Sunan Abu Dawood 4008

حروف اور قرات کا بیان

4008Sunan Abu Dawood

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ: أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: نَزَلَ الْوَحْيُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ عَلَيْنَا: سُورَةَ أَنْزَلْنَاهَا وَفَرَضْنَاهَا، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: يَعْنِي مُخَفَّفَةً حَتَّى أَتَى عَلَى هَذِهِ الآيَاتِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر وحی اتری تو آپ نے ہمیں سورة أنزلناها وفرضناها یہ وہ سورت ہے جو ہم نے نازل فرمائی ہے اور مقرر کردی ہے (سورۃ النور: ١) پڑھ کر سنایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی مخفف پڑھا ١ ؎ یہاں تک کہ ان آیات پر آئے۔

Narrated Aisha (RA) : The revelation came down to Messenger of Allah ﷺ and he recited to is: A surah which We have sent down and which We have ordained (faradnaha) Abu Dawud said: The letter ra (r) is the word faradnaha has short vowel a (with out doubling of consonant r), and then he reached the verses after this verse.

Notes · وضاحت
١ ؎: مراد فرضناها کی راء ہے، جمہور کی قرات تخفیف راء کے ساتھ ہے، اور ابوعمرو اور ابن کثیر نے اسے تشدید راء کے ساتھ پڑھا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٨٧٨) (صحیح الإسناد )