6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 6:154–155

ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِیْۤ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:154 in the Quran reader

(ہاں) پھر (سن لو کہ) ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی تھی تاکہ ان لوگوں پر جو نیکو کار ہیں نعمت پوری کردیں اور (اس میں) ہر چیز کا بیان (ہے) اور ہدایت (ہے) اور رحمت ہے تاکہ (انکی امت کے) لوگ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر ہونیکا یقین کریں۔

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ Open ayah 6:155 in the Quran reader

اور (اے کفر کرنے والو) یہ کتاب بھی ہمیں نے اتاری ہے برکت والی۔ تو اس کی پیروی کرو اور (خدا سے) ڈرو تاکہ تم پر مہربانی کی جائے

آیت نمبر 154۔ 155 قولہ تعالیٰ : آیت : ثم اتینا موسیٰ الکتب اس میں موسیٰ اور الکتب دونوں مفعول ہیں۔ تماما یہ مفعول من اجلہ ہے یا یہ مصدر ہے ( یعنی مفعول مطلق) علی الذی احسن، احسن کو نصب اور رفع دونوں کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ پس جنہوں نے رفع دیا، تو وہ قراءت یحییٰ بن عمر اور ابن ابی اسحاق کی ہے۔ اور وہ اس تقدیر پر ہے : آیت : تماما علی الذی احسن۔ مہدوی نے کہا ہے : اس میں بعد ہے، کیونکہ اس میں مبتدا محذوف ہے جو کہ الذی کی طرف لوٹنے والی ضمیر ہے (یعنی ھو) ۔ اور سیبویہ نے خلیل سے بیان کیا ہے کہ اس نے یہ سنا ہے : ماانا بالذی قائل لک شئا اور جنہوں نے نصب دی ہے تو وہ اس بنا پر کہ یہ فعل ماضی ہے اور صلہ میں داخل ہے۔ یہ بصریوں کا قول ہے۔ اور کسائی اور فراء نے اس کی اجازت دی ہے کہ یہ اسم ھو جو کہ الذی کی صفت واقع ہو ورہا ہو۔ اور ان دونوں نے اس جملے کو جائز قرار دیا ہے۔ مررت بالذی اخیک دونوں معرفہ اور جو اس کے قریب ہے اس کے ساتھ الذی کی صفت لگاتے ہیں۔ نحاس نے کہا ہے : اور یہ بصریوں کے نزدیک محال ہے، کیونکہ یہ صفت ہے اسم کی اسے مکمل کیے جانے سے پہلے اور ان کے نزدیک معنی ہے : علی المحسن (نیک عمل کرنے والے پر) حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : تماما علی المحسن المومن ( تاکہ پوری کردیں نعمت نیک عمل کرنے والے مومن پر) اور قولہ باری تعالیٰ : آیت : تمام علی الذی احسن کے معنی میں حسن نے کہا ہے : ان میں محسن اور غیر محسن دونوں طرح کے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے کتاب نازل فرمائی تاکہ وہ نیک عمل کرنے والوں پر نعمت مکمل کر دے۔ فانزل اللہ الکتاب تمام علی المحسنین اور اس قول کے صحیح ہونے پر دلیل یہ ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے اس طرح قراءت کی : تمام علی الذین احسنو اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عطا فرمائی ان احسنات میں زیادتی کرتے ہوئے جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر فرمائے ان میں سے جن کا علم ان پر تورات نازل ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمایا ہے۔ محمد بن یزید نے کہا ہے : پس معنی ہے : تمام علی الذین احسنہ اللہ عزوجل الی موسیٰ (علیہ السلام) من الرسالۃ وغیرھا ( مکمل کرتے ہوئے اس نعمت و احسان کو جو اس نے رسالت وغیرہ میں سے حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) پر فرمایا) ۔ اور عبداللہ بن زید نے کہا ہے : اس کا معنی ہے علی احسان اللہ الی انبیائہ علیھم السلام من الرسالۃ وغیرھا (1) ( مکمل کرتے ہوئے اس احسن کو جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء علیھم السلام پر رسالت وغیرہ میں فرمایا :) اور ربیع بن انس نے کہا ہے : تماما علی احسان موسیٰ من طاعتہ للہ عزوجل (2) ( مکمل کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس نیکی کو جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری کی صورت میں وہ کرتے ہیں) اور فراء نے بھی کہ کہا ہے، پھر کہا گیا ہے : ثم اس پر دلالت کرتا ہے کہ دوسرا پہلے کے بعد ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ اور انہیں کتاب کا عطا کیا جانا اس سے پہلے ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ثم بمعنی واو ہے۔ یعنی واتینا موسیٰ الکتاب ( اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی) کیونکہ یہ دونوں حرف عطف ہیں۔ اور یہ قول بھی ہے : تقدیر کلام ہے ثم کنا قد آتینا موسیٰ الکتاب قبل انزالنا القرآن علی محمد ﷺ (پھر ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی تھی۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر قرآن نازل کرنے سے پہلے) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے : آیت : قل تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم، ثم اتل ما آتینا موسیٰ تماما ( فرمائیے آو میں تلاوت کرتا ہوں وہ جو تمہارئے رب نے تم پر حرم کیا ہے، پھر میں وہ تلاوت کرتا ہوں جو ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نعمت مکمل کرتے ہوئے عطا فرمایا) ۔ وتفصیلا اس کا اس پر عطط کیا گیا ہے اور اسی طرح ھدی ورحمۃ بھی معطوف ہے۔ وھذا کتب یہ مبتدا اور خبر ہیں۔ انزلنٰہ مبرک اس میں مبارک صفت ہے یعنی جس میں بہت زیادہ خیرات وبرکات ہیں۔ اور قرآن کریم کے علاوہ حال ہونے کی بنا پر اسے مبارکا پڑھنا بھی جائز ہے۔ آیت : فاتبعوا یعنی تم اس کے مطابق عمل کرو جو کچھ اس میں ہے۔ واتقوا یعنی اس کی تحریف سے بچو۔ آیت : لعلکم ترحمون تاکہ تم رحمت کے امیدوار بن جاؤ پس تم عذاب نہیں دئیے جاؤ گے۔
Ayahs 6:156–157

اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآئِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا١۪ وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِیْنَۙ Open ayah 6:156 in the Quran reader

(اور اس لئے اتاری ہے) کہ (تم یوں نہ) کہو کہ ہم سے پہلے دوہی گروہوں پر کتابیں اتری تھیں۔ اور ہم ان کے پڑھنے سے (معذور اور) بیخبر تھے۔

اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ١ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا١ؕ سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:157 in the Quran reader

یا (یہ نہ) کہو کہ اگر ہم پر بھی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان لوگوں کی نسبت کہیں سیدھے راستے پر ہوتے۔ سو تمہارے پس تمہارے پروردگار کی طرف سے دلیل اور ہدایت اور رحمت آگئی ہے۔ اور اس سے بڑھ کر ظالم ہوگا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرے اور ان کے (لوگوں کو) پھیرے ؟ جو لوگ ہماری آیتوں سے پھیرتے ہیں اس پھیرنے کے سبب ہم ان کو برے عذاب کی سزادیں گے۔

آیت نمبر : 156۔ 157 قولہ تعالیٰ : آیت : ان تقولوا یہ محل نصب میں ہے۔ کو فیوں نے کہا ہے : لئلا تقولوا ( تاکہ تم یہ نہ کہو) اور بصریوں نے کہا ہے : انزلناہ کراھیۃ ان تقولوا ( ہم نے اسے نازل کیا یہ ناپسند کرتے ہوئے کہ تم کہو) ۔ اور فراء اور کسائی نے کہا ہے : اس کا معنی ہے فاتقوا ان تقولوا یا اھل مکۃ ( اے اہل مکہ تم یہ کہنے سے بچو) ، آیت : انما انزل الکتب کہ تورات اور انجیل نزل کی گئی۔ آیت : علی طائفتین من قبلنا ہم سے پہلے دو گرہوں پر یعنی یہودونصاری پر اور ہم پر کوئی کتاب نازل نہیں کی گئی۔ آیت : وان کنا عن دراستھم لغفلین اور ہم تو ان کی کتابوں اور ان کی لغات سے بالکل ناواقف اور غافل تھے۔ اور یہاں عن دراستھما نہیں فرمایا، اس لیے کہ ہر گروہ ایک جماعت ہے۔ اوتقولوا اس کا عطف ان تقولوا پر ہے۔ آیت : فقد جآء کم بینۃ من ربکم یعنی حضور نبی رحمت ﷺ کی ذات گرامی ہے اور آپ کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے بینہ کا نام دیا ہے۔ آیت : وھدی ورحمۃ اور یہ سراسر ہدایت اور رحمت ہے اس کے لیے جس نے اس کی اتباع اور پیروی کی۔ پھر فرمایا : آیت : فمن اظلم یعنی اگر تم نے جھٹلایا تو پھر تم سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں۔ فان کذبتم فلا احد اظلم منکم۔ صدف اس کا معنی اعراض کیا اور یصدفون وہ اعراض کرتے تھے، منہ پھیرا کرتے تھے۔ اس کا بیان پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 6:158

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّكَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِیْمَانِهَا خَیْرًا١ؕ قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 6:158 in the Quran reader

یہ اس کے سوا اور کس بات کے منتظر ہیں کہ انکے پاس فرشتے آئیں۔ یا خود تمہارا پروردگار آئے یا تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آئیں ؟ (مگر) جس روز تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آجائیں گی تو جو شخص پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا اس وقت اسے ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا۔ یا اپنے ایمان (کی حالت) میں نیک عمل نہیں کئے ہوں گے (تو گناہوں سے توبہ کرنا مفید نہ ہوگا) ۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ تم بھی انتظار کرو ہم بھی کرتے ہیں۔

آیت نمبر : 158 قولہ تعالیٰ : آیت : ھل ینظرون اس کا معنی ہے میں نے ان پر حجت قائم کردی اور ان پر کتاب نازل کی لیکن وہ ایمان نہ لائے، پس وہ کس کی انتظار کر رہے ہیں ؟ آیت : ھل ینظرون الا ان تاتیھم الملٰئکۃ کس کی انتظار کر رہے ہیں بجز اس کے کہ موت کے وقت ان کی اروا اح کو قبض کرنے کے لیے فرشتے ان کے پاس آئیں۔ اویاتی ربک حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ضحاک (رح) نے کہا : اس کا مفہوم ہے : امر ربک یا ان کے بارے میں قتل وغیرہ سے متعلقہ تیرے رب کا حکم آجائے، کبھی مضاف الیہ کو ذکر کیا جاتا ہے اور اس سے مراد مضاف ہوتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : آیت : وسئل القریۃ ( یوسف : 82) مراد اھل القریۃ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واشربوا فی قلوبھم العجل ( البقرہ : 93) اس میں مراد حب العجل ہے۔ اسی طرح یہاں بھی ہے یاتی امر ربک، یعنی عقوبۃ ربک اور عذاب ربک (تیرے رب کی سزا اور تیرے رب کا عذاب آجائے گا) ۔ اور کہا جاتا ہے : یہ ان متشابہ آیات میں ہے : یہ ان متشابہ آیات میں سے ہے جن کی تاویل سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا۔ اور اسی کی مثل میں بحث سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔ آیت : او یاتی بعض ایت ربک کہا گیا ہے : ایت ربک سے مراد سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے۔ اس کے بارے بیان کیا گیا ہے کہ انہیں دنیا میں مہلت دی جائے گی اور جب ساعت ( قیامت) ظاہر ہوجائے گی تو پھر کوئی مہلت نہ ہوگی اور یہ بھی کہا گیا ہے : اللہ تعالیٰ کے آنے سے مراد قیامت کے دن میدان حشر میں اپنی مخلوق کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے آنا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : وجاء ربک والملک صفا صفا (الفجر) ( اور جب آپ کا رب جلوہ فرما ہوگا اور فرشتہ قطار در قطار حاضر ہوں گے) اللہ تعالیٰ کے آنے میں کسی نوع کی کوئی حرکت، ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا اور زوال وغیرہ نہیں ہے، کیونکہ یہ چیزیں تب ہوتی ہیں جب آنے والا جسم یا جوہر ہو اور جس نظریہ پر جمہور ائمہ اہل السنتہ ہیں وہ کہتے ہیں : وہ آتا ہے، نزول فرماتا ہے لیکن وہ اسے کسی کیفیت کے ساتھ مکیف نہیں کرتے، کیونکہ اس کی مثل کوئی شی نہیں ہے۔ ارشاد گرامی ہے : آیت : لیس کمثلہ شیء وھو السمع البصیر (الشور) ( نہیں ہے اس کی مانند کوئی چیز اور وہی سب کچھ سننے والا دیکھنے والا ہے) اور صحیح مسلم میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشا اد فرمایا : ” تین چیزیں جب ظاہر ہوجائیں گی تو پھر کسی نفس کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا یا اس نے اپنے ایمان کی حالت میں کوئی عمل خیز نہیں کیا، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دجال کا نکلنا اور دابۃ الارج کا ظاہر ہر نا “۔ اور صفوان بن عسال مرادی ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بیشک مغرب میں توبہ کا ایک دروازہ کھلا ہوا ہے اس کی مسافت ستر برس کی ہے اسے بند نہیں کیا جائے گا یہاں تک کہ سورج اس کی طرف سے طلوع ہوجائے “ (سنن ابن ماجہ کتاب الفتن، باب طلوع الشمس من مغربھا، حدیث نمبر 4059، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ اسے دار قطنی، دارمی اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے کہا ہے : ھذا حدیث حسن صحیح، اور سفیان نے بیان کیا ہے : یہ شام کی طرف ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے اس دن تخلیق فرمایا جس دن زمین و آسمان پیدا فرمائے۔ مفتوحا یعنی توبہ کے لیے کھولا گیا ہے اور بند نہ کیا جائے گا یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو۔ فرمایا : حدیث حسن صحیح ( یہ حدیث حسن صحیح ہے) میں ( مفسر) کہتا ہوں : اس سب کو خوارج اور معتزلہ نے جھٹلایا ہے، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کو سنا کہ انہوں نے کہا : اے لوگو ! بلا شبہ رجم حق ہے اس کے بارے تم کسی دھوکے میں نہ آنا اور بیشک اس کی نشانی یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رجم کیا ہے اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے بھی رجم کیا ہے اور بلا شبہ ہم نے ان دونوں کے بعد رجم کیا ہے۔ اور عنقریب اس امت سے ایک قوم ہوگی وہ رجم کو جھٹلائیں گے، دجال کی تکذیب کریں گے، مغرب سے سورج کے طلوع ہونے کا انکار کریں گے، عذاب قبر کو نہیں مانیں گے، شفاعت کا انکار کریں گے اور اس قوم کو جھٹلائیں گے جو آگ (جہنم) سے نکالیں جائیں گے اس میں جلنے کے بعد۔ اسے ابو عمر نے ذکر کیا ہے (مسند امام احمد، حدیث نمبر 156 ) ۔ اور ثعلبی (رح) نے ایک طویل حدیث میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے ذکر کیا ہے اور انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ سے اور وہ اسی کے ہم معنی ہے کہ ” سورج کو لوگوں سے روک لیا جائے گا جس وقت زمین میں گناہ زیادہ ہوجائیں گے اور نیکی ختم ہوجائے گی اور کوئی اس کا حکم نہیں دے گا اور گناہ پھیل جائے گا اور اس سے منع نہیں کیا جائے گا۔ ایک رات کی مقدار عرش کے نیچے، جب بھی وہ سجدہ ریز ہوگا اور اپنے رب سے اجازت طلب کرے گا وہ کہاں سے طلوع ہو تو اسے کوئی جواب نہیں ملے گا یہاں تک کہ چاند اس کے ساتھ برابر ہوجائے گا اور وہ بھی اس کے ساتھ سجدہ ریز ہوگا اور ازن طلب کرے گا کہ وہ کہاں سے طلوع ہو تو ان دونوں کو کوئی جواب نہیں دیا جائے گا یہاں تک کہ سورج کو تین راتوں کی مقدار اور چاند کو دوراتوں کی مقدار روک لیا جائے گا اور زمین میں تہجد گزراروں کے سوا اس رات کی طوالت کو کوئی نہیں پہچان سکے گا اور اس وقت مسلمانوں کے شہروں میں سے ہر شہر میں ان کی ایک قلیل سے جماعت ہوگی، پس جب دونوں کے لیے تین راتوں کی مقدار مکمل ہوجائے گی تو اللہ تعالیٰ ان کی طرف حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) کو بھیجے گا اور وہ فرمائیں گے :” بیشک رب کریم سبحانہ وتعالیٰ تم دونوں کو حکم ارشاد فرما رہا ہے کہ تم اپنے مغارب کی طرف واپس لوٹ جاؤ اور وہاں سے طلوع ہوجاؤ اور یہ کہ تم دونوں کے لیے ہمارے پاس کوئی روشنی اور نور نہیں ہے “۔ پس وہ دونوں سیاہ حالت میں اپنے مغارب سے طلوع ہوں گے، نہ سورج کی روشنی ہوگی اور نہ چاند کا نور ہوگا، اس سے پہلے ان کے گرہن میں ان کی مثال موجود ہے، پس اسی لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : وجمع الشمس والقمر (القیامہ) ( اور ( بےنوری میں) سورج اور چاند یکساں ہوجائیں گے) اور ارشاد گرامی ہے : آیت : اذا الشمس کورت (التکوریر) ( یاد کرو) جب سورج لپیٹ دیا جائے گا) پس یہ دونوں بلند ہوں گے اس طرح جیسے دو جوڑے گئے اونٹ۔ اور جب سورج اور چاند آسمان کے نصف تک پہنچ جائیں گے تو ان کے پاس جبرائیل امین (علیہ السلام) آئیں گے اور وہ انہیں سینگوں سے پکڑ لیں گے اور انہیں مغرب کی طرف واپس لوٹا دیں گے اور وہ اپنے مغارب میں غروب نہیں ہوں گے بلکہ وہ دونوں باب التوبۃ میں غروب ہوں گے پھر وہ دونوں کواڑ واپس لوٹائے جائیں گے، پھر ان دونوں کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ جڑ جائے گا اور وہ دونوں اس طرح مل جائیں گے گویا ان کے درمیان کبھی کوئی شگاف ( اور دراڑ) تھی ہی نہیں۔ اور جب توبہ کا دروازہ بند کردیا جائے گا تو اس کے بعد کسی بندے کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور اس کے بعد اسے نیکی نفع نہیں دے گی جسے وہ کرے گا، مگر وہ آدمی جو اس سے پہلے نیکوکار ہو تو وہ اس پر عمل کرتا رہے گا جس پر وہ اس دن سے پہلے عمل پیرا تھا، پس اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : یوم یاتی بعض ایت ربک لا ینفع نفسا ایمانھا لم تکن امنت من قبل او کسبت فی ایمانھا خیرا ( انعام : 158) (لیکن) جس روز آئے گی کوئی نشانی آپ کے رب کی تو نہ نفع دے گا کسی کو اس کا یمان لانا جو نہیں ایمان لا چکا تھا اس سے پہلے یا نہ کی تھی اپنے ایمان کے ساتھ کوئی نیکی) پھر اس کے بعد سورج اور چاند کو روشنی اور نور عطا کردیا جائے گا، پھر وہ لوگوں پر اسی طرح طلوع و غروب ہوتے رہیں گے جیسے وہ اس سے قبل طلوع و غروب ہوتے تھے۔ علماء نے بیان کیا ہے : سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے بعد کسی نفس کو اس کا ایمان فائدہ نہیں دے گا، کیونکہ وہ ان کے دلوں میں اس خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے خالص ہوا ہے جس کے ساتھ نفس کی تمام شہوات کو ٹھنڈا کردیا گیا ہے اور قوائے بدنیہ میں سے ہر قوت سست اور مانند پڑگئی ہے، پس تمام لوگ قیامت قریب آنے کے یقین کی وجہ سے اس آدمی کی طرح ہوگئے ہیں جس پر موت حاضر ہو ( کیونکہ اس کی طرح) اس سے بھی گناہوں کی تمام انواع کی طرف دعوت دینے والے جذبات منقطع ہوچکے ہیں اور اب ان کے ابدان سے ان کا صدور باطل ہے، پس جس نے اس قسم کی حالت میں توبہ کی تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی، جیسا کہ قریب المرگ آدمی کی توبہ قبول نہیں کی جاتی۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ان اللہ یقبل توبۃ العبد مالم یغرغر (سنن ابن ماجہ، کتاب الزہد، جلد 1، صفحہ 324) ( بیشک اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول نہیں فرماتا جب تک وہ ( موت کے وقت) غرغر کی آواز نہ نکالے) یعنی اس کی روح راس الحلق تک پہنچ جائے اور وہ وقت اس معاینہ اور مشاہدہ کا ہے جس میں وہ دیکھ لیتا ہے کہ اس کا ٹھکانا جنت میں ہے یا جہنم میں، پس سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کا مشاہدہ بھی اس کی مثل ہے۔ اور اس پر چاہیے کہ جس نے اس کا مشاہدہ کیا جب تک وہ زندہ رہے اس کی توبہ مردود ہو اور جو اس وقت موجود ہو اس کا حکم بھی مشاہدہ کرنے والے کی طرح ہو، کیونکہ اس کا علم اللہ تعالیٰ کے بارے میں، اس کے نبی ﷺ کے بارے میں اور اس کے وعدہ کے بارے میں ضرروی اور بدیہ ہوگیا ہے۔ اور اگر ایام دنیا اتنے عرصہ تک پھیل جائیں کہ لو اس عظیم واقعہ کو بھول جائیں جیسے وقوع پذیر ہوا اور اس کے بارے میں وہ بہت تذکرہ کریں اور اس کے بارے خبر خاص ہوجائے اور اس سے تواتر ختم ہوجائے ( یعنی اب وہ خبر متواتر نہ رہے) تو اس وقت جس نے اسلام قبول کیا یا توبہ کہ تو اس سے اسے قبول کرلیا جائے گا۔ واللہ اعلم اور صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے حدیث یاد کی ہے اور اس کے بعد میں اسے نہیں بھولا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بیشک ( قیامت کے) ظاہر ہونے کے اعتبار سے پہلی نشانی سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے اور لوگوں پر چاشت کے وقت دابۃ کا نکلنا ہے ان میں سے جو بھی دوسری سے پہلے ظاہر ہوگی تو اس کے قریب ہی دوسری علامت ظاہر ہوجائے گی “ (صحیح مسلم، کتاب الفتن، جلد 2، صفحہ 404) اور اس بارے میں حضرت حذیفہ ؓ نے بیان فرمایا ہے : کہ رسول اللہ ﷺ ایک کمرہ میں تشریف فرما تھے اور اس سے نیچے ہم تھے، پس آپ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ” تم کس کے بارے ذکر کر رہے ہو ؟ “ ہم نے عرض کی : قیامت کے بارے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” بیشک قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ دس علامات ظاہر ہوجائیں۔ ایک خسف ( زمین کا دھنسنا) مشرق میں، ایک خسف مغرب میں اور ایک خسف جزیرہ عرب میں، دخان ( دھواں) کا ظاہر ہونا، دجال کا نکلنا، دابۃ الارض، یاجوج ماجوج، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور ایک آگ جو کہ قعر عدن سے نکلے گی اور لوگوں کو ہانک کرلے جائے گی “ (صحیح مسلم، کتاب الفتن، جلد 2، صفحہ 393) ۔ حضرت شعبہ نے بیان کیا ہے : مجھے عبدالعزیز بن رفیع نے ابو الطفیل سے اور انہوں نے ابو سریہ سے اسی طرح بیان کیا ہے اور وہ حضور نبی کریم ﷺ کا ذکر نہیں کرتے۔ اور ان دو میں سے ایک نے دسویں علامت کے طور پر حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کے نزول کا ذکر کیا ہے۔ اور دوسرے نے کہا ہے : اور ایک ہوا ظاہر ہوگی جو لوگوں کو سمندر میں پھینک دے گی۔ میں ( مفسر) کہتا ہوں : علامات کی ترتیب میں یہ حدیث متفق ( انتہائی قابل اعتماد) ہے۔ ان میں سے بعض واقع ہوچکی ہیں اور وہ تینوں خسف ہیں جیسا کہ جیسا کہ ابو الفرج علامہ جوزی نے عراق، عجم اور مغرب میں واقع ہونے کا ذکر کیا ہے اور ان کے سبب خلق کثیر ہلاک ہوئی۔ انہوں نے کتاب ” فہوم الآثار “ وغیرہ میں اس کا ذکر کیا ہے۔ اور دابہ کا ذکر سورة النمل میں آئے گا اور یاجوج ماجوج کا سورة الکہف میں آئے گا۔ اور کہا جاتا ہے : بیشک یہ علامات تسلسل کے ساتھ سال بسال دھاگے میں پروئے ہوئے موتیوں کی مثل ظاہر ہوں گی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سورج کو مغرب سے طلوع کونے میں حکمت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نمرود کو کہا تھا : آیت : فان اللہ یاتی بالشمس من المشرق فات بھا من المغرب فبھت الذی کفر ( البقرہ : 258) ( کہ اللہ تعالیٰ نکالتا ہے سورج کو مشرق سے تو تو نکال لا اسے مغرب سے ( یہ سن کر) ہوش اڑ گئے اس کافر کے) اور ان کے بعد آنے والے ملاحدہ اور نجومی اس کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں : یہ ( کام) ہونے والا نہیں ( یعنی سورج مغرب سے طلوع نہیں ہو سکتا) تو اللہ تعالیٰ ایک دن اسے مغرب سے طلوع فرمائے گا تاکہ وہ منکرین کو اپنے قدرت دکھائے کہ سورج اس کی بادشاہی اور سلطنت میں ہے، اگر وہ چاہے تو وہ اسے مشرق سے طلوع کرے اور اگر چاہے تو وہ اسے مغرب سے طلوع کرے۔ اور اس پی یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ توبہ اور ایمان کا روان کے لیے ہے جو منکرین میں سے ایمان لائے اور توبہ کی، کیونکہ وہ سورج کے طلوع ہونے کے بارے حضور نبی مکرم ﷺ کی خبر کو جھٹلانے والے ہیں اور رہے اس کی تصدیق کرنے والے تو ان کی توبہ قبول کی جائے گی اور اس سے پہلے کا ان کا ایمان ان کے لیے نفع بخش ہوگا۔ اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : کسی کافر کا نہ کوئی عمل قبول کیا جائے گا اور نہ ہی توبہ جب کہ وہ اس وقت اسلام لایا جب اس نے اسے دیکھا، مگر وہ جوان دنوں صغیر ( نابالغ) ہو اگر وہ اس کے بعد اسلام لے آیا تو اس سے اسے قبول کرلیا جائے گا اور جو گنہگار مومن تھا پس اس نے گناہ سے توبہ کرلی تو اس سے قبول کرلی جائے گی۔ اور عمران بن حصین سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : سورج طلوع ہونے کے وقت اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اس وقت ایسی چیخ ہوگی جس میں بہت سے لوگ ہلاک ہوجائیں گے، پس جو اس وقت اسلام لایا یا اس نے توبہ کہ اور ہلاک ہوگیا تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور جس نے اس کے بعد توبہ کہ تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔ اسے ابو اللیث سمرقندی نے اپنی تفسیر میں ذکر کیا ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا : لوگ سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے بعد ایک سو بیس سال باقی رہیں گے یہاں تک کہ وہ کھجور کے درخت لگائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ ہی اپنے غیب کے بارے میں بہتر جانتا ہے۔ حضرت ابن عمر اور ابن زبیر ؓ نے یوم تاتی تا کے ساتھ پڑھا ہے، مثلا تلتقطہ بعض السیارۃ ہے اور ذھبت بعض اصابعہ ہے۔ اور جریر نے کہا ہے : لما اتی خیر الزبیر تواضعت سورة المدینۃ والجبال الخشع مبرد نے کہا ہے : تانیث مونث کی مجاورت کی بنا پر ہے نہ کہ اصل کی بنیاد پر۔ اور ابن سیرین نے لا تنفع کو تا کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو حاتم نے کہا ہے : وہ ذکر کرت ہیں کہ یہ ابن سیرین کی غلطی ہے۔ نحاس نے کہا ہے : اس میں نحو کا باریک سا قانون ہے اسے سیبویہ نے ذکر کیا ہے اور وہ یہ کہ ایمان اور نفس میں سے ہر ایک دوسرے پر مشتمل ہے پس ایمان کو مونث لایا گیا، کیونکہ وہ نفس میں سے ہے اور اس کے ساتھ ہے۔ اور سیبویہ نے کہا ہے : مشین کما اھتزت رماح تسفھت اعالیھا مر الریاح النواسم مہدون نے کہا ہے : بہت سے ائمہ مضاف مذکر کے فعل کو مونث لاتے ہیں جب اس کی اضافت مونث کی طرف ہو اور مضاف مضاف الیہ کا بعض ہو یا اس سے ہو یا اس کے ساتھ ہو۔ اور ای پر ذی الرمہ کا قول ہے : مشین۔۔۔ البیت پس مر ( کے لیے فعل) مونث لایا گیا ہے، کیونکہ یہ الریاح کی طرف مضاف ہے اور وہ مونث ہے جب کہ المرمن الریاح ہے۔ اور نحاس نے کہا : اس میں ایک دوسرا قول بھی ہے وہ یہ کہ ایمان کو مونث لایا گیا ہے، کیونکہ وہ مصدر ہے جیسا کہ مصدر مونث کے لیے مذکر فعل لایا جاتا ہے، مثلا آیت : فمن جآءہ موعظۃ من ربہ ( البقرہ : 275) اور جیسا کہ شاعر نے کہا : فقد عذرتنا فی وحابتہ العذر اور ایک قول میں عذر کو مونث لایا گیا ہے، کیونکہ یہ بمعنی المعذرہ ہے۔ آیت : قل انتظروا انا منتظرون آپ ( انہیں) فرمائیں تم بھی انتظار کرو ہم بھی ( تمہارے عذاب کا) انتظار کر رہے ہیں۔
Ayah 6:159

اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 6:159 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے دین میں (بہت سے) راستے نکالے اور کئی کئی فرقے ہوگئے ان سے تم کو کچھ کام نہیں۔ ان کا کام خدا کے حوالے پھر جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں وہ ان کو (سب) بتائے گا۔

آیت نمبر 159 قولہ تعالیٰ : آیت : ان الذین فرقوا دینھم اسے حمزہ اور کسائی نے فارقوا الف کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کی قراءت ہے، یہ المفارقۃ اور الفراق سے ماخوذ ہے۔ یہ اس معنی پر ہے کہ انہوں نے اپنا دین چھوڑ دیا اور اس سے نکل گئے۔ اور حضرت علی ؓ فرماتے ہیں : واللہ ما فرقوہ ولکن فارقوہ ( قسم بخدا ! انہوں نے دین میں تفرقہ نہیں ڈالا بلکہ انہوں نے دین کو چھوڑ دیا ) ۔ اور باقیوں نے اسے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے، سوائے نخعی کے، کیونکہ انہوں نے اسے فرقو مخفف پڑھا ہے، یعنی وہ بعض احکام کے ساتھ ایمان لائے اور بعض کے ساتھ انہوں نے کفر کیا۔ حضرت مجاہد، قتادہ، سدی اور ضحاک رحمۃ اللہ علیہم کے قول کے مطابق مراد یہودی و نصاری ہیں۔ اور وہ تفرقہ کی صفت کے ساتھ متصف ہیں، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : وما تفرق الذین اوتوا الکتب الا من بعد ما جآء تھم البینۃ ( البینۃ) ( اور نہیں بٹے فرقوں میں اہل کتاب مگر اس کے بعد کہ آگئی ان کے پاس روشن دلیل) اور مزید فرمایا : آیت : ویریدون ان یفرقوا بین اللہ ورسلہ ( النساء : 150) ( اور چاہتے ہیں کہ فرق کریں اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان) ۔ اور یہ بھی کہا ہے کہ مراد مشرکین ہیں، ان میں سے بعض نے بتوں کی پوجا کی اور بعض نے فرشتوں کی پر شتش کی۔ اور یہ قول بھی ہے کہ یہ آیت عام ہے اور کفار کو شامل ہے۔ اور ہر وہ جس نے بدعت کا ارتکاب کیا اور ایسا عمل پیش کیا جس کے بارے اللہ تعالیٰ نے کوئی حکم نہیں دیا تو اس نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا۔ اور حضرت ابوہریرہ ؓ (مجمع الزوائد، کتاب التفسیر، جلد 7، صفحہ 92) نے حضور نبی مکرم ﷺ سے اس آیت آیت : ان الذین فرقوا دینھم کے تحت روایت کیا ہے کہ یہ اہل بدعت، شبہات میں مبتلا کرنے والے اور اس امت کے گمراہ لوگ ہیں۔ اور بقیہ بن ولید نے بیان کیا ہے کہ ہمیں شعبہ بن حجاج، مجالد نے شعبی سے انہوں نے شرعح کے واسطہ سے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو فرمایا : آیت : ان الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعا بلاشبہ یہ اس امت میں سے اصحاب بدعت، ہوس پرست اور اصحاب ضلالت و گمراہی ہیں (ایضا) ۔ اے عائشہ ! بیشک ہر گنہگار کے لیے توبہ ہے سوائے بدعت کا ارتکاب کرنیوالوں اور ہوس پرستوں کے، ان کے لیے کوئی توبہ نہیں ہے اور میں ان سے بری ہوں اور وہ ہم سے بری نہیں۔ اور لیث بن ابی سلیم نے طاؤس سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ حضور نبی مکریم ﷺ سے آیت : ان الذین فرقوا دینھم قراءت کی۔ اور شیعا کا معنی ہے متفرق گروہ اور جماعتیں۔ اور ہر قوم جن کا نظریہ ( اگر) ایک ہو ان میں سے سے بعض بعض کی رائے کی اتباع اور پیروی کرتے ہوں تو وہی شیع ہے۔ آیت : لست منھم فی شیء پس آپ ﷺ نے ان سے اپنی برات ثابت کردی۔ اور یہ آپ ﷺ کے اس ارشاد کی طرح ہے : من غشنا فلیس منا یعنی ہم اس سے بری ہیں۔ اور شاعر کا قول ہے : اذا حاولت فی اسد فجورا فانی لست منک ولست منی ای انا ابرامنک ( یعنی میں تجھ سے بری ہوں گا) ۔ اور فی شی محل نصب میں ہے، کیونکہ یہ خبریں موجود ضمیر سے حال ہے، یہ ابو علی نے کہا ہے۔ اور فراء نے کہا ہے : اس میں مضاف محذوف ہے اور معنی ہے لست من عقابھم فی شی ( ان کی سزا سے آپ کا کوئی علاقہ نہیں) بلا شبہ آپ فقط ڈرانا ہے۔ آیت : انما امرھم الی اللہ ( ان کا معاملہ صرف اللہ ہی کے حوالے ہے) یہ حضور نبی کریم ﷺ کے لیے تسلی اور حوصلہ افزائی ہے۔
Ayah 6:160

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 6:160 in the Quran reader

جو کوئی (خدا کے حضور) نیکی لے کر آئے گا اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی اور جو برائی لائے گا اسے سزا ویسی ہی ملے گی۔ اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

آیت نمبر : 160 قولہ تعالیٰ : آیت : من جآء بالحسنۃ ان میں من مبتدا اور وہی شرط ہے اور جواب شرط فلہ عشر امثالھا ہے یعنی اس کے لیے اس کی مثل دس نیکیاں ہوں گی، اس میں حسنات کو حذف کردیا گیا ہے اور امثال کو اس کے قائم مقام رکھ دیا گیا ہے جو اس کی صفت ہے ( یعنی حسنات امثالھا) اور امثال، مثل کی جمع ہے۔ اور سیبویہ نے بیان کیا ہے : عندی عشرۃ نسا بات، ای عندی عشرۃ رجال نسابات ( میرے پاس دس صاحب نسب آدمی ہیں تو اس میں رجال کو حذف کر کے اس کا قائم مقام نسابات جو کہ صفت ہے، کر رکھ دیا گیا ہے) اور ابو علی نے کہا ہے : آیت : عشرامثالھا میں تانیث اچھی ہے، کیونکہ امثال مونث کی طرف مضاف ہے اور مونث کی طرف اضافت جب معنی میں بھی ہو تو اس میں تانیث اچھی اور حسین ہوتی ہے، جیسے آیت : یلتقطہ بعض السیارۃ (یوسف : 10) اور ذھبت بعض اصابعہ۔ حسن، سعید بن جبیر اور اعمش رحمۃ اللہ علیہم نے آیت : فلہ عشر امثالھا پڑھا ہے اور تقدیر عبارت ہوگی : فلہ حسنات امثالھا یعنی اس کے لیے اس جزا میں سے دس گناہ ہوگی جو اس کے لیے ثابت ہوگی۔ اور یہ بھی جائزہ ہے کہ اس کے لیے ایک مثل ہو اور پھر اس مثل کو کئی گنا کیا جاتا ہو اور وہ پس وہ دس ہوجاتی ہو۔ اور یہاں الحسنۃ سے مراد ایمان ہے، یعنی جس نے یہ شہادت دی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں تو اس نے دنیا میں جو بھی نیکی اور خیر کا عمل کیا اس کے ہر عمل کے بدلے ثواب دس گنا ہوگا۔ آیت : ومن جآبالسئیۃ یہاں سیئۃ سے مراد شرک ہے۔ آیت : فلا یجزی الامثلھا ( تو اسے بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر اس ایک برائی کے برابر ( اور وہ بدلہ ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے، کیونکہ شرک سب سے بڑا گناہ ہے اور آتش جہنم میں سے سب بڑی سزا ہے، پس اسی لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : جزاء وفاقا ( النبائ) یعنی ایسی جزا جو عمل کے موافق ہوگی۔ اور رہی نیکی تو وہ اس کے خلاف ہے، کیونکہ اس پر اللہ تعالیٰ کی نص موجود ہے اور حدیث میں ہے : الحسنۃ بعشر امثالھا وازید والسیۃ واحدۃ واغفر فالویل لمن غلبت احادہ اعشارہ ( ایک نیکی کا بدلہ دس گنا اور اس سے بھی زائد ہے اور برائی ( گناہ) ایک ہے اور اس کی مغفرت فرما دیتا ہوں لیکن ہلاکت اور بربادی ہے اس کے لیے جس کی ایک برائی ان دس پر غالب آگئی) ۔ اور اعمش نے ابو صالح سے روایت کیا ہے انہوں نے فرمایا : حسنہ سے مراد لا الہ الا اللہ ہے اور سیہ سے مراد شرک ہے۔ آیت : وھم لا یظلمون یعنی ان کے اعمال کا ثواب کم نہیں کیا جائے گا۔ تحقیق اس آیت کا بیان سورة البقرہ میں گزر چکا ہے اور یہ انفاق فی سبیل اللہ سے مختلف ہے اور اسی لیے بعض علماء نے کہا ہے : دس گنا تمام نیکیوں کے لیے ہے۔ اور سات سو گنا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے ہے اور اس میں خاص اور عام برابر ہیں۔ اور بعض نے کہا ہے : عوام کے لیے دس گناہ ( بدلہ) ہوتا ہے اور خواض کے لیے سات سو گنا اور اس سے بھی زیادہ جو شمار نہیں کیا جاسکتا۔ اور یہ امر توقیف کا محتاج ہوتا ہے۔ اور پہلا قول اصحہ ہے، کیونکہ خریم بن فاتک کی حضور نبی کریم ﷺ سے حدیث ہے اس میں ہے : امام حسنۃ بعشر فمن عمل حسنۃ فلہ عشر امثاللھا واما حسنۃ بسبعمائۃ فالنفقۃ فی سبیل اللہ ( ایک نیکی دس کے برابر ہے پس جس نے ایک نیک عمل کیا تو اس کے لیے اس کی مثل دس ہوں گی اور رہی وہ نیکی جو سات سو کے برابر ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا ہے) ۔
Ayahs 6:161–163

قُلْ اِنَّنِیْ هَدٰىنِیْ رَبِّیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ١ۚ۬ دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ۚ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:161 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرے پروردگار نے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے۔ (یعنی) دین صحیح مذہب ابراہیم کا جو ایک (خدا) ہی کی طرف کے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔

قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:162 in the Quran reader

(یہ بھی) کہہ دو کہ میری نماز اور میری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا سب خدائے رب العالمین ہی کے لئے ہے۔

لَا شَرِیْكَ لَهٗ١ۚ وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 6:163 in the Quran reader

جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی بات کا حکم ملا ہے۔ اور میں سب سے اوّل فرماں بردار ہوں۔

اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : قل اننی ھدنی ربی الی صراط مستقیم جب اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ کفار نے تفرقہ ڈالا ( تو ساتھ ہی) بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے صحیح دین تک پہنچا دیا اور وہ دین ابراہیمی ہے۔ دینا یہ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے یہ قطرب سے منقول ہے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ اس کی نصب ھدنی فعل کی وجہ سے ہے یہ اخفش کا قول ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور نے کہا ہے : معنی پر محمول ہونے کی وجہ سے یہ منصوب ہے، کیونکہ اس کا معنی ہے ھدانی عرفنی دینا ( اس نے مجھے سیدھے راستے تک پہنچایا اور دین کی مجھے پہچان کرا دی) اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ صراط سے بدل ہو یعنی ھدانی صراط مستقیما دینا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فعل مضمر کے سبب منصوب ہے، گویا کہ یہ کہا : اتبعوا دینا، واعرفوا دینا ( یعنی تم دین کی اتباع کرو اور دین کی معرفت حاصل کرو) قیما کو فیوں اور ابن عامر نے اسے قاف کے کسرہ اور تخفیف اور یا کے فتہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ مصدر ہے جیسا کہ شبع اور اس کے ساتھ صفت لگائی گئی ہے۔ اور باقیوں نے قاف کے فتحہ یا کسرہ اور تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی قیما۔ اور یہ دونوں لغتیں ہیں۔ اور یا اصل میں واو ہے قیوم پھر واو کو یاء سے بدل کر یا کو یا میں ادغام کردیا گیا ہے جیسے میں ہوا ہے۔ اور اس کا معنی سیدھا ( صحیح) دین جس میں کوئی ٹیڑھا پن نہیں ہے۔ آیت : ملۃ ابرھیم یہ بدل ہے۔ حنیفا زجاج نے کہا ہے : یہ ابراہیم سے حال ہے اور علی بن سلیمان نے کہا ہے : یہ منصوب ہے اور اس سے پہلے اعنی فعل مضمر ہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ قولہ تعالیٰ : آیت : قل ان صلاتی ونسکی لفظ صلوٰۃ کا مادہ اشتقاق پہلے گزر چکا ہے۔ اور یہ کہا گیا ہے کہ یہاں صلوٰۃ سے مراد رات کی نماز ہے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ عید کی نماز مراد ہے۔ اور النسک، نسیکۃ کی جمع ہے اور اس کا معنی ذبیح ( ذبح شدہ جانور یعنی قربانی) اور حضرت مجاہد، ضحاک اور سعید بن جبیر نے اسی طرح کہا ہے۔ اور معنی یہ ہے : حج اور عمرہ میں میری قربانی۔ اور حسن نے کہا ہے : نس کی سے مراد ہے میرا دین۔ اور زجاج نے کہا ہے : اس کا معنی ہے میری عبادت۔ اور اسی سے ناسک وہ کہلاتا ہے جو عبادت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے۔ اور ایک قوم نے کہا ہے : اس آیت میں نسک سے مراد نیکی اور طاعت کے جمیع اعمال ہیں۔ اور یہ معنی تیرے اس قول سے لیا گیا ہے : نسک فلان فھونا سک جب کوئی عبادت گزار ہو۔ ومحیای یعنی جو عمل میں اپنی زندگی میں کروں گا۔ ومماتی یعنی وہ اعمال جن کے بارے میں اپنی وفات کے بعد کرنے کی وصیت کروں گا۔ آیت : للہ رب العلمین ان کے ذریعے خالصۃ اسی کے قرب کا ارادہ کرتا ہوں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ومحیای ومماتی للہ یعنی میرا جینا اور میرا مرنا سی کے لیے ہے۔ اور حسن نے نس کی سین کے سکون کے ساتھ قراءت کی ہے۔ اور اہل مدینہ نے ومحیای درج کلام میں یا کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور عام نے یا کو مفتوح پڑھا ہے، کیونکہ اس میں دو ساکن ( الف اور یا) جمع ہوجاتے ہیں ، اور اس میں الف مدہ ہے یہ حرکت کے قائم مقام ہوتا ہے۔ اور یونس نے اضربان زیدا کو جائز قرار دیا ہے، حالانکہ نحویوں نے اس کا انکار کیا ہے، کیونکہ اس میں اجتماع ساکنین ہے اور دوسرے میں ادغام بھی نہیں ہے اور جنہوں نے اہل مدینہ کی قراءت کے مطابق پڑھا ہے اور غلطی سے بچنا چاہا ہے تو انہوں نے محیای پر وقف کیا ہے تو اس صورت میں وہ جملہ نحویوں کے نزدیک غلطی کا مرتک نہیں ہے۔ اور ابن ابی اسحاق، عیسیٰ بن عمر اور عاصم جعدری نے ومحیی دوسری یاء کو شد کے ساتھ بغیر الف کے پڑھا ہے۔ اور یہ علیا مضر کی لغت ہے وہ کہتے ہیں ؛ قفی اور عصی اور اہل لغت نے کہا ہے : سبقوا ھوی واعنقوا لھوا ھم (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 370) اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ مسئلہ نمبر 3۔ الکیاطبری نے کہا ہے : قولہ تعالیٰ : آیت : قل اننی ھدنی ربی الی صراط مستقیم دینا قیما ملۃ ابراھیم حنیفا وما کان من المشرکین قل ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی اللہ رب العلمین، اس سے امام شافعی (رح) نے اس پر استدلال کیا ہے کہ نماز کا آغاز اس ذکر سے ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ کو حکم دیا اور اسے اپنی کتاب میں نازل فرمایا، پھر حضرت علی ؓ کی حدیث ذکر کی کہ حضور نبی مکرم ﷺ جب نماز شروع کرنے کا ارادہ فرماتے تو یہ کہتے : آیت : وجھت ووجھی للذی فطرالسموت والارج حنیفا وماانا من المشرکین ( لانعام) ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین تا قولہ وانا اول المسلمین۔ میں ( مفسر) کہتا ہوں : کہ مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کی ہے (صحیح مسلم، صلوٰۃ المسافرین وقصرھا، جلد 1، صفحہ 263) کہ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو کہتے : آیت : وجھت ووجھی للذی فطرالسموت والارج حنیفا وماانا من المشرکین ( لانعام) ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین۔ لا شریک لہ وبذلک امرت وانا اول المسلمین اے اللہ ! تو بادشاہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں میں نے اپنے نفس پر زیادتی کی ہے اور میں اپنے گناہ کا اعتراف کر رہا ہوں تو میرے تمام گناہوں کی مغفرت اخلاق کی طرف رہنمائی نہیں کرسکتا اور مجھ سے برے اخلاق کو پھیر دے ( دور کر دے) اور تیرے سوا مجھ سے کوئی انہیںٰ دور نہیں کرسکتا میں حاضر ہوں جملہ سعادتیں تیرے پاس ہیں اور تمام تر بھلائیاں تیرے قبضے میں ہیں اور تیری طرف شر کو کوئی راہ نہیں۔ تو سراپا برکت ہے اور بلند مرتبہ اور غالب ہے۔ استغفرک واتوب الیک ( میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں) “ الحدیث۔ اور اسے دار قطنی نے روایت کیا ہے اور اس کے آخر میں کہا ہے : ہمیں نضر بن شمیل کی طرف سے خبر پہنچی ہے اور یہ لغت اور دیگر علوم کے علماء میں سے تھا اس نے بیان کیا : رسول اللہ ﷺ کے ارشاد ھو الشر لیس الیک کا معنی کہ ہے کہ شر ان چیزوں میں سے نہیں جن کے ساتھ تیرا قرب حاصل کیا جاسکتا ہے۔ امام مالک (رح) نے فرمایا : نماز میں توجیہ ( یعنی وجھت وجھی للذی۔۔۔۔ الآیہ پڑھنا لوگوں پر واجب نہیں، بلکہ ان پر تکبیر اور پھر قرات واجب ہے۔ ابن القاسم نے کہا ہے : امام مالک (رح) نے اسے نہیں دیکھا جو قراءت سے پہلے لوگ کہتے ہیں : ( یعنی) سبحانک اللھم وبحمدک اور اختصار میں وہ ہے جو المختصر میں مذکور نہیں۔ کہ امام مالک یہ خالصۃ اپنے بارے میں کہتے تھے، کیونکہ اس کے بارے حدیث صحیح ہے اور آپ اس خوف سے لوگوں کو اس کے بارے نہیں کہتے تھے کہ وہ اس کے واجب ہونے کا اعتقاد رکھ لیں گے۔ علامہ ابو الفرج جوزی نے کہا ہے کہ اپنے بچپنے میں اپنے شیخ ابوبکر الدینوری کے پیچھے نماز پڑھتا تھا۔ تو انہوں نے مجھے ایک مرتبہ ایسا کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : اے بیٹے ! بیشک فقہاء نے قراءت فاتحۃ خلف الامام کے واجب ہونے کے بارے اختلاف کیا ہے، اور ان کے اس بارے کوئی اختلاف نہیں کہ افتتاح ( ثنا پڑھنا) سنت ہے، پس تو واجب میں مشغول ہو اور سنن کو چھوڑ دے۔ اور امام مالک (رح) کی دلیل اس اعرابی کے لیے حضور ﷺ کا ارشاد ہے جسے آپ نے نماز سکھائی : ” جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو تکبیر کہہ اور پھر قراءت کر “۔ اور آپ نے اسے یہ نہیں فرمایا : سبح ( کہ تو تسبیح یعنی سبحانک اللھم وبحمدک پڑھ) جیسے امام ابوحنیفہ (رح) کہتے ہیں اور نہ یہ فرمایا کہ تو کہہ : وجھت وجھی جیسے امام شافعی (رح) کہتے ہیں۔ اور آپ ﷺ نے حضرت ابی ؓ کو فرمایا : تو کیسے پڑھتا ہے جب نماز شروع کرتا ہے ؟ تو انہوں نے عرض کی : میں کہتا ہوں (جامع ترمذی، کتاب الدعوات، جلد 2، صفحہ 653) اللہ اکبر، الحمد للہ رب العلمین ( فاتحہ) پس انہوں نے نہ تو توجیہ ( یعنی انی وجھت وجھی) اور نہ ہی تسبیح ( یعنی سبحانک اللھم) کا ذکر کیا۔ اور اگر کہا جائے کہ حضرت علی ؓ نے خبر دی ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ یہ کہا کرتے تھے تو ہم یہ کہیں گے : یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ آپ ﷺ یہ تکبیر سے پہلے کہتے ہوں اور بعد ازاں اللہ اکبر کہتے ہوں اور یہی ہمارے نزدیک حسن ہے۔ اور کہا جائے کہ نسائی اور دار قطنی نے روایت کیا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ جب نماز میں شروع ہوتے تھے تو تکبیر کہتے اور پھر یہ کہتے آیت : ان صلاتی ونسکی الحدیث، تو ہم کہیں گے : ہم اسے رات کی نفل نماز پر محمول کرتے ہیں، جیسا کہ نسائی کی کتاب میں حضرت ابو سعید سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا : رسول اللہ ﷺ جب رات کے وقت نماز میں شروع ہوتے تھے تو کہتے : سبحانک اللھم وبحمدک وتبارک اسمک وتعالیٰ جدک ولا الہ غیرک یا مطلق نفل نماز میں آپ اس طرح پڑھتے تھے، کیونکہ نفل نماز فرض نماز سے اخف ہے، کیونکہ نفل نماز کھڑے، بیٹھے اور سوار ہونے کی حالت میں پڑھنا جائز ہوتی ہے اور سفر میں منہ قبلہ شریف کی طرف ہو یا کسی اور طرف، پس اس کا معاملہ آسان ہے۔ اور نسائی نے محمد بن مسلمہ ؓ سے روایت کیا ہے (ایضا، کتاب الصلوٰۃ، جلد 1، صفحہ 159) کہ رسول اللہ ﷺ جب نفل نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو کہتے تھے : اللہ اکبر وجھت وجھی للذی فطرالسموت والارج حنیفا وما انا من الشرکین (الانعام) ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین لا شریک لہ وبذلک امرت وانا اول المسلمین اللھم انت الملک لا الہ الا انت سبحانک وبحمدک پھر قراءت کرتے تھے۔ یہ نفلوں میں ہونے پر نص ہے نہ کہ واجب میں۔ اور اگر یہ صحیح ہے کہ یہ فرض نماز میں تکبیر کے بعد تھا، تو پھر اسے جواز اور استحباب پر محمول کیا جائے گا اور رہا امر مسنون تو وہ تکبیر کے بعد قراءت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہی امور کے حقائق کو جاننے والا ہے۔ پھر جب آپ نیء کہ کہا تو یہ نہیں کہا : وانا اول المسلمین اور اس کی وضاحت یہ ہے۔ مسئلہ نمبر 4۔ کیونکہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے سوا ان میں سے کوئی بھی اول نہیں۔ پس اگر کہا جائے : کیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء (علیہم السلام) آپ سے پہلے نہیں ہیں ؟ تو ہم کہیں گے : اس کے تین جواب ہیں۔ (1) کہ آپ ﷺ معنوی طور پر تمام مخلوق میں سے اول ہیں، جیسا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے : نحن الاخرون الاولون یوم القیامۃ ونحن اول من یدخل الجنۃ (صحیح مسلم، کتاب الجمعۃ، جلد 1، صفحہ 282) ( ہم بعد میں آنے والے قیامت کے دن اول ہہوں گے اور ہم سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے) اور حضرت حذیفہ ؓ کی حدیث میں ہے : نحن الآخرون من اھل الدنیا والاولون یوم القیام ۃ المقضی لھم قبل الخلائق ( ہم اہل دنیا میں سے آخر ہیں اور قیامت کے دن اول ہوں گے مخلوقات سے پہلے ان کا فیصلہ کردیا جائے گا) ۔ (2) آپ ﷺ اول ہیں، کیونکہ آپ خلق میں ان پر مقدم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : واذا اخذنا من النبین میثاقھم ومنک ومن نوح ( الاحزاب : 7) ( اور ( اے حبیب ! ) یاد کرو جب ہم نے تمام نبیوں سے عہد لیا اور آپ سے بھی اور نوح سے) حضرت قتادہ ؓ نے بیان کیا کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : کنت اول الانبیاء فی الخلق وآخرھم فی البعث (صحیح مسلم، کتاب الجمعۃ، جلد 1، صفحہ 282) ( میں خلقت میں تمام انبیاء (علیہم السلام) سے اول ہوں اور بعث میں اس سے آخر میں ہوں) پس یہی وجہ ہے کہ یہاں آپ ﷺ کا ذکر حضرت نوح (علیہ السلام) وغیرہ سے پہلے آیا ہے۔ (3) اول المسلمین من اھل ملتہ ( کہ میں اہل دین میں سے پہلا مسلمان ہوں) یہ ابن عربی نے کہا ہے۔ اور یہی حضرت قتادہ وغیرہ کا قول ہے۔ اور اول کے بارے روایات مختلف ہیں۔ ان میں سے بعض میں ان کا ثبوت ہے اور بعض میں نہیں، جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے۔ اور عمران بن حصین نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (کنز العمال، جلد 5، صفحہ 101) یا فاطمۃ قومی فاشھدی اضحیتک فانہ یغفرلک فی اول قطرۃ من دمھا کل ذنب عملتیہ ثم قولی : ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العلمین لا شریک لہ بذلک امرت وانا اول المسلمین ( اے فاطمہ ! اٹھ اور اپنی قربانی کے پاس حاضر ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے خون کے پہلے قطرہ کے ساتھ ہی تیرے ہر اس گناہ کو بخش دے گا جو تو نے کیا اور پھر یہ کہا : ان صلاتی الح) عمران نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ کیا یہ (اعزاز) صرف آپ کے لیے اور آپ کے اہل بیت کے لیے ہے یا مسلمانوں کے لیے عام ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : ” بلکہ یہ تمام مسلمانوں کے لیے ہے “۔
Ayah 6:164

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّ هُوَ رَبُّ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ وَ لَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَیْهَا١ۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ۚ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 6:164 in the Quran reader

کہو کیا میں خدا کے سوا اور پروردگار تلاش کروں ؟ اور وہی تو ہر چیز کا مالک اور جو کوئی (بُرا) کام کرتا ہے تو اس کا ضرر اسی کو ہوتا ہے۔ اور کوئی شخص کسی (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تم سب کو اپنے پروردگار کیطرف لوٹ کر جانا ہے۔ تو جن جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے وہ تم کو بتائے گا۔

آیت نمبر 164 قولہ تعالیٰ : آیت : قل اغیر اللہ ابغی ربا وھورب کل شیء یعنی ( آپ فرمائیے کیا اللہ کے سوا میں کوئی اور رب تلاش کروں) حالانکہ وہ ہر شی کا مالک ہے۔ روایت ہے کہ کفار نے حضور نبی مکرم ﷺ کو کہا : اے محمد ! ﷺ ہمارے دین کی طرف لوٹ آؤ اور ہمارے الہٰوں کی عبادت کرو اور جس دین پر تم ہو اسے ترک کر دو ، تو ہم تمہارے لیے ہر اس تاوان کے ضامن ہوں گے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 370) جس میں آپ اپنی دنیا اور آخرت میں واقع ہوں گے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اور یہ استفہام ہے جو تقریر اور زجر وتوبیخ کا تقاضا کرتا ہے اور غیر، ابغی فعل کے سبب منصوب ہے اور ربا تمیز ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ قولہ تعالیٰ : آیت : ولا تکسب کل نفس الا علیھا اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : آیت : ولا تکسب کل نفس الا علیھا یعنی تمہارا اس حال پر ہونا مجھے اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کرنے کی صورت میں مجھے کوئی نفع نہیں دے سکتا، کیونکہ کوئی شخص ( کوئی چیز) نہیں کماتا مگر وہ اسی کے ذمہ ہوتی ہے، یعنی جو معصیت اور گناہ اس نے کیا اور جو خطا اس سے صادر ہوئی اس کا مواخذہ اس کے سوا کسی اور سے نہیں کیا جائے گا۔ مسئلہ نمبر 2۔ مخالفین میں سے بعض علماء نے اس آیت سے اس پر استدلال کیا ہے کہ فضولی کی بیع صحیح نہیں ہوتی اور یہ امام شافعی (رح) کا قول ہے اور ہمارے علماء نے کہا ہے : آیت سے مراد یہ ہے کہ اسے ثواب و عقاب پر محمول کیا جائے گا (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 772) نہ کہ احکام دنیا پر۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : آیت : ولا تزر وازرۃ وزر اخری جیسا کہ اس کا بیان آئے گا۔ اور فضولی کی بیع ہمارے نزدیک مالک کی اجازت پر موقوف ہوتی ہے، اگر وہ اس کی اجازت دے دے تو وہ جائز ہوجاتی ہے۔ عروہ البارقی نے حضور نبی مکرم ﷺ کے لیے خرید وفروخت کی اور آپ کے حکم کے بغیر تصرف کیا، تو حضور نبی کریم ﷺ نے اس کی اجازت عطا فرما دی۔ اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے بھی یہی کہا ہے۔ بخاری اور دارقطنی نے عروہ بن الی الجعد سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ حضور نبی مکرم ﷺ کے لیے کچھ مال (بکریاں) لائی گئیں تو آپ نے مجھے ایک دینار عطا فرمایا اور فرمایا : ” اے عروہ ! مال کے پاس جاؤ اور ہمارے لیے اس دینار کے عوض ایک بکری خرید لو “۔ پس میں اس مال کے پاس آیا اور میں نے سودا کیا اور میں نے ایک دینار کے بدلے دو بکریاں خریدیں اور میں ان دونوں کو ہانک کرلے آیا تو راستے میں ایک آدمی مجھ سے ملا اور اس نے مجھ سے سودا کیا تو میں نے اسے ایک بکری ایک دینار کے عوض بیچ دی اور میں دوسری بکری اور ایک دینار لے آیا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ یہ بکری ہے اور یہ آپ کا دینار ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا :” تم نے یہ کیسے کیا “ ؟ تو میں نے آپ کو ساری بات عرض کی۔ تو پھر آپ ﷺ نے فرمایا : اللھم بارک لہ فی صفقۃ یمینہ ( اے اللہ ! اس کے لیے اس کے کاروبار میں برکت رکھ دے) پھر میں نے دیکھا کہ میں کوفہ کے محلہ کناسہ میں ٹھہرا ہوا ہوں اور میں نے چالیس ہزار کا نفع کمایا اس سے پہلے کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس پہنچوں۔ یہ دارقطنی کے الفاظ ہیں۔ ابو عمرنے کہا ہے : یہ حدیث جید ہے اور اس میں دو بکریوں کا حضور نبی کریم ﷺ کے لیے ثابت ہونا صحیح ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ ﷺ اس سے وہ دینار نہ لیتے اور نہ اپنے لیے بیع کو نافذ کرتے۔ اور اس میں وکالت کے جائز ہونے پر دلیل ہے اور اس میں علماء کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے۔ پس جب کوئی موکل اپنے وکیل کو کہے : تو اس طرح خرید۔ تو اس نے اس سے زیادہ کے عوض خریدا جس کے ساتھ اسے وکیل بنایا گیا تھا، تو کیا وہ امر لازم آئے گا یا نہیںْ جیسا کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کو کہے : تو اس درہم کے عوض خریدا۔ تو اس میں امام مالک (رح) اور آپ کے اصحاب کا نظریہ یہ ہے کہ وہ تمام کا تمام موکل کے لیے لینا لازم ہوگا بشرطیکہ صفت اور جنس میں موافقت ہو، کیونکہ وہ محسن ( نیکی اور احسان کرنے والا) ہے۔ اور یہی قول امام یوسف اور امام محمد بن حسن کا ہے۔ اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا ہے کہ زیادتی مشتری کے لیے ہوگی۔ اور یہ حدیث آپ کے خلاف حجت ہے۔ قولہ تعالیٰ : آیت : ولا تزروازرۃ وزر اخری یعنی کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، یعنی کسی شخص سے دوسرے کے گناہ کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا، بلکہ ہر نفس کا مواخذہ اس کے اپنے جرم کے سبب ہوگا اور اپنے گناہ کے سبب اسے سزا دی جائے گی۔ بلکہ ہر نفس کا مواخذہ اس کے اپنے جرم کے سبب ہوگا اور اپنے گناہ کے سبب اسے سزا دی جائے گی۔ الوزر کا اصلی معنی ثقل ( بوجھ) ہے اور اسی کے مطابق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ووضعنا عنک وزرک ( الم نشرح) ( اور ہم نے آپ سے آپ کا بوجھ اتار دیا) اور یہاں اس کا معنی ذنب ( گناہ) ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : آیت : وھم یحملون اوزارھم علی ظھورھم ( انعام : 31) ( اور وہ اٹھائے ہوئے ہیں اپنے بوجھ اپنی بشتوں پر) اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ اخفش نے کہا ہے : کہا جاتا ہے : وزریوزر اور وزریوزر اور وزریوزر، وزر اور ازر ابھی جائز ہے، جیسے کہا جاتا ہے : اسادۃ ( کہ یہ اصل میں وسادۃ تھا) اور یہ آیت ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، وہ کہتا تھا : تم میرے راستے کی اتباع اور پیروی کرو میں تمہارے بوجھ اٹھالوں گا۔ اسے حضرت ابن عباس ؓ نے ذکر کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت عربوں کے زمانہ جاہلیت کے اس نظریہ کے رد کے لیے نازل ہوئی کہ آدمی سے اس کے باپ اور بیٹے کے بدلے اور اس کے حلیف کے گناہ کے بدلے مواخذہ کیا جائے گا۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ اس آیت سے مراد آخرت میں ہو اور اسی طرح اس آیت سے بھی جو اس سے پہلے ہے اور رہی دنیا تو اس میں بعض سے بعض کے جرم کا مواخذہ کیا جاتا ہے، بالخصوص جب نیک اور اطاعت شعار لوگ گنہگاروں کو نہ روکیں، جیسا کہ قول باری تعالیٰ : آیت : علیکم انفسکم ( المائدہ : 104) کے ضمن میں حدیث ابی بکر میں پہلے گزر چکا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : واتقوا فتنضۃ لا تصیبن الذین ظلموا منکم خآصۃ ( الانفال : 25) ( اور ڈرتے رہو اس فتنہ سے ( جو اگر برپا ہوگیا تو) نہ پہنچے گا صرف انہیں کو جنہوں نے ظلم کیا تم میں سے) اور آیت : ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسھم ( الرعد : 11) ( بیشک اللہ تعالیٰ نہیں بدلتا کسی قوم کی ( اچھی یا بری) حالت کو جب تک وہ لوگ اپنے آپ میں تبدیلی پیدا نہیں کرتے ) اور حضرت زینب بنت جحش ؓ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ ، کیا ہم ہلاک کردیئے جائیں گے حالانکہ ہم میں نیک اور صالح لوگ ہوں گے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” ہاں جب زنا بڑھ جائے گا “ (صحیح بخاری، کتاب الفتن والشراط الساعۃ، جلد 2، صفحہ 1056 ) ۔ علماء نے بیان کیا ہیـ ( کہ اس کا معنی ہے) زنا کی اولاد ( جب زیادہ ہوجائے گی) اور الخبث با کے فتحہ کے ساتھ یہ زنا کا اسم ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول مکرم ﷺ کی زبان اقدس کے ذریعہ دیت خطا عاقلہ پر واجب کی ہے یہاں خون کی تعظیم کی خاطر کسی آزاد مسلمان کا خون رائیگا نہیں جانے دیا جائے گا۔ اور اہل علم نے اس پر اجماع کیا ہے اور اس بارے میں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے اور اس پر دلیل وہی ہے جو ہم نے کہا ہے۔ اور یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ظلم اس دنیا میں ہو کہ عمرو کے فعل کا مؤاخذہ زید سے نہیں لیا جائے گا کہ جو جرم کا ارتکاب کرے گا تو اس کا انجام اسی پر ہوگا۔ اور ابو داؤد نے ابو رمثہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا : میں اپنے باپ کے ساتھ حضور نبی مکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا، تو حضور نبی کریم ﷺ نے میرے باپ کو فرمایا :” کیا یہ تیرا بیٹا ہے “ ؟ تو باپ نے جوابا عرض کیا : ہاں رب کعبہ کی قسم۔ مزید کہا : حقا ( یہ حق ہے) مزید کہا : اشھدبہ ( میں اس کے بارے شہادت دیتا ہوں) ۔ ابو رمثہ کہتے ہیں : میرے باپ کے ساتھ میری مشابہت ثابت ہونے اور میرے باپ کے مجھ پر قسم کھانے سے حضور نبی کریم ﷺ خوب کھل کر مسکرائے۔ پھر ارشاد فرمایا :” بلاشبہ وہ تجھ پر کوئی گناہ نہیں ڈالے گا اور تو اس پر کوئی گناہ نہ ڈال سکے گا “ اور پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : آیت : ولا تزروازرۃ وزر اخری اور یہ اس کے معارض نہیں ہے جو ہم نے پہلے کہا ہے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ولیحملن اثقالھم واثقالا مع اثقالھم ( العنکبوت : 13) ( اور وہ ضرور اٹھائیں گے اپنے بوجھ اور دورے کئی بوجھ اپنے ( گناہوں کے) بوجھوں کے ساتھ) کیونکہ اسے دوسری روایت میں بیان کردیا گیا ہے۔ قول باری تعالیٰ ہے آیت : لیحملوا اوزارھم کاملۃ یوم القیمۃ ومن اوزار الذین یضلونھم بغیر علم ( النحل : 25) ( تاکہ (اس ہر زہ سرائی کے باعث) وہ اٹھائیں اپنے ( گناہوں کے) پورے بوجھ قیامت کے دن اور ان لوگوں کے بوجھ بھی اٹھائیں جنہیں وہ گمراہ کرتے رہے ہیں ( جہالت سے) پس جو ضلالت و گمراہی میں امام بنا اور اس کی طرف دوسروں کو دعوت دی اور اس پر عمل پیرا رہا تو اس پر ان کا بوجھ بھی ڈالا جائے گا جنہیں اس نے گمراہ کیا لیکن اس گمراہ ہونے والوں کے بوجھ میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ اس کا بیان آگے آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔