بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ نجاشی (اصحمہ بن بحر) نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں دو کالے اور چمڑے کے سادہ موزے تحفہ میں بھیجے تو آپ ﷺ نے انہیں پہنا۔
It was narrated from Ibn Buraidah, from his father, that an-Najashi sent a pair of pure black Khuff as a gift to the Prophet ﷺ of, which he wore. (Daif)
عثمان بن موہب کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا ایک بال نکال کر مجھے دکھایا، جو مہندی اور کتم سے رنگا ہوا تھا۔
It was narrated that Uthman bin Mawhab said: "I entered upon Umm Salamah and she brought out for me a hair of the Messenger of Allah ﷺ which was dyed with henna and Katam. (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٦٦ (٥٨٩٦، ٥٨٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٨١٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٩٦، ٣١٩، ٣٢٢) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ابوقحافہ ؓ کو نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، اس وقت ان کے بال سفید گھاس کی طرح تھے، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انہیں ان کی کسی عورت کے پاس لے جاؤ کہ وہ انہیں بدل دے (یعنی خضاب لگا دے) ، لیکن کالے خضاب سے انہیں بچاؤ ١ ؎۔
It was narrated from Jâbir said: “Abu Quhâfah was brought to the Prophet ﷺ on the Day of the Conquest (of Makkah), and his head was all white. The Messenger of AlIah said: ‘Take him to some of his womenfolk and let them change this, but avoid black.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: خضاب لگانے کا مقصد یہود و نصاریٰ کی مخالفت ہے، اہل کتاب کی مخالفت رسول اکرم ﷺ خود کرتے تھے، اور اس کا حکم بھی دیتے تھے، البتہ اس حدیث کی روشنی میں کالے خضاب سے بچنا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٩٣٢، ومصباح الزجاجة: ١٢٦٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس ٢٤ (٢١٠٢)، سنن ابی داود/الترجل ١٨ (٤٢٠٤)، سنن النسائی/الزینة ١٥ (٥٠٧٩)، الزینة من المجتبیٰ ١٠ (٥٢٤٤)، مسند احمد (٣/، ٣٢٢، ٣٣٨) (صحیح) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، کمافی التخریج )
صہیب الخیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو خضاب تم لگاتے ہو ان میں بہترین کالا خضاب ہے، اس سے عورتیں تمہاری طرف زیادہ راغب ہوتی ہیں، اور تمہارے دشمنوں کے دلوں میں تمہاری ہیبت زیادہ بیٹھتی ہے ۔
It was narrated that Suhaib AI-Khair said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The best thing with which you can dye your hair is this black (dye). It makes your women desire you and creates fear in the hearts of your enemies:" (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٦٥، ومصباح الزجاجة: ١٢٦٤) (ضعیف) (عمر بن خطاب بن زکریا راسبی اور دفاع سدوسی دونوں ضعیف راوی ہیں )
عبید بن جریج سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عمر ؓ سے پوچھا: میں آپ کو اپنی داڑھی ورس سے زرد (پیلی) کرتے دیکھتا ہوں؟، ابن عمر ؓ نے کہا: میں اس لیے زرد (پیلی) کرتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی داڑھی زرد (پیلی) کرتے دیکھا۔
It was narrated from Sa’eed bin Abu Sa’eed that ‘Ubaid bin Juraij asked Ibn ‘Umar (RA) : “I see that you dye your beard yellow with Wars.” Ibn ‘Umar said: “As for my dyeing of my beard yellow with Wars, I saw the Messenger of Allah ﷺ dyeing his beard yellow.” (Sahih)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس ہوا جس نے مہندی کا خضاب لگا رکھا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کتنا اچھا ہے ، پھر آپ ایک دوسرے شخص کے پاس سے گزرے جس نے مہندی اور کتم (وسمہ) کا خضاب لگایا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ اس سے اچھا ہے ! پھر آپ کا گزر ایک دوسرے کے پاس ہوا جس نے زرد خضاب لگا رکھا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ ان سب سے اچھا اور بہتر ہے ۔ ابن طاؤس کہتے ہیں کہ اسی لیے طاؤس بالوں کو زرد خضاب کیا کرتے تھے۔
It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "The Prophet ﷺ passed by a man who had dyed his hair with henna and said: How handsome this is! Then he passed by another who had dyed his hair with henna and Katam, and said: This one is more handsome that that one: Then he passed by another who had dyed his hair yellow and said: This one is more handsome than all of them:" (Daif) He (one of the narrators) said: Tawus used to dye his hair yellow.
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الترجل ١٩ (٤٢١١)، (تحفة الأشراف: ٥٧٢٠) (ضعیف) (سند میں حمید بن وہب لین الحدیث راوی ہیں )
ابوحجیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے یہ بال یعنی داڑھی بچہ سفید دیکھی۔
It was narrated that Abu Juhaifah said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ and this part of his hair was white" - meaning the tuft of hair between the lower lip and the chin. (Sahih)
Notes · وضاحت
ان کا اشارہ نچلے ہونٹ اور ٹھوڑی کے درمیان کے بالوں کی طرف تھا۔
حمید کہتے ہیں کہ انس بن مالک ؓ سے سوال کیا گیا: کیا رسول اللہ ﷺ نے خضاب لگایا ہے؟ کہا: میں نے آپ کی داڑھی میں سفید بال دیکھے ہی نہیں سوائے ان سترہ یا بیس بالوں کے جو آپ کی داڑھی کے سامنے والے حصے میں تھے۔
It was narrated that Humaid said: "Arias bin Malik was asked: Did the Messenger of Allah ﷺ dye his halr? He said: He did not have any white hair apart from approximately seventeen or twenty hairs at the front of his beard." (Sahih)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اہل کتاب اپنے بالوں کو پیشانی پر لٹکائے رکھتے تھے، اور مشرکین مانگ نکالا کرتے تھے، رسول اللہ ﷺ اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے تو آپ ﷺ بھی اپنی پیشانی پر بال لٹکائے رکھتے، پھر بعد میں آپ مانگ نکالنے لگے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbâs said: The People of the nook used to let their hair hang down, and the i used to part their hair. The Messenger of Allah ﷺ liked to e more like the People of the Book. So the Messenger of Allah ﷺ let his forelock hang down, then after that he parted it.” (Sahih)
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے دیکھا کہ میرے بال لمبے ہیں تو فرمایا: منحوس ہے منحوس ، یہ سن کر میں چلا آیا، اور میں نے بالوں کو چھوٹا کیا، پھر جب نبی اکرم ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: میں نے تم کو نہیں کہا تھا، ویسے یہ بال زیادہ اچھے ہیں ١ ؎۔
It was narrated that wru bin Hujr said: "The Prophet ﷺ saw me when I had long hair. He said: Bad news, bad news! So I went away and cut it short. Then the Prophet ﷺ saw me and said: I did not mean you, but this is better."
Notes · وضاحت
١ ؎: بال زیادہ لمبا رکھنے سے ایک تو عورت سے مشابہت ہوتی ہے، دوسرے ان کے دھونے اور کنگھی کرنے میں تکلیف ہوتی ہے، اس لئے آپ نے لمبے بالوں کو مکروہ اور منحوس جانا۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قزع سے منع فرمایا۔ راوی نے کہا: قزع کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: بچے کے سر کے بال ایک جگہ کے کاٹ دئیے جائیں، اور دوسری جگہ کے چھوڑ دئیے جائیں، اسے قزع کہتے ہیں۔
It was narrated from Nafi that Ibn "Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade Qaza." He (Nafi) said: "What is Qaza?" He said: "It means shaving part of a childs head and leaving another part." (Sahih)