6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 6:39–41

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:39 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں (اسکے علاوہ) اندھیرے میں (پڑے ہوئے) جس کو خدا چاہے گمراہ کردے اور جسے چاہے سیدھے راستے پر چلا دے۔

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 6:40 in the Quran reader

کہو (کافرو) بھلا دیکھو تو اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو۔ تو کیا تم (ایسی حالت میں) خدا کے سوا کسی اور کو پکارو گے ؟ اگر سچے ہو (تو بتاؤ) ۔

بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:41 in the Quran reader

(نہیں) بلکہ (مصیبت کے وقت تم) اسی کو پکارتے ہو تو جس دکھ کے لئے اسے پکارتے ہو وہ اگر چاہتا ہے تو اس کو دور کردیتا ہے اور جن کو تم شریک بناتے ہو (اس وقت) انھیں بھول جاتے ہو

آیت نمبر 39 تا 41 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : والذین کذبوا بایتنا صم و بکم یہ مبتدا اور خبر ہیں یعنی انہوں نے قوت سماعت اور قوت بصارت سے نفع نہ اٹھایا جانوروں میں سے ہر امت اپنے مصوں کی طرف ہدایت پاتے ہیں اور کفار ہدایت نہیں پاتے یہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ فی الظلمت یعنی کفر کی تاریکیاں۔ ابوعلی نے کہا : اس کا معنی یہ ہو بھی ہو سکتا ہے کہ وہ آخرت میں گونگے اور بہرے ہوں گے اس صورت میں حقیقی معنی ہوگا، مجازی معنی نہ ہوگا۔ من یشا اللہ یضللہ یہ دلیل ہے کہ اس نے کافر کی گمراہی کو چاہا اور اس نے ارادہ کیا کہ اس میں اس کا عدل نافذ ہو کیا آپ نے ملاحظہ نہیں کیا کہ اس نے فرمایا : آیت : ومن یشا یجعلہ علی صراط مستقیم یعنی جسے چاہے دین اسلام پر اسے لگا دے، تاکہ اس میں اس کا فضل نافذ ہو۔ اس میں قدریہ کے مذہب کا ابطال ہے۔ مشیت ان لوگوں کی طرف راجع ہے جنہوں نے تکذیب کی۔ ان میں سے کچھ کو گمراہ کرتا ہے اور کچھ کو ہدایت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : قل ارائیتکم نافع نے دونوں ہمزوں کو تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے پہلے ہمزہ کی حرکت کو پہلے ہمزہ پر ڈالا ہے اور دوسرے کو بین بین پڑھا ہے۔ ابوعبید نے نافع سے حکایت کی ہے کہ وہ ہمزہ کو ساقط کرتے ہیں اور ان کے عوض الف لگاتے ہیں۔ نحاس نے کہا : یہ اہل عرب کے نزدیک غلط ہے، کیونکہ یا ساکنہ ہے اور الف ساکنہ ہے اور دوساکن جمع نہیں ہوتے۔ مکی نے کہا : ورش سے مروی ہے کہ انہوں نے ہمزہ کو الف سے بدلا، کیونکہ ان سے روایت ہے کہ وہ دوسرے ہمزہ میں مدد کرتے ہیں اور مد نہیں ہوتا مگر بدل کے ساتھ بدل، اصل کی فرع ہے اور اصل یہ ہے کہ ہمزہ، ہمزہ مفتوحہ اور الف کے درمیان ہے۔ ورش کے علاوہ یہ ان کا نظریہ ہے جو دوسرے ہمزہ میں تخفیف کرتے ہیں۔ ہمزہ میں بدل کا جواز بہتر ہے اس کے بعد ساکن ہے، کیونکہ پہلا حرف مد ولین، مد وہ جو ساکن کے ساتھ پیدا ہوتا ہے وہ اس حرکت کے قائم مقام ہوتا ہے جس کے ساتھ دوسرے ساکن کے ساتھ بولنا ممکن ہوتا ہے۔ ابوعمرو، عاصم، حمزہ نے ارئیتکم دونوں ہمزوں کی تحقیق کے ساتھ پڑھا اور انہوں نے کلمہ کو اپنی اصل پر پڑھا ہے۔ اصل ہمزہ ہے، کیونکہ ہمزہ استفہام رایت پر داخل ہوا پس ہمزہ فعل کا عین کلمہ ہے اور یاء ساکن ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ضمیرمرفوع متصل ہے۔ عیسیٰ بن عمر اور کسائی نے اریتکم دوسرے ہمزہ کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ نحاس نے کہا : یہ عربی قواعد سے بعید ہے شعر میں جائز ہے عرب کہتے ہیں : ارائیتک زیدا ما شانہ۔ بصریوں کا مذہب یہ ہے کہ حذف اور میم خطاب کے لیے ہے ان کا ترکیب میں کوئی محل نہیں۔ یہ زجاج کا مختار قول ہے۔ اور کسائی اور فراء وغیرہ کا مذہب یہ ہے ان کو نصب، رؤیت کے وقوع کی وجہ سے ہے۔ معنی ہے : ارایتم انفسکم جب خطاب کے لیے ہوں گے تو تاکید کے لیے زائدہ ہوں گے اور ان اتاکم میں ان محل نصب میں ہوگا۔ کیونکہ رایت کا مفعول ہوگا اور اگر کم ضمیر اسم ہوگی تو محل نصب میں ہوگی ان دوسرے مفعول کی جگہ ہوگا پس پہلی صورت میں رویت عین سے ہوگا، کیونکہ ایک مفعول کی طرف متعدی ہے اور بمعنی علم ہوگا تو دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوگا اور اواتتکم الساعت یا تمہارے پاس وہ وقت آجائے جس میں تم اٹھائے جائو گے پھر فرمایا : آیت : اغیر اللہ تدعون ان کنتم صدقین یہ آیت ان مشرکین کے خلاف حجت قائم کرنے کے لیے ہے جو اعتراف کرتے تھے کہ اس کا صانع ہے یعنی تم تکالیف میں اللہ کی طرف رجوع کرتے ہو اور قیامت کے روز بھی تم اس کی طرف لوٹو گے پس تم خوشحالی میں شرک پر کیوں اصرار کرتے ہو، وہ بتوں کی عبادت کرتے تھے اور عذاب ٹالنے کے لیے اللہ تعالیٰ کو پکارت تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : بل ایاہ تدعون بل پہلی کلام سے اضراب ہے اور دوسرے کے لیے ایجاب ہے۔ ایاہ تدعون کی وجہ سے منصوب ہے۔ آیت : فیکشف ما تدعون الیہ ان شاء یعنی وہ اس تکلیف کو دور کر دے گا جس کو دور کرنے کے لیے تم اسے پکارتے ہو اگر وہ چاہے گا۔ آیت : وتنسون ما تشرکون بعض علماء نے فرمایا : یہ عذاب کے نزول کے وقت ہوگا یعنی اس وقت وہ انہیں بھول جائیں جنہیں وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔ حسن نے کہا : تم اس طرح اعراض کرو گے جس طرح بھولنے والا اعراض کرتا ہے یہ اس کی طرف سے نجات سے مایوسی کے وقت ہوگا، کیونکہ اس میں نہ ضرر کی طاقت ہے، نہ نفع کی قوت ہے۔ آیت : ولقد عھدنا الی ادم من قبل فنسی (طہ : 115) اور ہم نے حکم دیا تھا آدم کو اس سے پہلے (کہ وہ اس درخت کے قریب نہ جائیں) سو وہ بھول گا۔
Ayah 6:42

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 6:42 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے (پھر انکی طرف نافرمانیوں کے سبب) ہم انھیں سختیوں اور تکلیفوں میں پکڑتے رہے تاکہ عاجزی کریں۔

آیت نمبر 42 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ولقد ارسلنا الی امم من قبلک یہ آیت نبی کریم ﷺ کے لیے بطور تسلی ہے اس میں اضمار ہے یعنی آیت : ارسلنا الی امم من قبلک رسلا اور اس میں دوسرا اضمار بھی ہے جس پر دلالت کرتا ہے اس کی تقدیر یہ ہے فکذبوا فاخذناھم یہ آیت ما قبل سے متصل ہے جس طرح ایک حالت اپنی سے قریب حالت سے متصل ہوتی ہے۔ یہ اس طرح ہے کہ یہ لوگ بھی اپنے نبی کی مخالفت کرنے میں پہلے لوگوں کے مسلک پر چلے جنہوں نے اپنے انبیاء کی مخالفت کی تھی پس یہ اس مصیبت اور بلا میں گرفتاری کے مقام پر ہیں جو ان سے پہلے لوگوں پر نازل ہوئی۔ بالباساء کا معنی اموال میں مصائب والضراء بدنوں میں مصیبت۔ یہ اکثر علماء کا قول ہے۔ کبھی یہ ایک دوسرے کی جگہ بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مصائب، تکالیف اور دوسرے ذرائع سے جو چاہتا ہے، تربیت فرماتا ہے لا یسعل عما یفصل (الانبیائ : 23 ) ابن عطیہ نے کہا ؛ عبادت گزار (صوفیائ) اپنے نفسوں کو اموال کی تفریق کر کے اور جسموں پر بھوک اور بغیر لباس کے رہ کر مشقت برداشت کر کے نفسوں کا استدلال کرتے ہیں۔ میں کہتا ہوںـ: یہ اس کی جہالت ہے جو ایسا کرتا ہے اور جس نے اس آیت کو اس کی اصل بنایا ہے یہ اس شخص کے لیے اللہ کی طرف سے عقوبت ہے جن کو وہ ان کے ساتھ امتحان میں مبتلا کرنا چاہے، ہمارے لیے جائز نہیں کہ ہم اپنے نفسوں کو خود امتحان میں ڈالیں اور اس پر قیاس کرتے ہوئے تکلیف برداشت کریں، کیونکہ نفس سواری ہیں جس پر سوار ہو کر دارالکرامتہ تک پہنچنا ہے اور ان کے ذریعے قیامت کے دن کی ہولناکیوں سے نجات پانا ہے قرآن حکیم میں ہے آیت : یا یھا الرسل کلوا من الطیبت واعملوا صالحا (المومنون : 51) اے (میرے) پیغمبرو ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھے کام کرو۔ اور فرمایا : یا یھا الذین امنوا انفقوا من طیبت ما کسبتم (بقرہ : 267) اے ایمان والو ! خرچ کیا کرو عمدہ چیزوں سے جو تم نے کمائی ہیں۔ اور فرمایا : آیت : یا یھا الذین امنوا کلوا من طیبت ما رزقنکم (بقرہ : 172) اے ایمان والو ! کھائو پاکیزہ چیزیں جو ہم نے تم کو دی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مومنین کو اس چیز کا حکم دیا جس کے ساتھ مرسلین کو خطاب کیا، رسول اللہ ﷺ اور صحابہؓ پاکیزہ چیزیں کھاتے تھے اور خوبصور لباس پہنتے تھے اور ان سے زینت حاصل کرتے تھے، اسی طرح تابعین کرتے تھے، جیسا کہ سورة مائدہ میں اس کا بیان گزر چکا ہے اور سورة اعراف میں لباس وغیرہ کا حکم آئے گا۔ اگر معاملہ اس طرح ہوتا جس طرح یہ کہتے ہیں اور استدلال کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ذروع، جنات، پھل، نباتات اور جانور جن کو مسخر فرمایا اور جن کو ہمارے لیے کھانا حلال کیا اور جن کے دودھ استعمال کرنے اور ان کی کھال سے گرمی حاصل کرنے کو بطور احسان ذکر نہ فرماتا۔ اگر ان کا نظریہ درست ہوتا اور اس میں فضیلت ہوتی تو رسول اللہ ﷺ صحابہ کر امؓ اور تابعین و علماء اس پر زیادہ عمل کرتے۔ سورة بقرہ میں مال کی فضیلت، منفعت اور جو اس کو جمع کرنے کا انکار کرتا ہے اس کا رد گزر چکا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے جسموں پر کمزوری کے خوف سے صوم وصال سے نہی فرمائی اور مال کو ضائع کرنے سے نہی فرمائی، جاہل اغنیاء کا رد کرتے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : لعلھم یتضرعون وہ پکاریں اور عجز کا اظہار کریں۔ یہ الضراعتہ سے مشتق ہے جس کا معنی ذلت ہے، کہا جاتا ہے : ضرع فھو ضارع
Ayahs 6:43–45

فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:43 in the Quran reader

تو جب ان پر ہمارا عذاب آتا رہا کیوں نہیں عاجزی کرتے رہے۔ مگر ان کے تو دل ہی سخت ہوگئے تھے۔ اور جو کام وہ کرتے تھے شیطان ان کو (اُنکی نظروں میں) آراستہ کر دکھاتا تھا۔

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ Open ayah 6:44 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو انکو کی گئی تھی فراموش کردیا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھولدیے۔ یہاں تک کہ جب ان چیزوں سے جو ان کو دی گئی تھیں خوب خوش ہوگئے تو ہم نے انکو ناگہاں پکڑ لیا۔ اور وہ اس وقت مایوس ہو کر رہ گئے۔

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ؕ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 6:45 in the Quran reader

غرض ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی۔ اور سب تعریف خدائے رب العالمین ہی کو (سزاوار ہے)

آیت نمبر 43 تا 45 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : فلو لا اذ جائھم باسنا تضرھو، لولا یہ تحضیض کے لیے ہے یہ وہ ہوتا ہے جو فعل کے ساتھ ملا ہوتا ہے بمعنی ھلا ہوتا ہے، یہ دعا کے ترک پر عتاب ہے اور ان کے متعلق خبر ہے کہ عذاب کے نزول کے وقت انہوں نے دعا نہیں کی۔ یہ بھی جائز ہے کہ انہوں نے دعا کی ہو لیکن غیر مخلص کی طرح کی ہو یا اس وقت دعا کی ہو جب عذاب نازل ہوچکا ہو۔ اور ان تمام صورتوں میں دعا غیر نافع ہے۔ دعا کا حکم حالت خوشحالی اور شدت میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ادعونی استجب لکم (غافر : 60) مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ اور فرمایا : آیت : ان الذین یستکبرون عن عبادتی سیدخلون جھنم دخرین (غافر) بیشک جو لوگ عبادت کرنے سے تکبر کرتے ہیں وہ عنقریب جہنم میں داخل ہوں گے ذلیل و خوار ہو کر۔ یہ سخت وعید ہے۔ آیت : ولکن قست قلوبھم یعنی ان کے دل سخت ہوگئے، یہ کفر اور مصیبت پر اصرار سے عبارت ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگتے ہیں۔ آیت : زین لھم الشیطن ما کانوا یعملون شیطان نے انہیں گناہوں کے ذریعے اغوا کیا اور گناہوں پر برانگیختہ کیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : فلما نسوا ما ذکروا بہ کہا جاتا ہے : ان کی نسیان پر کیوں مذمت کی گئی جب کہ یہ ان کے فعل سے نہیں ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نسوا معنی ترکوا ہے یعنی انہوں نے جب ترک کردیں وہ نصیحتیں جو انہیں کی گئی تھیں۔ یہ حضرت ابن عباسؓ اور ابن جریج سے مروی ہے اور یہی ابوعلی کا قول ہے جو شخص کسی شئے سے اعراض کرتے ہوئے اسے چھوڑدیتا ہے تو وہ اس شخص کے قائم مقام ہوجاتا ہے جو بھول چکا ہو جیسے کہا جاتا ہے : ترکہ فی النسی۔ اس نے اسے بل کل بھلا دیا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو نسیان کے لیے پیش کیا اس لیے مذمت جائز ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کی سزا کے موجب کاموں پر مذمت جائز ہے۔ آیت : فتحنا علیھم ابواب کل شیء یعنی نعمتیں اور خیرات کے دروازے کھول دیئے یعنی ہم نے نعمتوں کی کثرت کردی۔ اہل عرب کے نزدیک اس کی تقدیر یہ ہے کہ ہر دروازہ جو بند تھا وہ ان پر کھول دیا۔ آیت : حتی اذا فرحوا بما اوتوا حتی کہ جب وہ اکڑے اور خوش ہوئے اور یہ گمان کرنے لگے یہ نعمتیں اور مال ہمیشہ رہے گا، یہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی دلیل ہے۔ آیت : اخذنھم بغتت ہم نے انہیں اچانک جڑ سے اکھیڑ دیا اور ہم نے ان پر غالب آگئے۔ بغتتہ کا معنی اچانک ہے یعنی کسی نشان کے بغیر غفلت پر پکڑ لینا۔ جب کوئی غافل ہو اور اسے پکڑا جائے تو کہتے ہیں : فقد اخذ بغتتہ کسی کو اچانک حملہ کر کے قتل کرنا۔ یہ البغت ست مشتق ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : تذکیر (نصیحت) جو پہلے گزر چکی ہے، اس سے انہوں نے اعراض کیا۔ اس کو علامت کے قائم مقام رکھا ہے واللہ اعلم۔ بغتتہ حال کی جگہ مصدر ہے۔ سیبویہ کے نزدیک اس پر قیاس نہیں کیا جائے گا جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے استدراج ہے جیسے فرمایا : آیت : و املی لھم ان کیدی متین (القلم) میں انہیں مہلت دوں گا میری تدبیر بہت مضبوط ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اس کی ناراضگی اور خفیہ تدبیر سے پناہ مانگتے ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم فرمائے جس نے اس آیت میں غور کیا آیت : حتی اذا فرحوا بما اوتوا اخذ نھم بغتتہ۔ محمد بن نضر حارثی نے فرمایا : اس قوم کو بیس سال مہلت دی گئی۔ حضرت عقبہ بن عامر نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :" جب تم دیکھو کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو گناہوں کے باوجود انہیں وہ عطا کر رہا ہے جو وہ چاہتے ہیں تو وہ اس کی طرف ان کے لیے استدراج ہے، پھر یہ آیت پڑھی : فلما نسوا ماذکروابہ حسن نے کہا : اللہ کی قسم ! لوگوں میں سے کوئی ایسا نہیں اللہ نے اس کے لیے دنیا میں کشادگی کی ہو اور وہ نہ ڈرے کہ ہو سکتا ہے اس سے تدبیر کی گئی ہو مگر اس کا عمل کم ہو اور اس کی رائے عاجز ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے بندے سے جو روک لیا اور اس نے گمان نہ کیا وہ اس کے لیے بہتر ہے مگر اس کا عمل کم ہو اور اس کی رائے عاجز ہوئی خبر میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی طرف وحی فرمائی : جب تم فقر کو اہنی طرف آتا دیکھو تو نیک لوگوں کے شعار کو مرحبا کہو اور جب تم غنی کو اپنی طرف آتا دیکھو تو کہو : گناہ جس کی سزا جلدی دی گئی ہے۔ " اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : فاذا ھم مبلسون المبلس مبہوت، غمگین اور خیر سے مایوس آدمی کو کہتے ہیں جو مایوسی بند نہیں ہوتی۔ یہ شدت کا جواب ہے جو ان پر نازل ہوئی۔ زجاج نے کہا : یا صاح ھل تعرف رسما مکرسا قال نعم اعرفہ وابلسا یعنی اس نے جو دیکھا اس کی ہولناکی کی وجہ سے حیران ہوا۔ اس سے ابلیس کا اسم مشتق ہے ہوا۔ ابلس الرجل یعنی آدمی خاموش ہوا۔ ابلست الناقتہ وھی مبلاس اونٹنی جب نر کی خواہش میں نہ بولے۔ ضبعت الناقتہ تقبع ضبعتہ و ضبعا جب اونٹنی کو نر چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : فقطع دابر القوم الذین ظلموا، الدابر کا معنی ہے آخر۔ کہا جاتا ہے : دبرا لقوم یدبرھم دبراجو سب سے آخر میں آنے والا ہو۔ حدیث میں حضرت عبد اللہ بن مسعود سے مروی ہے حدیث : من الناس من لا یاتی الصلاۃ الادبریا (1) (معانی القرآن للح اس) یعنی لوگوں میں سے جو نماز میں آخری وقت میں آتا ہے۔ یہاں معنی ہے ان کی نسل کاٹ دی انہیں بدل دیا اور ان میں سے کوئی باقی نہ چھوڑا۔ قطرب نے کہا : انہیں جڑ سے اکھیڑ دیا گیا اور انہیں ہلاک کیا گیا۔ امیہ بن صلت نے کہا : فاھلکوا بعذاب حض دابرھم مما استطاعوا لہ صرفا ولا انتصروا اسی التدبیر ہے، کیونکہ وہ امور کے انجام کو پختہ کرتا ہے۔ آیت : والحمدللہ رب العلمین بعض علماء نے فرمایا : ان کے ہلاک کرنے پر حمد ہے۔ بعض نے فرمایا : مومنین کو تعلیم دی گئی ہے کہ وہ کیسے حملہ کریں۔ یہ آیت اپنے ضمن میں ظلم کو وجوبا چھوڑنے پر حجت کو لیے ہوئے ہے، کیونکہ ظلم کے پیچھے جڑ کو ہی ختم کردینا اور دائمی عذاب تک پہنچانا ہے ہر حامد کی طرف حمد قطع کرنے والے کے استحقاق کے ساتھ۔
Ayahs 6:46–47

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:46 in the Quran reader

(ان کافروں سے) کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا تمہارے کان اور آنکھوں چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے تو خدا کے سوا کونسا معبود ہے جو تمہیں یہ نعمتیں پھر بخشے ؟ دیکھو ہم کس کس طرح اپنی آیتیں بیان کرتے ہیں پھر بھی یہ لوگ روگردنی کرتے ہیں۔

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:47 in the Quran reader

کہو کہ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر خدا کا عذاب بیخبر ی میں یا خبر آنے کے بعد آئے تو کیا ظالم لوگوں کے سواء کوئی اور بھی ہلاک ہوگا ؟

آیت نمبر 46 تا 47 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : قل ارئیتم ان اخذ اللہ سمعکم و ابصارکم یعنی اگر تم سے قوت سماعت اور دیکھنے کی استطاعت واپس لے لے۔ سمعکم کو مفرد ذکر فرمایا، کیونکہ مصدر جمع پر دلالت کرتا ہے۔ و ختم مہر لگا دے۔ یہ پہلے سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ " ان " کا جواب محذوف ہے تقدیر عبارت ہے فمن یاتیکم بہ، بہ محل نصب میں ہے کیونکہ یہ حال واقع ہو رہا ہے جیسے تیرا قول ہے : اضربہ ان اخرج یعنی خارجا۔ پھر بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد وہ معانی ہیں جو ان اعضاء کے ساتھ قائم ہیں اللہ جوارح (اعضائ) اور اعراض سب کو لے جاتا ہے اور کچھ بھی باقی نہیں چھوڑتا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : من قبل ان نطمس وجوھا (النسائ : 47) یہ آیت کریمہ کفار پر حجت ہے۔ آیت : من الہ غیرا للہ یاتیکم بہ، من مبتدا ہے اور اس کی خبر الہ ہے اور غیرہ اس کی صفت ہے اسی طرح یاتیکم محل رفع میں ہے کیونکہ الہ کی صفت ہے اس کا ذکر استفہام کے ذکر کی طرح ہے اور یہ جملہ رایتم کے دونوں مفعولوں کے قائم مقام ہے اور ارایتم کا معنی علمتم ہے بہ میں ضمیر کا مرجع سمع ہے جیسے ارشاد ہے : آیت : واللہ ورسولہ احق ایرضوہ (التوبہ : 62) ابصار اور قلوب تضمین کی دلالت کے ساتھ داخل ہیں۔ بعض نے فرمایا : آیت : من الہ غیر اللہ یاتیکم ان مذکورات میں سے ایک کو۔ بعض نے فرمایا : ہدایت کی طرف ضمیر راجع ہے معنی جس کو شامل ہے۔ عبدالرحمن اعرج نے بہ انظرھا کے ضمہ کے ساتھ اصل پر پڑھا ہے، کیونکہ اصل میں ہ مضمومتہ ہوتی ہے جیسے تو کہتا ہے : جنت معہ۔ نقاش نے کہا : اس آیت میں سمع کی بصر پر فضیلت کی دلیل ہے، کیونکہ یہاں اور دوسری آیت میں سمع کو مقدم کیا گیا ہے۔ یہ سورة بقرہ کی ابتدا میں تفصیلا گزر چکا ہے۔ آیات کو مختلف جہات سے بیان کرنا، کبھی اعذار، کبھی انداز کبھی ترغیب کبھی ترہیب، یہ تصریف الایات کا مفہوم ہے۔ آیت : ثم ھم یصدفون پھر وہ اعراض کرتے ہیں۔ یہ حضرت ابن عباسؓ، حسن، مجاہد، قتادہ اور سدی سے مروی ہے۔ کہا جاتا ہے : صدف عن الشی جب کوئی کسی سے اعراض کرے اس کا مصدر صدفاو صدوفا آتا ہے اور صادف اسم فاعل آتا ہے۔ صادفتہ مصادفتہ اس کی اعراض کی جہت سے میں اسے ملا۔ ابن رقاع نے کہا : اذا ذکرن حدیثا قلن احسنہ دھن عن کل سوء یثقی صدف الصدف فی البعیر اونٹ کا پائوں یا ہاتھ وحشی جانب مائل ہوا۔ ھم یصدفون وہ حج اور آیات سے اعراض کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : قل ارئیتکم ان اتکم عذاب اللہ بغتتہاو جھرۃ حسن نے کہا : بغتتہ سے مراد رات کے وقت اور جھرۃ سے مراد دن کے وقت ہے۔ بعض نے فرمایا : بغتتہ کا معنی اچانک ہے۔ کسائی نے کہا : کہا جاتا ہے : بغتھم الامر بغتھم بغتاو بغتہ جب اچانک ان کے پاس آجائے یہ پہلے گزر چکا ہے۔ آیت : ھل یھلک الا القوم الظلمون اس کی مثال یہ آیت ہے آیت : فھل یھلک الا القوم الفسقون (الاحقاف) یعنی کوئی ہلاک ہوگا سوائے تمہارے، کیونکہ تم نے شرک کیا۔ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا : آیت : یبنی لا تشرک باللہ ان الشرک لظلم عظیم (لقمان) اے میرے پیارے فرزند ! کسی کو اللہ کا شریک نہ بنانا یقینا شرک ظلم عظیم ہے۔
Ayah 6:48

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 6:48 in the Quran reader

اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجتے رہے ہیں تو خوش خبری سنانے اور ڈرانے کو۔ پھر جو شخص ایمان لائے اور نیکوکار ہوجائے تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ اندوہناک ہوں گے۔

آیت نمبر 48 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : وما نرسل المرسلین الا مبشرین و منذرین یعنی مرسلین ترغیب و ترہیب کرتے ہیں۔ حسن نے کہا : دنیا میں رزق کی وسعت کی بشارت دیتے ہیں اور آخرت میں ثواب کی بشارت دیتے ہیں اس پر دلیل یہ ارشاد ہے : آیت : و لو ان اھل القری امنوا واتقوا لفتحنا علیھم برکت منالسماء ولارض (الاعراف : 96) منذرین کا معنی اللہ کے عذاب سے ڈرانے والے ہیں، یعنی ہم نے رسولوں کو ترغیب وہ ترہیب کی غرض سے بھیجا نہ کہ اس لیے کہ جو مطالبہ ان سے کسی نشانی کا کیا جائے وہ دکھائیں وہ تو ایسی آیات لیکر آتے ہیں جن کے ساتھ ان کی صداقت ظاہر ہوتی ہے۔ فرمایا : آیت : فمن امن و اصلح فلا خوف علیھم ولا ھم یحذنون اس پر کلام گزر چکی ہے۔
Ayah 6:49

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 6:49 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کی نافرمانیوں کے سبب انھیں عذاب ہوگا۔

آیت نمبر 49 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : والذین کذبوا بایتنا آیات سے مراد قرآن اور معجزات ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : حضرت محمد ﷺ کی ذات اقدس ہے۔ آیت : یمسھم العذاب انہیں عذاب پہنچے گا۔ آیت : بما کانوا یفسقون جو وہ کفر کرتے تھے۔
Ayah 6:50

قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 6:50 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ (یہ کہ) میں غیب جانتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں میں تو صرف اس حکم پر چلتا ہوں جو مجھے (خدا کی طرف سے) آتا ہے کہہ دو کہ بھلا اندھا اور آنکھ والا برابر ہوتے ہیں ؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

آیت نمبر 50 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : قل لا اقول لکم عندی خذائن اللہ یہ ان کے قول آیت : لو لا انزل علیہ ایت من ربہ کیوں نہ اتاری گئی ان پر آیت اس کے رب کی طرف سے۔ کا جواب ہے مطلب یہ ہے کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کی قدرت کے خزانے نہیں ہیں کہ میں اتاروں جو تم کسی نشانی کا مطالبہ کرو اور نہ میں غیب جانتا ہوں کہ تمہیں اس کے متعلق خبر دوں۔ الخزانتہ وہ چیز جس میں کوئی چیز محفوظ کی جائے۔ حدیث شریف میں ہے " لوگوں کے لیے اس کے مویشیوں کی کھیریاں ان کے کھانے خزانہ کیسے ہوئے ہوتی ہیں، کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اس کے بالاخانہ میں کوئی آئے اور اس کی الماری توڑ دی جائے " (1) (مسند امام احمد، حدیث نمبر 4505) خزائن اللہ سے مراد اس کی مقدارات ہیں یعنی میں اس کا مالک نہیں کہ جو تم تجویز پیش کرو میں وہ سب کر گزروں آیت : ولا اعلم الغیب اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ لوگ خیال کرتے تھے کہ فرشتے افضل ہیں یعنی میں فرشتہ نہیں ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کے ان امور کا مشاہدہ کروں جو ایک بشر نہیں کرتا۔ جو علماء کہتے ہیں کہ فرشتے انبیاء سے افضل ہیں وہ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں۔ سورة بقرہ میں اس پر کلام گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ان اتبع الا ما یوحی الی اس کا ظاہر یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ قطعی طور پر کسی امر کا فیصلہ نہیں کرتے مگر جس میں وحی آجاتی ہے۔ صحیح یہ ہے کہ انبیاء کر ان کی طرف سے اجتہاد، منصوص پر قیاس جائز ہے اور قیاس اولہ شرعیہ سے ہے مزید بیان سورة اعراف میں آئے گا اور انبیاء کے اجتہاد کے جواز پر گفتگو سورة الانبیاء میں آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیتـ: قل ھل یستوی الاعمی والبصیر، الاعمی سے مراد کافر اور البصیر سے مراد مومن ہے یہ مجاہد وغیرہ سے مروی ہے۔ بعض نے فرمایا : اس سے مراد جاہل اور عالم ہیں۔ افلا تتقون دونوں برابر نہیں ہیں کیا تم غوروفکر نہیں کرتے۔
Ayah 6:51

وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:51 in the Quran reader

اور جو لوگ خوف رکھتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر کئے جائیں گے (اور جانتے ہیں کہ) اس کے سوا نہ تو ان کا کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا۔ ان کو اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرو تاکہ پرہیزگار بنیں۔

آیت نمبر 51 :۔ اللہ عالی کا ارشاد ہے : آیت : و انذر بہ، ہ ضمیر کا مرجع قرآن ہے۔ انذار کا معنی اعلام (آگاہ کرنا) ہے یہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : بہ کی ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، بعض نے فرمایاـ: آخرت کا دن ہے۔ آیت : الذین یخفون ان یحشروا، ان کو خاص فرمایا، کیونکہ ان پر حجت کو ثابت فرمایا یہی وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں نہ وہ حشر کے بارے مترود ہیں، معنی یہ ہے کہ وہ حشر کے عذاب کی توقع رکھتے ہیں۔ بعض نے فرمایا : یخافون کا معنی وہ جانتے ہیں۔ اگر وہ مسلمان ہیں تو اسے ڈرائیے تاکہ وہ گناہ چھوڑ دے اگر وہ اہل کتاب ہے تو اسے ڈرائیے تاکہ وہ حق کی اتباع کرے۔ حسن نے کہا : اس سے مراد مومنین ہیں۔ زجاج نے کہا : اس سے مراد ہر وہ شخص ہے جو دوبارہ اٹھنے کا اقرار کرتا ہے خواہ وہ مومن ہے یا کافر ہے۔ بعض نے فرمایا : یہ آیت مشرکین کے بارے میں ہے یعنی انہیں قیامت کے دن سے ڈرائیے۔ پہلا قول اظہر ہے۔ آیت : لیس لھم من دونہ اللہ کے سوا ان کا کوئی حمایتی اور سفارشی نہ ہوگا۔ شفیع یہ یہودونصاری کا گمان کا رد ہے جو کہتے تھے کہ ان کا باپ ان کی سفارش کرے گا، کیونکہ وہ کہتے تھے : آیت : نحن ابنوا اللہ و احباوہ (المائدہ : 18) ہم اللہ کے فرزند اور اس کے لاڈلے ہیں مشرکین اپنے بتوں کو اللہ کی بارگاہ کا سفارشی بناتے تھے، اللہ تعالیٰ بتا دیا کہ کفار کے لیے سفارش نہیں ہے۔ اور جن علماء نے کہا : آیت مومنین کے بارے میں ہے انہوں نے کہا : رسول کریم ﷺ اللہ کے اذن سے شفاعت کریں گے پس حقیقت میں وہی شفیع ہے جس نے اذن دیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ولا یشفعون الا لمن ارتضی (الانبیائ : 28) وہ شفاعت نہیں کریں گے مگر اس کے لیے جسے وہ پسند فرمائے۔ آیت : ولا تنفع الشافاعت عندہ الا لمن اذن لہ (سبا : 23) اور نہ نفع نہ دے گی سفارش اس کے ہاں مگر جس کے لیے اس نے اجازت دی ہو۔ آیت : من ذا الزی یشفع عندہ لاباذنہ (بقرہ : 255) کون ہے جو سفارش کرسکے اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر۔ آیت : لعلھم تتقون یعنی مستقبل میں پرہیزگار بن جائیں۔ یہ ایمان پر ثابت قدم رہنا ہے۔
Ayah 6:52

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ١ؕ مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:52 in the Quran reader

اور جو لوگ صبح وشام اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں (اور) اسکی ذات کے طالب ہیں انکو (اپنے پاس سے) مت نکالو۔ ان کے حساب (اعمال) کی جوابدہی تم پر کچھ نہیں اور تمہارے حساب کی جواب دہی ان پر کچھ نہیں (پس ایسا نہ کرنا) اگر انکو نکالو گے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے۔

آیت نمبر 52 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ولا تطرد الذین یدعون ربھم، مشرکین نے کہا : سلمان، صہیب، بلال اور خباب جیسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے پر خوش نہیں ہیں آپ ان کو اپنے پاس سے دور کردیں اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ آپ کو لکھ دیں کہ آپ انہیں ہٹا دیں گے۔ نبی کریم ﷺ نے ارادہ فرمایا اور حضرت علی ؓ کو بلایا تاکہ تحریر لکھ دیں۔ فقراء صحابہؓ اٹھے اور ایک طرف جا کر بیٹھ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اسی وجہ سے حضرت سعدؓ نے صحیح حدیث میں اپنے قول سے اشارہ کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دل میں واقع ہوا جو اللہ نے چاہا کہ واقع ہو۔ اس کا ذکر آگے آئے گا۔ نبی کریم ﷺ مشرکین کے اسلام لانے کی امید پر اس عمل کی طرف مائل ہوئے اور آپ نے خیال فرمایا کہ یہ چیز آپ کے صحابہ میں کسی عظمت کو کم نہ کرے گی اور ان کی قدر کو نہیں گھٹائے گی پس آپ اس عمل کی طرف مائل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی اور فقیر صحابہ کو دور کرنے کا جو ارادہ فرمایا تھا اس سے منع فرما دیا۔ آپ ﷺ نے ابھی انہیں دور نہیں کیا تھا۔ (صرف ارادہ کیا تھا اور نہی وارد ہوگئی) ۔ مسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت کیا ہے فرمایا : ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ چھ آدمی تھے۔ مشرکین نے نبی کریم ﷺ سے کہا : آپ ﷺ انہیں اپنے پاس سے دور ہٹا دیں، یہ ہمارے پاس نہ بیٹھیں۔ فرمایا : ان صحابہ میں ایک تھا، حضرت ابن مسعود تھے، ایک ہذیل کا آدمی تھا، بلال تھا اور دو اور آدمی تھے میں ان کا نام نہیں لیتا۔ رسول ﷺ کے دل میں خیال واقع ہوا جو اللہ نے چاہا کہ واقع ہو۔ آپ ﷺ نے سوچا تو یہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کردی : آیت : ولا تطردالذین یدعون ربھم بالغدوۃ ولعشی یریدون وجھہ بعض علماء نے فرمایا : یہاں دعا سے مراد جماعت کے ساتھ فرضی نماز کی مخالفت کرنا ہے۔ یہ حضرت ابن عباسؓ، مجاہد اور حسن کا قول ہے بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد ذکر اور قرأت قرآن ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ دن کے آغاز اور اختتام پر دعا مراد ہو وہ دن کا آغاز دعا سے کرتے ہوں تاکہ انہیں نیکی کی توفیق ملے اور شام بھی دعا کرتے ہوں تاکہ مغفرت طلب کریں آیت : یریدون وجھہ اس کی اطاعت اور اخلاص کا ارادہ کرتے ہیں فقد اللہ کی رضا کے لیے عبادت اور نیک اعمال کرتے ہیں وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ بعض نے فرمایا : اس کا مطلب ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا ارادہ کرتے ہیں جس کی صفت بیان کی گئی ہے کہ اس کی وجہ سے ہے جیسے فرمایا : آیت : و یبقی وجہ ربک ذوالجلل ولاکرام (الرحمن) باقی رہے گی آپ ﷺ کے رب کی ذات جو بڑی عظمت و احسان والی ہے۔ اور فرمایا : آیت : والذین صبروا ابتغاء وجہ ربھم (الرعد : 22) اور جو لوگ (مصائب وآلام میں) صبر کرتے رہے اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے۔ آیت میں غداۃ اور عشی (صبح وشام) کا خاص ذکر فرمایا، کیونکہ غالب طور پر لوگ ان اوقات میں مشغول ہوتے ہیں اور جو مشغولیت کے وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہو وہ فراغت کے وقت میں بہت زیادہ عمل کرنے والا ہوگا، رسول اللہ ﷺ اس کے بعد ان کے ساتھ رہتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا : واصبر نفسک مع الذین یدعون ربھم بالغدوۃ والعشی یریدون وجھہ ولا تعد عینک عنھم (الکہف : 28) آپ نہیں اٹھتے تھے حتی کہ وہ پہلے اٹھتے تھے یہی مفہوم مکمل اور واضح طور پر ابن ماجہ نے سنن میں خباب سے اسی آیت کے تحت ذکر فرمایا ہے۔ فرمایا : اقرع بن حابس تمیمی اور عیینہ بن حصن فزاری آئے اور رسول اللہ ﷺ کو صہیب، بلال اور خباب اور عمار کے ساتھ پایا آپ کمزور اور غریب مومنین کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے جب انہوں نے ایسے لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کے اردگرد دیکھا تو انہوں نے انہیں حقیر سمجھا، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور تنہائی میں کہا : ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے لیے ایک ایسی مجلس قائم کریں کہ اس سے عربوں پر ہماری فضیلت ظاہر ہو، کیونکہ عرب کے وفود آپ ﷺ کے پاس آتے ہیں ہم شرم محسوس کرتے ہیں کہ ان غلاموں کے ساتھ عرب ہمیں دیکھیں جب آپ ﷺ کے پاس آئیں تو انہیں اپنے پاس سے اٹھا دیں اور جب ہم فارغ ہوجائیں تو پھر آپ کی مرضی ہو تو ان کے ساتھ بیٹھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا :" ٹھیک ہے " انہوں نے مزید کہا کہ آپ ﷺ ہمیں تحریر بھی لکھ دیں آپ ﷺ نے کاغذ منگوایا اور حضرت علی ؓ کو بلایا تاکہ تحریر لکھ دیں۔ ہم ایک کونے میں بیٹھے تھے اسی وقت جبریل امین اترے اور کہا : آیت : ولا تطردالذین یدعون ربھم باغدوۃ والعشی یریدون وجھہ ما علیک من حسابھم من شیء وما من حسابک علیھم من شیء فتطردھم فتکون من الظلمین (1) (سنن ابن ماجہ، باب مجالستہ الفقرائ، حدیث نمبر 4116، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) پھر اقرع بن حابس نے اور عیینہ بن حصن کا ذکر فرمایا : آیت : و کذلک فتنا بعضھم ببعض لیقولوا اھوالاء من اللہ علیھم من بیننا الیس اللہ باعلم بالشکرین (52) پھر فرمایا : آیت : و اذا جاءک الذین یومنون بایتنا فقل سلم علیکم کتب ربکم علی نفسہ الرحمتہ فرمایا ہم آپ ﷺ کے قریب ہوئے حتی کہ ہم نے اپنے گھٹنے آپ کے گھٹنوں پر رکھے، رسول اللہ ﷺ ہمارے ساتھ بیٹھے تھے جب آپ اٹھنا چاہتے اور ہمیں چھوڑ جاتے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت : واصبر نفسک مع الذین یدعون ربھم بالغدوۃ والعشی یریدون وجھہ ولا تعد عنیک عنھم ترید زینتہ الحیوۃ الدنیا (الکہف : 28) یعنی آپ ان سرداروں سے مجلس نہ کریں فرمایا : ولا تطع من اغفلناقلبہ عن ذکرنا (الکہف : 28) یعنی عیینہ اور اقرع کے دلوں کو ہم نے غافل کردیا آپ ﷺ ان کی پیروی نہ کریں۔ آیت : واتبع ھواہ وکان امرہ فرطا (الکہف) کا معنی ھلا کا ہے یعنی عیینہ اور اقرع کا امر ہلاک ہونے والا ہے پھر ان کے لیے دو آدمیوں کی مثال دی اور دنیوی زندگی کی مثال دی۔ حضرت خباب نے کہا : پھر ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ بیٹھے تھے پھر جب وہ وقت آجاتا جس میں آپ ﷺ اٹھتے تھے تو ہم خود اٹھ جاتے تھے اور آپ ﷺ کو چھوڑ جاتے تھے تاکہ آپ اٹھ جائیں۔ اس حدیث کو احمد بن محمد یحییٰ بن سعید قطان سے روایت ہے انہوں نے کہا ہمیں عمرو بن محمد عنقزی نے بتایا انہوں نے کہا ہمیں اسباط نے بتایا انہوں نے سدی سے روایت کیا انہوں نے ابوسعید زادی سے روایت کیا یہ ازد قبیلہ کے قاری تھے انہوں نے ابوالکنود سے انہوں نے حضرت خبابؓ سے روایت کیا اس حدیث کو حضرت سعد سے بھی روایت کیا ہے فرمایا : یہ آیت ہم چھے آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، ابن مسعود، صہیب، عمار، مقداد اور بلال۔ فرمایا : قریش نے رسول اللہ ﷺ سے کہا : ہم خوش نہیں ہوں گے کہ ہم ان کے تابع ہوں آپا نہیں دور کردیں ﷺ ۔ فرمایا : رسول اللہ ﷺ کے دل میں خیال آیا جو اللہ نے چاہا کہ خیال آئے، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ولا تطرد الذین یدعون۔۔۔۔۔ الخ (1) (سنن ابن ماجہ، باب مجالستہ الفقرائ، حدیث نمبر 4117، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) الغدوۃ بھی پڑھا گیا ہے۔ مزید بیان سورة کہف میں آئے گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ما علیک من حسابھم من شیء ان کی جزا اور ان کے رزق کی کفایت آپ پر نہیں ہے۔ ان کی جزا اور ان کے رزق اللہ کے ذمہ ہیں اور آپ ﷺ کی جزا اور آپ ﷺ کا رزق بھی اللہ پر ہے کسی اور پر نہیں۔ پہلا من یعضہ ہے اور دوسرا زائدہ تاکید کے لیے ہے اسی طرح وما من حسابک علیھم من شیء جب معاملہ اس طرح ہے تو آپ ان فاقہ مستوں کی طرف متوجہ ہوں اور ان کے ساتھ مجلس کریں اور انہیں دور نہ کریں، تاکہ آپ اس کے حق کی رعایت کریں جو دین میں ان کی مثل نہیں ہے۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو ظلم کا ارتکاب کریں گے۔ پناہ بخدا ! کہ ایسا فعل آپ ﷺ سے صادر ہو یہ تو محض احکام الہی کا بیان ہے تاکہ آپ ﷺ کے علاوہ اہل اسلام میں سے کسی سے ایسی چیز صادر نہ ہو۔ اس کی مثل یہ ہے آیت : لئن اشرکت لیحبطن عملک (الزمر : 65) اھر آپ شرک کریں گے تو آپ کا عمل ضائع ہوجائے گا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ آپ شرک نہیں کریں گے اور آپ کا عمل ضائع نہیں ہوگ۔ فتطردھم نفی کا جواب ہے۔ فتکون من الظلمین۔ نہی کے جواب میں فا کے ساتھ نصب دی گئی ہے معنی یہ ہے کہ آپ ان لوگوں کو دور نہ کریں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں ورنہ آپ بےانصافی کرنے والوں میں سے ہوجائیں گے آپ کے حساب سے ان پر کچھ نہیں ہے کہ آپ انہیں دور کردیں یہ تقدیم وتاخیر پر ہے۔ ظلم اس کا اصل معنی کسی کو اس کے مقام پر نہ رکھنا ہے۔ سورة بقرہ میں تفصیل گزر چکی ہے۔ اس آیت اور حدیث سے ثابت ہوا کہ کسی کو جاہ و حشمت اور اس کے لباس کی وجہ سے عظیم نہیں سمجھنا چاہیے اور اس کے گمنام ہونے اور لباس پھٹے پرانے ہونے کی وجہ سے حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔
Ayah 6:53

وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَا١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:53 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے بعض لوگوں کی بعض سے آزمائش کی ہے کہ (جو دولت مند ہیں وہ غریبوں کی نسبت) کہتے ہیں ' کیا یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے ہم سے فضل کیا ہے (خدا نے فرمایا) بھلا خدا شکر کرنیوالوں سے واقف نہیں ؟

آیت نمبر 53 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : و کذلک فتنا بعضھم ببعض یعنی جس طرح ہم نے آپ سے پہلے لوگوں کو آزمائش میں ڈالا اسی طرح ان کو آزمائش میں ڈالا۔ الغتنتہ کا معنی آزمانا ہے یعنی ہم نے ان کے ساتھ آزمانے والوں کے معاملہ کی طرح معاملہ کیا۔ لیقولوا لام کی وجیہ سے نصب دی گئی ہے یعنی اشراف واغنیاء کہیں۔ اھولا یعنی ضعفاء اور فقرائ۔ آیت : من اللہ علیھم من بیننا نھ اس نے کہا : یہ مشکل سے ہے، کیونکہ کہا جاتا ہے کیسے آزمائے گئے تاکہ وہ یہ آیت کہیں، کیونکہ یہ اگر انکار ہو تو ان کی طرف سے کفر ہے۔ اس کے دو جواب ہیں : (1) معنی یہ ہے کہ اغنیاء کو فقراء کے ساتھ آزمائش میں ڈالا گیا کہ ان کا مرتبہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں برابر ہے تاکہ وہ استفہام کے طور پر کہیں نہ کہ انکار کے طور پر آیت : اھو لاء من اللہ عیلھم من بیننا۔ (2) دوسرا جواب یہ ہے کہ جب انہیں اس کے ساتھ آزمایا گیا تو ان کا انجام یہ ہوا کہ انہوں نے یہ انکار کے طور پر کہا۔ یہ اس قول کی مثل ہوگا آیت : فالتقطہ ال فرعون لیکون لھم عدو و حذنا (القصص : 8) پس (دریا سے) نکال لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ (انجام کار) وہ ان کا دشمن اور باعث رنج والم بنے۔ آیت : الیس اللہ باعلم بالشکرین یعنی جن پر دولت ایمان کا احسان فرمایا، ان رؤسا پر نہیں جن کے متعلق اللہ کفر کو جانتا تھا۔ یہ استفہام تقریر ہے اور یہ ان کے قول آیت : اھولاء من اللہ عیلھم من بیننا کا جواب ہے۔ بعض نے فرمایاـ: اس کا معنی ہے کیا اللہ تعالیٰ جانتا نہیں ہے جو اسلام کا شکر ادا کرے گا جب اسے اس کی طرف ہدایت ملے گی۔
Ayah 6:54

وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:54 in the Quran reader

اور جب تمہارے پاس ایسے لوگ آیا کریں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ( ان سے) سلام علیکم کہا کرو۔ خدا نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کرلیا ہے کہ جو کوئی تم میں سے نادانی سے کوئی بری حرکت کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور نیکوکار ہوجائے تو وہ بخشنے والا مہربان ہے

آیت نمبر 54 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : واذا جاءک الذین یومنون بایتنا فقل سلام علیکم، السلام اور السلام تہ دونوں کا ایک معنی ہے۔ سلم علیکم کا معنی ہے اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے دین اور نفسوں میں سلامتی بخشے۔ یہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جن کو دور کرنے سے نبی کریم ﷺ کو نہی کی گئی تھی پھر جب آپ انہیں دیکھتے تو پہلے انہیں سلام کرتے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :" سب تعریفیں اس ذات کے لیے جس نے میری امت میں ایسے لوگ بنائے جنہیں پہلے سلام کرنے کا مجھے حکم دیا گیا " (1) (زادالمسیرلابن جوزی) اس بناء پر سلام، نبی کریم ﷺ کی طرف سے ہوتا تھا۔ بعض نے فرمایاـ: یہ اللہ کی جہت سے تھا، یعنی ہماری طرف سے انہیں سلام پہنچا دے۔ دونوں صورتوں میں اللہ کی بارگاہ میں ان کی فضیلت و مرتبہ کی دلیل ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت عائذ بن عمرو سے مروی ہے کہ ابوسفیان آیا سلیمان، صہیب، بلال اور دوسرے افراد کے پاس تو انہوں نے کہا : اللہ کی تلواروں نے اللہ کے دشمن کی گردن سے اپنا حصہ نہیں لیا۔ راوی فرماتے ہیں حضرت ابوبکر نے کہا : کیا تم یہ قریش کے شیخ اور سردار کو کہتے ہو ؟ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور انہیں سارا واقع عرض کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اے ابوبکر ! شاید تو نے انہیں ناراض کیا ہے، اگر تو انہیں ناراض کرے گا تو تو اپنے رب کو ناراض کرے گا۔ ابوبکرؓ ان فقراء صحابہ کے پاس آئے اور کہا : اے بھائیو ! میں نے تمہیں ناراض کیا تھا ؟ انہوں نے کہا : نہیں، اے بھائی، اللہ تیری مغفرت فرمائے۔ یہ ان لوگوں کے بلند مرتبہ اور حرمت کی دلیل ہے اس سے نیک لوگوں کا احترام اور جو انہیں اذیت دیتے ہیں اور انہیں ناراض کرتے ہیں ان سے احتساب کا مسئلہ مستنبط ہوتا ہے، کیونکہ اس پر اللہ کا غضب ہوتا ہے یعنی جو اس کے اولیاء میں سے کسی کو اذیت دیتا ہے اس پر اس کا عقاب نازل ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہ آیت حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ فضیل بن عیاض نے کہا : مسلمانوں کا ایک گروہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہاـ: ہم سے گناہ ہوئے ہیں آپ ہمارے لیے استغفار فرمائیں۔ آپ ﷺ نے ان سے اعراض کیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت انس بن مالک سے اس کی مثل مروی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : کتب ربکم علی نفسہ الرحمتہ اپنے سچے وعدہ اور اپنی سچی خبر کے ساتھ رحمت کرنا واجب فرمایا۔ بندوں کو اس کے ساتھ خطاب کیا گیا ہے جس کو وہ جانتے تھے کہ اس نے اس چیز کو لکھا ہے تو اس نے اس کو اپنے اوپر واجب کیا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے لوح محفوظ میں اس کو لکھا۔ آیت : انہ من عمل منکم سوء بجھالتہ یعنی جس نے بغیر ارادہ کے کوئی خطا کی۔ مجاہد نے کہا : وہ حرام حلال کو نہیں جانتا تھا اور اپنی جہالت کی وجہ سے وہ کام کردیا جس نے کوئی برا کام کیا تو وہ اس سے جاہل ہے۔ یہ مفہوم سورة النساء میں گزر چکا ہے بعض علماء نے فرمایا : دنیا کو آخرت پر ترجیع دی وہ جاہل ہے۔ آیت : فانہ غفورالرحیمابن عامر اور عاصم نے ان کو فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اسی طرح انہ من عمل میں بھی فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ نافع نے انہ من عمل میں ان کی موافقت کی ہے۔ باقی قراء نے دونوں میں کسرہ پڑھا ہے۔ جنہوں نے کسرہ پڑھا ہے انہوں نے استئاف طور پر پڑھا ہے اور جملہ رحمت کے لیے تفسیر کرنے والا ہے اور ان جب جملوں پر داخل ہوتا ہے تو اسے کسرہ دیا جاتا ہے اور فا کے بعد کا حکم ابتدا اور استئاف ہے اسی وجہ سے کسرہ دیا جاتا ہے اور فا کے بعد حکم کا ابتدا اور استئاف ہے اسی وجہ سے کسرہ دیا جاتا ہے۔ اور جنہوں نے دونوں جگہ فتحہ پڑھا ہے پہلا محل نصب میں ہے، کیونکہ وہ الرحمتہ سے بدل ہے کسی شئے کا بدل اس شئے سے ہوتا ہے اور وہ وہی ہے پس اس میں کتب نے عمل کیا ہے گویا فرمایا : کتب ریکم علی نفسہ انہ من عمل اور رہا فانہ غفور فتحہ کے ساتھ تو اس میں دو وجہیں ہیں۔ (1) یہ مبتدا کی وجہ سے محل رفع میں ہو اور اس کی خبر مضمر ہو گویا فرمایا : فلہ انہ غفوررحیم۔ کیونکہ فا کے جو بعد ہوتا ہے وہ مبتدا ہوتا ہے یعنی اس کے لیے اللہ کی مغفرت ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ مبتدا مضمر ہو اور ان اور اس کا معمول خبر ہو تقدیر عبارت اس طرح ہوفامرہ غفران اللہ لہ۔ یہ سیبویہ کا مختار ہے۔ پہلی صورت کو انہوں نے جائز قرار نہیں دیا اور ابوحاتم نے اسے جائز قرار دیا۔ بعض نے فرمایا : کتب نے اس میں عمل کیا ہے یعنی کتب ربکم انہ غفور رحیم۔ علی بن صالح اور ابن ہرمز سے استئاف کی بنا پر پہلے میں کسرہ مروی ہے اور دوسرے میں فتحہ مروی ہے یا تو مبتدا کی خبر ہے یا کتب کو معمول ہے، اور جنہوں نے پہلے کو فتحہ دیا ہے وہ نافع ہے۔ اس نے الرحمتہ سے بدل بنایا ہے اور دوسرے سے نئی کلام سمجھی ہے، کیونکہ وہ فا کے بعد ہے، یہ قرأت واضح ہے۔
Ayah 6:55

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 6:55 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں (تاکہ تم لوگ ان پر عمل کرو) اور اس لئے کہ گناہ گاروں کا راستہ ظاہر ہوجائے

آیت نمبر 55 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : و کذلک نفصل الایت تفصیل سے مراد ایسا بیان ہے جس سے معانی ظاہر ہوجائیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے اس سورت میں ایسے دلائل اور مشرکین کے خلاف حجت کو بیان کیا ہے اسی طرح ہم تمہارے لیے آیات بیان کریں گے جب تمہیں دین کے معاملہ میں ضرورت پڑے گی ہم تمہارے لیے ہر حق کے بارے میں اپنے دلائل اور حجتیں پیش کریں گے اہل باطل جس کا انکار کریں گے۔ قتبی نے کہا : نفصل الایت مطلب ہے ہم ایک چیز کے بعد دوسری چیز لائیں گے ہم ایک دفعہ سارا قرآن نازل نہیں کریں گے۔ آیت ولتستبین سبیل المجرمین کہا جاتا ہے : یہ لام فعل کے متعلق ہے تو پھر وہ فعل کہاں ہے جس کے یہ متعلق ہے ؟ کو فیوں نے کہا : وہ مقدر ہے یعنی وکذلک نفصل الایات لنبین لکم ولتستبین نحاس نے کہا : اس حذف کی کوئی ضرورت نہیں۔ تقدیر یہ ہے نفصل الایات ولتستبین سبیل المجرمین فضلناھا، بعض علماء نے فرمایا : واو کا داخل ہونا معنی پر عطف کے لیے ہے یعنی تاکہ حق ظاہر ہوجائے اور واضح ہوجائے یا اور تا کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ سبیل کے لام پر رفع اور نصب پڑھے گئے ہیں۔ تا کی قرأت کی صورت میں خطاب نبی کریم ﷺ کو ہوگا یعنی اے محمد ﷺ ! تاکہ آپ مجرموں کا راستہ واضح کردیں۔ اگر کہا جائے کہ نبی کریم ﷺ تو اس کو واضح کرچکے تھے ؟ زجاج کے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے اور مراد امت ہے، معنی یہ ہے کہ تم مجرموں کا راستہ ظاہر کرو، مگر کہا جائے کہ سبیل المومنین ذکر کیوں نہیں کیا۔ اس کے دو جواب ہیں : ایک یہ کہ یہ اس طرح ہے آیت : سرابیل تقیکم الحر (النحل : 81) اس کا مطلب ہے وتقیکم البرد پھر اس کو حذف کیا گیا، اسی طرح یہ معنی بھی ہوگا ولتستبین سبیل المومنین پھر اس کو حذف کیا گیا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ کہا جاتا ہے : استبان الشیء و استنبتہ جب مجرموں کا راستہ ظاہر ہوا تو مومنین کا بھی راستہ ظاہر ہوا۔ السبیل کا لفظ مذکر اور مونث استعمال ہوتا ہے۔ تمیم مذکر اور اہل حجاز مونث استعمال کرتے ہیں۔ قرآن حکیم میں آیت : وان یروا سبیل الرشد (الاعراف : 146) میں مذکر اور آیت : لم تصدون عن سبیل اللہ (آل عمران : 99) میں مونث استعمال ہوا ہے۔ اسی طرح و لتستبین کو یا اور تا کے ساتھ پڑھا گیا ہے تا کی صورت میں خطاب نبی کریم ﷺ کو ہوگا اور مراد آپ کی امت ہوگی۔
Ayah 6:56

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ١ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:56 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ کفار سے) کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت سے منع کیا گیا ہے۔ (یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہاری خواہشوں کی پیروی نہیں کروں گا ایسا کرو تو گمراہ ہوجاؤں اور ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہ رہوں۔

آیت نمبر 56 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : قل انی نصیت ان اعبدالذین تدعون من دون اللہ بعض علماء نے فرمایا : تدعون بمعنی تعبدون ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : عبادت کی جہت سے تم اپنے اہم امور میں جن کو پکارتے ہو، اس سے مراد بت ہیں۔ آیت : قل لا اتبع اھواء کم تم ان اشیاء کی عبادت کا مطالبہ کرتے ہو اور جن کو تم دور کرنے کا ارادہ کرتے ہو میں تمہاری ان خواہشات کا اتباع نہیں کرتا۔ آیت : قد ضللت اذا یعنی اگر میں تمہاری خواہشات کی اتباع کروں تو میں گمراہ ہوگیا۔ آیت : وما انا من المھتدین میں راہ راست پر نہیں ہوں۔ ضللت لام کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ پڑھا گیا ہے یہ دونوں لغتیں ہیں۔ ابوعمرو بن علا نے کہا : لام کے کسرہ کے ساتھ تمیم کی لغت ہے اور یہی جمہور کی قرأت ہے۔ جوہری نے کہا : الضلال اور الضلالتہ، الرشاد (ہدایت) کی ضد ہیں۔ و قد ضللت اضل استعمال ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : قل ان ضللت فانما اضل علی نفسی (سبا : 50) یہ نجدیوں کی لغت ہے یہ فصیح ہے۔ اہل العالیہ کہتے ہیں : ضللت کسرہ کے ساتھ۔ اضل
Ayah 6:57

قُلْ اِنِّیْ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ كَذَّبْتُمْ بِهٖ١ؕ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ Open ayah 6:57 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تو اپنے پروردگار کی دلیل روشن پر ہوں اور تم اس کی تکذیب کرتے ہو۔ جس چیز (یعنی عذاب) کیلئے تم جلدی کر رہے ہو وہ میرے پاس نہیں ہے (ایسا) حکم اللہ ہی کے اختیار میں ہے وہ سچی بات بیان فرماتا ہے وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

آیت نمبر 57 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : قل انی علی بینتہ من ربی یعنی میں دلالت، یعقین، محبت اور برہان پر ہوں۔ خواہش پر نہیں ہوں اسی سے البینتہ (گواہی) ہے جس سے حق واضح اور ظاہر ہوتا ہے۔ و کذبتم بہ تم نے اس بینتہ (دلیل) کو جھٹلایا، کیونکہ یہ بیان کے معنی میں ہے اس لیے ضمیر مذکر کی جیسے فرمایا : آیت : واذا حضر القسمتہ اولوا القربی والیتمی والمسکین فارزقوھم منہ (النسائ : 8) یہاں بھی ضمیر مذکر ذکر کردی جب ظاہر مرجع مونث ہے۔ ہم نے اس کی وضاحت اسی آیت کے تحت کردی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : عذاب کی طرف راجع ہے۔ بعض نے کہا : قرآن کی طرف راجع ہے۔ اس آیت او اس سے پہلے والی آیت کے معنی میں معصب بن عبداللہ بن زبیر نے اشعار کہے ہیں وہ ایک عمدہ اور نیک شاعر تھے : ااقعد بعد ما رجعت عظامی وکان الموت اقرب مایلینی اجادل کل معترض خصیم واجعل دینہ غرضا لدینی فاترک ما علمت لرای غیری ولیس الرای کالعلم الیقین وما انا والخصومتہ وھی شی یصرف فی الشمال و فی الیمین وقد سنت لنا سنن قوام یلحن بکل فج او وجین وکان الحق لیس بہ خفائ اغر کغرتہ الفلق المبین وما عوض لنا منھاج جھنم بمنھاج ابن امنتہ الامین فاما ما علمت فقد کفان واما ما جھلت۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ماعندی ماتستعجلون بہ اس سے مراد عذاب ہے۔ وہ تکذیب میں انتہا کو پہنچے ہوئے تھے وہ استہزا نزول عذاب کا جلدی مطالبہ کرتے تھے جیسے انہوں نے کہا : آیت : او تسقط السماء کما زعمت علینا کسفا (الاسرائ : 92) یا آپ گرادیں آسمان کو جیسے آپ کا خیال ہے ہم پر ٹکڑے ٹکڑے کر کے۔ آیت : اللھم ان کان ھذا ھوالحق من عندک فامطر علینا حجارتہ من السمائ (الانفال : 32) اے اللہ اگر ہو یہی (قرآن) سچ تیری طرف سے تو برسا ہم پتھر آسمان سے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب میرے وہ نشانیاں نہیں ہیں جن کا مطالبہ اور تجویز تم کرتے ہو۔ ان الحکم الا للہ عذاب کی تاخیر اور تعجیل کا فیصلہ تو صرف اللہ تعالیٰ کا ہے۔ بعض نے فرمایا : حق و باطل کے درمیان فاصل حکم اللہ کے لیے ہے۔ یقص الحق یعنی وہ سچے واقعات بیان کرتا ہے۔ جو علماء قرآن مجاز سے منع کرتے ہیں وہ اس سے استدلال کرتے ہیں۔ یہ نافع، ابن کثیر، عاصم، مجاہد، اعرج اور ابن عباس کی قرأت ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : آیت : نحن نقص علیک احسن القصص (یوسف : 3) ہم بیان کرتے ہیں ایک بہترین قصہ۔ باقی قراء یقص الحق ضاد کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ حضرت علی، ابوعبدالرحمن، سلمی اور سعید بن مسیب نے اسی طرح پڑھا ہے۔ مصحف میں بغیر یا کے لکھا گیا ہے اس پر وقف مناسب نہیں یہ قضا سے ہے اس پر دلیل بعد والی کلام آیت : وھوخیرالفصلین ہے۔ فیصلہ قضا میں ہوتا ہے نہ کہ قصص میں اس کی تائید اس لیے پہلے والی کلام آیت : ان الحکم الاللہ بھی کرتی ہے اور حضرت ابن مسعود کی قرأت بھی اس کو تقویت دیتی ہے۔ ان الحکم الا للہ یقص الحق۔ با دخول قضا کے معنی کو مؤکد کرتا ہے النحاس نے کہا : یہ لازم نہیں، کیونکہ یقضی کا معنی یاتی اور یضع بھی ہوتا ہے معنی ہو سکتا ہے وہ حق لاتا ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ معنی ہو حق فیصلہ فرماتا ہے۔ مکی نے کہا : ضاد کی قرأت مجھے زیادہ پسند ہے کیونکہ حرمیین اور عاصم کا اس پر اتفاق ہے۔ کیونکہ اگر یہ قضا سے ہوتا تو اس میں با لازم ہوتی جیسا کہ حضرت ابن مسعود کی قرأت ہے۔ نحاس نے کہا : یہ حجت لازم نہیں کیونکہ یہ باء اکثر حذف بھی کی جاتی ہے۔
Ayah 6:58

قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:58 in the Quran reader

کہہ دو کہ جس چیز کیلئے تم جلدی کر رہے ہو اگر وہ میرے اختیار میں ہوتی تو مجھ میں اور تم میں فیصلہ ہوچکا ہوتا اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے

آیت نمبر 56 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : قل لوان عندی ما تستعجلون بہ جس عذاب کی تم جلدی مچا رہے ہو، اگر وہ میرے پاس ہوتا تو میں اسے تم پر نازل کردیتا حتی کہ معاملہ کا فیصلہ ہوجاتا۔ الاستعمال کا مطلب ہے وقت سے پہلے کسی چیز کو جلدی طلب کرنا۔ آیت : واللہ اعلم باالظلمین یعنی اللہ تعالیٰ مشرکوں کو اور ان کی سزا کے وقت کو خوب جانتا ہے۔