Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 178 of 218

3538Sunan Ibne-Majah

نیک فال لینا پسندیدہ ہے اور بدفال لینا ناپسندیدہ ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الطِّيَرَةُ شِرْكٌ وَمَا مِنَّا إِلَّا، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بدشگونی شرک ہے ١ ؎ اور ہم میں سے جسے بھی بدشگونی کا خیال آئے تو اللہ تعالیٰ پر توکل کی وجہ سے یہ خیال دور کر دے گا ١ ؎۔

It was narrated from ‘AbduIlah that the Messenger of Allah ﷺ said: “The omen is polytheistic deed and anyone of us may think he sees an omen but Allah will dispel it by means of relying upon Him.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ کے اوپر بھروسہ کرنے سے یہ وہم جاتا رہے گا، انسان کو چاہیے کہ اگر ایسا وہم کبھی دل میں آئے، تو اس کو بیان نہ کرے، اور منھ سے نہ نکالے، اور اللہ پر بھروسہ کرے، جو وہ چاہے وہ ہوگا، امام بخاری نے کہا: سلیمان بن حرب کہتے تھے کہ میرے نزدیک یہ قول: ومامنا ۔۔۔ اخیر تک ابن مسعود ؓ کا قول ہے، بلکہ اکثر حفاظ نے اس کو عبد اللہ بن مسعود ؓ کا کلام کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطب ٢٤ (٣٩١٠)، سنن الترمذی/السیر ٤٧ (١٦١٤)، تحفة الأشراف (٩٢٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٩، ٤٣٨، ٤٤٠) (صحیح )
3539Sunan Ibne-Majah

نیک فال لینا پسندیدہ ہے اور بدفال لینا ناپسندیدہ ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چھوت چھات ١ ؎ اور بدشگونی کوئی چیز نہیں ہے، اسی طرح الو اور ماہ صفر کی نحوست کوئی چیز نہیں ہے ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no Adwa no omen, no Hamah, and no Safar."

Notes · وضاحت
١ ؎: چھوت چھات یعنی بیماری خود سے متعدی نہیں ہے، بلکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اس کی بنائی ہوئی تقدیر سے ہوتا ہے، البتہ بیماریوں سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اسباب کو اپنانا مستحب ہے، الو کو دن میں دکھائی نہیں دیتا ہے، تو وہ رات کو نکلتا ہے، اور اکثر ویرانوں میں رہتا ہے، عرب لوگ اس کو منحوس جانتے تھے، اور بعض یہ سمجھتے تھے کہ مقتول کی روح الو بن کر پکارتی پھرتی ہے، جب اس کا بدلہ لے لیا جاتا ہے تو وہ اڑ جاتا ہے، رسول اکرم ﷺ نے اس خیال کو باطل قرار دیا، اسی طرح صفر کے مہینے کو عوام اب تک منحوس جانتے ہیں، صفر کے مہینے کے پہلے تیرہ دن جس میں رسول اکرم ﷺ بیمار ہوئے تھے ان ایام کو تیرہ تیزی کہتے ہیں، ان میں عورتیں کوئی بڑا کام جیسے شادی بیاہ وغیرہ کرنے نہیں دیتیں، یہ بھی لغو ہے، صفر کا مہینہ اور مہینوں کی طرح ہے، کچھ فرق نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦١٢٦، ومصباح الزجاجة: ١٢٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٦٩، ٣٢٨) (صحیح )
3540Sunan Ibne-Majah

نیک فال لینا پسندیدہ ہے اور بدفال لینا ناپسندیدہ ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْبَعِيرُ يَكُونُ بِهِ الْجَرَبُ، فَتَجْرَبُ بِهِ الْإِبِلُ، قَالَ: ذَلِكَ الْقَدَرُ فَمَنْ أَجْرَبَ الْأَوَّلَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چھوت چھات، بدشگونی اور الو دیکھنے کی کوئی حقیقت نہیں، ایک شخص آپ ﷺ کی جانب اٹھ کر بولا: اللہ کے رسول! ایک اونٹ کو جب کھجلی ہوتی ہے تو دوسرے اونٹ کو بھی اس کی وجہ سے کھجلی ہوجاتی ہے ١ ؎، آپ ﷺ نے فرمایا: یہی تو تقدیر ہے، آخر پہلے اونٹ کو کس نے کھجلی والا بنایا ٢ ؎۔

Ibn "Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: There is no Aduxi, no omen, and no Hornak: A man stood up and said: O Messenger of Allah, what if a camel has mange and another camel gets mange from it? He said: That is the Divine decree. Who caused the mange in the first one?": (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ کہ امراض متعدی بھی ہوتے ہیں۔ ٢ ؎: اور جو ڈاکٹر یا حکیم ہمارے زمانے میں بعض بیماری میں عدوی بتلاتے ہیں، ان سے جب یہ اعتراض کرو کہ بھلا اگر عدوی صحیح ہوتا تو جس گھر میں ایک شخص کو ہیضہ ہو تو چاہیے کہ اس گھر کے بلکہ اس محلہ کے سب لوگ مرجائیں، تو اس کا کوئی معقول جواب نہیں دیتے، بلکہ یوں کہتے ہیں کہ بعض مزاجوں میں اس بیماری کے قبول کرنے کا مادہ ہوتا ہے تو ان کو بیماری لگ جاتی ہے، بعض مزاجوں میں یہ مادہ نہیں ہوتا تو ان کو باوجود قرب کے بیماری نہیں لگتی، ہم یوں کہتے ہیں کہ مادے کا مزاج میں پیدا کرنے والا کون ہے؟ اللہ تعالیٰ، تو پھر سب امور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوئے اسی کی مرضی اور تقدیر سے پھر عدوی کا قائل ہونا کیا ضروری ہے؟۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٨٦)، (تحفة الأشراف: ٨٥٨٠، ومصباح الزجاجة: ١٢٣٥) (صحیح )
3541Sunan Ibne-Majah

نیک فال لیناپسند یدہ ہے اور بدفال لیناناپسندیدہ ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُورِدُ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیمار اونٹ کو تندرست اونٹ کے پاس نہ جانے دیا جائے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "A man with sick camels should not let them graze or drink alongside healthy ones." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیماری متعدی ہوتی ہے، اس لیے نبی اکرم ﷺ نے تندرست اور غیر مریض جانوروں کو مریض اونٹوں کے قریب لے جانے سے منع کیا، بلکہ آپ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ اکثر ایسا سابقہ تقدیر اور اللہ کی مرضی کے مطابق ہوجاتا ہے، تو جانوروں کا مالک تعدی کے ناحیہ سے فتنہ اور شک میں مبتلا ہوسکتا ہے، اس وجہ سے آپ نے دور رکھنے کا حکم دیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٠٧٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/السلام ٣٣ (٢٢٢١، ٢٢٢٣)، سنن ابی داود/الطب ٢٤ (٣٩١١)، مسند احمد (٢/٤٣٤) (حسن صحیح )
3542Sunan Ibne-Majah

جذام۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَمُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، ومحمد بن خلف العسقلاني، قَالُوا: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ رَجُلٍ مَجْذُومٍ، فَأَدْخَلَهَا مَعَهُ فِي الْقَصْعَةِ، ثُمَّ قَالَ: كُلْ ثِقَةً بِاللَّهِ وَتَوَكُّلًا عَلَى اللَّهِ.

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جذامی شخص کا ہاتھ پکڑا، اور اپنے ساتھ اس کے ہاتھ کو پیالے میں داخل کردیا، پھر اس سے کہا: کھاؤ، میں اللہ پر اعتماد اور اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں ۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ took the hand of a leper and made him eat with him, and said: "Eat, with trust in Allah and reliance upon Allah." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطب ٢٤ (٣٩٢٥)، سنن الترمذی/الأطعمة ١٩ (١٨١٧)، (تحفة الأشراف: ٣٠١٠) (ضعیف) (سند میں مفضل بن فضالہ ضعیف راوی ہیں )
3543Sunan Ibne-Majah

جذام۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ جَمِيعًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُمِّهِفَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تُدِيمُوا النَّظَرَ إِلَى الْمَجْذُومِينَ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جذامیوں (کوڑھیوں) کی طرف لگاتار مت دیکھو ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ said: "Do not keep looking at those who have leprosy." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٥٧٥، ومصباح الزجاجة: ١٢٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٣، ٢٩٩) (حسن صحیح )
3544Sunan Ibne-Majah

جذام۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ الشَّرِيدِ يُقَالُ لَهُ عَمْرٌو، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ رَجُلٌ مَجْذُومٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْجِعْ فَقَدْ بَايَعْنَاكَ.

شرید بن سوید ثقفی ؓ کہتے ہیں کہ وفد ثقیف میں ایک جذامی شخص تھا، نبی اکرم ﷺ نے اسے کہلا بھیجا: تم لوٹ جاؤ ہم نے تمہاری بیعت لے لی ١ ؎۔

It was narrated from a man from the family of Sharid whose name was Amr, that his father said: "There was a leper among the delegation of Thaqif. The Prophet ﷺ P.U.B.H sent word to him: Go back, for we have accepted your oath of allegiance." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ زیادہ دیکھنے سے دل میں وسوسہ اور اندیشہ پیدا ہوگا، اگر کبھی ایسے مصیبت زدہ پر نظر پڑجائے تو یوں کہے: الحمد لله الذى عافانى مما ابتلاک به وفضلنى على كثير ممن خلق تفضيلا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٣٦ (٢٢٣١)، سنن النسائی/البیعة ١٩ (٤١٨٧)، (تحفة الأشراف: ٤٨٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٨٩، ٣٩٠) (صحیح )
3545Sunan Ibne-Majah

جادو۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَحَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودِيٌّ مِنْ يَهُودِ بَنِي زُرَيْقٍ يُقَالُ لَهُ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ، حَتَّى كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّيْءَ وَلَا يَفْعَلُهُ، قَالَتْ: حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ دَعَا، ثُمَّ دَعَا، ثُمَّ قَالَ: يَا عَائِشَةُ، أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ، جَاءَنِي رَجُلَانِ، فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي، وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلِي، فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رَأْسِي لِلَّذِي عِنْدَ رِجْلِي، أَوِ الَّذِي عِنْدَ رِجْلِي لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي: مَا وَجَعُ الرَّجُلِ؟ قَالَ: مَطْبُوبٌ، قَالَ: مَنْ طَبَّهُ؟ قَالَ: لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ، قَالَ: فِي أَيِّ شَيْءٍ، قَالَ: فِي مُشْطٍ، وَمُشَاطَةٍ، وَجُفِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ، قَالَ: وَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: فِي بِئْرِ ذِي أَرْوَانَ، قَالَتْ: فَأَتَاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ يَا عَائِشَةُ لَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ، وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا أَحْرَقْتَهُ، قَالَ: لَا، أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَافَانِي اللَّهُ، وَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا، فَأَمَرَ بِهَا فَدُفِنَتْ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو بنی زریق کے یہودیوں میں سے لبید بن اعصم نامی ایک یہودی نے جادو کردیا، تو آپ کو ایسا لگتا کہ آپ کچھ کر رہے ہیں حالانکہ آپ کچھ بھی نہیں کر رہے ہوتے تھے، یہی صورت حال تھی کہ ایک دن یا ایک رات آپ ﷺ نے دعا فرمائی، پھر دعا فرمائی اور پھر دعا فرمائی، پھر کہا: عائشہ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ بات بتادی جو میں نے اس سے پوچھی تھی، میرے پاس دو شخص آئے، ایک میرے سرہانے اور دوسرا پائتانے بیٹھ گیا، سرہانے والے نے پائتانے والے سے کہا، یا پائتانے والے نے سرہانے والے سے کہا: اس شخص کو کیا بیماری ہے؟ دوسرے نے کہا: اس پر جادو کیا گیا ہے، اس نے سوال کیا: کس نے جادو کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: لبید بن اعصم نے، اس نے پوچھا: کس چیز میں جادو کیا ہے؟ جواب دیا: کنگھی میں اور ان بالوں میں جو کنگھی کرتے وقت گرتے ہیں، اور نر کھجور کے خوشے کے غلاف میں، پہلے نے پوچھا: یہ چیزیں کہاں ہیں؟ دوسرے نے جواب دیا: ذی اروان کے کنوئیں میں ۔ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنے چند صحابہ کے ساتھ اس کنوئیں پر تشریف لائے، پھر واپس آئے تو فرمایا: اے عائشہ! اللہ تعالیٰ کی قسم! اس کا پانی مہندی کے پانی کی طرح (رنگین) تھا، اور وہاں کے کھجور کے درخت گویا شیطانوں کے سر تھے ۔ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے اسے جلایا نہیں؟ فرمایا: نہیں، مجھے تو اللہ تعالیٰ نے تندرست کردیا ہے، اب میں نے ناپسند کیا کہ میں لوگوں پر اس کے شر کو پھیلاؤں ، پھر آپ ﷺ نے حکم دیا تو وہ سب چیزیں دفن کردی گئیں۔

It was narrated that , Aisha (RA) said: "A Jew from among the Jews of Bani Zuraiq, whose name was Labid bin Asam, cast a spell on the Prophet ﷺ ifi, and the Prophet ﷺ P.U.B.H began to imagine that he had done something when he had not. One day, or one night, the Messenger of Allah ﷺ supplicated, and then supplicated again. Then he said: O Aisha (RA) , do you know that Allah has instructed me concerning the matter I asked Him about? Two men came to me, and one of them sat at my head and the other at my feet. The one at my head said to the one at my feet, or the one at my feet said to the one at my head: "What is ailing this man?" He said: "He has been affected by a spell."

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ١٧ (٢١٨٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٩٨٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجزیة ١٤ (٣١٧٥)، الطب ٥٠ (٥٧٦٦)، مسند احمد (٦/٥٧) (صحیح )
3546Sunan Ibne-Majah

جادو۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ العنسيْ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الْمِصْرِيَّيْنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا يَزَالُ يُصِيبُكَ كُلَّ عَامٍ وَجَعٌ مِنَ الشَّاةِ الْمَسْمُومَةِ الَّتِي أَكَلْتَ، قَالَ: مَا أَصَابَنِي شَيْءٌ مِنْهَا، إِلَّا وَهُوَ مَكْتُوبٌ عَلَيَّ، وَآدَمُ فِي طِينَتِهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین ام سلمہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: اللہ کے رسول! آپ کو ہر سال اس زہریلی بکری کی وجہ سے جو آپ نے کھائی تھی، تکلیف ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے اس کی وجہ سے کچھ بھی ہوا وہ میرے مقدر میں اسی وقت لکھ دیا گیا تھا جب آدم مٹی کے پتلے تھے ۔

It was narrated from Ibn Umar that Umm Salamah said: "O Messenger of Allah, every year you are still suffering pain because of the poisoned meat that you ate." He said: "Nothing of that happens to me, but it was decreed for me when Adam was still at the stage of being clay.": (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٤٤٣، ٨٥٣٢، ومصباح الزجاجة: ١٢٣٧) (ضعیف) (سند میں ابوبکر عنسی مجہول الحال راوی ہیں )
3547Sunan Ibne-Majah

گھبراہٹ اور نیند اچاٹ ہونے کے وقت کی دعا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا وَهْيبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ، أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا، قَالَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ يَضُرَّهُ فِي ذَلِكَ الْمَنْزِلِ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْهُ.

خولہ بنت حکیم ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی مقام پر اترے تو وہ اس وقت یہ دعا پڑھے: أعوذ بکلمات الله التامة من شر ما خلق۔ لم يضره في ذلک المنزل شيء حتى يرتحل منه میں پناہ مانگتا ہوں اللہ تعالیٰ کے تمام کلمات کی ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا تو اس مقام پر کوئی چیز اسے ضرر نہیں پہنچا سکتی یہاں تک کہ وہ وہاں سے روانہ ہوجائے ۔

It was narrated from Khawlah bint Hakim that the Prophet ﷺ said: "If anvone of you, when he stops to camp (while on a journey), says Audhu bi kalimatil-lahit-tammati min sharri ma khalaq. (I seek refuge in the Perfect Words of Allah from the evil of that which He has created), then nothing will harm him in that place until he moves on." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٦ (٢٧٠٨)، سنن الترمذی/الدعوات ٤١ (٣٤٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/ ٣٣٧، ٣٧٨، ٤٠٩)، سنن الدارمی/الاستئذان ٤٨ (٢٧٢٢) (صحیح )
3548Sunan Ibne-Majah

گھبراہٹ اور نیند اچاٹ ہونے کے وقت کی دعا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: لَمَّا اسْتَعْمَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الطَّائِفِ، جَعَلَ يَعْرِضُ لِي شَيْءٌ فِي صَلَاتِي حَتَّى مَا أَدْرِي مَا أُصَلِّي، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ رَحَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ابْنُ أَبِي الْعَاصِ، قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: مَا جَاءَ بِكَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَرَضَ لِي شَيْءٌ فِي صَلَوَاتِي حَتَّى مَا أَدْرِي مَا أُصَلِّي، قَالَ: ذَاكَ الشَّيْطَانُ ادْنُهْ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ، فَجَلَسْتُ عَلَى صُدُورِ قَدَمَيَّ، قَالَ: فَضَرَبَ صَدْرِي بِيَدِهِ، وَتَفَلَ فِي فَمِي، وَقَالَ: اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّهِ، فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: الْحَقْ بِعَمَلِكَ، قَالَ: فَقَالَ عُثْمَانُ: فَلَعَمْرِي مَا أَحْسِبُهُ خَالَطَنِي بَعْدُ.

عثمان بن ابی العاص ؓ کہتے ہیں کہ جب مجھے رسول اللہ ﷺ نے طائف کا عامل مقرر کیا، تو مجھے نماز میں کچھ ادھر ادھر کا خیال آنے لگا یہاں تک کہ مجھے یہ یاد نہیں رہتا کہ میں کیا پڑھتا ہوں، جب میں نے یہ حالت دیکھی تو میں سفر کر کے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچا، تو آپ نے فرمایا: کیا ابن ابی العاص ہو ؟، میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ نے سوال کیا: تم یہاں کیوں آئے ہو ؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے نماز میں طرح طرح کے خیالات آتے ہیں یہاں تک کہ مجھے یہ بھی خبر نہیں رہتی کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ شیطان ہے، تم میرے قریب آؤ، میں آپ کے قریب ہوا، اور اپنے پاؤں کی انگلیوں پر دو زانو بیٹھ گیا، آپ ﷺ نے اپنے مبارک ہاتھ سے میرا سینہ تھپتھپایا اور اپنے منہ کا لعاب میرے منہ میں ڈالا، اور (شیطان کو مخاطب کر کے) فرمایا: اخرج عدو الله اللہ کے دشمن! نکل جا ؟ یہ عمل آپ نے تین بار کیا، اس کے بعد مجھ سے فرمایا: اپنے کام پر جاؤ عثمان ؓ بیان کرتے ہیں: قسم سے! مجھے نہیں معلوم کہ پھر کبھی شیطان میرے قریب پھٹکا ہو۔

It was narrated that muthtnân bin Abul-’As said: “When the Messenger of Allah ﷺ appoint me as governor of Tâ’if, I began to get confused during my prayer, until I no longer knew what I was doing. When I noticed that, I travelled to the Messenger of Allah ﷺ and he said: ‘The son of Abul-’As?’ I said: ‘Yes, O Messenger of Allah.’ He said: ‘What brings you here?’ I said: ‘O Messenger of Allah, I get confused during my prayer, until I do not know what I am doing.’ He said: ‘That is Satan. Come here.’ So I came close to him, and sat upon the front part of my feet then he struck my chest with his hand and put some spittle in my mouth and said: ‘Get out, O enemy of Allah!’ He did that three times, then he said: ‘Get on with your work.”‘Uthmân said: “Indeed, I never felt confused (during my prayer) alter that.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٧٦٧، ومصباح الزجاجة: ١٢٣٨) (صحیح )
3549Sunan Ibne-Majah

گھبراہٹ اور نیند اچاٹ ہونے کے وقت کی دعا۔

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو جَنَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِيهِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: إِنَّ لِي أَخًا وَجِعًا، قَالَ: مَا وَجَعُ أَخِيكَ؟، قَالَ: بِهِ لَمَمٌ، قَالَ: اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهِ، قَالَ: فَذَهَبَ فَجَاءَ بِهِ، فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَسَمِعْتُهُ: عَوَّذَهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَأَرْبَعِ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ الْبَقَرَةِ، وَآيَتَيْنِ مِنْ وَسَطِهَا وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ سورة البقرة آية 163، وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ، وَثَلَاثِ آيَاتٍ مِنْ خَاتِمَتِهَا، وَآيَةٍ مِنْ آلِ عِمْرَانَ، أَحْسِبُهُ قَالَ: شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ سورة آل عمران آية 18، وَآيَةٍ مِنْ الْأَعْرَافِ إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سورة الأعراف آية 54، وَآيَةٍ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ لا بُرْهَانَ لَهُ بِهِ سورة المؤمنون آية 117، وَآيَةٍ مِنْ الْجِنِّ: وَأَنَّهُ تَعَالَى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَلا وَلَدًا سورة الجن آية 3، وَعَشْرِ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ الصَّافَّاتِ، وَثَلَاثِ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ الْحَشْرِ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ والمعوذتين، فَقَامَ الْأَعْرَابِيُّ، قَدْ بَرَأَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ.

ابولیلیٰ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کے پاس ایک اعرابی نے آ کر کہا: میرا ایک بیمار بھائی ہے، آپ ﷺ نے سوال کیا: تمہارے بھائی کو کیا بیماری ہے ؟ وہ بولا: اسے آسیب ہوگیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ اسے لے کر آؤ، ابولیلیٰ کہتے ہیں کہ وہ (اعرابی) گیا اور اسے لے آیا، آپ ﷺ نے اسے اپنے سامنے بیٹھایا، میں نے آپ کو سنا کہ آپ نے اسے دم کیا، سورة فاتحہ، سورة البقرہ کی ابتدائی چار آیات اور درمیان کی دو آیتیں، اور وإلهكم إله واحد والی آیت، آیت الکرسی، پھر سورة البقرہ کی آخری تین آیات، آل عمران کی آیت (جو میرے خیال میں) شهد الله أنه لا إله إلا هو ہے، سورة الاعراف کی آیت إن ربکم الله الذي خلق، سورة مومنون کی آیت ومن يدع مع الله إلها آخر لا برهان له به، سورة الجن کی آیت وأنه تعالى جد ربنا ما اتخذ صاحبة ولا ولدا اور سورة الصافات کے شروع کی دس آیات، اور سورة الحشر کی آخری تین آیات، سورة قل هو الله أحد اور معوذتین کے ذریعے، تو اعرابی شفایاب ہو کر کھڑا ہوگیا، اور ایسا لگ رہا تھا کہ اسے کوئی تکلیف نہیں ہے۔

It was narrated from ‘Abdur-Rahman bin Abi LaNa that his father Abu Laila said: “I was sitting with the Prophe when a Bedouin came to him and said: ‘I have a brother who is sick.’ He said: ‘What is the matter with your brother?’ He said: ‘He suffers from a slight mental derangement’ He said: ‘Go and bring him.” He said: “(So he went) and he brought him. He made him sit down in front of him and I heard him seeking refuge for him with Fãtihatil-Kitãb; four Verses from the beginning of Al-Baqarah, two Verses from its middle: ‘And your Ilah (God) is One Ilah (God — Allâh),’ and Ayat Al-Kursi; and three Verses from its end; a Verse from Al ‘Imrán, I think it was: ‘Allah bears witness that La ilaha illa Huwa (none has the right to be worshipped but He),’ a Verse from Al-A`raf ‘Indeed, your Lord is Allah,’ a Verse from Al-Mu’min: ‘And whoever invokes (or worships), besides Allah, any other ilah (sod), of whom he has no proof, a Verse from Alfinn: ‘And He, exalted is the Majesty of our Lord: ten Verses from the beginning of Assaffat; three Verses from the end of AI-Hashr; (then) Say: He is Allah, (the) One:121 and AIMuawwidhatain. Then the Bedouin stood up, healed, and there was nothing wrong with him." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢١٥٤، ومصباح الزجاجة: ١٢٣٩) (منکر) (سند میں ابو جناب الکلبی کثرت تدلیس کی وجہ سے ضعیف راوی ہیں )
3550Sunan Ibne-Majah

آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لباس کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ، فَقَالَ: شَغَلَنِي أَعْلَامُ هَذِهِ، اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَأْتُونِي بأنبجانيته.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش و نگار تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے ان بیل بوٹوں نے غافل کردیا، اسے ابوجہم کو کے پاس لے کر جاؤ اور مجھے ان کی انبجانی چادر لا کر دے دو ۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ prayed in a Khamisah that had markings on it. Then he said: These markings distracted me. Take it to Abu Jahm and bring me an Anbijaniyyah.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٤ (٣٧٣)، الأذان ٩٣ (٧٥٢)، اللباس ١٩ (٥٨١٧)، صحیح مسلم/المساجد ١٥ (٥٥٦)، سنن ابی داود/الصلاة ١٦٧ (٩١٤)، اللباس ١١ (٤٠٥٢)، سنن النسائی/القبلة ٢٠ (٧٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٣٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ١٨ (٦٧)، مسند احمد (٦/٣٧، ٤٦، ١٧٧، ١٩٩، ٢٠٨) (صحیح )
3551Sunan Ibne-Majah

آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لباس کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَأَخْرَجَتْ لِي إِزَارًا غَلِيظًا مِنَ الَّتِي تُصْنَعُ بِالْيَمَنِ، وَكِسَاءً مِنْ هَذِهِ الْأَكْسِيَةِ الَّتِي تُدْعَى الْمُلَبَّدَةَ، وَأَقْسَمَتْ لِي لَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمَا.

ابوبردہ ؓ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے ایک موٹے کپڑے کا تہبند نکالا جو یمن میں تیار کیا جاتا ہے، اور ان چادروں میں سے ایک چادر جنہیں ملبدہ (موٹا ارزاں کمبل) کہا جاتا ہے، نکالا اور قسم کھا کر مجھے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں میں وفات پائی ١ ؎۔

It was narrated that Abu Burdah said: I entered upon , Aisha (RA) and she brought out to me a thick waist wrap of the type made in Yemen, and one of these cloaks that are called Mulabbadah, and she swore to me that the Messenger of Allah ﷺ had passed away in them." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: سبحان اللہ، جب رسول اکرم ﷺ نے ایک کمبل اور ایک تہبند پر اکتفا کی، تو ہر مومن کے سامنے لباس میں یہ اسوہ رسول رہنا چاہیے، مطلب یہ ہے کہ دنیا داروں کی خوشامد کرنے سے اور بیہودہ دوڑنے پھرنے سے ہمیشہ پرہیز رکھے، اور قناعت کو اپنا شعار گردانے اور سوال اور حاجت لے کر دوسروں کے سامنے جانے کی ذلت و خواری سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فرض الخمس ٥ (٣١٠٨)، اللباس ١٩ (٥٨١٨)، صحیح مسلم/اللباس ٦ (٢٠٨٠)، سنن الترمذی/اللباس ١٠ (١٧٣٣)، سنن ابی داود/اللباس ٨ (٤٠٣٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٢، ١٣١) (صحیح )
3552Sunan Ibne-Majah

آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لباس کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَّى فِي شَمْلَةٍ قَدْ عَقَدَ عَلَيْهَا.

عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسی چادر میں نماز پڑھی جس میں آپ نے گرہ لگا رکھی تھی۔

It was narrated from Ubadahh bin Samit that the Messenger of Allah ﷺ prayed in a Shamlah tied with a knot. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٠٨٥، ومصباح الزجاجة: ١٢٤٠) (ضعیف الإسناد) (خالد بن معدان نے نہ عبادہ ؓ سے ملاقات کی اور نہ ان سے سنا، نیز احوص بن حکیم ضعیف راوی ہے )
3553Sunan Ibne-Majah

آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لباس کا بیان۔

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَيْهِ رِدَاءٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا، آپ کے جسم پر موٹے کنارے والی نجرانی چادر تھی۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) was with the Messenger of Allah ﷺ and over him a Najrani upper wrap with a thick border." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فرض الخمس ١٩ (٣١٤٩)، صحیح مسلم/الزکاة ٤٤ (١٠٥٧)، (تحفة الأشراف: ٢٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٥٣) (صحیح )
3554Sunan Ibne-Majah

آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لباس کا بیان۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسُبُّ أَحَدًا، وَلَا يُطْوَى لَهُ ثَوْبٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے کبھی رسول اللہ ﷺ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی کو برا بھلا کہا ہو یا آپ کا کپڑا تہ کیا جاتا رہا ہو۔

It was narrated that , Aisha (RA) said: "I never saw the Messenger of Allah ﷺ insulting anyone, and no garment was ever folded up for him. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٤١٥، ومصباح الزجاجة: ١٢٤١) (ضعیف) (عبداللہ بن لہیعہ صدوق راوی ہیں، لیکن ان کی کتابوں کے جلنے کے بعد اختلاط کا شکار ہوگئے تھے اس لئے یہ سند ضعیف ہے )
3555Sunan Ibne-Majah

آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لباس کا بیان۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ،أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبُرْدَةٍ، قَالَ: وَمَا الْبُرْدَةُ؟ قَالَ: الشَّمْلَةُ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَسَجْتُ هَذِهِ بِيَدِي لِأَكْسُوَكَهَا، فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، فَخَرَجَ عَلَيْنَا فِيهَا، وَإِنَّهَا لَإِزَارُهُ فَجَاءَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ رَجُلٌ سَمَّاهُ يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَحْسَنَ هَذِهِ الْبُرْدَةَ اكْسُنِيهَا، قَالَ: نَعَمْ، فَلَمَّا دَخَلَ طَوَاهَا وَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ: وَاللَّهِ مَا أَحْسَنْتَ كُسِيَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، ثُمَّ سَأَلْتَهُ إِيَّاهَا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهُ لَا يَرُدُّ سَائِلًا، فَقَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا سَأَلْتُهُ إِيَّاهَا لِأَلْبَسَهَا، وَلَكِنْ سَأَلْتُهُ إِيَّاهَا لِتَكُونَ كَفَنِي، فَقَالَ سَهْلٌ: فَكَانَتْ كَفَنَهُ يَوْمَ مَاتَ.

سہل بن سعد ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بردہ (چادر) لے کر آئی (ابوحازم نے پوچھا بردہ کیا چیز ہے؟ ان کے شیخ نے کہا: بردہ شملہ ہے جسے اوڑھا جاتا ہے) اور کہا: اللہ کے رسول! اسے میں نے اپنے ہاتھ سے بنا ہے تاکہ میں آپ کو پہناؤں، رسول اللہ ﷺ نے اسے لے لیا کیونکہ آپ کو اس کی ضرورت تھی، پھر آپ اسے پہن کر کے ہمارے درمیان نکل کر آئے، یہی آپ کا تہبند تھا، پھر فلاں کا بیٹا فلاں آیا (اس شخص کا نام حدیث بیان کرنے کے دن سہل نے لیا تھا لیکن ابوحازم اسے بھول گئے) اور عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ چادر کتنی اچھی ہے، یہ آپ مجھے پہنا دیجئیے، فرمایا: ٹھیک ہے ، پھر جب آپ اندر گئے تو اسے (اتار کر) تہ کیا، اور اس کے پاس بھجوا دی، لوگوں نے اس سے کہا: اللہ کی قسم! تم نے اچھا نہیں کیا، نبی اکرم ﷺ کو اس نے اس لیے پہنائی تھی کہ آپ کو اس کی حاجت تھی، پھر بھی تم نے اسے آپ سے مانگ لیا، حالانکہ تمہیں معلوم تھا کہ آپ کسی سائل کو نامراد واپس نہیں کرتے تو اس شخص نے جواب دیا: اللہ کی قسم! میں نے آپ سے اسے پہننے کے لیے نہیں مانگا ہے بلکہ اس لیے مانگا ہے کہ وہ میرا کفن ہو، سہل کہتے ہیں: جب وہ مرے تو یہی چادر ان کا کفن تھی ١ ؎۔

It was narrated from Sahl bin Sa’d Sâ’idi that a woman came to the Messenger of Allah ﷺ with a woven sheet - he said:21 “What type of woven sheet?” He said: “A Shamlah.” She said: “O Messenger of Allah, I have woven this with my own hands for you to wear.” The Messenger of Allah ﷺ took it, since he needed it. He came out to us wearing it as a lower wrap. So- and-so the son of so-and-so” — a man whose name he told that day — said: “O Messenger of Allah, how beautiful this sheet igi Let me wear it.” He said: “Yes.” When he went inside he folded it up and sent it to him. The people said to him: “By Allah, you have not done well. The Prophet ﷺ itlj wore it because he needed it, then you asked for it, and you knew that he would not refuse anyone who asked him for something.” He said: “By Allah, I did not ask for it so that I could wear it, rather I ked for it so that it could be my shroud. Sahl said,"And it became his shroud the day he died." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: دوسری روایت میں اس شخص کا نام عبدالرحمن بن عوف مذکور ہے جو بزرگ صحابی اور عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٢٨ (١٢٧٧)، البیوع ٣١ (٢٠٩٣)، اللباس ١٨ (٥٨١٠)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ٤٣ (٥٣٢٣)، (تحفة الأشراف: ٤٧٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٣٣) (صحیح )
3556Sunan Ibne-Majah

آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لباس کا بیان۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ نُوحِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّوفَ وَاحْتَذَى الْمَخْصُوفَ، وَلَبِسَ ثَوْبًا خَشِنًا.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اون کا (سادہ اور موٹا) لباس پہنا ہے، مرمت شدہ جوتا پہنا ہے اور انتہائی موٹا کپڑا زیب تن فرمایا ہے۔

lt was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah ﷺ wore wool and sandals, and he wore coarse, rough garments." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٤٢، ومصباح الزجاجة: ١٢٤٢) (ضعیف) (نوح بن ذکوان ضعیف ہے، اور بقیہ مدلس اور روایت عنعنہ سے کی ہے )
3557Sunan Ibne-Majah

نیا کپڑا پہننے کی دعا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: لَبِسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثَوْبًا جَدِيدًا، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي، وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي، وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى الثَّوْبِ الَّذِي أَخْلَقَ أَوْ أَلْقَى فَتَصَدَّقَ بِهِ كَانَ فِي كَنَفِ اللَّهِ، وَفِي حِفْظِ اللَّهِ وَفِي سِتْرِ اللَّهِ حَيًّا وَمَيِّتًا، قَالَهَا ثَلَاثًا.

ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے نیا کپڑا پہنا تو یہ دعا پڑھی: الحمد لله الذي کساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي یعنی: اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ایسا کپڑا پہنایا جس سے میں اپنی ستر پوشی کرتا ہوں، اور اپنی زندگی میں زینت حاصل کرتا ہوں ، پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے سنا کہ جو شخص نیا کپڑا پہنے اور یہ دعا پڑھے: الحمد لله الذي کساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي یعنی اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ایسا کپڑا پہنایا جس سے میں اپنی ستر پوشی کرتا ہوں اور اپنی زندگی میں زینت حاصل کرتا ہوں ، پھر وہ اس کپڑے کو جو اس نے اتارا، یا جو پرانا ہوگیا صدقہ کر دے، تو وہ اللہ کی حفظ و امان اور حمایت میں رہے گا، زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی یہ آپ ﷺ نے تین بار فرمایا۔

It was narrated that Abu Umamah said: "Umar bin Khattab put On a new garment and said: (Praise is to Allah Who has clothed me in something With which I conceal my nakedness and adorn myself in my life), Then he said: "l heard the Messenger of Allah ﷺ say: Whoever puts on a new garment and says: (praise be to Allah Who has clothed me in something with which I conceal my nakedness and adorn myself in my life), then takes the garment that has worn out, or that he has taken off and gives it in charity, he will be under the shelter, protection and care of Allah, whether he lives or dies. He said this three times." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ١٠٨ (٣٥٦٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٤٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٤) (ضعیف) (سند میں ا بو العلاء مجہول راوی ہیں )