Sunan An Nasai 23

پاکی کا بیان

23Sunan An Nasai

مکانات میں پیشاب پاخانہ کے وقت بیت اللہ کی جانب چہرہ یا پشت کرنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَقَدِ ارْتَقَيْتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى لَبِنَتَيْنِمُسْتَقْبِلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دو کچی اینٹوں پر قضائے حاجت کے لیے بیت المقدس کی طرف منہ کئے ہوئے بیٹھے دیکھا ١ ؎۔

It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Umar said: “I climbed on the roof of our house and saw the Messenger of Allah ﷺ on two bricks, facing toward Bait Al-Maqdis (Jerusalem), relieving himself.”(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 23
Notes · وضاحت
١ ؎: مدینہ منورہ میں بیت المقدس کی طرف رخ کرنے والے کی پیٹھ مکہ مکرمہ کی طرف ہوگی، چونکہ بیت الخلاء گھر میں تھا اس لیے آپ ﷺ نے ایسا کیا، کھلے میدان میں یہ جائز نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ١٢ (١٤٥)، ١٤ (١٤٨، ١٤٩)، الخمس ٤ (٣١٠٢)، صحیح مسلم/الطہارة ١٧ (٢٦٦)، سنن ابی داود/فیہ ٥ (١٢)، سنن الترمذی/فیہ ٧ (١١)، سنن ابن ماجہ/فیہ ١٨ (٣٢٢)، (تحفة الأشراف: ٨٥٥٢)، موطا امام مالک/القبلة ٢ (٣)، مسند احمد ٢/١٢، ١٣، ٤١، سنن الدارمی/طہارة ٨ (٦٩٤) (صحیح )