ وَهُوَ بِمِصْرَ، يَقُولُ: وَاللَّهِ مَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ بِهَذِهِ الْكَرَايِيسِ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ أَوِ الْبَوْلِ فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا.

رافع بن اسحاق سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوایوب انصاری ؓ کو مصر میں ان کے قیام کے دوران کہتے سنا: اللہ کی قسم! میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کھڈیوں کو کیا کروں؟ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: جب تم میں سے کوئی پاخانے یا پیشاب کے لیے جائے تو قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کرے ۔

It was narrated from Rafi’ bin Ishaq that he heard Abu Ayyub Al-Ansari say — when he was in Egypt: “By Allah, I do not know what I should do with these Karais (toilets). The Messenger of Allah ﷺ said: ‘When any one of you goes to defecate or urinate, let him not face toward the Qiblah, nor turn his back towards it.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 20
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، مسند احمد ٥/٤١٤، ٤١٩، (تحفة الأشراف: ٣٤٥٨) (صحیح )