قتادہ اس سند سے بھی روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کردیا تو وہ غلام اس کے مال سے پورا آزاد ہوگا اگر اس کے پاس مال ہے ۔ اور ابن مثنی نے نضر بن انس کا ذکر نہیں کیا ہے، اور یہ ابن سوید کے الفاظ ہیں۔
Qatadah narrated with his chain of narrators. The Prophet ﷺ said: If anyone emancipates his share in a slave, he emancipates him (completely) by his property if he has property. The narrator Ibn al-Muthanna did not mention al-Nadr bin Anas. This is the version of Ibn Suwaid.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٣٩٣٤) ، (تحفة الأشراف : ١٢١١) (صحیح )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو اپنے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر اس کے پاس مال ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے مکمل خلاصی دلائے اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی پھر اور شریکوں کے حصوں کے بقدر اس سے محنت کرائی جائے گی، بغیر اسے مشقت میں ڈالے ۔
Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying: If anyone emancipates a share in his slave, he should completely emancipate him if he has money; but if he has none, then slave will be required to work (to pay for his freedom), but he must not be overburdened.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٣٩٣٤) ، (تحفة الأشراف : ١٢٢١١) (صحیح )
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کردیا تو اگر وہ مالدار ہے تو اس پر اس کی مکمل خلاصی لازم ہوگی اور اگر وہ مالدار نہیں ہے تو غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی پھر اس قیمت میں دوسرے شریک کے حصہ کے بقدر اس سے اس طرح محنت کرائی جائے گی کہ وہ مشقت میں نہ پڑے (یہ علی کے الفاظ ہیں) ۔
Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying: If anyone emancipates his share in a slave, he is to be completely emancipated by his money if he has money. But if he has no money, a fair price for the slave should be fixed, and the slave is required to work for his master according to the proportion of his price, but he must not be overburdened. Abu Dawud said: In the version of both the narrators the words are he will be required to work and must not be overburdened. This is the version of Ali.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٣٩٣٤) ، (تحفة الأشراف : ١٢٢١١) (صحیح )
اس سند سے سعید سے بھی اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسے روح بن عبادہ نے سعید بن ابی عروبہ سے روایت کیا ہے انہوں نے سعایہ کا ذکر نہیں کیا ہے، اور اسے جریر بن حازم اور موسیٰ بن خلف نے قتادہ سے یزید بن زریع کی سند سے اسی کے مفہوم کے ساتھ روایت کیا ہے اور ان دونوں نے اس میں سعایہ کا ذکر کیا ہے۔
The tradition mentioned above by Rawh bin Ubadah from Saeed bin Abu Arubah. In this version he did not mention the words the slave should be required to work. If has also been transmitted by Jarir bin Hazim and Musa bin Khalaf from Qatadah through the chain of Yazid bin Zurai and to the same effect. In this version they mentioned the words the slave should be required to work
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٣٩٣٤) ، (تحفة الأشراف : ١٢٢١١) (صحیح )
عبداللہ بن عمر (رض) سے رویت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص (مشترک) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس غلام کی واجبی قیمت لگا کر ہر ایک شریک کو اس کے حصہ کے مطابق ادا کرے گا اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہوجائے گا اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو جتنا آزاد ہوا ہے اتنا ہی حصہ آزاد رہے گا ۔
Abdullah bin Umar (RA) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone emancipates his share in slave, a fair price for the slave should be fixed, give his partners their shares, and the slave be thus emancipated. Otherwise he is emancipated to the extent of the share which he emancipated.
اس سند سے بھی اسی مفہوم کی روایت ابن عمر (رض) سے مرفوعاً مروی ہے۔ راوی کہتے ہیں : نافع نے کبھی فقد عتق منه ما عتق کی روایت کی ہے اور کبھی نہیں کی ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Umar to the same effect through a different chain of narrators. Nafi sometimes said: He will be emancipated to the extent of the share which he emancipated, and sometimes he did not say these words.
اس سند سے بھی ابن عمر (رض) سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے ایوب کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ وإلا عتق منه ما عتق نبی اکرم ﷺ کی حدیث کا حصہ ہے یا نافع کا قول ہے۔
The tradition mentioned above has also been narrated by Ibn Umar from the Prophet ﷺ . The narrator Ayyub said: I do not know whether the following words are part of the tradition of the Prophet ﷺ or Nafi told them himself: Otherwise he will be emancipated to the extent of the first mans share.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٧٥١١) (صحیح الإسناد )
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص (مشترک) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس پر اس کی مکمل آزادی لازم ہے اگر اس کے پاس اتنا مال ہو کہ اس کی قیمت کو پہنچ سکے، اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو صرف اس کا حصہ آزاد ہوگا (اور باقی شرکاء کو اختیار ہوگا چاہیں تو آزاد کریں اور چاہیں تو غلام رہنے دیں) ۔
Ibn Umar reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone emancipates his share in a slave, he should emancipate him completely if he has enough money to pay the full price ; but if he has none, he will be emancipated to the extent of his share.
اس سند سے بھی ابن عمر (رض) سے ابراہیم بن موسیٰ کی روایت کے ہم معنی روایت مرفوعاً مروی ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Umar from the Prophet ﷺ to the same effect as mentioned by Ibrahim bin Musa through a different chain.
اس سند سے بھی ابن عمر (رض) سے مالک کی روایت کے ہم معنی روایت مرفوعاً مروی ہے مگر اس میں : وإلا فقد عتق منه ما عتق کا ٹکڑا مذکور نہیں اور وأعتق عليه العبد کے ٹکڑے ہی پر روایت ختم ہے ١ ؎۔
The tradition mentioned above has also been narrated by Ibn Umar through a different chain of transmitters to the same effect as mentioned by Malik. In this version there is no mention of the words otherwise he will be emancipated to the extent of the first mans share. His version ends and the slave be thus emancipated, to the same effect as he (Malik) mentioned.
Notes · وضاحت
١ ؎ : ابوہریرہ اور ابن عمر (رض) کی جملہ روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کرنے والا اگر مالدار ہے تو بقیہ حصہ کی قیمت اپنے شریک کو ادا کرے گا اور غلام آزاد ہوجائے گا ، ورنہ غلام سے بقیہ رقم کے لیے بغیر دباؤ کے محنت کرائی جائے گی ، اور جب یہ بھی ممکن نہ ہو تو بقیہ حصہ غلام ہی باقی رہے گا ، اور اسی کے بقدر وہ اپنے دوسرے مالک کی خدمت کرتا رہے گا۔ اس مفہوم کے اعتبار سے روایات میں کوئی اختلاف نہیں ہے ( فتح الباری ) ۔
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص (مشترک) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو جتنا حصہ باقی بچا ہے وہ بھی اسی کے مال سے آزاد ہوگا بشرطیکہ اس کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ غلام کی قیمت کو پہنچ سکے ۔
Ibn Umar reported the Prophet ﷺ as saying: If a man emancipates his share in a slave, the rest will be emancipated by his money if he has enough money to pay the full price for him.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو پھر ان میں سے ایک شخص اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر آزاد کرنے والا مالدار ہو تو اس غلام کی واجبی قیمت ٹھہرائی جائے گی نہ کم نہ زیادہ پھر وہ غلام آزاد کردیا جائے گا ١ ؎۔
Ibn Umar reported the Prophet ﷺ as saying: If a man is shared by two men, and one of them emancipates his share, a price of the slave will be fixed, not more or less, and he will be emancipated by him in case he is rich.
Notes · وضاحت
١ ؎ : اور اپنا حصہ آزاد کرنے والا اس واجبی قیمت میں سے جتنا حصہ دوسرے شریک کا ہوگا اسے ادا کرے گا۔
تلب بن ثعلبہ تمیمی عنبری (رض) روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کردیا تو نبی اکرم ﷺ نے اسے باقی قیمت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔ احمد کہتے ہیں : (صحابی کا نام) تلب تائے فوقانیہ سے ہے نہ کہ ثلب ثائے مثلثہ سے اور راوی حدیث شعبہ ہکلے تھے یعنی ان کی زبان سے تاء ادا نہیں ہوتی تھی وہ تاء کو ثاء کہتے تھے۔
Narrated ath-Thalabb (RA) : On the authority of his father: A man emancipated his share in a slave. The Prophet ﷺ did not put the responsibility on him to emancipate the rest. Ahmad said: The name Ibn al-Thalabb is to be pronounced with a ta (and not with tha). As Shubah could not pronounce ta, he said tha.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : 050 ٢) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ملقام بن تلب مجہول الحال ہیں، اور ان کی یہ روایت سابقہ صحیح روایات کے مخالف ہے )
سمرہ بن جندب (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو کسی قرابت دار محرم کا مالک ہوجائے تو وہ (ملکیت میں آتے ہی) آزاد ہوجائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : محمد بن بکر برسانی نے حماد بن سلمہ سے، حماد نے قتادہ اور عاصم سے، انہوں نے حسن سے، حسن نے سمرہ سے، سمرہ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی حدیث کے ہم مثل روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور اس حدیث کو حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے اور انہیں اس میں شک ہے۔
Narrated Samurah (RA) : The Prophet ﷺ said: (The narrator Musa said in another place: From Samurah ibn Jundub as presumed by Hammad): If anyone gets possession of a relative who is within the prohibited degrees, that person becomes free. Abu Dawud said: A similar tradition has also been transmitted by Samurah from the Prophet ﷺ through a different chain. Abu Dawud said: Only Hammad bin Salamah has transmitted this tradition and he had doubt in it.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأحکام ٢٨ (١٣٦٥) ، سنن ابن ماجہ/العتق ٥ (٢٥٢٤) ، (تحفة الأشراف : ١٨٥٣٤، ١٨٤٦٩، ١٨٥٤٦٩) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/ الکبری (٤٨٩٨، ٤٨٩٩) ، مسند احمد (٥/١٥، ١٨، ٢٠) (صحیح) (متابعات سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ ثقات نے مرفوعاً روایت کرنے میں حماد کی مخالفت کی ہے )
عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں جو کسی قرابت دار محرم کا مالک ہوجائے تو وہ (ملکیت میں آتے ہی) آزاد ہوجائے گا۔
Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : Qatadah reported Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) as saying: If anyone gets possession of a relative who is within the prohibited degrees, that person becomes free.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٤٥٨٥، ١٨٤٦٩، ١٨٥٣٤) (ضعیف) (سند میں قتادہ و عمر کے درمیان انقطاع ہے ، لیکن پچھلی مرفوع سند سے یہ روایت صحیح ہے )
حسن کہتے ہیں جو کسی قرابت دار محرم کا مالک ہوجائے تو (وہ ملکیت میں آتے ہی) آزاد ہوجائے گا۔
Qatadah reported Umar bin al-Khattab (ra) as saying: If anyone gets possession of a relative who is within the prohibited degrees, that person becomes free.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٨٥٣٤، ١٨٤٦٩، ٤٥٨٥) (صحیح )
جابر بن زید اور حسن سے بھی اسی کے ہم مثل مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں : سعید حماد (حماد بن سلمہ) سے زیادہ یاد رکھنے والے ہیں ١ ؎۔
A similar tradition has also been transmitted by Jabir bin Zaid and al-Hasan through a different chain of narrators. Abu Dawud said: The narrator Saeed retained te tradition more carefully than Hammad.
Notes · وضاحت
١ ؎ : مؤلف کا مقصد یہ ہے کہ : حماد نے قتادہ کے واسطے سے اس کو مرفوعاً روایت کیا ہے (جیسا کہ حدیث نمبر : ٣٩٤٩ میں ہے) مگر سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ کے واسطے سے یا تو عمر (رض) کے قول سے یا حسن کے قول سے روایت کیا ہے، اور ابن ابی عروبہ حماد کے بالمقابل زیادہ یاد رکھنے والے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٨٥٣٤، ١٨٤٦٩، ٤٥٨٥) (صحیح )
بنی خارجہ قیس عیلان کی ایک خاتون سلامہ بنت معقل کہتی ہیں کہ جاہلیت میں مجھے میرے چچا لے کر آئے اور ابوالیسر بن عمرو کے بھائی حباب بن عمرو کے ہاتھ بیچ دیا، ان سے عبدالرحمٰن بن حباب پیدا ہوئے، پھر وہ مرگئے تو ان کی بیوی کہنے لگی : قسم اللہ کی اب تو ان کے قرضہ میں بیچی جائے گی، یہ سن کر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں بنی خارجہ قیس عیلان کی ایک خاتون ہوں، جاہلیت میں میرے چچا مدینہ لے کر آئے اور ابوالیسر بن عمرو کے بھائی حباب بن عمرو کے ہاتھ مجھے بیچ دیا ان سے میرے بطن سے عبدالرحمٰن بن حباب پیدا ہوئے، اب ان کی بیوی کہتی ہے : قسم اللہ کی تو ان کے قرض میں بیچی جائے گی، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا : حباب کا وارث کون ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : ان کے بھائی ابوالیسر بن عمرو ہیں، آپ ﷺ نے انہیں کہلا بھیجا کہ اسے (سلامہ کو) آزاد کر دو ، اور جب تم سنو کہ میرے پاس غلام اور لونڈی آئے ہیں تو میرے پاس آنا، میں تمہیں اس کا عوض دوں گا، سلامہ کہتی ہیں : یہ سنا تو ان لوگوں نے مجھے آزاد کردیا، پھر جب رسول اللہ ﷺ کے پاس غلام اور لونڈی آئے تو آپ نے میرے عوض میں انہیں ایک غلام دے دیا۔
Narrated Sulamah bint Maqil al-Qasiyyah (RA) : My uncle brought me (to Madina) in the pre-Islamic days. He sold me to al-Hubab ibn Amr, brother of AbulYusr ibn Amr. I bore a child, Abdur Rahman ibn al-Hubab, to him and he (al-Hubab) then died. Thereupon his wife said: I swear by Allah, now you will be sold (as a repayment) for his loan. So I came to the Messenger of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah! I am a woman of Banu Kharijah Qays ibn Aylan. My uncle had brought me to Madina in pre-Islamic days. He sold me to al-Hubab ibn Amr, brother of AbulYusr ibn Amr. I bore Abdur Rahman ibn al-Hubab to him. His wife said: I swear by Allah, you will be sold for his loan. The Messenger of Allah ﷺ said: Who is the guardian of al-Hubab? He was told: His brother, AbulYusr ibn Amr. He then sent for him and said: Set her free; when you hear that some slaves have been brought to me, came to me, and I shall compensate you for her. She said: They set me free, and when some slaves were brought to the Messenger of Allah ﷺ , he gave them a slave in compensation for me.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٥٨٩٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٦٠) (ضعیف الإسناد) (اس کی راویہ ام خطاب مجہول ہیں )
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر (رض) کے عہد میں ام ولد ١ ؎ کو بیچا کرتے تھے، پھر جب عمر (رض) کا زمانہ آیا تو انہوں نے ہمیں اس کے بیچنے سے روک دیا چناچہ ہم رک گئے۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : We sold slave-mothers during the time of the Messenger of Allah ﷺ and of Abu Bakr. When Umar was in power, he forbade us and we stopped.
Notes · وضاحت
١ ؎ : ام ولد : اس لونڈی کو کہتے ہیں جو مالک کے نطفہ سے بچہ جنے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٨٣٥، ٢٤٧٥) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/العتق ٢ (٢٥١٧) (صحیح )
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد کردیا اور اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہ تھا، نبی اکرم ﷺ نے اس کے بیچنے کا حکم دیا تو وہ سات سویا نو سو میں بیچا گیا۔
Jabir bin Abdullah said: A man declared that his slave would be free after his death, but he had no other property. So the Prophet ﷺ ordered (to sell him). He was then sold for seven hundred or nine hundred (dirhams).
Notes · وضاحت
١ ؎ : مدبر : اس غلام کو کہتے ہیں جس کا مالک اس سے یہ کہہ دے کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو۔