Sunan Abu Dawoodسنن ابو داؤد

All 5,295 hadiths in order · Page 198 of 265

3956Sunan Abu Dawoodصحیح

جو شخص اپنے غلاموں کو جو ثلث سے زائد ہوں آزاد کردے تو کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِهَذَا، زَادَ وَقَالَ: يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْتَ أَحَقُّ بِثَمَنِهِ وَاللَّهُ أَغْنَى عَنْهُ.

عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ مجھ سے جابر بن عبداللہ (رض) نے یہی روایت بیان کی ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ نے یعنی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس غلام کی قیمت کے زیادہ حقدار تم ہو اور اللہ اس سے بےپرواہ ہے (یعنی اگر آزاد ہوتا تو اللہ زیادہ خوش ہوتا پر وہ بےنیاز ہے، اور بندہ محتاج ہے) ۔

The tradition mentioned above also has been transmitted by Jabir bin Abdullah through a different chain of narrators. This version added: The Prophet ﷺ said: You are more entitled to his price, and Allah has no need of it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٤٢٥) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/ الکبری (٥٠٠١) (صحیح )
3957Sunan Abu Dawoodصحیح

جو شخص اپنے غلاموں کو جو ثلث سے زائد ہوں آزاد کردے تو کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو مَذْكُورٍ أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ يُقَالُ لَهُ: يَعْقُوبُ، عَنْ دُبُرٍ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ يَشْتَرِيهِ فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ النَّحَّامِ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ، فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا، فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ فَإِنْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ فَعَلَى عِيَالِهِ فَإِنْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ فَعَلَى ذِي قَرَابَتِهِ، أَوْ قَالَ: عَلَى ذِي رَحِمِهِ فَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَهَهُنَا وَهَاهُنَا.

جابر (رض) کہتے ہیں کہ ایک ابومذکور نامی انصاری نے اپنے یعقوب نامی ایک غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد کردیا، اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہیں تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا : اسے کون خریدتا ہے ؟ چناچہ نعیم بن عبداللہ بن نحام نے آٹھ سو درہم میں اسے خرید لیا تو آپ نے اسے انصاری کو دے دیا اور فرمایا : جب تم میں سے کوئی محتاج ہو تو اسے اپنی ذات سے شروع کرنا چاہیئے، پھر جو اپنے سے بچ رہے تو اسے اپنے بال بچوں پر صرف کرے پھر اگر ان سے بچ رہے تو اپنے قرابت داروں پر خرچ کرے یا فرمایا : اپنے ذی رحم رشتہ داروں پر خرچ کرے اور اگر ان سے بھی بچ رہے تو یہاں وہاں خرچ کرے ١ ؎۔

Jabir said: A man of the Ansar called Abu Madhkur declared that his slave called Yaqub would be free after his death, but he had no other property. So the Messenger of Allah ﷺ called him and said: Who will buy him ? Nuaim bin Abdullah bin al-Nahham bought him for eight hundred dirhams. When he handed them over to him, he (Prophet) said: If any of you is poor, he should begin from himself ; if anything is left over, give it to your family; if anything is left over, give it to your relatives ; if anything is left over (when they received something), then here and here.

Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی اپنے دوستوں پر اور اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الزکاة ١٣ (٩٩٧) ، سنن النسائی/ الزکاة ٦٠ (٥٤٧) ، (تحفة الأشراف : ٢٦٦٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٠١، ٣٦٩) (صحیح )
3958Sunan Abu Dawoodصحیح

جو شخص اپنے غلاموں کو جو ثلث سے زائد ہوں آزاد کردے تو کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْن، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: قَوْلًا شَدِيدًا ثُمَّ دَعَاهُمْ، فَجَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً.

عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلاموں کو آزاد کردیا ان کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا، یہ خبر نبی اکرم ﷺ کو پہنچی تو آپ نے اس اسے سخت سست کہا پھر انہیں بلایا اور ان کے تین حصے کئے : پھر ان میں قرعہ اندازی کی پھر ان میں سے دو کو (جن کے نام قرعہ میں نکلے) آزاد کردیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔

Imran bin Hussain said: A man who had no other property emancipated six slaves of his at the time of the death. When the Prophet ﷺ was informed about it, he spoke severely of him. He then called them, divided them into three sections, cast lots among them, and emancipated two and kept four in slavery.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحدود ١٢ (١٦٦٨) ، سنن الترمذی/الأحکام ٢٧ (١٣٦٤) ، سنن النسائی/الجنائز ٦٥ (١٩٦٠) ، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٠ (٢٣٤٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٨٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٢٦، ٤٣١، ٤٣٨، ٤٤٠) (صحیح )
3959Sunan Abu Dawoodصحیح

جو شخص اپنے غلاموں کو جو ثلث سے زائد ہوں آزاد کردے تو کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ وَلَمْ يَقُلْ، فَقَالَ لَهُ: قَوْلًا شَدِيدًا وَمَعْنَاهُ وَلَمْ يَقُلْ، فَقَالَ لَهُ: قَوْلًا شَدِيدًا.

اس سند سے بھی ابوقلابہ سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اور اس میں یہ نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے سخت سست کہا۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Qilabah through a different chain of narrators on the authority of Imran bin Husain to the same effect. But in this version he did not mention He spoke severely of them.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٨٠) (صحیح )
3960Sunan Abu Dawoodصحیح

جو شخص اپنے غلاموں کو جو ثلث سے زائد ہوں آزاد کردے تو کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ الطَّحَّانُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ بِمَعْنَاهُ، وَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ شَهِدْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُدْفَنَ لَمْ يُدْفَنْ فِي مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ.

ابوزید (رض) کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے ... آگے انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی اس میں یہ ہے کہ آپ نے یعنی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر میں اس کے دفن کئے جانے سے پہلے موجود ہوتا تو وہ مسلمانوں کے قبرستان میں نہ دفنایا جاتا ۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Qilabah from Abu Zaid through a different chain of narrators to the same effect: A man of the Ansar. . . The Prophet ﷺ said: Had I been present before his burial, he would not have been buried in a Muslim cemetry.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٦٩٥) (صحیح )
3961Sunan Abu Dawoodصحیح

جو شخص اپنے غلاموں کو جو ثلث سے زائد ہوں آزاد کردے تو کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، وَأَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ عِنْدَ مَوْتِهِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً.

عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ کے چھ غلاموں کو آزاد کردیا ان کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا پھر یہ خبر نبی اکرم ﷺ کو پہنچی تو آپ نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی پھر دو کو آزاد کردیا اور چار کو غلام ہی باقی رکھا۔

Imran bin Husain said: A man emancipated six slaved at the time of his death and he had no other property. The Prophet ﷺ was informed about it. He cast lots among them, emancipated two and retained four in slavery.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٣٩٥٨) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٣٩) (صحیح )
3962Sunan Abu Dawoodصحیح

مالدار غلام کو آزاد کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْبُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُ الْعَبْدِ لَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَهُ السَّيِّدُ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کسی غلام کو آزاد کرے اور اس کے پاس مال ہو تو غلام کا مال آزاد کرنے والے کا ہے الا یہ کہ مالک اس کو غلام کو دیدے ١ ؎۔

Abdullah bin Umar (RA) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone emancipates a slave who has property, the property of the slave belongs to him except that the master makes a stipulation.

Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی آزاد کرتے وقت یہ کہہ دے کہ یہ مال بھی تیرا ہے تجھے ہی دیدوں گا تو اس صورت میں یہ مال غلام کا ہوگا، یعنی يشترطه بمعنی يعطيه ہے، اس کا ایک ترجمہ یوں بھی ہے پس غلام کا مال اسی کا ہوگا الا یہ کہ مالک شرط کرلے (کہ مال میرا ہوگا) ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/العتق ٨ (٢٥٢٩) ، (تحفة الأشراف : ٧٦٠٤) (صحیح )
3963Sunan Abu Dawoodصحیح

زنا کی اولاد کا بیان

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ، وقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَأَنْ أُمَتِّعَ بِسَوْطٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ وَلَدَ زِنْيَةٍ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : زنا کا بچہ تینوں میں سب سے برا ہے ۔ ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں : اللہ کی راہ میں ایک کوڑا دینا میرے نزدیک ولد الزنا کو آزاد کرنے سے بہتر ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: The child of adultery is worst of the three. Abu Hurairah said: That I give a flog in the path of Allah (as a charity) is dearer to me than emancipating a child of adultery.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٢٦٠١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣١١) (صحیح )
3964Sunan Abu Dawoodضعیف

غلام آزاد کرنے کا ثواب

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ الْغَرِيفِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ: أَتَيْنَا وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، فَقُلْنَا لَهُ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا لَيْسَ فِيهِ زِيَادَةٌ وَلَا نُقْصَانٌ، فَغَضِبَ، وَقَالَ: إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَقْرَأُ وَمُصْحَفُهُ مُعَلَّقٌ فِي بَيْتِهِ فَيَزِيدُ وَيَنْقُصُ، قُلْنَا: إِنَّمَا أَرَدْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَاحِبٍ لَنَا أَوْجَبَ يَعْنِي النَّارَ بِالْقَتْلِ، فَقَالَ: أَعْتِقُوا عَنْهُ يُعْتِقِ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ.

غریف بن دیلمی کہتے ہیں ہم واثلہ بن اسقع (رض) کے پاس آئے اور ہم نے ان سے کہا : آپ ہم سے کوئی حدیث بیان کیجئے جس میں کوئی زیادتی و کمی نہ ہو، تو وہ ناراض ہوگئے اور بولے : تم میں سے کوئی قرآن پڑھتا ہے اور اس کے گھر میں مصحف لٹک رہا ہے تو وہ اس میں کمی و زیادتی کرتا ہے، ہم نے کہا : ہمارا مقصد یہ ہے کہ آپ ہم سے ایسی حدیث بیان کریں جسے آپ نے (براہ راست) نبی اکرم ﷺ سے سنی ہو، تو انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کا مسئلہ لے کر آئے جس نے قتل کا ارتکاب کر کے اپنے اوپر جہنم کو واجب کرلیا تھا، آپ نے فرمایا : اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ہر ہر جوڑ کے بدلہ اس کا ہر جوڑ جہنم سے آزاد کر دے گا ۔

Narrated Wathilah ibn al-Asqa (RA) : Al-Arif ibn ad-Daylami said: We went to Wathilah ibn al-Asqa and said to him: Tell us a tradition which has not addition or omission. He became angry and replied: One of you recites when his copy of a Quran is hung up in his house, and he makes additions and omissions. We said: All we mean is a tradition you have heard from the Messenger of Allah ﷺ . He said: We went to the Prophet ﷺ about a friend of ours who deserved. Hell for murder. He said: Emancipate a slave on his behalf; Allah will set free from Hell a member of the body for every member of his.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١١٧٤٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٩٠، ٤/١٠٧) (ضعیف) (اس کے راوی غریف لین الحدیث ہیں )
3965Sunan Abu Dawoodصحیح

کون سا غلام زیادہ افضل ہے آزاد کرنے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ،عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ، قَالَ: حَاصَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَصْرِ الطَّائِفِ، قَالَ مُعَاذٌ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ بِقَصْرِ الطَّائِفِ بِحِصْنِ الطَّائِفِ كُلَّ ذَلِكَ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَهُ دَرَجَةٌ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ. وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَجُلًا مُسْلِمًا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهِ عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِهِ مِنَ النَّارِ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مُسْلِمَةً فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِهَا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

ابونجیح سلمی (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ طائف کے محل کا محاصرہ کیا۔ معاذ کہتے ہیں : میں نے اپنے والد کو طائف کا محل اور طائف کا قلعہ دونوں کہتے سنا ہے۔ تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : جس نے اللہ کی راہ میں تیر مارا تو اس کے لیے ایک درجہ ہے پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی، اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ : جس مسلمان مرد نے کسی مسلمان مرد کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر ہڈی کے لیے اس کے آزاد کردہ شخص کی ہر ہڈی کو جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بنا دے گا، اور جس عورت نے کسی مسلمان عورت کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر ہڈی کے لیے اس کے آزاد کردہ عورت کی ہر ہڈی کو جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بنا دے گا ۔

Narrated Abu Najih as-Sulami (RA) : Along with the Messenger of Allah ﷺ we besieged the palace of at-Taif. The narrator, Mutadh, said: I heard my father (sometimes) say: Palace of at-Taif, and (sometimes) Fort of at-Taif, which are the same. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: he who causes an arrow to hit its mark in Allahs cause will have it counted as a degree for him (in Paradise). He then transmitted the rest of the tradition. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If a Muslim man emancipates a Muslim man, Allah, the Exalted, will make every bone of his protection for every bone of his emancipator from Hell; and if a Muslim woman emancipates a Muslim woman, Allah will make every bone of hers protection for every bone of her emancipator from Hell on the Day of Resurrection.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل الجھاد ١١ (١٦٣٨) ، سنن النسائی/الجھاد ٢٦ (٣١٤٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٧٦٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١١٣، ٣٨٤، ٣٨٦) (صحیح )
3966Sunan Abu Dawoodصحیح

کون سا غلام زیادہ افضل ہے آزاد کرنے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السَّمْطِ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً كَانَتْ فِدَاءَهُ مِنَ النَّارِ.

شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ انہوں نے عمرو بن عبسہ (رض) سے کہا : آپ ہم سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے (براہ راست) رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جس نے کسی مسلمان گردن کو آزاد کیا تو وہ دوزخ سے اس کا فدیہ ہوگا ۔

Amr ibn Abasah, said that Marrah ibn Kab said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If anyone emancipates a Muslim slave, that will be his ransom from Jahannam.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل الجھاد ٩ (١٦٣٤) ، سنن النسائی/الجھاد ٢٦ (٣١٤٤) ، (تحفة الأشراف : ١٠٧٥٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١١٢، ٣٨٦) (صحیح )
3967Sunan Abu Dawoodصحیح

کون سا غلام زیادہ افضل ہے آزاد کرنے میں

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السَّمْطِ، أَنَّهُ قَالَ: لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ أَوْ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَى مُعَاذٍ إِلَى قَوْلِهِ: وَأَيُّمَا امْرِئٍ أَعْتَقَ مُسْلِمًا، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مُسْلِمَةً، زَادَ وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَعْتَقَ امْرَأَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ، إِلَّا كَانَتَا فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزِئُ مَكَانَ كُلِّ عَظْمَيْنِ مِنْهُمَا عَظْمٌ مِنْ عِظَامِهِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: سَالِمٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ شُرَحْبِيلَ، مَاتَ شُرَحْبِيلُ بِصِفِّينَ.

شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ انہوں نے کعب بن مرہ یا مرہ بن کعب (رض) سے کہا کہ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو، پھر راوی نے آپ کے فرمان : وأيما امرئ أعتق مسلما وأيما امرأة أعتقت امرأة مسلمة تک معاذ جیسی روایت بیان کی، اور یہ اضافہ کیا : جو مرد کسی دو مسلمان عورت کو آزاد کرے تو وہ دونوں اسے جہنم سے چھڑا دیں گی، ان دونوں کی دو ہڈیاں اس کی ایک ایک ہڈی کے قائم مقام ہوں گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : سالم نے شرحبیل سے نہیں سنا ہے (اس لیے یہ حدیث منقطع ہے) شرحبیل کی وفات صفین میں ہوئی ہے۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Muadh through a different chain of narrators. After mentioning the words If any Muslim emancipates a Muslim slave. . . and if a woman emancipates a Muslim woman, this version adds: If a man emancipates two Muslim women, they will be deliverance from Hell fire; two bones of their will be emancipation for each of his bone. Abu Dawud said: Salim did not hear (traditions) from Shurahbil. Shurahbil died at Siffin.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/ الأحکام (٢٥٢٢) ، (تحفة الأشراف : ١١١٦٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٣٤، ٢٣٥، ٣٢١) (صحیح )
3968Sunan Abu Dawoodضعیف

حالت صحت میں غلام آزاد کرنے کی فضیلت

حَدَّثَنَا محُمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِى إِسْحَاق، عَنْ أَبِى حَبِيبَةَ الطَّائِيَّ، عَنْ أَبِى الدَّردْاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الَّذِي يَعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي إِذَا شبعَ.

ابوالدرداء (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو مرتے وقت غلام آزاد کرے تو اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی آسودہ ہوجانے کے بعد ہدیہ دے ۔

Narrated Abud Darda: The Prophet ﷺ said: the similitude of a man who emancipates a slave at the time of his death is like that of a man who gives a present after satisfying his appetite.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الوصایا ٧ (٢١٢٣) ، سنن النسائی/الوصایا ١ (٣٦٤٤) ، (تحفة الأشراف : ١٠٩٧٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٩٧، ٦/٤٤٧) (ضعیف) (اس کے راوی ابو حبیبہ لین الحدیث ہیں )
3969Sunan Abu Dawoodصحیح

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل. ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125.

جابر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے : واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى اور مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنا لو۔۔۔ (سورۃ البقرہ : ١٢٤) (امر کے صیغہ کے ساتھ بکسر خاء) پڑھا۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ read the Quranic verse, And take ye the Station of Abraham as a place of prayer.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ الحج ٣٣ (٨٥٦) ، سنن النسائی/ الحج ١٦٣ (٢٩٦٤) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٥٦ (١٠٠٨) ، انظر حدیث رقم : (١٩٠٥) ، (تحفة الأشراف : ٢٥٩٥) (صحیح )
3970Sunan Abu Dawoodصحیح

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَرَأَ فَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَرْحَمُ اللَّهُ فُلَانًا كَائِنْ مِنْ آيَةٍ أَذْكَرَنِيهَا اللَّيْلَةَ كُنْتُ قَدْ أُسْقِطْتُهَا.

ام المؤمنین عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے رات میں قیام کیا اور (نماز میں) بلند آواز سے قرآت کی، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ فلاں پر رحم کرے کتنی آیتیں جنہیں میں بھول چلا تھا ١ ؎ اس نے آج رات مجھے یاد دلا دیں ۔

Narrated Aisha (RA) : A man got up (for prayer) at night, he read the Quran and raised his voice in reading. When the morning came, the Messenger of Allah ﷺ said: May Allah have mercy on so-and-so! Last night he reminded me a number of verses which I was about to forget.

Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی یہ میرے ذہن سے نکل چکی تھیں، مگر اللہ تعالیٰ کو ان آیتوں کا بالکل بھلا دینا منظور نہ تھا، اس لیے اس نے اس آدمی کو قرات کے ذریعہ مجھے پھر یاد دلا دیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (١٣٣١) ، (تحفة الأشراف : ١٦٨٧٧) (صحیح )
3971Sunan Abu Dawoodصحیح

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ، حَدَّثَنَا مِقْسَمٌ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ سورة آل عمران آية 161 فِي قَطِيفَةٍ حَمْرَاءَ، فُقِدَتْ يَوْمَ بَدْرٍ، فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: لَعَلّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ سورة آل عمران آية 161 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: يَغُلَّ مَفْتُوحَةُ الْيَاءِ.

مقسم مولیٰ ابن عباس (رض) کا بیان ہے کہ ابن عباس (رض) نے کہا ہے کہ آیت : وما کان لنبي أن يغل نبی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ خیانت کرے۔۔۔ (سورۃ آل عمران : ١٦١) ایک سرخ چادر کے متعلق نازل ہوئی جو بدر کے دن گم ہوگئی تھی تو کچھ لوگوں نے کہا : شاید رسول اللہ ﷺ نے اسے لے لیا ہو تب اللہ تعالیٰ نے : وما کان لنبي أن يغل نازل کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : يغل یا کے فتحہ کے ساتھ ہے۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The verse And no Prophet could (ever) be false to his trust was revealed about a red velvet. When it was found missing on the day of Badr, some people said; Perhaps the Messenger of Allah ﷺ has taken it. So Allah, the Exalted, sent down And no prophet could (ever) be false to his trust to the end of the verse. Abu Dawud said: In the word yaghulla the letter ya has a short vowel a.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر سورة آل عمران ١٧ (٣٠٠٩) ، (تحفة الأشراف : ٦٤٨٧) (صحیح )
3972Sunan Abu Dawoodصحیح

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَخَلِ وَالْهَرَمِ.

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بخیلی اور بڑھاپے سے ١ ؎۔

Anas bin Malik (RA) reported that Messenger of Allah ﷺ as saying: O Allah, I seek refuge in Thee from niggardliness and old age.

Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی ایسی ضعیفی سے جس میں ہوش و حواس باقی نہ رہیں نہ عبادت کی طاقت رہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٨٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١١٣، ١١٧) ، انظر حدیث رقم : (١٥٤٠) (صحیح )
3973Sunan Abu Dawoodصحیح

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِلَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، قَالَ: كُنْتُ وَافِدَ بَنِي الْمُنْتَفِقِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحْسِبَنَّ وَلَمْ يَقُلْ لَا تَحْسَبَنَّ.

لقیط بن صبرہ (رض) کہتے ہیں میں بنی منتفق کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تھا، یا بنی منتفق کے وفد میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تھا پھر انہوں نے حدیث بیان کی کہ آپ نے یعنی نبی اکرم ﷺ نے لا تحسبن (سین کے زیر کے ساتھ) پڑھا اور لا تحسبن (سین کو زبر کے ساتھ) نہیں پڑھا۔

Narrated Laqit ibn Sabirah (RA) : I came in the deputation of Banu al-Muntafiq to the Messenger of Allah ﷺ . He then narrated the rest of the tradition. The Prophet ﷺ said: la tahsibanna (do not think) and did not say: la tahsabanna (do not think).

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (١٤٢) ، (تحفة الأشراف : ١١١٧٢) (صحیح )
3974Sunan Abu Dawoodصحیح

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَحِقَ الْمُسْلِمُونَ رَجُلًا فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا تِلْكَ الْغُنَيْمَةَ فَنَزَلَتْ: وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا سورة النساء آية 94 تِلْكَ الْغُنَيْمَةَ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں مسلمان ایک شخص سے ملے جو اپنی بکریوں کے چھوٹے سے ریوڑ میں تھا اس نے السلام علیکم کہا پھر بھی مسلمانوں نے اسے قتل کردیا اور وہ ریوڑ لے لیا تو یہ آیت کریمہ : ولا تقولوا لمن ألقى إليكم السلام لست مؤمنا تبتغون عرض الحياة الدنيا جو شخص تمہیں سلام کہے اسے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے تم لوگ دنیاوی زندگی کا ساز و سامان یعنی ان بکریوں کو چاہتے ہو (سورۃ النساء : ٩٤) نازل ہوئی۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Muslims met a man with some sheep of his. He said: Peace be upon you. But they killed him and took those few sheep. Thereupon the following Quranic verse was revealed: . . . And say to anyone who offers you a salutation: Thou art none of believer, coveting the perishable good of this life. meaning these few sheep.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة النساء ١٧ (٤٥٩١) ، صحیح مسلم/التفسیر (٣٠٢٥) ، (تحفة الأشراف : ٥٩٤٠) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/تفسیر القرآن النساء ٥ (٣٠٣٠) (صحیح )
3975Sunan Abu Dawoodصحیح

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ وَهُوَ أَشْبَعُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 وَلَمْ يَقُلْ سَعِيدٌ كَانَ يَقْرَأُ.

زید بن ثابت انصاری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ لا يستوي القاعدون من المؤمنين کے بعد غير أولي الضرر پڑھتے تھے۔ اور سعید بن منصور نے اپنی روایت میں كان يقرأ نہیں کہا ہے ١ ؎۔

Narrated Zayd ibn Thabit (RA) : The Prophet ﷺ used to read: Not equal are those believers who sit (at home) and receive no hurt (ghayru ulid-darari) but the narrator Saeed did not say the words used to read

Notes · وضاحت
١ ؎ : پہلے صرف لا يستوي القاعدون من المؤمنين نازل ہوئی تھی پھر جب لوگوں کو پریشانی ہوئی تو اللہ نے غير أولي الضرر نازل فرما کر آسانی کردی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٧٠٩) (حسن صحیح )