6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 6:143–144

ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَۙ Open ayah 6:143 in the Quran reader

(یہ بڑے چھوٹے چارپائے) آٹھ قسم کے (ہیں) دو (دو ) بھیڑوں میں سے اور دو (دو ) بکریوں میں سے (یعنی ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) (اے پیغمبر ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادینوں کو یا جو بچہ مادینوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اسے ؟ اگر سچے ہو تو مجھے سند سے بتاؤ۔

وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 6:144 in the Quran reader

اور دو (دو ) اونٹوں میں سے دو (دو ) گایوں میں سے (ان کے بارے میں بھی ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادینوں کو یا جو بچہ مادینوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اس کو بھلا جس وقت خدا نے تم کو اس کا حکم دیا تھا تم اس وقت موجود تھے ـ؟ تو اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افترا کرے تاکہ ازراہ بیدانشی لوگوں کو گمراہ کرے ؟ کچھ شک نہیں کہ خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

اس میں تین مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : ثمٰنیۃ ازواج اس میں ثمٰنیۃ فعل مضمر کے سبب منصوب ہے اور وہ فعل انشا ہے ( یعنی اللہ تعالیٰ نے آٹھ جوڑے پیدا فرمائے) یہ کسائی سے منقول ہے۔ اور اخفش سعید نے کہا ہے : یہ آیت : حمولۃ و فرشا سے بدل ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور اخفش علی بن سلیمان نے بیان کیا ہے : اس کی نصب ( فعل) کلوا کے سبب ہے، یعنی کلوا لحم ثمانیہ ازواج ( تم آٹھ جوڑوں کا گوشت کھاؤ ) ۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ کہ ما سے محل کے اعتبار سے بدل ہونے کی بنا پر منصوب ہو۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ کہ اس معنی میں منصوب ہو۔ معنی ہو کلوا المباح ثمٰنیۃ ازواج من الضان اثنین ( تم مباح کھاؤ ( یعنی) آٹھ جوڑے بھیڑ سے دو ) یہ آیت مالک بن عوف اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب انہوں نے کہا : آیت : وقالوا ما فی بطون ھذی الانعام خالصۃ لذکورنا و محرم علی ازواجنا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ اور مومنین کو اس آیت کے سبب ان ( جانوروں) پر آگاہ فرمایا جنہیں اس نے ان کے لیے حلال قرار دیا ہے، تاکہ یہ ان کی طرح نہ ہوجائیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام قرار دیا ہے۔ زوج فرد کے خلاف ہے : کہا جاتا ہے : زوج ( جوڑا) اور فرد (ایک) جیسا کہ کہا جاتا ہے : خسا ( رذیل، گھٹیا) اور زکا ( پاکیزہ، اعلی) شفع ( جفت) اور وتر ( طاق) ۔ اور آیت : ثمٰنیۃ ازواج سے مراد آٹھ افراد ہیں۔ اور اہل عرب کے نزدیک ہر فرد دوسرے کا محتاج ہوتا ہے اسے زوج کا نام دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے للذکرک زوج ( مذکر کے لیے زوج ہے یعنی دوسرا ہے) اور للانثی زوج ( اور مونث کے لیے زوج یعنی دوسرا ہے) اور لفظ زوج واحد اور تثنیہ برابر ہے) اور آپ کہتے ہیں : اشتریت زوجی حمام ( میں نے کبوتر کا جوڑا خریدا) اور انت، تعنی ذکرا وانثی ( اور تو اس سے مراد مذکر اور مونث لیتا ہے) مسئلہ نمبر 2۔ قولہ تعالیٰ : آیت : من الضان اثنین یعنی بھیڑ میں سے دو مذکر ( نر) اور مؤنث ( مادہ) اور الضان سے مراد ریوڑ میں سے اون والی ہیں یعنی بھیڑیں اور یہ ضائن کی جمع ہے۔ اس کی مونث ضائنۃ ہے اور جمع ضوائن آگی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ ایسی جمع ہے جس کی واحد نہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کی جمع ضئین ہے، جیسا کہ عبد کی جمع عبید ہے۔ اور اس میں ضئین بھی کہا جاتا ہے، جیسا کہ شعیر میں شعیر کہا جاتا ہے اور ضاد کو اتباعا کسرہ دیا گیا ہے۔ اور طلحہ بن مصرف نے آیت : من الضان اثنین ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ قراءت کی ہے۔ اور یہ لغت بصریوں کے نزدیک مسموع ہے اور کو فیوں کے نزدیک ہر اس لفظ میں جاری ہوتی ہے جس میں دوسرا حرف حرف حلقی ہو۔ اور اسی طرح مضر میں بھی فتحہ اور سکون ہے۔ اور ابان عثمان نے من الضان اثنان ومن المعز اثنان پڑھا ہے کہ یہ مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ اور حضرت ابی کی قراءت میں ومن المعز اثنان ہے اور یہی اکثر کی قراءت ہے اور ابن عامر اور ابو عمرو نے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ نحاس نے کہا ہے : کلام عرب میں اکثر المعز والضان بالسکون ہیں اور اس پر جمع کے بارے میں ان کا یہ قول دلالت کرتا ہے : معیز اور یہ معز کی جمع ہے، جیسے کہا جاتا ہے : عبد و عبید اور امرؤ القیس نے کہا ہے : ویمنحھا بنو شمجی بن جرم معیز ھم حنانک ذا الحنان (زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 106) اور اسی کی مثل ضان اور ضئین ہیں۔ معز ریوڑ میں سے ضان کے خلاف ہے اور یہ بالوں اور چھوٹی دنبوں والی بکریاں ہوتی ہیں اور یہ اسم جنس ہے اور اسی طرح المعز والمعیز والامعوذ المعزی ہیںٰ اور معز کی واحد ماعز ہے، جیسے صاحب اور صحب، تاجر اور تجر ہیں اور مونث ماعزۃ ہے اور یہ عنز ( بکری) ہے اور اس کی جمع مواعز آتی ہے۔ اور امعز القوم کا معنی ہے ان کی بکریاں زیادہ ہوگئیں۔ اور المغاز بکریاں رکھنے والے کو کہتے ہیں۔ ابو محمد فقعسی نے کہا ہے وہ دودھ کی زیادتی کی وجہ سے اونٹوں کی تعریف کرتا ہے اور زمانے کی شدت اور سختی کے حالات میں بکریوں کی فضیلت بیان کرتا ہے : یکلن کیلا لیس بالممحوق اذ رضی المغاز باللعوق اور معز کا معنی زمین کی صلابت اور سختی بھی ہے اور امعزایسی سخت جگہ جہاں سنگریزے زیادہ ہوں۔ اس کا مونث معزاء ہے۔ اور اسمعز الرجل فی امرہ کا معنی ہے آدمی نے اپنے کام میں خوب محنت اور کوشش کی۔ آیت : قل ئٰ الذکرین یہ حرم کی وجہ سے منصوب ہے۔ آیت : ام الانثیین یہ اس پر معطوب ہے اسی طرح آیت : اما اشتملت بھی ہے اور ہمزہ وصل کے ساتھ مد کا اضافہ کیا گیا ہے تاکہ استفہام اور خبر میں فرق ہوجائے۔ اور ہمزہ کو حذف کرنا بھی جائز ہے کیونکہ ام استفہام پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ کسی نے کہا : تروح من الحی ام تبتکر مسئلہ نمبر 3۔ علماء نے کہا ہے : یہ آیت مشرکین کے خلاف حجت ہے بحیرہ اور جو اس کے ساتھ ذکر کیے گئے ہیں ان کے بارے مٰںٰ ۔ اور ان کے اس قول کے بارے میں : آیت : ما فی بطون ھذہ الانعام خالصۃ لذکورنا و محرم علی ازواجنا اور یہ علم میں مناظرہ کرنے کے اثبات پر دلیل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ کو حکم ارشاد فرمایا ہے کہ آپ ان کے ساتھ مناظرہ کریں اور ان کے سامنے ان کے قول کا فاسد ہونا بیان فرمائیں۔ اور اس میں نظر و فکر اور قیاس کے ساتھ گفتگو کرنے کا اثبات ہے۔ اور اس میں دلیل موجود ہے کہ جب قیاس کے مقابلے میں نص آجائے تو پھر قیاس کے ساتھ بات کرنا باطل ہے۔ اور روایت کیا جاتا ہے کہا ” جب اس پر کوئی اعتراض ( نقض) وارد ہو “۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں صحیح کے ساتھ بات کرنے کا حکم دیا ہے اور انہیں ان کی علت جاری کرنے کا حکم دیا۔ اور معنی یہ ہے : آپ ان سے کہیں اگر وہ مذکر (نر) کو حرام کرتا تو پھر ہر مذکر (نر) حرام ہوتا اور اگر وہ مونث (مادہ) کو حرام کرتا تو ہر مونث (مادہ) حرام ہوتی۔ اور اگر اسے حرام کرتا جو بھیڑ اور بکریوں کے رحموں کے اندر ہے، تو پھر ہر پیدا ہونے والا ان کا بچہ حرام ہوتا چاہے وہ مذکر ہو یا مونث اور وہ تمام کے تمام پیدا کیے گئے ہیں اور جب تمام کے تمام علت پائے جانے کی وجہ سے حرام ہیں، تو اس سے ان کی علت کا انتقاض اور ان کے قول کا فاسد ہونا ظاہر ہوگیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ اس بارے میں انہوں نے جو کچھ کیا ہے وہ سب اس پر جھوٹا بہتان ہے۔ آیت : نبونی بعلم مجھے علم کے ساتھ آگاہ کرو اگر تمہارے پاس ہے کہ کہ تحریم جسے تم نے اپنا رکھا ہے کہاں سے آگئی ؟ اور ان کے پاس کوئی علم نہیں، کیونکہ وہ کتابیں پڑھتے ہی نہیں۔ اور آیت : ومن الابل اثنین اور اس کے مابعد میں گفتگو اسی طرح ہے جیسے پہلے گزر چکی ہے۔ آیت : ام کنتم شھدآء یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے پاس حاضر تھے جب اس نے اسے حرام قرار دیایا ؟ اور جب حجت اور دلیل ان پر لازم ہوئی تو وہ بہتان تراشی میں لگ گئے اور کہنے لگے : اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ تب اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : فمن اظلم ممن افترٰی علی اللہ کذبا لیضل الناس بغیر علم واضح فرما دیا کہ انہوں نے جھوٹ بولا ہے، جب انہوں نے کہا اس پر دلیل موجود نہیں
Ayah 6:145

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:145 in the Quran reader

کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں میں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا۔ بجز اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور ہو یا بہتا لہو یا سور کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں یا گناہ کی کوئی چیز ہو کہ اس پر خدا کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہے۔ (اور) اگر کوئی مجبور ہوجائے لیکن نہ تو نافرمانی کرے اور نہ حد سے باہر نکل جائے تو تمہارا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے۔

اس میں چار مسائل ہیں مسئلہ نمبر۔ قولہٰ تعالیٰ : قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان چیزوں کے بارے میں بتایا ہے جو اس نے حرام قرار دی ہے۔ اور معنی یہ ہے : اے محمد ! ﷺ آپ فرمادیجئے جو ( کتاب) میری طرف وحی کی گئی ہے میں اس میں کوئی چیز حرام نہیں پاتا سوائے ان چیزوں کے، نہ کہ وہ جنہیں تم اپنی مرضی سے حرام قرار دیتے ہو۔ یہ آیت مکی ہے۔ اس وقت شریعت میں سوائے ان چیزوں کے کوئی چیز حرام نہ تھی، پھر مدینہ طیبہ میں سورة المائدہ نازل ہوئی۔ اور محرمات میں اضافہ کیا گیا جیسا کہ المنخنقۃ ( گلا گھونٹنے سے مرا ہوا جانور) الموقوذۃ ( چوٹ سے مرا ہوا جانور) المتردیۃ ( اوپر سے نیچے گر کر مرا ہوا جانور) النطیحۃ ( سینگ لگنے سے مرا ہوا جانور) اور شراب وغیر۔ اور رسول اللہ ﷺ نے مدینہ طیبہ میں درندوں میں سے ہر ذی ناب کو اور پرندوں میں سے ہر ذی مخلب ( پنچے سے شکار کرے والا) کے کھانے کو حرام قرار دیا (1) ۔ اس آیت کے حکم اور اس کی تاویل میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ ّ (سنن ابن ماجہ، کتاب الصید، جلد 1، صفحہ 245) ایک وہ جس کی طرف ہم نے اشارہ کردیا ہے کہ یہ آیت مکیہ ہے اور ہر وہ حرام شے جسے رسولل اللہ ﷺ نے حرام قرار ہے یا جو کتاب میں حکم آیا ہے اسے اس ( آیت) کے ساتھ ملا دیا گیا ہے، تو یہ حکم کی زیادتی اللہ تعالیٰ کی جانب سے حضور نبی مکرم ﷺ کی زبان اقدس کی وساطت سے ہے۔ اہل نطر وفکر میں سے اکثر علماء نے یہی موقف اختیار کیا ہے، اکثر فقہاء اور اہل اثر نے بھی یہی کہا ہے اور اس کی نذیر عورت کا اپنی پھوپھی اور اپنی خالہ پر نکاح کرنا ہے اس کے باوجود کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : آیت : واحل لکم ما ورآء ذلکم ( النساء : 24) اور اسی طرح قسم اور ایک شاہد کے ساتھ فیصلہ کرنا ہے اس کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : فان لم یکونا رجلین فرجل وامرتین (البقرہ : 282) ( اور اگر نہ ہوں دو مرد تو ایک مرد اور دو عورتیں) اور یہ پہلے گزر چکا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت حضور نبی مکرم ﷺ کے اس ارشاد کے ساتھ منسوخ ہے : اکل کل ذی ناب من السباع حرام (مؤطا امام مالک، صفحہ 492) ( درندوں میں سے ہر ذی ناب کو کھانا حرام ہے) اسے امام مالک (رح) نے روایت کیا ہے اور یہ حدیث صحیح ہے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ یہ آیت محکم ہے اوعر کوئی شی حرام قرار نہیں دی جائے گی مگر وہی جس کا ذکر اس میں ہے۔ اور یہ قول حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کیا جاتا ہے اور ان سے اس کے خلاف بھی مروی ہے۔ امام مالک (رح) نے کہا ہے : کوئی حرام بین اور واضح نہیں مگر وہی جس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے اور ابن خویز منداد نے کہا ہے : یہ آیت حیوانوں میں سے ہر شی کو حلال قرار دیتی ہے سوائے ان کے جن کی آیت میں استثنی ہے مثلا مردار، بہنے والا خون اور خنزیر کا گوشت، اسی لیے ہم نے کہا ہے : انسان اور خنزیر کے سوا درندوں اور تمام حیوانوں کا گوشت مباح ہے۔ اور الکیاطبری نے کہا ہے : اور اسی پر امام شافعی (رح) نے ان تمام جانوروں کو حلال قرار دینے کی بناء کی ہے جن کے بارے سکوت اختیار کیا گیا ہے، سوائے ان کے جن پر کوئی دلیل دلالت کرے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ آیت اس آدمی کا جواب ہے جس نے معین شی کے بارے پوچھا تو مخصوص اس کے جواب میں یہ آیت واقع ہوئی۔ یہی امام شافعی (رح) کا مذہب ہے۔ تحقیقی امام شافعی (رح) نے حضرت سعید بن جبیر سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : اس آیت میں جو چیزیں ہیں ان کے بارے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے جواب میں انہیں ان چیزوں کے حرام ہونے کے بارے بتایا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : آیت : لا اجد فی ما اوحی الی آپ نے یہ اس حال میں کہا جو وحی کی حالت تھی اور اس کے نازل ہونے کا وقت تھا، پھر اس کے بعد دوسری چیزوں کو حراب قرار دینے کے بارے میں وحی کا نزل ہونا ممتنع نہیں ہے۔ اور ابن عربی نے گمان کیا ہے (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 764) کہ یہ آیت مدینہ ہے حالانکہ یہ اکثر کے قول کے مطابق مکیہ ہے اور حضور نبی مکرم ﷺ پر یہ اس دن نازل ہوئی جس دن آپ پر آیت : الیوم اکملت لکم دینکم ( مائدہ : 3) نازل ہوئی اور اس کے بعد کوئی ناسخ آیت نازل نہیں ہوئی لہٰذا یہ آیت محکم ہے۔ نتیجتا انہیں ہی حرام قرار دیا جائے گا جن کا ذکر اس میں کیا گیا ہے اور اسی کی طرف میں بھی مائل ہوں۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ میری رائے ہے اور اسے کئی دوسروں نے بھی بیان کیا ہے۔ ابو عمر بن عبدالبر نے اس بارے میں اجماع ذکر کیا ہے کہ سورة الانعام مکی ہے سوائے اس قول کے تین آیات تک آیت : قل تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم (الانعام : 151) اور اس کے بعد بہت سا قرآن کریم نازل ہوا اور بہت سی احادیث بیان ہوئیں۔ اور شراب کی حرمت کا حکم مدینہ منورہ میں سورة المائدہ میں نازل ہوا۔ اور اس پر تمام نے اجماع کیا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے درندوں (صحیح مسلم، کتاب الصید، جلد 2، صفحہ 147) میں سے ہر ذی ناب کو کھانے سے منع فرمایا ہے وہ مدینہ منورہ میں فرمایا۔ اسماعیل بن اسحاق نے کہا ہے : یہ سب اس پر دلالت کرتا ہے کہ کہ حکم مدینہ منورہ میں اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ہوا : آیت : لا اجد فی ما اوحی الی محرما کیونکہ یہ آیت مکی ہے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : علماء کے درمیان اختلاف کا سبب یہی ہے پس ایک جماعت نے ان احادیث کے ظاہر سے عدول کیا ہے جو درندوں میں سے ہر زی ناب کو کھانے سے نہیں کے بارے وارد ہیں، کیونکہ وہ اس آیت سے متاخر ہیں اور اس میں حصر ظاہر ہے پس اس کے مطابق عمل کرنا اولیٰ ہے، کیونکہ یا تو یہ اپنے متقدم کے لیے ناسخ ہیں یا پھر یہ آیت ان احادیث پر راجح ہے۔ اور رہے وہ جو تحریم کے قائل ہیں تو ان کے لیے یہ بات ظاہر ہے اور ان کے نزدیک ثابت ہے کہ سورة الانعام مکی سورت ہے اور ہجرت سے پہلے نازل ہوئی ہے اور بلاشبہ اس آیت کے ساتھ جاہلیت کے اس نظریہ کو رد کرنے کا قصد کیا گیا ہے۔ جس کے تحت وہ بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام جانوروں کو حرام قرار دیتے تھے، پھر اس کے بعد بہت سے امور کو حرام قرار دیا گیا جیسا کہ پالتوگدھے اور خچروں کا گوشت وغیر اور درندوں میں سے ہر ذی ناب اور پرندوں میں سے ہر ذی مخلب (جامع ترمذی، باب ما جاء فی کراھیۃ کل ذی ناب وذی مخلب، حدیث نمبر 1398، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ ابو عمر نے کہا ہے : جنہوں نے یہ کہا ہے : جن چیزوں کا ذکر اس آیت میں ہے ان کے سوا کوئی شی حرام نہیں ہے ان کے اس قول پر یہ لازم آتا ہے کہ اسے بھی حرام قرار نہ دیا جائے جس جانور پر ذبح کے وقت عمدا اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا جائے اور اس شراب کو حلال سمجھا جائے جو تمام مسلمانوں کے نزدیک حرام ہے اور انگور کی شراب کے حرام ہونے پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہونے میں اس پر واضح دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتاب میں ایسی چیزیں پائی ہیں جن کے حرام ہونے کے بارے آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اور وہ ان کے سوا ہیں جن کا ذکر سورة الانعام میں ہے۔ اور یہ ان میں سے ہیں جن کے بارے اس کے بعد قرآن نازل ہوا ہے۔ اور درندوں، گدھوں، اور خچروں کے گوشت کے بارے امام مالک (رح) سے مختلف روایات ہیں۔ پس آپ نے ایک بار کہا : یہ حرام ہیں، کیونکہ اس کے بارے میں حضور نبی کریم ﷺ کی نہی موجود ہے، اور یہی آپ کا قول صحیح ہے جو کہ مؤطا میں ہے۔ اور ایک بار فرمایا : یہ مکروہ ہے اور ” مدونہ “ میں ظاہر قول یہی ہے، کیونکہ آیت ظاہر ہے اور اس لیے بھی کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ان تمام کی اباحت مروی ہے اور یہی امام اوزاعی (رح) کا قول ہے۔ اور امام بخاری (رح) نے حضرت عمرو بن دینار (صحیح بخاری، کتاب الصید، جلد 2، صفحہ 830) کی روایت سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : میں نے حضرت جابر بن زید ؓ کو کہا کہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے ؟ تو انہوں نے جوابا کہا : ہمارے ہاں بصرہ میں حکم بن عمرو غفاری یہ کہتا رہا ہے، لیکن بحر ابن عباس نے اس کا انکار کیا ہے اور انہوں نے یہ آیت پڑھی ہے : آیت : لا اجد فی ما اوحی الی محرما اور حضرت ابن عمر ؓ عنما سے مروی ہے کہ ان سے درندوں کے گوشت کے بارے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں ہے، تو آپ کو کہا گیا : ابو ثعلبہ خثنی کی حدیث ہے تو انہوں نے جوابا ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ جو ہمارا رب ہے ہم اس کی کتاب کو ایسے اعرابی کی حدیث کی وجہ سے نہیں چھوڑیں گے جو اپنی پنڈلیوں پر پیشاب کرتا ہے۔ اور حضرت شعبی (رح) سے ہاتھی اور شیر کے گوشت کے بارے پوچھا گیا تو انہوں نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ اور قاسم نے کہا ہے : حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی تھیں جب انہوں نے لوگوں کی یہ کہتے ہوئے سنا کہ درندوں میں سے ہر ذی ناب حرام ہے : وہ حلال ہے، اور آپ یہ آیت تلاوت فرماتیں : آیت : قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما انہوں نے فرمایا کہ اگر ہنڈیا کا پانی خون کی وجہ سے زرد بھی ہوجاتا اور پھر رسول اللہ ﷺ اسے دیکھتے تو آپ اسے حرام قرار نہ دیتے۔ اور اس باب میں صحیح وہی ہے جو ہم نے شروع میں ذکر کردیا ہے اور آیت کے بعد محرمات کے بارے جو کچھ بیان ہوا ہے جو سب اسی کے ساتھ ملا دیا گیا ہے اور اسی پر معطوف ہے۔ اور قاضی ابوبکر بن عربی نے قبس میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے جو اسے کے خلاف ہے جو انہوں نے احکام میں ذکر کیا ہے۔ فرمایا : حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ آیت آخر میں نازل ہونے والی آیات میں سے ہے۔ اور ہمارے اصحاب میں سے اہل بغداد نے کہا ہے کہ جو کچھ اس کے سوا ہے وہ سب حلال ہے، لیکن درندوں کو کھانا مکرو ہوتا ہے اور فقہاء امصار کے نزدیک ان میں سے امام شافعی، امام ابوحنیفہ اور عبدالملک (رح) ہیں درندوں میں ہر ذی ناب کو کھانا حرام ہے اور یہ ممتنع نہیں ہے کہ اس قول باری تعالیٰ : آیت : قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما کے بعد کوئی ایسی زیادتی واقع ہو جس میں دلیل بیان ہو رہی ہو، جیسا کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : لا یحل دم امری مسلم الا باحدی ثلاث (سننابن ماجہ، کتاب الحدود، جلد 1، صفحہ 185) ( کسی مسلمان کا خون حلال نہیں ہوتا مگر تین میں سے ایک چیز کے ساتے) اور آپ نے کفر، زنا اور قتل کا ذکر کیا۔ پھر ہمارے علماء نے فرمایا : بلا شبہ قتل کے اسباب دس ہیں جو دلائل سے ثابت ہیں، کیونکہ حضور نبی مکرم ﷺ اس کے بارے خبر دیتے ہیں جو آپ ﷺ تک اللہ تعالیٰ کے علم سے پہنچا اور وہ جسے چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور ثابت رکھتا ہے ( اور جسے چاہتا ہے) منسوخ کردیتا ہے اور مقدر کردیتا ہے۔ اور حضور نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” درندوں میں سے ہر ذی مخلب کو کھانے سے منع فرمایا ہے۔ اور مسلم نے معن سے اور انہوں نے امام مالک رحمۃ اللہ علین سے روایت کیا ہے ” کہ پرندوں میں ہر ذی مخلب کو کھانے سے منع کیا گیا ہے “ (ایضا) ۔ اور پہلی روایت اصح ہے اور درندوں میں سے ہر ذی ناب کو حرام قرار دینا ہی صریح مذہب ہے اور اسی کے بارے امام مالک (رح) نے ” المؤطا “ میں عنوان بنایا جس وقت آپ نے یہ کہا : تحریم اکل کل ذین ناب من السباع پھر حدیث ذکر کی اور اس کے بعد آپ نے فرمایا : وھو الامر عندنا ( اور یہ حکم ہمارے نزدیک ہے) پس آپ نے یہ خبر دی کہ اثر کے ساتھ عمل چھوڑ دیا گیا ہے۔ علامہ قشیری نے کہا ہے : امام مالک (رح) کا یہ قول ” کہ یہ آیت آپ ﷺ پر آخر میں نازل ہونے والی آیات میں سے ہے “ ہمیں یہ کہنے سے نہیں روکتا کہ ان اشیاء میں سے بعض کی تحریم اس آیت کے بعد ثابت ہے۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے پاکیزہ چیزوں کو حلال قرار دیا اور ناپاک چیزوں کو حرام قرار دیا اور رسول اللہ ﷺ نے درندوں میں سے ہر ذی ناب کو کھانے سے اور پرندون میں سے ہر ذی مخلب کو کھانے سے منع فرمایا ہے۔ اور آپ ﷺ نے گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے خیبر کا سال منع فرمایا : (سنن نسائی، کتاب الصید والذبائح، جلد 1، صفحہ 198) ۔ اس تاویل کے صحیح ہونے پر گندگی، بول، گندگی کے کیڑے اور گدھوں کی تحریم پر اجماع دلالت کرتا ہے اور یہ ان چیزوں میں سے ہیں جو اس آیت میں مذکور نہیں ہیں۔ مسئلہ نمبر 2۔ قولہ تعالیٰ : محرما ابن عطیہ نے کہا ہے : تحریم کا لفظ جب حضور نبی کریم ﷺ کی زبان اقدس پر واردہو تو وہ اس (معنی) کی صلاحیت رکھتا ہے کہ آپ مذکور شے سے مکمل طور پر کلیۃ رک جائیں اور لغت کے اعتبار سے بھی یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ آپ کراہت اور اس طرح کے محل میں حد درجہ توقف کریں ( رکے رہیں) اور جب اس کے ساتھ تاویل کرنے والے ( مجتہدین) صحابہ کرام کی جانب سے تسلیم کا کوئی قرینہ مقترن نہیں اور ان تمام کا اجماع ہے اور احادیث کے الفاظ میں کوئی اضطراب بھی نہیں تو پھر شرعاََ واجب ہے کہ اس کی تحریم حظر و منع کے اعتبار سے اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی ہو اور یہ خنزیر، مردار، خون کے ساتھ مل جائے اور یہی حال شراب کی تحریم کا ہے۔ اور ( اگر) اس کے ساتھ احادیث کے الفاظ مظرب ہونے کا قرینہ مقترن ہو اور ائمہ کا احادیث کا علم رکھنے کے باوجود اس میں اختلاف ہو جیسا کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے : ” درندوں میں سے ہر ذی ناب کو کھانا حرام ہے “ (صحیح مسلم، کتاب الصید، جلد 2، صفحہ 147 ) ۔ تحقیق درندوں میں سے ہر ذی ناب کو کھانے سے رسول اللہ ﷺ کی نہی وارد ہے، پھر صحابہ کرام اور جوان کے بعد ہیں ان کے درمیان ان کی تحریم میں اختلاف ہوا ہے، تو جو نظر وفکر کی صلاحیت رکھتا ہے اس کے لیے ان وجوہ کی بنا پر جائز ہے کہ وہ لفظ تحریم کو اس منع پر محمول کرے جس کے تحت کراہت وغیرہ ہیں۔ اور جس کے ساتھ تاویل کا قرینہ مقترن ہو جیسا کہ آپ ﷺ کا گھریلوگدھوں کا گوشت کو حرام قرار دینا، تو بعض صحابہ کرام جو اس وقت حاضر تھے انہوں نے یہ تاویل کی ( کہ یہ حکم اس لیے دیا گیا) کیونکہ یہ نجس ہیں اور ان میں سے بعض نے یہ تاویل کی ( کہ یہ اس لیے ہوا) تاکہ لوگوں کا بوجھ اٹھانے والے جانور ختم نہ ہوجائیں اور بعض نے تحریم محض کی تاویل کی۔ اور امت میں ان کے گوشت کی تحریم میں اختلاف ثابت ہوگیا، تو علماء میں سے جو نظر وفکر کی صلاحیت رکھتے ہیں ان کے لیے جائز ہے کہ وہ لفظ تحریم کو کراہت وغیرہ کے معنی پر محمول کریں اپنے اجتہاد اور قیاس کے اعتبار سے۔ میں ( مفسر) کہتا ہوں : اس باب میں اور اختلاف کے سبب میں یہ حسین عقیدہ ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک گدھا نہیں کھایا جائے گا، کیونکہ اس کا جوہر خبیث اس وقت ظاہر ہوا جب یہ مذکر گدھے پر چڑھ دوڑا اور اس سے لواطت کی، تو اس کور جس کا نام دیا گیا ہے۔ محمد بن سیرین نے کہا ہے : چوپاؤں میں سے خنزیر اور گدھے کے سوا کوئی جانور قوم لوط کے عمل کی مثل عمل نہیں کرتا۔ اسے ترمذی نے ” نور اور الاصولا “ میں ذکر کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 3۔ عمرو بن دینار نے ابو الشعشائ (سنن ابی داؤد، کتاب الاطعمۃ، جلد 2، صفحہ 183، سنن ابی داؤد، کتاب الاطعمۃ، حدیث نمبر 3306، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : زمانہ جاہلیت کے لوگ کئی چیزیں کھاتے تھے اور کئی چیزیں چھوڑ دیتے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کو مبعوث فرمایا اور اپنی کتاب نازل فرمائی اور اپنی حلال چیزوں کو حلال قرار دیا اور اپنی حرام چیزوں کو حرام قرار دیا، پس جس کو اس نے حلال قرار دیا ہے وہ حلال ہے اور جسے اس نے حرام کردیا ہے وہ حرام ہے اور جس سے وہ خاموش ہے وہ عفو ( معاف) ہے اور انہوں نے یہ آیت تلاوت کی آیت : قل لا اجد الایہ یعنی وہ جیز جس کی تحریم بین اور واضح نہ ہو تو وہ اس آیت کے ظاہر کے مطابق مباح ہے۔ اور زہری نے عبید اللہ بن عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی آیت : قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما اور فرمایا : بلاشبہ مردار کو کھانا حرام قرار دیا گیا ہے۔ اس سے جو شے نہیں کھائی جائے گی وہ گوشت ہے۔ اور رہی اس کی جلد، ہڈی، اون اور بال تو یہ سب حلال ہیں۔ اور ابو داؤد نے ملقام بن قلب سے اور انہوں نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا، میں حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ رہا اور میں نے حشرات الارج (سنن ابی داؤد، کتاب الاطعمۃ، جلد 2، صفحہ 174) کی تحریم کے بارے آپ سے نہیں سنا۔ الحشرہ کا معنی ہے زمین پر رینگ کر چلنے والے چھوٹے چھوٹے کیڑے مکوڑے مثلا یرابیع ( چوہے کی مانند ایک جانور جس کی اگلی ٹانگیں کوتاہ اور پچھلی بڑی اور دم دراز ہوتی ہے) گوہ سیہ اور انہیں کی طرح کے اوہ جانور جیسا کہ شاعر نے کہا ہے : اکلنا الربی یا ام عمرو ومن یکن غیما لدیکم یا کل الحشرات یعنی جو رینگتے ہیں اور چلتے ہیں اور الربی ربیۃ کی جمع ہے اور اس کا معنی ہے چوہیا۔ خطابی نے کہا ہے : ان کے اس قول لم اسمع لھا تحریما میں اس پر کوئی دلیل نہیں ہے کہ وہ مباح ہیں، کیونکہ یہ ہو سکتا ہے کہ کسی اور نے اسے سنا ہو۔ تحقیق لوگوں نے یربوع ( جنگلی چوہا) اور دبر ( بلی سے چھوٹا ایک جانور ہے) اس کی جمع وبار ہے اور ان کی طرح کے حشرات کے بارے میں اختلاف کیا ہے اور یربوع کے بارے میں حضرات عروہ، عطا، امام شافعی اور ابوثور (رح) نے رخصت دی ہے۔ امام شافعی (رح) نے کہا ہے : وبر میں کوئی حرج نہیں اور ابن سیرین، حکم، حماد اور اصحاب رائے نے اسے مکروہ قرار دیا ہے اور اصحاب رائے نے قنفذ ( سیہہ) کو بھی مکروہ قرار دیا ہے۔ اور اس کے بارے مالک بن انس سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا : میں نہیں جانتا۔ اور ابو عمرو نے بیان کیا ہے : اور امام مالک (رح) نے کہا ہے کہ سیہہ کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور ابو ثور بھی اس میں کوئی حرج نہ دیکھتے تھے۔ اور انہوں نے اسے امام شافعی (رح) سے بیان کیا ہے۔ اور اس کے بارے حضرت ابن عمر ؓ سے پوچھا گیا تو آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : آیت : قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما الایہ تو ان کے پاس موجود ایک شخص نے کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ کے پاس اس کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : خبیثۃ من الخبائث (سنن ابی داؤد، کتاب الاطعمۃ، جلد 2، صفحہ 177) (یہ ناپاک چیزوں میں سے ایک ہے) یہ سن کر حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا : اگر رسول اللہ ﷺ نے اس طرح فرمایا ہے تو پھر اسی طڑح ہے جیسے آپ ﷺ نے فرمایا ہے۔ اسے ابو داؤد نے ذکر کیا ہے اور امام مالک (رح) نے کہا ہے : گوہ، یربوع اور ورل ( گوہ کی طرح کا ایک جانور ہے مگر اس سے بڑا ہوتا ہے) کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ اور آپ کے نزدیک سانپ کھانے بھی جائز ہیں بشرطیکہ انہیں ذبح کیا جائے۔ اور یہی قول ابن ابی لیلی اور امام اوزاعی کا ہے۔ اور اسی طرح اژدھا، بچھو، چوہے، غظایۃ ( چھپکلی کی طرح ایک جانور) سیہہ اور مینڈک کے بارے بھی ان کا قول ہے۔ اور ابن القاسم نے کہا ہے : امام مالک (رح) قول کے میں زمین کے چھوٹے پرندے ( یا کیڑے مکوڑے) بچھو اور کیڑے کھانے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ انہوں نے کہا ہے : پانی میں ( ان میں سے) کسی کا مرنا اسے فاسد نہیں کرتا۔ اور امام مالک (رح) نے کہا ہے : شہد کی مکھیوں کے بچے اور پنیر اور کھجور کے کیڑے اور انہین کی طرح کی اور چیزیں کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ اور ان کی دلیل ملقام بن قلب کی حدیث ہے۔ اور حضرت ابن عب اس اور حضرت ابودرداء ؓ کا یہ قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جسے حلال قرار دیا ہے وہ حلال ہے اور جسے اس نے حرام قرار دیا ہے تو وہ حرام ہے اور جس سے سکوت اختیار کیا ہے تو وہ معاف ہے۔ اور چوہیا کے بارے میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے کہا ہے : وہ حرام نہیں ہے اور انہوں نے یہ آیت پڑھی : آیت : قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما اور مدینہ طیبہ کے علماء کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے اور دیگر موذی جانوروں میں سے کسی شی کے کھانے کی اجازت نہیں دیتے مثلا سانپ، چھپکلیاں، چوہے اور انہیں مشابہ دیگر جانور۔ اور ہر وہ شے جسے مارنا جائزہ ہوتا ہے اس کے نزدیک اسے کھانا جائز نہیں ہے اور نہ ہی اس میں ان کے نزدیک ذبح کا عمل ہو سکتا ہے۔ اور یہ قول ابن شہاب، عروہ، امام شافعی، امام ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب وغیرہم رحمۃ اللہ علیہم کا ہے۔ اور امام مالک اور آپ کے اصحاب کے نزدیک تمام وحشی درندوں میں سے کوئی شی نہ کھائی جائے گی اور نہ ہی گھریلوبلی کھائی جائے گی اور نہ ہی جنگلی کیونکہ وہ بھی درندہ ہے۔ اور فرمایا : نہ بجو کھایا جائے گا اور نہ ہی لومڑ اور چیر پھاڑ کرنے والے پرندوں کو کھانے میں کوئی حرج نہیں مثلا گدھیں، چیلیں اور عقاب وغیرہ، وہ بھی جس نے کوئی مردار کھایا اور وہ بھی جس نے نہ کھایا۔ اور امام اوزاعی (رح) نے کہا ہے : تمام کے تمام پرندے حلال ہیں، مگر گدھوں کو ناپسند کرتے ہیں ( اور مکرو جانتے ہیں) اور امام مالک کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے اہل علم میں سے کسی کو نہیں پایا جو چیر پھاڑ کرنے والے پرندے کھانا مروہ جانتا ہو اور انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ کی اس حدیث کا انکار کیا ہے کہ ” آپ ﷺ نے پرندوں میں سے ہر ذی مخلب کو کھانے سے منع کیا ہے “ (صحیح مسلم، کتاب الصید، جلد 2، صفحہ 147 ) ۔ اور اشہب سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : ہاتھی کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے جب کہ اسے ذبح کیا جائے۔ اور یہی امام شعبی (رح) کا قول ہے۔ اور اس سے امام شافعی نے منع فرمایا ہے۔ اور حضرت نعمان ( امام اعظم ابو حنیفہ) (رح) اور آپ کے اصحاب نے بجو اور لومڑ کھانے کو مکروہ قرار دیا ہے۔ اور اس بارے میں امام شافعی (رح) نے رخصت دی ہے اور حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے مروی ہے کہ وہ بجو کھاتے رہتے تھے۔ اور امام مالک (رح) کی دلیل وہ عام نہی نہیں ہے جس میں آپ ﷺ نے درندوں می؁ سے ہر ذی ناب کو کھانے سے منع فرمایا ہے اور آپ نے درندوں میں سے کسی درندے کو خاص نہیں کیا۔ اور بجو کو کھانے کی اباحت کے بارے میں وہ حدیث جسے امام نسائی نے روایت کیا ہے وہ ان احادیث میں سے نہیں ہے جونہی والی حدیث کے معارض آسکتی ہو (سنن نسائی، کتاب الصیدوالذبائح، جلد 1، صفحہ 198) ، کیونکہ اس حدیث کو بیان کرنے میں عبدالرحمن بن ابی عمار منفرد ہیں اور وہ نقل علم کے ساتھ مشہور نہیں اور نہ وہ راوی ان میں سے ہے جسے حجت بنایا جاسکتا ہو جب کہ اس کے خلاف وہ ہے جو اس سے زیادہ ثابت اور ثقہ ہے۔ ابو عمر نے کہا ہے : درندوں میں سے ہر ذی ناب کو کھانے سے نہی کی حدیث اسناد متواترہ سے مروی ہے۔ اور ثقہ اور انتہائی مضبوط ائمہ کرام کی ایک جماعت نے اسے روایت کیا ہے اور یہ محال ہے کہ ان کے معارض ابن ابی عمار کی حدیث کی مثل لائی جائے۔ ابو عمر نے کہا ہے : مسلمانوں نے اس پر اجماع کیا ہے کہ بندر کھانا جائز نہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے کھانے سے منع فرمایا ہے اور اس کی خریدو فروخت بھی جائز نہیں، کیونکہ اس میں کوئی منفعت نہیں ہے۔ فرمایا : اور میں کسی کو نہیں جانتا جس نے اسے کھانے کی رخصت دی ہو مگر وہ روایت جسے عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے ایوب سے ذکر کیا ہے۔ حضرت مجاہد (رح) سے بند رکھانے کے بارے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا : وہ بھیمۃ الانعام میں سے نہیں ہے ( یعنی وہ چوپائے جن کا گوشت کھایا جاسکتا ہے) میں (مفسر) کہتا ہوں : ابن منذر نے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے کہا : ہم نے حضرت عطا سے روایت کیا ہے کہ ان سے بندر کے بارے پوچھا گیا جسے حرم پاک میں مار دیا جاتا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : اس کے بارے دو عادل آدمیوں کا فیصلہ ہوگا۔ فرمایا : پس حضرت عطا (رح) کے مذہب کے مطابق اس کا گوشت کھانا جائز ہے، کیونکہ جزا اس پر واجب نہیں ہوتی جو شکار کے علاوہ کسی ( جانور) کو قتل کر دے۔ اور رویانی کی ( بحر المذہب) میں ہے جو کہ امام شافعی (رح) کے مذہب پر ہے اور امام شافعی نے کہا ہے بندروں کی بیع کرنا جائز ہوتا ہے۔ کیونکہ انہیں سکھلایا جاتا ہے اور ان سے مال کی حفاظت کا نفع اٹھایا جاتا ہے اور کشفی نے ابن شریح سے بیان کیا ہے کہ اس کی بیع جائز ہے، کیونکہ اس سے نفع حاصل کیا جاسکتا ہے۔ تو ان سے پوچھا گیا اس سے نفع کی صورت کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : ان کے ساتھ بچے خوش ہوجاتے ہیں۔ ابو عمر نے کہا ہے : کتا، ہاتھی اور تمام کے تمام ناب والے جانور میرے نزدیک بندر کی مثل ہیں اور حجت رسول اللہ ﷺ کے قول میں ہے نہ کہ کسی اور کے قول میں۔ تحقیق لوگوں نے یہ گمان کیا ہے کہ عرب میں ایسا کوئی نہیں ہے جو کتے کا گوشت کھاتا ہو سوائے فقعس کی قوم کے۔ اور ابو داؤد نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا جانور کھانے اور اس کا دودھ پینے سے منع فرمایا ہے جو غلاظت اور گندگی کھاتا ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اونٹوں میں جلالہ سے مراد یہ ہے کہ اس پر سوار ہوا جاتا یا اس کا دودھ پیا جاتاہو۔ حلیمی ابو عبداللہ نے کہا ہے : جلالہ وہ ہوتا ہے جو گندگی اور غلاظت کھاتا ہو چاہے وہ جو پایا ہو یا آزاد پھرنے والی مرغی (جامع ترمذی، کتاب الاطعمۃ، جلد 2، صفحہ 446، سنن ابی داؤد، کتاب الاطعمۃ، جلد 2، صفحہ 175) ۔ اور حضور نبی کریم ﷺ نے اس کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ اور علماء نے کہا ہے : ہر وہ جانور جس کے گوشت میں غلاظت کی بو ظاہر ہوجائے یا اس کا ذائقہ اس میں ظاہر ہوجائے تو وہ حرام ہے اور اگر وہ ظاہر نہ ہو تو فھو حلال تو وہ حلال ہوگا۔ اور علامہ خطابی نے کہا ہے : یونہی یہ نہی تنزیہ ہے او وہ یہ کہ جب وہ کی غذا کھائے اور اس کی بو اس کے گوشت میں پائی جائے اور یہ تب ہوگا جب اس کا غالب چارہ اس میں سے ہو اور اگر وہ گھاس چرے اور وہ دانے کھائے اور اس کے ساتھ وہ گندگی میں سے بھی کوئی شی کھالیتا ہو تو وہ جلالہ نہیں ہوگا، بلاشبہ یہ آزاد پھرنے والی مرغی کی طرح ہے۔ اور اسی طرح وہ حیوان جو کبھی کبھار گندگی میں سے کوئی شی پائے لیکن اس کی غالب غذا اور چارہ اس کے سوا ہو تو اس کا گوشت کھانا مکروہ نہیں ہوگا۔ اور اصحاب الرائے، امام شافعی اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہما نے کہا ہے : اسے نہیں کھایا جائے گا یہاں تک کہ اسے کچھ دنوں تک روک کر رکھا جائے اور وہ گندگی کے علاوہ صاف چارہ کھائے۔ پس جب اس کا گوشت صاف اور پاک ہوجائے تو پھر اسے کھالیا جائے۔ تحقیق حدیث میں مروی ہے کہ ” گائے، بیل کو چالیس دن تک چارہ کھایا جائے گا پھر اس کا گوشت کھایا جائے گا “۔ اور حضرت ابن عمر ؓ مرغ کو تین دن تک روکتے تھے اور پھر اسے ذبح کرتے تھے۔ اور اسحاق نے کہا ہے : اسے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے اس کے بعد کہ اس کے گوشت کو اچھی طرح دھو ڈالا جائے۔ اور حسن جلالہ کے گوشت کو کھانے میں کوئی حرج نہ دیکھتے تھے۔ اور اسی طرح امام مالک بن انس کا بھی نظریہ ہے اور اس باب میں سے یہ بھی ہے کہ زمین میں گندگی پھینکنے سے منع کیا گیا ہے۔ بعض سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کی زمین کرائے پر دیتے تھے اور اس پر شرط عائد کرتے تھے جو اسے کرائے پر لیتا تھا کہ وہ اس میں گندگی نہ پھینکے۔ اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ اپنی زمین کرائے پر دیتے تھے اور یہ شرط لگاتے تھے کہ اس میں گندگی اور غلاظت کے ساتھ کھاد نہیں ڈالی جائے گی۔ اور یہ روایت ہے کہ ایک آدمی اپنی زمین میں غلاظت ڈال کر اسے کاشت کرتا تھا تو حضرت عمر رضیا للہ عنہ نے اسے فرمایا : تو وہ ہے جو لوگوں کو وہی کھلاتا ہے جو ان سے نکلتا ہے۔ گھوڑے کا گوشت کھانے میں ائمہ کا اختلاف ہے۔ پس امام شافعی (رح) نے اسے مباح قرار دیا ہے اور یہی صحیح ہے۔ اور امام مالک (رح) نے اسے مکروہ قرار دیا ہے۔ اور جہاں تک خچر کا تعلق ہے تو وہ گھوڑے اور گدھے کے درمیان سے پیدا ہوا ہے اور ان میں سے ایک کھایا جاتا ہے یا مکروہ ہے اور وہ گھوڑا ہے اور دوسرا حرام ہے اور وہ گدھا ہے پس تحریم کا حکم غالب رہے گا، کیونکہ جب حلت اور حرمت کا حکم ایک معین چیز میں جمع ہوجائے تو اس میں تحریم کے حکم کو غالب قرار دیا جائے گا۔ اس مسئلہ کی مزید تفصیل عنقریب سورة النحل میں آئے گی۔ اور مکڑی کا حکم سورة الاعراف میں آئے گا۔ جمہور اسلاف واخلاف کا موقف ہے کہ خرگوش کھانا جائزہ ہے اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ نے اس کے تحریم کو بیان کیا ہے۔ اور ابن ابی لیلی سے اس اس کے مکروہ ہونے کا حکم منقول ہے۔ حضرت عب اللہ بن عمرو ؓ نے بیان کیا ہے : رسول اللہ ﷺ کے پاس اسے ( خرگوش کو) لایا گیا اور میں آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو آپ ﷺ نے اسے نہ کھایا اور نہ اسے کھانے سے منع فرمایا۔ اور گمان یہ ہے کہ اسے حیض آرہا تھا۔ اسے ابو داؤد نے ذکر کیا ہے۔ اور نسائی نے موسییٰ بن طلحہ سے مرسل روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ حضور بنی مکرم ﷺ کے پاس خرگوش لایا گیا، اسے ایک آدمی نے بھونا تھا اور اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ میں نے اس کا خون دیکھا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو چھوڑ دیا اور اسے نہ کھایا۔ اور وہ جس کے پاس تھا اسے فرمایا : ” تم کھاؤ کیونکہ اگر میں اسے چاہتا ( اور پسند کرتا) تو میں اسے کھا لیتا “ (سنن نسائی، کتاب الصید والذبائح، جلد 1، صفحہ 198) میں ( مفسر) کہتا ہوں : اس میں ایسی کوئی شی نہیں ہے جو اس کے حرام ہونے پر دلالت کرتی ہو اور بلاشبہ یہ آپ ﷺ کے اس قول کی طرح ہے : ” بیشک یہ میری قوم کی زمین میں نہیں ہے کہ میں بذات خود پاؤن اور اسے عفو قرار دوں “ (صحیح بخاری، کتاب الذبائح، جلد 2، صفحہ 831) ۔ مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : ہم مرالظہر ان کے مقام سے گزرے پس ہم نے ایک خرگوش کو بھگایا اور وہ سب اس کے پیچھے دوڑ پڑے تو انہوں اس پر غلبہ پالیا ( یعنی اسے پکڑ لیا) فرمایا : پس میں اس کے پیچھے دوڑپڑا یہاں تک کہ میں نے اسے پالیا اور اسے ابو طلحہ کے پاس لے آیا اور انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کی سریں اور اس کی ران رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیج دیں اور میں اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آیا تو آپ نے اسے قبول فرما لیا (صحیح مسلم، کتاب الذبائح، جلد 2، صفحہ 152 ) ۔ مسئلہ نمبر 4 : قولہ تعالیٰ : آیت : علی طاعم یطعمہ یعنی کھانے والے پر جو اسے کھاتا ہے۔ اور ابن عامر سے روایت ہے کہ انہوں نے اوحی ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے یطعمہ طا کو مشدد پڑھا ہے۔ انہوں نے یطعمہ کا ارادہ کیا اور پھر ادغام کردیا۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور محمد بن حنفیہ نے اسے فعل ماضی کے ساتھ علی طاعم طعمہ پڑھا ہے۔ آیت : الا ان یکون میہۃ اسے یا اور تا دونوں کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ یعنی الا ان تکون العین او الجثۃ او النفس میہۃ ( یعنی ضمیر مستتر کا مرجع ان تینوں میں سے کوئی شی ہو سکتی ہے اور یکون یا کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور میتۃ کو مرفوع یعنی معنی یہ ہوگا تقع وتحدث میتۃ ( مراد واقع ہوگا) اور مسفوح سے مراد وہ جاری ہے جو بہہ رہا ہو اور یہ حرام کیا گیا ہے۔ اور جو اس کے سوا ہے معفو عنہ ہے۔ ماوردی نے بیان کیا ہے ( تفسیر ماوردی، جلد 2، صفحہ 181) کہ ایسا خون جو دم مسفوح ( بہنے والا خون) نہ ہو اگر وہ رگوں والا ہو اور ان پر جما ہوا ہو جیسا کہ جگر اور تلی تو وہ حلال ہے، کیونکہ حضور ﷺ نے فرمایا : ” ہمارے لیے دو مردے اور دو خون حلال کیے گئے ہیں “ (ایضا، جلد 2، صفحہ 182) ۔ الحدیث۔ اور اگر وہ رگوں والانہ ہو کہ وہ ان پر جامد ہو اور وہ گوشت کے ساتھ ہو تو اس کی تحریم میں دو قول ہیں : ان میں سے ایک قول ہے کہ وہ حرام ہے، کیونکہ وہ نہ تو سارا دم مسفوح ہے اور نہ بعض۔ اور بلاشبہ جگر اور تلی کی استثنا کے لیے مسفوح کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ وہ حرام نہیں ہے، اس لیے کہ تحریم مسفوح کے ساتھ مختص ہے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : اور یہی صحیح ہے عمران بن جریر نے کہا ہے : میں نے ابو مجلز سے اس گوشت کے بارے پوچھا جو خون کے ساتھ لتھڑا پڑا ہو اور ہانڈی میں خون کی سرخی اس پر غالب آرہی ہو تو انہوں نے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے دم مسفوح (بہنے والے خون) کو حرام قرار دیا ہے۔ اور اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضیا للہ عنہما وغیرہ نے کہا ہے اور اس پر علماء کا اجماع ہے۔ اور عکرمہ نے کہا ہے : اگر یہ آیت نہ ہوتی تو مسلمان ان رگوں کی اتباع کرتے جن کا یہودی اتباع کر رہے ہیں۔ اور ابراہیم نخعی (رح) نے کہا ہے : عرق ( رگ) دماغ میں خون ہونے کا کوئی حرج نہیں ہے۔ اس کا اور مضطر ( مجبور) کا حکم سورة البقرہ میں پہلے گزر چکا ہے۔ واللہ اعلم
Ayah 6:146

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ١ۚ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ١ۖ٘ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 6:146 in the Quran reader

اور یہودیوں پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیے تھے اور گایوں اور بکریوں سے ان کے چربی حرام کو دی تھی سوا اس کے جو ان کی پیٹھ پر لگی ہو یا اوجھڑی ہو یا ہڈی میں ملی ہو۔ یہ سزا ہم نے ان کو ان کی شرارت کے سبب دی تھی اور ہم سچ کہنے والے ہیں۔

آیت نمبر : 146 اس میں چھ مسئلے ہیں قولہ تعالیٰ : وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر جب اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کا ذکر فرمایا جو اس نے حضور نبی مکرم ﷺ کی امت پر حرام فرمائیں تو اس سے پیچھے ان کا ذکر کیا جو اس نے یہودوں پر حرام کیں، کیونکہ اس میں ان کے اس قول کی تکذیب مقصود ہے اللہ تعالیٰ نے ہم پر کوئی شی حرام نہیں کی، بلکہ ہم نے بذات خود اپنے اوپر ان چیزوں کو حرام قرار دیا ہے جنہیں بنی اسرائیل نے اپنے اوپر حرام کیا تھا۔ اور ھادوا کا معنی سورة البقرہ میں پہلے گزر چکا ہے۔ اور یہ تحریم ان پر تھی جو یہودی بنے تھے بلاشبہ یہ پابندی ان پر بطور آزمائش اور سزا تھی پس ان پر جو چیزیں حرام کی گئیں ان میں سے پہلی چیز جس کیا ذکر کیا گیا ہے وہ ہر ناخن والا جانور۔ حسن نے ظفر فا کو سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو السمال نے ظفرظا کے کشرہ اور فا کے سکون کے ساتھ قراءت کی ہے۔ اور ابو حاتم نے ظا کے کسرہ اور فا کے سکون کا انکار کیا ہے اور یہ قراءت ذکر نہیں کی حالانکہ یہ ایک لغت ہے۔ ظفر ظا اور فا دونوں کسرہ کے ساتھ ہیں۔ اور اس کی جمع اظفار، اظفور اور اظافیر ہے۔ علامہ جوہری نے یہی کہا ہے۔ اور نحاس نے فراء سے یہ زیادتی بیان کی ہے اظافیرو اظافرۃ۔ ابن السکیت نے کہا ہے : کہا جاتا ہے : رجل اظفر بین الظفر جب اس کے ناخن طویل اور لمبے ہوں، جیسے کہا جاتا ہے : رجل اشعریہ لمبے بالوں والے آدمی کو کہتے ہیں۔ حضرت مجاہد اور حضرت قتادہ ؓ عنما نے کہا ہے : ذی ظفر چوپاؤں اور پرندوں میں سے وہ جن کی انگلیاں کھلی نہ ہوں، جیسے اونٹ، شتر مرغ، مرغابی اور بطخ۔ اور ابن زید نے کہا ہے : صرف اونٹ۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : ذی ظفر سے مراد اونٹ اور شتر مرغ ہے، کیونکہ شتر مرغ اونٹ کی طرح ناخن والا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد پرندوں میں سے ہر ذی مخلب (پنجے والا) اور چوپاؤں میں سے ہر کھر والا جانور ہے۔ اور حافر (کھر) کو مجازا ظفر کا نام دیا جاتا ہے۔ اور ترمذی الحکیم نے کہا ہے : کھر بھی ناخن ہے اور پنجہ (مخلب) بھی ناخن ہے، مگر یہ اپنی مقدار کے مبطابق ہیں اور وہ اپنی مقدار پر ہے یہاں کوئی استعارہ اور مجاز نہیں ہے۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ انہی دونوں کو ان دونوں میں سے کاٹا اور لیا جاتا ہے اور دونوں کی جنس ایک ہے، یعنی یہ نرم وملائم ہڈی ہے۔ یہ دراصل غذا سے بڑھتی ہے اور انسان کے ناخنوں کی مثل اسے کاٹا جاتا ہے اور اسے حافر کا نام دیا گیا ہے، کیونکہ یہ زمین پر لگنے کے وقت اسے کھودتے ہیں۔ اور اس کا نام مخلب رکھا گیا ہے، کیونکہ وہ اپنی ان سوئیوں کے سروں کے ساتھ دوسرے پرندے کو زخمی کردیتا ہے۔ اور اسے طفر اسے لیے کہا گیا ہے کہ وہ اشیاء کو اپنے ناخنوں کے ساتھ پکڑتا ہے، یعنی ٓدمی اور پرندہ ان کے ساتھ غلبہ پاتا اور کامیاب ہوتا ہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ قولہ تعالیٰ : آیت : ومن البقر والغنم حرمنا علیھم شحومھما حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : اس سے مراد ثروب اور گردوں کی چربی ہے۔ یہ سدی نے کہا ہے۔ اور ثروب، ثرب کی جمع ہے اور اس سے مراد وہ باریک چربی ہے جو اوجھ پر ہوتی ہے۔ ابن جریج نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے ان پر ہر چربی حرام کردی سوائے اس کے جو ہڈی کے ساتھ یا ہڈی پر ملی ہوئی ہو اور ان کے لیے پہلو اور چکی ( لاٹ) کی چربی حلال قرار دی، کیونکہ وہ دم کی ہڈی پر ہوتی ہے۔ مسئلہ نمبر 3۔ قولہ تعالیٰ : آیت : الال ما حملت طھورھما اس میں استثنا کی بنا پر ما محل نصب میں ہے اور ظھورھما، حملت کا فاعل ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے اور اوالحوایا ظھور پر عطف ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے یعنی اور حملت حوایاھما اور اس پر الف لام اضافت کا بدل ہے۔ اور اس بنا پر الحوایا ( آنتیں) من جملہ ان میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا۔ آیت : اوما اختلط بعظم اس میں ما حملت پر معطوف ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ اس بارے میں جو کہا گیا ہے اس میں سے یہی اصح ہے۔ اور یہی قول کسائی، فراء اور احمد بن یحییٰ کا ہے۔ اور نظر وفکر یہ ثابت کرتی ہے کہ شی کا عطف اس پر کیا جائے جو اس کے ساتھ ملی ہوئی ہے، ورنہ اس کا معنی صحیح نہ ہوگا یا دلیل اس معنی کے سوا کسی اور پر دلالت کرے گی اور یہ بھی کہا گیا ہے بیشک استثنا تحلیل میں ہے یعنی صرف وہ چربی جسے ہڈیاں اٹھائے ہوئے ہوں۔ اور قولہ الحوایا اوما اختلط بعظم محرم ( حرام کی ہوئی شی) پر معطوف ہے۔ اور معنی یہ ہے : ان پر حرام کی گئی ہے ان دونوں کی چربی یا آنتیں یا وہ جو ہڈی کے ساتھ ملی ہوئی ہو، سوائے اس کے جسے پشتیں اٹھائے ہوئے ہوں، کیونکہ وہ حرام نہیں ہے۔ امام شافعی (رح) نے اس آیت سے اس بارے میں استدلال کیا ہے کہ جس نے یہ قسم کھائی کہ وہ جربی نہیں کھائی گا تو وہ پشت کی بربی کھانے سے حانث ہوجائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے من جملہ چربی سے اس کی استثنا کی ہے جو ان کی پشت پر ہو۔ مسئلہ نمبر 4۔ قولہ تعالیٰ : آیت : او الحوایا، الحوایا : اس سے مراد مباعر ( مینگنیاں نکلنے کی جگہ یعنی انتڑیاں) ہے (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 769) یہ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے منقول ہے اور مباعر، مبعر کی جمع ہے، اور ان کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے۔ کیونکہ ان میں مینگنیاں جمع ہوجاتی ہیں، اور بعر سے مراد زبل ( کھاد، گوبر اور لید) ہے اور الحوایا کا واحد حاویاء ہے، جیسا کہ قاصعاء اور قواصع ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ حاوسیۃ کی جمع ہے جیسا کہ ضاربۃ اور ضوارب ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ حویۃ کی جمع ہے جیسا کہ سفینۃ اور سفائن ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے : الحوایا ( انتڑیاں) وہ ہیں جو پیٹ میں گول گھومی ہوئی ہیں (زاد السیر، جلد 2، صفحہ 110) اور یہ گھومنے والی نہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے : الحوایا سے مراد دودھ کے خزائن ( آنتیں) ہیں اور یہ مباعر ( گوبر کی انتڑیوں) کے ساتھ ملی ہوتی ہیں اور یہ مصارین ( آنتیں) ہیٰں اور یہ بھی کہا گیا ہے : الحوایا وہ آنتیں ہیں جن پر جربی ہوتی ہے اور اس مقام کے سوا الحوایا سے مراد وہ کپڑا (یا کمبل) ہے جو اونٹ کی کوہان کے ارد گرد ڈالا جاتا ہے جیسے امراؤ القیس نے کہا ہے : جعلن حوایا واقتعدن قعائدا وحففن من حوک العراق المنمق پس اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 769) کہ اس نے ان پر یہ تحریم تورات میں لازم کی ہے یہ ان کی کذب بیانی کی رد کے لیے کہا ہے، اور اس بارے میں اس کی نص ہے : آیت : حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وکل دابۃ لیست مشقوقۃ الحاضر وکل حوت لیس فی سفاسق، ای بیاض ( تم پر حرام کردیئے گئے ہیں مردار، خون، خنزیر کا گوشت، ہر وہ جانور جس کے کھر سامنے سے کھلے نہ ہوں اور ہر وہ مچلی جس میں سفیدی نہ ہو) پلھر اللہ تعالیٰ نے اس تمام کو حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شریعت کے ساتھ منسوخ کردیا۔ اور ان کے لیے مباح قرار دیئے وہ جو ان پر حیوانوں میں سے حرام تھے اور حضرت بنی کریم ﷺ کے وسیلہ سے ان تکلیف اور مشقت کو زائل فرما دیا اور حل و حرمت اور امرونہی کے اعتبار سے دین اسلام کے احکام لازم کردیئے۔ مسئلہ نمبر 5۔ اگر وہ اپنے جوپاؤں کو ذبح کریں اور انہیں کھائیں (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 770) جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تورات میں حلال قرار دیا ہے اور انہیں چھوڑدیں جنہیں ان پر حرام کیا ہے تو کیا وہ ( جانور) ہمارے لیے حلال ہوگا ؟ امام مالک (رح) نے کتاب محمد میں کہا ہے : وہ حرام ہے اور سماع المبسوط میں کہا ہے : وہ حلال ہے اور یہی ابن نافع نے کہا ہے۔ اور ابن القاسم نے کہا ہے : میں اسے مکروہ قرار دیتا ہوں۔ پہلے قول کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس کے حرام ہونے کا اعتقاد رکھتے ہیں اور ذبح کے وقت وہ اس کا قصد ( اور نیت) نہیں کرتے، لہذا وہ خون کی طرح حرام ہے۔ اور دوسرے قول کی وجہ یہ ہے اور وہی صحیح ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اسلام کے ساتھ ان کی تحریم کا حکم اٹھالیا ہے اور اب اس میں ان کا اعتقاد موثر نہیں ہو سکتا، کیونکہ یہ اعتقاد فاسد ہے۔ ابن عربی نے یہی کہا ہے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : اس کے صحیح ہونے پر وہ حدیث دلالت کرتی ہے جسے صحیحین نے حضرت عبداللہ بن مغفل ؓ سے روایت کیا ہے، انہوں نے بیان کیا : ہم قصر خیبر کا محاصرہ کیے ہوئے تھے، تو کسی آدمی نے چمڑے کا ایک برتن جس میں چربی تھی پھینکا تو میں اسے اٹھانے کے لیے اس کی طرف اچھلا پس جب میں ( دوسری طرف) متوجہ ہوا تو وہاں حضور نبی مکرم ﷺ تھے تو مجھے آپ سے حیا آگئی (صحیح بخاری، کتاب المغازی، جلد 2، صفحہ 606) ۔ یہ بخاری کے الفاظ ہیں۔ اور مسلم کے الفاظ ہیں : حضرت عبداللہ بن مغفل ؓ نے بیان کیا : میں نے خیبر کے دن چربی سے بھرا ہوا چمڑے کا ایک برتن پایا تو میں اس سے چمٹ گیا اور میں نے کہا : آج میں اس میں سے کسی کو کوئی شی نہ دوں گا، وہ فرماتے ہیں : پھر میں دوسری جانب متوجہ ہوا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ تبسم فرما رہیں۔ ہمارے علماء نے کہا ہے : آپ ﷺ کے تبسم فرمانے کا سبب یہ تھا کہ آپ ﷺ نے چمڑے کا برتن اٹھانے کے لیے ابن مغفل کی شدید حرص کو اور اس کے بارے شدید بخل کو دیکھا تھا اور آپ ﷺ نے انہیں نہ وہ برتن پھینک دینے کا حکم دیا اور نہ اس سے منع فرمایا۔ امام اعظم ابو حنیفہ، امام شافعی اور عام علماء رحمۃ اللہ علیہم کا مذہب یہی ہے کہ اسے کھانا جائز ہے، مگر امام مالک نے اس میں اختلاف کی وجہ سے اسے مکروہ قرار دیا ہے۔ ابن منذر نے امام مالک (رح) سے ان کا حرام ہونا بھی بیان کیا ہے اور امام مالک کے کبار اصحاب اسی کی طرف کئے ہیں اور ان کا استدلال وہی ہے جو پہلے گزر چکا ہے اور حدیث ان کے خلاف حضت ہے۔ پس اگر انہوں نے ہر ناخن والا جانور ذبح کیا تو اصبخ نے کہا ہے : کتاب اللہ میں ان کے ذبائح میں سے جو حرام ہے اسے کھانا حلال نہیں ہوگا۔ کیونکہ وہ اس کی تحریم کا اعتقادرکھتے ہیں۔ اور اشہب اور ابن القاسم نے بھی یہی کہا ہے اور ابن وہب نے اسے جائز قرار دیا ہے۔ اور ابن حبیب نے کہا ہے : جو ان ہپر حرام ہے، اور ہم اس کے بارے اپنی کتاب سے جانتے ہیں تو ہمارے لیے ان کے ان ذبائح کو کھانا حلال نہیں ہوگا اور جس کی تحریم کو ہم نہیں جانتے مگر ان کے اقوال اور ان کے اجتہاد سے تو ان کے ذبائح میں سے وہ ہم پر حرام نہیں ہوگا (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 770) ۔ مسئلہ نمبر 6۔ قولہ تعالیٰ : آیت : ذالک، ای ذالک التحریم ( وہ تحریم) پس ذلک محل رفع میں ہوا، یعنی الامر ذالک آیت : جزینھم ببغیھم یہ ہم نے انہیں سزا دی ان کے ظلم کے بدلے، یہ ان کے لیے سزا ہے ان کے اپنے انبیاء (علیہم السلام) کو قتل کرنے کی وجہ سے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے کی وجہ سے اور ان کے سود لینے اور لوگوں کے مالوں کو باطل طریقے سے حلال سمجھنے کی وجہ سے۔ اور اس میں اس پر دلیل ہے کہ تحریم بلاشبہ گناہ کے سبب ہوئی، کیونکہ یہ تنگی ہے اور خوشحالی اور وسعت سے ان کی طرف مؤاخذہ کے وقت ہی پھیرا جاسکتا ہے۔ آیت : وانا لصدقون اور بلاشبہ ہم یہود کے بارے اپنی اس خبر دینے میں سچے ہیں کہ ہم نے ان پر گوشت اور چربی حرام کردی۔
Ayah 6:147

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ١ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 6:147 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو تمہارا پروردگار صاحب رحمت وسیع ہے۔ مگر اس کا عذاب گنہگار لوگوں سے نہیں ٹلے گا۔

آیت نمبر : 147 قولہ تعالیٰ : آیت : فان کذبوک یہ شرط ہے اور جواب شرط یہ ارشاد گرامی ہے : آیت : فقل ربکم ذو رحمۃ واسعۃ یعنی اس نے اپنی رحمت کے وسیع ہونے کے سبب تم سے در گزر فرمائی اور تمہیں دنیا میں کوئی سزا دنہ دی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس عذاب کے بارے خبر دی جو اس نے ان کے لیے آخرت میں تیار کر رکھا ہے اور فرمایا : آیت : ولا یرد باسہ عنہ القوم المجرمین ( اور اس کا عذاب جرائم پیشہ قوم سے نہیں ٹالا جاسکتا ) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے جب اللہ تعالیٰ دنیا میں عذاب نازل کرنے کا ارادہ فرمالے تو پھر جرائم پیشہ قوم سے اس عذاب کو ٹالا نہیں جاسکتا۔
Ayah 6:148

سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا١ؕ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا١ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:148 in the Quran reader

جو لوگ شرک کرتے ہیں وہ کہیں گے کہ اگر خدا چاہتا تو (ہم سب شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا (شرک کرتے) اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔ اسی طرح ان لوگوں نے تکذیب کی تھی جو ان سے پہلے تھے۔ یہاں تک کہ ہمارے عذاب کا مزہ چکھ کر رہے۔ کہہ دو کیا تمہارے پاس کوئی سند ہے ؟ (اگر ہے) تو اسے ہمارے سامنے نکالو۔ تم محض خیال کے پیچھے چلتے اور اٹکل کے تیر چلاتے ہو۔

آیت نمبر : 148 قولہ تعالیٰ : سیقول الذین اشرکوا حضرت مجاہد نے کہا ہے : مراد کفار قریش ہیں۔ انہوں نے کہا : آیت : لو شآء اللہ ما اشرکنا ولا ابآؤنا ولا حرمنا من شیء سے مراد بحیرہ، سائبہ اور وصیلہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے علم غیب کے ساتھ اس بارے میں خبر دی ہے جو وہ عنقریب کہیں گے اور انہوں نے گمان کیا کہ یہی ان کے لیے سہارا اور تھامنے کی شے ہے جب انہیں حجت نے لازم پکڑ لیا اور انہیں اس نظریہ کے باطل ہونے کا یقین ہوگیا جس پر وہ تھے۔ اور معنی یہ ہے : اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہمارے باپ دادا کی طرف رسول بھیج دیتا اور وہ انہیں شرک سے اور ان چیزوں کو حرام کرنے سے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے حلال کیا ہے، منع کرتا تو ہو اس سے باز آجاتے، رک جاتے اور ہم بھی اس طریقہ پر ان کی اتباع وپیروی کرتے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کر رد کیا اور فرمایا : آیت : ھل عندکم من علم فتخرجوہ لنا یعنی کیا تمہارے پاس اس پر کوئی دلیل ہے کہ یہ اسی طرح ہے ؟ آیت : ان تتبعون الا الظن یعنی تم اس قول میں محظ ظن کی پیروی کر رہے ہو۔ آیت : وان انتم الا تخرصون ( اور تم نری اٹکلیں مارتے ہو) تاکہ تم اپنے ضعیف اور کمزور لوگوں کو وہم میں مبتلا کرسکو کہ تمہارے پاس یہ حجت اور دلیل ہے۔ اور قولہ : آیت : ولا ابآؤنا کا اشرکنا میں نون پر عطف کیا گیا ہے اور یہ نہیں کہا : نحن ولا آباؤنا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قول : ولا توکید مضمر کے قائم مقام ہے، اسی لیے یہ کہنا اچھا ہے : ما قمت ولازید