Sunan Abu Dawoodسنن ابو داؤد

All 5,295 hadiths in order · Page 196 of 265

3916Sunan Abu Dawood

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ قال: قُلْتُ لِمُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ، قَوْلُهُ هَامَ، قَالَ: كَانَت الْجَاهِلِيَّةُ تَقُولُ: لَيْسَ أَحَدٌ يَمُوتُ، فَيُدْفَنُ، إِلَّا خَرَجَ مِنْ قَبْرِهِ هَامَةٌ، قُلْتُ: فَقَوْلُهُصَفَرَقَالَ: سَمِعْتُ أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ يَسْتَشْئِمُونَ بِصَفَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَفَرَ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَقَدْ سَمِعْنَا مَنْ يَقُولُ هُوَ وَجَعٌ يَأْخُذُ فِي الْبَطْنِ، فَكَانُوا يَقُولُونَ هُوَ يُعْدِي، فَقَالَ: لَا صَفَرَ.

بقیہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن راشد سے پوچھا کہ نبی اکرم ﷺ کے قول هام کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے: جو آدمی مرتا ہے اور دفن کردیا جاتا ہے تو اس کی روح قبر سے ایک جانور کی شکل میں نکلتی ہے، پھر میں نے پوچھا آپ کے قول لا صفر کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے سنا ہے کہ جاہلیت کے لوگ صفر کو منحوس جانتے تھے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: صفر میں نحوست نہیں ہے۔ محمد بن راشد کہتے ہیں: میں نے کچھ لوگوں کو کہتے سنا ہے: صفر پیٹ میں ایک قسم کا درد ہے، لوگ کہتے تھے: وہ متعدی ہوتا ہے (یعنی ایک کو دوسرے سے لگ جاتا ہے) تو آپ نے فرمایا: صفر کوئی چیز نہیں ہے ۔

Narrated Anas (RA) : The Prophet ﷺ as saying: There is no infection and no evil omen, and I like a good omen. Good omen means a good word.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (صحیح )
3917Sunan Abu Dawood

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ سُهَيلٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ كَلِمَةً فَأَعْجَبَتْهُ، فَقَالَ: أَخَذْنَا فَأْلَكَ مِنْ فِيكَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بات سنی جو آپ کو بھلی لگی تو آپ نے فرمایا: ہم نے تیری فال تیرے منہ سے سن لی (یعنی انجام بخیر ہے ان شاء اللہ) ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ heard a word, and he liked it, he said: We took your omen from your mouth.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٥٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٨٨) (صحیح )
3918Sunan Abu Dawood

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: يَقُولُ: وَجَعٌ يَأْخُذُ فِي الْبَطْنِ، النَّاسُ الصَّفَرُ، قُلْتُ: فَمَا الْهَامَةُ ؟، قَالَ: يَقُولُ النَّاسُ: الْهَامَةُ الَّتِي تَصْرُخُ هَامَةُ النَّاسِ وَلَيْسَتْ بِهَامَةِ الْإِنْسَانِ إِنَّمَا هِيَ دَابَّةٌ.

عطاء سے روایت ہے کہ لوگ کہتے تھے کہ صفر ایک قسم کا درد ہے جو پیٹ میں ہوتا ہے تو میں نے پوچھا: ہامہ کیا ہے؟ کہا: لوگ کہتے تھے: الو جو بولتا ہے وہ لوگوں کی روح ہے، حالانکہ وہ انسان کی روح نہیں بلکہ وہ ایک جانور ہے (اگلے لوگ جہالت سے اسے انسان کی روح سمجھتے تھے) ۔

Narrated Ata (RA) : People said: safar is a pain within the belly. I asked: What is hamah ? He said: People said (believed) that hamah which is an owl or a nightbird and which shrieks is the spirit of men. It is not the spirit of men. It is an animal.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (صحیح )
3919Sunan Abu Dawood

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَأبُو بَكْرِ بْنُ شَيْبَةَ الْمَعْنَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْعُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ أَحْمَدُ، الْقُرَشِيُّ قَالَ: ذُكِرَتِ الطِّيَرَةُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَحْسَنُهَا الْفَأْلُ وَلَا تَرُدُّ مُسْلِمًا فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ، فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ لَا يَأْتِي بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ.

عروہ بن عامر قرشی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس طیرہ (بدشگونی) کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اس کی سب سے اچھی قسم نیک فال، اور اچھا (شگون) ہے، اور فال (شگون) کسی مسلمان کو اس کے ارادہ سے باز نہ رکھے پھر جب تم میں سے کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے ناگوار ہو تو وہ یہ دعا پڑھے: اللهم لا يأتي بالحسنات إلا أنت ولا يدفع السيئات إلا أنت ولا حول ولا قوة إلا بك اے اللہ! تیرے سوا کوئی بھلائی نہیں پہنچا سکتا اور سوائے تیرے کوئی برائیوں کو روک بھی نہیں سکتا اور برائی سے باز رہنے اور نیکی کے کام کرنے کی طاقت و قوت صرف تیری توفیق ہی سے ملتی ہے ۔

Narrated Urwah ibn Amir al-Qurashi (RA) : When taking omens was mentioned in the presence of the Prophet ﷺ , he said: The best type is the good omen, and it does not turn back a Muslim. If one of you sees anything he dislikes, he should say: O Allah, no one brings good things except Thee, and no one averts evil things except Thee and there is no might and power but in Allah.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩٨٩٩) (ضعیف) (اس کے راوی عروہ قرشی تابعی ہیں اس لئے یہ روایت مرسل ہے )
3920Sunan Abu Dawood

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ لَا يَتَطَيَّرُ مِنْ شَيْءٍ، وَكَانَ إِذَا بَعَثَ عَامِلًا سَأَلَ عَنِ اسْمِهِ، فَإِذَا أَعْجَبَهُ اسْمُهُ فَرِحَ بِهِ وَرُئِيَ بِشْرُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهُ رُئِيَ كَرَاهِيَةُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَإِذَا دَخَلَ قَرْيَةً سَأَلَ عَنِ اسْمِهَا، فَإِنْ أَعْجَبَهُ اسْمُهَا فَرِحَ وَرُئِيَ بِشْرُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهَا رُئِيَ كَرَاهِيَةُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کسی چیز سے فال بد (بدشگونی) نہیں لیتے تھے اور جب آپ کسی عامل کو بھیجتے تو اس کا نام پوچھتے، اگر آپ ﷺ کو اس کا نام پسند آتا تو اس سے خوش ہوتے اور خوشی آپ کے چہرے پر نظر آتی اور اگر وہ پسند نہ آتا تو یہ ناپسندیدگی آپ کے چہرے پر دکھائی پڑتی، اور جب کسی بستی میں داخل ہوتے تو اس کا نام پوچھتے اگر وہ نام اچھا لگتا تو اس سے خوش ہوتے اور یہ خوشی آپ ﷺ کے چہرے پر دکھائی پڑتی اور اگر وہ ناپسند ہوتا تو یہ ناپسندیدگی آپ کے چہرے پر دکھائی پڑتی۔

Narrated Buraydah ibn al-Hasib: The Prophet ﷺ did not take omens from anything, but when he sent out an agent he asked about his name. If it pleased him, he was glad about it, and his cheerfulness on that account was visible in his face. If he disliked his name, his displeasure on that account was visible in his face. When he entered a village, he asked about its name, and if it pleased him, he was glad about it, and his cheerfulness on that account was visible in his face. But if he disliked its name, his displeasure on that account was visible in his face.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٩٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٤٧) (صحیح )
3921Sunan Abu Dawood

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، أَنَّ الْحَضْرَمِيَّ بْنَ لَاحِقٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: لَا هَامَةَ وَلَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، وَإِنْ تَكُنْ الطِّيَرَةُ فِي شَيْءٍ، فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ.

سعد بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: مردے کی روح جانور کی شکل میں نہیں نکلتی، اور نہ کسی کی بیماری کسی کو لگتی ہے، اور نہ کسی چیز میں نحوست ہے، اور اگر کسی چیز میں نحوست ہوتی تو گھوڑے، عورت اور گھر میں ہوتی ۔

Narrated Saad ibn Malik: The Prophet ﷺ said: There is no hamah, no infection and no evil omen; if there is in anything an evil omen, it is a house, a horse, and a woman.

Takhrij · تخریج
تفردبہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٨٦١)، وقد أخرجہ: حم (١/١٨٠، ١٨٦) (صحیح )
3922Sunan Abu Dawood

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ، وَسَالِمٍ ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا شَاهِدٌ، أَخْبَرَكَ ابْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: سُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الشُّؤْمِ فِي الْفَرَسِ وَالدَّارِ، قَالَ: كَمْ مِنْ دَارٍ سَكَنَهَا نَاسٌ، فَهَلَكُوا ثُمَّ سَكَنَهَا آخَرُونَ، فَهَلَكُوا ؟ فَهَذَا تَفْسِيرُهُ فِيمَا نَرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: حَصِيرٌ فِي الْبَيْتِ خَيْرٌ مِنَ امْرَأَةٍ لَا تَلِدُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نحوست گھر، عورت اور گھوڑے میں ہے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن مسکین پر پڑھا گیا اور میں موجود تھا کہ ابن قاسم نے آپ کو خبر دی ہے کہ امام مالک سے گھوڑے اور گھر کی نحوست کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: بہت سے گھر ایسے ہیں جس میں لوگ رہے تو وہ مرگئے پھر دوسرے لوگ رہنے لگے تو وہ بھی مرگئے، جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہی اس کی تفسیر ہے، واللہ اعلم۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمر ؓ نے کہا کہ گھر کی ایک چٹائی بانجھ عورت سے اچھی ہے۔

It was narrated from Abdullah bin Umar (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: An omen is in a dwelling, a woman or a horse. Abu Dawud said: This tradition was read out to al-Harith bin Miskin and I was witness. It was said to him that Ibn Qasim told him that Malik was asked about evil omen in a horse and in a house. He replied: There are many houses in which people lived and perished and again others lived therein and they also perished. This is its explanation so far as we know. Allah knows best. Abu Dawud said: Umar (ra) said: A mat in a house better than a woman who does not give birth to a child.

Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن عمر ؓ کی یہی روایت صحیح مسلم میں کئی سندوں سے اس طرح ہے: اگر نحوست کسی چیز میں ہوتی تو ان تین چیزوں میں ہوتی اور یہی مطلب اس عام روایت کا بھی ہے، اس کی وضاحت سعد بن مالک کی پچھلی روایت سے بھی ہو رہی ہے، اور وہ جو دیگر روایات میں ہے، جیسے حدیث نمبر ( ٣٩٢٤) تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ ظاہر کو حقیقت سمجھ بیٹھیں اور ان کا عقیدہ خراب ہوجائے اسی لئے اس گھر کو چھوڑ دینے کا حکم دیا جیسے کوڑھی سے بھاگنے کا حکم دیا، حالانکہ آپ نے ﷺ خود فرمایا ہے کہ: چھوت کی کوئی حقیقت نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ٤٧ (٢٨٥٨)، النکاح ١٧ (٥٠٩٣)، الطب ٤٣ (٥٧٥٣)، ٥٤ (٥٧٧٢)، صحیح مسلم/السلام ٣٤ (٢٢٢٥)، سنن الترمذی/الأدب ٥٨ (٢٨٢٤)، سنن النسائی/الخیل ٤ (٣٥٩٩)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٥ (١٩٩٥)، (تحفة الأشراف: ٦٨٦٤، ١٨٢٧٦، ٦٦٩٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان ٨ (٢٢)، مسند احمد (٢/٨، ٣٦، ١١٥، ١٢٦) (صحیح) (اس حدیث میں الشؤم کا لفظ آیا ہے، اور بعض روایتوں میں إنما الشؤم ہے جبکہ صحیحین وغیرہ میں ابن عمر سے إن کان الشؤم ثابت ہے، جس کے شواہد سعد بن أبی وقاص (کما تقدم: ٣٩٢١)، سہل بن سعد (صحیح البخاری/٥٠٩٥)، و جابر (صحیح مسلم/٢٢٢٧) کی احادیث میں ہیں، اس لئے بعض اہل علم نے پہلے لفظ کو شاذ قرار دیا ہے، (ملاحظہ ہو: الصحیحة: ٧٩٩، ٧٨٩، ١٨٥٧)۔
3923Sunan Abu Dawood

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَحِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ فَرْوَةَ بْنَ مُسَيْكٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْضٌ عِنْدَنَا يُقَالُ لَهَا أَرْضُ أَبْيَنَ هِيَ أَرْضُ رِيفِنَا وَمِيرَتِنَا وَإِنَّهَا وَبِئَةٌ، أَوْ قَالَ: وَبَاؤُهَا شَدِيدٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهَا عَنْكَ فَإِنَّ مِنَ الْقَرَفِ التَّلَفَ.

فروہ بن مسیک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ایک زمین ہے جسے ابین کہا جاتا ہے یہی ہمارا کھیت ہے جہاں سے ہمیں غلہ ملتا ہے لیکن یہ وبا والی زمین ہے یا کہا کہ اس کی وبا سخت ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم اس زمین کو اپنے سے علیحدہ کر دے کیونکہ اس کے ساتھ وبا لگی رہنے سے ہلاکت ہے ۔

Yahya ibn Abdullah ibn Buhayr said that he was informed by one who had heard Farwah ibn Musayk tell that he said: Messenger of Allah! we have land called Abyan, which is the land where we have our fields and grow our crops, but it is very unhealthy. The Prophet ﷺ said: Leave it, for destruction comes from being near disease.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٠٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٥١) (ضعیف الإسناد) (فروة کے شاگرد مبہم ہیں )
3924Sunan Abu Dawood

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا فِي دَارٍ كَثِيرٌ فِيهَا عَدَدُنَا، وَكَثِيرٌ فِيهَا أَمْوَالُنَا، فَتَحَوَّلْنَا إِلَى دَارٍ أُخْرَى فَقَلَّ فِيهَا عَدَدُنَا وَقَلَّتْ فِيهَا أَمْوَالُنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَرُوهَا ذَمِيمَةً.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم ایک گھر میں تھے تو اس میں ہمارے لوگوں کی تعداد بھی زیادہ تھی اور ہمارے پاس مال بھی زیادہ رہتا تھا پھر ہم ایک دوسرے گھر میں آگئے تو اس میں ہماری تعداد بھی کم ہوگئی اور ہمارا مال بھی گھٹ گیا، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، مذموم حالت میں ١ ؎۔

Narrated Anas ibn Malik: A man said: Messenger of Allah! we were in an abode in which our numbers and our goods were many and changed to an abode in which our numbers and our goods became few. The Messenger of Allah ﷺ said: Leave it, for it is reprehensible.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس گھر کو چھوڑ دینے کا حکم آپ ﷺ نے اس لئے دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ گھر ہی کو مؤثر سمجھنے لگ جائیں اور شرک میں پڑجائیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٣) (حسن )
3925Sunan Abu Dawood

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَخَذَ بِيَدِ مَجْذُومٍ فَوَضَعَهَا مَعَهُ فِي الْقَصْعَةِ، وَقَالَ: كُلْ ثِقَةً بِاللَّهِ وَتَوَكُّلًا عَلَيْهِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ پیالہ میں رکھ لیا اور فرمایا: اللہ پر بھروسہ اور اعتماد کر کے کھاؤ ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ took a man who was suffering from tubercular leprosy by the hand; he then put it along with his own hand in the dish and said: Eat with confidence in Allah and trust in Him.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأطعمة ١٩ (١٨١٧)، سنن ابن ماجہ/ الطب ٤٤ (٣٥٤٢)، (تحفة الأشراف: ٣٠١٠) (ضعیف) (اس کے راوی مفضّل بن فضالة بصری ضعیف ہیں )
3926Sunan Abu Dawood

مکاتب کچھ بدل کتابت دے چکا اور مزید دینے پر وقار نہ ہو یا مرجائے تو کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عُتْبَةَ إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْعَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ مُكَاتَبَتِهِ دِرْهَمٌ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مکاتب ١ ؎ اس وقت تک غلام ہے جب تک اس کے بدل کتابت (آزادی کی قیمت) میں سے ایک درہم بھی اس کے ذمہ باقی ہے ۔

Narrated Amr bin Shuaib: on his fathers authority, told that his grandfather reported the Prophet ﷺ said: A slave who has entered into an agreement to purchase his freedom is a slave as long as a dirham of the agreed price remains to be paid.

Notes · وضاحت
١ ؎: مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جو اپنے مالک سے کسی مخصوص رقم کی ادائیگی کے بدلے اپنی آزادی کا معاہدہ کرلے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٧٠٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع ٣٥ (١٢٦٠)، سنن ابن ماجہ/العتق ٣ (٢٥١٩)، مسند احمد (٢/١٧٨، ٢٠٦، ٢٠٩) (حسن )
3927Sunan Abu Dawood

مکاتب کچھ بدل کتابت دے چکا اور مزید دینے پر وقار نہ ہو یا مرجائے تو کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ، فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَةَ أَوَاقٍ فَهُوَ عَبْدٌ، وَأَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ دِينَارٍ، فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَةَ دَنَانِيرَ فَهُوَ عَبْدٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَيْسَ هُوَ عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ، قَالُوا: هُوَ وَهْمٌ وَلَكِنَّهُ هُوَ شَيْخٌ آخَرُ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس غلام نے سو اوقیہ پر مکاتبت کی ہو پھر اس نے اسے ادا کردیا ہو سوائے دس اوقیہ کے تو وہ غلام ہی ہے (ایسا نہیں ہوگا کہ جتنا اس نے ادا کردیا اتنا وہ آزاد ہوجائے) اور جس غلام نے سو دینار پر مکاتبت کی ہو پھر وہ اسے ادا کر دے سوائے دس دینار کے تو وہ غلام ہی رہے گا (جب تک اسے پورا نہ ادا کر دے) ۔

Narrated Amr bin Shuaib: On his fathers authority, told that his grandfather reported the Prophet ﷺ said: If any slave entered into an agreement to buy his freedom for one hundred uqiyahs and he pays them all but ten, he remains a slave (until he pays the remaining ten); and if a slave entered into an agreement to purchase his freedom for one hundred dinars, and he pays them all but ten dinars, he remains a slave (until he pays the remaining ten). Abu Dawud said: This narrator Abbas al-Jariri is not the same person. They said: It is misunderstanding. He is some other narrator.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٧٢٥)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (٥٠٢٦)، مسند احمد (٢/١٨٤) (حسن )
3928Sunan Abu Dawood

مکاتب کچھ بدل کتابت دے چکا اور مزید دینے پر وقار نہ ہو یا مرجائے تو کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَبْهَانَ مُكَاتَبِ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ كَانَ لِإِحْدَاكُنَّ مُكَاتَبٌ فَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي، فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے مکاتب غلام نبھان کہتے ہیں کہ میں نے ام سلمہ ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: جب تم عورتوں میں سے کسی کا کوئی مکاتب ہو اور اس کے پاس اتنا مال ہو جس سے وہ اپنا بدل کتابت ادا کرلے جائے تو تمہیں اس سے پردہ کرنا چاہیئے (کیونکہ اب وہ آزاد کی طرح ہے) ۔

Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said to us: If one of you has a slave, and he enters into an agreement to purchase his freedom, and can pay the full price, she must veil herself from him.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ البیوع ٣٥ (١٢٦١)، سنن ابن ماجہ/العتق ٣ (٢٥٢٠)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٨٩، ٣٠٨، ٣١١) (ضعیف) (اس کے روای نبھان لین الحدیث ہیں اور ام المومنین عائشہ ؓ کی روایت کے مطابق امھات المؤمنین کا عمل اس کے برعکس تھا، ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل: ١٧٦٩ )
3929Sunan Abu Dawood

جب معاہدہ کتابت منسوخ ہوجائے تو غلام کی فروخت کا کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي، فَعَلْتُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا، فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ، وَيَكُونُ لَنَا وَلَاؤُكِ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَلَيْسَ لَهُ وَإِنْ شَرَطَهُ مِائَةَ مَرَّةٍ شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ.

عروہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے انہیں بتایا کہ بریرہ ؓ اپنے بدل کتابت کی ادائیگی میں تعاون کے لیے ان کے پاس آئیں ابھی اس میں سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا، تو ام المؤمنین عائشہ ؓ نے ان سے کہا: اپنے آدمیوں سے جا کر پوچھ لو اگر انہیں یہ منظور ہو کہ تمہارا بدل کتابت ادا کر کے تمہاری ولاء ١ ؎ میں لے لوں تو میں یہ کرتی ہوں، بریرہ ؓ نے اپنے آدمیوں سے جا کر اس کا ذکر کیا تو انہوں نے ولاء دینے سے انکار کیا اور کہا: اگر وہ اسے ثواب کی نیت سے کرنا چاہتی ہیں تو کریں، تمہاری ولاء ہماری ہی ہوگی، ام المؤمنین عائشہ ؓ نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے ان سے فرمایا: تم خرید کر اسے آزاد کر دو ولاء تو اسی کی ہوگی جو آزاد کرے پھر آپ ﷺ (مسجد میں خطبہ کے لیے) کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگوں کا کیا حال ہے وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہیں، جو شخص بھی ایسی شرط لگائے جو اللہ کی کتاب میں نہ ہو تو اس کی شرط صحیح نہ ہوگی اگرچہ وہ سو بار شرط لگائے، اللہ ہی کی شرط سچی اور مضبوط شرط ہے ۔

Urwah quoting from Aisha (RA) said that Barirah came to her seeking her help to purchase her freedom, and she did not pay anything for her freedom. Aisha (RA) said to her: Return to your people ; if you like that I make payment for the purchase of your freedom on your behalf and I shall have the right to inherit from you, I shall do so. Barirah mentioned it to her people, but they refused and said: If she wants to purchase your freedom for reward from Allah, she may do so, but the right to inherit from her shall be ours. She mentioned it to the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ said: Purchase her (freedom) and set her free, for the right of inheritance belongs to only to the one who set a person free. The Messenger of Allah (saw) then stood up and said: If anyone makes a condition which is not in Allahs Book, he has no right to it, even if he stipulates it hundred times. Allahs condition is more valid and binding.

Notes · وضاحت
١ ؎: ولاء وہ ترکہ ہے جسے آزاد کیا ہوا غلام چھوڑ کر مرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ المکاتب ٢ (٢٥٦١)، الشروط ١١ (٢٧٢٧)، صحیح مسلم/ العتق ٢ (١٥٠٤)، سنن الترمذی/ الوصایا ٧١ (٢١٢٤)، سنن النسائی/ البیوع ٨٣ (٤٦٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٨١) (صحیح )
3930Sunan Abu Dawood

جب معاہدہ کتابت منسوخ ہوجائے تو غلام کی فروخت کا کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ لِتَسْتَعِينَ فِي كِتَابَتِهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ، فَأَعِينِينِي، فَقَالَتْ: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا عَدَّةً وَاحِدَةً وَأَعْتِقَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ فَذَهَبَتْ إِلَى أَهْلِهَا وَسَاقَ الْحَدِيثَ نَحْوَ الزُّهْرِيِّ زَادَ فِي كَلَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِهِ مَا بَالُ رِجَالٍ يَقُولُ أَحَدُهُمْ: أَعْتِقْ يَا فُلَانُ وَالْوَلَاءُ لِي إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ بریرہ ؓ اپنے بدل کتابت میں تعاون کے لیے ان کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں نے اپنے لوگوں سے نو اوقیہ پر مکاتبت کرلی ہے، ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنا ہے، لہٰذا آپ میری مدد کیجئے، تو انہوں نے کہا: اگر تمہارے لوگ چاہیں تو میں ایک ہی دفعہ انہیں دے دوں، اور تمہیں آزاد کر دوں البتہ تمہاری ولاء میری ہوگی ؛ چناچہ وہ اپنے لوگوں کے پاس گئیں پھر راوی پوری حدیث زہری والی روایت کی طرح بیان کی، اور نبی اکرم ﷺ کے کلام کے آخر میں یہ اضافہ کیا کہ: لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ دوسروں سے کہتے ہیں: تم آزاد کر دو اور ولاء میں لوں گا (کیسی لغو بات ہے) ولاء تو اس کا حق ہے جو آزاد کرے ١ ؎۔

Aishah said: Barirah came seeking my help to purchase her freedom. She said: I have arranged with my people to buy my freedom for nine uqiyahs: one to be paid annually. So help me. She (Aishah) said: If your people are willing that I should count them (uqiyahs) out to them all at one time and set you free and that I shall have the right to inherit from you, I shall do so. She then went to her people. The narrator then transmitted the rest of the tradition like the version of al-Zuhri. He added to the wordings of the Prophet ﷺ in the last: What is the matter with people that one of you says: Set free, O so-and-so, and the right of inheritance belongs to me. The right of inheritance belongs to the one who has set a person free.

Notes · وضاحت
١ ؎: بریرہ ؓ کے واقعہ سے باب کی مطابقت اس طرح ہے کہ: مکاتب غلام کو بیچنا جائز نہیں، جب کہ آپ ﷺ نے بریرہ کی خریدو فروخت کو جائز قرار دیا: تو گویا مکاتبت کا معاملہ فسخ کردیا گیا تب ام المومنین عائشہ ؓ نے بریرہ کو خریدا اور یہی مطابقت اگلی حدیث میں بھی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (٢٢٣٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٢٩٦) (صحیح )
3931Sunan Abu Dawood

جب معاہدہ کتابت منسوخ ہوجائے تو غلام کی فروخت کا کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْأَصْبَغِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ فِي سَهْمِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ أَوِ ابْنِ عَمٍّ لَهُ فَكَاتَبَتْ عَلَى نَفْسِهَا وَكَانَتِ امْرَأَةً مَلَّاحَةً تَأْخُذُهَا الْعَيْنُ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَجَاءَتْ تَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كِتَابَتِهَا فَلَمَّا قَامَتْ عَلَى الْبَابِ، فَرَأَيْتُهَا كَرِهْتُ مَكَانَهَا، وَعَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَرَى مِنْهَا مِثْلَ الَّذِي رَأَيْتُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ وَإِنَّمَا كَانَ مِنْ أَمْرِي مَا لَا يَخْفَى عَلَيْكَ وَإِنِّي وَقَعْتُ فِي سَهْمِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَإِنِّي كَاتَبْتُ عَلَى نَفْسِي، فَجِئْتُكَ أَسْأَلُكَ فِي كِتَابَتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَهَلْ لَكِ إِلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ ؟، قَالَتْ: وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟، قَالَ: أُؤَدِّي عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَأَتَزَوَّجُكِ، قَالَتْ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَتْ: فَتَسَامَعَ تَعْنِي النَّاسَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَزَوَّجَ جُوَيْرِيَةَ، فَأَرْسَلُوا مَا فِي أَيْدِيهِمْ مِنَ السَّبْيِ، فَأَعْتَقُوهُمْ وَقَالُوا: أَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْنَا امْرَأَةً كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَى قَوْمِهَا مِنْهَا أُعْتِقَ فِي سَبَبِهَا مِائَةُ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا حُجَّةٌ فِي أَنَّ الْوَلِيَّ هُوَ يُزَوِّجُ نَفْسَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ام المؤمنین جویریہ بنت حارث بن مصطلق ؓ ثابت بن قیس بن شماس ؓ یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصہ میں آئیں تو جویریہ نے ان سے مکاتبت کرلی، اور وہ ایک خوبصورت عورت تھیں جسے ہر شخص دیکھنے لگتا تھا، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنے بدل کتابت میں تعاون مانگنے کے لیے آئیں، جب وہ دروازہ پر آ کر کھڑی ہوئیں تو میری نگاہ ان پر پڑی مجھے ان کا آنا اچھا نہ لگا اور میں نے اپنے دل میں کہا کہ عنقریب آپ بھی ان کی وہی ملاحت دیکھیں گے جو میں نے دیکھی ہے، اتنے میں وہ بولیں: اللہ کے رسول! میں جویریہ بنت حارث ہوں، میرا جو حال تھا وہ آپ سے پوشیدہ نہیں ١ ؎ ثابت بن قیس کے حصہ میں گئی ہوں، میں نے ان سے مکاتبت کرلی ہے، اور آپ کے پاس اپنے بدل کتابت میں تعاون مانگنے آئی ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اس سے بہتر کی رغبت رکھتی ہو؟ وہ بولیں: وہ کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہارا بدل کتابت ادا کردیتا ہوں اور تم سے شادی کرلیتا ہوں وہ بولیں: میں کرچکی (یعنی مجھے یہ بخوشی منظور ہے) ۔ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: پھر جب لوگوں نے ایک دوسرے سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے جویریہ سے شادی کرلی ہے تو بنی مصطلق کے جتنے قیدی ان کے ہاتھوں میں تھے سب کو چھوڑ دیا انہیں آزاد کردیا، اور کہنے لگے کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے سسرال والے ہیں، ہم نے کوئی عورت اتنی برکت والی نہیں دیکھی جس کی وجہ سے اس کی قوم کو اتنا زبردست فائدہ ہوا ہو، ان کی وجہ سے بنی مصطلق کے سو قیدی آزاد ہوئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث دلیل ہے اس بات کی کہ ولی خود نکاح کرسکتا ہے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Juwayriyyah, daughter of al-Harith ibn al-Mustaliq, fell to the lot of Thabit ibn Qays ibn Shammas, or to her cousin. She entered into an agreement to purchase her freedom. She was a very beautiful woman, most attractive to the eye. Aisha (RA) said: She then came to the Messenger of Allah ﷺ asking him for the purchase of her freedom. When she was standing at the door, I looked at her with disapproval. I realised that the Messenger of Allah ﷺ would look at her in the same way that I had looked. She said: Messenger of Allah, I am Juwayriyyah, daughter of al-Harith, and something has happened to me, which is not hidden from you. I have fallen to the lot of Thabit ibn Qays ibn Shammas, and I have entered into an agreement to purchase of my freedom. I have come to you to seek assistance for the purchase of my freedom. The Messenger of Allah ﷺ said: Are you inclined to that which is better? She asked: What is that, Messenger of Allah? He replied: I shall pay the price of your freedom on your behalf, and I shall marry you. She said: I shall do this. She (Aishah) said: The people then heard that the Messenger of Allah ﷺ had married Juwayriyyah. They released the captives in their possession and set them free, and said: They are the relatives of the Messenger of Allah ﷺ by marriage. We did not see any woman greater than Juwayriyyah who brought blessings to her people. One hundred families of Banu al-Mustaliq were set free on account of her. Abu dawud said: This evidence shows that a Muslim ruler may marry a slave woman himself.

Notes · وضاحت
وضاحت ١ ؎: یعنی آپ ﷺ کو معلوم ہے کہ میں ایک رئیس کی صاحبزادی ہوں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٦٣٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٧٧، ٦/٢٧٧) (حسن )
3932Sunan Abu Dawood

مشروط آزادی کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوكًا لِأُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: أُعْتِقُكَ وَأَشْتَرِطُ عَلَيْكَ أَنْ تَخْدُمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتَ، فَقُلْتُ: وَإِنْ لَمْ تَشْتَرِطِي عَلَيَّ مَا فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتُ، فَأَعْتَقَتْنِي وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ.

سفینہ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کا غلام تھا، وہ مجھ سے بولیں: میں تمہیں آزاد کرتی ہوں، اور شرط لگاتی ہوں کہ تم جب تک زندہ رہو گے رسول اللہ ﷺ کی خدمت کرتے رہو گے، تو میں نے ان سے کہا: اگر آپ مجھ سے یہ شرط نہ بھی لگاتیں تو بھی میں جیتے جی رسول اللہ ﷺ کی خدمت سے جدا نہ ہوتا، پھر انہوں نے مجھے اسی شرط پر آزاد کردیا۔

Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : Safinah said: I was a slave of Umm Salamah, and she said: I shall emancipate you, but I stipulate that you must serve the Messenger of Allah ﷺ as long as you live. I said: Even if you do not make a stipulation, I shall not leave the Messenger of Allah ﷺ . She then emancipated me and made the stipulation with me.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/العتق ٦ (٢٥٢٦)، (تحفة الأشراف: ٤٤٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٢١) (حسن )
3933Sunan Abu Dawood

غلام کے کسی حصہ کو آزاد کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْمَعْنَى، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ،عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًاأَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ مِنْ غُلَامٍ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَيْسَ لِلَّهِ شَرِيكٌ، زَادَ ابْنُ كَثِيرٍ فِي حَدِيثِهِ: فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِتْقَهُ.

اسامہ بن عمیر الہذلی ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے غلام میں سے اپنے حصہ کو آزاد کردیا، نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ ابن کثیر نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ پھر نبی اکرم ﷺ نے اس کی آزادی کو نافذ کردیا۔

Narrated Abu al-Malih: On his fathers authority (this is AbulWalids version): A man emancipated a share in a slave and the matter was mentioned to the Prophet ﷺ . He said: Allah has no partner. Ibn Kathir added in his version: The Prophet ﷺ allowed his emancipation.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الکبری العتق ١٧ (٤٩٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٧٤، ٧٥) (صحیح )
3934Sunan Abu Dawood

مشترک غلام میں سے کوئی اپنا حصہ آزاد کرے تو کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ مِنْ غُلَامٍ، فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِتْقَهُ وَغَرَّمَهُ بَقِيَّةَ ثَمَنِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں ایک شخص نے کسی غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کردیا تو نبی اکرم ﷺ نے اس کی آزادی کو نافذ کردیا اور اس سے اس کے بقیہ قیمت کا تاوان دلایا۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : A man emancipated his share in a slave. The Prophet ﷺ allowed his (full) emancipation, and required him to pay the rest of his price.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشرکة ٥ (٢٤٩٢)، ١٤ (٢٥٠٤)، والعتق ٥ (٢٥٢٧)، صحیح مسلم/العتق ١ (١٥٠٣)، سنن الترمذی/الأحکام ١٤ (١٣٤٦)، سنن ابن ماجہ/العتق ٧ (٢٥٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٢١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥٥، ٣٤٧، ٤٢٦، ٤٦٨، ٤٧٢، ٥٣١) (صحیح )
3935Sunan Abu Dawood

مشترک غلام میں سے کوئی اپنا حصہ آزاد کرے تو کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، قَالَا: حَدَّثَنَاشُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ بِإِسْنَادِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ، فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ سُوَيْدٍ.

قتادہ اس سند سے بھی نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جس نے کسی ایسے غلام کو جو اس کے اور کسی اور کے درمیان مشترک ہے آزاد کیا تو اس کے ذمہ اس کی مکمل خلاصی ہوگی ١ ؎، یہ ابن سوید کے الفاظ ہیں۔

Qatadah narrated with his chain of narrators: The Prophet ﷺ said: If a man emancipates a slave shared by him with another man, his emancipation rests with him (who emancipated his share). This is the version of Ibn Suwaid.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دوسرے شریک کے حصہ کی قیمت بھی اسی کو ادا کرنی ہوگی۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٢٢١١) (صحیح )