Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 180 of 218

3578Sunan Ibne-Majah

گھنڈیاں کھلی رکھنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُشَيْرٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ، وَإِنَّ زِرَّ قَمِيصِهِ لَمُطْلَقٌ، قَالَ عُرْوَةُ: فَمَا رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ وَلَا ابْنَهُ فِي شِتَاءٍ وَلَا صَيْفٍ، إِلَّا مُطْلَقَةً أَزْرَارُهُمَا.

قرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے بیعت کی، اس وقت آپ کے کرتے کی گھنڈیاں کھلی ہوئی تھیں، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ ؓ اور ان کے بیٹے کو خواہ سردی ہو یا گرمی ہمیشہ اپنی گھنڈیاں (بٹن) کھولے دیکھا ١ ؎۔

Muawiyah bin Qurrah narrated that his father said: "I came to the Messenger of Allah ﷺ and gave him my pledge, and the buttons of his shirt were undone." (Sahih) Urwah said: "I never saw Muawiyah or his son, in winter Or summer, except with their buttons undone."

Notes · وضاحت
١ ؎: صحابہ کرام ؓ کو چھوٹی چھوٹی سنتوں میں بھی رسول اکرم ﷺ کی پیروی کا کتنا خیال تھا کہ جس حال میں اور جس وضع میں آپ ﷺ کو دیکھا ساری عمر وہی وضع اور روش اختیار کی، آفریں ان کے جذبہ و محبت اور اتباع پر، اور کمال ایمان یہی ہے کہ عبادات اور عادات میں آپ ﷺ کی پیروی کی جائے، دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ کے کرتہ کا گریبان بیچ میں رہتا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٢٦ (٤٠٨٢)، (تحفة الأشراف: ١١٠٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٣٤، ٤/١٩، ٥/٣٥) (صحیح )
3579Sunan Ibne-Majah

پائجامہ پہننا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَاوَمَنَا سَرَاوِيلَ.

سوید بن قیس ؓ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم ﷺ تشریف لائے تو آپ نے ہم سے پاجامے کا مول بھاؤ (سودا) کیا۔

It was narrated that Suwaid bin Qais said: "The Prophet ﷺ came to us and haggled with us over the price of trousers." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے یہ معلوم ہوا کہ نبی اکرم ﷺ نے پاجامہ پسند کیا، مگر پاجامے کا پہننا آپ سے ثابت نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٧ (٣٣٣٦، ٣٣٣٧)، سنن الترمذی/البیوع ٦٦ (١٣٠٥)، سنن النسائی/البیوع ٥٢ (٤٥٩٦)، (تحفة الأشراف: ٤٨١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٥٢)، سنن الدارمی/البیوع ٤٧ (٢٦٢٧) (صحیح) (یہ مکر رہے، ملاحظہ ہو: ٢٢٢٠ )
3580Sunan Ibne-Majah

عورت آنچل کتنالمبا رکھے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمْ تَجُرُّ الْمَرْأَةُ مِنْ ذَيْلِهَا؟ قَالَ: شِبْرًا، قُلْتُ: إِذًا يَنْكَشِفُ عَنْهَا، قَالَ: ذِرَاعٌ لَا تَزِيدُ عَلَيْهِ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا: عورت اپنے کپڑے کا دامن کتنا لٹکا سکتی ہے؟ فرمایا: ایک بالشت میں نے عرض کیا: اتنے میں تو پاؤں کھل جائے گا، تو فرمایا: ایک ہاتھ، اس سے زیادہ نہیں ۔

It was narrated that Umm Salamah said: "The Messenger of Allah ﷺ was asked about how long a womans hem should hang down. He said: A hand span. I said: But then (her legs and feet) will be uncovered. He said: Then a forearms length, but no more than that." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٤٠ (٤١١٨)، (تحفة الأشراف: ١٨١٥٩)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس ٩ (١٧٣١)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ٥١ (٥٣٥٢)، موطا امام مالک/اللباس ٦ (١٣)، مسند احمد (٦/٢٩٣، ٢٩٦، ٣٠٩، ٣١٥)، سنن الدارمی/الاستئذان ١٦ (٢٦٨٦) (صحیح )
3581Sunan Ibne-Majah

عورت آنچل کتنالمبا رکھے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْابْنِ عُمَرَ أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رُخِّصَ لَهُنَّ فِي الذَّيْلِ ذِرَاعًا، فَكُنَّ يَأْتِيَنَّا فَنَذْرَعُ لَهُنَّ بِالْقَصَبِ ذِرَاعًا.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات ؓن کو کپڑوں کے دامن ایک ہاتھ لٹکانے کی اجازت تھی، چناچہ جب وہ ہمارے پاس آتیں تو ہم ان کے لیے لکڑی سے ایک ہاتھ کا ناپ بنا کردیتے۔

It was narrated from Ibn Umar (RA) : "The wives of the Prophet ﷺ were allowed to let their hems hang down, so they used to come to us and we would measure one forearms length for them with a reed." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٤٠ (٤١١٩)، (تحفة الأشراف: ٦٦٦١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس ٩ (١٧٣١)، مسند احمد (٢/١٨، ٩٠) (منکر) (سند میں زید العمی ضعیف ہیں، اور فكن يأتينا فنذرع لهن کا لفظ منکر ہے، پہلا ٹکڑا صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٨٦٤ )
3582Sunan Ibne-Majah

عورت آنچل کتنالمبا رکھے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِفَاطِمَةَ، أَوْ لِأُمِّ سَلَمَةَ: ذَيْلُكِ ذِرَاعٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فاطمہ یا ام سلمہ ؓ سے فرمایا: اپنے کپڑے کا دامن ایک ہاتھ کا رکھو ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said to Fatimah, or to Umm Salamah (RA) : "Let your hem down one forearms length." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٨٣٧، ومصباح الزجاجة: ١٢٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٦٣، ٤١٦) (صحیح) (سند میں ابو المہزم ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد سے یہ صحیح ہے )
3583Sunan Ibne-Majah

عورت آنچل کتنالمبا رکھے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي ذُيُولِ النِّسَاءِ: شِبْرًا، فَقَالَتْ: عَائِشَةُ: إِذًا تَخْرُجَ سُوقُهُنَّ، قَالَ: فَذِرَاعٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عورتوں کے دامن کے سلسلے میں فرمایا: ایک بالشت کا ہو ام المؤمنین عائشہ ؓ نے عرض کیا کہ اتنے میں تو پنڈلی کھل جائے گی؟ فرمایا: تو پھر ایک ہاتھ ہو ۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet ﷺ said concerning how long a woman`s hem should hang down: "A hand span." Aisha (RA) said: "This may show her calves." He said: "Then a forearms length." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨٠٨، ومصباح الزجاجة: ١٢٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٧٥، ١٢٣) (صحیح) (سند میں ابو المہزم متروک ہے، لیکن حدیث نمبر ( ٣٥٨١ ) میں ابن عمر ؓ کے شاہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
3584Sunan Ibne-Majah

سیاہ عمامہ۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ.

عمرو بن حریث ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو منبر پر خطبہ دیتے دیکھا، آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی۔

It was narrated from [afar bin Amr bin Huraith that his father said: "I saw the Prophet ﷺ delivering a sermon on the pulpit, wearing a black turban." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٨٤ (١٣٥٩)، سنن ابی داود/اللباس ٢٤ (٤٠٧٧)، سنن الترمذی/الشمائل ١٦ (١٠٨)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ٥٦ (٥٣٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٧١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٠٧)، سنن الدارمی/ المناسک ٨٨ (١٩٨٢) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ١١١٤ )
3585Sunan Ibne-Majah

سیاہ عمامہ۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَدَخَلَ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب مکہ میں (فتح کے دن) داخل ہوئے، تو آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی۔

It was narrated from Jabir that the Prophet ﷺ entered Makkah wearing a black turban. (Sahih)

Takhrij · تخریج
أنظر حدیث رقم: ٢٨٢٢ (صحیح )
3586Sunan Ibne-Majah

سیاہ عمامہ۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَدَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے، آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی۔

It was narrated from Ibn Umar that the Prophet ﷺ entered (Makkah), on the Day of the Conquest of Makkah, wearing a black turban. (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٢٥٣، ومصباح الزجاجة: ١٢٥٣) (صحیح) (اس سند میں موسیٰ بن عبیدة ربذی ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ صحیح ہے )
3587Sunan Ibne-Majah

عمامہ (شملہ) دونوں مونڈھوں کے درمیان لٹکانا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُسَاوِرٍ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ، قَدْ أَرْخَى طَرَفَيْهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ.

عمرو بن حریث ؓ کہتے ہیں کہ گویا میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہا ہوں، اور آپ کے سر پر کالی پگڑی ہے جس کے دونوں کناروں کو آپ اپنے دونوں شانوں کے درمیان لٹکائے ہوئے ہیں۔

Jafar bin Amr bin Huraith narrated that his father said: "It is as if I can see the Messenger of Allah ﷺ wearing a black turban, with the ends hanging between his shoulders." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: ان حدیثوں سے سیاہ عمامہ (کالی پگڑی) کا مسنون ہونا نکلتا ہے، دوسری روایتوں میں سفید بھی منقول ہے۔
Takhrij · تخریج
أنظر حدیث رقم: (١١٠٤، ٣٥٨٤) (صحیح )
3588Sunan Ibne-Majah

ریشم پہننے کی ممانعت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا، لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس آدمی نے دنیا میں ریشمی کپڑا پہنا، وہ آخرت میں نہیں پہن سکے گا ۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever wears silk in this world will not wear it in the Hereafter." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٢ (١٠٧٣)، (تحفة الأشراف: ٥٣٩٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس ٢٥ (٥٨٣٢)، مسند احمد (٣/١٠١) (صحیح )
3589Sunan Ibne-Majah

ریشم پہننے کی ممانعت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَعَنِ الدِّيبَاجِ، وَالْحَرِيرِ، وَالْإِسْتَبْرَقِ.

براء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (مردوں کے لیے) دیباج، حریر اور استبرق (موٹا ریشمی کپڑا) پہننے سے منع کیا ١ ؎۔

It was narrated that Bara bin Azib (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade brocade, silk, and embroidered brocade." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ تینوں ریشمی کپڑے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٢ (١٢٣٩)، النکاح ٧١ (٥١٧٥)، الأشربة ٢٨ (٥٦٣٥)، المرضی ٤ (٥٦٥٠)، اللباس ٣٦ (٥٨٣٨)، ٤٥ (٥٨٦٣)، الأدب ١٢٤ (٦٢٢٢)، الاستئذان ٨ (٦٢٣٥)، صحیح مسلم/اللباس ٢ (٢٠٦٦)، سنن الترمذی/الأدب ٤٥ (٢٨٠٩)، سنن النسائی/الجنائز ٥٣ (١٩٤١)، الزینة من المجتبیٰ ٣٧ (٥٣١١)، (تحفة الأشراف: ١٩١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٨٤، ٢٨٧، ٢٩٩) (صحیح )
3590Sunan Ibne-Majah

ریشم پہننے کی ممانعت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ، وَقَالَ: هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَلَنَا فِي الْآخِرَةِ.

حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (مردوں کے لیے) ریشم اور سونا پہننے سے منع کیا، اور فرمایا: یہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہے اور ہمارے لیے آخرت میں ہے ۔

It was narrated that Hudhaifah said: “The Messenger of Allah ﷺ forbade wearing silk and gold. He said: ‘They are for them in this world and for us in the Hereafter.”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ٢٩ (٥٤٢٦)، الأشربة ٢٧ (٥٦٣٢)، ٢٨ (٥٦٣٣)، اللباس ٢٥ (٥٨٣١)، ٢٧ (٥٨٣٧)، صحیح مسلم/اللباس ١ (٢٠٦٧)، سنن ابی داود/الأشربة ١٧ (٣٧٢٣)، سنن الترمذی/الأشربة ١٠ (١٨٧٨)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ٣٣ (٥٣٠٣)، (تحفة الأشراف: ٣٣٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٨٥، ٣٩٠، ٣٩٦، ٣٩٨، ٤٠٠، ٤٠٨)، سنن الدارمی/الأشربة ٢٥ (٢١٧٦) (صحیح )
3591Sunan Ibne-Majah

ریشم پہننے کی ممانعت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ مِنْ حَرِيرٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ ابْتَعْتَ هَذِهِ الْحُلَّةَ لِلْوَفْدِ وَلِيَوْمِ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے ریشم کا ایک سرخ جوڑا دیکھا تو کہا: اللہ کے رسول! اگر آپ اس جوڑے کو وفود سے ملنے کے لیے اور جمعہ کے دن پہننے کے لیے خرید لیتے تو اچھا ہوتا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا ۔

It was narrated from Abdullah bin Umar that Umar bin Khattab saw a silken two piece suit (being offered for sale). He said: "O Messenger of Allah, why dont you buy this two piece suit (to wear for meeting) the delegations, and on Fridays?" The Messenger of Allah ﷺ said: "This is only worn by one who has no share in the Hereafter: (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٠٢٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة ٧ (٨٨٦)، العیدین ١ (٩٤٨) الھبة ٢٧ (٢٦١٢)، ٢٩ (٢٦١٩)، الجہاد ١٧٧ (٣٠٥٤)، اللباس ٣٠ (٥٨٤١)، الأدب ٩ (٥٩٨١)، ٦٦ (٦٠٨١)، صحیح مسلم/اللباس ١ (٢٠٦٨)، سنن ابی داود/الصلاة ٢١٩ (١٠٧٦)، اللباس ١٠ (٤٠٤٠)، سنن النسائی/الجمعة ١١ (١٣٨٣)، العیدین ٤ (١٥٦١)، الزینة في المجتبیٰ ٢٩ (٥٢٩٧)، ٣١ (٥٣٠١)، موطا امام مالک/اللباس ٨ (١٨)، مسند احمد (٢/٢٠، ٣٩، ٤٩) (صحیح )
3592Sunan Ibne-Majah

جس کو ریشم پہننے کی اجازت ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، نَبَّأَهُمْ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَخَّصَ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، وَلِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فِي قَمِيصَيْنِ مِنْ حَرِيرٍ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِهِمَا حِكَّةٍ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زبیر بن عوام اور عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کو اس تکلیف کی وجہ سے جو انہیں کھجلی کی وجہ سے تھی، ریشم کے کرتے پہننے کی اجازت دی۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ granted a concession to Zubair bin Awwam and Abdur-Rahman bin Awf, allowing them to wear silk shirts, because of a rash they were suffering from. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٩١ (٢٩١٩)، اللباس ٢٩ (٥٨٣٩)، صحیح مسلم/اللباس ٣ (٢٠٧٦)، سنن ابی داود/اللباس ١٣ (٤٠٥٦)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ٣٨ (٥٣١٢)، (تحفة الأشراف: ١١٦٩)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس ٢ (١٧٢٢)، مسند احمد (٣/١٢٧، ١٨٠، ٢١٥، ٢٥٥، ٢٧٣) (صحیح )
3593Sunan Ibne-Majah

ریشم کی گوٹ لگانا جائز ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ، إِلَّا مَا كَانَ هَكَذَا، ثُمَّ أَشَارَ بِإِصْبَعِهِ، ثُمَّ الثَّانِيَةِ، ثُمَّ الثَّالِثَةِ، ثُمَّ الرَّابِعَةِ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا عَنْهُ.

عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ خالص ریشمی کپڑے (حریر و دیباج) کے استعمال سے منع فرماتے تھے سوائے اس کے جو اس قدر ریشمی ہوتا، پھر انہوں نے اپنی ایک انگلی، پھر دوسری پھر تیسری پھر چوتھی انگلی سے اشارہ کیا ١ ؎ پھر کہا: رسول اللہ ﷺ ہمیں اس سے منع کرتے تھے۔

It was narrated from Umar that he used to forbid silk and brocade, except for what was like this: Then he gestured with his finger, then a second, and a third, and a fourth (i.e., the width of four fingers), and he said: "The Messenger of Allah ﷺ used to forbid it: (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی چار انگل ریشم اگر کسی کپڑے میں ہو تو کوئی حرج نہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٢٨٢٠) (صحیح )
3594Sunan Ibne-Majah

ریشم کی گوٹ لگانا جائز ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي عُمَرَ مَوْلَى أَسْمَاءَ، قَالَ: رَأَيْتُ بْنَ عُمَرَ اشْتَرَى عِمَامَةً لَهَا عَلَمٌ، فَدَعَا بِالْجَلَمَيْنِ فَقَصَّهُ، فَدَخَلْتُ عَلَى أَسْمَاءَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ: بُؤْسًا لِعَبْدِ اللَّهِ، يَا جَارِيَةُ، هَاتِي جُبَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْ بِجُبَّةٍ مَكْفُوفَةِ الْكُمَّيْنِ، وَالْجَيْبِ، وَالْفَرْجَيْنِ بِالدِّيبَاجِ.

اسماء ؓ کے غلام ابوعمر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک عمامہ خریدا جس میں گوٹے بنے تھے، پھر قینچی منگا کر انہیں کتر دیا ١ ؎، میں اسماء ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے کہا: تعجب ہے عبداللہ پر، (ایک اپنی خادمہ کو پکار کر کہا:) اے لڑکی! رسول اللہ ﷺ کا جبہ لے آ، چناچہ وہ ایک ایسا جبہ لے کر آئی جس کی دونوں آستینوں، گریبان اور کلیوں کے دامن پر ریشمی گوٹے تھے۔

It was narrated that Abu ‘Umar, the freed slave of Asmâ’, said: “I saw Ibn ‘Umar buying a turban that had some markings, then he called for a pair of scissors and cut that off. I entered upon Asmâ’ and mentioned that to her, and she said: ‘May ‘Abdullâh perish, O girl Give me the garment of the Messenger of Allah ﷺ P.U.B.H.’ A garment was brought that was hemmed with brocade on the sleeves, necklines and openings (at the front and back).” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: شاید ابن عمر ؓ اس رخصت کی خبر نہ ہوگی، اور شاید ان کے عمامہ کا حاشیہ چار انگل سے زیادہ ہوگا، اس لئے انہوں نے کاٹ ڈالا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٢ (٢٠٦٩)، سنن ابی داود/اللباس ١٢ (٤٠٥٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٤٨، ٣٥٣، ٣٥٤، ٣٥٥) (صحیح )
3595Sunan Ibne-Majah

عورتوں کے لئے ریشم اور سونا پہننا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي الصَّعْبَةِ، عَنْ أَبِي الْأَفْلَحِ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرِيرًا بِشِمَالِهِ، وَذَهَبًا بِيَمِينِهِ، ثُمَّ رَفَعَ بِهِمَا يَدَيْهِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي، حِلٌّ لِإِنَاثِهِمْ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے بائیں ہاتھ میں ریشم اور دائیں ہاتھ میں سونا لیا، اور دونوں کو ہاتھ میں اٹھائے فرمایا: یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام، اور عورتوں کے لیے حلال ہیں ۔

Ali bin Abu Talib said: "The Messenger of Allah ﷺ took hold of some silk in his left hand and some gold in his right. Then he raised his hands and said: These two are forbidden for the males of my nation, and permitted to the females " (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ١٤ (٤٠٥٧)، سنن النسائی/الزینة ٤٠ (٥١٤٧)، (تحفة الأشراف: ١٠١٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٦، ١١٥) (صحیح )
3596Sunan Ibne-Majah

عورتوں کے لئے ریشم اور سونا پہننا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ، حَدَّثَنِيهُبَيْرَةُ بْنُ يَرِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةٌ مَكْفُوفَةٌ بِحَرِيرٍ، إِمَّا سَدَاهَا، وَإِمَّا لَحْمَتُهَا فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَصْنَعُ بِهَا أَلْبَسُهَا، قَالَ: لَا وَلَكِنْ اجْعَلْهَا خُمُرًا بَيْنَ الْفَوَاطِمِ.

علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک ریشمی (جوڑا) تحفہ میں آیا جس کے تانے یا بانے میں ریشم ملا ہوا تھا، آپ نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس کا کیا کروں؟ کیا میں اسے پہنوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ اسے فاطماؤں کی اوڑھنیاں بنادو ١ ؎۔

It was narrated from Ali that a two-piece suit hemmed with silk. either on the warp or the weft.! I was given to the Messenger of Allah ﷺ . and he sent them to me (Ali). I came to him and said: O Messenger of Allah. what should I do with these? Shall I wear them?" He said: "No, rather make them into head-eloths and give them to the Fatimahs.· (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: ایک فاطمہ بنت اسد علی ؓ کی ماں، دوسری فاطمہ بنت حمزہ ؓ، تیسری سیدۃ النسا، فاطمہ ؓ صاحبزادی رسول اللہ ﷺ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٣٠٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس ٣٠ (٥٨٤٠)، صحیح مسلم/اللباس ٢ (٢٠٧١)، سنن ابی داود/اللباس ١٠ (٤٠٤٣)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ٣٠ (٥٣٠٠)، مسند احمد (١/٩٠، ١٣٠، ١٥٣) (صحیح )
3597Sunan Ibne-Majah

عورتوں کے لئے ریشم اور سونا پہننا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ الْإِفْرِيقِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي إِحْدَى يَدَيْهِ ثَوْبٌ مِنْ حَرِيرٍ، وَفِي الْأُخْرَى ذَهَبٌ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَيْنِ مُحَرَّمٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي، حِلٌّ لِإِنَاثِهِمْ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس گھر سے نکل کر آئے، آپ کے ایک ہاتھ میں ریشم کا کپڑا، اور دوسرے میں سونا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام، اور عورتوں کے لیے حلال ہیں ۔

It was narrated that Abdullah bin Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ came out to us, and in one of his hands was a garment of silk and in the other was some gold. He said: These are forbidden to the males of my nation and permitted to the females." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٨٧٩، ومصباح الزجاجة: ١٢٥٤) (صحیح) (سند میں افریقی اور ابن رافع ضعیف ہیں، لیکن سابقہ حدیث (نمبر ٣٥٩٥ ) سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )