براء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ خوبصورت بال جھاڑے اور سنوارے ہوئے سرخ جوڑے میں ملبوس کسی کو نہیں دیکھا۔
It was narrated that Bara said: "I never saw anyone more handsome than the Messenger of Allah ﷺ with his hair combed, wearing a red two-piece suit." (Sahih)
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو خطبہ دیتے دیکھا، اتنے میں حسن اور حسین ؓ دونوں لال قمیص پہنے ہوئے آگئے کبھی گرتے تھے کبھی اٹھتے تھے، نبی اکرم ﷺ (منبر سے) اترے، دونوں کو اپنی گود میں اٹھا لیا، اور فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کا قول سچ ہے: إنما أموالکم وأولادکم فتنة بلاشبہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں ، میں نے ان دونوں کو دیکھا تو صبر نہ کرسکا، پھر آپ ﷺ نے خطبہ شروع کردیا ١ ؎۔
Abdullah bin Buraidah narrated that his father told him: I saw the Messenger of Allah ﷺ delivering a sermon, and Hasan and Husain came forward, wearing red shirts, stumbling and getting up again. The Prophet ﷺ stepped down, picked them up and put them in his lap. Then he said: "Allah and His Messenger have spoken the truth. Your wealth and your children are only a trial. I saw these two and I could not be patient. Then he resumed his sermon." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ خطبہ کے درمیان بات کرنا اور بچوں کا اٹھا لینا اور کسی کام کے لئے منبر پر سے اترنا اور تھوڑی دیر کے لئے خطبہ روک دینا جائز ہے، دوسرے حسن و حسین ؓ کی فضیلت و منقبت، تیسرے یہ کہ نبی اکرم ﷺ کی ان دونوں سے غایت درجہ محبت اور قلبی لگاؤ، چوتھے چیز لال رنگ کا جواز کیونکہ یہ دونوں صاحبزادے لال رنگ کی قمیص پہنے ہوئے تھے، اگر یہ ناجائز ہوتا تو آپ ﷺ اس سے منع فرماتے یا اسے اتارنے کا حکم دیتے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مفدم سے منع کیا ہے، یزید کہتے ہیں کہ میں نے حسن سے پوچھا: مفدم کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جو کپڑا کسم میں رنگنے سے خوب پیلا ہوجائے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn "Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade AI-Mufaddam." (Hasan) (One of the narrators) Yazid said: "I said to Hasan: What is AI-Mufaddam? He said: (Clothes) that are dyed with safflower (i.e., a red dyestuff prepared from its flower heads)."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہلکا سرخ رنگ کسم کا بھی جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٦٩١، ومصباح الزجاجة: ١٢٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٩٩) (صحیح )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے پیلے رنگ کے کپڑے پہننے سے روکا، میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع کیا۔
It was narrated that Abdullah bin Hunain said: "I heard Ali say: The Messenger of Allah ﷺ forbade me - and I do not say that he forbade you -from wearing clothes dyed with safflower." (Sahih)
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ ہم اذاخر ١ ؎ کے موڑ سے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آئے، آپ میری طرف متوجہ ہوئے، میں باریک چادر پہنے ہوئے تھا جو کسم کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی، تو آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کیا ہے ؟ میں آپ کی اس ناگواری کو بھانپ گیا، چناچہ میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا، وہ اس وقت اپنا تنور گرم کر رہے تھے، میں نے اسے اس میں ڈال دیا، دوسری صبح میں آپ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: عبداللہ! چادر کیا ہوئی ؟ میں نے آپ کو ساری بات بتائی تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے اپنی کسی گھر والی کو کیوں نہیں پہنا دی؟ اس لیے کہ اسے پہننے میں عورتوں کے لیے کوئی مضائقہ نہیں ۔
It was narrated from Amr bin Shu aib, from his father, that his grandfather said: "We came with the Messenger of Allah ﷺ from Thaniyyat Adhakhir. He turned to me, and I was wearing a thin cloak dyed with safflower, and said: What is this? And I realized that he disliked it. I came to my family when they were heating their oven and threw it (in the oven). Then I came to him the following day and he said: 0 Abdullah, what happened to the thin cloak? I told him (what I had done) and he said: Why did you not give it to some of your family to wear, for there is nothing wrong with it for women. (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: اذاخر: مکہ و مدینہ کے درمیان ایک مقام ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٢٠ (٤٠٦٦)، (تحفة الأشراف: ٨٨١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٤، ١٩٦) (حسن )
قیس بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم ﷺ تشریف لائے، تو ہم نے آپ کے لیے پانی رکھا تاکہ آپ اس سے ٹھنڈے ہوں، آپ نے اس سے غسل فرمایا، پھر میں آپ کے پاس ایک پیلی چادر لے کر آیا، (اس کو آپ نے پہنا) تو میں نے آپ کے پیٹ کی سلوٹوں پر ورس کا نشان دیکھا ١ ؎۔
It was narrated that Qais bin Sad said: "The Prophet ﷺ came to us and we gave him some water with which to cool down. He bathed, then I brought him a yellow blanket, and I saw the traces of Wars (the yellow dye) on the folds of his stomach." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک پیلا، خوشبودار پودا ہے جو یمن میں پایا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
(یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٤٦٦)، (تحفة الأشراف: ١١٠٩٥) (ضعیف) (سند میں محمد بن شر حبیل مجہول، اور محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ضعیف ہیں )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کھاؤ پیو، صدقہ و خیرات کرو، اور پہنو ہر وہ لباس جس میں اسراف و تکبر (فضول خرچی اور گھمنڈ) کی ملاوٹ نہ ہو ١ ؎۔
It was narrated from Amr bin Shu aib, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Eat and drink, give charity and wear clothesl as long as that does not Inv?lve any extravagance or vatuty." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: ضرورت سے زیادہ مال خرچ کرنے کو اسراف کہتے ہیں، جو حرا م ہے، قرآن میں ہے: ولا تسرفوا إنه لا يحب المسرفين (سورة الأعراف: 31) اسراف نہ کرو، بیشک اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا دوسری جگہ ہے: إن المبذرين کانوا إخوان الشياطين وکان الشيطان لربه کفورا (سورة الإسراء: 27) بےجا خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے اور خلاف شرع کام میں ایک پیسہ بھی صرف کرنا اسراف میں داخل ہے جیسے پتنگ بازی، کبوتر بازی اور آتش بازی وغیرہ وغیرہ
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٧٧٣، ومصباح الزجاجة: ١٢٥٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس ١ (تعلیقا) سنن النسائی/الزکاة ٦٦ (٢٥٦٠)، مسند احمد (٢/١٨١، ١٨٢) (حسن )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے شہرت کا لباس پہنا اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ذلت کا لباس پہنائے گا ۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever wears a garment of pride and vanity, Allah will clothe him, on the Day of Resurrection, in a garment of humiliation." (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٥ (٤٠٢٩، ٤٠٣٠)، (تحفة الأشراف: ٧٤٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٩٢، ١٣٩) (حسن )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے دنیا میں شہرت کا لباس پہنا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ذلت کا لباس پہنائے گا، پھر اس میں آگ بھڑکائے گا۔
It was narrated that Abdullah bin "Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever wears a garment of pride and vanity in this world, Allah will clothe him in a garment of humiliation on the Day of Resurrection, then set it ablaze." (Hasan)
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے شہرت کی خاطر لباس پہنا، اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لے گا یہاں تک کہ اسے اس جگہ رکھے گا جہاں اسے رکھنا ہے (یعنی جہنم میں) ۔
It was narrated from Abu Dharr (RA) that the Prophet ﷺ said: "Whoever wears a garment of pride and vanity, Allah will turn away from him until he takes it off" (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: ١١٩١٢، ومصباح الزجاجة: ١٢٥٨) (ضعیف) (سند میں وکیع بن محرز کے پاس عجیب و غریب احادیث ہیں، اور عباس بن یزید مختلف فیہ راوی ہیں، لیکن سابقہ احادیث میں جیسا گزرا متن حدیث ثابت ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٦٥٠ )
ام المؤمنین میمونہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کی ایک لونڈی کو صدقہ کی ایک بکری ملی تھی جو مری پڑی تھی، نبی اکرم ﷺ کا گزر اس بکری کے پاس ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ان لوگوں نے اس کی کھال کیوں نہیں اتار لی کہ اسے دباغت دے کر کام میں لے آتے ؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو مردار ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: صرف اس کا کھانا حرام ہے ١ ؎۔
It was narrated from Maimunah that he (meaning the Prophet ﷺ passed by a dead sheep belonging to the freed slave woman of Maimunah, that had been given to her in charity. He said: "Why dont they take its skin and tan it, and make use of it?" They said: "O Messenger of Allah, it is dead meat." He said: "It is only unlawful to eat it." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر مرے ہوئے ماکول اللحم جانور کا گوشت کھانا حرام ہے، لیکن اس کے چمڑے سے دباغت کے بعد ہر طرح کا فائدہ اٹھانا جائز ہے، وہ بیچ کر ہو یا ذاتی استعمال میں لا کر۔
سلمان ؓ کہتے ہیں کہ امہات المؤمنین میں سے کسی ایک کے پاس ایک بکری تھی جو مرگئی، رسول اللہ ﷺ کا اس پر گزر ہوا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر لوگ اس کی کھال کو کام میں لے آتے تو اس کے مالکوں کو کوئی نقصان نہ ہوتا ۔
It was narrated that Salman said: "One of the Mothers of the Believers had a sheep that died. The Messenger of Allah ﷺ passed by it and said: It would not have harmed its owners if they had made use of its hide. (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٤٩٢، ومصباح الزجاجة: ١٢٥٩) (صحیح) (سند میں لیث بن ابی سلیم اور شہر بن حوشب دونوں ضعیف راوی ہیں )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا: جب مردہ جانوروں کی کھال کو دباغت دے دی جائے، تو لوگ ا سے فائدہ اٹھائیں ۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ commanded that use should be made of the skins of dead animals, if they were tanned." (Daif)
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم ﷺ کا مکتوب آیا کہ مردار کی کھال اور پٹھوں سے فائدہ نہ اٹھاؤ ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah bin Ukaym said: "There came to us a letter from the Prophet ﷺ (saying): Do not make use of the untanned skin and sinew of dead animals." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں إِهَاب کا لفظ آیا ہے، اور نضر بن شمیل کہتے ہیں کہ إِهَاب اسی کھال کو کہا جاتا جس کی دباغت نہ ہوئی ہو، اور جس کی دباغت ہوجائے اسے إِهَاب نہیں کہتے، بلکہ اسے شن یا قربہ کہا جاتا ہے، لہذا اس حدیث میں إِهَاب یعنی بغیر دباغت والے چمڑے کا ذکر ہے، اس إِهَاب یعنی کچے چمڑے سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں، لیکن دوسری صحیح حدیثوں میں مشروط طریقے سے فائدہ اٹھانا جائز ہے، وہ یہ کہ حلال مردہ جانوروں کے چمڑے کو پہلے دباغت دے دیں، پھر اس سے فائدہ اٹھائیں لفظ إِهَاب کی وضاحت کے بعد حدیث میں کسی طرح کا نہ کوئی تعارض ہے اور نہ ہی اشکال۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی جوتیوں کے دو تسمے تھے، جو آگے سے دہرے ہوتے ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah bin Abbas said: "The sandals of the Prophet ﷺ had two thongs doubled around their straps." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ چپل پہنتے تھے اور تسموں سے مراد یہ کہ ہر جوتی میں سامنے دو دو حلقے چمڑے کے تھے ایک میں انگوٹھا اور بیچ کی انگلی ڈالتے، اور دوسرے میں باقی انگلیاں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جوتا پہنے تو دائیں پیر سے شروع کرے، اور اتارے تو پہلے بائیں پیر سے اتارے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When anyone of you puts on his sandals, let him start with the right, and when he takes them off, let him start with the left."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٤٠٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس ٣٩ (٥٨٥٤)، صحیح مسلم/اللباس ١٩ (٢٠٩٧)، سنن ابی داود/اللباس ٤٤ (٤١٣٩)، سنن الترمذی/اللباس ٣٧ (١٧٧٩)، موطا امام مالک/اللباس ٧ (١٥)، مسند احمد (٢/٢٤٥، ٢٦٥، ٢٨٣، ٤٣٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی بھی شخص ایک جوتا یا ایک موزہ پہن کر نہ چلے، یا تو دونوں جوتے اور موزے اتار دے یا پھر دونوں جوتے اور موزے پہن لے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "None of you should walk in one sandal or in one leather sock. Let him take them both off or walk in both of them."
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حکم ادب کے طور پر ہے اگر کوئی عذر ہو مثلا ایک پاؤں میں پھوڑا یا درد ہو تو جوتا اس میں نہ پہنا جائے، تو بہتر یہ ہے کہ دوسرے پاؤں کا جوتا بھی اتار کر چلے۔