Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 182 of 218

3618Sunan Ibne-Majah

کھڑے کھڑے جوتا پہننا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ قَائِمًا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر جوتا پہننے سے منع فرمایا۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade putting on sandals whilst standing." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفةالأشراف: ١٢٥٤٦) (صحیح )
3619Sunan Ibne-Majah

کھڑے کھڑے جوتا پہننا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ قَائِمًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے کھڑے جوتا پہننے سے منع فرمایا۔

It was narrated that Ibn timar said: “The Prophet ﷺ forbade putting on sandals whilst Standing.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧١٧٠، ومصباح الزجاجة: ١٢٦٢) (صحیح )
3620Sunan Ibne-Majah

سیاہ موزے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا دَلْهَمُ بْنُ صَالِحٍ الْكِنْدِيُّ، عَنْ حُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْكِنْدِيِّ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ،أَنَّ النَّجَاشِيَّ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خُفَّيْنِ سَاذَجَيْنِ أَسْوَدَيْنِ، فَلَبِسَهُمَا.

بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ نجاشی (اصحمہ بن بحر) نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں دو کالے اور چمڑے کے سادہ موزے تحفہ میں بھیجے تو آپ ﷺ نے انہیں پہنا۔

It was narrated from Ibn Buraidah, from his father, that an-Najashi sent a pair of pure black Khuff as a gift to the Prophet ﷺ of, which he wore. (Daif)

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٥٤٩) (حسن )
3621Sunan Ibne-Majah

مہندی کا خضاب۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُخْبِرَانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الْيَهُودَ، وَالنَّصَارَى، لَا يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہود و نصاریٰ خضاب نہیں لگاتے، تو تم ان کی مخالفت کرو (یعنی خضاب لگاؤ) ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) attributed to the Prophet ﷺ "The Jews and the Christians do not dye (their hair),so differ from them." (Sahih)

Notes · وضاحت
بالکل سیاہ رنگ سے اجتناب کیا جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأنبیاء ٥٠ (٣٤٦٢)، اللباس ٦٧ (٥٨٩٩)، صحیح مسلم/اللباس ٢٥ (٢١٠٣)، سنن ابی داود/الترجل ١٨ (٤٢٠٣)، سنن النسائی/الزینة ١٤ (٥٠٧٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٨٠، ١٥١٤٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس ٢٠ (١٧٥٢)، مسند احمد (٢/٢٤٠، ٢٦٠، ٣٠٩، ٤٠١) (صحیح )
3622Sunan Ibne-Majah

مہندی کا خضاب۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ الْأَجْلَحِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَحْسَنَ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بالوں کی سفیدی بدلنے کے لیے سب سے بہترین چیز مہندی اور کتم ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Dharr (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The best things with which you change gray hair are henna and Kaiam" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: كَتَمُ: ایک پودا ہے جس کی جڑ سے خضاب بنایا جاتا ہے، نیز اس کو جوش دے کر روشنائی تیار کی جاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الترجل ١٨ (٤٢٠٥)، سنن الترمذی/اللباس ٢٠ (١٧٥٣)، سنن النسائی/الزینة ١٦ (٥٠٨١، ٥٠٨٢)، (تحفة الأشراف: ١١٩٢٧، ١٨٨٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٤٧، ١٥٠، ١٥٤، ١٥٦، ١٦٩) (صحیح )
3623Sunan Ibne-Majah

مہندی کا خضاب۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَىأُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ شَعَرًا مِنْ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَخْضُوبًا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ.

عثمان بن موہب کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا ایک بال نکال کر مجھے دکھایا، جو مہندی اور کتم سے رنگا ہوا تھا۔

It was narrated that Uthman bin Mawhab said: "I entered upon Umm Salamah and she brought out for me a hair of the Messenger of Allah ﷺ which was dyed with henna and Katam. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٦٦ (٥٨٩٦، ٥٨٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٨١٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٩٦، ٣١٩، ٣٢٢) (صحیح )
3624Sunan Ibne-Majah

سیاہ خضاب کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: جِيءَ بِأَبِي قُحَافَةَ، يَوْمَ الْفَتْحِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَأَنَّ رَأْسَهُ ثَغَامَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبُوا بِهِ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَلْتُغَيِّرْهُ، وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ابوقحافہ ؓ کو نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، اس وقت ان کے بال سفید گھاس کی طرح تھے، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انہیں ان کی کسی عورت کے پاس لے جاؤ کہ وہ انہیں بدل دے (یعنی خضاب لگا دے) ، لیکن کالے خضاب سے انہیں بچاؤ ١ ؎۔

It was narrated from Jâbir said: “Abu Quhâfah was brought to the Prophet ﷺ on the Day of the Conquest (of Makkah), and his head was all white. The Messenger of AlIah said: ‘Take him to some of his womenfolk and let them change this, but avoid black.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: خضاب لگانے کا مقصد یہود و نصاریٰ کی مخالفت ہے، اہل کتاب کی مخالفت رسول اکرم ﷺ خود کرتے تھے، اور اس کا حکم بھی دیتے تھے، البتہ اس حدیث کی روشنی میں کالے خضاب سے بچنا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٩٣٢، ومصباح الزجاجة: ١٢٦٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس ٢٤ (٢١٠٢)، سنن ابی داود/الترجل ١٨ (٤٢٠٤)، سنن النسائی/الزینة ١٥ (٥٠٧٩)، الزینة من المجتبیٰ ١٠ (٥٢٤٤)، مسند احمد (٣/، ٣٢٢، ٣٣٨) (صحیح) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، کمافی التخریج )
3625Sunan Ibne-Majah

سیاہ خضاب کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الصَّيْرَفِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ فِرَاسٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بْنِ زَكَرِيَّا الرَّاسِبِيُّ، حَدَّثَنَا دَفَّاعُ بْنُ دَغْفَلٍ السَّدُوسِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ صُهَيْبِ الْخَيْرِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَحْسَنَ مَا اخْتَضَبْتُمْ بِهِ لَهَذَا السَّوَادُ أَرْغَبُ لِنِسَائِكُمْ فِيكُمْ، وَأَهْيَبُ لَكُمْ فِي صُدُورِ عَدُوِّكُمْ.

صہیب الخیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو خضاب تم لگاتے ہو ان میں بہترین کالا خضاب ہے، اس سے عورتیں تمہاری طرف زیادہ راغب ہوتی ہیں، اور تمہارے دشمنوں کے دلوں میں تمہاری ہیبت زیادہ بیٹھتی ہے ۔

It was narrated that Suhaib AI-Khair said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The best thing with which you can dye your hair is this black (dye). It makes your women desire you and creates fear in the hearts of your enemies:" (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٦٥، ومصباح الزجاجة: ١٢٦٤) (ضعیف) (عمر بن خطاب بن زکریا راسبی اور دفاع سدوسی دونوں ضعیف راوی ہیں )
3626Sunan Ibne-Majah

زردخضاب۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ جُرَيْجٍ، سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: رَأَيْتُكَ تُصَفِّرُ لِحْيَتَكَ بِالْوَرْسِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَمَّا تَصْفِيرِي لِحْيَتِي، فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ.

عبید بن جریج سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عمر ؓ سے پوچھا: میں آپ کو اپنی داڑھی ورس سے زرد (پیلی) کرتے دیکھتا ہوں؟، ابن عمر ؓ نے کہا: میں اس لیے زرد (پیلی) کرتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی داڑھی زرد (پیلی) کرتے دیکھا۔

It was narrated from Sa’eed bin Abu Sa’eed that ‘Ubaid bin Juraij asked Ibn ‘Umar (RA) : “I see that you dye your beard yellow with Wars.” Ibn ‘Umar said: “As for my dyeing of my beard yellow with Wars, I saw the Messenger of Allah ﷺ dyeing his beard yellow.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الوضوء ٣٠ (١٦٦)، اللباس ٣٧ (٥٨٥١)، صحیح مسلم/الحج ٥ (١١٨٧)، سنن ابی داود/المناسک ٢١ (١٧٧٢)، اللباس ١٨ (٤٠٦٤)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ١١ (٥٢٤٥)، (تحفة الأشراف: ٧٣١٦) (صحیح )
3627Sunan Ibne-Majah

زردخضاب۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْطَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ قَدْ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ، فَقَالَ: مَا أَحْسَنَ هَذَا، ثُمَّ مَرَّ بِآخَرَ قَدْ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ، فَقَالَ: هَذَا أَحْسَنُ مِنْ هَذَا، ثُمَّ مَرَّ بِآخَرَ قَدْ خَضَبَ بِالصُّفْرَةِ، فَقَالَ: هَذَا أَحْسَنُ مِنْ هَذَا كُلِّهِ، قَالَ: وَكَانَ طَاوُسٌ يُصَفِّرُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس ہوا جس نے مہندی کا خضاب لگا رکھا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کتنا اچھا ہے ، پھر آپ ایک دوسرے شخص کے پاس سے گزرے جس نے مہندی اور کتم (وسمہ) کا خضاب لگایا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ اس سے اچھا ہے ! پھر آپ کا گزر ایک دوسرے کے پاس ہوا جس نے زرد خضاب لگا رکھا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ ان سب سے اچھا اور بہتر ہے ۔ ابن طاؤس کہتے ہیں کہ اسی لیے طاؤس بالوں کو زرد خضاب کیا کرتے تھے۔

It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "The Prophet ﷺ passed by a man who had dyed his hair with henna and said: How handsome this is! Then he passed by another who had dyed his hair with henna and Katam, and said: This one is more handsome that that one: Then he passed by another who had dyed his hair yellow and said: This one is more handsome than all of them:" (Daif) He (one of the narrators) said: Tawus used to dye his hair yellow.

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الترجل ١٩ (٤٢١١)، (تحفة الأشراف: ٥٧٢٠) (ضعیف) (سند میں حمید بن وہب لین الحدیث راوی ہیں )
3628Sunan Ibne-Majah

خضاب ترک کرنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ مِنْهُ بَيْضَاءُ، يَعْنِي عَنْفَقَتَهُ.

ابوحجیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے یہ بال یعنی داڑھی بچہ سفید دیکھی۔

It was narrated that Abu Juhaifah said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ and this part of his hair was white" - meaning the tuft of hair between the lower lip and the chin. (Sahih)

Notes · وضاحت
ان کا اشارہ نچلے ہونٹ اور ٹھوڑی کے درمیان کے بالوں کی طرف تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٣ (٣٥٤٥)، صحیح مسلم/الفضائل ٢٩ (٢٣٤٢)، (تحفة الأشراف: ١١٨٠٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب ٦٠ (٢٨٢٦)، مسند احمد (٤/٣٠٨، ٣٠٩) (صحیح )
3629Sunan Ibne-Majah

خضاب ترک کرنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَخَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَرَ مِنَ الشَّيْبِ، إِلَّا نَحْوَ سَبْعَةَ عَشَرَ أَوْ عِشْرِينَ شَعَرَةً فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ.

حمید کہتے ہیں کہ انس بن مالک ؓ سے سوال کیا گیا: کیا رسول اللہ ﷺ نے خضاب لگایا ہے؟ کہا: میں نے آپ کی داڑھی میں سفید بال دیکھے ہی نہیں سوائے ان سترہ یا بیس بالوں کے جو آپ کی داڑھی کے سامنے والے حصے میں تھے۔

It was narrated that Humaid said: "Arias bin Malik was asked: Did the Messenger of Allah ﷺ dye his halr? He said: He did not have any white hair apart from approximately seventeen or twenty hairs at the front of his beard." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفردبہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٥٣، ٧٦١، ومصباح الزجاجة: ١٢٦٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المناقب ٢٣ (٣٥٤٧)، اللباس ٦٦ (٥٨٩٤)، صحیح مسلم/الفضائل ٢٩ (٢٣٤١)، سنن الترمذی/المناقب ٤ (٣٦٢٣)، موطا امام مالک/صفة النبی ﷺ ١ (١)، مسند احمد (١/١٠٨، ١٧٨، ١٨٨، ٢٠١) (صحیح )
3630Sunan Ibne-Majah

خضاب ترک کرنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ شَيْبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ عِشْرِينَ شَعَرَةً.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا بڑھاپا تقریباً ً بیس بال کا تھا ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The white hair of the Prophet ﷺ numbered approximately twenty." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ کے تقریباً بیس بال سفید تھے۔
Takhrij · تخریج
تفردبہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٩١٤، ومصباح الزجاجة: ١٢٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٩٠) (صحیح )
3631Sunan Ibne-Majah

جوڑے اور چوٹیاں بنانا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ،دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَلَهُ أَرْبَعُ غَدَائِرَ، تَعْنِي ضَفَائِرَ.

ام ہانی ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مکہ میں (فتح کے روز) داخل ہوئے، تو آپ کے سر میں چار چوٹیاں تھیں ١ ؎۔

It was narrated that Mujahid said: "Umm Hani said: When the Messenger of Allah ﷺ entered Makkah he had four braids.": (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: ممکن ہے کہ گرد و غبار سے بچنے کے لئے آپ نے بالوں کو گوندھ کر چوٹیاں بنا لی ہوں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الترجل ١٢ (٤١٩١)، سنن الترمذی/اللباس ٣٩ (١٧٨١)، (تحفة الأشراف: ١٨٠١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٤١، ٤٢٥) (صحیح )
3632Sunan Ibne-Majah

جوڑے اور چوٹیاں بنانا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدُلُونَ أَشْعَارَهُمْ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ، قَالَ: فَسَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ، ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اہل کتاب اپنے بالوں کو پیشانی پر لٹکائے رکھتے تھے، اور مشرکین مانگ نکالا کرتے تھے، رسول اللہ ﷺ اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے تو آپ ﷺ بھی اپنی پیشانی پر بال لٹکائے رکھتے، پھر بعد میں آپ مانگ نکالنے لگے۔

It was narrated that Ibn ‘Abbâs said: The People of the nook used to let their hair hang down, and the i used to part their hair. The Messenger of Allah ﷺ liked to e more like the People of the Book. So the Messenger of Allah ﷺ let his forelock hang down, then after that he parted it.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٣ (٣٥٥٨)، مناقب الأنصار ٥٢ (٣٩٤٤)، اللباس ٧٠ (٥٩١٧)، صحیح مسلم/الفضائل ٢٤ (٢٣٣٦)، سنن ابی داود/الترجل ١٠ (٤١٨٨)، سنن الترمذی/الشمائل ٣ (٢٩)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ٧ (٥٢٤٠)، (تحفة الأشراف: ٥٨٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٦، ٢٦١، ٢٨٧، ٣٢٠) (صحیح )
3633Sunan Ibne-Majah

جوڑے اور چوٹیاں بنانا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَفْرِقُ خَلْفَ يَافُوخِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَسْدِلُ نَاصِيَتَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے سر پر چندیا کے پچھلے حصے میں مانگ نکالتی تھی اور سامنے کے بال پیشانی پر لٹکتے چھوڑ دیتی تھی۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "I used to part the hair of the Messenger of Allah ﷺ behind his crown, and let his forelock hang down." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦١٧٧ ألف)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الترجل ١٠ (٤١٨٩)، مسند احمد (٦/٩٠، ٢٧٥) (حسن )
3634Sunan Ibne-Majah

جوڑے اور چوٹیاں بنانا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعَرًا رَجِلًا، بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَمَنْكِبَيْهِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بال دونوں کانوں اور مونڈھوں کے درمیان سیدھے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Anas said: "The hair of the Messenger of Allah ﷺ was wavy. and (hung down) between his ears and his shoulders." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اسی واسطے سر کے بال دونوں کانوں سے لے کر مونڈوں تک رکھ سکتا ہے اور مونڈوں سے زیادہ لٹکانا مرد کے لئے بعضوں نے مکروہ رکھا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٦٨ (٦٩٠٥، ٦٠٩٠٦)، صحیح مسلم/الفضائل ٢٦ (٢٣٣٨)، سنن الترمذی/الشمائل ٣ (٢٦)، سنن النسائی/الزینة ٦ (٥٠٥٦)، (تحفة الأشراف: ١١٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٠٣) (صحیح )
3635Sunan Ibne-Majah

جوڑے اور چوٹیاں بنانا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعَرٌ دُونَ الْجُمَّةِ، وَفَوْقَ الْوَفْرَةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بال مونڈھوں سے اوپر اور کانوں سے نیچے ہوتے تھے۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ had hair that came between his earlobes and his shoulders." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الترجل ٩ (٤١٨٧)، سنن الترمذی/اللباس ٢١ (١٧٥٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٠١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٠٨، ١١٨) (حسن صحیح )
3636Sunan Ibne-Majah

زیادہ (لمبے) بال رکھنا مکروہ ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: رَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِي شَعَرٌ طَوِيلٌ، فَقَالَ: ذُبَابٌ ذُبَابٌ، فَانْطَلَقْتُ فَأَخَذْتُهُ، فَرَآنِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ وَهَذَا أَحْسَنُ.

وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے دیکھا کہ میرے بال لمبے ہیں تو فرمایا: منحوس ہے منحوس ، یہ سن کر میں چلا آیا، اور میں نے بالوں کو چھوٹا کیا، پھر جب نبی اکرم ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: میں نے تم کو نہیں کہا تھا، ویسے یہ بال زیادہ اچھے ہیں ١ ؎۔

It was narrated that wru bin Hujr said: "The Prophet ﷺ saw me when I had long hair. He said: Bad news, bad news! So I went away and cut it short. Then the Prophet ﷺ saw me and said: I did not mean you, but this is better."

Notes · وضاحت
١ ؎: بال زیادہ لمبا رکھنے سے ایک تو عورت سے مشابہت ہوتی ہے، دوسرے ان کے دھونے اور کنگھی کرنے میں تکلیف ہوتی ہے، اس لئے آپ نے لمبے بالوں کو مکروہ اور منحوس جانا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الترجل ١١ (٤١٩٠)، سنن النسائی/الزینة ٦ (٥٠٥٥)، (تحفة الأشراف: ١١٧٨٢) (صحیح الإسناد )
3637Sunan Ibne-Majah

کہیں سے بال کترنا اور کہیں سے چھوڑنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،عَنِ الْقَزَعِ، قَالَ: وَمَا الْقَزَعُ؟ قَالَ: أَنْ يُحْلَقَ مِنْ رَأْسِ الصَّبِيِّ مَكَانٌ، وَيُتْرَكَ مَكَانٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قزع سے منع فرمایا۔ راوی نے کہا: قزع کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: بچے کے سر کے بال ایک جگہ کے کاٹ دئیے جائیں، اور دوسری جگہ کے چھوڑ دئیے جائیں، اسے قزع کہتے ہیں۔

It was narrated from Nafi that Ibn "Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade Qaza." He (Nafi) said: "What is Qaza?" He said: "It means shaving part of a childs head and leaving another part." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٧٢ (٥٩٢٠)، صحیح مسلم/اللباس ٣١ (٢١٢٠)، سنن ابی داود/الترجل ١٤ (٤١٩٣)، سنن النسائی/الزینة ٥ (٥٠٥٣)، (تحفة الأشراف: ٨٢٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤، ٣٩، ٥٥، ٦٧، ٨٢، ٨٣، ١٠١، ١٠٦، ١١٨، ١٣٧، ١٤٣، ١٥٤) (صحیح )