Ayah 6:99آیت نمبر 99
اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ آیت : وھو الذی انزل من السماء مآء اور وہی ہے جس نے بادل سے بارش نازل فرمائی۔ آیت : فاخرجنا بہ نبات کل شیء یعنی اس کے ذریعے ہم نے اگنے والی چیزوں کی ہر قسم ہم نے نکالی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ہر حیوان کا رزق ہم نے نکالا۔ آیت فاخرجنا منہ خضرا اخفش نے کہا ہے : یعنی اخضر ( یعنی پھر ہم نے اس سے سبزہ نکالا) جیسا کہ عرب کہتے ہیں : ارینھا نمرہ ارکھا مطرہ (پھیکھڑے بادل بارش ضرور برساتے ہیں) اور الخضر سے مراد سبزیوں کی ہریالی ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : اس سے مراد گندم، جو، سفید جو، مکئی، چاول اور عام قسم کے دانے ہیں۔
آیت : نخرج منہ حبا متراکبا یعنی ان میں سے بعض بعض پر چڑھے ہوتے ہیں جیسے سٹہ ہوتا ہے۔
مسئلہ نمبر 2۔ قولہ تعالیٰ : آیت : ومن النخل من طلعھا قنوان دانیۃ یہ مبتدا اور خبر ہیں۔ فراء نے غیر قرآن میں ماقبل پر عطف کرتے ہوئے آیت : قنوان دانیۃ پڑھنا جائز قرار دیا ہے۔ سیبویہ نے کہا ہے : عربوں میں سے بعض کہتے ہیں : قنوان۔ فراء نے کہا ہے : یہ بنی قیس کی لغت ہے۔ اور اہل حجاز کہتے ہیں : قنوان اور بنی تمیم کہتے ہیں : قنیان پھر واحد میں ان تمام کا اتفاق ہے۔ اور وہ کہتے ہیں : قنو اور قنو کھجور کا گابھا شگوفہ پھوٹنے سے پہلے بند ہوتا ہے۔ اور اغریض ( شگوفہ) کو بھی طلع (گابھا) کا نام دے دیا جاتا ہے۔ اور طلع وہ ہے جو کھجور کا خوشہ دکھائی دیتا ہے۔ قنوان، قنو کی جمع ہے اور اس کا تثنیہ قنوان ہے جیسے صنوا اور صنوان ہے ( یہ نون کے کسرہ کے ساتھ ہے) ۔ اور اس کے جمع بھی تثنیہ کے وزن پر آئی ہے۔
جوہری وغیرہ نے کہا ہے : تثنیہ صنوان ہے اور جمع صنوان ہے (یعنی اس میں نون مرفوع ہے) اور القنو کا معنی ہے خوشہ۔ اور اس کی جمع القنوان اور الاقناء ہے، جیسے اس قول میں ہے : طویلۃ الاقناء والاثاکل کسی اور نے کہا ہے : اقناء جمع قلت ہے۔ مہدوی نے کہا ہے : ابن ہرمز نے قنوان قاف کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور ان سے قاف کا ضمہ بھی مروی ہے اور فتحہ کی صورت میں یہ جمع غیر مکسر کا اسم ہے، یہ قائم مقام رکب کے ہے سیبویہ کے نزدیک، اور قائم مقام باقر اور حامل کے ہے۔
کیونکہ فعلان جمع کی امثلہ میں سے نہیں ہے اور قاف کو ضمہ اس بنا پر دیا گیا ہے کہ یہ قنو کی جمع ہے اور اس کا معنی خوشہ ہے یعنی العذق عین کے کسرہ کے ساتھ اور یہی کباسہ ہوتا ہے اور یہی عنقود النخلہ ( کھجوروں کا گچھا) ہے اور العذق عین کے فتحہ کے ساتھ نفس کھجور کو کہتے ہیں (مراد کھجور کا پھل دار درخت ہے) ۔
اور یہ قول بھی ہے کہ قنوان کا معنی کھجور کے درخت کا گوند بھی ہے۔ دانیۃ یعنی قریب۔ جنہیں کھڑے ہونے والا اور بیٹھنے والا سبھی حاصل کرسکتے ہیں۔ حضرت ابن عباس اور حضرت براء بن عازب ؓ وغیرہما سے یہ مروی ہے۔ زجاج نے کہا ہے : ان میں سے کچھ قریب ہیں اور کچھ بعید ہیں۔ اور اسے کلام سے حذف کردیا گیا ہے۔ اور اسی کی مثل آیت : سرابیل تقیکم الحر (النحل : 81) بھی ہے۔
اور خاص طور پر قریب کا ذکر کیا ہے، کیونکہ آیت میں مقصود اپنی قدرت کا ذکر اور نعمت کا ساتھ احسان جتلانا ہے اور احسان اسی میں ہوتا ہے جو قریب ہو اور اکثر اسے حاصل کیا جاسکتا ہو۔
مسئلہ نمبر 3۔ قولہ تعالیٰ آیت : وجنٰت من اعناب یعنی ہم نے باغات پیدا کیے۔ محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اور اعمش رحمۃ اللہ علیھم نے وجنٰت رفع کے ساتھ پڑھا ہے اور حضرت عاصم (رح) کی قرات میں سے صحیح یہی ہے اور ابو عبید اور ابو حاتم نے اس قرات کا انکار کیا ہے، حتی کہ ابو حاتم نے کہا ہے : یہ محال ہے، کیونکہ کھجوروں کے باغات نہیں ہوتے۔ نحاس نے کہا : قرأت جائز ہے اور تاویل اس طور پر نہیں ہے، بلکہ مبتداء ہونے کی بنا پر اسے رفع دیا گیا ہے اور خبر محذوف ہے ( تقدیر عبارت ہے) ولھم جنات ( اور ان کے لیے باغات ہیں) جیسا کہ قراء کی ایک جماعت نے آیت : وحور عین ( الواقعہ) پڑھا ہے۔ اور اس کی مثل کو سیبویہ، کسائی اور فراء نے جائز قرار دیا ہے۔ اور اس کی مثالیں کثیر ہیں۔ اور اسی بنا پر وحورا عینا بھی ہے اسے سیبویہ نے بیان کیا ہے اور یہ شعر بھی بیان کیا ہے :
جئنی بمثل بنی بدر لقومھم أو مثل اسرۃ منظور بن سیار
اور کہا گیا ہے : تقدیر کلام ہے آیت : وجنت من اعناب، اخرجنا ھا (یعنی انگور کے باغات ہم نے پیدا کیے) یہ اسی طرح ہے جیسے تمہارا یہ قول ہے : اکرمت عبداللہ واخوہ، ای واخوہ اکرمت ایضا ( یعنی میں نے عبداللہ کی تکریم کی اور اس کے بھائی کی بھی ہم نے تکریم کی) اور رہے زیتون اور رمان کے الفاظ تو ان میں بالاجماع نصب کے سوا کوئی اعراب جائز نہیں۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : وجنت رفع کے ساتھ قنوان پر لفظ معطوف ہے، اگرچہ معنی میں یہ اس کی جنس میں سے نہیں ہے۔ آیت والزیتون والرمان مشتبھاوغیر متشابی یعنی وہ پتوں میں ایک دوسرے مشابہ ہیں، یعنی زیتون کے پتے تمام ٹہنی پر ہونے اور اپنے حجم کے اعتبار سے انار کے پتوں کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں لیکن ذائقے میں وہ ان جیسے نہیں ہیں۔ حضرت قتادہ وغیرہ سے یہ مروی ہے۔
ابن جریج نے کہا ہے : وہ دیکھنے میں ایک جسیے ہیں اور ذائقے میں ایک جسیے نہیں ہیں، جیسا کہ دو انار اپنے رنگ میں ایک جیسے ہوتے ہیں اور اپنے ذائقے میں مختلف ہوتے ہیں۔ انار اور زیتون کا خاص طور پر ذکر اس لیے کیا گیا ہے، کیونکہ یہ دونوں ان ( عربوں) کے قریب تھے اور یہ دونوں ان کے نزدیک ذی قدر تھے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی طرح ہے : آیت : افلا ینظرون الی الابل کیف خلقت (الغاشیہ) اس میں انہیں اونٹ کی طرف دیکھنے کی دعوت دی کیونکہ یہ ایسا جانور ہے جس کی پہچان وہ سب سے زیادہ رکھتے تھے۔
مسئلہ نمبر 4۔ قولہ تعالیٰ آیت : انظروا الی ثمرہ اذا اثمر یعنی تم عبرت کی نظر سے دیکھو نہ کہ ایسی نظر سے جو غور و فکر سے خالی ہو۔ اور ثمر لغت میں درخت چننے کو کہتے ہیں۔ حمزہ اور کسائی نے ثمرہ ثا اور میم کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقیوں نے دونوں میں فتحہ پڑھا ہے اور یہ ثمرۃ کی جمع ہے۔
جیسا کہ بقرۃ اور بقر، شجرۃ اور شجر ہے۔ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : ثمر سے مراد مال کی مختلف اقسام ہیں۔ اور تمر سے مراد کھجور کا پھل ہے گویا حضرت مجاہد (رح) کے قول کے مطابق معنی یہ ہوگا۔ دیکھو ان مالوں کی طرف جن سے پھل حاصل ہوتا ہے۔ ثمر ثا اور م دونوں کے ضمہ کے ساتھ ثمار کی جمع ہے اور اس سے مراد پھل دار مال ہے۔ اور اعمش سے ثمرہ ثاء کے ضمہ اور میم کے سکون کے ساتھ مروی ہے۔ ضمہ کو ثقیل ہونے کی وجہ سے تخفیف کے لیے حذف کردیا گیا ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ ثمر ثمرۃ کی جمع ہو جیسا کہ بدنۃ اور بدن ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کی ثمر جمع الجمع ہو، پس آپ کہیں گے : ثمرۃ وثمار وثمر جیسا کہ حمار اور حمر ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ ثمرۃ کی جمع ہو جیسا کہ خشبۃ کی جمع خشب ہے نہ کہ جمع الجمع ہو۔
مسئلہ نمبر 5
قولہ تعالیٰ : آیت وینعی محمد بن سمیقع نے یعانعہ پڑھا ہے اور ابن محیصن اور ابن ابی اسحاق نے وینعہ یا کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ فراء نے کہا ہے : یہ بعض اہل نجد کی لغت ہے کہا جاتا ہے : ینع الثمر (پھل پک گی) ینع اور الثمریانع۔ اینع یونع (والتمر مونع) ۔ اس کا معنی ہے پھل کا پک جانا۔ ینع اور اینع تب کہا جاتا ہے جب پھل پک جائے اور اسے پالیا جائے۔ حجاج نے اپنے خطبہ میں کہا تھا : اری رؤسا قد اینعت وحان قطافھا ( میں بعض سروں کو دیھ رہا ہوں وہ پک چکے ہیں اور انہیں توڑنے کا وقت آپہنچا ہے) ۔
ابن الانباری نے کہا ہے : الینع یانع کی جمع ہے، جیسا کہ راکب اور رکب اور تاجرو تجر ہیں۔ مراد بہت زیادہ پکنے والا پھل ہے اور فراء نے کہا ہے : اینع، ینع کی نسبت زیادہ استعمال ہوتا ہے اور اس کا معنی ہے احمر (سرخ) اور اسی سے وہ بھی ہے جو حدیث ملاعنہ میں مروی ہے : ان ولدتہ احمرج مثل الینعۃ (اگر اس نے بچے کو پکے ہوئے پھل کی مانند سرخ جنا) اور یہی خرزہ حمراء ( سرخ پتھر) ہے۔ کہا جاتا ہے : یہ عقیق ہے یا اس کی کوئی قسم ہے۔
پس یہ آیت اس کے لیے دلیل ہے جس نے تدبر کیا اور قلب و نظر کے ساتھ دیکھا اور خوب نظر و فکر کرتے ہوئے دیکھے کہ تبدیلیوں کے لیے کسی تبدیلی لانے والے کا ہونا ضرور ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : انظروا الی ثمری اذا اثمر وینعہ پس تم اسے دیکھتے ہو کہ یہ پہلے طلع ( گابھا) ہے پھر جب گابھا پھٹ گیا تو یہ اغریض (شگوفہ) ہوگیا۔ اور اغریض کو ضحک کا نام بھی دیا جاتا ہے، پھر اس کے بعد بلح پھر سباب، پھر جدال جب کہ یہ سبز ہو اور گول ہو اس سے پہلے کہ یہ سخت ہو، پھر جب یہ بڑح جائے تو بسر، پھر جب سرخ ہوجائے تو زہو کہلاتی ہے۔ کہا جاتا ہے : ازھی یزھی، پھر جب اس میں پکنے کی علامات ظاہر ہونے لگیں تو یہ موکت کہلاتی۔ اور اگر یہ آثار ذنب (پیچھے) کی جانب سے ظاہر ہوں تو یہ مننب کہلاتی ہے اور یہ تذنوب ہے پھر جب نرم ہوجائے تو یہ ثعدہ کہلاتی ہے اور جب یہ نصف پک جائے تو اس کا نام مجزعۃ ہے اور جب دو تہائی تک پک جائے تو یہ حلقانہ کہلاتی ہے اور جب یہ ساری پک جائے تو یہ منسبۃ کہلاتی ہے۔ کہا جاتا ہے : رطب منسبت، پھر جب یہ خشک ہوجاتی ہے تو تمر بن جاتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حالت سے دوسرے حالت کی طرف منتقل کر کے، اس میں تغیر اور تبدیلی لا کر اور عدم سے اسے وجود عطا کر کے اپنی وحدانیت اور قدرت کاملہ پر متنبہ کیا ہے اور یہ کہ اسے بنانے والا قادر اور عالم ہے۔ اور یہ دوبارہ اٹھائے جانے کے جواز پر دلیل ہے۔ اس طرح کہ وہ نباتات کو خشک ہونے کے بعد پھر وجود اور تازگی عطا فرماتا ہے۔ جوہری نے کہا ہے : ینع الثمر یبنع وینع ینعا وینعا وینوعا اس کا معنی ہے پھل پک گیا۔
مسلہ نمبر 6
ابن عربی نے کہا ہے کہ امام مالک (رح) نے فرمایا : اچھی طرح پکنا وہ ہوتا ہے جو بغیر فساد کے ہو اور اس میں نقش (کانٹوں کے ساتھ سوراخ کرنا) نہ ہو۔ امام مالک (رح) نے کہا : نقش یہ ہے کہ اہل بصرہ پھل میں سوراخ کرتے تھے تاکہ اسے پکایاجائے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ پھل میں اس طرح سوراخ کردیا جائے کہ اس میں ہوا تیزی سے داخل ہونے لگے پس اس طرح وہ جلدی پک جاتا ہے۔ قرآن کریم میں اس طرح پکنا مراد نہیں ہے۔ اور نہ ہی وہ مراد ہے جس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے بیع کو مربوط کیا ہے، بلکہ اس سے مراد ایسا پکنا ہے جو باذات ہو اور بغیر کسی حیلہ کے ہو۔ اور انجیروا کے بعض شہروں میں جو ( آب و ہوا کے اعتبار سے) ٹھنڈے ہیں، ان میں وہ پکتا نہیں یہاں تک کہ ان کے منہ میں ایک لکڑی سے داخل کی جاتی ہے درآنحالی کی اسے تیل لگایا ہوتا ہے، پس جب وہ پک جاتا ہے تو اس کی بیع حلال ہوتی ہے، کیونکہ ایسا ہوا کی ضرورت کے تحت کیا جاتا ہے اور اہل شہر کی یہ عادت اور رواج ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ بروقت اچھے طریقہ سے پک کر تیار نہیں ہوتا۔
میں (مفسر) کہتا ہوں یہ ایسا پکنا ہے جس پر کھجوروں کی بیع کا جائز ہونا موقوف ہوتا ہے اور اسی کے سبب وہ کھانے کے قابل ہوتی ہیں اور وہ آفت کے سبب ضائع ہونے سے محفوظ ہوتی ہیں اور یہ ثریا (ستارہ) کے طلوع کے وقت ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ایک عادت جاریہ قرار دیا ہے اور اسے اپنے علم وقدرت کے ساتھ محکم کردیا ہے۔ معلیٰ بن اسد نے وہیب سے، انہوں نے عسل بن سفیان سے، انہوں نے حضرت عطا سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جب صبح کے وقت ثریا طلوع ہوتا ہے تو اہل علاقہ سے آفت کو اٹھا لیا جاتا ہے “۔ اور ثریا ستارہ ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں اور اس کا طلوع مئی کے مہینے کی گیارہ راتیں گزرنے کے بعد صبح کے وقت ہوتا ہے۔ اور بخاری میں ہے اور مجھے خارجہ بن زید بن ثابت نے خبر دی ہے کہ حضرت زید بن ثابت ؓ اپنی زمین کا پھل نہیں بیچتے تھے یہاں تک کہ ثریا طلوع ہوجاتا اور زردی سرخی سے واضح اور طاہر ہوجاتی۔
مسئلہ نمبر 7
جنہوں نے پھلوں میں آفات کو ساقط کیا ہے انہوں نے ان آثار سے اور ان کی مثل ارشادات نبویہ سے استدلال کیا ہے جن میں آپ ﷺ نے پھلوں کی بیع کرنے سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ ان کے پکنے کی صلاحیت ظاہر ہوجائے۔ اور پھلوں کی بیع کرنے سے آپ نے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ ان سے آفت اور ہلاکت کے آثار ختم ہوجائیں۔
عثمان بن سراقہ نے بیان کیا ہے : میں نے حضرت ابن عمر ؓ سے پوچھا : ایسا کب ہوتا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : جب ثریا طلوع ہوتا ہے (مسند امام احمد، حدیث نمبر 5012) ۔
امام شافعی (رح) نے کہا ہے : میرے نزدیک یہ ثابت نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آفات کے وضع اور ساقط کرنے کا حکم دیا ہو اور اگر میرے نزدیک ثابت ہوتا تو میں اسے نہ چھوڑتا، وہ اصل اور بنیاد جس پر اجماع ہے وہ یہ ہے کہ جس کسی نے کوئی ایسی شی خریدی جس کی بیع اور اس پر قبضہ جائز ہوتا ہے تو اس کی آفت اور بیماری اسی کے لیے ہوگئی، فرمایا : اگر میں آفات کو ساقط کرنے کا قائل ہوتا تو اس قلیل و کثیر مقدار میں ساقط کردیتا۔ اور یہی قول امام ثوری اور اہل کوفہ کا ہے۔
امام مالک اور اکثر اہل مدینہ نے اس کی وضع کا موقف اختیار کیا ہے، کیونکہ حضرت جابر ؓ سے حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آفات کی وضع کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔ اسے مسلم نے نقل کیا ہے۔ اور اسی کے مطابق حضرت عمر بن عبدالعزیز فرماتے تھے۔ اور یہی امام احمد بن حنبل (رح) اور تمام اصحاب حدیث کا قول ہے۔ اور اہل ظاہر نے عموم حدیث کی بنا پر خریدی ہوئی شی سے اسے ساقط کیا ہے چاہے اس کی مقدار قلیل ہو یا کثیر۔ مگر امام مالک (رح) اور آپ کے اصحاب نے تب اس کا اعتبار کیا ہے جب آفت پھل کی تہائی یا اس سے زیادہ مقدار کو پہنچ جائے اور جو آفت تہائی سے کم مقدار میں ہو اسے انہوں نے لغو قرار دیا ہے اور اسے تابع قرار دیا ہے، کیونکہ کوئی پھل اپنی خوبی میں قلیل عذر سے خالی نہیں ہوتا اور اپنی تھوڑی مقدار میں فساد اور عیب پڑنے سے محفوظ نہیں ہوتا۔ اصبغ اور اشہب پھل کی طرف نہیں دیکھتے تھے بلکہ قیمت کی طرف دیکھتے تھے۔ جب قیمت تہائی یا زیادہ مقدار کو پہنچ جاتی تو وہ اس سے ساقط کردیتے۔ اور ابن قاسم کے نزدیک تو آفت کو دور کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اور اسی بنا پر یہ ہے کہ سرقہ (چوری) آفت نہیں ہوگئی۔ اور اسی طرح امام محمد (رح) کی کتاب میں ہے اور کتاب میں یہ بھی ہے کہ وہ آفت ہے اور یہ ابن القاسم سے مروی ہے اور ان کے اصحاب اور لوگوں نے ان کی مخالفت کی ہے اور مطرف اور ابن الماجشون نے کہا ہے : آسمان سے پھلوں کو زیادہ تری (بارش) یا سردی یا خشکی یا گرمی یا آدمی کے اختیار اور عمل کے بغیر درختوں کا ٹوٹنا ( یعنی آندھی اور طوفان کے سبب) لاحق ہوتا ہے وہ آفت ہے، البتہ خشکی کے بارے میں اختلاف ہے۔ اور ابن القاسم کی روایت میں ہے کہ وہ بھی آفت ہے۔ اور سبزیوں کے بارے میں صحیح قول یہ ہے کہ وہ بھی پھلوں کی طرح ہیں ( اور ان میں بھی آفت کا اعتبار ہوتا ہے) ۔ جس کسی نے پھل کے پکنے کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے اسے بیچ دیا اس شرط پر کہ وہ اسے باقی رہنے دے گا تو اس کی بیع فسخ کردی جائے گی اور مردود ہوگی، کیونکہ اس سے منع کیا گیا ہے، اور اس لیلے کہ یہ باطل طریقے سے مال کھانے کے مترادف ہے، کیونکہ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے :” تیرا کیا خیال ہے اگر اللہ تعالیٰ پھل کو روک لے تو کیونکر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا مال بغیر حق کے لے سکتا ہے ؟ “۔ یہ جمہور کا قول ہے، اسے امام اعظم ابوحنیفہ (رح) اور آپ کے اصحاب نے صحیح قرار دیا ہے اور نہی کی کراہیت پر محمول کیا ہے۔ اور جمہور نے پھل کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے اس کی بیع کو اس شرط پر جائز قرار دیا ہے کہ اسے توڑ لیا جائے۔ اور امام ثوری اور ابن لیلیٰ نے اس سے منع کیا ہے اور انہوں نے اس بارے میں موجود یہی سے استدلال کیا ہے اور جمہور نے اسے قیاس جلی کے ساتھ خاص کیا ہے، کیونکہ اس میں مبیع معلوم ہے اور حالت عقد میں اس پر قبضہ صحیح ہوتا ہے پس اس کی بیع بھی دیگر بیچی جانے والی چیزوں کی طرح صحیح ہوگی۔
Ayah 6:100آیت نمبر : 100
قولی تعالیٰ : آیت : وجعلوا للہ شرکآء الجن یہ ان کی جہالت کی دوسری نوع کا ذکر ہے، یعنی ان میں ایسے بھی ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے جنات میں سے شرکاء کا اعتقاد رکھ لیے ہے ( یعنی انہوں نے جنوں کو اللہ تعالیٰ بنا لیا ہے) ۔ نحاس نے کہا ہے : ترکیب کلام میں الجن مفعول اول ہے اور شرکاء مفعول ثانی ہے، جیسا کہ ان ارشادات میں ہے : آیت : وجعلکم ملوکا (المائدہ : 20) آیت : وجعلت لہ مالا ممدودا (المدثر) اور قرآن کریم میں اس کی کثیر مثالیں ہیں۔ اور تقدیر کلام اس طرح ہے آیت : وجعلوہ للہ الجن شرکاء اور یہ بھی جائز ہے کہ الجن شرکا سے بدل ہو اور مفعول ثانی للہ ہو۔ اور کسائی نے الجن پر رفع بھی جائز قرار دیا ہے تو پھر کلام اس طرح ہوگی ھم الجن وخلقم اس طرح جمہور کی قرآت ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے شریک بنانے والوں کو اسی نے پیدا کیا ہے۔ خلق الجاعلین لہ شرکاء اور یہ بھی کہا گیا ہے : خلق الجن الشرکاء اور اسی نے شریک جنوں کو پیدا کیا ہے ( یہ دراصل ضمیر کے مرجع کی طرف اشارہ ہے ) ۔
اور حضرت ابن مسعود ؓ نے ھو کی زیادتی کے ساتھ وھو خلقھم قرأت کی ہے، اور یحییٰ بن یعمر نے وخلقھم لام کے سکون کے ساتھ قرأت کی ہے، اور کہا : ای وجعلوا خلقھم للہ شرکاء ( اور انہوں نے اپنی بنائی ہوئی چیزوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا لیا) کیونکہ وہ چیزوں کو بناتے تھے پھر ان کی پوچا شروع کردیتے تھے۔ یہ آیت مشرکین عرب کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور ان کے جنوں کو شریک ٹھہرانے کا معنی یہ ہے کہ وہ ان کی اطاعت و پیروی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرح کرتے ہیں۔
یہ حضرت حسن وغیرہ سے مروی ہے۔
حضرت قتادہ اور سدی رحمۃ اللہ علیہما نے کہا ہے : یہ وہی ہیں جنہوں نے کہا ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ اور کلبی نے کہا ہے : یہ آیت زنادقہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ وہ کہتے : اللہ تعالیٰ اور ابلیس دونوں بھائی ہیں ( نعوذ باللہ من ذالک) پس اللہ تعالیٰ انسانوں اور جانوروں کا خالق ہے، اور ابلیس جنوں، درندوں اور بچھوؤں وغیرہ کا خالق ہے۔ اور اسی کے قریب قریب مجوسیوں کا قول بھی ہے، کیونکہ انہوں نے کہا : عالم کے دو صانع ہیں : ایک قدیم ہے اور دوسرا شیطان ہے جو الٰہ قدیم کی فکر سے پیدا ہونے والا ہے۔ (یعنی وہ حادث ہے) ۔ اور ان کا گمان یہ ہے کہ شر اور برائی کا صانع حادث ہے۔ اور معتزلہ میں سے حائطیہ جو کہ احمد بن حائط کے اصحاب ہیں نے بھی اسی طرح کہا ہے، ان کا گمان بھی یہ ہے کہ کائنات کو بنانے والے دو ہیں ؛ ایک الہ قدیم ہے اور دوسرا محدث ہے، اسے پہلے اللہ تعالیٰ نے تخلیق کیا ہے پھر تدبیر عالم کا فریضہ اس کے سپرد کردیا ہے اور وہی ہے جو آخرت میں مخلوق کا محاسبہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے انتہائی بلند اور عظیم ہے جو کچھ ظالم اور انکار کرنے والے لوگ اس کے بارے کہتے ہیں۔
وخرقوا نافع نے تکثیر کے بنا پر اسے تشدید کے ساتھ (خرقوا) پڑھا ہے، کیونکہ مشرکین نے دعویٰ کیا کہ اللہ تعالیٰ کہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور وہ ملائکہ ہیں اور انہوں نے انہیں چنے جانے کے سبب جن کا نام دیا۔ اور نصاریٰ نے دعویٰ کیا کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں۔ اور یہودیوں نے کہا : حضرت عزیر (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں، پس اس طرح ان کا کفر کثیر ہوگیا۔ پس معنی کی مطابقت کی وجہ سے فعل کو مشدد لایا گیا۔ اللہ تعالیٰ اس سے برتر اور بلند ہے جو وہ کہتے ہیں۔ باقیوں نے تقلیل کی بنا پر تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ حضرت حسن بصری (رح) سے وخرقوا لہ کا معنی پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا : بلاشبہ یہ اور وخرقوا بالتخفیف، عربی کلمہ ہے، آدمی جب اپنی پکار اور دعویٰ میں جھوٹ بولے تو کہا جاتا ہے : خرقھا ورب الکعبہ (اس نے اسے گھڑ لیا رب کعبہ کی قسم)
اور اہل لغت نے کہا ہے : خرقوا کا معنی ہے اختلفوا وافتعلوا (انہوں نے اختلاف کیا اور فعل کیا) اور وخرقوا تکثیر پر دلالت کرتا ہے۔ حضرت مجاہد، قتادہ، ابن زید اور ابن جریج رحمۃ اللہ علیھم نے کہا ہے : خرقوا کا معنی ہے انہوں نے جھوٹ بولا۔ اور کہا جاتا ہے : بیشک خرق، اخترق اور اختلق کا معنی ایک ہی ہے، یعنی احدث ( اس نے گھڑ لیا، اس نے جھوٹ بولا)
Ayah 6:101آیت نمبر : 101
قولہ تعالیٰ آیت : بدیع السموٰت والارض یعنی وہ ان دونوں کو بنانے والا ہے، تو پھر کیسے جائز ہو سکتا ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو۔ اور بدیع مبتدا مضمر کی خبر ہے یعنی ھو بدیع۔ کسائی نے للہ کی صفت ہونے کی بنا پر اس پر کسرہ بھی جائز قرار دیا ہے اور بمعنی بدیعا السموات والارض اس پر نصب بھی جائز قرار دیا ہے۔ اور بصریوں کے نزدیک یہ خطا ہے، کیونکہ یہ ماضی کے معنی کے لیے ہے ( کیونکہ بصریوں کے نزدیک اسم فاعل جب آل کا صلہ نہ ہو تو عمل کے لیے دو شرطیں ہیں یا وہ بمعنی حال ہو یا بمعنی استقبال ہو۔ امام کسائی نے اس کے عمل کو جائز قرار دیا ہے جب یہ ماضی کے لیے بھی ہو)
آیت : انی یکون لہ ولد یعنی کہاں سے اس کا کوئی بیٹا ہو سکتا ہے اور ہر شے کا بیٹا اس کے مشابہ ہوتا ہے، اور اس کی تو کوئی شبیہ نہیں ہے ؟ آیت : ولم تکن لہ صاحبہ حالانکہ اس کی وکئی بیوی نہیں ہے۔ آیت : وخلق کل شیء عبارت عام ہے اور اس میں معنی خاص ہیں، یعنی اس نے عالم (کائنات) کو پیدا کیا ہے اس میں اس کا کلام داخل نہیں اور نہ اس میں اس کی ذاتی صفات داخل ہیں۔ اور اسی طرح یہ بھی ہے آیت : ورحمتی وسعت کل شیء (الاعراف : 156) اس (رحمت) کی وسعت نہ ابلیس کو شامل ہے اور نہ ہی اسے جس کی موت حالت کفر پر ہو۔ اور اس کی مثل آیت : تدمر کل شیء (الاحقاف : 25) بھی ہے ( وہ ہر شی کو برباد کر دے گا) حالانکہ اس نے آسمانوں اور زمین کو برباد نہیں کیا۔
Ayah 6:102آیت نمبر 102
قولہ تعالیٰ : آیت : ذلکم اللہ ربکم لا الہ الا ھو، ذلکم یہ مبتدا ہونے کے سبب محل رفع میں ہے۔ اور اللہ ربکم بدل ہونے کی بنا پر مرفوع ہے۔ آیت : خالق کل شیء یہ مبتدا کی خبر ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ ربکم خبر ہو اور خالق دوسری خبر ہو، یا پھر اس کا مبتدا مضمر ہو، یعنی ھو خالق۔ کسائی اور فراء نے اس میں نصب کو جائز قرار دیا ہے۔
Ayah 6:103آیت نمبر 103
قولہ تعالیٰ آیت : لا تدرکہ الابصار اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ وہ حدوث کی علامات سے منزہ اور پاک ہے، اور انہیں میں سے ایک ادراک ہے اس کا معنی احاطہ کرنا اور حدود قائم کرنا ہے، جیسا کہ تمام مخلوقات کا احاطہ کیا جاسکتا ہے، اوسر رؤیت ثابت ہے۔ زجاج نے کہا ہے : اس کی حقیقت کی کنہہ تک کوئی نہیں پہنچ سکتا، جیسا کہ آپ کہتے ہیں : ادرکت کذا و کذا ( میں نے فلاں فلاں کی حقیقت کو پہچان لیا) کیونکہ حضور نبی کریم ﷺ سے قیامت کے دن رؤیت کے بارے میں صحیح احادیث ثابت ہیں۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : آیت : لا تدرکہ الابصار نظریں دنیا میں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں اور آخرت میں مومنین اس کا دیدار کریں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں اپنے اس ارشاد میں خبر دی ہے : آیت : وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربھا ناظرۃ (قیامہ) ( کئی چہرے اس روز تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کے (انوار جمال) کی طرف دیکھ رہے ہوں گے)
اور سدی نے یہی کہا ہے اور یہی احسن ہے جو کہا گیا ہے، کیونکہ اس پر قرآن کریم بھی دال ہے اور جنت میں اللہ تعالیٰ کی رؤیت کے بارے اخبار بھی وارد ہیں۔ اس کا بیان عنقریب سورة یونس میں آئے گا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : آیت : لا تدرکہ الابصارآنکھیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں، حالانکہ او ان سب کو گھیرے ہوئے ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے دلوں کی آنکھیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں، یعنی عقلیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں کہ وہ اس کے بارے وہم میں مبتلا ہوجائیں۔ کیونکہ آیت : لیس کمثلہ شیء (الشوریٰ : 11) ( اس کی مثل کوئی شی نہیں ہے) اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے وہ آنکھیں جو دنیا میں پیدا کی گئی ہیں وہ اس کا ادراک نہیں کر سکیتں، لیکن وہ جس کے لیے شرف و کرامت کا ارادہ فرماتا ہے اس کے لیے وہ نظر اور ادراک پیدا فرما دیتا ہے جس کے ساتھ وہ اسے دیکھ لیتا ہے جیسا کہ حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رؤیت دنیا میں عقلا جائز ہے، کیونکہ اگر یہ جائز نہ ہو تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا رویت کے بارے عرض کرنا امر محال ہوگا اور یہ محال ہے کہ نبی (علیہ السلام) اس سے ناواقف اور بےعلم ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کوئی سی چیز جائز ہے اور کون سے جائز نہیں ہے، بلکہ وہ تو عرض ہی نہ کرتے ( تو ان کے عرض کرنے سے ثابت ہوا) کہ رؤیت جائز ہے محال نہیں ہے۔
ہمارے نبی مکرم ﷺ کی اپنے رب کی رؤیت کے بارے میں سلف نے اختلاف کیا ہے، پس صحیح مسلم میں حضرت مسروق (رح) سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا : میں حضرت عائشہ ؓ کے پاس تکیہ لگائے بیٹھا تھا، تو انہوں نے کہا : اے ابا عائشہ ! ( ابو عائشہ امام مسروق کی کنیت ہے) تین چیزیں ہیں ان میں سے کسی ایک کے بارے میں جس نے گفتگو کی تحقیق اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا۔ میں پوچھا : وہ کیا ہیں ؟ انہوں نے کہا : جس نے یہ گمان کیا کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کا دیدار کیا ہے تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا۔ مسرق نے کہا : میں نے تکیہ لگائے ہوئے تھا پھر میں سیدھا بیٹھ گیا اور میں نے کہا : اے ام المومنین ! تم نظر وفکر کرلیجئے اور اتنی جلدی نہ کیجئے، کیا للہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا : آیت : ولقدراہ نزلۃ اخری (انجم) ( اور انہوں نے تو اسے دوبارہ بھی دیکھا) تو انہوں نے فرمایا : میں اس امت میں سے پہلی ہوں جس نے اس بارے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” بلا شبہ وہ جبریل امین ہیں میں نے انہیں دو بار کے سوا اس صورت اور شکل میں نہیں دیکھا جس میں اللہ تعالیٰ نے انہیں تخلیق فرمایا ہے، میں انہیں آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا کہ وہ اپنی خلقت کے عظیم ہونے کی وجہ سے زمین و آسمان کے مابین کو بھرے ہوئے تھے “۔ تو انہوں نے فرمایا : کیا تم نے یہ نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا : آیت لا تدرکہ الابصار وھو یدرک الابصار وھو اللطیف الخبیر یا تو نے یہ نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ فرما ہر ہے : آیت وما کان لبشر ان یکلمہ اللہ الا وحیا اومن ورآیء حجاب او یرسل رسولا فیوحی باذنی ما یشاء انہ علی حکیم (الشوری) ( اور کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ کلام کرے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ( براہ راست) مگر وحی کے طور پر یا پس پردہ یا بھیجے کوئی پیغامبر ( فرشتہ) اور وہ وحی کرے اس کے حکم سے جو اللہ تعالیٰ چاہے بلاشبہ وہ اونچی شان والا بہ دانا ہے) ۔ “
انہوں نے فرمایا : جس نے یہ خیال کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے کتاب اللہ میں کسی شی کو چھپا کر رکھا ہے تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا، حالانکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمارہا ہے : آیت : یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل فمابلغت رسالتہ (المائدہ : 67) اور مزید انہوں نے فرمایا : اور جس نے یہ خیال کیا کہ وہ آئندہ کل ہونے والے کی خبر دیتے ہیں تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا، اللہ تعالیٰ ارشاد فرما رہا ہے : آیت : قل لا یعلم من فی السموت والارض الغیب الا اللہ (النمل : 66) (آپ فرما ئیے ( خودبخود) نہیں جان سکتے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں غیب کو سوائے اللہ تعالیٰ کے)
عدم رؤیت اور جبرائیل امین کو دیکھنے کے جس نظریہ کو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے اختیار کیا ہے وہی حضرت ابن مسعود ؓ کا ہے۔ اور اس کی مثل حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی مروی ہے، کہ آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل امین کو دیکھا، اور ان دونوں سے اختلاف کیا گیا ہے۔ اور محدثین، فقہا اور متکلمین کی ایک جماعت نے اس کے اور امتناع رؤیت کے انکار کا قول کیا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے انہ راہ بعینیہ کہ آپ ﷺ نے اپنی آنکھوں کے ساتھ اپنے رب کا دیدار کیا۔ آپ سے یہ روایت مشہور ہے اور اس کی دلیل یہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : آیت : ما کذب الفواد ما رای (النجم) ( نہ جھٹلایا دل نے جو دیکھ (چشم مصطفی) نے)
اور عبداللہ بن حارث نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابی بن کعب ؓ اکٹھے ہوئے، تو حضرت ابن عباس ؓ نے کہا کہ ہم بنی ہاشم کہتے ہیں کہ حضور نبی رحمت ﷺ نے دو بار اپنے پروردگار کو دیکھا۔ پھر حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : کہا تم تعجب کرر ہے ہو کہ خلت حضرات ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے ہے، کلام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے، اور رؤیت حضور نبی کریم ﷺ کے لیے ہے۔ فرمایا : پس حضرت کعب ؓ نے نعرہ تکبیر بلند کیا یہاں تک کہ پہاڑوں نے بھی اس کا جواب دیا، پھر فرمایا : بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رؤیت اور کلام کو حضور نبی رحمت ﷺ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان تقسیم کردیا ہے، پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو شرف ہمکلامی نصیب ہو اور حضور نبی کریم ﷺ کو شرف دیدار عطا ہوا۔ (جامع ترمذی، کتاب تفسیر القرآن، باب سورة والنجم، حدیث نمبر 3200، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اور عبدالرزاق نے بیان کیا ہے کہ حسن اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتے تھے : تحقیق حضرت محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے۔ اور اسے ابو عمر طلمن کی نے عکرمہ سے بیان کیا ہے، اور بعض متکلمین نے اسے حضرت ابن مسعود ؓ سے بیان کیا ہے، اور ان سے پہلا قول زیادہ مشہور ہے۔
اور ابن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ مروان نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے پوچھا : کیا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنے رب کا دیدار کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : ہاں۔ اور نقاش نے امام احمد بن حنبل (رح) سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : میں حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث کے مطابق کہتا ہوں : بعینی راہ راہ ! حتی انقطع نفسہ۔ یعنی نفس احمد، کہ آپ ﷺ اپنے رب کو دیکھا ہے ( آپ مسلسل یہ کہتے رہے) یہاں تک کہ آپ کی سانس کٹ گئی یعنی حضرت امام احمد (رح) کی سانس (اکھڑ گئی)
اور یہی موقف شیخ ابو الحسن اشعری اور آپ کے اصحاب کی ایک جماعت نے اختیار کیا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنی نظر کے ساتھ اور اپنے سر کی آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے۔ ان محمد ﷺ رای اللہ ببصرہ وعینی راسہ اور حضرت انس، حضرت ابن عباس ؓ، حضرت عکرمہ، حضرت ربیع اور حضرت حسن رحمۃ اللہ علیھم نے یہی کہا ہے۔
اور حضرت حسن قسم کھایا کرتے تھے باللہ الذی لا الہ الا ھو لقد رآی محمد ﷺ ربہ ( قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں یقینا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنے رب کو یکھا ہے)
اور ایک جماعت نے کہا ہے ان میں سے ابو العالیہ، قرظی اور ربیع بن انس رحمۃ اللہ علیھم ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے دل (کی آنکھوں) کے ساتھ اپنے پروردگار کو دیکھا ہے۔
حضرت ابن عباس اور حضرت عکرمہ ؓ سے بھی یہ بیان کیا گیا ہے اور ابو عمر نے بیان کیا ہے کہ حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے دل کے ساتھ اسے دیکھا ہے، اور یہ دنیا میں آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رؤیت کے قول سے پیچھے ہٹ گئے ( کمزور پڑ گئیٌ) اور حضرت امام مالک بن انس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا ہے : دنیا میں اسے نہیں دیکھا گیا، کیونکہ وہ باقی رہنے والی ذات ہے اور باقی کو فانی کے ساتھ نہیں دیکھا جاسکتا۔ پس جب وہ آخرت میں ہوں گے اور انہیں باقی رہنے والی نظریں عطا کی جائیں گی تو پھر وہ باقی کو باقی کے ساتھ دیکھ لیں گے۔ حضرت قاضی عیاض رحمۃ اللہ علی نے کہا ہے : یہ کلام بہت خوب اور اچھا ہے، اور اس میں رؤیت کے محال ہونے پر کوئی دلیل موجود نہیں مگر صرف اس حیثیت سے کہ قدرت ضعیف اور کمزور ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں جسے چاہے قوت عطا فرما دیے اور رؤیت کے بوجھ کو اٹھانے پر اسے قادر کر دے تو اس کے حق میں رؤیت ممتنع نہیں ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حق میں اس بارے کچھ بیان عنقریب سورة اعراف میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
قولہ تعالیٰ : آیت : وھو یدرک الابصار یعنی اس پر کوئی شے مخفی نہیں ہے مگر یہ کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے اور اسے جانتا ہے، اور تجنیس کلام کے لیے ابصار کو خاص کیا ہے۔
اور زجاج نے کہا ہے : اس کلام میں اس پر دلیل ہے کہ مخلوق آنکھوں کا ادراک نہیں کرسکتی، یعنی وہ بصر کی حقیقت کی کیفیت نہیں پہچان سکتے، اور وہ شے جس کے سبب انسان اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھ سکتا ہے وہ دیکھنے کی شے ان دو کے سوا اس کے تمام اعضائے بدن میں نہیں ہے۔ پھر فرمایا : آیت وھو اللطیف الخبیر یعنی وہ اپنے بندوں کے ساتھ بڑا مہربان ہے۔ کہا جاتا ہے : لطف فلان بفلان یلطف یعنی اس نے اس کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیا ( مہربانی کی) اور اللطف فی الفعل کا معنی ہے کام میں نرمی کرنا۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے لطف کا مفہوم توفیق بخشنا اور بچانا ہے۔ اور الطفہ بکذا، یعنی اس نے اس کے ساتھ مہربانی اور نرمی کا سلوک کیا اور اس کا اسم اللطف ہے کہا جاتا ہے : جاء تنا من فلان لطفۃ یعنی فلان کی جانب سے ہمارے پاس ہدیہ آیا۔ اور ملاطفۃ کا معنی باہم ایک دوسرے کے ساتھ نرمی اور مہربانی برتنا ہے۔
جوہری اور ابن فارس سے یہ منقول ہے، ابو العالیہ نے کہا ہے : آیت کا معنی ہے وہ چیزوں کا نکالنے میں بڑا باریک بنین اور ان کی جگہ سے باخبر ہے۔ اور حضرت جنید (رح) نے کہا ہے : لطیف وہ ہے جس نے تیرے دل کی ہدایت سے منور کردیا، اور تیرے جسم کی غذا کی ساتھ تربیت اور نشووننما کی، اور اس نے تجھے مصیبت اور آزمائش میں ولایت عطا فرمائی، اور وہ تیری حفاظت کرتا ہے حالانکہ تو آگ (جن ہم) میں گرتا ہے اور وہ تجھے جنۃ الماوی میں داخل کر دے گا۔ اس کے علاوہ بھی اس کے معنی بیان کیے گئے ہیں جو افق اور دوسرے معنی کی طرف راجع ہیں۔ عنقریب سورة الشوری میں اس کے بارے علماء کے اقوال آئیں گے انشاء اللہ تعالیٰ ۔
Ayah 6:104آیت نمبر 104
قولہ تعالیٰ آیت : قد جآء کم بصآئر من ربکم یعنی ایسی علامات اور دلائل جن کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے اور استدلال کیا جاسکتا ہے۔ بصآئر، بصیرۃ کی جمعی ہے اور اس کا معنی دلالت اور رہنمائی ہے، جیسا کہ شاعر کا قول بھی ہے :
جاؤا بصائرھم علی اکتافھم وبصیرتی یعدو بھا عتد وآی
بصیرۃ سے مراد حضت بیہ اور ظاہر ہے۔ اور دلیل کو تعظیم شان کے لیے مجئی ( آنے) کی صفت کے ساتھ متصف کیا گیا، جب کہ یہ اس غائب کے قائم مقام ہے جس کا حاضر ہونا نفس کے لیے متوقع ہو، جیسا کہ کہا جاتا ہے : جاءت العافیۃ وقر انصرف المرض ( عافیت آئی اس حال میں کہ مرض چلا گیا) اور اقبل السعود وادبر النحوس ( سعادت آگئی اور نحوست چلی گئی۔ )
آیت : فمن ابصر فلنفسی، الابصار اس کا معنی ہے ھوالا ادراک بحاسۃ البصر ( آنکھ کے ساتھ کسی چیز کو دیکھنا، اس کا ادراک کرنا) پس جس کسی نے استدلال کرلیا اور پہچان لیا تو اس نے اپنے آپ کو نفع پہنچایا۔
ومن عمی اور جس نے رہنمائی حاصل نہ کی تو وہ اندھے کے قائم مقام ہوگیا، تو اس اندھا بننے کا نقصان اور ضرر اس کی اپنی ذات ہوگا۔ آیت : وما انا علیکم بحفیظ یعنی میں نے اس پر تمہاری حفاظت اور نگہبانی کا حکم نہیں دیا کہ تم اپنے آپ کو ہلاک کرو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اللہ تعالیٰ کے عذاب سے میں تمہاری محافظت اور نگہبانی نہیں کرون گا۔ اور یہ قول بھی ہے : بحفیظ اس کا معنی برقیب ( تاکنے والا) ہے۔ میں تم پر تمہارے اعمال کو شمار کرنے والا نہیںٰ ہوں، بلکہ میں تو پیغامبر ( رسول) ہوں تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچا رہا ہوں، اور وہ تم پر نگہبان ہے اس پر تمہارے افعال و اعمال میں سے کوئی شے مخفی اور پوشیدہ نہیں ہے۔ زجاج نے کہا ہے : یہ آیت فرضیت قتال سے پہلے نازل ہوئی، پھر آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ انہیں تلوار کو قوت کے ساتھ بتوں کی عبادت سے روکیں۔
Ayah 6:105آیت نمبر 105
قولہ تعالیٰ آیت : وکذلک نصرف الایٰت، کذلک میں کاف محل نصب میں ہے۔ یعنی نصرف الآیات مثل ما تلونا علیک ( یعنی ہم دلائل طرح طرح سیب یان کرتے ہیں جیسا کہ ہم نے آپ پر انہیں تلاوت فرمایا ہے) یعنی جیسا کہ ہم نے اس سورت میں وعدہ، وعید، وعظ اور تبیہ کے بارے مختلف دلائل بیان کیے ہیں اسی طرح ہم انہیں دوسری سورتوں میں بھی بیان کریں گے۔ آیت : ولیقولوا درست اس میں واؤ فعل مضمر پر عطف کے لیے ہے تقدیر کلام یہ ہے : ای نصرف الآیات لتقوم الحجۃ ولیقولوا درست ( ہم دلائل بیان کرتے ہیں تاکہ حجت قائم ہوجائے اور تاکہ بول اٹھیں یہ لوگ کہ آپ نے خوب پڑھ سنایا ہے)
اور یہ بھی کہا گیا ہے : آیت : ولیقولوا درست، صرفنا ھا ( تاکہ وہ کہہ انھیں کہ آپ نے خوب پڑھ سنایا ہے ہم نے انہیں بیان کی) تو اس صورت میں لام صیرورت کے لیے ہوگا۔ اور زجاج نے کہا ہے : یہ اسی طرح ہے جیسا کہ آپ کہتے ہیں : کتب فلان ھذا الکتاب لحتفہ ( فلاں نے یہ تحریر اپنی موت کے وقت لکھی) یعنی اس کا حکم اس کی طرف لوٹ آیا۔ اور اسی طرح جب دلائل بیان کردیئے گئے تو ان کا امر اس طرف لوٹ آیا کہ وہ کہیں : آپ نے خود پڑھ سنایا ہے اور آپ نے جبر ویسا سے خوب سیکھا ہے، اور یہ دونوں مکہ مکرمہ میں نصرانی غلام تھے، تو اہل مکہ نے کہا : بلاشبہ یہ ان دونوں سے پڑھتے ہیں ( تعلیم کرتے ہیں) ۔ نحاس نے کہا ہے : اس معنی میں دوسرا قول اچھا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ یہ نصرف الایت کا معنی ہو کہ ہم اس کے بارے یکے بعد دیگرے دلائل بیان کرتے ہیں تاکہ وہ کہہ اٹھیں : آپ نے ہمیں خوب پڑھ سنایا ہے۔ ناتی بھا آیۃ بعد آیۃ لیقولوا درست علینا پس وہ اول کو آخر کے ساتھ ملا کر ذکر کرتے ہیں اور یہی حقیقت ہے اور جو کچھ ابو اسحاق نے بیان کیا ہے وہ مجاز ہے۔
اور درست میں سات قراتیں ہیں۔ ابو عمرو اور ابن کثیر نے دارست دال اور را کے درمیان الف کے ساتھ قرأت کی جیسا کہ فاعلت اور یہ حضرت علی، حضرت ابن عباس، حضرت سعیدبن جبیر، حضرت مجاہد، حضرت عکرمہ ؓ اور اہل مکہ کہ قرأت ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : دارست کا معنی ہے تالیت ( آپ نے خوب موافقت اور تابعداری کی ہے، پڑھ کر سنانے میں ) ۔ ان عامر نے درست پڑھا ہے یعنی سین کے فتحہ اور تا کے سکون کے ساتھ بغیر الف کے جیسا کہ خرجت۔ اور یہ حسن کی قرأت ہے اور باقیوں نے درست پڑھا ہے، جیسا کہ خرجت۔ پس پہلی قرأت کے مطابق معنی ہوگا : دارست اھل الکتاب ودارسوک یعنی آپ نے ان (اہل کتاب) کے ساتھ گفتگو کی ہے اور انہوں نے آپ کے ساتھ گفتگو کی ہے۔
حضرت سعید بن جبیر ؓ نے یہی کہا ہے اور اس معنی پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے جو ان کے بارے خبر دیتے ہو ہے فرمایا : آیت : واعانہ علیہ قوم اخرون ( الفرقان : 4) یعنی یہودوں نے حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ قرآن پر معاونت کی اور انہوں نے اس بارے میں آپ سے مذاکرات کیے اور یہ سب مشرکین کا قول ہے اور اس کی مثال ان کا یہ قول ہے : آیت : وقالوا اساطیر الاولین اکتتبھا فھی تبلی علیہ بکرۃ واصیلا ( الفرقان) ( اور کفار نے کہا : یہ تو افسانے ہیں پہلے لوگوں کے اس شخص نے لکھوا لیا ہے انہیں، پھر یہ پڑھ کر سنائے جاتے ہیں اسے ہر صبح وشام ( تاکہ ازبر ہوجائیں)
آیت : واذا قیل لھم ما ذا انزل ربکم قالوا اساطیر الاولین (النحل) ( اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا نازل فرمایا ہے تمہارے پروردگار نے ؟ کہتے ہیں : (کچھ نہیں) یہ تو پہلے لوگوں کے من گھڑت قصے ہیں)
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے دارستنا، تو پھر اس کا معنی درست کے معنی کی طرح ہوجائے گا، نحاس نے اسے ذکر کیا ہے اور اسے ہی پسند کیا ہے، اور پہلا معنی مکی نے ذکر کیا ہے۔ اور نحاس نے گمان کیا ہے کہ وہ مجاز ہے، جیسا کہ کسی نے یہ کہا ہے :
فللموت ماتلد الوالدہ
اور جنہوں نے درست پڑھا ہے تو اس قرآت میں جو کچھ کہا گیا ہے اس میں اچھا یہ ہے کہ معنی یہ ہو : ولئلا یقولوا انقطعت وامحت ( تاکہ وہ کہہ اٹھیں : کٹ گیا اور مٹ گیا، اور محمد ﷺ اس کے سوا کچھ نہیں لائیں گے (اعراب القرآن للنحاس، جلد 2، صفحہ 89)
اور قتادہ نے درست پڑھا ہے بمعنی قرئت ( پڑھا گیا) : سفیان ابن عیینہ نے عمرو بن عبید سے اور انہوں نے حسن سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے دارست پڑھا ہے۔ اور ابو حاتم کہتے ہیں کہ یہ قرأت جائز نہیں۔ انہوں نے کہا : کیونکہ آیات تکرار اور مذاکرہ نہیں کرتیں۔ اور دوسروں نے کہا ہے : اس طرح قرأت جائز ہے، اور معنی وہ نہیں ہے جو ابو حاتم نے بیان کیا اگرچہ اس کا ذکر پہلے نہیں ہے۔ جیسا کہ یہ ارشاد ہے : آیت : حتی توارت بالحجاب (ص) ( پھر انہیں چلانے کا حکم دیا) یہاں اور ابو العباس نے بیان کیا ہے کہ آیت : ولیقولوا درست امر کی بنا پر لام کو ساکن پڑھا گیا ہے اور اس میں تہدید (جھڑک) کا معنی ہے۔ یعنی چاہیے کہ وہ جو چاہیں کہیں کیونکہ حق تو بین اور واضح، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : آیت : فلیضحکوا قلیلاولیبکوا کثیرا ( توبہ : 82) (تو انہیں چاہیے کہ ہنسیں تھوڑا اور رویں زیادہ) ۔
اور جنہوں نے لام کو کسرہ دیا ہے ان کے نزدیک یہ لام کی ہے۔ ان تمام قرأتوں کا اشتقاق تو ایک شی کی طرف ہی راجع ہے، یعنی تلیین اور تذلیل کی طرف۔ اور درست، درس یدرس دراسۃ سے ہے، اور اس کا معنی ہے کسی غیر پر پڑھنا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : درستہ یعنی ذللتہ بکثرۃ القرأۃ ( میں نے اسے کثرت قرأت کے سبب پامال کردیا) اور اس کی اصل درس الطعام ہے یعنی گندم گہنا۔ اور دیا اس کا معنی لغت شام کے مطابق دراس ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کی اصل درست الثوب أدرسہ درسا سے ہے یعنی میں نے کپڑے کو پرانا کردیا۔ اور درس الثوب درسا کا معنی ہے أخلق یعنی کپڑا پرانا ہوگیا۔ اور یہ معنی بھی تذلیل کی طرف ہی لوٹتا ہے۔ اور کہا جاتا ہے : حضرت ادریس (علیہ السلام) کو کتاب اللہ کثرت کے ساتھ پڑھنے کی وجہ سے ادریس کا نام دیا گیا۔ اور دارست الکتب وتدارس تھا اور ادارس تھا یہ سب درس تھا کے معنی میں ہیں۔ اور درست الکتاب درساء دراسۃ ( میں نے کتاب خوب اچھی طرح پڑھی) اور درست المرأۃ درسا ای حاضت ( عورت حائضہ ہوگئی) اور کہا جاتا ہے کہ عورت کی شرمگاہ کو کنایۃ ابا ادراس کہا جاتا ہے۔ اور یہ بمعنی حیض ہے۔ اور الدرس خفیہ راستے کو بھی کہا جاتا ہے۔ اور اصمعی نے بیان کیا ہے : بعیرلم یدرس یعنی اونٹ پر سوار نہیں ہوا گیا، اور درست، درس المنزل سے ماخوذ ہے جب منزل کان نشان مٹ جائے۔ اور حضرت ابن مسعود اور آپ کے اصحاب نے، حضرت ابی، حضرت طلحہ، حضرت اعمش نے ولیقولا درس قرأت کی ہے۔ یعنی درس محمد الآیات ( حضرت محمد ﷺ نے آیات پڑھیں) ولنبینہ یعنی تاکہ ہم قول اور تصریف کو واضح کردیں، یا تاکہ ہم قرآن کو واضح کردیں۔ آیت : لقوم یعلمون اس قوم کے لیے جو علم رکھتی ہے۔
Ayah 6:106آیت نمبر 106
قولہ تعالیٰ آیت : اتبع مآ اوحی الیک من ربک یعنی قرآن کی اتباع کیجئے، یعنی اپنے دل اور طبیعت کو ان کے ساتھ مشغول نہ رکھیے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رکھیے۔ آیت : لا الہ الا ھو واعرض عن المشرکین یہ منسو ہوچکا ہے۔
Ayah 6:107آیت نمبر 107
قولہ تعالیٰ آیت : ولو شاء اللہ ما اشرکوا یہ اس پر نص ہے کہ شرک اس کی مشیت کے ساتھ ہوتا ہے، اور یہ مذہب قدریہ کا بطلان ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ آیت : وما جعلناک علیھم حفیظا یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ان کی حفاظت اور نگہبانی کرنا آپ کے لیے ممکن نہیں ہے۔
آیت : وما انت علیھم بوکیل یعنی آپ ان کے امور اور معاملات کو ان کے دین یا ان کی دنیا کے مصالح اور منافع میں مضبوط اور پختہ کیجیے، یہاں تک کہ ان کے لیے اسے پانا آسان ہوجائے جو ان کے لیے واجب اور ضرور ہے۔ پس اس بارے میں نہ آپ نگہبان ہیں اور نہ ہی ذمہ دار ہیں، بلاشبہ آپ تو صرف مبلغ ( اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے والے ہیں) اور یہ جنگ و قتال کا حکم دئے جانے سے پہلے کی بات ہے۔
Ayah 6:108آیت نمبر 108
اس میں پانچ مسائل ہیں
مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ آیت : ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ یہ نہیں ہے۔ آیت : فیسبوا اللہ یہ جواب نہیں ہے۔ پس اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مومنوں کو اس سے منع کیا ہے کہ وہ ان کے بتوں کو برا بھلا کہیں، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جب وہ انہیں برا بھلا کہیں گے تو کفار نفرت کریں گے اور وہ اپنے کفر میں اور بڑھ جائیں گے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : کفار قریش نے حضرت ابو طالب کو کہا : یا تو آپ (محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب کو ہمارے الہٰوں کو برابھلا کہنے اور ان سے نفرت کرنے سے منع کریں اور یا پھر ہم بھی اس کے الٰہ کو برا بھلا کہیں گے اور اس کی ہجو کریں گے تب یہ آیت نازل ہوئی۔
مسئلہ نمبر 2۔ علماء نے بیان کیا ہے : اس کا حکم اس امت میں ہر حال میں باق ہے پس جب کافروں کو اس سے منع کیا گیا ہے اور خوفزدہ کیا گیا ہے کہ وہ اسلام کی یا نبی مکرم ﷺ کو یا للہ تعالیٰ عزوجل کو برا بھلا کہیں، تو پھر مسلمانوں کے لیے بھی حلال نہیں ہے کہ وہ ان کی صلیب، ان کے دین اور ان کے گرجا گھروں کو برا بھلا کہیں، اور نہ ہی وہ اس طرح کا تعرض کریں جو انہیں اس حالت تک پہنچا دے، کیونکہ یہ معصیت پر ابھارنے کے فقائم مقام ہے۔ اور انہیں اصنام سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہ ان کے بارے عقل اور سمجھ بوجھ نہیں رکھتے جو کفار ان کے بارے میں اعتقاد رکھتے ہیں۔
مسئلہ نمبر 3۔ اس آیت میں بھی صلح کی ایک قسم کا بیان ہے، اور سد ذرائع کے حکم کے واجب ہونے پر دلیل ہے، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے سورة البقرہ میں۔ اور اس میں اس پر دلیل ہے کہ کبھی حق دار اپنے حق سے رک جاتا ہے جب وہ اسے ایسے ضرر اور نقصان تک پہنچا دے جو دین میں ہوتا ہے۔ اور اسی معنی میں وہ روایت ہے جو حضرت عمر بن خطاب ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا : تم قطع تعلقی کے ڈر سے قرابت داروں کے درمیان فیصلہ نافذ نہ کرو۔ ابن عربی نے کہا ہے، اگر حق واجب ہو تو وہ اسے ہر حال میں لے گا اور اگر وہ جائز ہو تو اس میں یہ قول ہوگا۔
مسئلہ نمبعر 4۔ قولہ تعالیٰ آیت : عدوا یعنی جہالت کے سبب اور زیادتی کرتے ہوئے۔ اور اہل مکہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اسے عدوا عین اور دال کے ضمہ اور واو کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے، اور یہی حسن، ابو رجا اور حضرت قتادہ کی قرأت ہے اور یہ پہلی قرأت کی طرف ہی راجع ہے، اور مجموعی طور پر یہ دونوں بمعنی ظلم ہیں۔ اور اہل مکہ نے عدوا عین کے فتحہ اور دال کے ضمہ کے ساتھ بمعنی عدو ( عداوت دشمنی) کے پڑھا ہے اور یہ واحد ہے لیکن جمع کی طرف سے ذکر ہو رہا ہے، جیسا کہ ارشاد فرمایا : آیت : فانھم عدولی الا رب العلمین (الشعرائ) ( پس وہ سب میرے دشمن ہیں سوائے رب العالمین کے)
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : ھم العدو ( المنافقون : 4) یہ مصدر ہونے کی بنا پر منصوب ہے یا مفعول لاجلہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
مسئلہ نمبر 5۔ قولہ تعالیٰ : آیت : کذلک زینا لکل امۃ عملھم جس طرح ہم نے ان کے لیے ان اعمال کو آراستہ کردیا ہے اسی طرح ہم نے ہر امت کے لیے ان کے عمل کو آراستہ کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے بیان کیا ہے۔ ہم نے اہل طاعت کے لیے طاعت کو، اور اہل کفر کے لیے کفر کو آراستہ کردیا ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی طرح ہے آیت یضل من یشاء ویھدی من یشاء (فاطر : 8) اس میں قدریہ کا رد ہے۔