Ayah 6:59اس میں تین مسائل ہیں
مسلہ نمبر۔ حدیث طیبہ میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس کے ساتھ بارہ ہزار فرشتے نازل ہوئے۔ اور امام بخاری (رح) نے حضرت ابن عمر ؓ سے اور انہوں نے حضور نبی رحمت ﷺ سے حدیث روایت کی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا : مفاتح الغیب خمس لا یعلمھا الا اللہ لا یعلم ما تغیض الارحام الا اللہ ولا یعلم ما فی غدا لا اللہ ولا عیلم متی یاتی المطر الا اللہ ولا تدری نفس بای ارض تموت الا اللہ ولا عیلم متی تقوم الساعۃ الا اللہ۔
” غیب کی چابیاں پانچ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، کوئی نہیں جانتا جو کچھ رحمتیں چھپائے ہوئے ہیں سو اے اللہ تعالیٰ کے، اور کوئی نہیں جانتا اسے جو کچھ کل ہونے والا ہے سوائے اللہ کے، اور کوئی نہیں جانتا بارش کب ہوئی سوائے اللہ تعالیٰ کے، اور کوئی نفس نہیں جانتا کون سی زمین میں اسے موت آئے گی سوائے اللہ تعالیٰ کے، اور کوئی نہیں جانتا قیامت کب قائم ہوگی سوائے اللہ تعالیٰ کے “۔
اور صحیح مسلم میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت موجود ہے انہوں نے فرمایا : جس نے گمان کیا کہ رسول اللہ ﷺ آنے والے کل میں ہونے والے واقعہ کی خبر دیتے ہیں اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا، حالانکہ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے : قل لا عیلم من فی السموت والارض الغیب الا اللہ (نمل : 65) ” آپ فرمائیے : (خودبخود) نہیں جان سکتے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں غیب کو سوائے اللہ تعالیٰ کے “۔
مفاتح مفتح کی جمع ہے، اس میں لغت فصیحہ یہی ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ مفتاح کی جمع ہے اور اس کی جمع مفاتیح آتی ہے اور یہ ابن سمیقع کی قرأت ہے۔ مفاتیح اور مفتح ہر اس شی سے عبارت ہے جو کسی بند شئی کو کھول دیتی ہے چاہے وہ بند محسوس ہو جیسا کہ گھر کا تالا یا معقول ہو جیسا کہ نظر۔
ابن ماجہ نے اپنی سنن میں اور ابو حاتم بستی نے اپنی صحیح میں حضرت انس بن مالک ؓ سے حدیث نقل کی ہے کہ رسول نے فرمایا : ان من الناس مفاتیح للخیر مغالیق للشروان من الناس مفاتیح للشرمغالیق للخیر فطوبی لمن جعل اللہ مفاتیح الخیر علی دیدیہ وویل لمن جعل اللہ مفاتیح الشر علی دیدی۔ (1) (سنن ابن ماجہ، کتاب ابواب فی فضائل اصحاب رسول اللہ، باب من کان مفتاحا للخیر، حدیچ 232۔ 233، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
” بیشک لوگوں میں بعض خیر اور بھلائی کی چابیاں (اور) شر اور برائی کے تالے ہیں۔ اور بلاشبہ لوگوں میں سے بعض شر کی چابیاں اور خیر کے تالے ہیں۔ پش مبارک ہے اس کے لیے جس کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ نے خیر کی چابیاں عطا فرمائیں اور ہلاکت و بربادی ہے اس کے لیے جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے شر کی چابیاں رکھیں “۔
اور آیت میں یہ لفظ استعارۃ غیوب تک پہنچنے کے معنی میں ہے جس طرح کہ ظاہر میں چابی کے ذریعے کسی انسان کی غیب چیز تک پہنچا جاتا ہے۔ اسی لیے بعض نے کہا ہے : یہ لوگوں کے اس قول سے ماخوذ ہے، افتح علی کذا یعنی مجھے عطا کیجئے یا مجھے وہ سکھا دیجئے جس کے ذریعے میں اس تک پہنچ جاؤں۔ پس اللہ تعالیٰ کے پاس ہی علم غیب ہے اور اسی کے دست قدرت میں اس تک پہنچنے کے ذرائع ہیں، کوئی ان کا مالک نہیں ہو سکتا سوائے اس کے، پس وہ ان پر جسے مطلع کرنا چاہے اسے مطلع کر دے، اور جس پر انہیں چھپانا چاہے اس سے چھپالے۔ اور اس کی طرف سے یہ عطا اور فیضان نہیں ہوتا مگر رسولوں پر (علیہم الصلوات والتسلیمات)
اور اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کے یہ ارشاد ہیں : وما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب ولکن اللہ یجتبی من رسلہ من یشآئ۔ (آل عمران : 179) اور نہیں ہے اللہ (کی شان) کہ آگاہ کرے تمہیں غیب پر البتہ اللہ (غیب کے علم کے لیے) چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہتا ہے ‘۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مفاتح سے مراد خزائن رزق ہیں، یہ سدی اور حسن رحمہما اللہ سے منقول ہے اور مقاتل اور ضحاک رحمہا للہ تعالیٰ نے کہا ہے : اس سے مراد زمین کے خزانے ہیں۔ اور یہ مجاز ہ۔ اور ان سے اس (شئی) کو تعبیر کیا گیا ہے جس کے ذریعے ان تک پہنچا جاسکتا ہے۔ اور کہا گیا ہے : اس سے علاوہ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جنہیں حدیث کے معنی متضمن ہیں
یعنی اس کے پاس عمروں کا علم اور ان کے گزرنے کے وقت کا علم ہے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ عمروں کا انجام اور اعمال کے خواتم کا علم ہ۔ علاوہ ازیں بھی کئی اقول ہیں۔ لیکن مختار پہلا قول ہی ہے۔ واللہ اعلم
مسلہ نمبر 2۔ ہمارے علماء نے کہا ہے : اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی کتاب کی کئی آیات میں علم غیب کی اضافت اپنی ذات کی طرف فرمائی ہے سوائے اپنے بندوں میں سے ان کے جنہیں اس نے چن لیا۔ لہذا جس کسی نے کہا : بلا شبہ وہ کل بارش برسائے گا اور اس کا یقین کرلیا تو وہ کافر ہے، اس نے اس کے بارے ان علامات اور نشانیوں کے سبب خبر دی جن کے سبب اس نے یہ دعویٰ کیا یا نہیں۔ اسی طرح جس نے کہا : بلا شبہ وہ اسے جانتا ہے جو کچھ رحم میں ہے تو وہ کافر ہے (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، ص 730) اور اس نے یقین نہ کیا اور کہا : بیشک اللہ تعالیٰ عادۃ نوء (ایک ستارہ کا مغرب میں غروب ہونا اور اس کے بالمقابل اسی ساعت میں مشرق میں ایک ستارہ کا طلوع ہونا) کے سبب بارش برساتا ہے، اور وہ عادۃ بارش کا سبب ہے اور یہ کہ وہ بارش کا سبب اس بنا پر ہے کہ اس نے اس کا اندازہ لگا لیا ہے اور وہ پہلے اس کے علم میں آچکا ہے تو وہ کافر نہیں، مگر اس کے لیے پسندیدہ اور مستحب امر یہ ہے کہ وہ اس کے بارے کلام نہ کرے، کیونکہ اس میں اہل کفر کے کلام کے ساتح مشابہت ہے اور اس میں اس کی لطیف حکمت سے جہالت ہے۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ جب چاہے بارش نازل فرما دیتا ہے، کبھی ستارے کے غروب و طلوع کے سبب اور کبھی اس کے بغیر۔ اللہ تعالیٰ نے (حدیث قدسی میں) ارشاد فرمایا ہے : أصبح من عبادی مومن بی وکافر (صحیح بخاری، کتاب الاستسقاء باب قول اللہ تعالیٰ وتجعلون رزقکم الخ، حدیث نمبر 980) بالکوکب ” میرے بندوں میں سے (بعض نے) میرے ساتح ایمان لاتے ہوئے اور ستارے کے ساتھ کفر کرتے ہوئے صبح کی) اس کا بیان سورة واقعہ میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ
علامہ ابن عربی نے کہا ہے : اور اسی طرھ طبیب کا قول بھی ہے : جب عورت کے دائیں پستان کا سرا سیاہ ہوجائے تو بچہ پیدا ہوتا ہے، اور اگر بایاں پستان اس طرح ہوجائے تو پھر بچی ہوتی ہے اور اگر عورت دائیں پہلو کو بوجھل پا رہی ہو تو بچی ہوتی ہے۔ اور انہوں نے خلفق کے بارے میں یہ دعویٰ عادۃ کیا ہے نہ کہ واجباََ ، لہذا یہ نہ کفر ہے اور نہی ہی فسق ہے۔ اور وہ آدمی جس نے مستقبل میں کسب اور کمائی کا دعویٰ کیا تو وہ کافر ہے یا اس نے مجمل یا مفصل واقعات ہونے کے بارے خبر دی اس سے پہلے کہ وہ وقوع پذیر ہوں تو اس کے کفر میں بھی کوئی شک نہیں۔ اور جس نے سورج اور چاند گرہن کی خبر دی تو ہمارے علماء نے کہا ہے : اسے تادیباََ کچھ سزا دی جائے گی لیکن اسے قید نہیں کیا جائے گا۔ رہی اس کی عدم تکفیر کے بارے ایک جماعت نے کہا ہے : بلا شبہ ایسا امر ہے جسے حساب اور تقدیر منازل کے ساتھ جانا جاسکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے اپنے اس ارشاد میں بیان فرمایا ہے : آیت : والقمر قدرنہ منازل (یٰسین : 39) اور (ذرا) چاند کو دیکھو ہم نے مقرر کردی ہیں اس کے لیے منزلیں “۔
اور جہاں تک ان کے لیے تادیبی سزا کا تعلق ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عام لوگوں کو شک میں ڈال دیتے ہیں، کیونکہ وہ تو اس کے اور اس کے غیر کے درمیان فرق کرنا نہیں جانتے۔ پس وہ اپنے عقائد کے بارے تشویش میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور اپنے یقینی قواعد کو چھوڑ دیتے ہیں۔ پس تم انہیں ادب سکھاؤ تاکہ جب وہ اسے پہچان لیں تو وہ مخفی اور پوشیدہ رکھیں اور وہ اس کے بارے میں اعلان نہ کریں۔
میں ( مفسر) کہتا ہوں : اسی باب سے وہ بھی ہے جو صحیح مسلم میں حضور نبی کریم ﷺ کی بعض ازواج مطہرات ؓ سے مروی ہے کہ حضور بنی مکرم ﷺ نے فرمایا : من أتی عرافا (فسألہ عن شئی) لم تقبل لہ صلاۃ اربعین لیلۃ ” جو کسی نجوی اور کاہن کے پاس آیا اور کسی شئی کے بارے اس سے پوچھا تو اس کی چالیس راتوں کی نماز قبول نہیں کی جائے گی “۔
اور عراف سے مراد اندازہ لگانے والا اور وہ نجومی ہے جو علم غیب کا دعویٰ کرتا ہے۔ یہ رعافہ سے ماخوذ ہے اور اسے جاننے والے کو عراف کہا جاتا ہے، اور وہ وہ ہے جو ایسے اسباب اور مقدمات کے ساتھ امور پر استدلال کرتا ہے جن کی معرفت اور پہچان کا وہ دعویٰ کرتا ہے۔ اور اس فن کے بعض لوگ اس بارے میں کہا پرندہ اڑا کر فال پکڑنے، جادومنتر کے طور پر کنکریاں مارنے اور ستاروں کے ساتھ قوت اور مدد حاصل کرتے ہیں اور اس میں بھی اسباب عادیہ ہیں۔ اور یہی فن عیافہ (یا کے ساتھ) ہے اور ان تمام پر کہانت کا اسم بولا جاتا ہے۔ حضرت قضاض عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے یہی کہا ہے اور کہانت سے مراد علم غیب کا دعویٰ کرنا ہے۔
ابو عمر بن عبد البر نے کتاب ” الکافی “ میں کہا ہے : وہ کمائی جس کے حرام ہونے پر اجماع ہے وہ سود، فاحشہ عورتوں کی اجرت، حرام کی کمائی، رشوت، اور نوحہ کرنے اور گانا گانے پر اجرت لینا، کہانت، غیب کا دعویٰ کرنے اور آسمان کی خبریں دینے پر اجرت لینا، بانسری بجانے، لہولعب اور ہر باطل کام کی اجرت ہے۔
ہمارے علماء نے کہا ہے : ان زمانوں میں نجومیوں اور کاہنوں کے آنے کی وجہ سے احوال تبدیل ہوچکے ہیں بالخصوص دیار مصر میں، ان کے رؤسائ، اتباع اور امراء میں نجومیوں سے ملنا عام ہوچکا ہے، بلکہ بہت سے فقہ اور دین کی طرف منسوب لوگ بھی دھوکہ کھا جاتے ہیں وہ ان کاہنوں اور نجومیوں کے پاس آتے ہیں پس وہ ان پر سراسر فساد کی باتیں رکھتے ہیں اور وہ ان سے مال و دولت نکال لیتے ہیں، پس وہ ان کی باتوں سے دھوکے میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور اپنے دین کے بارے میں فساد اور گمراہی میں واقع ہوجاتے ہیں۔ اور یہ سب گناہ کبیرہ میں سے ہے، کیونکہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” اس کے چالیس راتوں کی نماز قبول نہیں کی جاتی “۔ تو کیا حال ہوگا ان کا جنہوں نے ان کی باتوں پر اعتماد کیا اور ان پر اپنا مال خرچ کیا۔ امام مسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے فرمایا :” لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے کاہنوں کے بارے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : انھم لیسوابثوئ ” بلا شبہ وہ کوئی شئی نہیں ہیں “۔ تو لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تلک الکلمۃ من الحق یخطفھا الجنی فیقرھا فی اذن ولیہ (قر الدجاجۃ) فیخلطون معھا مائۃ کذبۃ ” وہ کلمہ جو حق ہوتا ہے اسے جن اچک کرلے آتے ہیں اور چپکے سے اپنے ولی (یعنی جس کے وہ تابع ہو) کے کان میں ڈال دیتے ہیں (جیسے مرغی اپنی آواز منقطع کرلیتی ہے) اور وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ اور ملا لیتے ہیں “۔
حمیدی نے کہا ہے : یحییٰ بن عروہ کی اپنے باپ کے واسطہ سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے اس روایت کے سوا صحیح میں کوئی نہیں ہے۔ اور اسے امام بخاری نے بھی ابو الاسود محمد بن عبدالرحمن کی حدیث سے عروہ سے اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ان الملائکۃ تنزل فی العنان وھو السحاب فتذکر الا مرتضی فی السماء فتسترق الشیاطین السمع تفسمعہ فتوحیہ الی الکھان تیکذبون معھا مائۃ کذبۃ من عند انفسھم۔
” بیشک فرشتے بادل میں اترتے ہیں اور وہ اس امر کا ذکر کرتے ہی جس کا فیصلہ آسمان میں ہوچکا ہوتا ہے پس شیاطین سنن کے لیے چھپے رہتے ہیں اور اسے سنتے رہتے ہیں اور پھر اسے کاہنوں تک پہنچا دیتے ہیں، پھر وہ اس کے ساتھ اپنی طرف سے سو جھوٹ اور بولتے ہیں “۔ اس کا بیان سورة سبا میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
مسئل نمبر 3۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ویعلم ما فی البر والبحر اللہ کریم نے ان دونوں کو خاص طور پر ذکر فرمایا ہے، کیونکہ یہ دونوں انسان کے جوار میں اعظم المخلوقات ہیں، مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر اس شئی کو جانتا ہے جو خشکی اور سمندر میں ہلاک ہوتی ہے۔
اور کہا جاتا ہے : وہ خشکی میں نباتات، دانوں اور گٹھلیوں میں ہر شی کو اور سمندر میں رہنے والے جانوروں اور اس میں ان کے رزق میں سے ہر شئی کو جانتا ہے۔ (آیت) وما تسقط من ورقۃ الا یعلمھا یزید بن ہارون نے محمد بن اسحاق سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے اور انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ما من زرع علی الارض ولا ثمار علی الاشجار ولا حبۃ فی ظلمات الارض الا علیھا مکتوب بسم اللہ الرحمن الرحیم رزق فلان بن فلان ” زمین پر کوئی کھیتی نہیں اور درختوں پر کوئی پھل نہیں اور زمین میں چھپا ہوا کوئی دانہ نہیں مگر اس پر یہ لکھا ہوا ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم (یہ فلاں بن فلاں کا رزق ہے) “ (الوسیط للواحدی، جلد 2، ص 281) اور یہی اللہ تعالیٰ کی محکم کتاب میں ارشاد ہے : (آیت) وما تسقط من ورقۃ الا یعلمھا ولا حبۃ فی ظلمت الارض ولا رطب ولا یابس الا فی کتٰب مبین۔
نقاش نے جعفر بن محمد سے بیان کیا ہے کہ ورقہ سے مراد اولاد بنی آدم میں سے وہ بچے لیے جاتے ہیں جو قبل از وقت گر جاتے ہیں اور حبہ سے مراد وہ لیے جاتے ہیں و قبل از وقت نہیں گرتے اور رطب سے زندہ مراد لیے جاتے ہیں اور یابس سے مراد مردہ لیے جاتے ہیں۔
ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ قول طریقہ رموز واشارات پر جاری ہے، اور جعفر بن محمد سے صحیح (مروی) نہیں ہے لہٰذا اس کی طرف التفات نہیں کرنا چاہیے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وما تسقط من ورقۃ کا معنی ہے کہ درخت کا کوئی پتہ نہیں مگر اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ کب گرے گا، کہاں گرے گا اور کتنے وقت تک ہوا میں اڑتا رہے گا اور کوئی دانہ نہیں مگر اس کے بارے اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ کب آئے گا، کنتی مقدار میں وہ اگیں گے اور انہیں کون کھائے گا۔ اور فی ظلمٰت الارض سے مراد زمین کا اندرونی اور باطنی حصہ ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہی حدیث کے موافق ہے اور یہی آیت کا مقتضیٰ ہے۔ واللہ الموفق للہدایۃ۔
فی ظلمٰت الارض کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد وہ چٹان ہے جو ساتوں زمینوں سے نیچے ہے۔ ولا رطب ولا یابس یہ دونوں لفظ پر عطف کی بنا پر مجرور ہیں۔ ابن السمیقع اور حسن وغیرہما نے ان دونوں کو من ورقۃ کے محل پر عطف کرتے ہوئے مرفوع پڑھا ہے۔ اور اس صورت میں من تاکید کے لیے ہوگا۔ الا فی کتٰب مبین کتاب مبین سے مراد لوح محفوظ ہے، کیونکہ ملائکہ وہیں سے (نصائح) اخذ کرتے ہیں، نہ کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے کسی نسیان کی وجہ سے اسے لکھ رکھا ہے جو اسے لاحق ہو سکتا ہے، اس کی ذات تو اس سے منزہ اور برتر ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس نے اسے تعظیم امر کے لیے لکھا ہے حالانکہ وہ اسے جانتا ہے، یعنی تم جان لو کہ یہ وہ ہے جس میں نہ ثواب لکھا ہوا ہے اور نہ ہی عقاب، تو پھر اس کے بارے کیا کیفیت ہوگی جس میں ثواب اور عقاب ہوگا ؟۔
Ayah 6:60آیت نمبر (60 )
قولہ تعالیٰ (آیت) وھو الذی یتوفکم بالیل اور وہی ہے جو تمہیں سلا دیتا ہے۔
اور وہ تمارے ان نفوس کو قبضہ میں لے لیتا ہے جن کے ساتح تم (چیزوں میں) تمیز کرتے ہوَ اور وہ فی الحقیقت موت نہیں بلکہ نیند کے سبب تصرف سے ارواح کو قبضہ میں لینا ہے جیسا کہ وہ انہیں موت کے ساتھ قبضہ میں لے لیتا ہے۔ اور التوفی کا معنی استیفاء الشئی (کسی شی کو پورا کرنا) ہے۔ اور توفی المیت کہا جاتا ہے (کیونکہ) وہ اپنی عمر کے ایام کی تعداد کو پورا کرلیتا ہے۔ اور وہ جو سو جاتا ہے گویا اس نے اپنی بیداری کی حرکات کو پورا کرلیا ہوتا ہے اور الوفاۃ کا معنی موت ہے۔ اور اوفیتک المال، وتوفیتہ، واستوفیتہ کہا جاتا ہے جب تو سارے کا سارا مال لے۔ اور شاعر نے کہا ہے :
ان بنی الادرم لیسوا من احد ولا توفاھم قریش فی العدد
اس میں ولا توفاھم (پورا کرنے) کے معنی میں ہے۔
اور کہا جاتا ہے : حالت نیند میں جب روح بدن سے نکلتی ہے تو اس میں حیات (زندگی) باقی رہتی ہے، اس لے اس میں حرکت اور سانس لینا وغیرہ موجود رہتا ہے۔ اور جب اس کی عمر کی مقرر میعاد گزر جائے اور اس کی روح نکل جائے تو اس کا سلسلہ حیات منقطع ہوجاتا ہے اور وہ مردہ ہوجاتا ہے پھر نہ وہ حرکت کرتا ہے اور نہ ہی اس کی سانس جاری رہتی ہیں۔ اور بعض نے کہا ہے : (سونے والے سے) روح خارج ہوتی ہی نہیں بلکہ اس سے ذہن نکل جاتا ہے۔ اور کہا جاتا ہے : یہ ایک ایسا امر ہے جس کی حقیقت سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا۔ اور یہی صحیح ترین قول ہے، واللہ اعلم۔
ثم یبعثکم فیہ پھر وہ تمہیں دن میں (نیند سے) اٹھاتا ہے یعنی بیدار کرتا ہے۔
لیقضی اجل مسمی یعنی تاکہ ہر انسان اس مدت کو پورا کرلے جو اس کے لیے مقرر کی گئی ہے۔
ابو رجاء اور طلحہ بن مصرف نے ثم یبعثکم فیہ لیقضیٰ اجل مسمی پڑھا ہے۔ یعنی جو میعاد اس کے نزدیک مقرر ہے وہ اسے پورا کر دے۔ اور جرحتم بمعنی کسبتم ہے۔ اور سورة المائدہ میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ اور آیت میں تقدیم و تاخیر ہے، اور تقدیر عبارت اس طرح ہے ھوالذی یتوفاکم باللیل ثم یبعثکم بالنھار ویعلم ما جرحتم فیہ اس کی معیاد میں سے جو اہم ترین ہے اسے مقدم کیا اور بیث (دوبارہ اٹھانا) دن کے وقت واقع ہوتا ہے۔
ابن جریج نے کہا ہے : ثم یبعثکم فیہ، ای فی المنام پھر وہ تمہیں خواب میں اٹھاتا ہے۔ آیت کا معنی ہے : بلا شبہ اللہ تعالیٰ کا کفار کو مہلت دینا ان کے کفر سے غفلت کی وجہ سے نہیں، کیونکہ اس نے ہر شے کی تعداد گن رکھی ہے وہ اسے جانتا ہے اور خوب اچھی طرح جانتا ہے، بلکہ اس لیے ہے تاکہ وہ رزق اور حیات میں سے مقرر مقدار پوری کر دے، پھر وہ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اور وہ انہیں (ان کے اعمال کا بدلہ) اور جزا دے گا۔ اور یہ بعث (دوبارہ اٹھایا جانا) حشر و نشر (کے برحق ہونے پر) دلیل ہے، کیونکہ نشاۃ ثانیہ کا مرتبہ نشائۃ اولیٰ کے بعد ہے اسی طرح بیداری کا مرتبہ نیند کے بعد ہے۔ اس بارے میں کہ جو ذات ان میں سے ایک پر قادر ہے تو وہ دوسرے پر بھی قادر ہے۔
Ayahs 6:61–62آیت نمبر 61، 62
قولہ تعالیٰ : (آیت) وھو القاھر فوق عبادہ یعنی وہی عظمت اور رتبہ میں فوقیت رکھتا ہے (اس میں) مکان اور جہت کے اعتبار سے فوقیت مراد نہیں ہے، جیسا کہ اس کا بیان سورت کی ابتدا میں گزر چکا ہے۔
ویرسل علیکم حفظۃ یعنی ملائکہ میں سے نگہبان تم پر بھیجتا ہے۔ ارسال کا حقیقی معنی اطلاق الشیء بما حمل من الرسالۃ ہے ( یعنی کسی شی کو اس کے ساتھ چھوڑنا ہے جو وہ پیغام وغیرہ میں سے اٹھائے ہوئے ہو) پس مقصود ملائکہ کو اس حفاظت اور نگہبانی کی ذمہ داری کے ساتھ بھیجنا ہے جس کا انہیں حکم دیا گیا ہے، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے : وان علیکم لحفظین (انفطار) یعنی ملائکہ بندوں کے اعمال کی نگہبانی کرتے ہیں اور آفات سے ان کی حفاظت کرتے ہیں۔
اور حفظۃ حافظ کی جمع ہے، جیسا کہ کتبۃ کاتب کی جمع ہے۔ اور کہا جاتا ہے : یہ دو فرشتے رات کے وقت ہوتے ہیں اور دو فرشتے دن کے وقت ہوتے ہیں، ان میں سے ایک خیر اور نیکی لکھتا ہے اور دوسرا شر اور برائی لکھتا ہے، اور جب انسان چلتا ہے تو ان میں سے ایک اس کے آگے ہوجاتا ہے اور دوسرا اس کے پیچھے، اور جب بیٹھتا ہے تو ان میں سے ایک اس کی دائیں طرف ہوتا ہے اور دوسرا بائیں طرف۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے (آیت) عن الیمین وعن الشمال قعید الآیۃ (ق) ” (ان میں سے) ایک دائیں جانب اور (دوسرا) بائیں جانب بیٹھا ہوتا ہے “۔ اور کہا جاتا ہے : ہر انسان کے لیے پانچ فرشتے ہیں : دو رات کے وقت ہوتے ہیں اور دو دن کے ساتھ خاص ہیں اور پانچواں رات اور دن میں سے کسی بھی وقت اس سے جدا اور علیحدہ نہیں ہوتا۔ واللہ اعلم۔
حضرت عمر بن خطاب ؓ نے کہا ہے :
ومن الناس من یعیش شقیا جاھل القلب غافل الیقظۃ
” اور لوگوں میں سے وہ بھی ہے جو شقاوت، جہالت قلب اور بیداری میں غافل رہتے ہوئے زندگی گزارتا ہے “۔
انما الناس راحل و مقیم فالذی بان للمقیم عظۃ
” بلاشبہ لوگ کوچ کررہے ہیں اور مقیم ہیں پس جو ظاہر ہے وہ مقیم کے لیے نصیحت ہے “
قولی تعالیٰ : (آیت) حتی اذا جآء احدکم الموت مراد موت کے اسباب کا آنا ہے، جیسا کہ سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ توفتہ رسلنا جماعت کے مؤنث ہونے کی بنا پر فعل مؤنث مذکور ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ولقد جآء تھم رسلنا بالبینٰت (مائدہ : 32) اور کذبت رسل اور حمزہ نے جمع کے مذکر ہونے کی بنا پر اسے توفاہ رسلنا پڑھا ہے۔ اور اعمش نے تتوفاہ رسلنا تاء کی زیادتی کے ساتھ پڑھا ہے اور مراد ملک الموت (علیہ السلام) کے معاونین اور مددگار ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ نے یہی کہا ہے۔ اور روایت ہے کہ وہ روح کو جسم سے آہستہ آہستہ نکالتے ہیں یہاں تک کہ جب اس کے قبض کا وقت ہوتا ہے تو ملک الموت (علیہ السلام) اسے قبض کرلیتے ہیں۔ (تفسیر طبری، جلد 9، صفحہ 291) اور کلبی نے کہا ہے : حضرت ملک الموت (علیہ السلام) جسم سے روح قبض کرتے ہیں پھر اسے ملائکہ رحمت کے حوالے کردیتے ہیں اگر وہ مومن ہو یا ملائکہ عذاب کے سپرد کردیتے ہیں اگر وہ کافر ہو۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ملک الموت (علیہ السلام) کے ساتھ سات ملائکہ رحمت ہوتے ہیں اور سات ملائکہ عذاب ہوتے ہیں، پس جب وہ کسی مومن کی جان کو قبض کرتے ہیں تو وہ اسے ملائکہ رحمت کے حوالے کردیتے ہیں اور وہ اسے ثواب کی بشارت اور خوشخبری دیتے ہیں اور وہ اسے لے کر آسمان کی طرف بلند ہوجاتے ہیں اور جب وہ کسی کافر کی جان کو قبض کرتے ہیں تو وہ اسے ملائکہ عذاب کے حوالے کردیتے ہیں اور وہ اسے عذاب کی بشارت دیتے ہیں اور اسے خوب خوفزدہ کرتے ہیں، پھر اسے لے کر آسمان کی طرف چڑھتے ہیں، پھر اسے سجین کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے اور بندہ مومن کی روح عیلین کی طرف لوٹا دی جاتی ہے۔ (تفسیر ابی لیث جلد 1، صفحہ 490) اور التوفی (موت دینا) کی نسبت کبھی ملک الموت (علیہ السلام) کی طرف کی جاتی ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے (آیت): قل یتوفکم ملک الموت (سجدہ : 11) ” فرمائیے جان قبض کرے گا تمہاری موت کا فرشہ “ اور کبھی ملائکہ کی طرف کی جاتی ہے، کیونکہ وہی اس کے والی ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اس آیت اور دیگر آیات میں ہے۔ اور کبھی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جاتی ہے۔ کیونکہ حقیقت میں وہی موت دینے والا ہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا : (آیت) اللہ یتوفی الانفس حین موتھا (زمر : 42) ” اللہ تعالیٰ قبض کرتا ہے جانوں کو موت کے وقت “ : (آیت) قل اللہ یحییکم ثم یمیتکم (الجاثیہ : 26) ” فرمائیے اللہ نے زندہ فرمایا ہے تمہیں پھر وہی مارے گا تمہیں “۔ : (آیت) الذی خلق الموت والحیٰوۃ (الملک : 2) ” جس نے پیدا کیا ہے موت اور زندگی کو “۔
پس مالائ کہ میں سے ہر مامور فرشتہ وہی کرتا ہے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے۔ وھم لا یفرطون یعنی نہ وہ اسے ضائع کرتے ہیں اور نہ ہی اس کی ادائیگی میں کو تائی (اور غفلت) کرتے ہیں، یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی پوری پوری اطاعت اور پیروی کرتے ہیں، اور اس کا اصل معنی تو آگے بڑھنا اور پیش پیش ہونا ہے، جیسا کہ پہلے گز چکا ہے اور فرط کا معنی ہے عجز کو پیش کرنا (اور طاقت نہ ہونے کا اظہار کرنا) ۔ اور ابو عبیدہ نے کہا ہے : (اس کا معنی ہے) وہ کوئی کوتاہی اور لا پرواہی نہیں کرتے۔
عبید بن عمیر نے لا یفرطون تحفیف کے ساتھ پڑھا ہے یعنی وہ اس بارے میں حد سے تجاوز نہیں کرتے اکرام اور اہانت میں سے جس کے بارے میں انہیں حکم دیا جائے۔
: (آیت) ثم ردوا الی اللہ عینی اللہ تعالیٰ انہیں دوبارہ زندہ کر کے حسب کے لیے اٹھائے گا۔ مولھم الحق یعنی وہ ان کا خالق بھی اور رازق بھی، وہ انہیں دوبارہ اٹھانے والا بھی ہے اور ان کا مالک بھی۔ الحق قرات جمہور کے مطابق یہ مجرور ہے، کیونکہ یہ اسم جلالت کی نعت اور صفت ہے اور جس نے اسے الحق منصوب پڑھا ہے یا تو اس بنا پر کہ اس سے پہلے اعنی فعل مضمر ہے، یا پھر یہ مصد ہے یعنی حقا۔
الا لہ الحکم یعنی جان لو اور کہو : قیامت کے دن صرف اسی کا حکم ہوگا، یعنی قضا (فیصلہ) اور فضل صرف اور صرف اسی کا ہو گا۔ وھو اسرع الحسبین یعنی وہ کسی فکر، رؤیت کا محتاج نہیں اور نہ ہی ہاتھ کی گانٹھوں پر گننے کا محتاج ہے۔ اس کی تحقیق پہلے گزر چکی ہے۔
Ayahs 6:63–65: (آیت) 63، 64۔۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) قل من ینجیکم من ظلمٰت البر والبحر (اس میں ظلمات سے مراد) خشکی اور سمندر کی تکالیف اور مصیبتیں ہیں : کہا جاتا ہے : یوم مظلم یعنی شدید اور مشقت آمیز دن۔ نحاس نے کہا ہے : عرب کہتے ہیں : یوم مظلم جب دن شدید اور سخت ہو، اور اگر دن کی شدت بہت زیادہ بڑھ جائے تو پھر کہتے ہیں : یوم ذوکواکب (یعنی ایسا دن جس میں ستارے نظر آئیں، اس میں مراد شدت اور تکلیف ہوتی ہے) اور سیبویہ نے کہا ہے :
بنی اسد ھل تعلمون بلائنا اذا کان یوم ذوکواکب اشنعا
” اے بنی اس ! کیا تم ہماری آزمائش اور مصیبت کو جانتے ہو، جب دن ستاروں والا ہو تو وہ انتہائی شنیع اور تکلیف دہ ہوتا ہے “۔ ظلمٰت کو جمع اس بنا پر لایا گیا ہے، کیونکہ اس سے مراد خشکی کی تاریکی، سمندر کی تاریکی، رات کی تاریکی اور بادلوں کی تاریکی ہے، یعنی جب تم غلب راستے پر گامزن ہوجاؤ اور تمہیں ہلاکت کا خوف اور ڈر ہو تو تم اسے چھوڑ دو ۔
لئن انجٰنا من ھذہ اگر تو نے ہمیں ان مصائب سے نجات دی۔ لنکونن من الشٰکرین تم ہم ضرور شکر گزار اور فرمانبردار بندے ہوجائیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے شدائد و مصائب کے وقت اسے پکارنے پر انہیں ملامت کی اور جھڑکا۔ کیونکہ وہ آرام اور خوشحالی کی حالت میں اس کے ساتھ اوروں کو بھی پکارتے ہیں۔ جیسا کہ اس نے فرمایا۔ : (آیت) ثم انتم تشرکون (پھر تم شریک ٹھہراتے ہو)
اعمش نے وخیفۃ پڑھا ہے یہ خوف سے ماخوذ ہے، اور ابوبکر نے حضرت عاصم سے خفیۃ خاء کے کسرہ کے ساتھ قرآت کی ہے اور باقیوں نے اسے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں اور فراء نے خفوۃ اور خفوۃ کا اضافہ کیا ہے اور کہا ہے : اس کی نظیر حبیہ، حبیۃ، حبوۃ اور حبوۃ ہے۔ اور اعمش کی قرأت بہت بعید ہے۔
کیونکہ تضرعا کا معنی ہے کہ تم گڑ گرا نے (اور انتہائی عجز و انکساری) کا اظہار کرو اور خفیۃ کا معنی ہے کہ تم اسی کی مثل چھپاؤ (اور پانے اندر رکھو) اور کو فیوں نے لئن أنجانا پڑھا ہے۔ اور معنی کا سیاق تو تا کے ساتھ ہے جیسا کہ اہل مدینہ اور اہل شام نے قرآت کی ہے۔
قولہ تعالیٰ :: (آیت) قل اللہ ینجیکم منھا ومن کل کرب کو فیوں نے اسے تسدید کے ساتھ ینجیکم پڑھا ہے اور باقیوں نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ کہا گیا ہے : دونوں کا معنی ایک ہے جیسا کہ نجا، أنجیتہ اور نجتہ ہم مینی ہیں۔ اور کہا گیا ہے : تشدید، کثرت کا معنی بیان کرنے کے لیے ہے۔ اور الکرب کا معنی وہ غم ہے جو نفس کر پکڑ لیتا ہے، اسی سے کہا جاتا ہے : رجل مکروب (غمزدہ آدمی) ۔ عنترہ نے کہا ہے :
و مکروب کشفت الکرب عنہ بطعنۃ فیعل لما دعانی
اور کر بۃ اسی سے مشتق ہے۔
قولہ تعالیٰ :: (آیت) ثم انتم تشرکون اس میں انہیں دھمکانا اور جھڑکنامقصود ہے، جیسا کہ سورت کی ابتدا میں ہے۔ : (آیت) ثم انتم تمترون۔ کیونکہ حجت جب معرفت کے بعد قائم ہو تو اخلاص واجب ہوتا ہے، اور انہوں نے اس کا بدل بنا لیا اور وہ اشراک (شرک کرنا) ہے۔ پس یہ اچھا ہے کہ انہیں اس جہت پر جھڑکا جائے اور انہیں ڈرایا دھمکایا جائے اگرچہ وہ نجات سے پہلے مشرک تھے۔
: (آیت) یعنی وہ تمہیں کرب اور مصیبت سے نجات دلانے پر بھی قادر ہے اور تمہیں عذاب دینے پر بھی۔ اور : (آیت) من فوقکم کا معنی ہے (اوپر سے) پتھر برسانا، طوفان، سخت چیخ اور ہوا، جیسا کہ اس نے عاد، ثمود، حجرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم، حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم، اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے ساتھ کیا۔ یہ حضرت مجاہد اور حضرت انب جبیر وغیرہما سے مروی ہ۔ : (آیت) اومن تحت ارجلکم اس سے مراد خسف (زمین میں دھنسانا) اور زلزلہ وغیرہ ہے جیسا کہ اس نے قرون اور اصحاب مدین کے ساتھ کیا۔
اور یہ بھی کیا گیا ہے کہ : (آیت) من فوقکم سے مراد ظلم کرنے والے امراء (اور حکمران) ہیں۔ اور : (آیت) اومن تحت ارجلکم سے مراد سفلہ مزاج اور برائی کرنے والے غلام ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت مجاہد (رح) سے بھی مروی ہے۔ او یلبسکم شعیا اور ابو عبداللہ مدنی سے او علبسکم یا کے ضمہ کے ساتھ مروی ہے۔ یعنی وہ تمہیں عذاب کے ساتھ ڈھانپ دے (تم پر عذاب مسلط کر دے) اور اسے تم پر عام کر دے، اور یہ لفظ اللبس (لام کے ضمہ کے ساتھ) سے ماخوذ ہے۔ اور فتحہ کر قرأت اللبس سے ماخوذ ہے یہ مشکل مقام ہے اور اعراب اس کی وضاحت کر رہا ہے۔
یعنی وہ تم پر تمہارا معاملہ خلط ملظ کر دے، پس دو مفعولوں میں سے ایک کو اور حرف جر کو حذف کردیا گیا ہے۔ جیسا کہ فرمایا ہے : (آیت) واذا کالوھم او وزنوھم (مطففین : 3) (یعنی ان میں بھی مذکورہ حذف موجود ہے) اور یہ اختلاط یہ ہے کہ وہ ان کے معاملے کو خلط ملط کر دے اور ان کی خواہشات اور چاہت میں اختلاف پیدا کر دے۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔
اور یہ قول بھی ہے کہ یلبسکم شیعا کا معنی ہے کہ وہ تمہارے دشمن کو قوی کر دے یہاں تک کہ وہ تم میں مخلوط ہوجائے اور جب وہ تمہارے ساتھ آ ملے تو تحقیق وہ تم میں خلط ملط ہوگیا (اور تم پر قوت پکڑ گیا) ۔ شیعا کا معنی مختلف گروی اور فرقے ہیں۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ تمہارے مختلف گروہ بنا دے اور تم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ قتال کرنے لگو۔ اور یہ ان کا معاملہ خلط ملط ہوجانے اور طلب دنیا پر ان کے امراء کے متفرق ہونے کے سبب ہے۔ اور اس ارشاد گرامی : (آیت) ویذیق بعضکم باس بعض کا یہی معنی ہے یعنی فتنہ میں جنگ و قتل کے ساتھ تم میں سے بعض کو دوسروں کی شدت چکھائے۔ یہ حضرت مجاہد ؓ سے مروی ہے۔ یہ آیت مسلمانوں اور کفار تمام کو عام ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ کفار کے بارے میں خاص ہے اور حسن نے کہا ہے : یہ اہل صلوٰۃ (اہل قبلہ) کے بارے میں ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : یہی صحیح ہے کیونکہ عملا اور وجودا اس کا مشاہدہ کیا گیا ہے، ہم نے اپنے شہروں میں دشمن کے ساتھ اختلاط کیا اور اپنی جانوں اور اپنے مالوں کے والی بنے، ایسے فتنہ کے ساتھ جو ہم پر غالب اور مسلط رہتا کہ ہمارے بعض نے بعض کو قتل کیا اور بعض نے دوسروں کے مالوں کو مباح سمجھا۔ نعوذ باللہ من الفتن ما ظھر و ما بطن (ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں ایسے فتنوں سے جو ظاہر ہوئے اور جو ابھی تک ظاہر نہیں ہوئے۔
اور حضرت حسن سے بھی مروی ہے کہ انہوں نے اس کی تاویل کی ہے جو کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے درمیان ہوا (تفسیر قرطبی، جلد 9، صفحہ 305) مسلم نے حضرت ثوبان ؓ سے روایت بیان کی ہے قال قال رسول اللہ ﷺ ان اللہ زوی لی الأرض فرأیت مشارقھا و مغاربھا وان أمتی سیبلغ ملکھا ما زوی لی منی و أعطیت الکننرین الأحمر والابیض الی آخر الحدیث۔
حضرت ثوبان ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین لپیٹ دی تو میں نے اس کے مشارق اور مغارب کو دیکھ لیا اور عنقریب میری امت کی سلطنت اور حکومت وہاں تک پہنچ جاے گی۔ جہاں تک میرے لیے اسے لپیٹا گیا اور مجھے دو خزانے سرخ وسفید (سونا اور چاندی) عطا فرمائے گا اور میں نے اپنے پروردگار سے اپنی امت کے لیے یہ التجا کی ہے کہ وہ اسے عام قحط سالی کے سبب ہلاک نہ کرے اور یہ کہ وہ ان پر ایسے دشمن کو مسلط نہ کرے جو ان میں سے نہ ہو اور وہ ان کی اجتماعیت اور محل سلطانی کو مباح سمجھنے لگے۔ اور میرے رب نے فرمایا ہے : اے محمد ﷺ بلا شبہ میں جب کوئی فیصلہ کرلیتا ہوں تو اسے رد نہیں کیا جاتا۔ میں نے آپ کو آپ کی امت کے لیے یہ عطا فرما دیا کہ میں انہیں عام قحط سالی کے سبب ہلاک نہیں کروں گا اور یہ کہ میں ان پر کسی بیرونی دشمن کو مسلط نہیں کروں گا جو ان کی اجتماعیت اور محل سلطانی کو مباح سمجھ لے اگرچہ وہ ان پر اطراف واکناف سے جمع ہوجائے۔ یہاں تک کہ ان میں سے بعض بعض کو ہلاک کرنے لگیں اور بعض بعض کو قیدی بنالیں “۔
نسائی نے حضرت خباب بن ارت ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر میں حاضر تھے اور وہ ساری رات رسول اللہ ﷺ کی نگہبانی کرتے رہے یہاں تک کہ فجر ہوگئی، تو جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی نماز سے سلام پھیرا تو جناب خباب ؓ حاضر ہوئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ میرے ماں باپ آپ پر نثار ہوں آُ نے آج کی رات ایسی نماز ادا کی ہے میں نے آپ کو اس طرح کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جی ہاں بلاشبہ یہ انتہائی عجز اور خوف کی نماز تھی میں نے اس میں اللہ تعالیٰ سے تین چیزوں کی التجا کی ہے کہ وہ ہمیں اس کے ساتھ ہلاک نہ کرے جس کے ساتھ اس نے پہلی امتوں کو ہلاک کیا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ مجھے عطا فرما دیا ہے (یعنی میری التجا کو قبول کرلیا ہے) اور میں نے اپنے رب سے یہ التجا کی ہے کہ وہ ہم پر کسی بیرونی دشمن کو غلبہ نہ دے، تو اس نے یہ بھی مجھے عطا فرما دیا ہے اور میں نے اپنے رب سے التجا کی ہے کہ وہ ہمیں مختلف گروہوں میں خلط ملط نہ کرے تو اللہ تعالیٰ نے اسے قبول نہیں فرمایا “۔ ہم نے یہ اخبار کتاب ” التذکرہ “ میں ذکر کی ہیں۔ والحمدللہ
اور یہ روایت بھی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت جبریل امین (علیہ السلام) سے کہا : ” اے جبریل ! کیا میری امت کی بقا اسی پر ہے “ ؟ تو حضرت جبریل امین (علیہ السلام) نے عرض کی : بلا شبہ میں آپ کی مثل بندہ ہوں آپ اپنے رب سے دعا کیجئے اور اپنی امت کے لیے التجا کیجئے “۔
پس رسول اللہ ﷺ اٹھے، وضو فرمایا اور خوب اچھی طرح وضو کیا (نفل) نماز پڑھی اور خوب اچھی طرح نماز پڑھی، پھر (رب کریم کی بارگاہ میں) دعا کی تو حضرت جبریل امین (علیہ السلام) حاضر خدمت ہوئے اور عرض کی : یا محمد ان اللہ تعالیٰ سمع مقالتک واجارھم من خصلتین وھو العذاب من فوقھم ومن تحت أرجلھم (اے محمد ! ﷺ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کو سنا ہے اور انہیں دو خصلتوں سے پناہ عطا فرما دی ہے اور عذاب ہے ان کے اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے) تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” اے جبریل ! کیا میرے امت باقی رہے گی جب ان میں خواہشات مختلف ہیں اور وہ ان کے بعض کو بعض کی شدت چکھائے گا “۔
تو حضرت جبرئی امین (علیہ السلام) یہ آیت لے کر نازل ہوئے : : (آیت) احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا، الآیۃ (عنکبوت : 2) (الف لام، میم کیا لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ انہیں صرف اتنی بات پر چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ کہیں ہم ایمان لے آئے اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا) ۔
حضرت عمرو بن دینار نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : جب یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) قل ھو القادر علی ان یبعث علیکم عذابا من فوقکم او من تحت ارجلکم تو رسول اللہ ﷺ نے کہا : اعوذ بوجہ اللہ (میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں (اس عذاب سے) اور جب یہ نازل ہوئی۔ : (آیت) او علبسکم شیعا ویذیق بعضکم باس بعض تو آپ نے کہا : ھاتان اھون ( یہ دونوں بہت آسان ہیں) اور سنن ابن ماجہ میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ صبح و شام ان کلمان کے ساتھ دعا مانگا کرتے تھے : اللھم انی أسئلک العافیۃ فی الدنیا والآخرۃ (اے اللہ ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت کی التجا کرتا ہوں) اللھم انی اسئلک العفو و العافیۃ فی دینی و دنیای اھلی ومالی (اے اللہ ! میں تجھ سے اپنے دین، اپنی دنیا، اپنے گھر والوں اور اپنے مال کے لیے عفو اور عافیت کی التجا کرتا ہوں) ۔
اللھم استرعوراتی وآمن روعاتی وأحفظنی من بین دیدی ومن خلفی وعن یمینی وعن شمالی ومن فوقی وأعوذبک أن أغتال من تحتی (سنن ابن ماجہ، کتاب الدعائ، باب ما یدعوببہ الرجل اذا اصبح اذا امنی، حدیث نمبر 3860، ضیاء القرآن پبلی کیشنز۔ ) (اے اللہ ! مجھے بےپردگی سے محفوظ فرما، مجھے خوف سے ِ ڈر سے امن عطا فرما، میرے سامنے سے، پیچھے سے، میرے دائیں اور بائیں سے اور میرے اوپر سے میری حفاطت فرما اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ میں اپنے نیچے کی جانب سے ہلاک ہوں) وکیع نے کہا ہے : اس سے مراد خسف (زمین میں دھنسنا) ہے۔
قولہ تعالیٰ :: (آیت) انظر کیف نصرف الایٰت دیکھو کیونکر ہم ان کے لیے حجتیں اور دلائل بیان کرتے ہیں۔ : (آیت) لعلھم یفقھون اس سے مراد اس شرک اور گناہوں کا بطلان ہے جن میں وہ مبتلا تھے۔
Ayahs 6:66–67: (آیت) 66۔ 67
قولہ تعالیٰ : (آیت) وکذب بہ قومک، ای بالقرآن یعنی آپ کی قوم نے قرآن کو جھٹلایا ہے۔
ابن ابی عبلہ نے و کذبت تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ (المحرر الوجیز) : (آیت) وھو الحق حالانکہ اس کے قصص حق ہیں۔ قل لست علیکم بوکیل حسن نے کہا ہے : ( اس کا معنی ہے) میں تمہارے اعمال کا محافظ نہیٰں ہوں کہ میں تمہیں ان پر جزا اور بدلہ دوں، بلاشبہ میں تو ڈرانے والا ہوں میں نے پیغام (حق) پہنچا دیا ہے، اس کی مثل یہ آیت بھی ہے : (آیت) وما انا علیکم بحفیظ (انعام) (اور میں تم پر نگہبان نہیں ہوتا) میں تم پر تمہارے اعمال کی حفاظت کرتا ہوں۔
پھر بھی کہا گیا ہے : یہ آیت قتال کے ساتھ منسوخ ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ منسوخ نہیں ہے، کیونکہ ان کا ایمان آپ کی وسعت میں نہیں ہ۔ لکل نبا مستقر یعنی ہر خبر کی ایک حقیقت ہے، یعنی ہر شی کے لیے ایک مقررہ وقت ہے جس میں وہ بغیر تقدیم و تاخیر کے واقع ہوجاتی ہے۔ اور یہ معنی بھی بیان کیا گیا ہے : ہر عمل کی جزا ہے۔ حسن نے کہا ہے : یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے کفار کے لیے وعید ہے، کیونکہ وہ موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا اقرار نہ کرتے تھے۔ زجاج نے کہا ہے : یہ بھی جائز ہے کہ یہ ایسی شی کے ساتھ وعید ہو جو دنیا میں ان پر نازل ہوگئی۔
سدی نے کہا ہے : بدر کے دن ان پر وہ عذاب آپڑا جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ انہیں ڈرا رہا ہے۔ اور ثعلبی نے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے بعض تفاسیر میں دیکھا ہے کہ یہ آیت داڑھ کے درد کے لیے باعث نفع ہے جب اسے کاغذ پر لکھ کر دانت پر رکھا جائے۔
Ayah 6:68: (آیت) نمبر 68۔۔۔
قولہ تعالیٰ :: (آیت) واذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا فاعرج عنھم اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 : قولہ تعالیٰ : (آیت) واذا رأیت الذین یخوضون فی ایتنا یعنی وہ ہماری آیتوں کی تکذیب اور ان کے ساتھ استہزا کی بیہودہ بحثیں کرتے ہیں۔ : (آیت) فاعرض عنھم تو آپ ان سے اعراض کرلیں۔ یہ خطاب صرف حضور نبی مکرم ﷺ کو ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ ﷺ کے ساھ مومنین بھی اس خطاب میں داخل ہیں۔ اور یہی صحیح ہے، کیونکہ علت اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں بیہودہ بحث سننا ہے اور یہ علت مومنین اور آپ ﷺ سبھی کو شامل ہے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ اس سے مراد اکیلے حضور نبی مکرم ﷺ ہیں کیونکہ آپ ﷺ کا مشرکین سے اٹھنا ان پر شاق گزرتا تھا اور مومنین ان کے نزدیک اس طرح نہ تھے۔ چناچہ حکم دیا گیا کہ آپ ﷺ ان سے اختلاف (اور نفرت) کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوں جب کہ وہ استہزا کریں اور بیہودہ بحث کریں تاکہ وہ اس سے ادب سیکھیں اور بیہودہ بحث کرنا اور استہزا کرنا چھوڑ دیں۔
الخوض کا اصلی معنی ہے پانی میں غوطہ زن ہونا، پھر بعد میں ان اشیاء میں گم ہوجانے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے جو جاہل بنا دینے والی ہیں، یہ غمرات الماء کے ساتھ تشبیہ ہے، پس محسوس کو معقول کے لیے بطور مجاز استعمال کیا گیا ہے۔ (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 731)
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ خلط (باہم ایک دوسرے سے ملنا) سے ماخوذ ہے اور ہر وہ شی جس میں تو غوطہ زن ہو تو اس کے ساتھ مل جانا ہے۔ اسی سے خاض الماء بالعسل بھی ہے جب تو پانی کو شہد کے ساتھ ملا لے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ساتھ اپنے نبی مکرم ﷺ کو ادب سکھلایا ہے، کیونکہ آپ ﷺ مشرک قوم کے پاس بیٹھتے تھے، آپ انہیں نصیحت فرماتے تھے اور انہیں دین اسلام کی طرف دعوت دیتے تھے اور وہ قرآن کریم کے ساتھ استہزا کرتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو حکم ارشاد فرمایا کہ آپ ان سے منہ پھیر لیں جس طرح کہ انکار اور نفرت کرنے والا اعراض کرتا ہے۔ تو اس آیت میں اس پر بھی دلیل موجودہ کہ جب آدمی کسی دوسرے کو گناہ کرتے ہوئے دیکھے اور اسے یہ یقین ہو کہ وہ اس کی بات قبول نہیں کرے گا تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس سے منکر کے اعراض کی طرح اعراض کرلے اور اس کی طرف متوجہ نہ ہو۔ اور شبل نے ابن ابی نجیع سے اوعر انہوں نے حضرت مجاہد (رح) سے اس قول باری تعالیٰ کے بارے میں بیان کیا ہے ،: (آیت) واذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں جو کتاب اللہ کے ساتھ استہزا کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے ساتھ بیٹھنے سے منع فرما دیا ہے سوائے اس کے کہ آپ بھول جائیں۔ اور جب یاد آجائے تو پھر اٹھ کھڑے ہوں۔ ورقاء نے ابن ابی نجیح کے واسطہ سے حضرت مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کریم کے بارے میں ناحق باتیں کرتے ہیں۔
مسئلہ نمبر 2۔ اس آیت میں کتاب اللہ کی جانب سے ان کا درجہ ہے جن کا گمان یہ ہے کہ وہ ائمہ جو حجت اور دلیل ہیں اور ان کی اتباع کی جاتی ہے ان کے لیے جائز ہے کہ وہ فاسق لوگوں سے اختلاط کرتے اور اپنے تقوی کی بنا پر ان کی آراء کو درست اور صحیح قرار دیتے رہیں۔
علامہ طبری نے ابو جعفر محمد بن علی ؓ سے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : تم جھگڑا کرنے والوں کی مجالست اختیار نہ کرو، کیونکہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں بیہودہ بحثیں کرتے ہیں (تفسیر طبری، جلد 9، صفحہ 314) ۔ ابن عربی نے کہا ہے : یہ اس پر دلیل ہے کہ اہل کبائر کی مجالست اختیار کرنا حلال نہیں ہے۔ ابن خویزمنداد نے کہا ہے : جو کوئی اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں بیہودہ بحث کرے اس کی جالست چھوڑ دی جائے اور اسے بھی چھوڑ دیا جائے، چاہے وہ مومن ہو یا کافر۔ فرمایا : اور اسی طرح ہمارے اصحاب نے دشمن کی سر زمین میں داخل ہونے اور ان کے چرچ اور عبادت گاہوں میں داخل ہونے سے منع کیا ہے اور کفار اور اہل بدعت کے ساتھ بیٹھنے سے منع کیا ہے اور یہ کہ ان کی محبت و مودت کا اعتقاد نہ رکھا جائے اور نہ ان کا کلام سنا جائے اور نہ ان کے ساتھ مناظرہ کیا جائے۔
اہل بدعت میں سے کسی نے ابو عمران نخعی (رح) کو کہا : مجھ سے ایک کلمہ سنو، تو آپ نے اس سے اعراض کرلیا اور فرمایا : نصف کلمہ بھی نہیں۔ اور اسی کی مثل ایوب سختیانی سے بھی مروی ہے۔ اور حضرت فضیل بن عیاض نے کہا ہے : جس نے کسی بدعتی سے محبت کی اللہ تعالیٰ اس کے عمل کو اکارت اور ضائع کر دے گا اور اس کے دل سے نور اسلام نکال دے گا۔ اور جس نے اپنی بیٹی کی شادی کسی مبتدی سے کردی تو اس نے اس کا تعلق منقطع کردیا اور جس نے کسی بدعتی کے ساتھ مجالست اختیار کی اسے حکمت عطا نہیں کی جائے گی۔ اور جب اللہ تعالیٰ کسی آدمی کے بارے میں جان لے کہ وہ بدعتی کو مبغوض جانتا ہے تو مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دے گا۔
ابو عبداللہ حاکم نے ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے روایت بیان کی ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : من وقر صاحب بدعۃ فقد اعان علی ہدم الاسلام جس نے کسی بدعتی کی عزت و توقیر کی تحقیقی اس نے اسلام کو گرانے میں (ککمزور کرنے میں) معاونت کی۔
مذکورہ تمام روایات واقوال سے اس کا قول باطل ہوگیا جس نے یہ گمان کیا کہ ان (اہل بدعت) کی مجالست جائز ہے جب کہ وہ ان کا کلام سننے سے محفوظ رہیں۔
قولہ تعالیٰ : آیت : واما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظٰلمین۔
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسلہ نمبر : 1 قولی تعالیٰ آیت : واما ینسینک اس میں اما شرطیہ ہے، اسے نون ثقیلہ اغلبا لازم ہوتا ہے اور بعد اوقات لازم نہیں ہوتا۔ جیسا کہ شاعر کا قول ہے :
اما یعبک عدو فی مناواۃ یوما فقد کنت تستعلی وتنتصر
(اما یعبک میں نون ثقیلہ موجود نہیں ہے)
حضرت ابن عباس اور ابن عامر ؓ نے معنی تکثیر کی بنا پر ینسینک سین کو مشدد پڑھا ہے : کہا جاتا ہے : شو اور اشو دونوں کا ایک معنی ہے اور یہ دو لغتیں ہیں، جیسا کہ شاعر نے کہا ہے :
قالت سلیمی اتسری الیوم ام تقل وق ینسیک بعض الحاجۃ الکسل
اور امرأالقیس کا قول ہے :
لنسینی اذا قمت سربالی
آیت کا معنی یہ ہے : اے محمد ﷺ اگر شیطان آپ کو ان کے پاس سے اٹھنا بھلا دے اور آپ اس نہی کے بعد ان کے پاس بیٹھ جائیں۔ آیت : فلا تقعد بعد الذکری تو جب آپ کو یاد آئے تو پھر نہ بیٹھیں۔ آیت : مع القوم الظٰلمین یعنی مشرک قوم کے ساتھ اور ذکری تذکیر کا اسم ہے۔
مسئلہ نمبر 2 : کہا گیا ہے کہ یہ خطاب حضور نبی مکرم ﷺ کو ہے اور مراد آپ کی امت ہے۔ انہوں نے یہ موقف اس لیے اختیار کیا ہے کہ اپ ﷺ نسیان (بھول) سے مبرا ہیں اور یہ قول بھی ہے کہ یہ خطاب آپ ﷺ کے ساتھ ہی خاص ہے اور آپ ﷺ کے لیے نسیان جائز ہے۔
ابن عربی نے کہا ہے : اگر ہم اپنے اصحاب کو ان کے اس قول میں معذور قرار دیں کہ ارشاد باری تعالیٰ : آیت : لئن اشرکت لیحبطن عملک (زمر : 65) میں حضور نبی مکرم ﷺ کے اسم کے ساتھ خطاب امت کو ہے اس لیے کہ آپ کی طرف شرک کی نسبت محال ہے، تو اس بارے میں ان کا کوئی عذر نہیں کیونکہ نسیان کی نسبت آپ کی طرف جائز ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : نوآدم فنسیت ذریتہ (حضرت آدم علی السلام بھول گئے تو آپ کی اولاد کو بھی نسیان لاحق ہوگیا) اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
اور آپ ﷺ نے اپنے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا : انما انا بشر مثلکم انو کما تنسون باذا نسیت بذکرونی (بلاژبہ میں تمہاری مثل انسان ہوں میں بھی بھول جاتا ہوں جیسا کہ تم بھولتے ہو پس جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو) اسے بھی آپ نے صحیح میں روایت کیا۔ پس اس میں آپ نے نسیان کی نسبت اپنی طرف کی ہے۔ اور فرمایا : آپ نے ایک آدمی کی قرأت سنی۔ تحقیق اس نے مجھے فلاں فلاں آیت یاد دلا دی ہے میں اسے بھول چکا تھا۔ آپ کی طرف نسیان کی نسبت جائز ہونے کے بعد علماء کے مابین یہ اختلاف ہے کہ کیا یہ طریقہ تبلیغ سے متعلقہ افعال اور احکام شرع میں بھی لاحق ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ تو اس بارے میں جو کچھ حضرت قاقی عیاض ڑحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے اس کے مطابق عام علماء اور محققین ائمہ کرام نے پہلے موقف کو اختیار کیا ہے، جیسا کہ ظاہر قرآن و احادیث اس پر شاہد ہے۔ البتہ ائمہ کرام نے یہ شرط عائد کی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی (علیہ السلام) کو اس پر متنبہ کردیتا ہے اور اس (حالت نسیان) پر برقرار نہیں رکھتا۔ پھر اس بارے میں اختلاف ہے کہ کیا اس تنبیہ کا واقعہ کے فورا بعد متصل ہونا شرط ہے ؟ یہ مذہب قاضی ابوبکر اور اکثر علماء کا ہے۔ یا واقعہ سے تنبیہ کا مؤخر ہونا بھی جائز ہے جب تک کہ نبی (علیہ السلام) کی عمر اختتام پذیر نہ ہو اور سلسلہ وعظ و تبلیغ منقطع ہوجائے۔ ابو المعالی نے یہی موقف اختیا کیا ہے۔
اور علماء کی ایک جماعت نے وعظ و ارشاد اور عبادات شرعیہ میں آپ ﷺ کے سہو اور بھول کا انکار کیا ہے۔ جیسا کہ انہوں نے بالاتفاق وعظ و ارشاد سے متعلقہ اقوال میں اس (بھول) کا انکار کیا ہے اور اس بارے میں وارد ہونے والے ظاہر دلائل سے عذر بیان کیا ہے۔
اسی کو الاستاذ ابو اسحاق نے اختیار کیا ہے۔ باطنیہ اور ارباب علم قلوب کی ایک جماعت نے اسے شاذ قرار دیا ہے اور کہا ہے : آپ کی طرف نسیان کی نسبت جائز نہیں ہے، بلا شبہ آپ قصدا اور ارادۃ بھولتے ہیں اور صورۃ نسیان کا قصد کرتے ہیں تاکہ سنت قائم ہوجائے۔ ائمہ تحقیق میں سے ایک عظیم امام اس طرف گئے ہیں اور وہ ابو المظفر الاسفرأینی ہیں انہوں نے اپنی کتاب ” الاوسط “ میں یہ کہا ہے۔ اور یہ میلان صحیح اور پختہ نہیں ہے اور ضد کا ضد کے ساتھ جمع ہونا بہت زیادہ محال ہے۔
Ayah 6:69آیت :69
حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : جب یہ حکم نازل ہوا کہ آپ مشرکین کے ساتھ نہ بیٹھیں اور ارشاد باری تعالیٰ : آیت : فاعرض عنی۔ سے یہی مراد ہے تو مسلمانوں نے کہا : ہمارے لیے مسجد میں داخل ہونا اور طواف کرنا ممکن نہ رہے گا، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت : ولکن ذکری یعنی اگر مومنین ان کے پاس بیٹھیں تو پھر چاہیے کہ وہ انہیں نصیحت کریں۔ آیت : لعلھم یتقون تاکہ وہ اللہ تعالیٰ سے اسے ترک کرنے کے بارے ڈرتے رہیں جس میں وو واقع ہوئے ہیں۔ (المحرر الوجیز)
پھر بھی کہا گیا ہے کہ یہ حکم اس ارشاد ربانی کے ساتھ منسوخ ہے : آیت : وقد نذل علیکم فی الکتٰب ان اذا سمعتم ایت اللہ یکفربھا ویستھزا بھا فلا تقعدوا معھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ (النسائ : 140) اور تحقیق اتارا ہے اللہ تعالیٰ نے تم پر (حکم) کتاب میں کہ جب تم سنو اللہ کی آیتوں کو کہ انکار کیا جا رہا ہے ان کا تو مت بیٹھو ان (کفر و استہزا کرنے والوں) کے ساتھ کہ وہ مشغول ہوجائیں کسی دوسری بات میں “ (تفسیر طبری، جلد 9، صفحہ 315)
یہ فتح (مکہ) سے پہلے رخصت تھی اور وہ وقت احتیاط و تحفظ کا وقت تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول کے ساتھ اس طرف اشارہ کیا ہے ؟ آیت : وقد نزل علیکم فی الکتٰب تا قولہ وزر الذین اتخذوا دینھم لعبا ولھوا۔
علامہ قشیری نے کہا ہے : اظہر یہی ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے اور معنی یہ ہے : مشرکین کے حساب میں سے کوئی شی تم پر واجب نہیں ہے، پس تم پر انہیں نصیحت کرنا لازم ہے اور انہیں زجر ونتبیہ کرنا لازم ہے، پھر اگر وہ انکار کردیں تو ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ ذکری مصدر ہونے کی بنا پر محل نصب میں ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ محل رفع میں ہو۔
ای ولکن الذی یفعلونہ ذکری، ای ولکن علیھم ذکری اور کسائی نے کہا ہے : معنی یہ ہے ولکن ھذی ذکری (البتہ یہ نصیحت ہے)