عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمر ؓ کو ایک سفید قمیص پہنے دیکھا تو پوچھا: تمہارا یہ کپڑا دھویا ہوا ہے یا نیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، یہ دھویا ہوا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: البس جديدا وعش حميدا ومت شهيدا نیا لباس، قابل تعریف زندگی، اور شہادت کی موت نصیب ہو ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ f, saw ‘Umar wearing a white shirt and he said: “Is this garment of yours washed or a new one?” He said: “Rather it has been washed.” He said: “Jibes jadida, we ‘ish hamida, we mist shahida (May you wear new clothes, live a good life and die as martyr).” (Da ‘if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٩٥٠، ومصباح الزجاجة: ١٢٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٨٨) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دو طرح کے پہناوے سے منع فرمایا ہے، ایک اشتمال صماء ١ ؎ سے، دوسرے ایک کپڑے میں احتباء ٢ ؎ سے کہ اس کی شرمگاہ پر کچھ نہ ہو۔
It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Prophet ﷺ forbade two kinds of dress. Those two types of dress are Ishtimalus-Samma and Ihtiba in a single garment, with no part of it upon his private part.(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اشتمال صماء: ایک کپڑا سارے بدن پر لیپٹ لے، اور کپڑے کے دونوں کنارے اپنے دائیں کندھے پر ڈال لے، اور اس کا داہنا پہلو کھلا رہے۔ ٢ ؎: احتباء: ایک کپڑا اوڑھ کے لوٹ مار کر اس طرح سے بیٹھے کہ شرم گاہ کھلی رہے یا شرم گاہ پر کوئی کپڑا نہ رہے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو طرح کے پہناوے سے منع فرمایا: اشتمال صماء سے اور ایک کپڑے میں احتباء سے، کہ شرمگاہ آسمان کی طرف کھلی رہے۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ forbade two kinds of dress: Ishtimalus-Samma and Ihtiba, exposing ones private part to the sky. (Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو طرح کے پہناوے سے منع فرمایا: اشتمال صماء سے، اور ایک کپڑے میں احتباء سے، کہ تم اپنی شرمگاہ کو آسمان کی طرف کھولے رہو۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade two kinds of dress: Ishtimalus-Samma and Ihtiba in one garment, when you are exposing your private part to the sky." (Hasan)
ابوبردہ اپنے والد ابوموسیٰ اشعری سے روایت کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھ سے کہا: میرے بیٹے! کاش تم ہم کو اس وقت دیکھتے جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، جب ہم پر آسمان سے بارش ہوتی تو تم خیال کرتے کہ ہماری بو بھیڑ کی بو جیسی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Burdah that his father said to him: “O my son, if only you could have seen us when we were with the Messenger of Allah ﷺ , when rain fell on us; you would have thought that we smelled like sheep.” (Da’if)
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ بالوں کے کپڑے جب بھیگ جاتے ہیں ان میں سے ایسی ہی بو پھوٹ نکلتی ہے۔
عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ اون کا بنا ہوا تنگ آستین والا رومی جبہ پہنے ہمارے پاس تشریف لائے، اور اسی میں ہمیں نماز پڑھائی، اس کے علاوہ آپ پر کوئی اور لباس نہ تھا۔
It was narrated that Ubadahh bin Samit said: "The Messenger of Allah ﷺ came out to us one day, wearing a Roman cloak of wool with narrow sleeves. He led us in prayer wearing that, and nothing else." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٠٨٦، ومصباح الزجاجة: ١٢٤٥) (ضعیف) (احوص بن حکم ضعیف راوی ہیں، اور خالد بن معدان کی نہ تو عبادہ ؓ سے ملاقات ہے، اور نہ سماع )
سلمان فارسی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا، پھر اون والے جبہ کو جو آپ پہنے ہوئے تھے الٹ دیا، اور اس سے اپنا چہرہ پونچھا۔
It was narrated from Salman Fiirisi that the Messenger of Allah ﷺ performed ablution, then he turned his woolen cloak that he was wearing inside ou t and wiped his face with it. (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٥٠٩، ومصباح الزجاجة: ١٢٤٦) (حسن) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٤٦٨ )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو بکریوں کے کانوں میں داغتے دیکھا، اور میں نے آپ کو چادر کا تہبند پہنے دیکھا۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ marking sheep on their ears, and I saw him wearing a cloak around his waist." (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الذبائح ٣٥ (٥٥٤٢)، صحیح مسلم/اللباس ٣٠ (٢١١٩)، سنن ابی داود/الجہاد ٥٧ (٢٥٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٦٩، ١٧١، ٢٥٤، ٢٥٩) (ضعیف) (ابن ماجہ کی روایت میں ان کے شیخ سوید بن سعید ضعیف ہے، اس لئے آخری ٹکڑا ورأيته متزرا بکساء تک ضعیف ہے دوسرے کسی طریق میں یہ ٹکڑا نہیں ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ٢٣٠٩ )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے بہترین کپڑے سفید کپڑے ہیں، لہٰذا انہیں کو پہنو اور اپنے مردوں کو انہیں میں کفناؤ ۔
It was narrated from Ibn Abbas (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The best of your garments are the white ones, so wear them and shroud your dead m them." (Hasan)
ابوالدرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے بہتر لباس جس کو پہن کر تم اپنی قبروں اور مسجدوں میں اللہ کی زیارت کرتے ہو، سفید لباس ہے ۔
It was narrated from Abu Darda that the Messenger of Allah ﷺ said: "The best of that in which you visit Allah in your graves and your Masjid is white (garments).(Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٩٣٨، ومصباح الزجاجة: ١٢٤٧) (موضوع) (سند میں مروان متروک راوی ہے، ساجی وغیرہ نے اس پر وضع حدیث کا الزام لگایا ہے، اور شریح بن عبید کا ابو الدرداء ؓ سے سماع نہیں ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اپنے کپڑے فخر و غرور سے گھسیٹے گا، اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف قیامت کے دن نہیں دیکھے گا ۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever lets his garment drag out of pride, Allah will not look at him on the Day of Resurrection." (Sahih)
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے غرور و تکبر سے اپنا تہبند گھسیٹا، اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف قیامت کے روز نہیں دیکھے گا ۔ عطیہ کہتے ہیں کہ مقام بلاط میں میری ملاقات ابن عمر ؓ سے ہوئی تو میں نے ان سے ابوسعید ؓ کی یہ حدیث بیان کی جو انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی، تو ابن عمر ؓ نے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کر کے کہا: اسے میرے کانوں نے بھی سنا ہے، اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا ہے۔
It was narrated from Atiyyah, that Abu Sa eed said :The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever lets his lower wrap drag out of pride, Allah will not look at him on the Day of Resurrection." (Sahih) lie said:. "I met Ibn Umar in Balat, and mentioned the Hadith that Abu Saeed narrated from Prophet ﷺ . He said: pointing to his ears: `I heard it and memorized it.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٢١٠، ٧٣٣٩، ومصباح الزجاجة: ١٢٤٨)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/اللباس ٣٠ (٤٠٩٣)، موطا امام مالک/اللباس ٥ (١٢)، مسند احمد (٣/٥، ٣١، ٤٤، ٥٢، ٩٧) (صحیح) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، لیکن باب کی احادیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ان کے پاس سے قریش کا ایک جوان اپنی چادر لٹکائے ہوئے گزرا، آپ نے اس سے کہا: میرے بھتیجے! میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جس نے غرور و تکبر سے اپنے کپڑے گھسیٹے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا ۔
It was narrated that a young man of Quraish passed by Abu Hurairah (RA) with his cloak dragging. He said: "O my nephew! I heard the Messenger of Allah ﷺ saying Whoever lets his garment drag out of pride, Allah will not look at him on the Day of Resurrection:" (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٠٩٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس ٥ (٥٧٨٨)، صحیح مسلم/اللباس ١٠ (٢٠٨٨)، موطا امام مالک/اللباس ٥ (١٠)، مسند احمد (٢/٥٠٣) (حسن صحیح )
حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میری پنڈلی کے نیچے کا پٹھا پکڑا اور فرمایا: تہبند کا مقام یہ ہے، اگر تم اتنا نہ کرسکو تو اس سے تھوڑا نیچے رکھو، اور اگر اتنا بھی نہ رکھ سکو تو اور نیچے رکھو، لیکن اگر اتنا بھی نہ کرسکو تو تمہیں ٹخنوں سے نیچے تہبند رکھنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔
It was narrated that Hudhaifah said: "The Messenger of Allah ﷺ took hold of the lower part of my calf or his calf and said: This is where the lower wrap should come to. If you insist, then lower, and if you insist, then lower, but the lower wrap has no right to (come to) the ankle.": (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/اللباس ٤١ (١٧٨٣)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ٤٨ (٥٣٣١)، (تحفة الأشراف: ٣٣٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٨٢، ٣٩٦، ٣٩٨، ٤٠٠، ٤٠١) (صحیح )
اس سند سے بھی حذیفہ ؓ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔
عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری ؓ سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے تہبند کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ فرمایا: ہاں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: مومن کا تہبند اس کی آدھی پنڈلی تک ہوتا ہے، اور اگر وہ اس کے اور ٹخنوں کے درمیان کسی بھی جگہ تک رکھے تو بھی کوئی حرج نہیں، لیکن جو ٹخنوں سے نیچے ہو وہ حصہ جہنم میں ہوگا، اور آپ ﷺ نے تین بار فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا جو اپنا تہبند تکبر کی وجہ سے گھسیٹے ۔
It was narrated from ‘Ala’ ‘Abdur-Rahmân that his Lther said: “I said to Abu Sa’eed: Did you hear anything from the Messenger of Allah ﷺ concerning lower wrap?’ He said: ‘Yes. I heard the Messenger of Allah ﷺ , The lower wrap of the chould come to mid-calf,but there is no sin on him if it veen that point and the whatever is lower than ankle is in the Fire.’ And he said three times : ‘Allah will not look at the one who lets his lower wrap drag out of vanity.” (Sahili)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٣٠ (٤٠٩٣)، (تحفة الأشراف: ٤١٣٦)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/اللباس ٥ (١٢)، مسند احمد (٣/٥، ٣١، ٤٤، ٥٢، ٩٧) (صحیح )
مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سفیان بن سہل! (ٹخنہ کے نیچے) تہبند نہ لٹکاؤ کہ اللہ تعالیٰ تہبند لٹکانے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔
It was narrated from Mughirah bin Shubah that the Messenger of Allah ﷺ said: "O Sufyan bin Sahl, do not let your garment hang for Allah does not Iike those who let their garments hang below the ankles."(Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٤٩٣، ومصباح الزجاجة: ١٢٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٤٦، ٢٥٠، ٢٥٠، ٢٥٣) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: ٣٩١ )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو کرتے (قمیص) سے بڑھ کر کوئی لباس محبوب اور پسندیدہ نہ تھا ١ ؎۔
It was narrated that Umrn Salamah said: "There was no garment more beloved to the Messenger of Allah ﷺ than the shirt." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی سلے ہوئے کپڑوں میں، اور کپڑے کی جنس تو دوسری روایت میں ہے کہ سب سے زیادہ پسند آپ ﷺ کو حبرہ تھا یعنی دھاری دار کپڑا جس میں سرخ دہاریاں ہوتی ہیں، اور اس زمانہ میں یہ کپڑا روئی کے سب کپڑوں میں عمدہ تھا۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسبال: تہبند، کرتے (قمیص) اور عمامہ (پگڑی) میں ہوتا ہے جو اسے محض تکبر اور غرور کے سبب گھسیٹے تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف قیامت کے روز نہیں دیکھے گا ١ ؎۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ یہ کتنی غریب روایت ہے۔
It was narrated from Salim from his father, that the Prophet ﷺ said: "Hanging down may apply to the waist wrap, shirt or turban. Whoever lets any of these drag out of pride, Allah will not look at him on the Day of Resurrection." (Hasan) Abu Bakr (RA) (the narrator from whom Ibn Mejah heard this Hadith) said: "How strange it is!(i.e. the chain of narrators.)
Notes · وضاحت
١ ؎: تہبند لٹکانا سخت گناہ ہے اور اس میں بڑی وعید آئی ہے، ایک روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے تہبندلٹکانے والوں کو نماز اور وضو دونوں کے دہرانے کا حکم دیا، اکثر علماء کے نزدیک یہ حکم تشدد اور تہدید کے طور پر تھا کیونکہ وضو ٹوٹنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، بہرحال تہبند لٹکا کے نماز پڑھنا بڑی خرابی کی بات ہے کہ اس میں نماز صحیح نہ ہونے کا اندیشہ ہے، جو غرور اور کبر کی وجہ سے ایسا کرے تو وہ مزید دھمکی کا مستحق ہے کہ اس نے دو کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا۔ اور جس کی تہبند خود بخود کبھی ٹخنوں کے نیچے ہوجاتی ہے جیسا کہ ابوبکر ؓ کے بارے میں وارد ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو اور ٹخنے سے نیچے لٹکانا کچھ تہبند سے خاص نہیں ہے بلکہ ہر ایک کپڑے میں مقدار سنت یا مقدار ضرورت سے اور ٹخنوں تک بڑھانے کی رخصت ہے، اس سے نیچے پہننا حرام ہے، اسی طرح عمامہ کا شملہ نصف پشت سے زیادہ لٹکانا بدعت و حرام ہے، اور اسراف ہے۔