مسور بن مخرمہ (رض) کہتے ہیں کہ میں ایک بھاری پتھر اٹھائے ہوئے چل رہا تھا کہ اسی دوران میرا کپڑا (تہبند میرے جسم سے کھل کر) گرپڑا تو مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنا کپڑا اٹھا کر باندھ لو اور ننگے نہ چلو ۔
Narrated Al-Miswar bin Makhramah (RA) : I lifted a heavy stone. While I was walking my garment fell down. The Messenger of Allah ﷺ said to me: Take you garment upon you, and do not walk naked.
معاویہ بن حکیم (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم اپنا ستر کس سے چھپائیں اور کس سے نہ چھپائیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ستر سب سے چھپاؤ سوائے اپنی بیوی اور اپنی لونڈیوں کے وہ کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جب لوگ ملے جلے ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا : اگر تم سے ہو سکے کہ تمہارا ستر کوئی نہ دیکھے تو اسے کوئی نہ دیکھے وہ کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جب ہم میں سے کوئی تنہا خالی جگہ میں ہو ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : لوگوں کے بہ نسبت اللہ زیادہ حقدار ہے کہ اس سے شرم کی جائے ۔
Bahz bin Hakim said that his father told on the authority of his grandfather: I said: Messenger of Allah, from whom should we conceal our private parts and to whom can we show? He replied: conceal your private parts except from your wife and from whom your right hands possess (slave-girls). I then asked: Messenger of Allah, (what should we do), if the people are assembled together? He replied: If it is within your power that no one looks at it, then no one should look at it. I then asked: Messenger of Allah if one of us is alone, (what should he do)? He replied: Allah is more entitled than people that bashfulness should be shown to him.
ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کوئی مرد کسی مرد کے ستر کو نہ دیکھے اور کوئی عورت کسی عورت کے ستر کو نہ دیکھے اور نہ کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے اور نہ کوئی عورت کسی عورت کے کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Prophet ﷺ said: A man should not look at the private parts of another man, and a woman should not look at the private parts of another woman. A man should not lie with another man without wearing lower garment under one cover; and a woman should not be lie with another woman without wearing lower garment under one cover.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ (ایک کپڑے میں) ہرگز نہ لیٹے اور نہ کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ لیٹے سوائے بیٹے اور باپ کے ۔ راوی کہتے ہیں : آپ نے تیسرے کا بھی ذکر کیا لیکن میں اسے بھول گیا۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: A man should not lie with another man and a woman should not lie with another woman without covering their private parts except a child or a father. He also mentioned a third thing which I forgot.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٢١٧٤) ، (تحفة الأشراف : ١٥٤٨٦) (ضعیف) (سند میں طفاوی مبہم راوی ہے )
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ جب کوئی نیا کپڑا پہنتے تو قمیص یا عمامہ (کہہ کر) اس کپڑے کا نام لیتے پھر فرماتے : اللهم لک الحمد أنت کسوتنيه أسألک من خيره وخير ما صنع له وأعوذ بک من شره وشر ما صنع له اے اللہ ! سب تعریفیں تیرے لیے ہیں تو نے ہی مجھے پہنایا ہے، میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جس کے لیے یہ کپڑا بنایا گیا ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس کی برائی اور جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے اس کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ ابونضرہ کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے جب کوئی نیا کپڑا پہنتا تو اس سے کہا جاتا : تو اسے پرانا کرے اور اللہ تجھے اس کی جگہ دوسرا کپڑا عطا کرے۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ put on a new garment he mentioned it by name, turban or shirt, and would then say: O Allah, praise be to Thee! as Thou hast clothed me with it, I ask Thee for its good and the good of that for which it was made, and I seek refuge in Thee from its evil and the evil of that for which it was made. Abu Nadrah said: When any of the Companions of the Prophet ﷺ put on a new garment, he was told: May you wear it out and may Allah give you another in its place.
اس سند سے بھی جریری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں : عبدالوہاب ثقفی نے اس میں ابوسعید کا ذکر نہیں کیا ہے اور حماد بنطسلمہ نے جریری سے جریری نے ابوالعلاء سے ابوالعلاء نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حماد بن سلمہ اور ثقفی دونوں کا سماع ایک ہی ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by al-Jariri to the same effect though a different chain of narrators. Abu Dawud said: Abd al-Wahhab al-Thaqafi did not mention the name of Abu Saeed. Hammad bin Salamah said: From al-Jariri, from Abu al-Ala, from the Prophet ﷺ . Abu Dawud said: The hearing of this tradition by Hammad bin Salamah and Thaqafi is of the same nature.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٤٠٢٠) ، (تحفة الأشراف : ٤٣٢٦) (صحیح )
معاذ بن انس (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے کھانا کھایا پھر یہ دعا پڑھی الحمد لله الذي أطعمني هذا الطعام ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور بغیر میری طاقت و قوت کے مجھے یہ عنایت فرمایا تو اس کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔ نیز فرمایا : اور جس نے (نیا کپڑا) پہنا پھر یہ دعا پڑھی : الحمد لله الذي کساني هذا الثوب ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کپڑا پہنایا اور میری طاقت و قوت کے بغیر مجھے یہ عنایت فرمایا تو اس کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔
Narrated Muadh ibn Anas (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone eats food and then says: Praise be to Allah Who has fed me with this food and provided me with it through no might and power on my part, he will be forgiven his former and later sins. If anyone puts on a garment and says: Praise be to Allah Who has clothed me with this and provided me with it through no might and power on my part, he will be forgiven his former and later sins.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٥٦ (٣٤٥٨) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ١٦ (٣٢٨٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٢٩٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٣٩) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٥٥ (٢٧٣٢) (حسن) دون زیادة : ” وما تأخر “ في الموضعین
ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ کپڑے آئے جن میں ایک چھوٹی سی دھاری دار چادر تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ کس کو اس کا زیادہ حقدار سمجھتے ہو ؟ تو لوگ خاموش رہے، آپ ﷺ نے فرمایا : ام خالد کو میرے پاس لاؤ چناچہ وہ لائی گئیں، آپ نے انہیں اسے پہنا دیا پھر دو بار فرمایا : پہن پہن کر اسے پرانا اور بوسیدہ کرو آپ چادر کی دھاریوں کو جو سرخ یا زرد رنگ کی تھیں دیکھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے : اے ام خالد ! سناه سناه اچھا ہے اچھا ہے ١ ؎۔
Narrated Umm Khalid, daughter of Saad bin al-As: Once the Messenger of Allah ﷺ was brought some garments among which was a small cloak with a border and black stripes. He said: Whom do you think to be more deserving for it ? The people kept silence. He said: Bring Umm Khalid. The she was carried to him and he put it on her, saying: Wear it out and make it ragged twice. Then he went on looking at red or yellow marks on it, and said: This is sanah, sanah, Umm Khalid. It means beautiful in the language of the Abyssinians.
Notes · وضاحت
١ ؎ : سناہ حبشی زبان میں اچھا کے معنی میں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ١٨٨ (٣٠٧١) ، المناقب ٣٧ (٣٨٧٤) ، اللباس ٢٢ (٥٨٢٣) ، الأدب ١٧ (٥٩٩٣) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٧٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٦٥) (صحیح )
مسور بن مخرمہ (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے کچھ ق بائیں تقسیم کیں اور مخرمہ کو کچھ نہیں دیا تو مخرمہ (رض) نے کہا : بیٹے ! مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے چلو چناچہ میں ان کے ساتھ چلا (جب وہاں پہنچے) تو انہوں نے مجھ سے کہا : اندر جاؤ اور رسول اللہ ﷺ کو میرے لیے بلا لاؤ، تو میں نے آپ کو بلایا، آپ باہر نکلے، آپ انہیں قباؤں میں سے ایک قباء پہنے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے (مخرمہ (رض) سے) فرمایا : میں نے اسے تمہارے لیے چھپا کر رکھ لیا تھا تو مخرمہ (رض) نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا آپ نے فرمایا : مخرمہ خوش ہوگیا ۔
Narrated Al-Miswar bin Makhramah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ distributed outer garments with full-length sleeves but did not give Makhramah anything. Makhramah said: Go with us to the Messenger of Allah ﷺ . So I went with him and he said: Enter and call him for me. I then called him. He came out to him and he had an outer garment with full-length sleeves over him from those garments. He said: I kept it for you. He looked at it, meaning Makhramah according to the addition of Ibn Mawhab. The agreed version then says: He said: Makhramah was pleased. Ibn Qutaibah said: From Ibn Abi Mulaikah, but he did not name it.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ جس نے شہرت اور ناموری کا لباس پہنا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اسی طرح کا لباس پہنائے گا۔ شریک کی روایت میں ہے ابن عمر (رض) اسے مرفوع کرتے ہیں یعنی اپنے قول کے بجائے نبی اکرم ﷺ کا قول قرار دیتے ہیں نیز ابوعوانہ سے یہ اضافہ مروی ہے کہ پھر اس کپڑے میں آگ لگا دی جائے گی ۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ as saying: If anyone wears a garment for gaining fame, Allah will clothe him in a similar garment on the Day of Resurrection.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٤ (٣٦٠٦) ، (تحفة الأشراف : ٧٤٦٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٩٢، ١٣٩) (حسن )
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نکلے، آپ پر ایک سیاہ بالوں کی چادر تھی جس میں (کجاوہ) کی تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ عتبہ بن عبد سلمی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پہننے کے لیے کپڑا مانگا، آپ نے مجھے کتان کے دو کپڑے پہنائے تو میں اپنے کو دیکھتا تو اپنے آپ کو اپنے اور ساتھیوں کے بالمقابل اچھے لباس والا محسوس کرتا۔
Aishah said: The Messenger of Allah ﷺ went out one morning wearing a variegated garment of black goat hair. Narrated Utbah ibn AbdusSulami: I asked the Messenger of Allah ﷺ to clothe me. He clothed me with two coarse clothes of linen.
ابوبردہ (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے کہا : بیٹے ! اگر تم ہمیں دیکھتے اور ہم اپنے نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہوتے اور بارش ہوئی ہوتی تو تم ہم میں بھیڑوں کی بو محسوس کرتے ١ ؎۔
Narrated Abu Burdah (RA) : My father said to me: My son, if you had seen us while we were with the Messenger of Allah ﷺ and the rain had fallen on us, you would have thought that our smell was the smell of the sheep.
Notes · وضاحت
١ ؎ : کیونکہ ہمارے کپڑے کھالوں اور بالوں کے ہوتے تھے بھیگنے کی وجہ سے ان سے بھیڑ بکریوں کی بو آتی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/صفة القیامة ٣٨ (٢٤٧٩) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٤ (٣٥٦٢) ، (تحفة الأشراف : ٩١٢٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٠٧، ٤١٩) (صحیح )
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ شاہ ذی یزن ١ ؎ نے رسول اللہ ﷺ کو ایک جوڑا ہدیہ میں بھیجا جسے اس نے (٣٣) اونٹ یا اونٹنیاں دے کرلیا تھا تو آپ نے اسے قبول فرمایا۔
Narrated Anas ibn Malik: The King Dhu Yazan presented to the Messenger of Allah ﷺ a suit of clothes which he had purchased for thirty-three camels or thirty-three she-camels. He accepted it.
Notes · وضاحت
١ ؎ : ذی یزن حمیری بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ کا نام تھا۔