Sunan Abu Dawoodسنن ابو داؤد

All 5,295 hadiths in order · Page 199 of 265

3976Sunan Abu Dawoodضعیف

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 0 وَالْعَيْنُ بِالْعَيْنِ 0.

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے : والعين بالعين (رفع کے ساتھ) پڑھا ١ ؎۔

Narrated Anas ibn Malik: The Messenger of Allah ﷺ red the verse: eye for eye (al-aynu bil-ayn).

Notes · وضاحت
١ ؎ : جیسا کہ کسائی کی قرات ہے اور اکثر کے نزدیک نصب کے ساتھ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/القراء ات ١ (٢٩٢٩) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢١٥) (ضعیف) (ابوعلی بن یزید مجہول راوی ہیں )
3977Sunan Abu Dawoodضعیف

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنْالزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ: 0 وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنُ بِالْعَيْنِ 0.

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ وکتبنا عليهم فيها أن النفس بالنفس والعين بالعين اور ہم نے یہودیوں کے ذمہ تورات میں یہ بات مقرر کردی تھی کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ ہے (سورۃ المائدہ : ٤٥) (عین کے رفع کے ساتھ) پڑھا۔

Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ read the verse: We ordained therein for them: Life for life and eye for eye (an-nafsa bin-nafsi wal-aynu bil-ayn).

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٢) (ضعیف )
3978Sunan Abu Dawoodصحیح

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ الْعَوْفِيِّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ سورة الروم آية 54، فَقَالَ: 0 مِنْ ضُعْفٍ 0 قَرَأْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا قَرَأْتَهَا عَلَيَّ، فَأَخَذَ عَلَيَّ كَمَا أَخَذْتُ عَلَيْكَ.

عطیہ بن سعد عوفی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر (رض) کے سامنے : الله الذي خلقکم من ضعف اللہ وہی ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا (سورۃ الروم : ٥٤) (ضاد کے زبر کے ساتھ) پڑھا تو انہوں نے کہا مِنْ ضُعْفٍ (ضاد کے پیش کے ساتھ) ہے میں نے بھی اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے سامنے پڑھا تھا جیسے تم نے پڑھا ہے تو آپ ﷺ نے میری گرفت فرمائی جیسے میں نے تمہاری گرفت کی ہے۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Atiyyah ibn Saad al-Awfi said: I recited to Abdullah ibn Umar the verse: It is Allah Who created you in a state of (helplessness) weakness (min daf). He said: (Read) min duf. I recited it to the Messenger of Allah ﷺ as you recited it to me, and he gripped me as I gripped you.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/القراء ات سورة الروم ٤ (٢٩٣٦) ، (تحفة الأشراف : ٧٣٣٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٥٨) (حسن )
3979Sunan Abu Dawoodصحیح

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ عَقِيلٍ، عَنْ هَارُونَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ ضُعْفٍ.

ابو سعید خدری (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے مِنْ ضُعْفٍ روایت کی ہے۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Prophet ﷺ read the verse mentioned above, min duf.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٤٢١١) (حسن )
3980Sunan Abu Dawoodصحیح

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَسْلَمَ الْمِنْقَرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، قَالَ: قَالَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: 0 بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْتَفْرَحُوا 0، قَالَ أَبُو دَاوُد: بِالتَّاءِ.

عبدالرحمٰن بن ابزی کہتے ہیں کہ ابی بن کعب (رض) نے بفضل الله وبرحمته فبذلک فلتفرحوا لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے اس انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہیئے (سورۃ یونس : ٥٨) پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : (تاء کے ساتھ) ہے۔

Narrated Ubayy bin Kab (RA) : Say, in the bounty of Allah, and in His mercy- in that let you rejoice.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٥٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٢٣) (حسن صحیح )
3981Sunan Abu Dawoodصحیح

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ الْأَجْلَحِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيٍّ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ: 0 بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْتَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا تَجْمَعُونَ 0.

ابی (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بفضل الله وبرحمته فبذلک فليفرحواء هو خير مما تجمعون پڑھا ١ ؎۔

Narrated Ibn Abzi (RA) : Ubayy ibn Kab) said: The Prophet ﷺ read the verse: Say: In the bounty of Allah and in His mercy--in that let you rejoice: that is better than the wealth you hoard.

Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی دونوں جگہ تاء کے ساتھ پڑھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥٧) (حسن صحیح )
3982Sunan Abu Dawoodصحیح

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ: أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ: 0 إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ 0.

اسماء بنت یزید (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو إنه عمل غير صالح (بصیغہ ماضی) یعنی : اس نے ناسائشہ کام کیا (سورۃ ہود : ٤٦) پڑھتے سنا ہے۔

Narrated Asma daughter of Yazid: She heard the Prophet ﷺ read the verse: He acted unrighteously. (innahu amila ghayra salih).

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/القراء ات سورة ھود ٢ (٢٩٣١) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٦٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٩٤، ٣٢٢، ٤٥٤، ٤٥٩، ٤٦٠) (صحیح )
3983Sunan Abu Dawoodصحیح

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ: إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ سورة هود آية 46، فَقَالَتْ: قَرَأَهَا: 0 إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ 0، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ هَارُونُ النَّحْوِيُّ، وَمُوسَى بْنُ خَلَفٍ، عَنْ ثَابِتٍ، كَمَا قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ.

شہر بن حوشب کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین ام سلمہ (رض) سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ آیت کریمہ إنه عمل غير صالح کیسے پڑھتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : آپ اسے إنه عمل غير صالح (فعل ماضی کے ساتھ) پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نیز اسے ہارون نحوی اور موسیٰ بن خلف نے ثابت سے ایسے ہی روایت کیا ہے جیسے عبدالعزیز نے کہا ہے۔

Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : Shahr ibn Hawshab said: I asked Umm Salamah (RA) : How did the Messenger of Allah ﷺ read this verse: For his conduct is unrighteous (innahu amalun ghayru salih. She replied: He read it: He acted unrighteously (innahu amila ghayra salih). Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Harun al-Nahwi and Musa bin Khalaf from Thabit as reported by the narrator Abd al-Aziz.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/القراء ات سورة ھود ٢ (٢٩٣٢) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٦٨) (صحیح )
3984Sunan Abu Dawoodصحیح

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَعَا بَدَأَ بِنَفْسِهِ، وَقَالَ: رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى مُوسَى لَوْ صَبَرَ لَرَأَى مِنْ صَاحِبِهِ الْعَجَبَ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي سورة الكهف آية 76 طَوَّلَهَا حَمْزَةُ.

ابی بن کعب (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ جب دعا فرماتے تو پہلے اپنی ذات سے شروعات کرتے یوں کہتے : اللہ کی رحمت ہو ہم پر اور موسیٰ پر اگر وہ صبر کرتے تو اپنے ساتھی (خضر) کی طرف سے عجیب عجیب چیزیں دیکھتے، لیکن انہوں نے تو کہہ دیا إن سألتک عن شىء بعدها فلا تصاحبني قد بلغت من لدني اگر اب اس کے بعد میں آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو بیشک آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا یقیناً آپ میری طرف سے حد عذر کو پہنچ چکے (سورۃ الکہف : ٧٦) ۔ حمزہ نے لدنی کے نون کو کھینچ کر بتایا کہ آپ یوں پڑھا کرتے۔

Narrated Ubayy ibn Kab (RA) :: When the Messenger of Allah ﷺ prayed, he began with himself and said: May the mercy of Allah be upon us and upon Moses. If he had patience, he would have seen marvels from his Companion. But he said: (Moses) said: If ever I ask thee about anything after this, keep me not in they company: then wouldst thou have received (full) excuse from my side. Hamzah lengthened it.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/القراء ات سورة الکھف ٣ (٢٩٣٣) ، الدعوات ٩ (٣٣٨٥) ، (تحفة الأشراف : ٤١) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/العلم ٤٤ (١٢٢) ، أحادیث الأنبیاء ٢٧ (٣٤٠٠) ، تفسیر القرآن ٢ (٤٧٢٥) ، صحیح مسلم/الفضائل ٤٦ (٢٣٨٠) (صحیح) دون قولہ : ولکنہ قال …
3985Sunan Abu Dawoodضعیف

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَارِيَةِ الْعَبْدِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَنَّهُ قَرَأَهَا قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي سورة الكهف آية 76 وَثَقَّلَهَا.

ابی بن کعب (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے قد بلغت من لدني (نون کی تشدید کے ساتھ پڑھا) اور انہوں نے اسے مشدّد پڑھ کے بتایا۔

Narrated Ubayy ibn Kab (RA) : The Prophet ﷺ read the Quranic verse: Thou hast received (full) excuse from me (min ladunni) and put tashdid (doubling of consonants) on nun (n).

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٤٢) (ضعیف )
3986Sunan Abu Dawoodضعیف

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْعُودٍ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ، عَنْ مِصْدَعٍ أَبِي يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: أَقْرَأَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ كَمَا أَقْرَأَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ سورة الكهف آية 86مُخَفَّفَةً.

مصدع ابویحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے سنا وہ کہہ رہے تھے مجھے ابی ابن کعب (رض) نے في عين حمئة دلدل کے چشمہ میں (سورۃ الکہف : ٨٦) تخفیف کے ساتھ پڑھایا جس طرح رسول اللہ ﷺ نے انہیں مخفف پڑھایا تھا۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Ubayy ibn Kab made me read the following verse as the Messenger of Allah ﷺ made him read: in a spring of murky water (fi aynin hamiatin) with short vowel a after h.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/القراء ات سورة الکھف ٣ (٢٩٣٤) ، (تحفة الأشراف : ٤٣) (ضعیف )
3987Sunan Abu Dawoodضعیف

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو النَّمَرِيَّ، أَخْبَرَنَا هَارُونُ، أَخْبَرَنِي أَبَانُ بْنُ تَغْلِبَ، عَنْ عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ عِلِّيِّينَ لَيُشْرِفُ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ فَتُضِيءُ الْجَنَّةُ لِوَجْهِهِ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ، قَالَ: وَهَكَذَا جَاءَ الْحَدِيثُ دُرِّيٌّ مَرْفُوعَةٌ الدَّالُ لَا تُهْمَزُ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ لَمِنْهُمْ وَأَنْعَمَا.

ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : علیین والوں میں سے ایک شخص جنتیوں کو جھانکے گا تو جنت اس کے چہرے کی وجہ سے چمک اٹھے گی گویا وہ موتی سا جھلملاتا ہوا ستارہ ہے ۔ راوی کہتے ہیں : اسی طرح دري دال کے پیش اور یا کی تشدید کے ساتھ حدیث وارد ہے دال کے زیر اور ہمزہ کے ساتھ نہیں اور آپ نے فرمایا ابوبکرو عمر (رض) بھی انہیں میں سے ہیں بلکہ وہ دونوں ان سے بھی بہتر ہیں۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Prophet ﷺ said: A man from the Illiyyun will look downwards at the people of Paradise and Paradise will be glittering as if it were a brilliant star. He (the narrator) said: In this way the word durri (brilliant) occurs in this tradition, i. e. the letter dal (d) has short vowel u and it has no hamzah (). Abu Bakr and Umar will be of them and will have some additional blessings.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٤١٩٠) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/المناقب ١٤ (٣٦٥٨) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (٩٦) ، مسند احمد (3/٥٠، ٦١) (ضعیف) (دوسرے الفاظ سے یہ صحیح ہے )
3988Sunan Abu Dawoodصحیح

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ الْحَكَمِ النَّخَعِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو سَبْرَةَ النَّخَعِيُّ،عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُسَيْكٍ الْغُطَيْفِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنَا عَنْ سَبَأٍ مَا هُوَ أَرْضٌ أَمْ امْرَأَةٌ ؟ فَقَالَ: لَيْسَ بِأَرْضٍ وَلَا امْرَأَةٍ وَلَكِنَّهُ رَجُلٌ وَلَدَ عَشْرَةً مِنْ الْعَرَبِ فَتَيَامَنَ سِتَّةٌ وَتَشَاءَمَ أَرْبَعَةٌ، قَالَ: عُثْمَانُ الْغَطَفَانِيُّ مَكَانَ الْغُطَيْفِيِّ، وَقَالَ: حَدَّثَنَا: الْحَسَنُ بْنُ الْحَكَمِ النَّخَعِيُّ.

فروہ بن مسیک غطیفی (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اس میں ہے تو ہم میں ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! سبا کے متعلق مجھے بتائیے کہ وہ کیا ہے ؟ کسی کا نام ہے یا کوئی عورت ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ نہ کوئی سر زمین ہے نہ عورت ہے بلکہ ایک شخص کا نام ہے جس کے دس عرب لڑکے ہوئے جس میں سے چھ نے یمن میں رہائش اختیار کرلی اور چار نے شام میں ١ ؎۔ عثمان نے غطیفی کے بجائے غطفانی کہا ہے اور حدثني الحسن بن الحکم النخعي کے بجائے حدثنا الحسن بن الحکم النخعي کہا ہے۔

Narrated Farwah ibn Musayk al-Ghutayfi (RA) : I came to the Prophet ﷺ . He then narrated the rest of the tradition. A man from the people said: Messenger of Allah! tell us about Saba; what is it: land or woman? He replied: It is neither land nor woman; it is a man to whom ten children of the Arabs were born: six of them lived in the Yemen and four lived in Syria. The narrator Uthman said al-Ghatafani instead of al-Ghutayfi. He said: It has been transmitted to us by al-Hasan ibn al-Hakam an-Nakhai.

Notes · وضاحت
١ ؎ : اس طرح رفتہ رفتہ ان کی اولاد بڑھی اور وہ ایک قوم بن گئی پھر وہ قوم جس ملک میں رہتی تھی اسے بھی لوگ سبا کہنے لگے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر القرآن سورة سبأ ١ (٣٢٢٢) ، (تحفة الأشراف : ١١٠٢٣) (حسن صحیح )
3989Sunan Abu Dawoodصحیح

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو مَعْمَرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ إِسْمَاعِيل: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رِوَايَةً فَذَكَرَ حَدِيثَ الْوَحْيِ قَالَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ سورة سبأ آية 23.

اس سند سے ابوہریرہ (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے وحی کی حدیث ١ ؎ روایت کی اس کے بعد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے قول حتى إذا فزع عن قلوبهم یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کردی جاتی ہے (سورۃ سبا : ٢٣) ٢ ؎ سے یہی مراد ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ as saying - the narrator Ismail transmitted it from Abu Hurairah, and mentioned the tradition about the coming down of revelation-: So far (is this the case) that when terror is removed from their hearts.

Notes · وضاحت
١ ؎ : صحیح بخاری کی کتاب التوحید کا سیاق یہ ہے : إذا قضی اللہ الأمر في السماء ضربت الملائکة بإجنحتہا خضعانا لقولہ کأنہ سلسلة علی صفوان۔ قال علي بن المدیني : وقال غیرہ : صفوان ینفذہم ذلک ۔ فإذا فزع عن قلوبہم قالوا : ماذا قال ربکم ؟ قالوا : الحق وہو العلي الکبیر ۔ ٢ ؎ : فُزِّع قراء کے نزدیک راء معجمہ اور عین مہملہ کے ساتھ ہے لیکن ابوہریرہ (رض) اسے راء مہملہ اور عین معجمہ کے ساتھ پڑھتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة الحجر ١ (٤٧٠١) ، التوحید ٣٢ (٧٤٨١) ، سنن الترمذی/التفسیر ٣٥ (٣٢٢٣) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٣ (١٩٤) ، (تحفة الأشراف : ١٤٢٤٩) (صحیح )
3990Sunan Abu Dawoodضعیف

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ يَذْكُرُ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 0 بَلَى قَدْ جَاءَتْكِ آيَاتِي فَكَذَّبْتِ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتِ وَكُنْتِ مِنَ الْكَافِرِينَ 0، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مُرْسَلٌ الرَّبِيعُ لَمْ يُدْرِكْ أُمَّ سَلَمَةَ.

ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی قرآت بلى قد جاء تک آياتي فکذبت بها واستکبرت وکنت من الکافرين ہاں بیشک تیرے پاس میری آیتیں پہنچ چکی تھیں جنہیں تو نے جھٹلایا اور غرور و تکبر کیا اور تو تھا ہی کافروں میں سے (سورۃ الزمر : ٥٩) ١ ؎ (واحد مونث حاضر کے صیغہ کے ساتھ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ مرسل ہے، ربیع نے ام سلمہ (رض) کو نہیں پایا ہے۔

Narrated Umm Salamah, wife of the Prophet ﷺ : The reading of the following verse by the Prophet ﷺ goes: Nay, but there came to thee (jaatki) my signs, and thou didst reject them (fakadhdhabti biha) ; thou wast haughty (wastakbarti) and became one of those who reject Faith (wa kunti). Abu Dawud said: This is a mursal tradition, i. e. the link of the Companion has been omitted, for the narrator al-Rabi did not meet Umm Salamah.

Notes · وضاحت
وضاحت ١ ؎ : جمہور کی قرات واحد مذکر حاضر کے صیغہ کے ساتھ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٨٥٠) (ضعیف الإسناد )
3992Sunan Abu Dawoodصحیح

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ ابْنُ حَنْبَلٍ: لَمْ أَفْهَمْهُ جَيِّدًا، عَنْ صَفْوَانَ، قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ ابْنُ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقْرَأُ: وَنَادَوْا يَا مَالِكُ سورة الزخرف آية 77، قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي بِلَا تَرْخِيمٍ.

یعلیٰ بن امیہ۔ منیہ۔ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو منبر پر ونادوا يا مالک اور پکار پکار کہیں گے اے مالک ! (سورۃ الزخرف : ٧٧) پڑھتے سنا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یعنی بغیر ترخیم کے۔

Safwan bin Yala quoting his father said: I heard the Prophet ﷺ read on the pulpit the verse: They will cry: O Malik. Abu Dawud said: That is, without shortening the name (Malik).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٧ (٣٢٣٠) ، و تفسیر القرآن ١ (٣٢٦٦) ، صحیح مسلم/الجمعة ١٣ (٨٧١) ، سنن الترمذی/الجمعة ١٣ (٥٠٨) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٣٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٢٣) (صحیح )
3993Sunan Abu Dawoodصحیح

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 0 إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ 0.

عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے مجھے إني أنا الرزاق ذو القوة المتين ١ ؎ پڑھایا ہے۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Messenger of Allah ﷺ made me read the verse It is I who give (all) sustenance, Lord of power, steadfast (for ever).

Notes · وضاحت
١ ؎ : مشہور قرات إن الله هو الرزاق ذو القوة المتين ہے یعنی اللہ تعالیٰ تو خود ہی سب کا روزی رساں ، توانائی والا اور زور آور ہے (سورۃ الذاریات : ٥٨ )
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/القراء ات سورة الذاریات ٨ (٢٩٤٠) ، (تحفة الأشراف : ٩٣٨٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٩٤، ٣٩٧، ٤١٨) (صحیح )
3994Sunan Abu Dawoodصحیح

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَؤُهَا: فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15 يَعْنِي: مُثَقَّلًا، قَالَ أَبُو دَاوُد: مَضْمُومَةَ الْمِيمِ مَفْتُوحَةَ الدَّالِ مَكْسُورَةُ الْكَافِ.

عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فهل من مدکر تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا (سورۃ الذاریات : ٥٨) (یعنی دال کو مشدد) پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مُدَّكِّرٍ میم کے ضمہ دال کے فتحہ اور کاف کے کسرہ کے ساتھ ہے۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Prophet ﷺ used to read the verse Is there any that will receive admonition (muddakir)? that is with doubling of consonant [ (dal) (d)]. Abu Dawud said: The word muddakir may be pronounced as mim (m) with a short vowel u. (dal) (d) with a short vowel and kaf (k) with a short vowel i.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٣ (٣٣٤١) ، و تفسیر القرآن ٢ (٤٨٧٤) ، صحیح مسلم/المسافرین ٥٠ (٨٢٣) ، سنن الترمذی/القراء ات سورة القمر ٥ ( ٢٩٣٧) ، (تحفة الأشراف : ٩١٧٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٩٥، ٤٠٦، ٤١٣، ٤٣١، ٤٣٧، ٤٦١) (صحیح )
3991Sunan Abu Dawoodصحیح

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى النَّحْوِيُّ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا: 0 فَرُوحٌ وَرَيْحَانٌ 0.

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فروح وريحان تو عیش و آرام ہے (سورۃ الواقعہ : ٨٩) ١ ؎ (راء کے پیش کے ساتھ) پڑھتے ہوئے سنا۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ read: (There is for him) Rest and satisfaction (faruhun wa rayhan).

Notes · وضاحت
١ ؎ : جمہور کی قرات راء کے زبر کے ساتھ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/القراء ات سورة الواقعة ٦ (٢٩٣٨) ، (تحفة الأشراف : ١٦٢٠٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٦٤، ٢١٣) (صحیح الإسناد )
3995Sunan Abu Dawoodضعیف

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ: 0 أَيَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ 0.

جابر (رض) کہتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو يحسب أن ماله أخلده ١ ؎ پڑھتے دیکھا ہے۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : I saw the Prophet ﷺ reading the verse; does he think that his wealth would make him last for ever?

Notes · وضاحت
١ ؎ : مشہور قر a ت بغیر ہمزہ استفہام کے ہے یعنی کیا وہ گمان کرتا ہے کہ اس کا مال ہمیشہ رہے گا (سورۃ الہمزۃ : ٣ )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٠٢٦) (ضعیف الإسناد )