ابوقلابہ ایک ایسے شخص سے جس کو رسول اللہ ﷺ نے پڑھایا ہے روایت کرتے ہیں (کہ یہ آیت کریمہ اس طرح ہے) فيومئذ لا يعذب عذابه أحد * ولا يوثق وثاقه أحد ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : کچھ لوگوں نے خالد اور ابوقلابہ کے درمیان ایک مزید واسطہ داخل کیا ہے۔
Narrated Abu Qilabah (RA) : That the Prophet ﷺ made a man read the verse: For, that day His chastisement will be such as none (else) can be chastised. And his bonds will be such as none (other) can be bound. Abu Dawud said: According to some (scholars), there is a narrator between the narrator Khalid and Abu Qilabah.
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی صیغہ مجہول کے ساتھ جب کہ مشہور قرات دونوں میں صیغہ معروف کے ساتھ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبودواد، (تحفة الأشراف : ١٥٦٠٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٧١) (ضعیف الإسناد )
ابوقلابہ کہتے ہیں : مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی ہے جسے نبی اکرم ﷺ نے پڑھایا ہے یا جسے ایک ایسے شخص نے پڑھایا ہے جسے نبی اکرم ﷺ نے پڑھا یا ہے کہ فيومئذ لا يعذب (مجہول کے صیغہ کے ساتھ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عاصم، اعمش، طلحہ بن مصرف، ابوجعفر یزید بن قعقاع، شیبہ بن نصاح، نافع بن عبدالرحمٰن، عبداللہ بن کثیر داری، ابوعمرو بن علاء، حمزہ زیات، عبدالرحمٰن اعرج، قتادہ، حسن بصری، مجاہد، حمید اعرج، عبداللہ بن عباس اور عبدالرحمٰن بن ابی بکر نے لا يعذب ولا يوثق صیغہ معروف کے ساتھ پڑھا ہے مگر مرفوع روایت میں يعذب (ذال کے فتحہ کے ساتھ) ہے۔
Narrated Abu Qilabah (RA) : A man whom the Prophet ﷺ made the following verse read informed me, or he was informed by a man whom a man made the following verse read through a man whom the Prophet ﷺ made the following verse read: For, that day His chastisement will be such as none (else) can be inflicted (la yuadhdhabu) Abu Dawud said: Asim, al-Amash, Talhah bin Musarrif, Abu Jafar Yazid bin al-Qaqa, Shaibah bin Nassah, Nafi bin Abdur-Rahman, Abdullah bin Kathir al-Dari, Abu Amr bin al-Ala, Hamzat al-Zayyat, Abdur-Rahman al-Araj, Qatadah, al-Hasan al-Basri, Mujahid, Hamid al=Araj, Abdullah bin Abbas and Abdur-Rahman bin Abi Bakr recited: For, that day His chastisement will be such as none (else) can inflict (la yaadhdhibu), and His bonds will be such as none (other) can bind (wa la yathiqu), except the verse mentioned in this tradition from the Prophet ﷺ . It has een read yuadhdhabu with short vowel a in passive voice.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٥٦٠٨) (ضعیف الإسناد )
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ایک حدیث بیان فرمائی جس میں جبرائیل و میکال کا ذکر تھا تو آپ ﷺ نے جبرائل و میکائل پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : خلف کا بیان ہے میں چالیس سال سے برابر لکھ رہا ہوں لیکن جبرائل و میکائل لکھنے میں مجھے جتنی دشواری ہوئی ہے کسی اور چیز میں نہیں۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Messenger of Allah ﷺ related a tradition in which he mentioned the words Jibril and Mikal and he pronounced them Jibraila wa Mikaila. Abu Dawud said: Khalaf said: I did not put the pen aside from writing letters (huruf) for forty years: nothing tired me (or made me incapable of writing), even Jibril and Mikail did not tire me.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٤٢٠٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٩) (ضعیف الإسناد )
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے اس فرشتہ کا ذکر کیا جو صور لیے کھڑا ہے تو فرمایا : اس کے داہنی جانب جبرائل ہیں اور بائیں جانب میکائل ہیں ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Messenger of Allah ﷺ mentioned the name of the one who will sound the trumpet (sahib as-sur) and said: On his right will be Jibrail and on his left will be Mikail.
عبدالرزاق کہتے ہیں ہمیں معمر نے زہری کے واسطہ سے خبر دی ہے اور معمر نے کبھی کبھی زہری کے بجائے ابن مسیب کا ذکر کیا ہے، وہ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ ابوبکر و عمر اور عثمان مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ پڑھتے تھے اور مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ سب سے پہلے مروان نے پڑھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ مرسل سند زہری کی حدیث سے جو انس (رض) سے مروی ہے نیز زہری کی اس حدیث سے جو سالم سے مروی ہے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں زیادہ صحیح ہے۔
Narrated Ibn al-Musayyab (RA) : The Prophet ﷺ , Abu Bakr, Umar and Uthman used to read maliki yawmid-din (master of the Day of Judgment). The first to read maliki yawmid-din was Marwan. Abu Dawud said: This is sounder that the tradition which transmitted by al-Zuhri from Anas, and al-Zuhri from Salim, from his father (Ibn Umar).
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے ذکر کیا یا اس کے علاوہ راوی نے کوئی اور کلمہ کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی قرآت یوں ہوتی بسم الله الرحمن الرحيم * الحمد لله رب العالمين * الرحمن الرحيم * ملك يوم الدين آپ ہر ہر آیت الگ الگ پڑھتے تھے (ایک آیت کو دوسری آیت میں ملاتے نہیں تھے) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد کو کہتے سنا ہے کہ پرانی قرآت مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہے۔
Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to recite: In the name of Allah, the Cherisher and Sustainer of the worlds; most Gracious, most Merciful; Master of the Day of Judgment, breaking its recitation into verses, one after another. Abu Dawud said: I heard Ahmad (b. Hanbal) say: The early reading is: Maliki yawmil-din.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/القراء ات سورة الفاتحة ١ (٢٩٢٧) ، (تحفة الأشراف : ١٨١٨٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٠٢، ٣٢٣) (صحیح )
ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کا ردیف تھا آپ ایک گدھے پر سوار تھے اور غروب شمس کا وقت تھا، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ کہاں ڈوبتا ہے ؟ میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : فإنها تغرب في عين حامية یہ ایک گرم چشمہ میں ڈوبتا ہے (سورۃ الکہف : ٨٦) ١ ؎۔
Narrated Abu Dharr (RA) : I was sitting behind the Messenger of Allah ﷺ who was riding a donkey while the sun was setting. He asked: Do you know where this sets ? I replied: Allah and his Messenger know best. He said: It sets in a spring of warm water (Hamiyah).
Notes · وضاحت
١ ؎ : مشہور قرات حَمِئَةٍ ہے یعنی کالی مٹی کے چشمہ میں ڈوبتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٤ (٣١٩٩) ، و تفسیر القرآن ٣٦ (٤٨٠٣) ، والتوحید ٢٢ (٧٤٢٤) ، صحیح مسلم/الإیمان ٧٢ (١٥٩) ، سنن الترمذی/الفتن ٢٢ (٢١٨٦) ، تفسیر القرآن سورة یٰسن ٣٧ (٣٢٢٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٩٩٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٤٥، ١٥٢، ١٥٨ ع ١٦٥، ١٧٧) (صحیح )
واثلہ بن الاسقع بکری (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس مہاجرین کے صفے میں آئے تو آپ سے ایک شخص نے پوچھا : قرآن کی سب سے بڑی آیت کون سی ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : الله لا إله إلا هو الحى القيوم لا تأخذه سنة ولا نوم اللہ ہی معبود برحق ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ زندہ ہے اور سب کو تھامنے والا ہے، اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند (سورۃ البقرہ : ٢٥٥) ہے۔
Narrated Ibn al-Asqa (RA) : The Prophet ﷺ came to them in the swelling place of immigrants and a man asked him: Which is the greatest verse of the Quran ? The Prophet ﷺ replied: Allah, there is no god but He - the Living, the Self-Subsisting Eternal. No slumber can seize Him nor sleep.
عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے هَيْتَ لَكَ ١ ؎ پڑھا تو ابو وائل شقیق بن سلمہ نے عرض کیا : ہم تو اسے هِئْتُ لَكَ پڑھتے ہیں تو ابن مسعود (رض) نے کہا : جیسے مجھے سکھایا گیا ہے اسی طرح پڑھنا مجھے زیادہ محبوب ہے۔
Narrated Shariq: Ibn Masud said read the verse: Now come, thou (haita laka). Then Shariq said: We read it, hitu laka (I am prepared for thee). Ibn Masud said: I read it as I have been taught ; it is dearer to me.
Notes · وضاحت
١ ؎ : معنی ہے آجاؤ (سورۃ یوسف : ٣) اور هئتُ کے معنیٰ ہے میں تیار ہوں۔
ابو وائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں عبداللہ بن مسعود (رض) سے کہا گیا کہ کچھ لوگ اس آیت کو وَقَالَتْ هِيتَ لَكَ پڑھتے ہیں تو انہوں نے کہا : جیسے مجھے سکھایا گیا ہے ویسے ہی پڑھنا مجھے زیادہ پسند ہے وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ۔
Narrated Shariq: Abdullah (bin Masud) was told that the people had read this verse: She said: Now come, thou (hita laka). He said: I read it as I have been taught ; it is dearer to me. It goes wa qalat haita laka (She said: Now come thou).
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ عزوجل نے بنی اسرائیل سے فرمایا : ادخلوا الباب سجدا وقولوا حطة تغفر لکم خطاياكم اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو و اور زبان سے حطة کہو تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے (سورۃ البقرہ : ٥٨) ١ ؎ (بصیغہ واحد مونث غائب مضارع مجہول) ۔
Narrated Abu Saeed Al Khudri (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Allah, the Exalted, said to the children of Israel: . . . but enter the gate with humility, in posture and in words, and you will be forgiven your faults (tughfar lakum).
Notes · وضاحت
١ ؎ : تُغْفَرُ بصیغہ واحد مؤنث غائب مضارع مجہول مشہور قرات جمع متکلم مضارع معروف کے صیغے کے ساتھ ہے۔
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر وحی اتری تو آپ نے ہمیں سورة أنزلناها وفرضناها یہ وہ سورت ہے جو ہم نے نازل فرمائی ہے اور مقرر کردی ہے (سورۃ النور : ١) پڑھ کر سنایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یعنی مخفف پڑھا ١ ؎ یہاں تک کہ ان آیات پر آئے۔
Narrated Aisha (RA) : The revelation came down to Messenger of Allah ﷺ and he recited to is: A surah which We have sent down and which We have ordained (faradnaha) Abu Dawud said: The letter ra (r) is the word faradnaha has short vowel a (with out doubling of consonant r), and then he reached the verses after this verse.
Notes · وضاحت
١ ؎ : مراد فرضناها کی راء ہے، جمہور کی قرات تخفیف راء کے ساتھ ہے، اور ابوعمرو اور ابن کثیر نے اسے تشدید راء کے ساتھ پڑھا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حمامات (غسل خانوں) میں داخل ہونے سے منع فرمایا، پھر آپ نے مردوں کو تہبند باندھ کر جانے کی رخصت دی۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade to enter the hot baths. He then permitted men to enter them in lower garments.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٤٣ (٢٨٠٢) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٣٨ (٣٧٤٩) ، (تحفة الأشراف : ١٧٧٩٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٣٢، ١٣٩، ١٧٩) (ضعیف) (سند میں ابوعذرہ مجہول راوی ہیں )
ابوالملیح کہتے ہیں اہل شام کی کچھ عورتیں ام المؤمنین عائشہ (رض) کے پاس آئیں تو انہوں نے ان سے پوچھا : تم کہاں کی ہو ؟ ان سب نے کہا : ہم اہل شام سے تعلق رکھتی ہیں، یہ سن کر وہ بولیں : شاید تم اس علاقہ کی ہو جہاں کی عورتیں بھی غسل خانوں میں داخل ہوتی ہیں، ان سب نے کہا : ہاں، ام المؤمنین عائشہ (رض) نے کہا : سنو ! میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : جو بھی عورت اپنے کپڑے اپنے گھر کے علاوہ کہیں اور اتارتی ہے تو وہ اپنے پردے کو جو اس کے اور اللہ کے درمیان ہے پھاڑ دیتی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ جریر کی روایت ہے جو زیادہ کامل ہے اور جریر نے ابوالملیح کا ذکر نہیں کیا ہے انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Abul Malih said: Some women of Syria came to Aisha (RA) . She asked them: From whom are you? They replied: From the people of Syria. She said: Perhaps you belong to the place where women enter hot baths (for washing ). The said: Yes. She said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If a woman puts off her clothes in a place other than her house, she tears the veil between her and Allah, the Exalted. Abu Dawud said: This is the tradition narrated by Jarir, and it is more perfect. Jarir did not mention Abu al-Malih. He said (on the authority of Aishah) that the Messenger of Allah ﷺ said.
Takhrij · تخریج
وحدیث محمد بن قدامة قد تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٨٠٤، ١٦٠٩٠) ، وقد أخرجہ : حدیث محمد بن مثنی : سنن الترمذی/الأدب ٤٣ (٢٨٠٣) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٣٨ (٣٧٥٠) ، مسند احمد (٦/٤١، ١٩٩) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٢٣ (٢٦٩٣) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عنقریب عجم کی سر زمین تمہارے لیے فتح کردی جائے گی اور اس میں تمہیں ایسے گھر ملیں گے جنہیں حمام کہا جائے گا تو اس میں مرد بغیر تہ بند کے داخل نہ ہوں اور عورتوں کو ان میں جانے سے روکو سوائے بیمار یا زچہ کے ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: After some time the lands of the non-Arabs will be conquered for you, and there you will find houses called hammamat (hot baths). so men should not enter them (to wash) except in lower garments, and forbid the women to enter them except a sick or one who is in a child-bed.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأدب ٣٨ (٣٧٤٨) ، (تحفة الأشراف : ٨٨٧٧) (ضعیف) (عبدالرحمن بن زیاد بن انعم إفریقی ضعیف ہیں )
یعلیٰ بن امیہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو بغیر تہ بند کے (میدان میں) نہاتے دیکھا تو آپ منبر پر چڑھے اور اللہ کی حمد و ثنا کی پھر آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ حیاء دار ہے پردہ پوشی کرنے والا ہے اور حیاء اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے لہٰذا جب تم میں سے کوئی نہائے تو ستر کو چھپالے ۔
Narrated Yala (RA) : The Messenger of Allah ﷺ saw a man washing in a public place without a lower garment. So he mounted the pulpit, praised and extolled Allah and said: Allah is characterised by modesty and concealment. So when any of you washes, he should conceal himself.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الغسل والتیمم ٧ (٤٠٤) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٤٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٢٤) (صحیح )
اس سند سے بھی صفوان بن یعلیٰ اپنے والد سے اور وہ نبی اکرم ﷺ سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں : پہلی روایت زیادہ کامل ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Yala from the Prophet ﷺ through a different chain of narrators. Abu Dawud said: The former is more perfect.
زرعہ بن عبدالرحمٰن بن جرہد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں جرہد اصحاب صفہ میں سے تھے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس بیٹھے اور میری ران کھلی ہوئی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تجھے معلوم نہیں کہ ران ستر ہے (اس کو چھپانا چاہیئے) ۔
Narrated Jarhad (RA) : The Messenger of Allah ﷺ sat with us and my thigh was uncovered. He said: Do you not know that thigh is a private part ?
علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنی ران نہ کھولو اور کسی زندہ یا مردہ کی ران کو نہ دیکھو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث میں نکارت ہے۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: The Prophet ﷺ said: Do not uncover you thigh, and do not look at the thigh of the living and the dead. Abu Dawud said: This tradition disagrees with the generally reported traditions (nakarah).
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم :(٣١٤٠) ، (تحفة الأشراف : ١٠١٣٣) (ضعیف جدّاً )