قرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے بیعت کی، اس وقت آپ کے کرتے کی گھنڈیاں کھلی ہوئی تھیں، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ ؓ اور ان کے بیٹے کو خواہ سردی ہو یا گرمی ہمیشہ اپنی گھنڈیاں (بٹن) کھولے دیکھا ١ ؎۔
Muawiyah bin Qurrah narrated that his father said: "I came to the Messenger of Allah ﷺ and gave him my pledge, and the buttons of his shirt were undone." (Sahih) Urwah said: "I never saw Muawiyah or his son, in winter Or summer, except with their buttons undone."
Notes · وضاحت
١ ؎: صحابہ کرام ؓ کو چھوٹی چھوٹی سنتوں میں بھی رسول اکرم ﷺ کی پیروی کا کتنا خیال تھا کہ جس حال میں اور جس وضع میں آپ ﷺ کو دیکھا ساری عمر وہی وضع اور روش اختیار کی، آفریں ان کے جذبہ و محبت اور اتباع پر، اور کمال ایمان یہی ہے کہ عبادات اور عادات میں آپ ﷺ کی پیروی کی جائے، دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ کے کرتہ کا گریبان بیچ میں رہتا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٢٦ (٤٠٨٢)، (تحفة الأشراف: ١١٠٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٣٤، ٤/١٩، ٥/٣٥) (صحیح )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا: عورت اپنے کپڑے کا دامن کتنا لٹکا سکتی ہے؟ فرمایا: ایک بالشت میں نے عرض کیا: اتنے میں تو پاؤں کھل جائے گا، تو فرمایا: ایک ہاتھ، اس سے زیادہ نہیں ۔
It was narrated that Umm Salamah said: "The Messenger of Allah ﷺ was asked about how long a womans hem should hang down. He said: A hand span. I said: But then (her legs and feet) will be uncovered. He said: Then a forearms length, but no more than that." (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٤٠ (٤١١٨)، (تحفة الأشراف: ١٨١٥٩)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس ٩ (١٧٣١)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ٥١ (٥٣٥٢)، موطا امام مالک/اللباس ٦ (١٣)، مسند احمد (٦/٢٩٣، ٢٩٦، ٣٠٩، ٣١٥)، سنن الدارمی/الاستئذان ١٦ (٢٦٨٦) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات ؓن کو کپڑوں کے دامن ایک ہاتھ لٹکانے کی اجازت تھی، چناچہ جب وہ ہمارے پاس آتیں تو ہم ان کے لیے لکڑی سے ایک ہاتھ کا ناپ بنا کردیتے۔
It was narrated from Ibn Umar (RA) : "The wives of the Prophet ﷺ were allowed to let their hems hang down, so they used to come to us and we would measure one forearms length for them with a reed." (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٤٠ (٤١١٩)، (تحفة الأشراف: ٦٦٦١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس ٩ (١٧٣١)، مسند احمد (٢/١٨، ٩٠) (منکر) (سند میں زید العمی ضعیف ہیں، اور فكن يأتينا فنذرع لهن کا لفظ منکر ہے، پہلا ٹکڑا صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٨٦٤ )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فاطمہ یا ام سلمہ ؓ سے فرمایا: اپنے کپڑے کا دامن ایک ہاتھ کا رکھو ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said to Fatimah, or to Umm Salamah (RA) : "Let your hem down one forearms length." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٨٣٧، ومصباح الزجاجة: ١٢٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٦٣، ٤١٦) (صحیح) (سند میں ابو المہزم ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد سے یہ صحیح ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عورتوں کے دامن کے سلسلے میں فرمایا: ایک بالشت کا ہو ام المؤمنین عائشہ ؓ نے عرض کیا کہ اتنے میں تو پنڈلی کھل جائے گی؟ فرمایا: تو پھر ایک ہاتھ ہو ۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet ﷺ said concerning how long a woman`s hem should hang down: "A hand span." Aisha (RA) said: "This may show her calves." He said: "Then a forearms length." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨٠٨، ومصباح الزجاجة: ١٢٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٧٥، ١٢٣) (صحیح) (سند میں ابو المہزم متروک ہے، لیکن حدیث نمبر ( ٣٥٨١ ) میں ابن عمر ؓ کے شاہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
عمرو بن حریث ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو منبر پر خطبہ دیتے دیکھا، آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی۔
It was narrated from [afar bin Amr bin Huraith that his father said: "I saw the Prophet ﷺ delivering a sermon on the pulpit, wearing a black turban." (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٨٤ (١٣٥٩)، سنن ابی داود/اللباس ٢٤ (٤٠٧٧)، سنن الترمذی/الشمائل ١٦ (١٠٨)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ٥٦ (٥٣٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٧١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٠٧)، سنن الدارمی/ المناسک ٨٨ (١٩٨٢) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ١١١٤ )
عمرو بن حریث ؓ کہتے ہیں کہ گویا میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہا ہوں، اور آپ کے سر پر کالی پگڑی ہے جس کے دونوں کناروں کو آپ اپنے دونوں شانوں کے درمیان لٹکائے ہوئے ہیں۔
Jafar bin Amr bin Huraith narrated that his father said: "It is as if I can see the Messenger of Allah ﷺ wearing a black turban, with the ends hanging between his shoulders." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: ان حدیثوں سے سیاہ عمامہ (کالی پگڑی) کا مسنون ہونا نکلتا ہے، دوسری روایتوں میں سفید بھی منقول ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس آدمی نے دنیا میں ریشمی کپڑا پہنا، وہ آخرت میں نہیں پہن سکے گا ۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever wears silk in this world will not wear it in the Hereafter." (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٢ (١٠٧٣)، (تحفة الأشراف: ٥٣٩٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس ٢٥ (٥٨٣٢)، مسند احمد (٣/١٠١) (صحیح )
حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (مردوں کے لیے) ریشم اور سونا پہننے سے منع کیا، اور فرمایا: یہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہے اور ہمارے لیے آخرت میں ہے ۔
It was narrated that Hudhaifah said: “The Messenger of Allah ﷺ forbade wearing silk and gold. He said: ‘They are for them in this world and for us in the Hereafter.”
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے ریشم کا ایک سرخ جوڑا دیکھا تو کہا: اللہ کے رسول! اگر آپ اس جوڑے کو وفود سے ملنے کے لیے اور جمعہ کے دن پہننے کے لیے خرید لیتے تو اچھا ہوتا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا ۔
It was narrated from Abdullah bin Umar that Umar bin Khattab saw a silken two piece suit (being offered for sale). He said: "O Messenger of Allah, why dont you buy this two piece suit (to wear for meeting) the delegations, and on Fridays?" The Messenger of Allah ﷺ said: "This is only worn by one who has no share in the Hereafter: (Sahih)
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زبیر بن عوام اور عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کو اس تکلیف کی وجہ سے جو انہیں کھجلی کی وجہ سے تھی، ریشم کے کرتے پہننے کی اجازت دی۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ granted a concession to Zubair bin Awwam and Abdur-Rahman bin Awf, allowing them to wear silk shirts, because of a rash they were suffering from. (Sahih)
عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ خالص ریشمی کپڑے (حریر و دیباج) کے استعمال سے منع فرماتے تھے سوائے اس کے جو اس قدر ریشمی ہوتا، پھر انہوں نے اپنی ایک انگلی، پھر دوسری پھر تیسری پھر چوتھی انگلی سے اشارہ کیا ١ ؎ پھر کہا: رسول اللہ ﷺ ہمیں اس سے منع کرتے تھے۔
It was narrated from Umar that he used to forbid silk and brocade, except for what was like this: Then he gestured with his finger, then a second, and a third, and a fourth (i.e., the width of four fingers), and he said: "The Messenger of Allah ﷺ used to forbid it: (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی چار انگل ریشم اگر کسی کپڑے میں ہو تو کوئی حرج نہیں۔
اسماء ؓ کے غلام ابوعمر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک عمامہ خریدا جس میں گوٹے بنے تھے، پھر قینچی منگا کر انہیں کتر دیا ١ ؎، میں اسماء ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے کہا: تعجب ہے عبداللہ پر، (ایک اپنی خادمہ کو پکار کر کہا:) اے لڑکی! رسول اللہ ﷺ کا جبہ لے آ، چناچہ وہ ایک ایسا جبہ لے کر آئی جس کی دونوں آستینوں، گریبان اور کلیوں کے دامن پر ریشمی گوٹے تھے۔
It was narrated that Abu ‘Umar, the freed slave of Asmâ’, said: “I saw Ibn ‘Umar buying a turban that had some markings, then he called for a pair of scissors and cut that off. I entered upon Asmâ’ and mentioned that to her, and she said: ‘May ‘Abdullâh perish, O girl Give me the garment of the Messenger of Allah ﷺ P.U.B.H.’ A garment was brought that was hemmed with brocade on the sleeves, necklines and openings (at the front and back).” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: شاید ابن عمر ؓ اس رخصت کی خبر نہ ہوگی، اور شاید ان کے عمامہ کا حاشیہ چار انگل سے زیادہ ہوگا، اس لئے انہوں نے کاٹ ڈالا۔
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے بائیں ہاتھ میں ریشم اور دائیں ہاتھ میں سونا لیا، اور دونوں کو ہاتھ میں اٹھائے فرمایا: یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام، اور عورتوں کے لیے حلال ہیں ۔
Ali bin Abu Talib said: "The Messenger of Allah ﷺ took hold of some silk in his left hand and some gold in his right. Then he raised his hands and said: These two are forbidden for the males of my nation, and permitted to the females " (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ١٤ (٤٠٥٧)، سنن النسائی/الزینة ٤٠ (٥١٤٧)، (تحفة الأشراف: ١٠١٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٦، ١١٥) (صحیح )
علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک ریشمی (جوڑا) تحفہ میں آیا جس کے تانے یا بانے میں ریشم ملا ہوا تھا، آپ نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس کا کیا کروں؟ کیا میں اسے پہنوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ اسے فاطماؤں کی اوڑھنیاں بنادو ١ ؎۔
It was narrated from Ali that a two-piece suit hemmed with silk. either on the warp or the weft.! I was given to the Messenger of Allah ﷺ . and he sent them to me (Ali). I came to him and said: O Messenger of Allah. what should I do with these? Shall I wear them?" He said: "No, rather make them into head-eloths and give them to the Fatimahs.· (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک فاطمہ بنت اسد علی ؓ کی ماں، دوسری فاطمہ بنت حمزہ ؓ، تیسری سیدۃ النسا، فاطمہ ؓ صاحبزادی رسول اللہ ﷺ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٣٠٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس ٣٠ (٥٨٤٠)، صحیح مسلم/اللباس ٢ (٢٠٧١)، سنن ابی داود/اللباس ١٠ (٤٠٤٣)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ٣٠ (٥٣٠٠)، مسند احمد (١/٩٠، ١٣٠، ١٥٣) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس گھر سے نکل کر آئے، آپ کے ایک ہاتھ میں ریشم کا کپڑا، اور دوسرے میں سونا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام، اور عورتوں کے لیے حلال ہیں ۔
It was narrated that Abdullah bin Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ came out to us, and in one of his hands was a garment of silk and in the other was some gold. He said: These are forbidden to the males of my nation and permitted to the females." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٨٧٩، ومصباح الزجاجة: ١٢٥٤) (صحیح) (سند میں افریقی اور ابن رافع ضعیف ہیں، لیکن سابقہ حدیث (نمبر ٣٥٩٥ ) سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )