Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 183 of 218

3638Sunan Ibne-Majah

کہیں سے بال کترنا اور کہیں سے چھوڑنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ،، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَعَنِ الْقَزَعِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قزع سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ forbade Qaza’.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧١٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٦٧، ٨٣، ١١٨، ١٥٤) (صحیح )
3639Sunan Ibne-Majah

انگشتری کا نقش۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، ثُمَّ نَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ: لَا يَنْقُشْ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِ خَاتَمِي هَذَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی، پھر اس میں محمد رسول الله نقش کرایا، اور فرمایا: میری انگوٹھی کا یہ نقش کوئی اور نہ کرائے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Umar (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ wore a ring of silver, then he had engraved on it (the words) Muhammad Rasul Allah (Muhammad the Messenger of Allah) ﷺ . And he said: No one should have his ring engraved like this ring of mine." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: وہ انگوٹھی آپ کی وفات تک آپ کے ہاتھ میں رہی پھر ابوبکر ؓ کے پاس پھر عمر ؓ کے پاس، پھر عثمان ؓ کے پاس ان کی اخیر خلافت میں اریس کے کنوئیں میں گرگئی، ہرچند تلاش کی گئی مگر نہ ملی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ١٢ (٢٠٩١)، سنن ابی داود/الخاتم ١ (٤٢١٩)، سنن الترمذی/الشمائل ١١ (٩٥)، سنن النسائی/الزینة من المجتبيٰ ٢٦ (٥٢٩٠)، (تحفة الأشراف: ٧٥٩٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس ٤٦ (٥٨٦٦)، مسند احمد (٢/٢٢) (صحیح )
3640Sunan Ibne-Majah

انگشتری کا نقش۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: اصْطَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا، فَقَالَ: إِنَّا قَدِ اصْطَنَعْنَا خَاتَمًا، وَنَقَشْنَا فِيهِ نَقْشًا، فَلَا يَنْقُشَنَّ عَلَيْهِ أَحَدٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک انگوٹھی بنوائی، اور فرمایا: ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس میں نقش کرایا ہے، لہٰذا اب اس طرح کوئی اور نقش نہ کرائے ١ ؎۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ had a ring made for him. and he said: I have had a ring made for me and had it engraved, and no one should make a ring with similar engraving.": (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ وہ آپ کی علامت تھی آپ خطوط پر اس کو ثبت فرماتے، اب بھی اس طرح کا انگوٹھی پر نقش کرانا منع ہے، اور بعضوں نے کہا مکروہ نہیں کیونکہ التباس کا ڈر اب باقی نہیں ہے، اور ہم کہتے ہیں کہ ممانعت عام اور شامل ہے ہمیشہ ہمیش کے لیے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٤٧ (٥٨٦٦)، ٥٠ (٥٨٧٢)، ٥٢ (٥٨٧٥)، ٥٤ (٥٨٧٧)، صحیح مسلم/اللباس ١٢ (٢٠٩٢)، ١٣ (٢٠٩٢)، سنن ابی داود/الخاتم ١ (٤٢١٤)، سنن الترمذی/اللباس ١٤ (١٧٣٩)، الشمائل ١١ (٩٢)، سنن النسائی/الزینة ٤٥ (٥٢٠٤)، الزینة من المجتبی ٢٤ (٥٢٨٠)، (تحفة الأشراف: ٩٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٦١، ١٧٠، ١٨١، ١٩٨، ٢٠٩، ٢٢٣) (صحیح )
3641Sunan Ibne-Majah

انگشتری کا نقش۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ لَهُ فَصٌّ حَبَشِيٌّ وَنَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اس میں ایک حبشی نگینہ تھا، اور اس میں محمد رسول الله کا نقش تھا۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ wore a ring of silver, in which was an Ethiopian gemstone and the inscription: Muhammad Rasul Allah (Muhammad the Messenger of Allah) ﷺ ." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٤٧ (٥٨٦٨)، صحیح مسلم/اللباس ١٢ (٢٠١٢)، سنن ابی داود/الخاتم ١ (٤٢١٦)، سنن الترمذی/اللباس ١٤ (١٧٣٩)، سنن النسائی/الزینة ٤٥ (٥١٩٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٠٩، ٢٢٥) (صحیح )
3642Sunan Ibne-Majah

(مردوں کیلئے) سونے کی انگشتری۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ بْنِ جُبَيْرٍ مَوْلَى عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَعَنِ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔

It was narrated that Ali said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade wearing gold rings."

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٦٠٢ (صحیح )
3643Sunan Ibne-Majah

(مردوں کیلئے) سونے کی انگشتری۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سُهَيْلٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَعَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی انگوٹھی (پہننے) سے منع فرمایا۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade gold rings," (Hasan)

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٦٠١ (تحفة الأشراف: ٦٦٩١) (صحیح )
3644Sunan Ibne-Majah

(مردوں کیلئے) سونے کی انگشتری۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: أَهْدَى النَّجَاشِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلْقَةً، فِيهَا خَاتَمُ ذَهَبٍ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُودٍ، وَإِنَّهُ لَمُعْرِضٌ عَنْهُ أَوْ بِبَعْضِ أَصَابِعِهِ، ثُمَّ دَعَا ابْنَةِ ابْنَتِهِ أُمَامَةَ بِنْتِ أَبِي الْعَاصِ، فَقَالَ: تَحَلِّي بِهَذَا يَا بُنَيَّةُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نجاشی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک چھلا بطور ہدیہ بھیجا، اس میں ایک سونے کی انگوٹھی تھی، انگوٹھی میں حبشی نگینہ تھا، رسول اللہ ﷺ نے اسے لکڑی سے چھوا، آپ اس سے اعراض کر رہے تھے، یا پھر اپنی ایک انگلی سے چھوا، اور اپنی نواسی امامہ بنت ابی العاص کو بلا کر فرمایا: بیٹی! اسے تم پہن لو ۔

It was narrated that ‘ Aisha (RA) the Mother of the Believers said: “Najashi sent some jewelry as a gift to the Messenger of Allah ﷺ . Among that was a gold ring with an Ethiopian gemstone. The Messenger of Allah ﷺ li picked it up with a stick - as if he found it distasteful — or with one of his fingers, then he called has daughter’s daughter, Umâmah bint AbulAs, and said: ‘Wear this, O my daughter.” (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الخاتم ٨ (٤٢٣٥) (تحفة الأشراف: ١٦١٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٠١، ١١٩) (حسن )
3645Sunan Ibne-Majah

انگشتری پہننے میں نگینہ ہتھیلی کی طرف کی رکھنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم كَانَيَجْعَلُ فَصَّ خَاتَمِهِ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی انگوٹھی کے نگینے کو ہتھیلی کی جانب رکھتے تھے۔

It was narrated from Ibn Umar that the Prophet ﷺ used to wear (his ring) with the stone nearest his palm. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ١١ (٢٠٩٢)، سنن ابی داود/الخاتم ١ (٤٢١٨)، (تحفة الأشراف: ٧٥٩٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس ٤٥ (٥٨٦٥)، ٤٦ (٥٨٦٦)، ٤٧ (٥٨٦٧)، ٥٣ (٥٨٦٧)، الأیمان ٦ (٦٦٥١)، الاعتصام ٤ (٧٢٩٨)، سنن الترمذی/اللباس ١٦ (١٧٤١)، الشمائل ١٢ (٨٤)، سنن النسائی/الزینة ٤٥ (٥١٩٩)، مسند احمد (٢/١٨، ٦٨، ٩٦، ١٢٧) (صحیح )
3646Sunan Ibne-Majah

انگشتری پہننے میں نگینہ ہتھیلی کی طرف کی رکھنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَبِسَ خَاتَمَ فِضَّةٍ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ كَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ فِي بَطْنِ كَفِّهِ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی پہنی، اس میں حبشی نگینہ تھا، آپ اپنے نگینے کو اپنی ہتھیلی کے اندر کی جانب رکھتے تھے۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ wore a silver ring with an Ethiopian gemstone, and he used to wear the stone in towards his palm. (Sahih)

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٦٤١، (صحیح )
3647Sunan Ibne-Majah

دائیں ہاتھ میں انگشتری پہننا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ.

عبداللہ بن جعفر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنے داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے ١ ؎۔

It was narrated from Abdullah bin Jafar that the Prophet ﷺ used to wear a ring on his right hand. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اور صحیح مسلم میں ہے کہ بائیں ہاتھ کی چھنگلیا میں یعنی سب سے چھوٹی انگلی میں پہنتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٢٢١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس ١٦ (١٧٤٤)، الشمائل ١٣ (٩٨)، سنن النسائی/الزینة ٤٦ (٥٢٠٧)، مسند احمد (١/٢٠٤، ٢٠٥) (صحیح )
3648Sunan Ibne-Majah

انگوٹھے میں انگشتری پہننا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَنْ أَتَخَتَّمَ فِي هَذِهِ وَفِي هَذِهِ، يَعْنِي: الْخِنْصَرَ، وَالْإِبْهَامَ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے منع فرمایا کہ میں اس میں اور اس میں انگوٹھی پہنوں، یعنی چھنگلی اور انگوٹھے میں ١ ؎۔

It was narrated that Ali said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade me to wear a ring on this and on this," meaning the little finger and the thumb. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: تخریج حدیث سے ظاہر ہوا کہ اصل حدیث: درمیانی انگلی اور اس سے ملی انگلی میں پہننے سے متعلق ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٢٨ (٥٨٣٨ تعلیقاً ) صحیح مسلم/اللباس ١٦ (٢٠٨٧)، سنن ابی داود/الخاتم ٤ (٤٢٢٥)، سنن الترمذی/اللباس ٤٤ (١٧٨٦)، سنن النسائی/الزینة ٥٠ (٥٢١٤)، الزینة من المجتبيٰ ٥٢ (٥٢٨٨، ٥٢٨٩) (تحفة الأشراف: ١٠٣١٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٨، ١٣٤، ١٣٨) (شاذ) (يَعني الخنصر والإبهام کا لفظ منکر ہے، محفوظ و ثابت لفظ یہ ہے: في هذه وفي هذه ۔ شک عاصم قال: فأوما إلي الوسطى والتي اس میں یا اس میں، عاصم کو شک ہے، پھر درمیان انگلی کی طرف اشارہ کیا، اور جو اس سے ملی ہوئی ہے )
3649Sunan Ibne-Majah

گھر میں تصاویر (رکھنے سے ممانعت)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ابوطلحہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس گھر میں فرشتے نہیں داخل ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو ١ ؎۔

It was narrated from Abu Talhah that the Prophet ﷺ said: "The angels do not enter a house in which there is a dog or an image." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: وہ کتے جو کھیت اور جائداد کی رکھوالی، یا شکار کے لئے ہوں اس ممانعت کے حکم سے مستثنیٰ ہیں، اور تصویر سے بےجان چیزوں کی تصویریں مستثنیٰ ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٧ (٣٢٢٥)، ١٧ (٣٣٢٢)، المغازي ١٢ (٤٠٠٢)، اللباس ٨٨ (٥٩٤٩)، ٩٢ (٥٩٥٨)، صحیح مسلم/اللباس ٢٦ (٢١٠٦)، سنن ابی داود/اللباس ٤٨ (٤١٥٣)، سنن الترمذی/الأدب ٤٤ (٢٨٠٤)، سنن النسائی/الصید والذبائح ١١ (٤٢٨٧)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ٥٧ (٥٣٤٩)، (تحفة الأشراف: ٣٧٧٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان ٣ (٦)، مسند احمد (٤/٢٨، ٢٩، ٣٠) (صحیح )
3650Sunan Ibne-Majah

گھر میں تصاویر (رکھنے سے ممانعت)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو ١ ؎۔

It was narrated from Ali bin Abu Tâlib that the Prophet ﷺ Said: “The angels do not enter house in which there is a dog or an image." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی رحمت کے فرشتے جو مسلمان اور سچے مومنوں کے پاس شوق اور محبت کی وجہ سے آتے ہیں وہ اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں کتا یا مورت ہو، مطلب یہ ہے کہ فرشتوں کو ان چیزوں سے نفرت ہے اور اس کا یہ قطعاً مطلب نہیں کہ جہاں کتا یا مورت ہو وہاں فرشتہ مطلق داخل ہی نہیں ہوتا، اگرچہ اس کو حکم دے دیا گیا ہو، ورنہ لازم آتا ہے جس کوٹھری میں کتا یا تصویر ہو وہاں کوئی نہ مرے کیونکہ موت کا فرشتہ اس کوٹھری کے اندر نہ آسکے گا، واضح رہے یہ فرشتوں کے شوق و محبت سے اور اللہ کی رحمت لے کر گھر میں داخل ہونے کی بات ہے ورنہ جب ان کو حکم الہی ہوتا ہے تو کتا اور مورت کیا پاخانہ اور غلاظت خانہ میں بھی جا کر روح قبض کرلیتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٩٠ (٢٢٧)، اللباس ٤٨ (٤١٥٢)، سنن النسائی/الطہارة ١٦٨ (٢٦٢)، الصید ١١ (٤٢٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٣، ١٠٤)، سنن الدارمی/الاستئذان ٣٤ (٢٧٠٥) (صحیح )
3651Sunan Ibne-Majah

گھر میں تصاویر (رکھنے سے ممانعت)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: وَاعَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فِي سَاعَةٍ يَأْتِيهِ فِيهَا فَرَاثَ عَلَيْهِ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ بِجِبْرِيلَ قَائِمٌ عَلَى الْبَابِ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ، قَالَ: إِنَّ فِي الْبَيْتِ كَلْبًا، وَإِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک ایسے وقت میں آنے کا وعدہ کیا جس میں وہ آیا کرتے تھے، لیکن آنے میں دیر کی تو نبی اکرم ﷺ باہر نکلے، دیکھا تو جبرائیل (علیہ السلام) دروازے پر کھڑے ہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: آپ کو اندر آنے سے کس چیز نے باز رکھا؟ فرمایا: گھر میں کتا ہے، اور ہم لوگ ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتے اور تصویریں ہوں ۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "Jibril (A.S) promised the Messenger of Allah ﷺ that he would corne to him at a certain hour, but he was late. The Prophet ﷺ went out and there was Jibril standing at the door. He said: What kept you from entering? He said: There is a dog in the house, and we do not enter a house in which there is a dog or an image:" (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٧٦١، ومصباح الزجاجة: ١٢٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٤٢) (صحیح )
3652Sunan Ibne-Majah

گھر میں تصاویر (رکھنے سے ممانعت)

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ، أَنَّ زَوْجَهَا فِي بَعْضِ الْمَغَازِي،فَاسْتَأْذَنَتْهُ أَنْ تُصَوِّرَ فِي بَيْتِهَا نَخْلَ، فَمَنَعَهَا أَوْ نَهَاهَا.

ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر آپ کو بتایا کہ اس کا شوہر کسی جنگ میں گیا ہوا ہے، اور اپنے گھر میں کھجور کے درخت کی تصویر بنانے کی اجازت طلب کی، تو آپ ﷺ نے اسے منع فرما دیا یا روک دیا۔

It was narrated from Abu Umâmah that a woman came to the Prophet ﷺ and told him that her husband was away on some military campaign. She asked him for permission to make an image of a palm tree in her house, and he did not let her, or he forbade her.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٨٧٣) (ضعیف) (سند میں عفیر بن معدان ضعیف راوی ہیں )
3653Sunan Ibne-Majah

تصاویر پامال جگہ میں ہوں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: سَتَرْتُ سَهْوَةً لِي تَعْنِي: الدَّاخِلَ بِسِتْرٍ فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَتَكَهُ، فَجَعَلْتُ مِنْهُ مَنْبُوذَتَيْنِ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلَى إِحْدَاهُمَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے اپنے روشن دان پر پردہ ڈالا یعنی اندر سے، پردے میں تصویریں تھیں، جب نبی اکرم ﷺ تشریف لائے، تو آپ نے اسے پھاڑ ڈالا، میں نے اس سے دو تکیے بنا لیے پھر میں نے دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ ان میں سے ایک تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "I covered a small room closet of mine, meaning, from the inside, with a curtain on which there were images. When the Prophet ﷺ came, he tore it down, so I made two pillows from it, and I saw the Prophet ﷺ reclining on one of them." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے نقشی تصویر کی بھی حرمت نکلتی ہے، اور بعضوں نے کہا آپ کا یہ فعل حرمت کی وجہ سے نہ تھا، بلکہ آپ ﷺ نے نبوت کے خاندان میں دنیا کی زیب و زینت اور آرائستگی کو برا سمجھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٤٢٧، ومصباح الزجاجة: ١٢٦٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المظالم ٣٢ (٢٤٧٩، ٢٤٧٦)، اللباس ٩١ (٥٩٥٤، ٥٩٥٥)، الأدب ٧٥ (٦١٠٩)، (بدون ذکرالصلاة في المواضع الثلاثة) صحیح مسلم/اللباس ٢٦ (٢١٠٧)، سنن النسائی/القبلة ١٢ (٧٦٢)، الزینة من المجتبیٰ ٥٧ (٥٣٥٦)، مسند احمد (٦/١٧٤)، سنن الدارمی/الاستئذان ٣٣ (٢٧٠٤) (حسن صحیح) (سند میں اسامہ بن زید ضعیف ہے، لیکن دوسرے طرق سے صحیح ہے، کمافی التخریج )
3654Sunan Ibne-Majah

سرخ زین پوش (کی ممانعت )

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ هُبَيْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَعَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، وَعَنِ الْمِيثَرَةِ، يَعْنِي: الْحَمْرَاءَ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی انگوٹھی پہننے اور گدے استعمال کرنے سے منع فرمایا یعنی سرخ ریشمی گدے زین پوش۔

It was narrated that Ali said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade rings of gold and AI-Matharah," meaning the red Ones.(Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ١١ (٤٠٥١)، سنن الترمذی/الأدب ٤٥ (٢٨٠٨)، سنن النسائی/الزینة ٤٣ (٥١٦٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٣، ١٠٤، ١٢٧، ١٣٢، ١٣٣، ١٣٧) (صحیح )
3655Sunan Ibne-Majah

چیتوں کی کھال پر سواری۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْحِمْيَرِيُّ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ الْحَجْرِيِّ الْهَيْثَمِ، عَنْ عَامِرٍ الْحَجْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَيْحَانَةَ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَنْهَى عَنْ رُكُوبِ النُّمُور.

ابوریحانہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ چیتوں کی کھال پر سواری کرنے سے منع فرماتے تھے۔

It Was narrated that Amir Al-Hajri said: "I heard Abu Raihanah, the Companion of the Prophet ﷺ say: The Prophet ﷺ used to forbid riding on leopard skins:" (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ١١ (٤٠٤٩)، سنن النسائی/الزینة ٢٠ (٥٠٩٤)، ٢٧ (٥١١٣، ٥١١٤، ٥١١٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٣٤)، سنن الدارمی/الاستئذان ٢٠ (٢٦٩٠) (حسن صحیح) (بعد کی حدیث معاویہ ؓ سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
3656Sunan Ibne-Majah

چیتوں کی کھال پر سواری۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي الْمُعْتَمِرِ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَنْهَى عَنْ رُكُوبِ النُّمُورِ.

معاویہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ چیتوں کی کھال پر سواری کرنے سے منع فرماتے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Mu awiyah said: "The Messenger of Allah ﷺ used to forbid riding on leopard skins: (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ یہ زینت اور فخر کی چیز ہے، اور اس لئے بھی کہ یہ غیر مسلموں کا لباس ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٤٣ (٤١٢٩)، (تحفة الأشراف: ١١٤٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٩٣، ٩٤) (صحیح )
3657Sunan Ibne-Majah

والدین کی فرمانبرداری اور ان کے ساتھ حسن سلوک۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ ابْنِ سَلَامَةَ السُّلَمِيِّ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُوصِي امْرءًا بِأُمِّهِ، أُوصِي امْرءًا بِأُمِّهِ، أُوصِي امْرءًا بِأُمِّهِ ثَلَاثًا، أُوصِي امْرءًا بِأَبِيهِ، أُوصِي امْرءًا بِمَوْلَاهُ الَّذِي يَلِيهِ، وَإِنْ كَانَ عَلَيْهِ مِنْهُ أَذًى يُؤْذِيهِ.

ابن سلامہ سلمی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں آدمی کو اپنی ماں کے ساتھ اچھے سلوک اور برتاؤ کرنے کی وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اپنی ماں کے ساتھ اچھے سلوک اور برتاؤ کرنے کی وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اپنی ماں کے ساتھ اچھے سلوک اور برتاؤ کرنے کی وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اپنے باپ کے ساتھ اچھے سلوک اور برتاؤ کرنے کی وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اپنے مولیٰ ١ ؎ کے ساتھ جس کا وہ والی ہو اچھے سلوک اور برتاؤ کرنے کی وصیت کرتا ہوں، خواہ اس کو اس سے تکلیف ہی کیوں نہ پہنچی ہو ٢ ؎۔

It was narrated that Abu Salamah As-Sulami said that the Prophet ﷺ said: "I enjoin each one to honor his mother, I enjoin each one to honor his mother, I enjoin each one to honor his mother (three times), I enjoin each one to honor his father, I enjoin each one to honor his guardian who is taking care of him, even if he is causing him some annoyance."(Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: عربی میں مولیٰ کا لفظ آزاد کردہ غلام یا دوست یا رشتے دار یا حلیف سبھی معنوں میں مستعمل ہے، یہاں کوئی بھی معنی مراد لے سکتے ہیں۔ ٢ ؎: اگرچہ اس سے تکلیف پہنچے لیکن اس کے عوض میں تکلیف نہ دے جواں مردی یہی ہے کہ برائی کے بدلے نیکی کرے، اور جو اپنے سے رشتہ توڑے اس سے رشتہ جوڑے جیسے دوسری حدیث میں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠٥٤، ومصباح الزجاجة: ١٢٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣١١) (ضعیف) (سند میں شریک بن عبد اللہ القاضی اور عبیداللہ بن علی دونوں ضعیف ہیں )