ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے کی ممانعت کا بیان
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُنَهَى عَنِ الْبَوْلِ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ.
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ forbade urinating into standing water.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 35
Notes · وضاحت
١ ؎: ٹھہرے ہوئے پانی سے وہ پانی مراد ہے جو دریا کے پانی کی طرح جاری نہ ہو، جیسے گڈھا، جھیل، تالاب وغیرہ کا پانی، ان میں پیشاب کرنا منع ہے تو پاخانہ کرنا بطریق اولیٰ منع ہوگا، ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں ویسے ہی سڑاند اور بدبو پیدا ہوجاتی ہے، اگر اس میں مزید نجاست و غلاظت ڈال دی جائے تو یہ پانی مزید بدبودار ہوجائے گا، اور اس کی عفونت اور سڑاند سے قرب و جوار کے لوگوں کو تکلیف پہنچے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ٢٨ (٢٨١)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٢٥ (٣٤٣)، (تحفة الأشراف: ٢٩١١)، مسند احمد ٣/٣٥٠ (صحیح )