عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی، پھر اس میں محمد رسول الله نقش کرایا، اور فرمایا: میری انگوٹھی کا یہ نقش کوئی اور نہ کرائے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ wore a ring of silver, then he had engraved on it (the words) Muhammad Rasul Allah (Muhammad the Messenger of Allah) ﷺ . And he said: No one should have his ring engraved like this ring of mine." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: وہ انگوٹھی آپ کی وفات تک آپ کے ہاتھ میں رہی پھر ابوبکر ؓ کے پاس پھر عمر ؓ کے پاس، پھر عثمان ؓ کے پاس ان کی اخیر خلافت میں اریس کے کنوئیں میں گرگئی، ہرچند تلاش کی گئی مگر نہ ملی۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک انگوٹھی بنوائی، اور فرمایا: ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس میں نقش کرایا ہے، لہٰذا اب اس طرح کوئی اور نقش نہ کرائے ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ had a ring made for him. and he said: I have had a ring made for me and had it engraved, and no one should make a ring with similar engraving.": (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ وہ آپ کی علامت تھی آپ خطوط پر اس کو ثبت فرماتے، اب بھی اس طرح کا انگوٹھی پر نقش کرانا منع ہے، اور بعضوں نے کہا مکروہ نہیں کیونکہ التباس کا ڈر اب باقی نہیں ہے، اور ہم کہتے ہیں کہ ممانعت عام اور شامل ہے ہمیشہ ہمیش کے لیے۔
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اس میں ایک حبشی نگینہ تھا، اور اس میں محمد رسول الله کا نقش تھا۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ wore a ring of silver, in which was an Ethiopian gemstone and the inscription: Muhammad Rasul Allah (Muhammad the Messenger of Allah) ﷺ ." (Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نجاشی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک چھلا بطور ہدیہ بھیجا، اس میں ایک سونے کی انگوٹھی تھی، انگوٹھی میں حبشی نگینہ تھا، رسول اللہ ﷺ نے اسے لکڑی سے چھوا، آپ اس سے اعراض کر رہے تھے، یا پھر اپنی ایک انگلی سے چھوا، اور اپنی نواسی امامہ بنت ابی العاص کو بلا کر فرمایا: بیٹی! اسے تم پہن لو ۔
It was narrated that ‘ Aisha (RA) the Mother of the Believers said: “Najashi sent some jewelry as a gift to the Messenger of Allah ﷺ . Among that was a gold ring with an Ethiopian gemstone. The Messenger of Allah ﷺ li picked it up with a stick - as if he found it distasteful — or with one of his fingers, then he called has daughter’s daughter, Umâmah bint AbulAs, and said: ‘Wear this, O my daughter.” (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الخاتم ٨ (٤٢٣٥) (تحفة الأشراف: ١٦١٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٠١، ١١٩) (حسن )
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی پہنی، اس میں حبشی نگینہ تھا، آپ اپنے نگینے کو اپنی ہتھیلی کے اندر کی جانب رکھتے تھے۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ wore a silver ring with an Ethiopian gemstone, and he used to wear the stone in towards his palm. (Sahih)
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے منع فرمایا کہ میں اس میں اور اس میں انگوٹھی پہنوں، یعنی چھنگلی اور انگوٹھے میں ١ ؎۔
It was narrated that Ali said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade me to wear a ring on this and on this," meaning the little finger and the thumb. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: تخریج حدیث سے ظاہر ہوا کہ اصل حدیث: درمیانی انگلی اور اس سے ملی انگلی میں پہننے سے متعلق ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٢٨ (٥٨٣٨ تعلیقاً ) صحیح مسلم/اللباس ١٦ (٢٠٨٧)، سنن ابی داود/الخاتم ٤ (٤٢٢٥)، سنن الترمذی/اللباس ٤٤ (١٧٨٦)، سنن النسائی/الزینة ٥٠ (٥٢١٤)، الزینة من المجتبيٰ ٥٢ (٥٢٨٨، ٥٢٨٩) (تحفة الأشراف: ١٠٣١٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٨، ١٣٤، ١٣٨) (شاذ) (يَعني الخنصر والإبهام کا لفظ منکر ہے، محفوظ و ثابت لفظ یہ ہے: في هذه وفي هذه ۔ شک عاصم قال: فأوما إلي الوسطى والتي اس میں یا اس میں، عاصم کو شک ہے، پھر درمیان انگلی کی طرف اشارہ کیا، اور جو اس سے ملی ہوئی ہے )
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو ١ ؎۔
It was narrated from Ali bin Abu Tâlib that the Prophet ﷺ Said: “The angels do not enter house in which there is a dog or an image." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی رحمت کے فرشتے جو مسلمان اور سچے مومنوں کے پاس شوق اور محبت کی وجہ سے آتے ہیں وہ اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں کتا یا مورت ہو، مطلب یہ ہے کہ فرشتوں کو ان چیزوں سے نفرت ہے اور اس کا یہ قطعاً مطلب نہیں کہ جہاں کتا یا مورت ہو وہاں فرشتہ مطلق داخل ہی نہیں ہوتا، اگرچہ اس کو حکم دے دیا گیا ہو، ورنہ لازم آتا ہے جس کوٹھری میں کتا یا تصویر ہو وہاں کوئی نہ مرے کیونکہ موت کا فرشتہ اس کوٹھری کے اندر نہ آسکے گا، واضح رہے یہ فرشتوں کے شوق و محبت سے اور اللہ کی رحمت لے کر گھر میں داخل ہونے کی بات ہے ورنہ جب ان کو حکم الہی ہوتا ہے تو کتا اور مورت کیا پاخانہ اور غلاظت خانہ میں بھی جا کر روح قبض کرلیتے ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک ایسے وقت میں آنے کا وعدہ کیا جس میں وہ آیا کرتے تھے، لیکن آنے میں دیر کی تو نبی اکرم ﷺ باہر نکلے، دیکھا تو جبرائیل (علیہ السلام) دروازے پر کھڑے ہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: آپ کو اندر آنے سے کس چیز نے باز رکھا؟ فرمایا: گھر میں کتا ہے، اور ہم لوگ ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتے اور تصویریں ہوں ۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "Jibril (A.S) promised the Messenger of Allah ﷺ that he would corne to him at a certain hour, but he was late. The Prophet ﷺ went out and there was Jibril standing at the door. He said: What kept you from entering? He said: There is a dog in the house, and we do not enter a house in which there is a dog or an image:" (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٧٦١، ومصباح الزجاجة: ١٢٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٤٢) (صحیح )
ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر آپ کو بتایا کہ اس کا شوہر کسی جنگ میں گیا ہوا ہے، اور اپنے گھر میں کھجور کے درخت کی تصویر بنانے کی اجازت طلب کی، تو آپ ﷺ نے اسے منع فرما دیا یا روک دیا۔
It was narrated from Abu Umâmah that a woman came to the Prophet ﷺ and told him that her husband was away on some military campaign. She asked him for permission to make an image of a palm tree in her house, and he did not let her, or he forbade her.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٨٧٣) (ضعیف) (سند میں عفیر بن معدان ضعیف راوی ہیں )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے اپنے روشن دان پر پردہ ڈالا یعنی اندر سے، پردے میں تصویریں تھیں، جب نبی اکرم ﷺ تشریف لائے، تو آپ نے اسے پھاڑ ڈالا، میں نے اس سے دو تکیے بنا لیے پھر میں نے دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ ان میں سے ایک تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "I covered a small room closet of mine, meaning, from the inside, with a curtain on which there were images. When the Prophet ﷺ came, he tore it down, so I made two pillows from it, and I saw the Prophet ﷺ reclining on one of them." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے نقشی تصویر کی بھی حرمت نکلتی ہے، اور بعضوں نے کہا آپ کا یہ فعل حرمت کی وجہ سے نہ تھا، بلکہ آپ ﷺ نے نبوت کے خاندان میں دنیا کی زیب و زینت اور آرائستگی کو برا سمجھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٤٢٧، ومصباح الزجاجة: ١٢٦٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المظالم ٣٢ (٢٤٧٩، ٢٤٧٦)، اللباس ٩١ (٥٩٥٤، ٥٩٥٥)، الأدب ٧٥ (٦١٠٩)، (بدون ذکرالصلاة في المواضع الثلاثة) صحیح مسلم/اللباس ٢٦ (٢١٠٧)، سنن النسائی/القبلة ١٢ (٧٦٢)، الزینة من المجتبیٰ ٥٧ (٥٣٥٦)، مسند احمد (٦/١٧٤)، سنن الدارمی/الاستئذان ٣٣ (٢٧٠٤) (حسن صحیح) (سند میں اسامہ بن زید ضعیف ہے، لیکن دوسرے طرق سے صحیح ہے، کمافی التخریج )
ابوریحانہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ چیتوں کی کھال پر سواری کرنے سے منع فرماتے تھے۔
It Was narrated that Amir Al-Hajri said: "I heard Abu Raihanah, the Companion of the Prophet ﷺ say: The Prophet ﷺ used to forbid riding on leopard skins:" (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ١١ (٤٠٤٩)، سنن النسائی/الزینة ٢٠ (٥٠٩٤)، ٢٧ (٥١١٣، ٥١١٤، ٥١١٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٣٤)، سنن الدارمی/الاستئذان ٢٠ (٢٦٩٠) (حسن صحیح) (بعد کی حدیث معاویہ ؓ سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
ابن سلامہ سلمی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں آدمی کو اپنی ماں کے ساتھ اچھے سلوک اور برتاؤ کرنے کی وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اپنی ماں کے ساتھ اچھے سلوک اور برتاؤ کرنے کی وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اپنی ماں کے ساتھ اچھے سلوک اور برتاؤ کرنے کی وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اپنے باپ کے ساتھ اچھے سلوک اور برتاؤ کرنے کی وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اپنے مولیٰ ١ ؎ کے ساتھ جس کا وہ والی ہو اچھے سلوک اور برتاؤ کرنے کی وصیت کرتا ہوں، خواہ اس کو اس سے تکلیف ہی کیوں نہ پہنچی ہو ٢ ؎۔
It was narrated that Abu Salamah As-Sulami said that the Prophet ﷺ said: "I enjoin each one to honor his mother, I enjoin each one to honor his mother, I enjoin each one to honor his mother (three times), I enjoin each one to honor his father, I enjoin each one to honor his guardian who is taking care of him, even if he is causing him some annoyance."(Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: عربی میں مولیٰ کا لفظ آزاد کردہ غلام یا دوست یا رشتے دار یا حلیف سبھی معنوں میں مستعمل ہے، یہاں کوئی بھی معنی مراد لے سکتے ہیں۔ ٢ ؎: اگرچہ اس سے تکلیف پہنچے لیکن اس کے عوض میں تکلیف نہ دے جواں مردی یہی ہے کہ برائی کے بدلے نیکی کرے، اور جو اپنے سے رشتہ توڑے اس سے رشتہ جوڑے جیسے دوسری حدیث میں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠٥٤، ومصباح الزجاجة: ١٢٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣١١) (ضعیف) (سند میں شریک بن عبد اللہ القاضی اور عبیداللہ بن علی دونوں ضعیف ہیں )