6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 6:123

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا١ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:123 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم پیدا کیے کہ ان میں مکاّریاں کرتے رہیں۔ اور جو مکاّریاں یہ کرتے ہیں ان کا نقصان انہی کو ہے اور (اس سے) بیخبر ہیں۔

آیت نمبر : 123 قولہ تعالیٰ : آیت : وکذلک جعلنا فی کل قریۃ اکبر مجرمیھا اس کا معنی ہے : جس طرح ہم نے کافروں کے لیے ان اعمال کو آراستہ کیا جو وہ کیا کرتے تھے اسی طرح ہم نے ہر بستی میں بنایا۔ مجرمیھا یہ جعل کا مفعول اول ہے۔ اکبر یہ مفعول ثانی ہے اور ان میں تقدیم و تاخیر ہے۔ اور جعل بمعنی صیر ہے۔ اور الاکابر، الاکبر کی جمع ہے۔ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : اس سے مراد عظماء ( بڑے لوگ) ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اکابر سے مراد رؤساء اور عظماء ہیں۔ اور انہیں خاص طور پر اس لیے ذکر کیا ہے کیونکہ یہ فساد برپا کرنے پر زیادہ قدرت رکھتے ہیں۔ اور مکر کا معنی استقامت کی مخالف میں حیلہ کرنا ہے۔ اور اس کا اصل معنی الفتل ( ہٹنا) ہے۔ پس مکرو فریب کرنے والا استقامت سے پھرجاتا ہے۔ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : وہ ہر گھاٹی پر چار چار بیٹھتے تھے اور لوگوں کو حضور نبی کریم ﷺ کی اتباع اور پیروی سے نفرت دلاتے تھے جیسا کہ ان سے پہلے امم ماضیہ نے اپنے انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ کیا۔ آیت : وما یمکرون الا بانفسھم یعنی ان کے مکرو فریب کا وبال انہیں کی طرف لوٹتا ہے۔ اور یہی اللہ تعالیٰ کی جانب سے درد ناک عذاب کے ساتھ مکر کی جزا اور بدلہ ہے۔ آیت : وما یشعرون اور وہ اپنی فرط جہالت کی وجہ سے فی الحال اس بات کو نہیں سمجھتے کہ ان کے فریب کا وبال انہیں کی طرف لوٹے گا۔
Ayah 6:124

وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ١ؔۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 6:124 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ جس طرح کی رسالت خدا کے پیغمبروں کی ملی ہے جب تک اسی طرح کی رسالت ہم کو نہ ملے ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔ اس کو خدا ہی خوب جانتا ہے کہ (رسالت کا کون سا محل ہے اور) وہ اپنی پیغمبری کسے عنایت فرمائے جو لوگ جرم کرتے ہیں ان کو خدا کے ہاں ذلّت اور عذاب شدید ہوگا۔ اس لیے کہ مکاّریاں کرتے تھے۔

آیت نمبر : 124 قولہ تعالیٰ : آیت : واذا جآء تھم ایۃ قالوا لن نؤمن اس میں ان کی جہالت کی ایک دوسری جیز بیان فرمائی اور وہ کہ کہ وہ کہنے لگے : ہم ہر گز ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ ہم انبیاء ہوجائیں اور ہمیں انہیں نشانیوں کی طرح عطا کی جائیں جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کی گئیں۔ اور اسی کی مثل یہ آیت ہے آیت : بل یرید کل امریء منھم ان یؤتیٰ صحفا منشرہ (المدثر) ( بلکہ ان میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ ان کو کھلے صحیفے دیئے جائیں) ۔ اور جآء تھم میں ضمیر ان اکابر کی طرف لوٹ رہی ہے جن کا ذکر جاری ہے۔ ولید بن مغیرہ (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 414) نے کہا : اگر نبوت حق ہے تو پھر میں اس کے لیے تم سے زیادہ اہل اور بہتر ہوں، یا کیونکہ میں عمر کے اعتبار سے تم سے بڑا ہوں اور میرا مال تم سے زیادہ ہے۔ اور ابو جہل نے کہا : قسم بخدا ! ہم اس کے ساتھ راضی ہوں گے اور نہ کبھی اس کی اتباع کریں گے، مگر اس صورت میں کہ ہمارے پاس بھی اسی طرح وحی آئے جیسے ان کے پاس آتی ہے (ایضا) ۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : انہوں نے نبوت کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ انہوں نے کہا : ہم تمہاری تصدیق نہ کریں گے یہاں تک کہ ہمارے پاس حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) اور دیگر ملائکہ آئیں اور وہ ہمیں آپ کی صداقت کے بارے خبر دیں۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ یعنی اس کے بارے جسے اس پرا میں بنایا گیا ہے اور جو اس کا محل ہے۔ اور حیث یہاں ظرف نہیں ہے، بلکہ یہ اہم ہے اس میں وسعت ہونے کی بنا پر مفعول بہ ہونے کی حیثیت سے اسے نصب دی گئی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ رسالت کے اہل کو خوب جانتا ہے اور یہ اصل عبارت اس طرح ہے اللہ اعلم بمواضع رسالتہ اللہ تعالیٰ اپنی رسالت کی جگہوں کو خوب جانتا ہے، پھر حرف کو حذف کردیا گیا اور یہ جائز نہیں ہے کہ اعلم، حیث میں عمل کرے اور وہ ظرف ہو، کیونکہ اس پر معنی یہ ہوگا اللہ اعلم فی ھذا الموضع ( اللہ تعالیٰ اس محل میں کو ب جانتا ہے) اور یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کے ساتھ متصف کیا جائے، بلاشبہ اس کا محل اس فعل مضمر کے ساتھ نصب ہے جس پر ” اعلم “ دلالت کرتا ہے اور یہ اسم ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کردیا ہے۔ اور الصغار کا معنی ظلم، ذلت اور حقارت ہے، اور اسی طرح الصغر (بالضم) بھی ہے۔ اور مصدر الصغر ہے۔ اور اس کی اصل الصغر ہے جو کبر کا مقابل ہے۔ گویا ذلت آدمی کی ذات کو چھوٹا کردیتی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کی اصل الصغر ہے اور اس کا معنی ہے ذلت کے ساتھ راضی ہونا۔ اسی سے کہا جاتا ہے : صغر یصغر ماضی میں غین مفتوح ہے اور مضارع میں مضموم ہے۔ اور صغر، یصغر ماضی میں غین مکسور ہے اور مضارع میں مفتوح ہے اس میں یہ دونوں لغتیں ہیں، صغرا وصغار اور اسم فاعل صاغر اور صغیر ہوگا۔ اور صاغر کا معنی ہے ظلم کے ساتھ راضی ہونے والا۔ اور المصغوراء کا معنی الصغار ( حقیر) ہے اور ارض مصغرۃ کا معنی ہے ایسی زمین جس کی فصل نہ بڑھے۔ یہ ابن السکیت سے منقول ہے۔ عند اللہ، ای من عنداللہ ( یعنی اللہ تعالیٰ کی جانب سے) اور پھر اسے حذف کردیا گیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس میں تقدیم و تاخیر ہے، (اصل عبارت ہے) سیصیب الذین اجرموا عند اللہ صغار اور فراء نے کہا ہے : سیصیب الذین اجرمواصغار من اللہ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے سیصیب الذین اجرمواصغار ثابت عند اللہ عنقریب انہیں پہنچے گی جنہوں نے جرم کیے ذلت جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ثابت ہے۔ اور نحاس نے کہا ہے : یہ تمام اقوال میں سے احسن ہے، کیونکہ اس میں عند اپنے محل میں واقع ہے۔
Ayah 6:125

فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:125 in the Quran reader

تو جس شخص کو خدا چاہتا ہے کہ ہدایت بخشے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کریتا ہے گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے۔ اس طرح خدا ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے عذاب بھیجتا ہے۔

آیت نمبر 125 قولہ تعالیٰ : آیت : فمن یرد اللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام یعنی وہ اسلام کے لے اس کا سینہ وسیع کردیتا ہے اور اسے توفیق عطا فرما دیتا ہے اور اس کے نزدیک اس کا اجروثواب مزین اور آراستہ کردیتا ہے۔ اور کہا جاتا ہے : شرح کا معنی شق کرنا ہے، اور اس کی اصل التوسعۃ ( وسعت کرنا) ہے۔ اور آیت : شرح اللہ صدرہ (الزمر : 22) کا معنی ہے اس نے اس پر سینہ اس کی وضاحت وبیان کے ساتھ وسیع کردیا اور شرحت الامر کا معنی ہے میں نے اس کو بیان کردیا اور اسے خوب واضح کردیا۔ اور قریش عورتوں کے لیے خوب وسعت رکھتے تھے۔ اس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ کا نت قریش تشرح النساء شرھا یہ توسعۃ البسط سے ماخوذ ہے اور یہ عورت کو گدی کے بل چت لٹا کر اس سے سے وطی کرنا ہے۔ اور الشرح کا معنی الکشف ( ظاہر کرنا اور ننگا کرنا) ہے۔ آپ کہتے ہیں : شرحت الغامض میں نے ڈھانپی ہوئی چیز کو ظاہر کردیا، ننگا کردیا۔ اور اسی سے تشریح اللحم ( گوشت کو لمبے لمبے ٹکڑوں میں کاٹنا) بھی ہے۔ راجز نے کہا ہے : کم قد اکلت کبدا وانفحہ ثم ادخرت الیۃ مشرحۃ ” اور گوشت کا ٹکڑا شریحہ کہلاتا ہے۔ اور گوشت کا ہر موٹا اور لمبا ٹکڑا شریحہ کہلاتا ہے “۔ آیت : ومن یرید ان یضلہ اور جس کے لیے ارادہ فرماتا ہے کہ اسے گمرہ کردے۔ آیت : یجعل صدرہ ضیقا حرجا ( تو اس کے سینہ کو بہت تنگ بنا دیتا ہے) یہ قدریہ کا رد ہے۔ اس آیت کی نظیر سنت میں سے حضور نبی مکرم ﷺ کا یہ ارشاد ہے : من یرد اللہ بہ خیرا یفقھہ فی الدین (صحیح بخاری، کتاب العلم، جلد 2، صفحہ 1087) ( جس کے بارے اللہ تعالیٰ خیر اور بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین کی فقاہت اور سمجھ عطا فرما دیتا ہے) ۔ اسے صحیحین نے نقل کیا ہے۔ اور یہ نہیں ہو سکتا مگر تبھی جب سینہ وسیع اور نور سے منور ہو۔ اور دین سے مراد عبادات ہیں، جیسا کہ ارشاد فرمایا : آیت : ان الدین عند اللہ الاسلام ( آل عمران : 19) ( بیشک دین اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے) اور اس کے خطاب کی دلیل یہ ہے کہ جس کے لیے اللہ تعالیٰ خیر اور بھلائی کا ارادہ نہیں فرماتا اس کا سینہ تنگ کردیتا ہے، اس کی فہم کو ( معانی سے) دور کردیتا ہے اور اسے فقاہت عطا نہیں کرتا۔ واللہ اعلم اور روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ کیا سینہ کھل جاتا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : نعم یدخل القلب نور ( ہاں دل میں نور داخل ہوجاتا ہے) تو انہوں نے عرض کی : کیا اس کی کوئی علامت بھی ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : التجافی عن دار الغرور والانابۃ الی دار الخلود والاستعداد للموت قبل نزول الموت (تفسیر طبری، جلد 9، صفحہ 542۔ 543) ( دار الغرور (دنیا) سے دوری اختیار کرنا اور دار الخلود ( آخرت) کی طرف میلان رکھنا اور موت آنے سے پہلے موت کی تیاری کرنا) ۔ اور ابن کثیر نے ضیقا تخفیف کے ساتھ قرأت کی ہے، مثلا ھین اور لین یہ دونوں لغتیں ہیں۔ اور نافع اور ابوبکر نے حرجا کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس کا معنی ہے : ( تنگی) معنی کو مکرر لایا گیا ہے اور یہ لفظ مختلف ہونے کے سبب اچھا اور خوبصورت ہے۔ اور باقیوں نے فتحہ کے ساتھ حرجا قرأت کی ہے، یہ حرجۃ کی جمع ہے۔ اور اس کا معنی بھی بہت زیادہ تنگی کا ہونا ہے اور الحرجۃ اس کا معنی الغیضۃ ( گھنے درختوں والی جگہ، جنگل) ہے اور اس کی جمع حرج اور حرجات ہے۔ اور اسی سے ہے فلان یتحرج یعنی وہ اپنے نفس پر گناہوں کے لیے اپنی خواہش کو ترک کرنے پر تنگی محسوس کرتا ہے۔ یہ ہر وی نے کہا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : الحرج کا معنی گھنے درختوں والی جگہ ( جنگل) ہے۔ تو گویا کافر کے دل تک حکمت نہیں پہنچ سکتی جیسا کہ کوئی چرنے والا جانور اس جگہ تک نہیں پہنچ سکتا جہاں درخت گھنے ہوں ( آپس میں جڑے ہوئے ہوں) اور حضرت عمر بن خطاب ؓ سے یہ معنی مروی ہے اسے مکی اور ثعلبی وغیر نے ذکر کیا ہے۔ اور تنگی کو حرج اور حرج کہلاتا ہے۔ علامہ جوہری نے کہا ہے : مکان حرج و حرج یعنی وہ تنگ جگہ جہاں درخت کثیر ہوں اور اس تک چرنے والا جانور نہ پہنچ سکتا ہو۔ اور اس طرح بھی قرأت کی گئی ہے : آیت : یجعل صدرہ ضیقا حرجا وحرجا اور یہ قائم مقام ہے الوحد اور الوحد اور الفرد اور الفرد اور الدنف اور الدنف کے ( یعنی) دونوں قرأتوں کے مطابق ایک معنی ہے اور اسے کسی اور نے فراء سے بیان کیا ہے اور قد حرج صدرہ یحرج حرجا ( اس کا سینہ تنگ ہوگیا) ۔ اور الحرج کا معنی اثم (گناہ) ہے اور الحرج کا معنی الناقۃ الغامرۃ ( کمزور اور نحیف اونٹنی) بھی ہے۔ اور کہا جاتا ہے : الطویلۃ علی وجہ الارض ( سطح زمین پر پھیلنے اور لمبا ہونے والی) یہ ابو زید سے مروی ہے، اور یہ لفظ مشترک ہے اور الحرج کا معنی وہ لکڑیاں ہیں جو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ باندھ دی جاتی ہیں اور ان میں مردے کو اٹھایا جاتا ہے ہے، یہ اصمعی سے منقول ہے اور یہی امرء القیس کا قول بھی ہے : فاما ترینی فی رحالۃ جابر علی حرج کالقر تخفق اکفانی ” اور بسا اوقات انہیں عورتوں کی میت پر رکھا جاتا ہے۔ اور زجاج نے کہا ہے : الحرج کا معنی ہے بہت زیادہ تنگ ہونا۔ پس جب کہا جائے : فلان حرج الصدر، تو اس کا معنی ہوگا اپنے سینے میں بہت زیادہ تنگی محسوس کرنے والا (یعنی ذو حرج فی صدرہ) اور جب کہا جائے : حرج تو یہ اسم فاعل ہے۔ اور نحاس نے کہا ہے : حرج اسم فاعل ہے اور حرج مصدر ہے جس کے ساتھ صفت بیان کی گئی ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے : رجل عدل ورضا۔ قولہ تعالیٰ : آیت : کا نما یصعد فی السمآء اسے ابن کثیر نے صاد کے سکون کے ساتھ مخفف پڑھا ہے، یہ الصعود سے ماخوذ ہے اور اس کا معنی ہے اوپر چڑھنا۔ اللہ تعالیٰ نے کافر کو ایمان سے بھاگنے اور اسے اپنے اوپر ثقیل سمجھنے کی وجہ سے اس کے ساتھ تشبیہ دی ہے جسے ایسے کام کا مکلف بنایا جائے جسے کرنے کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو، جیسا کہ آسمان پر چڑھنے کی طاقت نہیں رکھی جاسکتی۔ اور اسی طرح یصاعد کا لفظ بھی ہے اور اس کی اصل یتصاعد ہے، تا کو صاد میں ادغام کردیا گیا ہے اور یہ ابوبکر اور نخعی کی قرأت ہے، مگر اس میں ایک کام کرنے کے بعد فورا دوسرا کام کرنے کا معنی ہے اور ایسا فعل کام کرنے والے پر انتہائی ثقیل اور بھاری ہوتا ہے۔ اور باقیوں نے اسے الف کے بغیر تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ اسی کی طرح ہے جو اس سے پہلے ہے۔ اس کا معنی ہے وہ یکے بعد دیگرے ایسا کام کرنے کا پابند اور مکلف ہوتا ہے جس کی وہ طاقت نہیں رکھتا، اسی طرح تیرا یہ قول ہے : آیت : یتجرع اور یتفوق اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے پڑھنا کا نما یتصعد نحاس نے کہا ہے : اس قرأت کا معنی اور کی قرأت جس نے یصعد اور یصاعد پڑھا ہے کا معنی ایک ہے۔ اور دونوں میں معنی یہ ہے کہ کافر وہ ہے جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نے تنگ کردیا ہے گویا کہ وہ آسمان پر چڑھنے کا ارادہ رکھتا ہے، حالانکہ وہ اس پر قدرت نہیں رکھتا، تو گویا وہ اس کی استدعا کرتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے قریب ہے اس کا دل اسلام سے دور بھاگتے ہوئے آسمان کی طرف چڑھ جائے۔ آیت : کذلک یجعل اللہ الرجس اسی طرح اللہ تعالیٰ ان پر ناپاکی ڈال دیتا ہے، جیسا کہ اس نے ان کے جسموں میں سینہ تنگ کردیا۔ اور رجس کا لغوی معنی بدبو ( النتین) ہے۔ ابن زید (تفسیر ماوردی، جلد 2، صفحہ 144) نے کہا ہے : یہ عذاب ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : رجس سے مرادشیطان ہے (ایضا) ، یعنی اللہ تعالیٰ اسے ان پر مسلط کردیتا ہے۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : رجس سے مرادوہ شی ہے جس میں خیر اور بھلائی نہ ہو۔ اور اسی طرح اہل لغت کے نزدیک الرجس سے مراد بدبو ہے، پس آیت کا معنی یہ ہے واللہ اعلم : وہ دنیا میں ان پر لعنت ڈالتا ہے اور آخرت میں عذاب (میں مبتلا کرے گا) ۔ آیت : علی الذدین لا یؤمنون ان پر جو ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 6:126

وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 6:126 in the Quran reader

اور یہی تمہارے پروردگار کا سیدھا راستہ ہے۔ جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں۔

آیت نمبر 126 قولہ تعالیٰ : آیت وھذا صراط ربک مستقیا یعنی یہ وہ ہے جس پر اے محمد ! ﷺ آپ اور مومنین ہیں۔ آپ کے رب کا دین ہے اس میں کوئی کجی نہیں ہے۔ آیت : قد فصلنا الایٰت یعنی ہم نے دلائل کو بیان کردیا ہے۔ آیت : لقوم یذکرون ( ان لوگوں کے لیے جو نصیحت قبول کرتے ہیں)
Ayah 6:127

لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:127 in the Quran reader

ان کیلئے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے اور وہی ان کا دوست دار ہے۔

ّآیت نمبر : 127 قولہ تعالیٰ آیت : لھم یعنی نصیحت قبول کرنے والے کے لیے۔ دار السلٰم جنت ہے، پس جنت اللہ کا گھر ہے، جس طرح کہ کہا جاتا ہے : الکعبۃ بیت اللہ ( کعبۃ معظمہ اللہ تعالیٰ کا گھر ہے) اور یہ بھی جائز ہے کہ اس کا معنی دارالسلامہ ہو، یعنی وہ گھر جس میں آدمی آفات سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ اور عند ربھم کا معنی ہے اس کے ہاں ان کے لیے یہ ضمانت دی گئی ہے کہ وہ انہیں اپنے فضل سے اس تک پہنچائے گا۔ آیت : وھو ولیھم اور وحی ان کا مددگار اور معاون ہے۔
Ayah 6:128

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا١ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ١ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا١ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:128 in the Quran reader

اور جس دن وہ سب (جن وانس) جو جمع کریگا (اور فرمائے گا کہ) اے گروہ جناّت تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کیے۔ تو جو انسانوں میں ان کے) (دوست دار ہوں گے وہ کہیں گے کہ پروردگار ہم ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے رہے اور (آخر) اس وقت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا۔ خدا فرمائے گا (اب) تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہو گے مگر جو خدا چاہے۔ بیشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے۔

آیت نمبر : 128 قولہ تعالیٰ : آیت : ویوم یحشرھم یہ فعل محذوف کی وجہ سے منصوب ہے یعنی ویوم یحشرھم یقول جمعیا یہ حال ہونے کی سجہ سے مضصوب ہے اور مراد قیامت کے دن تمام مخلوق کو میدان حشر میں جمع کرنا ہے۔ آیت : یمعشر الجن اس میں منادی مضاف ہے۔ آیت : قد استکثرتم من الانس اے جنوں کے گروہ ! تم نے انسانوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ( انہیں بہت گمراہ کیا) اس میں وہ مصدر جو مفعول کی طرف مضاف ہے اسے حذف کردیا گیا اور حرف جر با کو حذف کردیا ( یعنی من الاستمتاع بالانس) اور اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے : آیت : ربنا استمتع بعضنا ببعض اور یہ اس کے قول کو رد کرتا ہے جس نے کہا : بیشک جن وہ ہیں جنہوں نے انسانوں سے فائدہ اٹھایا، کیونکہ انسانوں نے انہیں قبول کیا۔ اور صحیح یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے سے فائدہ اٹھانے والا ہے۔ اور یہ عربی میں تقدیر کلام یہ ہوگی : استمتع بعضنا بعضا ( ہم نے ایک دوسرے سے فائدہ اٹھایا) پس جنوں نے انسانوں سے یہ فائدہ اٹھایا کہ انہوں نے اس میں لذت محسوس کی کہ انسانوں نے ان کی اطاعت و پیروی کی ہے۔ اور انسان جنات کو قبول کر کے لطف اندوز ہوتے رہے یہاں تک کہ جنوں کے انہیں بھکانے کے سبب انہوں نے زنا کیا اور شراب پیتے رہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آدمی اپنے سفر کے دوران جب کسی وادی سے گزرتا اور اسے اپنے اوپر خوف محسوس ہوتا تو وہ کہتا : اعوذ برب حاذا الوادی من جمیع ما احذر ( میں اس وادی کے سردار کی پناہ مانگتا ہوں ان تمام چیزوں سے جن سے میں ڈرتا ہوں) اور قرآن کریم میں ہے : آیت : وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن فزادوھم رھقا (الجن) ( اور یہ کہ انسانوں میں سے چند مرد پناہ لینے لگے جنات میں سے چند مردوں کی پس انہوں نے بڑھا دیا جنوں کے غرور کو) پس یہی انسانوں کا جنوں سے استمتاع اور فائدہ تھا۔ اور رہا جنوں کا انسانوں سے فائدہ تو وہ یہ کہ وہ انہیں جھوٹی خبریں، کہانت اور سحر القا کرتے رہتے تھے (تفسیر کشاف، جلد 2، صفحہ 128 ) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنوں کا انسانوں سے استمتاع یہ تھا کہ وہ یہ اعتراف کرتے تھے کہ جن اس کی قدرت رکھتے ہیں کہ ان سے وہ تمام چیزیں دور کردیں جن سے وہ ڈرتے ہیں۔ اور آیت کا معنی گمرا ہونے والوں اور گمراہ کرنے والوں کو آخرت میں عالمین کی آنکھوں کے سامنے ڈانٹا اور جھڑکنا ہے۔ آیت : وبلغنا اجلنا الذی اجلت لنا اس میں مقررہ مدت سے مراد موت اور قبر ہے اور ہم انتہائی نادم ہو کر آئے ہیں۔ آیت : قال النار مثوکم یعنی آگ تمہارے ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ مثوی کا معنی ٹھکانا، ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ آیت : خٰلدین فیھا الا ما شاہ اللہ اورل کلام میں سے نہیں ہے۔ زجاج نے کہا ہے : یہ استثنا یوم قیامت کی طرف لوٹ رہی ہے، یعنی تم ہمیشہ آگ میں رہو گے مگر جتنا اللہ تعالیٰ چاہے ان کے قبروں سے نکل کر ان کے جمع ہونے کی مقدار اور ان کی مدت حساب کی مقدار میں سے۔ تو اس صورت میں استثنا منقطع ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ استثناآگ کی طرف راجع ہے، یعنی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہے تمہیں بعض اوقات میں بغیر آگ کے عذاب دے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے : استثناء اہل ایمان کی ہے۔ تو اس بناء پر ما بمعنی من ہوگا۔ اور آپ ہی سے یہ بھی مروی ہے۔ کہ آیت اس کے بارے وقف کو ثابت کر رہی ہے جو ابھی نہیں مرا، جب کہ وہ اسلام قبول کرلے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : الا ماشآء اللہ کہ وہ دنیا میں بغیر عذاب کے رہیں۔ اس آیت کا معنی اس آیت کے معنی کی طرح ہے جو سورة ہود میں ہے۔ اور یہ بھی ارشاد ہے : آیت : فاما الذین شقوا ففی النار ( ہود : 106) وہاں اس کا کامل بیان آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ آیت : ان ربک حکیم یعنی انہیں سزا دینے میں اور اپنے جمیع افعال میں (آپ کا رب بڑاد انا ہے) علیم اور انہیں سزا دینے کی مقدار کے بارے سب کچھ جاننے والا ہے۔
Ayah 6:129

وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 6:129 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے اعمال کے سبب جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے پر مسلط کردیتے ہیں۔

آیت نمبر : 129 قولہ تعالیٰ : آیت : وکذلک نولی بعض الظلمین بعضا اس کا معنی ہے جس طرح ہم نے ان کے ساتھ کیا ہے ان کاموں کے متعلق جو میں نے تمہارے لیے بیان کیے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے فائدہ اور حظ اٹھاتے ہیں ( اسی طرح) میں بعض ظالموں کو بعض کا دوست بنا دیتا ہوں، پھر کل وہ ایک دوسرے سے برأت اختیار کرلیں گے۔ اس تفسیر پر نولی کا معنی ہے نجعل ولیا ( ہم دوست بنا دیتے ہیں) ابن زید نے کہا ہے : ہم ظالم جنوں کو ظالم انسانوں پر مسلط کردیتے ہیں۔ اور ان سے یہ بھی منقول ہے کہ ہم بعض ظالموں کو بعض پر مسلط کردیتے ہیں اور وہ انہیں ہلاک اور ذلیل و رسوا کرتے ہیں۔ یہ ظالموں کے لیے تہدید اور دھمکی ہے کہ اگر وہ اپنے ظلم سے بازنہ آئے تو اللہ تعالیٰ ان پر دوسرے ظالموں کو مسلط کر دے گا۔ اور اس آیت میں وہ تمام داخل ہیں جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں یا رعیت پر ظلم کرتے ہیں یا ایسا تاجر جو اپنی تجارت میں لوگوں پر ظلم کرتا ہے یا چور وغیرہ۔ اور حضرت فضیل بن عیاض (رح) نے کہا ہے : جب تو کسی ظالم کو دیکھے کہ وہ دوسرے ظالم سے انتقام لے رہا ہے تو ٹھہر جا اور اس میں تعجب کرتے ہوئے غور و فکر کر۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : جب اللہ تعالیٰ کسی قوم سے راضی ہوتا ہے تو وہ ان کے معاملات کا والی ان کے نیک لوگوں کو بناتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی قوم سے ناراض ہوتا ہے تو وہ ان کے معاملات پر ان کے شریر لوگوں کو مسلط کردیتا ہے۔ اور حدیث طیبہ میں ہے حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : من اعان ظالما سلطہ اللہ علیہ ( جس نے ظالم کی معاونت کی اللہ تعالیٰ اسے اس پر مسلط کر دے گا) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے ان کے بعض کو بعض کے سپرد کردیتے ہیں ان اعمال میں جنہیں وہ کفر میں سے ناپسند کرتے ہیں، جیسا کہ ہم انہیں کل رؤساء کے حوالے کردیں گے جو انہیں عذاب سے نجات دلانے پر قادر نہیں ہوں گے۔ یعنی ہم اسے طرح ان کے ساتھ آخرت میں کریں گے جس طرح ہن ان کے ساتھ دنیا میں کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد آیت : نولہ ما تولیٰ ( النساء : 115) کے تحت کہا گیا ہے : کہ ہم اسے ان کے حوالے کردیں گے جس کے حوالے اس نے اپنے آپ کو کیا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس کی تفسیر یہ کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کے بارے شرکا ارادہ فرماتا ہے تو وہ ان کے معاملات ان کے شریر لوگوں کے حوالے کردیتا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہیـ: آیت : وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ( الشوری : 30) ( اور جو مصیبت تمہیں پہنچی ہے تمہارے ہاتھوں کی کمائی کے سبب پہنچی ہے)
Ayah 6:130

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 6:130 in the Quran reader

اے جن وانسانوں کی جماعت کیا تمہارے پاس پیغمبر نہیں آتے رہے جو میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے سامنے آموجود ہونے سے ڈراتے تھے ؟ وہ کہیں گے کہ (پروردگار) ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے۔ ان لوگوں کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور (اب) خود اپنے اوپر گواہی دی کہ کفر کرتے تھے۔

آیت نمبر 130 قولہ تعالیٰ : آیت : یٰمعشر الجن والانس الم یاتکم یعنی جس دن ہم انہیں جمع کریں گے تو ہم ان کی کہیں گے۔ لھم کیا تمہارے پاس رسول نہیں آئے ؟ پھر اسے کلام سے حذف کردیا گیا، تو وہ اس بارے میں اعتراف کریں گے جس میں ان کی رسوائی ہوگی اور منکم کا معنی ہے فی الخلق والتکلیف والمخاطبۃ ( یعنی تخلیق میں، احکام کا مکلف ہونے میں اور مخاطب ہونے میں وہ تم میں سے تھے) اور جب جن ان میں سے ہیں جنہیں خطاب کیا جا رہا ہے اور وہ عقل اور سمجھ بوجھ بھی رکھتے ہیں تو فرمایا : منکم اگرچہ رسول انسانوں میں سے تھے اور خطاب میں انسانوں کو اسی طرح غلبہ دیا گیا ہے جس طرح مذکر مونث پر (یعنی مردوں کو عورتوں پر) غلبہ دیا جاتا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ (تفسیر ماوردی، جلد 2، صفحہ 170) نے فرمایا : جنوں کے رسول وہ ہیں جنہوں نے اپنی قوم کے پاس وہ آیات پہنچائیں جو انہوں نے وحی سے سنی تھیں، جیسا کہ فرمایا : آیت : ولوا الی قومھم منذرین (الاحقاف) تو لوٹے اپنی قوم کی طرف ڈر سناتے ہوئے) حضرت مقاتل اور ضحاک رحمۃ اللہ علیہما (ایضا) نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے جنوں میں سے اسی طرح رسول بنائے جس طرح اس نے انسانوں میں سے رسول بنائے۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا : رسول انسانوں میں سے ہیں اور ڈرانے والے جنوں میں سے، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : آیت : الی قومھم منذرین (الاحقاف) اور یہی معنی حضرت ابن عباس ؓ کے قول کا ہے اور یہی صحیح ہے جیسا کہ اس کا بیان سورة احقاف میں آئے گا۔ اور حضرت کلبی (رح) (تفسیر کشاف، جلد 2، صفحہ 44) نے کہا ہے : حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے انسانوں اور جنوں کی طرف رسول بھیجے جاتے تھے۔ میں ( مفسر) کہتا ہوں : یہ صحیح نہیں ہے، بلکہ صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ انصاری ؓ کی حدیث ہے انہوں نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اعطیت خمسا لم یعطھن نبی قبلی کان کل نبی یبعث الی قومی خاصۃ و بعثت الی کل احمرواسود، الحدیث (صحیح مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، جلد 1، صفحہ 199) مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی گئیں ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا رہا اور مجھے ہر سرخ و سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا) جیسا کہ اس کا بیان سورة الاحقاف میں آئے گا۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : کا نت الرسل تبعث الی الانس وان محمدا ﷺ بعث الی الجن والانس (زاد المسیر لابن الجوزی، جلد 3، صفحہ 125) (پہلے انبیاء ورسل (علیہم السلام) انسانوں کی طرف مبعوث کیے جاتے رہے اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جن وانس کی طرف (نبی بنا کر) بھیجے گئے) اسے ابو اللیث سمرقندی نے بیان کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : جنوں میں سے ایک قوم نے انبیاء (علیہم السلام) کا کلام سنا پھر وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ کر گئے اور انہیں اس کے بارے آگاہ کیا، جیسا کہ ہمارے نبی مکرم ﷺ کے ساتھ واقعہ پیش آیا۔ تو انہیں کو رسل اللہ کہا جاتا ہے۔ اگرچہ انہیں رسول بنائے جانے پر نص موجود نہیں۔ اور قرآن کریم میں ہے : آیت : یخرج منھما اللولووالمرجان ( الرحمن) ای من احدھما ( یعنی ان میں سے ایک سے نکلتے ہیں) اور بلاشبہ وہ ملح ( نمکین) سے نکلتے ہیں نہ کہ عذب ( میٹھے) سے، پس اسی طرح انسانوں میں سے رسول ہیں نہ کہ جنوں میں سے، پس منکم کا معنی ہے من احدکم ( تم میں سے ایک سے) اور یہ جائز ہے، کیونکہ دونوں کا ذکر پہلے ہوچکا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لفظ کے محل میں رسل کو تمام میں سے قرار دیا ہے، کیونکہ قیامت کا عرصہ جن وانس دونوں کو شامل ہوگا اور ان پر حساب ہوگا نہ کہ اور مخلوق پر، تو جب اس عرصہ میں ثواب و عقاب کے اعتبار سے ایک حساب میں ہوگئے تو اس دن انہیں ایک خطاب کے ساتھ خطاب کیا جائے گا، گویا کہ وہ ایک جمایت ہیں، کیونکہ ان کی خلقت کی ابتدا عبودیت کے لیے ہے اور ثواب عبودیت ( بندگی) پر ہوگا، اور اس لیے بھی کہ جنوں کی اصل آگ کے شعلوں سے ہے اور ہماری اصل مٹی سے ہے اور ان کی تخلیق کا انداز ہماری خلقت کے سوا ہے، پس ان میں سے بھی کچھ مومن ہیں اور کچھ کافر۔ اور ہمارا دشمن ابلیس ان کا بھی دشمن ہے۔ وہ ان کے مومنوں سے عداوت رکھتا ہے اور ان کے کافروں سے دوستی رکھتا ہے۔ اور ان میں خواہش پرست بھی ہیں۔ مثلا شیعہ، قدریہ اور مرجئہ جو ہماری کتاب کی تلاوت کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے سورة الجن میں ان کے بارے بیان کیا ہے فرمان خداوندی ہے : آیت : وانا منا المسلمون ومنا القسطون ( الجن : 14) ( اور بیشک ہم سے کچھ تو فرمانبردار ہیں اور کچھ ظالم) آیت : وانامنا الصلحون ومنا دون ذلک کنا طرآئق قددا ( الجن) ( اور ہم میں سے بعض نیک بھی ہیں اور بعض اور طرح کے ہم بھی تو کئی راستوں پر گامزن ہیں) اس کا بیان وہاں آئے گا۔ یقصون یہ محل رفع میں ہے اور رسل کی صفت ہے۔ آیت : قالوا شھدنا علی انفسانا یعنی ہم ان کی گواہی دیتے ہیں کہ انہوں پیغام پہنچایا۔ آیت : وغرتھم الحیٰوۃ الدنیا کہا گیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مومنوں کو خطاب ہے، یعنی وہ ہیں جنہیں دنیوی زندگی نے دھوکہ دیا ہے یعنی اس نے انہیں دھوکہ دیا اور انہیں گمان ہوا کہ وہ ہمیشہ رہے گی اور انہیں یہ خوف ہوا کہ اگر وہ ایمان لائے تو وہ ان سے ختم ہوجائے گی ( چھن جائے گی) ۔ آیت : وشھدوا علی انفسھم یعنی انہوں نے اپنے کفر کا اعتراف کرلیا۔ حضرت مقاتل (زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 94) نے کہا ہے : یہ اس وقت ہوگا جب اعضاء بدن ان کے خلاف شرک کی گواہی دیں گے۔ آیت : بما کانوا یعملون۔ اور ان کرتوتوں کے بارے جو وہ کرتے تھے۔
Ayah 6:131

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ Open ayah 6:131 in the Quran reader

(اے محمد) یہ (جو پیغمبر آتے رہے اور کتابیں نازل ہوتی رہیں تو) اس لیے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں کہ بستیوں کو ظلم سے ہلاک کردے اور وہاں کے رہنے والوں کو کچھ بھی خبر نہ ہو۔

آیت نمبر : 131 قولہ تعالیٰ ۔ آیت : ذلک یہ سیبویہ کے نزدیک محل رفع میں ہے : یعنی الامر ذالک اور ان مخففہ من الثقیلہ ہے۔ یعنی ہم نے ان کے ساتھ یہ کیا کیونکہ میں بستیوں کو ان کے ظلم کے سبب ہلاک کرنے والا نہیں ہوں، یعنی ان کے شرک کے سبب اس سے پہلے کہ ان کی طرف رسل (علیہم السلام) بھیجے جائیں کہ وہ کہ کہیں : ہمارے پاس تو کوئی بشارت دینے والا آیا ہی نہیں اور نہ ہی کوئی ڈرانے والا آیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : میں نہیں ہوں کہ بستی کے رہنے والوں میں سے کسی ایک کے شرک کرنے کے سبب پوری بستی کو ہلاک کر دوں، تو یہ اس ارشاد کی مثل ہے آیت : ولا تزروازرۃ وزر اخری (الانعام : 164) ( اور نہ اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والاکسی دوسرے کا بوجھ) اور اگر وہ رسل (علیہم السلام) کی بعثت سے پہلے انہیں ہلاک کر دے تو اس کے لیے اختیار ہے کہ وہ جوار ادہ کرتا ہے اسے کر گزرے۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : آیت : ان تعذبھم فانھم عبادک (المائدہ : 118) (اگر تو عذاب دے انہیں تو وہ بندے ہیں تیرے) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ اور فراء نے جائز قرار دیا ہے کہ ذلک محل نصب میں ہو اور معنی یہ ہو : فعل ذالک بھم ( اس نے یہ ان ساتھ کیا) کیونکہ وہ بستیوں کو ظلم کے سبب ہلاک نہیں کرتا۔
Ayah 6:132

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:132 in the Quran reader

اور سب لوگوں کے بلحاظ اعمال درجے (مقرر) ہیں۔ اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں خدا ان سے بیخبر نہیں۔

آیت نمبر : 132 قولہ تعالیٰ : آیت : ولکل درجت مما عملوا یعنی جن وانس میں سے ہر ایک کے لیے درجے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے آیت میں فرمایا : اولئک الذین حق علیھم القول فی امم قد خلت من قبلھم من الجن والانس انھم کانوا خسرین (الاحقاف) ( یہی وہ (بدبخت) ہیں جن پر ثابت ہوچکا ہے عذاب کا فرمان ان گروہوں میں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں جنہوں اور انسانوں میں سے۔ بیشک وہ سرسر گھاٹے میں تھے) پھر فرمایا : آیت ولکل درجٰت مما عملوا ولیوفیھم اعمالھم وھم لا یظلمون (الاحقاف) ( اور ہر ایک کے لیے مرتبے ہوں گے ان کے اعمال کے مطابق اور اللہ تعالیٰ پورا پورا دے گا انہیں ان کے اعمال کا بدلہ اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا) اور اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ جنوں میں سے مطیع و فرمانبردار جنت میں ہوں گے اور گنہگار جہنم میں ہوں گے۔ اسی طرح انسان بھی ہیں اور اس بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے یہی زیادہ صحیح ہے پس اسے جان لو۔ اور آیت : ولکل درجٰت کا معنی یہ ہے کہ طاعت اور نیکی کا عمل کرنے والے ہر فرد کے لیے ثواب و جزا میں درجے ہیں۔ اور معصیت و گناہ کا عمل کرنے والے ہر فرد کے لیے عقاب اور سزا میں درجے ہیں۔ آیت : وما ربک بغافل یعنی نہ وہ غافل ہے اور نہ وہ بھولنے والا ہے۔ اور غفلت کا معنی یہ ہے ان یذھب الشیء عنک لاشتغالک بغیرہ کہ کسی غیر میں پڑے مشغول ہونے کی وجہ سے کوئی شی تجھ سے چلی جائے (ضائع ہوجائے) آیت : عما یعملون ابن عامر نے اسے تا کے ساتھ پڑھا ہے اور باقیوں نے یا کے ساتھ۔
Ayah 6:133

وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 6:133 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار بےپروا (اور) صاحب رحمت ہے۔ اگر چاہے (تو اے بندو) تمہیں نابود کردے اور تمہارے بعد جن لوگوں کو چاہے تمہارا جانشین بنادے۔ جیسا تم کو بھی دوسرے لوگوں کی نسل سے پیدا کیا ہے۔

آیت نمبر : 133 قولہ تعالیٰ : آیت : وربک الغنی یعنی آپ کا پروردگار اپنی مخلوق سے اور ان کے اعمال سے غنی ہے ( اسے ان کی کوئی حاجت اور پرواہ نہیں ہے) ذو الرحمۃ وہ اپنے دوستوں اور اہل طاعت کے ساتھ رحمت کا سلوک کرنے والا ہے۔ آیت : ان یشا یذھبکم اگر وہ چاہے تو تمہیں موت دے کر اور عذاب کے ساتھ تباہ کر کے ختم کر دے۔ آیت : ویستخلف من بعد کم ما یشاء یعنی وہ تمہاری جگہ ایک دوسری مخلوق لے آئے جو تم سے زیادہ فضیلت والی اور زیادہ اطاعت شعار ہو۔ آیت : کما انشاکم من ذریۃ قوم اخرین اس میں کاف محل نصب میں ہے، یعنی آیت : یستخلف من بعد کم ما یشاء استخلافا مثل ما انشاء کم ( تمہارے بعد تمہاری جگہ لے آئے جسے لانا چاہے اسی کی مثل جیسے اس نے تمہیں پیدا کیا دوسری قوم کی اولاد سے) اور اسی کی مثل یہ ارشاد بھی ہیں : آیت : ان یشایذھمکم ایھا الناس ویات باخرین (النسائ : 133) ( اگر چاہے تو لے جائے تمہیں اے لوگو ! اور لے آئے دوسروں کو) اور آیت : وان تتولوا یستبدل قوما غیرکم (محمد : 38) ( اور اگر تم روگردانی کروگے ( تو اس سعادت سے محروم کردیئے جاؤ گے) اور تمہارے عوض وہ دوسری قوم لے آئے گا) پس معنی یہ ہے کہ تمہاری جگہ دوسروں کو بدل دے، جیسا کہ تو کہتا ہے : اعطیتک من دینارک ثوبا ( میں نے تجھے تیرے دینار کے بدلے کپڑا دیا)
Ayah 6:134

اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 6:134 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ (وقوع میں) آنے والا ہے اور تم (خدا کو) مغلوب نہیں کرسکتے۔

آیت نمبر : 134 قولہ تعالیٰ : آیت : ان ما توعدون لاٰت اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ یہ اوعدت فی الشر سے ہو ( تجھے شر کے بارے میں وعید سنائی گئی) اور اس کا مصدر الایعاد ہو اور مراد آخرت کا عذاب ہو۔ اور یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ یہ وعدت سے ہو یعنی وہ ساعت جس کے آنے کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اس کے آنے میں خیر اور شر دونوں ہیں پس خیر کو غلبہ دیا گیا ہے۔ اس کا یہ معنی حسن سے مروی ہے۔ آیت : وما انتم بمعجزین اور تم اسے عاجز کرنے والے نہیں ہو۔ کہا جاتا ہے : اعجزنی فلان ( فلاں نے مجھے عاجز کردیا ہے) یعنی فاتنی وغلبنی ( فلاں میری طرف آگے بڑھا اور مجھ پر غالب آگیا)
Ayah 6:135

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:135 in the Quran reader

کہہ دو کہ لوگو ! تم اپنی جگہ عمل کیے جاؤ میں (اپنی جگہ) عمل کیے جاتا ہوں۔ عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ آخرت میں (بہشت) کس کا گھر ہوگا۔ کچھ شک نہیں کہ مشرک نجات نہیں پانے کے۔

آیت نمبر : 135 قولہ تعالیٰ : آیت : قل یقوم اعملوا علی مکانتکم ابوبکر نے جمع کے ساتھ مکاناتکم پڑھا ہے۔ اور مکانۃ کا معنی طریقہ ہے اور آیت کا معنی یہ ہے : تم اس طریقہ پر ثابت (قائم) رہو جس پر تم ہو اور میں اس پر ثابت ہوں جس پر میں ہوں۔ اور اگر کہا جائے : کیسے یہ جائز ہے کہ انہیں اس پر ثابت رہنے کا حکم دیا جائے جس پر وہ ہیں، حالانکہ وہ کفار ہیں ؟ تو جواب یہ ہے کہ یہ تہدید اور جھڑک ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد گرامی ہے : آیت : فلیضحکوا قلیلا ولیبکوا کثیرا (التوبہ : 82) (تو انہیں چاہیے کہ ہنسیں تھوڑا اور روئیں زیادہ) اور اس پر دلیل آیت : فسوف تعلمون من تکون لہ عاقبۃ الدار ہے، یعنی اچھا انجام وہ ہے جس پر اس کے صاحب کی تعریف کی جاتی ہے، یعنی جس کے لیے دار الاسلام میں مدد ونصرت ہو اور جس کے لیے زمین کی وراثت ہو اور جس کے لیے دار آخرت یعنی جنت ہو۔ زجاج (تفسیر ماوردی، جلد 2، صفحہ 173) نے کہا ہے : مکانتکم کا مفہوم ہے دنیا میں تمہارا مضبوط اور جمے ہوئے قدموں والا ہونا۔ (تمکنکم فی الدنیا) حضرت ابن عباس ؓ، حضرت حسن اور حضرت نخعی نے کہا ہے اس کا معنی ہے : علی ناحیتکم ( اپنی جہت پر) اور قلبی نے کہا ہے : علی موضعکم (اپنی جگہ پر) انی عامل میں کام کرنے والا ہوں اپنی جگہ پر علی مکانی پھر دلالت حال کی وجہ سے اس سے حذف کردیا گیا۔ اور آیت : من، من تکون لہ عاقبۃ الدار میں محل نصب میں ہے اور یہ بمعنی الذی ہے، کیونکہ علم کا واقع ہونا اسی پر ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ محل رفع میں ہو، کیونکہ استفہام میں اس کا ماقبل عمل نہیں کرتا پس فعل معلق ہوجائے گا، یعنی تعلمون اثنا تکون لہ عاقبۃ الدار ( تم جانتے ہو ہم میں سے کو ہے جس کے لیے دنیا کے گھر کا انجام اچھا ہوگا) یہ اس قول کی طرح ہے : آیت : لنعلم ای الحزبین احصی ( الکہف : 12) (تاکہ ہم ان دو گروہوں میں سے کون صحیح شمار کرسکتا ہے) حمزہ اور کسائی نے من یکون یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 6:136

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآئِنَا١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 6:136 in the Quran reader

اور (یہ لوگ) خدا ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں خدا کا بھی ایک حصّہ مقرر کرتے ہیں اور اپنے خیال (باطل) سے کہتے ہیں کہ یہ (حصّہ) تو خدا کا اور یہ ہمارے شریکوں (یعنی بتوں) کا۔ تو جو حصّہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو خدا کی طرف نہیں جاسکتا۔ اور جو حصّہ خدا کا ہوتا ہے وہ ان کے شریکوں کی طرف جاسکتا ہے یہ کیسا برا انصاف ہے

آیت نمبر : 136 قولہ تعالیٰ : آیت : وجعلوا للہ مما ذرا من الحرث والانعام نصیبا اس میں ایک مسئلہ ہے : اور کہا جاتا ہے : ذرا یذرا ذرا، ای خلق ( اس نے پیدا کیا) اور کلام میں حذف اور اختصار ہے اور وہ یہ ہے وجعلوا لاصنامھم نصیبا ( اور انہوں نے اپنے بتوں کے لیے حصہ مقرر کیا) اور اس پر دلیل ما بعد کلام ہے اور یہ ان چیزوں میں سے ہے جسے شیطان نے ان کے لیے آراستہ کیا اور انہیں گمراہ کردیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے مال کا ایک مقررہ حصہ اپنے گمان کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف پھیر دیا اور ایک حصہ اپنے بتوں کی طرف۔ حضرت ابن عباس، حسن، مجاہد اور حضرت قتادہ ؓ نے یہی کہا ہے اور معنی باہم ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ وہ ایک جز اللہ کے لیے اور ایک جز اپنے شرکاء کے لیے مقرر کردیتے اور جب ان کے شریکوں کا حصہ ان پر خرچ کرنے کی وجہ سے اور انہیں غلاف وغیرہ پہنانے کی وجہ سے ختم ہوجاتا تو وہ اس کا عوض ادا کرنے کے لیے اس حصے سے لے لیتے جو اللہ تعالیٰ کے لیے مقرر ہوتا اور جب وہ حصہ جو اللہ تعالیٰ کے لیے مقرر ہوتا وہ مہمانوں اور مساکین پر خرچ کرنے کے سبب ختم ہوجاتا تو وہ اس سے بطور عوض اور بدلہ کوئی شے نہ لیتے اور کہتے : اللہ تعالیٰ اس سے مستغنی ہے اور ہمارے شریک فقراء اور محتاج ہیں۔ اور یہ ان کی جہالت اور ان کے کذب میں سے تھا۔ اور زعم کا معنی کذب ہے۔ قاضی شریح نے کہا ہے : بلاشبہ ہر شے کے لیے کنیت ہے اور جھوٹ کی کنیت زعموا ہے اور وہ ان چیزوں میں جھوٹ بھولتے تھے کیونکہ ان کے بارے میں کوئی شرعی حکم نازل نہیں ہوا۔ اور حضرت سعید بن جبیر ؓ (صحیح بخاری، کتاب المناقب، جلد 1، صفحہ 500) نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : جو عرب کی جہالت کو جاننا چاہے تو اس کو چاہیے کہ وہ سورة الانعام کی ایک سو تیس سے اوپر والی آیات پڑھے اس قول تک آیت : قد خسر الذین قتلوا اولادھم سفھا بغیر علم (الانعام : 140 ) ابن عربی (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 252) نے کہا ہے : یہ جو کچھ انہوں نے کہا ہے صحیح کلام ہے، کیونکہ انہوں نے معرفت اور عدل کے بغیر اپنی عاجز عقلوں کے ساتھ حلال و حرام کی تقسیم میں بیوقفانہ نہ تصرف کیا، اور جہالت کے سبب انہوں نے جو تصرف کیا اس میں بتوں کو الٰہ بنانا سب سے بڑی جہالت اور سب سے بڑا جرم ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر زیادتی کرنا مخلوق پر زیادتی کرنے کی نسبت بہت بڑاجرم ہے۔ اور اس بارے میں دلیل کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں واحد ہے، اپنی صفات میں یکتا ہے اور اپنی مخلوقات میں واحد ہے اس دلیل سے زیادہ بینی اور واضح ہے کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے۔ اور روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت عمرو بن عاص ؓ (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 255) سے کہا : بلاشبہ تمہاری عقلیں کامل تھیں اور تم وافرا ذہانت اور دانائی رکھتے تھے، پھر تم پتھروں کی پوجا کرتے رہے تو حضرت عمروؓ نے فرمایا : یہ عقلیں ہیں قریب ہے کہ انہیں کوئی پیدا کرنے والا ہو۔ پس عربوں کی عقلی کمزور اور ان کی جہالت میں سے یہ امر ہے جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے دی اور اسلام نے آکر اسے مٹا دیا اور اللہ تعالیٰ نے رسول مکرم ﷺ کو مبعوث فرما کر اسے باطل کردیا۔ پس ہمارے لیے ظاہر یہ ہے کہ ہم اسے مار دیں یہاں تک کہ وہ ظاہر نہ ہو، اور ہم اسے بھول جائیں یہاخ تک کہ اس کا ذکر نہ کیا جائے، مگر ہمارے رب کریم نے تو اس کا ذکر پانی نص کے ساتھ کیا ہے اور اسے اپنی شرح و تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے، جس طرح کہ اس نے اپنے ساتھ کفر کرنے والوں کا ذکر کیا ہے۔ اور اس میں حکمت ہے۔ واللہ اعلم اس کا فیصلہ تو پہلے ہوچکا ہے، اور اس کا حکم نافذ ہوچکا ہے کہ کفر اور باہم میل جول ( آمیزش) دونوں قیامت تک ختم نہیں ہوں گے۔ اور یحییٰ بن وثاب، سلمی، اعمش اور کسائی نے بزعمھم زا کے ضمہ کے ساتھ قرائت کی ہے۔ اور باقیوں نے فتحہ کے ساتھ اور یہ دونوں لغتیں ہیں۔ آیت : فما کان لشرکائھم فلا یصل الی اللہ، ای الی المساکین یعنی وہ حصہ جو ان کے شریکوں کے لیے ہے وہ مساکین تک نہیں پہنچ سکتا۔ آیت : سآء ما یحکمون یعنی ان کا فیصلہ کتنا برا فیصلہ ہے۔ ابن زید نے کہا ہے : جب وہ ایسے جانور کو ذبح کرتے جو اللہ تعالیٰ کے لیے مختص ہوتا تو وہ اس پر بتوں کا نام لیتے، اور جب اسے ذبح کرتے جو ان کے بتوں کے لیے مختص ہوتا تو اس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیتے، تو ارشاد : آیت : فما کان لشرکآئھم فلا یصل الی اللہ کا یہی معنی ہے، پس ان کا ان سے اللہ تعالیٰ کے ذکر کو ترک کرنا مذموم تھا اور یہ ان جانوروں میں داخل ہے جنہیں اس بنا پر کھانے سے منع کیا گیا ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیا گیا۔
Ayah 6:137

وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:137 in the Quran reader

اسی طرح بہت سے مشرکوں کو ان کے شریکوں نے ان کے بچّوں کو جان سے مار ڈالنا اچھّا کر دکھایا ہے۔ تاکہ انہیں ہلاکت میں ڈال دیں اور ان کے دین کو ان پر خلط ملط کردیں اور خدا چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور ان کا جھوٹ۔

آیت نمبر 137 قولہ تعالیٰ : آیت : وکذلک زین لکثیر من المشرکین قتل اولادھم شرکاؤ ھم اس کا معنی ہے جس طرح انہوں نے ان کے لیے اسے خوشنما بنایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک حصہ مقرر کردیں اور ایک حصہ اپنے بتوں کے لیے مقرر کردیں اسی طرح ان کے شریکوں نے بہت سے مشرکین کے لیے اپنی اولاد کے قتل کرنے کو خوشنما بنا دیا۔ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : ان کے لیے فقر وفاقہ کے خوف سے بیٹیوں کے قتل کو خوشنما بنا دیا گیا۔ فراء اور زجاج نے کہا ہے : یہاں ان کے شریکوں سے مراد وہ ہیں جو بتوں کی خدمت میں رہا کرتے تھے (تفسیر ماوردی، جلد 2، صفحہ 174) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے ( ایضا) کہ مراد لوگوں میں گمراہ اور خواہش پرست لوگ ہیں۔ اور یہ قول بھی ہے کہ مراد شیاطین ہیں۔ اور اس سے اشارہ الواو کی طرف ہے اور وہ فقروفاقہ کے خوف سے اور اس مددونصرت کے نہ ہنوے کی وجہ سے جس سے انہیں محروم رکھا گیا بیٹی کو زندہ درگور کرنا ہے۔ اور شیاطین کو شرکاء کا نام اس لییے دیا گیا ہے، کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی معصیت ونافرمانی میں ان کی اطاعت وپیروی کی ہے تو انہوں نے انہیں طاقت وفرمانبرداری کی وجوب میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرلیا۔ اور یہ بھی کہا کیا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ایک آدمی اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتا تھا کہ اگر اس کے اتنے بچے پیدا ہوئے تو وہ ان میں سے ایک قربانی دے گا، جیسا کہ حضرت عبدالمطلب (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 754) نے ایسا کیا جب انہوں نے اپنے بیٹے حضرت عبداللہ کو ذبح کرنے کی نذر مانی۔ پھر کہا گیا ہے : آیت میں چار قراءتیں ہیں، ان میں سے اصح جمہور کی قراءت ہے آیت : وکذلک ذین لکثیر من المشرکین قتل اولادھم شرکا ؤھم اور یہ اہل حرمین، اہل کوفہ اور اہل بصرہ کی قراءت ہے۔ شرکاؤھم، زین کی وجہ سے مرفوع ہے، کیونکہ انہوں نے خوشنما بنایا اور انہوں نے قتل نہ کیا اور قتل، زین کے سبب منصوب ہے۔ اور اولادھم مفعول کی طرف مضاف ہے (متن میں عبارت اسی طرح ہے جب کہ مراد یہ ہے لفظ قتل اپنے مفعول ” اولادھم “ کی طرف مضاف ہے) ۔ اور مصدر میں اصل یہ ہے کہ اسے فاعل کی طرف مضاف کیا جائے، کیونکہ اسی نے اسے بنایا ہے اور اس لیے کہ وہ اس سے مستغنی نہیں اور وہ مفعول سے مستغنی ہوتا ہے۔ اور وہ یہاں لفظا مفعول کی طرف مضاف ہے لیکن معنا فاعل کی طرف مضاف ہے، کیونکہ تقدیر کلام ہے : زین لکثیر من المشرکین قتلھم اولادھم شرکاء ھم ( بہت سے مشرکین کے لیے ان کے شرکاء نے یہ خوشنما بنا دیا کہ وہ اپنی اولاد کو قتل کریں۔ پھر مضاف کو حذف کردیا گیا اور وہ فاعل ہے جس طرح اس قول باری تعالیٰ سے حذف کیا گیا ہے۔ آیت : لا یسم الانسان من دعآء الخیر (فصلت : 49) یعنی یہ من دعائہ الخیر ہے۔ اس میں ہا ضمیر دعا کا فاعل ہے، یعنی انسان خیر اور بھلائی کی دعا مانگنے سے نہیں اکتاتا۔ اور اسی طرح یہ ارشاد ہے : آیت : زین لکثیر من المشرکین قتل اولادھم شرکاؤھم مکی نے کہا ہے : یہ قراءت ہی پسندیدہ ہے، کیونکہ اس میں اعراب صحیح ہے اور اس لیے بھی کہ اس پر جمہور کا عمل ہے۔ اور دوسری قراءت زین فعل مجہول کے ساتھ ہے۔ لکثیر من المشرکین قتل یہ فرع کے ساتھ ہے۔ اولادھم جر کے ساتھ ہے۔ اور شرکاؤھم رفع کے ساتھ ہے۔ یہ حسن کی قرأت ہے اور ابن عامر اور اہل شام نے زین زامضموم کے ساتھ آیت : لکثیر من المشرکین قتل اولادھم، قتل کو رفع کے ساتھ اور اولادھم کو نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ شرکاؤھم اس میں مجرور ہے جو ابوعبید نے بیان کیا ہے، اور ان کے علاوہ کسی اور نے اہل شام سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے اس طرح قراءت کی ہے۔ آیت : وکذلک زین لکثیر من المشرکین قتل اولادھم شرکاؤھم ( یعنی اس میں زا مضموم، قتل مضموم اور اولادھم اور شرکائھم دونوں مکسور ہیں) پس دوسری قراءت (یعنی) حسن کی قراءت جائز ہے اس میں قتل نائب الفاعل ہوگا، اور شرکاؤھم اس فعل مضمر کے سبب مرفوع ہوگا جس پر زین دلالت کرتا ہے یعنی زینہ شرکاؤھم اور اسی وجہ سے ضرب زید عمرو پڑھنا جائز ہوتا ہے، بمعنی ضربہ عمرو اور سیبویہ نے بیان کیا ہے۔ لیبک یزید ضارع لخصومۃ یعنی یبکیہ ضارع (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 349 ) ابن عامر اور عامر نے ابوبکر کی روایت سے اس طرح قراءت کی ہے : آیت : زین لکثیر من المشرکین قتل اولادھم شرکاؤھم یسبح لہ فیھا بالغدو والاصال رجال (النور) تقدیر کلام ہے یسبحہ رجال اور ابراہیم بن ابی عبلہ نے پڑھا ہے : آیت : قتل اصحٰب الاخدود النار ذات الوقود البروج : 5) بمعنی قتلھم النار۔ نحاس نے کہا ہے : اور وہ جو ابو عبید نے ابن عامر اور اہل شام سے بیان کیا ہے وہ نہ کلام میں جائز ہے اور نہ ہی شعر میں، البتہ نحویوں نے ظرف کے ساتھ مضاف اور مضاف الیہ کے ساتھ تفریق کو جائز قرار دیا ہے، کیونکہ اس طرح فاصلہ نہیں ہوتا، اور رہے ظروف کے علاوہ دوسرے اسماء تو ان کے ساتھ فرق کرنا غلطی ہے۔ مکی نے کہا ہے : اس قراءت میں مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان تفریق کی وجہ سے ضعف اور کمزوری ہے، کیونکہ شعر میں اس قسم کی تفریق ظرفوں کے ساتھ جائز ہوتی ہے کیونکہ ان میں اتنی وسعت پائی جاتی ہے اور وہ مفعول بہ میں شعر میں بھی بعید ہے۔ لہذا قراءت میں اس کو جائز قرار دینا اس سے بھی بعید تیر ہے۔ اور مہدوی نے کہا ہے : ابن عامر کی یہ قراءت مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان تفریق ہونے کی بنا پر ہے، اور اس کی مثل شاعر کا قول بھی ہے۔ فزجج تھا بزجۃ زض القلوص ابی مزادۃ (ایضا، جلد 2، صفحہ 350 ) اس میں مراد زض مزادہ القلوص ہے۔ اور دوسرا شعر ہے : تمر علی ما تستمر وقد شفت غلائل عبد القیس منھا صدورھا اس میں مراد شفت عبد القیس غلائل صدورھا ہے۔ (پہلے شعر میں مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان مفعول بہ کا اور دوسرے میں فاعل کا فاصلہ ہے) ابو غانم احمد بن احمد ان نحوی نے کہا ہے : ابن عامر کی قراءت عربی لغت میں جائز ہے اور یہ ایک عالم کی پھسلاہٹ ہے اور جب ایک عالم ( راہ راست سے) پھسل جائے تو اس کی اتباع اور پیروی جائز نہیں ہوتی، اور اس کے قول کو اجماع کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے اور اسی طرح واجب ہوتا ہے کہ اسے بھی اجماع کی طرف لوٹا دیا جائے جو ان میں پھسل جائے یا بھول جائے اور یہ غیر صحیح پر اصرار کرنے سے اولیٰ اور بہتر ہوتا ہے، البتہ انہوں نے شاعر کو ضرورت کے تحت اجازت دی ہے کہ وہ ظرف کے ساتھ مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان فرق کرے کیونکہ یہ فاصلہ شمار نہیں ہوتا۔ جیسے کسی نے کہا : کما خط الکتاب بکف یوم یھودی یقارب او یزیل (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 350 ) اور دوسرے نے کہا : کان اصوات من ایغالھن بنا اواخر المیس اصوات الفراریج اور ایک اور شاعر نے کہا : لما رات ساتیدما استعبرت للہ در الیوم من لامھا (مذکورہ تینوں اشعار میں مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان ظرف کے ساتھ فاصلہ کیا گیا ہے) اور علامہ قشیری نے کہا ہے : ایک قوم نے کہا ہے کہ قبیح ہے اور یہ محال ہے، کیونکہ جب ایک قراءت تواتر کے ساتھ حضور نبی کریم ﷺ سے ثابت ہو تو وہ فصیح ہوتی ہے نہ کہ قبیح۔ اور کلام عرب میں یہ موجود ہے اور مصحف حضرت عثمان ؓ میں شرکائھم یا کے ساتھ موجود ہے (معانی القرآن للفرا، جلد 1، صفحہ 357، تفسیر الرازی، جلد 13، صفحہ 206) اور یہ ابن عامر کی قراءت کرنا ہے۔ اور اس قراءت میں قتل کی اضافت شرکاء کی طرف کی گئی ہے، کیونکہ شرکاء وہی ہیں جنہوں نے اسے خوشنما بنایا اور اس کی دعوت دی، پس فعل اپنے فاعل کی طرف مضاف اور اصل میں یہی واجب ہوتا ہے لیکن انہوں نے مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان فرق کردیا ہے اور مفعول کو مقدم کیا ہے اور اسے اپنے حال پر منصوب چھوڑ دیا ہے، جب کہ معنی میں وہ متاخر ہے، اور مضاف الیہ کو موخر کیا ہے اور اسے اپنے حال پر مجرور چھوڑ دیا ہے، جب کہ وہ متقدم اور قتل کے بعد تھا اور تقدیر عبارت ہے : آیت : وکذٰلک زینی لکثیر من المشرکین قتل اولادھم شرکآؤھ یعنی ان قتل شرکاؤھم اولادھم ( یعنی ان کے شریکوں نے ان کی اولاد کو قتل کیا) نحاس نے کہا ہے : جو کچھ ابو عبید کے سوا نے بیان کیا ہے وہ چوتھی قراءت ہے اور وہ جائز ہے اس بنا پر کہ ان کے شرکاء ان کی اولاد کا بدل ہوگئے، کیونکہ وہ نسب اور میراث میں ان کے شریک تھے۔ لیردوھم اس میں لام کی ہے اور اداء کا معنی ہلاک کرنا ہے۔ آیت : ولیلبسوا علیھم دینھم اور وہ ان پر مشتبہ کریں ان کا وہ دین جو ان کے لیے پسندیدہ ہے، یعنی وہ انہیں باطل کا حکم دیتے ہیں اور انہیں اپنے دین کے بارے میں شک میں ڈالتے ہیں۔ اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے دین پر تھے اور اس میں اولاد کا قتل نہیں تھا، پس حق پر پردہ ڈال دیا جائے گا تو اس کے سبب وہ شک اور التباس میں واقع ہوجائیں گے۔ آیت : ولو شاء اللہ مافعلوہ اس میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ ان کا کفر اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ساتھ ہے۔ اور یہ قدریہ کا رد ہے۔ آیت : فذرھم وما یفترون اس افترا اور بہتان سے مراد ان کا یہ قول ہے ان للہ شرکاء ( کہ اللہ تعالیٰ کے شریک ہیں)
Ayah 6:138

وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:138 in the Quran reader

اور اپنے خیال سے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ چار پائے اور کھیتی منع ہے۔ اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے اور (بعض) چار پائے ایسے ہیں کہ ان کی پیٹھ پر چڑھنا منع کردیا گیا ہے۔ اور بعض مویشی ایسے ہیں جن پر (ذبح کرتے وقت) خدا کا نام نہیں لیتے۔ سب خدا پر چھوٹ ہے۔ وہ عنقریب ان کو انکے جھوٹ کا بدلہ دیگا۔

آیت نمبر 138 اللہ تعالیٰ نے ان کی جہالت کی ایک دوسری قسم بینا کی ہے۔ ابان بن عثمان حجر حا اور جیم کے ضمہ کے ساتھ قرات کی ہے۔ اور حسن اور قتادہ نے حا کے فتۃ اور جیم کے سکون کے ساتھ حجر پڑھا ہے۔ دونوں لغتیں ہم معنی ہیں۔ اور حسن سے حا کے ضمہ کے ساتھ حجر بھی منقول ہے۔ ابو عبید نے ہارون سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا : سارے قرآن کریم میں حجر کے لفظ کو حسن حا کے ضمہ کے ساتھ پڑھتے ہیں سوائے اس قول کے : آیت : برزخا وحجرا محجورا ( الفرقان) اس مقام پر وہ کسرہ پڑھتے ہیں۔ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن زبیر ؓ عنہھم سے روایت ہے وحرث حرج اس میں راجیم سے پہلے ہے۔ اسی طرح مصحف ابی میں ہے اور اس میں دو قل ہیں : ان میں سے ایک یہ ہے کہ جبذا اور جذب کی مثل ہے۔ اور دوسرا قول، اور وہی اصح ہے۔ کہ یہ الحرج سے ہے، کیونکہ حرج (بکسرحائ) لغت حرج (بفتح الحائ) ہی ہے اور اس کا معنی تنگی اور گناہ ہے۔ پس اس کا معنی ہوگا حرام۔ اور اسی سے ہے فلاں یتحرج یعنی فلاں ایسے کام میں داخل ہونے سے اپنے اوپر تنگی محسوس کرتا ہے جو حرام میں سے اس پر مشتبہ ہو۔ اور الحجر لفظ مشترک ہے اور یہاں اس کا معنی حرام ہے، اور اس کا اصل معنی روکنا ہے اور عقل کو حجر کا نام دیا گیا ہے کیونکہ وہ برائیوں سے روکتی ہے۔ فلان فی حجر القاضی یعنی وہ قاضی کی حفاظت ( نگہداشت) میں ہے۔ حجرت علی الصبی حجرا میں نے بچے پر پابندی عائد کردی) اور الحجر کا معنی عقل ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : آیت : ھل فی ذٰلک قسم الذی حجر (الفجر : 5) (یقینا اس میں قسم ہے عقل مند کے لیے) حجر کا معنی مونث گھوڑا بھی ہے اور حجر کا معنی قرابت بھی ہے۔ جیسا کہ شاعر کا قول ہے۔ یریدون ان یقصوہ عنی وانہ لذو حسب دان الی و ذو حجر اور حجر الانسان وحجرہ (آدمی کے قرابت دار) اس میں دونوں لغتیں ہیں اور فتحہ اکثر ہے، یعنی انہوں نے جانور اور کھیتی حرام قرار دی اور اسے بتوں کے لیے خاص کردیا اور انہوں نے کہا : آیت : لا یطعمھا الا من نشاء اور ان سے مراد بتوں کے خدام ہیں، پھر بیان فرمایا کہ یہ ایسا فیصلہ ہے جس کے بارے شریعت نے کوئی حکم صادر نہیں کیا۔ اسی لیے فرمایا : آیت : بزعمھم وانعام حرمت ظھورھا ان سے مراد وہ جانور ہیں جنہیں وہ اپنے الٰہوں کے لیے روک کر رکھتے تھے جیسا کہ حصہ والی بات پہلے گزر چکی ہے اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : ان سے مراد بحیرہ، وصیلہ، اور حام ہیں۔ آیت : وانعام لا یذکرون اسم اللہ علیھا یعنی وہ جانور جنہیں وہ اپنے بتوں کے نام پر ذبح کرتے۔ اور ابو وائل (1) نے کہا ہے : ان پر وہ حج نہیں کرتے تھے۔ افترآء یعنی ( اللہ تعالیٰ پر) افترا اور بہتان لگانے کے لیے علی اللہ کیونکہ وہ کہتے تھے : اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔ اور یہ (افترائ) مفعول لہ ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یعنی یفترون افترائ، تو اس صورت مصدر (مفعول مطلق) ہونے کی حیثیت سے منصوب ہوگا۔