Ayah 6:139آیت نمبر 139
قولہ تعالیٰ : آیت : وقالوا ما فی بطون ھذہ الانعام خالصۃ لذکورنا یہ ان کی جہالت کی ایک اور نوع ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : وہ دودھ ہے۔ اسے انہوں نے مردوں کے لیے حلال قرار دیا اور عورتوں پر حرام قرار دیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد ان کے پیٹوں میں موجود بچے ہیں۔ انہوں نے کہا : بلاشبہ وہ ہم مردوں کے لیے ہیں۔ پھر اگر ان میں سے کوئی مرگیا تو اسے مرد اور عورتیں سبھی کھا سکیں گے۔ اور خالصۃ میں ھا خلوص میں اظہار مبالغہ کے لیے ( یعنی وہ خالصۃ مردوں کے لیے ہیں) ۔ اور اسی کی مثل رجل علامۃ ونسابۃ ہے (2) (یعنی ان کے آخر میں تا مبالغہ کے لیے ہے) یہ کسائی اور اخفش سے مروی ہے۔ اور خالصۃ مبتدا کی خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور وہ ما ہے۔
اور فراء نے کہا ہے : اس خالصۃ کی تانیث الانعام کی مونث ہونے کی وجہ سے ہے۔ اور ایک قوم کے نزدیک یہ قول غلط ہے، کیونکہ جو کچھ ان کے شکموں میں ہے وہ ان میں سے نہیں ہے۔ اور یہ اس قول سے مشابہت نہیں رکھتا : آیت : یلتقطہ بعض السیارۃ ( یوسف : 10) کیونکہ اس میں سیارہ کا بعض بھی سیارہ ہی ہے اور یہ لازم نہیں آتا۔
فراء نے کہا ہے : چونکہ جو جانوروں کے شکموں میں ہیں وہ بھی انہیں کی مثل جانور ہیں، لہٰذا ان جانوروں (لفظ الانعام) کے مونث ہونے کی وجہ سے انہیں بھی مونث قرار دیا گیا ہے، یعنی الانعام التی فی بطون الانعام خالصۃ لذکورنا ( وہ چوپائے جو ان چوپاؤں کے شکموں میں ہیں نرے ہمارے مردوں کے لیے ہیں) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یونی وہ جماعت جو شکموں میں ہے۔ اور یہ قول بھی ہے : بلاشبہ ما سے مراد دودھ اور جنین دونوں ہو سکتے ہیں، لہٰذا تانیث معنی کے اعتبار سے اور تذکیر ( مذکر لانا) لفظ کی بنا پر ہے۔ اور اسی لیے کہا ہے : آیت : محرم علی ازواجنا یعنی لفظ کی بنا پر اسے مذکر ذکر کیا گیا ہے۔ اور اگر معنی کی رعایت کرتے تو کہتے ومحرمۃ اور اعمش کی قراءت اسے تقویت دیتی ہے اور وہ خالص بغیر ہا کے ہے۔ کسائی نے کہا ہے : خالص اور خالصۃ دونوں کا معنی ایک ہے، مگر بامبالغہ کے لیے ہے، جیسے کہا جاتا ہے : رجل داھیۃ وعلامۃ جیسا کہ پہلے بھی گزر چکا ہے۔
اور قتادہ (رح) نے خالصۃ منصوب پڑھا ہے اس لیے کہ یہ اس ظرف کی ضمیر سے حال ہے جو ما کا صلہ ہے اور مبتدا کی خبر محذوف ہے، جیسا کہ تیرا یہ قول ہے : الذی فی الدار قائما زید یہ بصریوں کا مذہب ہے اور فراء کے نزدیک بالیقین منصوب ہے۔ اور اسی طرح حضرت سعید بن جبیر کی قرائت میں خالصا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے خالصہ علی الاصافت پڑھا ہے پس یہ مبتدا ثانی ہوگا اور خبر لذکورنا ہوگی اور پھر جملہ ما کی خبر ہوگا۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ خالصہ، ما سے بدل ہو۔ پس اس میں یہ پانچ قرائتیں ہیں۔
آیت : و محرم علی ازواجنا یعنی ہماری بیٹیوں پر وہ حرام ہیں۔ یہ ابن زید سے منقول ہے اور ان کے سوا دوسروں نے کہا ہے : مراد ان کی عورتیں ہیں۔ وان یکن میتۃ اسے یا اور تا دونوں کے ساتھ پڑھا گیا ہے، یعنی اور اگر وہ مردہ ہوا جو ان چوپاؤں کے شکموں میں ہے۔
آیت : فھم فیہ شرکاء تو مرد اور عورتیں سبھی اس میں شریک ہوں گے اور فرمایا فیہ اس لیے کہ میتۃ سے مراد حیوان ہے اور یا کی قراءت اسے تقویت دیتی ہے، ( اسی وجہ سے) فیھا نہیں کہا۔ میتۃ رفع کے ساتھ بمعنی تقع یا تحدث ہے (اگر مردہ پیدا ہوگا) میتۃ نصب کے ساتھ ہو ( عبارت ہوگی) وان تکن النسمۃ میتۃ ( اور اگر پیدا ہونے والا جانور مردہ ہوا)
سیجزیھم وصفھم یعنی اللہ تعالیٰ انہیں جلدی ہی ان کے کذب اور بہتان کا بدلہ دے گا، یعنی انہیں اس عذاب دے گا۔ اور وصفھم حرف جار محذوف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ای بوصفھم اور آیت میں اس پر دلیل موجود ہے کہ عالم کے لیے چاہیے کہ وہ اپنے مخالف کو قول کو پڑھے او سمجھے اگرچہ اس پر عمل نہ کرے تاکہ وہ اس کے قول کے فاسد ہونے کو جان لے اور یہ جان لے کہ اس پر کیسے رد کیا جائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبی مکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب کو ان کے اقوال کا علم دیا اہل زمانہ میں سے جنہوں نے ان کی مخالفت کی، تاکہ وہ ان کے قول کے فساد کو جان لیں۔
Ayah 6:140آیت نمبر 140
اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے اور اپنی عقلوں کے ساتھ بحیرہ وغیرہ کو حرام قرار دینے کے سبب ان کے نقصان اور خسارہ اٹھانے کی خبر دی ہے، پس انہوں نے اپنی اولاد کو فقر وفاقہ کے خوف سے حماقت سے قتل کیا۔ اور اپنے مالوں میں اپنے اوپر پابندیاں لگائیں اور فقروافلاس سے نہ ڈرے، تو اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کی رائے کے تناقض اور تضاد کو ظاہر کیا۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : بیشک عربوں میں سے کچھ تھے جو اپنی اولاد کو فقروافلاس کے ڈر سے قتل کرتے تھے، جیسے اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر اسے بیان کیا ہے اور ان میں سے کچھ ایسے تھے جو محض حماقت سے بغیر کسی حجت اور دلیل کے انہیں قتل کردیتے تھے۔ اور وہ ربیعہ اور مضر کے قبائل تھے، یہ حمیت کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کو قتل کردیتے تھے۔ اور ان میں سے بعض کہتے تھے : فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور انہوں نے اپنی بیٹیوں کو اللہ کی بیٹیوں کے ساتھ ملا دیا ہے۔
اور روایت ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے سامنے ہمیشہ غمزدہ رہا کرتا تھا، تو ( ایک دن) رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا : ” تجھے کیا ہے تو مغموم رہتا ہے “ ؟ تو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ میں نے اپنے عہد جاہلیت میں ایک ایسا گناہ کیا ہے کہ میں ڈرتا ہوں اللہ تعالیٰ میرے لیے اسے معاف نہیں فرمائے گا اگرچہ میں نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ تو آپ ﷺ نے اسے فرمایا : ” مجھے اپنے گناہ کے بارے بتاؤ“۔ تو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو اپنی بیٹیوں کو قتل کردیتے تھے، پس میرے ہاں بچی پیدا ہوئی تو میری بیوی نے مجھ سے سفارش کی کہ میں اسے چھوڑ دوں چناچہ میں نے اسے چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ بڑی ہوگئی اور احکام سمجھنے کی عمر کو پہنچ گئی ( یعنی بالغ ہوگئی) اور حسین و جمیل عورتوں میں سے ہوگی اور لوگ اس کے لیے پیغام نکاح دینے لگے، تو میرے اندرحمیت داخل ہوگئی اور میرا دل برداشت نہ کرسکا کہ میں اس کی شادی کروں یا اسے گھر میں بغیر شادی کے چھوڑ دوں، تو میں نے بیوی کو کہا : میں چاہتا ہوں کہ اپنے رشتہ داروں کی ملاقات کے لیے فلاں فلاں قبیلہ میں جاؤں پس تو اسے میرے ساتھ بھیج دے، وہ اس پر بہت خوش ہوئی اور اس نے اسے کپڑوں اور زیور کے ساتھ خوب آراستہ کیا ( یعنی اس کا بناؤ سنگھار کیا) اور مجھ سے وعدہ لیا کہ میں اس سے خیانت نہ کروں گا، چناچہ میں اسے ایک کنوئیں کے کنارے لے گیا اور میں نے کنوئیں میں جھانک کر دیکھا تو بچی سمجھ گئی کہ میں اسے کنوئیں میں پھینکنے کا ارادہ کر رہا ہوں۔ تو وہ میرے ساتھ چمٹ گئی اور رونے لی : اے ابا جان ! کیوں تم میرے ساتھ ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہو ؟ تو مجھے اس پر رحم آگیا۔ پھر میں نے کنوئیں میں دیکھا اور مجھ میں حمیت بھڑک اٹھی پھر وہ میرے ساتھ چمٹ گئی اور کہنے لگی : اے ابا ! میری امی کی امانت ضائع نہ کر۔ تو میں ایک بار کنوئیں میں دیکھتا اور ایک بار اس کی طرف اور میں اس پر رحم کرتا رہا، یہاں تک کہ شیطان مجھ پر غالب آگیا اور میں نے اسے پکڑا اور اسے اوندھا کر کے کنوئیں میں پھینگ دیا، اور وہ کنویں میں بھی پکارتی رہی۔ اے ابا ! تو نے مجھے قتل کیا ہے، اور میں وہاں ٹھہرا رہا یہاں تک کہ اس کی آواز ختم ہوگئی تو میں واپس آگیا۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب بھی رونے لگے اور وآپ ﷺ نے فرمایا ی : لو امرت ان اعاقب احد ابما فعل فی الجاھلیۃ لعاقبتک ( اگر مجھے حکم دیا جاتا کہ میں کسی کو اس فعل پر سزا دوں جو اس نے عہد جاہلیت میں کیا تو میں تجھے ضرور سزا دیتا (تفسیر ابو اللیث، جلد 1، صفحہ 157 )