Ayah 6:24آیت نمبر 24 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : انظرکیف کذبوا علی انفسھم مشرکوں کا اپنا قول انہیں جھٹلائے گا کہ بتوں کی عبادت انہیں اللہ تعالیٰ کا قرب عطا کرے گی، بلکہ انہوں نے یہ گمان کیا اور ان کا گمان غلط تھا ان سے معذرت قبول کرنے کا باعث نہیں تھا اور ان سے جھوٹکا اسم زائل نہیں ہوتا اور منافقوں کا عذر باطل کے ساتھ جھوٹ بولنا ہے اور ان کا انکار ان کا انفاق ہے۔
آیت : وضل عنھم ما کانوا یفترون یعنی دیکھو کی سے ان کا افراء لاھیٔ ہوگیا اور اپنے خداؤں سے شفاعت کا گمان کیسے باطل ہوگیا ؟ بعض علماء نے فرمایا : آیت : وضل عنھم ما کانوا یفترون کا مطلب ہے جو وہ غیر اللہ کی عبادت کرتے تھے وہ ان سے جدا ہوگیا اور انہیں کسی چیز نے فائدہ نہیں دیا، حسن سے مروی ہے اس کا معنی ہے ان کی دہشت کی وجہ سے ان کا افراء ان سے جدا ہوجائے گا اور ان کی عقول کے ڈھول کی وجہ ایسا ہوگا۔
انظر کے ارشاد سے مراد عبرت کی نظر سے دیکھنا ہے، پھر کہا گیا : کذبوا بمعنی یکذبون ہے، مستقبل کو ماضی سے تعبیر کیا گیا۔ اور آخرت میں ان کا جھوت بولنا بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ وہ دہشت، حیرت اور ذہول کی حالت میں ہوں گے۔ بعض علماء نے کہا : آخرت میں ان سے جھوٹ واقع ہوناجائز نہیں، کیونکہ دنیا میں جو کچھ ہوا اس کا دار جزا ہے۔ اکثر اہل نظر کا یہی نظریہ ہے۔ یہ دنیا میں ہے۔ آیت : واللہ ربنا ما کنا مشرکین کا معنی اس مفہوم پر یہ ہوگا کہ ہم اپنے خیال میں مشرک نہ تھے اور آخرت میں جھوت بولنے کے جواز پر آیت : ولایکتمون اللہ حدیثا (النسائ : 42) سے اعتراض وارد ہوتا ہے یہاں کوئی معارضہ اور تناقص نہیں ہے کیونکہ ولایکتمون اللہ حدیثا بعض مقامات پر ہوگا جب ان پر ان کی زبانیں، ہاتھ، پاؤں ان کے اعمال کے متعلق گواہی دیں گے اور اعضاء کی شہادت سے پہلے بعض مقامات پر جھوٹ بولیں گے، جیسا پہلے گزر چکا ہے۔
سعید بن جبیر نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں فرمایا : آیت : واللہ ربنا ما کنا مشرکین وہ عذر پیش کریں گے اور ھلف اٹھائیں گے۔ اسی طرح ابن نجیح اور قتادہ نے کہا ہے : مجاہد سے مروی ہے انہوں نے کہا : جب وہ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے علاوہ سب گناہ معاف کردیئے گئے ہیں اور لوگ آگ سے نکالے گئے ہیں تو وہ کہیں گے : اللہ کی قسم ! ہم شرک کرنے والے نہ تھے۔ بعض علماء نے فرمایا : آیت : واللہ ربنا ما کنا مشرکین یعنی ہم جان لیا کہ پتھر نہ نفع دیتے ہیں نہ نقصان دیتے ہیں۔ یہ اگرچہ قول صحیح ہے، انہوں نے سچ بولا اور چھپایا نہیں لیکن ان کا عذر قبول نہ ہوگا کیونکہ معائد کافر ہے اور غیر معذور ہے پھر آیت : ثم لم تکن فنتھم میں پانچ قرائتیں ہیں۔ ہمزہ اور کسائی نے یکن کو یا کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور فتنتھم کو یکن کی خبر کی وجہ سے منصوب پڑھا ہے۔ لاان قالوا، یکن کا اسم ہے یعنی الاقولھم کے مفہوم میں ہے۔ یہ قراءت واضح ہے۔ اہل مدینہ اور ابوعمرو نے تکن تا کے ساتھ اور فتنتھم کو نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ الا ان قالوا یعنی الا مقالتھم۔ حضرت ابی اور ابن مسعود نے ثم لم تکن کی بجائے و ما کان فتنتھم الا ان قالوا پڑھا ہے۔ ابن عمرو عاصم نے حفص کی روایت سے اور اعمش سے مفضل کی روایت سے۔ حسن اور قتادہ وغیرہ ہم نے ثم لم تکن کو تا کے ساتھ اور فتنتھم کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے اور الا ان قالوا کو کبر بنایا ہے۔ یہ چار قرائتیں ہیں۔ پانچویں قراءت ثم لم یکن (یاء کے ساتھ) اور فتنتھم رفع کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ فتنہ کو مذکر کیا گیا ہے، کیونکہ وہ الفتون کے معنی میں ہے۔ اس کی مثال آیت : فمن جاءہ موعظت من ربہ فانتھی (البقرہ : 275) یہاں بھی جاء فعل مذکر ذکر کیا گیا ہے، حالانکہ فاعل موعظت ہے۔ واللہ واؤ قسم کے لیے ہے ربنا اسم جلالت کی صفت یا بدل ہے اور جنہوں نے ربنا کو نصب کے ساتھ پڑھا ہے وہ ندا کی بنا پر ہے یعنی یاربنا۔ یہ عمدہ قراءت ہے، کیونکہ اس میں عجز اور تضرع کا مفہوم ہے مگر اس میں قسم اور جواب قسم کے درمیان منادی کے ساتھ فاصلہ کیا گیا ہے۔
Ayah 6:25آیت نمبر 25 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ومنھم من یستمع الیک لفط، من کا اعتبار کرتے ہوئے مفر دکا صیغہ ذکر فرمایا مراد مشرکین، کفار مکہ ہیں۔ آیت : وجعلناعلی قلوبھم اکنت یعنی ہم نے انہیں ان کے کفر جزا دیتے ہوئے ایسا کیا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ سنتے اور سمجھتے نہیں لیکن جو وہ سنتے ہیں اس سے نفع حاصل نہیں کرتے اور وہ حق کی اطاعت نہیں کرتے تو وہ ایسے شخص کی ماند ہوگئے جو نہ سنتا اور نہ سمجھتا ہے۔ اکنتہ پردوں کو کہتے ہیں۔ یہ کنان کی جمع ہے جیسے الا سنتہ جمع ہے سنان کی اور الا عنتہ جمع عنان کی، کننت الشیء فی کنتہ یہ اس وقت بولا جاتا ہے جب تو کسی چیز کو کسی میں محفوظ کرے اکننت الشیء کا مطلب ہے میں نے اسے چھپادیا اور کنانتہ ترکش کو کہتے ہیں۔ والکنتہ کاف اور نون کے فتحہ کیساتھ ہے۔ تیرے باپ کی بیوی، بیٹے یا بھائی کی بیوی کو بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ اس کی حفاظت میں ہوتی ہے۔
آیت : ان یفقھوہ اس کا معنی ہے یفھوہ یعنی اس کو سمجھیں۔ یہ محل نصب میں ہے اس کا معنی ہے کر اھیتہ ان یفھوہ یا اس کا معنی ہے لئلا یفقھوہ۔
آیت : وفی اذانھم وقرا، وقرا سے مراد بوجھ ہے۔ کہا جاتا ہے : وقرت اذنہ (1) (المحررالوجیز، جلد، 2، ڈصفحہ 279) واؤکے فتحہ کے ساتھ توقرا وقرا یعنی اس کے کان بہرے ہوگئے۔ اس کے مصدر کا قیاس حرکت تھی لیکن یہتسکین کے ساتھ آیا ہے۔ وقدوقر اللہ اذنتہ یقرھاوقرا کہا جاتا ہے اللھم قراذنہ۔ ابوزید نے عربوں سے حکایت کیا ہے اذن موقورۃ یعنی مجہول استعمال کیا گیا ہے اس نے ان کے کانوں میں ایسی چیز ڈال دی جس نے اسے روک دیا۔ یہ وقرا لحیر سے تشبیہ کی بنا پر ہے اس سے مراد وہ چیز ہوتی ہے جس کو اونٹ اٹھانے کی طاقت رکھتا ہے۔ الوقر سے مراد الحمل ہے کہا جاتا ہے : نخلۃ موقروموقرۃ جب کہ وہ کھجور بہت زیادہ پھل دار ہو۔ رجل ذوقرۃ جب وہ وقود (بفتح واؤ) والا ہو۔ کہا جاتا ہے : وقرا لرجل (قاف کے ضمہ کے ساتھ) وقاراو وقرقاف کے فتحہ کے ساتھ بھی استعمال ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : وان یروا کل ایۃ لا یومنوا بھا اللہ تعالیٰ ان کے عناد کی خبر دی، کیونکہ انہوں نے چاند کو دو لخت ہوتے دیکھا تو کہنے لگے : یہ جادو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ انہوں نے بغیر حجت کے آیات کا انکار کیا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : حتی اذا جاء ئوک یجادلونک، ان کا جھگڑا یہ تھا کہ وہ کہتے تھے : تم وہ کھاتے ہو جو تم خود قتل کرتے ہو اور اسے نہیں کھاتے جسے اللہ تعالیٰ قتل کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے آیت : یقول الذین کفروا سے مراد قریش ہیں۔ حضرت ابن عباسؓنے کہا : قریش نے نضر بن حرث کو کہا : محمد کیا کہتا ہے ؟ اس نے کہا : میں اس کے ہونٹوں کی حرکت دیکھتا ہوں وہ پہلے لوگوں کے قصے بیان کرتا ہے جیسے میں تمہیں پہلے لوگوں کے واقعات بتاتا ہوں۔ نضرقصے اور واقعات بیان کرتا تھا اس نے عجم کے شہروں میں رستم اور اسفند یار کے قصے سنے تھے پھر انہیں وہ بیان کرتا تھا۔ اساطیرکا مفرد اسطار ہے جیسے ابیات کی جمع ابابیت ہے۔ زجاج سے مروی ہے اخفش نے کہا : اس کا مفرد اسطورۃ ہے جیسے احدوثتہ اور احادیث ہے۔
ابوعبیدہ نے کہا : اس کا واحداسطارۃ ہے۔ نحاس نے کہا : اس کا واحد اسطو رہے جیسے عشکول ہے۔ کہا جاتا ہے : یہ اسطار کی جمع ہے اور اسطار، سطر کی جمع ہے سطروسطر، السطروہ چیز جو لمبی اور مؤلف ہو جیسے کتاب کی سطر۔ قزیری نے کہا : اس کا واحد اسطیر ہے۔ بعض نے کہا : یہ ایسی جمع ہے جس کا واحد نہیں ہے جیسے مذاکیر وعبادید، ابابیل وغیرہ، یعنی جس کو پہلے لوگ اپنی کتابوں میں لکھتے تھے۔ جوہری وغیرہ نے کہا : الاساطیر سے مراد اباطیل ہے اور الترھات ہیں۔
میں کہتا ہوں : میرے کسی شیخ نے کہا :
تطاول لیلی و عترتنی وساوسی لات ان بالترھات الاباطیل
Ayah 6:26آیت نمبر 26 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : وھم ینھون عنہ وینعون عنہ، النھی کا معنی روکنا ہے اور النای کا معنی دور کرنا ہے۔ یہ تمام کفار کو شامل ہے یعنی وہ حضرت محمد ﷺ کی اتباع سے منع کرتے ہیں اور خودبھی دور بھاگتے ہیں۔
یہ حضرت ابن عباسؓ اور حسن سے مروی ہے۔ بعض نے فرمایا : یہ ابو طالب کے ساتھ خاص ہے، وہ حضرت محمد ﷺ کو اذیت دینے سے کفار کو منع کرتے تھے اور خود آپ پر ایمان لانے سے دور ہوتے تھے۔ یہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ اہل سیرت نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک دن کعبہ کی طرف نکلے اور نماز پڑھنے کا ارادہ کیا، جب نماز میں داخل ہوئے، ابوجہل لعنہ اللہ نے کہا : کون اس شخص کی طرف جائے گا اور اس کی نماز فاسد کرے گا ؟ ابن زبعری کھڑا ہوا، اس نے گوبر اور خون اٹھایا اور نبی کریم ﷺ پر ڈال دیا۔ نبی کریم ﷺ نماز چھور کر واپس آگئے، پھر آپ ابوطالب کے پاس گئے اور کہا : اے چچاجان ! کیا آپ نے نہیں دیکھاجو میرے ساتھ کیا گیا ؟ ابوطالب نے پوچھا : تمہارے ساتھ یہ کس نے کیا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے کہا : عبداللہ بن زبعری نے۔ ابوطالب اٹھے، تلوار اپنے کندھے پر رکھی اور آپ کیساتھ چل پڑے حتی کہ لوگوں کے پاس آئے، جب لوگوں ابوطالب کو آتا ہوا دیکھا تو اٹھنے لگے۔ ابوطالب نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر کوئی شخص اٹھا تو میں اسے اپنی تلوار سے اسے کاٹ کر رکھ دوں گا، وہ سب بیٹھ گئے حتی کہ ابوطالب نے ان کے قریب آئے، پھر کہا بیٹا ! تیرے ساتھ یہ کس نے کیا تھا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : عبداللہ بن زبعری نے۔ ابوطالب نے گوبر اور خون اٹھایا اور ان کے چہروں، داڑھیوں اور کپڑوں پر مل دیا اور انہیں بہت برا کہا۔ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی : آیت : وھم ینھون عنہ و ینعون عنہ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اے چچاجان ! تمہارے متعلق ایک آیت اتری ہے ابوطالب نے کہا : وہ کیا ہے ؟ فرمایا : تم قریش کو منع کرتے ہو کہ وہ مجھے اذیت دیں اور خود مجھ پر ایمان لانے سے انکار کرتے ہو۔ ابوطالب نے کہا :
واللہ لن یصلوا الیک بجمعھم حتی اوسد فی التراب دفینا
فاصدع بامرک ما علیک غضاضتہ وبشر بذالک وقر منک عیونا
ودعوتنی و زعت انک ناصحی فلقد صدقت وکنت قیل امینا
وعرضت دینا قد عرفت بانہ من خیر ادیان البریتہ دینا
لولا الملامتہ اوجذار مسبتہ لو جدتنی سمحا بذالک یقینا
لوگوں نے پوچھا : یارسول اللہ ! کیا آپ کی ابوطالب نے جو مدد کی ہے وہ اسے نفع دے گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں اس سے اس وجہ سے بیڑیاں دور کی گئی ہیں اور انہیں شیاطین کے ساتھ جکڑا نہیں جائے گا اور انہیں سانپوں اور بچھوؤں والے کنویں میں نہیں ڈالاجائے گا، اس کا عذاب یہ ہے ان کے پاؤں میں آگ کے جوتے ہیں جن کی وجہ سے ان کے سر میں دماغ ابل رہا ہے اور یہ دوزخیوں میں آسان ترین عذاب والا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول پر نازل فرمایا : آیت : فاصبر کما صبراولوا العزم من الرسل (الاحقاف : 35)
صحیح مسلم میں ہے حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا سے کہا : ـ" تم لا الہ الا اللہ پڑھو میں اس کی وجہ سے قیامت کے روز تمہارے لیے گواہی دؤں گا ـ" (1) صحیح مسلم، کتاب الایمان، جلد 1، صفحہ 40) انہوں نے کہا : اگر قریش مجھے عار نہ دلاتے کہ جزع نے مجھے پڑھنے پر مجبور کیا ہے تو میں اس کے ساتھ تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کرتا، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت : انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشاء (القصص : 56 )
یہ لفظ الجذع ہیجس کا معنی ضعف اور کمزوری ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ فرمایا :" دوزخیوں میں کم ترین عذاب والا ابوطالب ہے، اسے آگ کے جوتے پہنائے گے ہیں جن سے ان کا دماغ ابل رہا ہے " (2) (ایضا، جلد 1، صفحہ 115) رہا عبداللہ بن زبعریتو وہ فتح مکہ کے سال اسلام لایا تھا اور بہت عمدہ اسلام لایا تھا اس نے رسول اللہ کی بارگاہ میں عذر پیش کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا عذر قبول فرمالیا۔ وہ عمدہ شاعر تھا، وہ نبی کریم ﷺ کی تعریف کرتا تھا اس کے رسول کی شان میں بہت اشعار ہیں جو ان کے حالت کفر کے اشعار کو نسخ کرتے ہیں۔ اس نے حضور ﷺ کی شان میں یہ اشعار کہے :
منع الرقاد بلابل وھموم وللیل مغتلج الرواق بھیم
مما اتالی ان احمد لامنی فیہ فمت کا ننی محموم
یا خیر من حملت علی اوصالھا عیرانتہ سرح البدین غثوم
انی لعتذرالیک من الذی اسدیت اذ انا فی الضلال اھیم
ایام تامرنی باغوی خطتہ سھم و تامرنی بھا مخزوم
و امد اسباب الردی ویقودنی امر الغواۃ و امرھم مشوم
فالیوم آمن بالنبی محمد قلبی و مخصی ھذہ محروم
مضت العداوۃ فانقصت اسبابھا واتت اوصر بیننا و حلوم
فاغفر فدی لک والدای کلاھما زلنی فانک راحم مرحوم
وعلیک من سمۃ الملیک علامتہ نور اغر و خاتم مختوم
اعطاک بعد محبتہ برھانہ شرفا و برھان الائلہ عظیم
ولقد شھدت بان دینک صادق حقا و انک فی العبادجسیم
واللہ یشھد ان احمد مصطفیٰ مستقبل فی الصالحین کریم
قرم علا بنیانہ من ہاشم فزع تمکن فی الدری و اروم
بعض علماء نے فرمایا : ینئون عنہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ہنستے تھے، وہ قرآن سے روکتے تھے اور ان سے دور بھاگتے تھے۔ یہ قتادہ سے مروی ہے۔ پہلے دو قولوں کی بنا پر عنہ کی ضمیر کا مرجع نبی کریم ﷺ کی ذات ہوگی اور قتادہ کے قول کی بنا پر ضمیر کا مرجع قرآن ہوگا۔ آیت : و ان یھلکون الا انفسھم، ان نافیتہ ہے یعنی وہ نہیں ہلاک کرتے مگر اپنے نفسوں کو کفر پر اصرار کرنے کے ساتھ اور جن کو روکتے ہیں اور ان کے بوجھ اٹھانے کے ساتھ۔
Ayah 6:27آیت نمبر 27 :۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : و لو تری اذ وقفوا علی النار یعنی کل جب کھڑے کیے جائیں گے، کیونکہ اذ کبھی اذا کی جگہ استعمال ہوتا ہے اور کبھی اذا، اذ کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ مستقبل کا امر گویا ہوچکا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی کبر حق اور سچ ہے، اسی وجہ سے ماضی کے صیغہ کے ساتھ تعبیر فرمایا۔ اور اذ وقفوا کا معنی ہے جب وہ روک لیے جائیں گے کہا جاتا ہے : وقفتہ وقفا فوقف وقوفا۔ ابن السمیقع نے اذ وقفوا واو اور قاف کے فتحہ کے ساتھ وقوف سے مشتق کر کے پڑھا ہے۔
علی النار یعنی وہ پل صراط کے اوپر ہوں گے اور آگ ان کے نیچے ہوگی۔ بعض علماء نے فرمایا : علی بمعنی با ہے یعنی جب وہ اس کے قریب ٹھہریں گے اور اسے دیکھیں گے۔ ضحاک نے کہا : اس کا معنی ہے جمعوا یعنی جب آگ کے دروازوں پر جمع کیے جائیں گے کہا جاتا ہے : وہ جن ہم کی پیٹھ پر روکے جائیں گے گویا وہ پگھلی ہوئی چربی کی پیٹھ ہے، پھر ایک ندا کرنے والا ندا کرے گا (اے آگ ! ) اپنے ساتھی پکڑ لے اور میرے ساتھی چھوڑ دے۔ بعض علماء نے فرمایا : وقفوا کا معنی ہے وہ اس میں داخل ہوں گے۔ (اللہ تعالیٰ ہمیں آگ سے بچائے) اس صورت میں علی بمعنی فی ہوگا یعنی وہ آگ میں داخل کیے جائیں گے۔ لو کا جواب محذوف ہے تاکہ ہر چیز کی طرف وہم جائے۔ یہ ڈرانے کے لیے زیادہ بلیغ ہے، معنی یہ ہے اگر آپ انہیں اس حالت میں دیکھیں گے تو بہت بری حالت میں دیکھیں گے یا بہت ہولناک منظر دیکھیں گے یا آپ بہت عجیب امر دیکھیں گے۔ اور اس تقدیر کی مثل کوئی اور تقدیر بھی ہو سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فقالو یلیتنا نرد ولا نکذب بایت ربنا و نکون من المومنین
اہل مدینہ اور کسائی کی قراءت تینوں افعال پر رفع ہے۔ ابوعمرو، ابوبکر نے عاصم سے ضمہ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ابن عامر نے نکذب پر رفع اور تکون پر نصب پڑھی ہے (1) (المحررالوجیز، جلد 2، صفحہ 281) یہ سب تمنی کے معنی میں داخل ہیں یعنی وہ تمنا کریں گے کہ انہوں نے نہ جھٹلایا ہوتا اور مومنین میں سے ہوتے سیبویہ نے ولا نکذب کو علیحدہ کر کے پڑھا ہے اور اس کو تمنی کے تحت داخل نہیں کیا ہے معنی یہ ہے کہ ہم نہیں جھٹلائیں گے تکذیب کے ترک پر ثبات کے معنی کی بنا پر ہم نہیں جھٹلائیں گے۔ ہم لوٹائے گئے یا نہ لوٹائے گئے۔ سیبویہ نے کہا : یہ اسی قول کی مثل ہے دعنی ولا اعود یعنی مجھے چھوڑ دو میں کسی حال میں نہیں لوٹوں گا آپ مجھے چھوڑ دیں یا نہ چھوڑیں (2) (ایضا) ابوعمرو نے تمنی سے اس کے خروج پر اس آیت سے دلیل پکڑی ہے : وانھم لکذبون کبھی جھوٹ تمنی میں نہیں ہوتایہ خبر میں ہوتا ہے۔ انہوں نے تمنی میں داخل کیا ہے ان کے نزدیک مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا میں قیامت کے انکار اور رسولوں کی تکذیب میں جھوٹے ہیں۔ حمزہ اور حفص نے نکذب اور تکون کو تمنی کے جواب کی بنا پر نصب کے ساتھ پڑھا ہے، کیونکہ یہ واجب نہیں یہ دونوں تمنی میں داخل ہیں اس معنی پر کہ لوٹنے، تکذیب ترک کرنے اور مومنین سے ہونے کی تمنا کریں گے۔ ابواسحاق نے کہا ولا نکذب کا معنی ہے اگر ہم لوٹائے گے تو ہم نہیں جھٹلائیں گے نکذب اور تکون کی نصب ان کے اضمار کے ساتھ ہے جیسے استفہام، امر، نہی اور عرض کے جواب میں نصب دی جاتی ہے، کیونکہ یہ تمام واجب نہیں اور ابھی تک واقع نہیں ہوا۔ پس جواب کو واو کے ساتھ نصب دی جاتی ہے گویا پہلے فصل کے مصدر پر عطف کیا گیا ہے گویا انہوں نے کہا : یالیتنا یکون لناردو اتفاء من الکذب و کون من المومنین پس ان دونوں کو نرد کے مصدر پر محمول کیا گیا ہے رفع کی طرف معنی کی تبدیلی کی وجہ سے، پس اس میں ان کا اضمار ضروری ہے دونوں فعلوں میں نصب مکمل ہوگا۔ ابن عامر نے تمنی کے جواب کی بنا پر تکون پر نصب پڑھی ہے جیسے تیرا قول ہے : لیتک تصیر الیانکرمک یعنی لیت مصیرک یقع واکر امنا یقع پہلے دونوں فعلوں کو تمنی میں داخل کیا یا یہ ارادہ کیا کہ و نحن لا نکرمک علیحدہ ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ حضرت ابی نے ولا نکذب بایات ربنا ابدا پڑھا ہے اور حضرت ابی اور حضرت ابن مسعود سے یلیتنا نرد لا نکذب فا اور نصب کے ساتھ بھی مروی ہے۔ فا کے ساتھ بھی جواب میں نصب دی جاتی ہے جس طرح واو کے ساتھ نصب دی جاتی ہے۔ یہ زجاج سے مروی ہے۔ اور اکثر بصری علماء جواب میں نصب کو جائز قرار نہیں دیتے مگر فا کے ساتھ۔
Ayah 6:28آیت نمبر 28 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : بل بدالھم ما کانوا یخفون من قبل ان کی تمنی اور ایمان کے دعوی سے اضراب ہے کہ اگر انہیں واپس بھیجا جائے۔
بدالھم کے معنی میں علماء کے مختلف اقوال ہیں اس تعیین کے بعد کہ مراد کون ہیں۔ بعض علماء نے کہا : اس سے مراد منافقین ہیں، کیونکہ کفر کا اسم ان کو بھی شامل ہے پس ضمیر بعض مذکورین کی طرف راجع ہے۔ نحاس نے کہا : یہ انتہائی شیریں اور فصیح کلام ہے۔ بعض نے فرمایا : اس سے مراد کفار ہیں، انہیں جب نبی کریم ﷺ وعظ کرتے تھے تو وہ ڈرتے تھے اور اس خوف کو چھپاتے تھے تاکہ ان کے ضعیف اور کمزور لوگ پہچان نہ لیں پس یہ قیامت کے روز ظاہر ہوگا (1) (المحررالوجیز، جلد 2، صفحہ 282) اسی وجہ سے حسن نے کہا : بدالھم بعض کے لیے ظاہر ہوا جو وہ بعض سے چھپاتے تھے۔ بعض نے فرمایا : بلکہ ظاہر ہوا ان کے لیے جو شرک سے انکار کرتے تھے۔ وہ کہیں گے آیت : واللہ ربنا ما کنا مشرکین پس اللہ تعالیٰ ان کے اعضاء کو بولنے کی طاقت بخشے گا اور وہ ان کے خلاف کفر کی گواہی دیں گے یہ اس لیے ہے کہ انہوں نے پہلے جو چھپایا تھا وہ عیاں ہوگا۔ یہ ابوروق نے کہا ہے۔ اور بعج نے فرمایا : بدالھم ان کے لیے عیاں ہوگا جو وہ کفر میں سے چھپاتے تھے یعنی ان کے برے اعمال ظاہر ہوں گے جیسا کہ فرمایا : آیت : و بدالھم من اللہ مالم یکونوا یحتسبون (الزمر)
مبرد نے کہا : ان کے کفر کی جزا ظاہر ہوگی جس کو وہ چھپاتے تھے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی یہ ہے کہ ظاہر ہوگا ان کے لیے جنہوں نے گمراہ لوگوں کی اتباع کی وہ جو گمراہ لوگ بعث اور قیامت کے امر سے چھپاتے تھے، کیونکہ اس کے بعد ہے آیت : و قالوا ان ھی الا حیا تناالدنیاوما نحن بمبعوثین اور کہتے ہیں نہیں کوئی زندگی بجز ہماری اس دنیاوی زندگی کے اور ہم نہیں اٹھائے جائیں گے (قبروں سے)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : و لوردوابعض نے فرمایا : عذاب دیکھنے کے بعد۔ اور بعض نے فرمایا : عذاب دیکھنے سے پہلے اگر وہ واپس بھجے گئے۔ آیت : لعادوالما نھواعنہ یعنی وہ اسی شرک وغیرہ کی طرف لوٹائے جائیں گے جس سے انہیں منع کیا گیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے، ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی آیات دیکھیں، پھر بھی ہٹ دھرمی کی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : وانھم لکذبون اس کے متعلق خبر دی ہے اور ان کی اس حالت کو بیان کیا ہے جس پر وہ دنیا میں تھے کہ وہ رسولوں کی تکذیب کرتے تھے اور دوبارہ اٹھنے کا انکار کرتے تھے جیسا کہ فرمایا : آیت : و ان ربنا لیحکم (النحل : 124 )
اس کو آئندہ کی حالت حکایت کیا۔ بعض علماء نے فرمایا : وہ جھوٹے ہیں اس میں جو انہوں نے اپنے بارے میں خبردی کہ وہ تکذیب نہیں کریں گے مومن ہوں گے۔ یحییٰ بن وثاب نے ولو ردوارا کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، کیونکہ اصل رددوا تھا دال کا کسرہ را کی طرف نقل کیا گیا ،
Ayah 6:29آیت نمبر 29 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقالوا ان ھی حیاتنا الدنیا یہ مبتداخبر ہیں۔ ان نافیتہ ہے اور نحن، ما کا اسم ہے اور بمبعوثین اس کی خبر ہے۔ یہ ان کے متعلق خبر دینے کی ابتدا ہے جو کچھ انہوں نے دنیا میں کہا تھا۔ ابن زید نے کہا : یہ آیتـ: ولو ردوا لعادوا لما نھو عنہ کے تحت داخل ہے۔
اور انہوں نے کہا : نہیں ہے کوئی زندگی بجز ہماری اس دنیاوی زندگی کے، یعنی وہ کفر کی طرف لوٹ گئے اور دنیا کی لذت میں مشغول ہوگئے۔ یہ ہٹ دھرمی پر محمول ہوگا جیسا کہ ہم نے ابلیس کی حالت کے بارے میں بیان کیا ہے یا اس پر محمول ہوگا کہ اللہ تعالیٰ عرفان کے بعدان پر ملتبس فرما دے گا۔ یہ عقلا شائع اور عام ہے۔
Ayah 6:30آیت نمبر 30 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ولو تری اذ وقفوا علی ربھم، وقفوا کا معنی ہے روکے جائیں گے علی ربھم جو ان کے بارے میں اللہ کا حکم ہوگا اس پر۔ بعض علماء نے فرمایا : علی بمعنی عند ہے یعنی ملائکہ کے پاس اور جزا کے پاس اور جہاں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی بادشاہی نہ ہوگی۔ تو کہتا ہے : وقفت علی فلان یعنی عندہ میں فلاں کے پاس ٹھہرا۔ لو کا جواب وقوف کی۔۔ کی بڑائی کے لیے حذف کیا گیا ہے۔ آیت : قال الیس ھذا بالحقیہ تقریر اور تو بیخ ہے یعنی کیا یہ دوبارہ اٹھنا حق نہیں ؟ قالوا بلی وہ کہیں گے کیوں نہیں ؟ اپنے اعتراض کو قسم کے ساتھ مؤکد کریں گے۔ بعض علماء نے فرمایا : ملائکہ انہیں اللہ کے حکم سے کہیں گے : کیا یہ دوبارہ اٹھنا اور عذاب حق نہیں ہے ؟ پس وہ کہیں گے : بلی و ربنا ہاں ہمارے رب کی قسم ! یہ حق ہے۔
Ayah 6:31آیت نمبر 31 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : قد خسرالذین کذبوا بلقاء اللہ لقاء اللہ سے مراد مرنے کے بعد اٹھنا ہے اور جزا ہے اس کی دلیل نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد ہے : حدیث : من حلف علی یین کاذبتہ لیقطع بھا مال امرء مسلم لقی اللہ وھو علیہ غضبان (1) (صحیح بخاری، کتاب الایمان ولنذور، جلد 2، صفحہ 985) (یعنی جو جھوٹی قسم اٹھائے گا تاکہ اس کے ذریعے مسلمان آدمی کا مال لے لے وہ اللہ سے ملے گا جب وہ اس پر ناراض ہوگا) اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کریگا جب دیدار کرنے والے دیدار کریں گے۔ یہ قول قفال وغیرہ کا ہے۔ قشیری نے کہا : یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ لقا کو جزا پر اس جگہ محمول کیا جاتا ہے جہاں دلیل قائم ہو ہر جگہ یہ مفہوم ثابت نہیں ہوتا۔ پس لقا کو اس آیت میں ظاہر پر محمول کرنا چاہیے۔ کفار، صانع کا انکار کرتے ہیں روایت کا منکر وجود کا منکر ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : حتی اذا جاء تھم الساعۃ بغتتہ قیامت کو ساعت کہا جاتا ہے، کیونکہ اس میں حساب بہت جلد ہوگا۔ بغتتہ کا معنی ہے اچانک۔ کہا جاتا ہے : آیت : بغتھم الامر یبغتھم بغتا بغتتہ یہ حال کیا بنا پر منصوب ہے اور سیبویہ کے نزدیک مصدر ہے (2) (المحررالوجیز، جلد 2، صفحہ 283) حال کی جگہ میں ہے جیسے تو کہتا ہے : قتلتہ صبرا اور یہ شعر پڑھا :
فلایا بلادی ما حملنا ذلبدنا علی ظھر محبوک ظماء مقاصلہ
سیبویہ نے اس پر قیاس کرنے کو جائز قرار نہیں دیا یہ نہیں کہا جاتا : جاء فلان سرعتہ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : قالوا یحسرتنا، حسرۃ پر ندا واقع ہوا ہے یہ حقیقت میں منادی نہیں ہے، لیکن یہ حسرت کی کثرت پر دلالت کرتا ہے جیسے با للعجب و باللرخاء یہ حقیقت میں منادی نہیں ہیں لیکن یہ کثرت تعجب اور رخاء پر دلالت کرتا ہے۔ سیبویہ نے کہا : گویا فرمایا : باعجب تعال فھذا زمن اتباعک ہائے تعجب آیہ تیرے آنے کا زمانہ ہے۔ اسی طرح تیرا قول ہے : یا حسرتی یعنی یا حسرتا تعالیٰ فھذاوقتک یعنی اے حسرت ! آیہ تیرا آنے کا وقت ہے۔ اسی طرح جس میں ندا صحیح نہ ہو وہ اسی طرح جاری ہوگا یہ تیرا قول تعجب سے زیادہ بلیغ ہے، اسی سے شاعر کا قول ہے :
فیا عجبامن رحلھا المتحمل
بعض علماء نے فرمایا : یہ لوگوں اس بڑی حسرت پر تنبیہ ہے جو ان کو لاحق ہوگی یعنی اے لوگو ! اس عظیم حسرت پر آگاہ ہو رہو جو میری طرف سے ہوگی پس ندا حقیقت میں غیر منادی پر واقع ہے جیسے تیرا قول ہے۔ لا اریتک ھاھنا میں تجھے یہاں نہ دیکھوں پس نہی غیر منہی پر حقئقت میں وقاع ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : علی مافرطنا فیھا یعنی قیامت کے باریے میں اور اس کے اعمال پیش کرنے میں جو کوتاہی ہوئی۔ حسن سے مروی ہے : فرطنا کا معنی ہے ہم نے ضائع کیا، اس کی اصل آگے بڑھنا ہے۔ کہا جاتا ہے فرط فلان یعنی وہ پانی کی طرف سب سے پہلے پہنچا، اسی سے حدیث ہے : حدیث : انافرطکم علی الحوض (3) (صحیح بخاری، کتاب الفتن، جلد 2، صفحہ 1054) میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ اسی سے الفارط ہے پانی کے لیے آگے بڑھنے والا، اسی سے ہے : اللھم الجعلہ فرطا لابویہ یہ بچے کے جنازہ میں دعا مانگی جاتی ہے اے اللہ ! اسے اپنے والدین کے لیے پیش رو بنا۔ عربوں کا قول ہے فرطنا یعنی ہم نے عجز کو مقدم کیا، بعض علماء نے فرمایا فرطنا یعنی ہم نے دوسروں کو اللہ کی اطاعت میں مقدم کردیا اور ہم پیچھے رہ گئے۔ فیھا یعنی دنیا میں قیامت کے لیے عمل ترک کر کے کوتاہی کی۔ طبری نے کہا : ھا بیع کی طرف راجع ہے۔ یہ اس لیے کہ جب ان کے لیے ان کے سودا کا گھاٹا ظاہر ہوا جو انہوں نے ایمان کے بدلے کفر اختیار کیا تھا اور آخرت کے بدلے دنیا کو ترجیع دی تھی تو انہوں نے کہا : آیت : یحسرتنا علی ما فرطنا فیھا یعنی صفقہ (سودا) میں کوتاہی کی اس پر افسوس۔ کلام کی چونکہ اس پر دلالت موجود ہے اس لیے ان کو ذکر نہیں کیا، کیونکہ گھاٹا نہیں ہوتا مگر بیع کے سودا میں اس کی دلیل آیت : فما ربحت تجارتھم (البقرہ : 16) کا ارشاد ہے۔ سدی نے کہا : اس کا مطلب ہے افسوس جو جنت کے موجب کے اعمال کو ہم نے ضائع کیا۔ خبر میں ہے حضرت ابوسعیدخدری نے نبی کریم ﷺ سے اس آیت کے تحت روایت کیا ہے فرمایا : دوزخی لوگ جنت میں اپنے محلات دیکھیں گے تو کہیں گے : یا حسرتنا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : و ھم یحملون اوزارا ھم اوزار سے مراد گناہ ہیں یہ وزر کی جمع ہے۔ علی ظھورھم یہ بطور مجاز کہا گیا ہے اور اس کے تحت تشبیہ کے طور پر کہا گیا ہے جو بوجھ اٹھاتا ہے۔ کہا جاتا ہے : وزریزر، وزریوزر فھو وازرو موزور اس کی اصل الوزر سے ہے جس کا مطلب پہاڑ ہے۔ اسی سے حدیث میں ان عورتوں کے بارے میں جو جنازہ کے ساتھ نکلتی ہیں ارجعن موزورات غیر ما جو رات (1) (سنن ابن ماجہ، کتاب الجنائز، صفحہ 114) یعنی گناہ اٹھانے والیاں لوٹ جائیں جو اجع حاصل کرنے والی نہیں ہیں۔ ابوعبیدہ نے کہا : وہ شخص جو کپڑا بچھاتا ہے اور اس میں سامان رکھتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے : احمل وزرات اپنا بوجھ اٹھا۔ اسی سے الوزیر ہے کیونکہ وہ امور مملکت جو اس کی طرف منسوب ہوتے ہیں وہ ان کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ اس کا معنی ہے انہیں گناہ لازم ہوئے اور ان کی وجہ سے بھاری ہوگئے۔
آیت : الا ساء ما یزرون یعنی بہت بری ہے وہ چیز جس کو وہ اٹھاتے ہیں۔
Ayah 6:32آیت نمبر : 32 :۔ اس میں دو مسئلے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : و ما الحیوۃ الدنیا الا لعب و لھو
دنیوی زندگی کو لہو اور تماشا اس کی مدت کے کم ہونے کی وجہ کہا گیا ہے جیسے شاعر نے کہا :
الا انما الدنیا کا احلام نائم وما خیر عیش لا یکون بدائم
تامل اذا ما نلت بالامس لذۃ فاففنی تھا ھل انت الا کحالم
ایک اور شاعر نے کہا :
فاعمل علی مھل فاتک میت واکدح لنفسک ایھا الانسان
فکان ما قدکان لم یک اذ مضی وکان ماھو کائن قد کا نا
بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے دنیاوی زندگی متاع لہو ولعب ہے یعنی وہ چیز جس کو وہ دنیا میں چاہتے تھے اس کے لیے کوئی انجام نہیں وہ لہو ولعب کے قائم مقام ہے۔ سلیمان بن عبدالملک نے آئینہ دیکھا اور کہا : میں باشاہ جوان ہوں۔ اس کی لونڈی نے اسے کہا :
انت نعم المتاع لو کنت تبقی غیر ان لا بقاء للانسان
لیس فیما بدا لنا منک عیب کان فی الناس غیر انک فانی
اور بعض علماء نے کہا : لہو ولعب کا معنی باطل اور غرور ہے جیسا کہ فرمایا : آیت : وما الحیوۃ الدنیا الا متاع الغرور (آل عمران) پس آیت سے مقصد کفار کا جھٹلانا ہے ان کے قول میں ہے : آیت : ان ھی الا حیاتنا الدنیا۔ اللعب (کھیل) معروف ہے التلعابت بہت زیادہ کھیل۔ الملعب کھیل کی جگہ۔ کہا جاتا ہے : لعب یلعب، کھیلنا، اللھو بھی معروف ہے ہر وہ چیز جو تجھے مشغول کرے اس نے تجھے غافل کردیا۔ لھوت، اللھو سے مشتق ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کی اصل کسی شئے سے پھرنا ہے۔ یہ عربوں کے قول : لھیت عنہ سے مشتق ہے۔ مہدوی نے کہا : اس میں بعد ہے، کیونکہ جس کا معنی پھرنا ہے اس کا لام کلمہ یا ہے اس کی دلیل لھیان ہے اور پہلا لام کلمہ واو ہے۔
مسئلہ نمبر 2۔ لہو ولعب سے وہ نہیں ہے جو امور آخرت سے ہے، کیونکہ لعب کی حقیقت وہ ہے جس سے نفع حاصل نہ ہو اور لہو وہ ہے جس کے ذریعے غفلت ہو اور جو کام آخرت کی غرض سے ہو وہ لہو ولعب سے خارج ہے۔ ایک شخص نے حضرت علی ؓ کے سامنے دنیا کی مذمت کی تو حضرت علی ؓ نے فرمایا : دنیا اس شخص کے لیے دارالصدق ہے جو اس میں سچ کہتا ہے اور یہ دار نجات ہے اس شخص کے لیے جو اس کو سمجھ جاتا ہے اور یہ دار فنا ہے اس شخص کے لیے جو اس سے زادہ راہ لیتا ہے۔ محمودوراق نے کہا :
لا تتبع الدنیا و ایامھا ذما وان دارت بک الدائرہ
من شرف الدنیا ومن فضلھا ان بھا تستدرک الاخرۃ
ابوعمر بن عبدالبر نے حضرت ابوسعید خدری سے روایت کیا ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :" دنیا ملعون ہے اور اس میں جو کچھ ہے وہ بھی ملعون ہے مگر جو اس میں اللہ کے ذکر سے ہے یا جو اللہ کے ذکر تک پہنچائے اور عالم اور متعلم اجر میں دونوں شریک ہیں اور باقی تمام لوگ رذیل ہیں ان میں خیر نہیں ہے " (1) (جامع ترمذی، کتاب الذہد، جلد 2، صفحہ 56) اس حدیث کو ترمذی نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے کہا یہ حدیث حسن غریب ہے۔ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے فرمایا :" دنیا کی حقارت اللہ کے نزدیک یہ ہے کہ نافرمانی نہیں کی جاتی مگر اس میں اور جو اللہ کے پاس ہے اس کو حاصل نہیں کیا جاسکتا مگر دنیا کو ترک کرنے کے ساتھ "۔
ترمذی نے حضرت سہل بن سعد سے روات کیا ہے فرمایا رسول اللہ نے فرمایا :" اگر دنیا اللہ کی بارگاہ میں مچھر کے پر کے برابر بھی وقعت رکھتی تو وہ اس میں سے کسی کافر کو ایک پانی کا گھونٹ بھی نہ پلاتا " (1) (جامع ترمذی، کتاب الزہد، جلد 2، صفحہ 56 ) ۔ شاعر نے کہا :
تسمع من الایام ان کنت حازما فانک منھا بین ناہ و آمر
اذا ابقت الدنیا علی المرء دینہ مما فات من شیء فلیس لضائر
ولن تعدل الدنیا جناح بعوضت ولا وزن زف من جناح لطائر
فما رضی الدنیا ثوابا لمومن ولا رضی الدنیا جزاء لکافر
حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا : لہو ولعب کافر کی زندگی ہے، کیونکہ وہ دھوکے اور باطل کاموں میں ضائع کرتا ہے لیکن مومن کی زندگی اعمال صالح سے لبریز ہوتی ہے وہ لہو ولعب نہیں ہوتی ،
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : وللدار الاخرۃ خیرا اس سے مراد جنت ہے۔ خیر اس لیے ہے، کیونکہ یہ باقی اور اس کو آخرت اس لیے کہتے ہیں، کیونکہ یہ ہم سے مؤخر ہے۔ اور دنیا کو دنیا اس لیے کہتے ہیں کہ یہ ہمارے قریب ہے۔
ابن عامر نے آیت : ولدارالاخرۃ یعنی ایک لام کے ساتھ پڑھا ہے اور اضافت مضاف کی حذف کی تقدیر پر ہے اور صفت کو اس کے قائم مقام رکھا ہے۔ تقدیر یہ ہے ولدار الحیاۃ الاخرۃ اور جمہور کی قراءت پر و للدارالاخرۃ ہے۔
لام، لام ابتدائیہ ہے اور دار کو رفع مبتدا ہونے کے اعتبار سے ہے اور الاخرۃ اس کی صفت ہے اور خبر خیر للذین ہے اس کی تائید آیت : تلک الدار الاخرۃ (القصص : 83) اور آیت : و ان الدار الاخرۃ لھی الحیوان (العنکبوت : 64) سے ہوتی ہے ان دونوں جملوں میں الآخرۃ، الدار کی صفت ہے۔
آیت : للذین یتقون یعنی شرک سے بچتے ہیں۔ افلا تتقون یا اور تا کے ساتھ پڑھا گیا ہے یعنی کیا وہ نہیں جانتے کہ معاملہ اس طرح ہے تاکہ وہ دنیا سے عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ؟ واللہ اعلم۔
Ayahs 6:33–34آیت نمبر 33 تا 34 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : قد نعلم انہ لیحذنک الذی یقولون لام کے دخول کی وجہ سے ان کو کسرہ دیا گیا ہے۔ ابو میسرہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کے پاس سے گزرتے تو انہوں نے کہا : اے محمد ﷺ ! اللہ کی قسم ہم آپ کو نہیں جھٹلاتے، تو ہمارے نزدیک سچا ہے لین ہم اس کو جھٹلاتے ہیں جو آپ لیکر آئے ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی : آیت : فانھم لا یکذبونک ولکن الظلمین بایت اللہ یجحدون پھر نبی کریم ﷺ کو تسلی دی کہ آپ سے پہلے بھی رسولوں کو جھٹلایا گیا۔ یکذبونک کو مخفف اور مشدد دونوں طرح پڑھا گیا۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ ہم معنی ہیں جیسے حذتہ اور احزتہ ہم معنی ہیں۔ ابوعبید نے تخفیف کی قرات کو اختیار کیا۔ یہ حضرت علی ؓ کی قرأت ہے۔ ان سے مروی ہے کہ ابوجہل نے نبی کریم ﷺ سے کہا : ہم تجھے نہیں جھٹلاتے بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں جو آپ لے کر آئے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : آیت : فانھم لا یکذبونک۔
نحاس نے کہا : ان میں ابوعبید کی مخالفت کی گئی ہے اور لا یکذبونک کا بھی مروی ہے اللہ تعالیٰ نے لا یکذبونک نازل فرمایا اس کو یہ واقع تقویت دیتا ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابن عباسؓ پر فانھم لا یکذبونک تخفیف کے ساتھ پڑھا تو حضرت ابن عباسؓ نے کہا فانھم لا یکذبونک کیونکہ وہ نبی کریم ﷺ کو امین کہتے تھے اور یکذبونک کا معنی اہل لغت کے نزدیک یہ ہے کہ وہ آپ کو جھوٹ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور جو آپ کہتے ہیں اسے آپ پر لوٹاتے ہیں اور لا یکذبونک کا معنی ہے کہ وہ آپ کو نہیں پاتے کہ آپ جھوٹ لاتے ہیں جیسے تو کہتا ہے : اکذبتہ میں نے اسے جھوٹا پایا۔ ابخلتہ میں نے اسے بخیل پایا، یعنی وہ آپ کو جھوٹا نہ پاتے اگر وہ آپ کے لائے ہوئے پیغام میں غوروفکر کرتے، یہ معنی بھی جائز ہے کہ آپ پر ثابت نہیں کرتے کہ آپ جھوٹے ہیں، کیونکہ کہا جاتا ہے : اکذبتہ جب تو اس پر حجت قائم کرے اور واضح کرے کہ وہ جھوٹا ہے۔ اور تشدید کی بنا پر معنی ہوگا کہ وہ آپ کو کسی حجت اور دلیل سے نہیں جھٹلاتے، اس پر دلیل یہ ارشاد ہے : آیت : ولکن الظلمین بایت اللہ یجحدون۔ نحاس نے کہا : یہ قول ابوعبید کے مذہب میں ہے اس کا احتجاج لازم ہے۔ کیونکہ حضرت علی ؓ وہ ہیں جنہوں نے حدیث کو روایت کیا اور ان سے صحیح مروی ہے کہ انہوں نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ کسائی نے عربوں سے حکایت کیا ہے اکذبت الرجل۔ جب تو خبر دے وہ جھوٹ لایا ہے اور اس نے جھوٹ روایت کیا ہے اور کذبتہ بولا جاتا ہے جب تو خبر دے کہ وہ جھوٹا ہے اسی طرح زجاج نے کہا : کذبتہ جب تو کسی کو کہے کہ تو نے جھوٹ بولا۔ اکذبتہ جب تو ارادہ کرے کہ وہ جھوٹ لایا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : فصبروا علی ماکذبوا یعنی تم بھی صبر کرو جس طرح انہوں نے صبر کیا آیت : واوذواحتی اتھم نصرنا اور وہ ستائے گئے حتی کہ ہماری مدد آپہنچی یعنی تیرے پاس وہ آئے گا جو تجھ سے وعدہ کیا گیا ہے۔ آیت : ولا مبدل لکلمات اللہ وہ اس نصرت کو ظاہر کرنے والا ہے یعنی جو اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے اس کو کوئی دور نہیں کرسکتا اور اس کے فیصلہ کو کوئی توڑنے والا نہیں اور وہ اپنے وعدہ کے خلاف کرنے والا نہیں۔ اس کا ارشاد ہے : آیت : لکل اجل کتاب (الرعد) (ہر میعاد کے لیے نوشتہ ہے) آیت : انا لننصررسلنا والذین امنوا (غافر : 51) (بےشک ہم (اب بھی) مدد کرتے ہیں اپنے رسولوں کی اور مومنین) آیت : ولقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین ہ انھم لھم المنصرون ہ وان جندنا لھم الغلبون ہ (الصفات) اور ہمارہ اپنے بندوں کے ساتھ جو رسول ہیں پہلے ہوچکا ہے کہ ان کی مدد ضرور کی جائے گی اور بیشک ہمارا لشکر ہی غالب ہوا کرتا ہے۔
آیت : کتاب اللہ لاغلبن انا ورسلی (المجادلہ : 21) (اللہ نے یہ لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آ کر ہی رہیں گے) آیت : ولقد جائک من نبای المرسلین ہ، جآءک کا فاعل مضمر ہے معنی یہ ہے جاءک من نباء المرسلین نبا۔
Ayah 6:35آیت نمبر 35 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : و ان کان کبر علیک اعراضھم یعنی اگر تم پر ایمان سے ان کا اعراض کرنا اور پیٹھ پھیرنا گراں ہے فان استطعت اگر طاقت رکھتے ہیں۔ ان تبتغی کہ تلاش کریں۔ نفقا فی الارض زمین میں سرنگ تاکہ تو اس جگہ سے دوسری جگہ چلا جائے۔ اس سے النافقاء جو جنگلی چوہے کی بل ہوتی ہے۔ سورة بقرہ میں اس کا بیان گزر چکا ہے۔ اسی سے المنافق ہے یہ پہلے گزر چکا ہے۔ او سلما یہ نفقا پر معطوف ہے یعنی آسمان کی طرف سیڑھی، یہ تمثیل ہے کیونکہ السلم کی کیونکہ سیڑھی ہوتی ہے جس پر چڑھا جاتا ہے وہ دوسری جگہ پہنچنے کا سبب ہوتی ہے۔ اور وہ مذکر ہے اور فراء نے سلم کی تانیث حکایت کی ہے وہ معروف نہیں ہے۔ قتادہ نے کہا : السلم سے مراد سیڑھی ہے۔ زجاج نے کہا : یہ السلام تہ سے مشتق ہے گویا وہ تجھے وہاں پہنچاتا ہے جہاں آپ چاہتے ہیں۔ فتایتھم بایتہ اس کا سابقہ کلام پر عطف کیا گیا یعنی تاکہ وہ ایمان لے آئیں تو ایسا کرو۔ جواب حذف کیا گیا ہے، کیونکہ سامع کو علم تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ آپ ان پر زیادہ غم نہ کھائیں، کیونکہ یہ ایمان نہیں لائیں گے جیسا کہ وہ ان کی ہدایت کی طاقت نہیں رکھتے۔
آیت : ولو شاء اللہ لجمعھم علی الھدی اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان سب کو مومن پیدا فرماتا اور ان کو ہدایت پر پابند کردیتا۔ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ ان کا کفر اللہ کی مشیت سے ہے۔ یہ قدریہ پرورد ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو انہیں کوئی ایسی نشانی دکھاتا جو انہیں ایمان کی طرف مجبور کرتی لیکن اس نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرے وہ اسے ثواب عطا کرے گا۔
آیت : فلا تکونن من الجھلین ہ یعنی ان لوگوں میں سے نہ ہوجاؤ جو غم زیادہ کرتے ہیں اور افسوس کرتے ہیں حتی کہ انہیں اس چیز نے شدید جزع فزع کی طرف اور غیر حلال چیز کی طرف نکالا، یعنی آپ ان کے کفر پر غمگین نہ ہوں کہ آپ حقیقت کو نہ جاننے والوں کی حالت کے قریب ہوجائیں۔ بعج علماء نے فرمایا : یہ خطاب رسول ﷺ کو ہے اور مراد آپ کی امت ہے، کیونکہ مسلمانوں کے دل ان کے کفر اور اذیت سے تنگ ہوتے ہیں۔
Ayahs 6:36–37آیت نمبر 36 تا 37 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : انما یستجیب الذین یسمعون یعنی جو غور سے سنتے اور سمجھتے ہیں اور حق کا ارادہ سنتے ہیں یہ وہ مومنین ہیں جو قبول کرتے ہیں اسے جو سنتے ہیں اور اس سے نفع حاصل کرتے ہیں اور عمل کرتے ہیں۔ یہ معنی حسن اور مجاہد نے بیان کیا ہے۔ کلام مکمل ہوئی۔ پھر فرمایا : آیت : ولموتی یبحثھم اللہ اس سے مراد کفار ہیں۔ یہ حسن اور مجاہد سے مروی ہے یعنی وہ مردوں کے قائم مقام ہیں، کیونکہ وہ نہ حجت کو قبول کرتے ہیں اور نہ اس کی طرف غور کرتے ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : المیتی سے مراد ہر وہ شخص ہے جو مر چکا ہے۔ یبعثھم اللہ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو حساب کے لیے اٹھائے گا۔ پہلی صورت میں اس کا معنی ہوگا اللہ تعالیٰ انہیں اللہ اور رسول پر ایمان کی ہدایت دے گا۔ حسن سے مروی ہے وہ انہیں شرک سے نکالے گا حتی کہ وہ اے پیارے محمد ! وہ آپ پر ایمان لائیں گے یعنی موت کے وقت دنیا میں مجبوری کی حالت میں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : و قالوا لو لا نزل علیہ ایت من ربہ حسن نے کہا : یہاں لولا بمعنی ھلا ہے۔ شاعر نے کہا :
تعدون عقر النبیب افضل مجدکم بنی ضوطری لولا ال کی السقنعا
تو مشرکوں کا یہ قول دلائل کے ظاہر ہونے کے بعد ہٹ دھرمی کی بنا پر تھا، کیونکہ قرآن کے ذریعے حجت قائم کی گئی تھی جس کا مثل وہ پیش کرنے سے عاجز آگئے تھے، کیونکہ قرآن کی جو فصاحت اور غیوب کا علم ہے (وہ کسی بشر کے پاس نہیں) آیت : ولکن اکثر ھم لا یعلمون یعنی وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ جو آیات نازل فرماتا ہے ان میں بندوں کی مصلحت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ ان کی پشتوں سے ایسے لوگ نکلیں گے جو اس پر ایمان لائیں گے اور اس نے ان کو ختم کرنے کا ارادہ نہیں کیا۔ بعض علماء نے فرمایا : آیت : ولکن اکثر ھم لا یعلمون وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے انزال پر قادر ہے۔ زجاج نے کہا : انہوں نے یہ مطالبہ کیا کہ وہ انہیں ہدایت پر جمع کر دے، یعنی مجبور کر کے جمع کر دے۔
Ayah 6:38آیت نمبر 38 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : و ما من دابت فی الا رض دابت کا معنی اور تفصیل سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ یہ دب یدب فھو داب ہے جس کا معنی ہے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر چلنا۔ آیت : ولا طئر یطیر بجناحیہ، طائر جر کے ساتھ ہے لفظ پر عطف کیا گیا ہے۔
حسن اور عبداللہ بن ابی اسحاق نے ولا طائر رفع کے ساتھ پڑھا ہے انہوں نے مقام پر عطف کی بنا پر ایسا پڑھا ہے۔ من زائدۃ ہے تقدیر وما دابت ہے، بجناحیہ تاکید ہے اور ابہام کے ازالہ کے لیے ہے، کیونکہ عرب طیران کو پرندے کے علاوہ کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں تو کسی شخص کو کہتا ہے طرفی حاجتی یعنی تو میری حاجت کے لیے جلدی کر۔ بجناحیہ ذکر فرمایا تاکہ قول پرندے کے لیے خاص ہوجائے اور طیران کا لفظ دوسروں کے لیے مجاز ہے۔ بعض نے فرمایا : پرندے کے جسم کا اعتدال دونوں پر کے درمیان اس کی اڑنے میں مدد کرتا ہے اگر وہ غیر معتدل ہوتا تو وہ ایک طرف جھک جاتا پس اس نے ہمیں بتایا کہ پروں کے ساتھ پرندوں کا اڑنا ہے۔ آیت : ما یمسکھن الا اللہ (النحل : 79) جناح پرندے کی اس طرف کو کہتے ہیں جس کے ساتھ وہ ہوا میں اڑ سکتا ہے اس کی اصل کسی جانب مائل ہونا ہے اسی سے جنحت السفینت ہے جب کشتی زمین کی طرف جھک جائے اس کے ساتھ لگ کر رک جائے طائر الانسان سے مراد انسان کا عمل ہے قرآن حکیم میں ہے آیت : و کل انسان الزمنہ طئرہ فی عنقہ (الاسرائ : 13) اور ہر انسان کی قسمت کا نوشتہ اس کے گلہ میں ہم نے لٹکا رکھا ہے۔
آیت : الا امم امثالکم یعنی وہ تمہاری مثل جماعت ہیں انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور ان کے رزق کی کفالت کا ذمہ داری اٹھائی ہے اور ان میں عدل قائم کیا ہے پس تم ان پر ظلم نہ کرو اور ان کے بارے میں جو تمہیں حکم دیا گیا ہے اس میں تجاوز نہ کرو۔ دابت یہ لفظ تمام مادب پر بھی واقع ہوتا ہے جو چیزیں زمین میں ہیں ان کا خاص ذکر کیا ہے آسمان کی چیزوں کا ذکر نہیں کیونکہ وہ زمین کی چیزوں کو جانتے تھے اور ان کا مشاہدہ کرتے تھے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ تسبیح اور دلالت میں ہماری مثل ہیں اس کا معنی ہے کوئی جانور اور پرندہ نہیں مگر وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتا ہے اور اس کی وادنیت پر دلالت کرتا ہے اگر کفار غور کریں۔ حضرت ابوہریرہ نے کہا : یہ اس معنی پر ہماری مثل ہے کہ جانور بھی کل اٹھائے جائیں گے۔ سینگوں والے سے بغیر سینگوں والے جانور کے لیے قصاص لیا جائے گا پھر اللہ تعالیٰ اسے فرمائے گا : مٹی ہوجا۔ یہ زجاج کا اختیار ہے اس نے کہا : الا امم امثا لکم تخلیق، رزق، موت، بعث اور قصاص میں تمہاری مثل ہیں، اس میں پہلے قول کا معنی بھی داخل ہے۔ سفیان بن عیینہ نے کہا : جانوروں اور پرندوں کی ہر صنف میں انسانوں میں مشابہت ہے، بعض لوگ شیر کی طرح دوڑتے ہیں، بعض خنزیر کی طرح حریص ہوتے ہیں، بعض کتے کی طرح غراتے ہیں، بعض مور کی طرح چمکیلے ہوتے ہیں یہ مماثلث کا معنی ہے۔ خطابی نے اس کو عمدہ کہا ہے انہوں نے کہا : تو بہائم اور سباع کے ساتھ رہتا ہے۔
پس ان سے احتیاط حاصل کر۔ مجاہد نے کہا : الا امم امثالکم ان کی اصناف کے نام سے ہے جن کے ساتھ یہ پہچانے جاتے ہیں جس طرح تم پہچانے جاتے ہو۔ اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں جو صحیح نہیں ہیں، مثلا وہ معرفت میں ہماری مثل ہیں وہ قیامت کے روز اٹھائے جائیں گے اور جنت میں نعمتیں دیے جائیں گے اور دنیا میں جو تکالیف ان پر آئیں ان کا عوض دیا جائے گا اور اہل جنت ان کی شکلوں کو دیکھ کر مانوس ہوں گے۔ صحیح قول یہی ہے کہ وہ ہماری طرح مخلوق ہیں، اللہ تعالیٰ کی ذات پر دال ہیں، اللہ تعالیٰ کی محتاج ہیں، اس کی طرف سے انہیں رزق دیا جاتا ہے جس طرح تمہارا رزق اللہ تعالیٰ پر ہے۔
سفیان کا قول عمدہ ہے، کیونکہ یہ تشبیہ ہے جو وجود میں واقع ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ما فرطنا فی الکتاب من شیئ، الکتب سے مراد لوح محفوظ ہے جو واقعات ہوتے ہیں سب اس میں رقم فرمائے ہیں۔ بعض نے فرمایا : الکتاب سے مراد قرآن ہے یعنی ہم نے امر دین میں سے کسی چیز کو ترک نہیں کیا مگر ہم نے قرآن میں اس پر دلالت کی ہے یا تو واضح دلالت سے یا مجمل دلالت سے جس کا بیان رسول ﷺ سے یا اجماع سے یا قیاس سے حاصل ہوتا ہے۔ وہ قیاس جو نص الکتاب سے ثابت ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : و نزلنا علیک الکتاب تبیانا لکل شیئ (النحل : 89) اور فرمایا : آیت : و انزلنا الیک الذکر لتبین للناس مانزل الیھم (النحل : 44) اور ہم نے اتاری ہے آپ پر یہ کتاب اس میں تفصیلی بیان ہے ہر چیز کا۔ اور فرمایا : اور ہم نے نازل کیا آپ پر یہ ذکر تاکہ آپ کھول کر بیان کریں لوگوں کے لیے (اس ذکر کو) جو نازل کیا گیا ہے ان کی طرف۔ فرمایا : آیت : و ما اتکم الرسول فخذوہ وما نھکم عنہ فانتھوا (الحشر : 7) اور رسول ﷺ (کریم) جو تمہیں عطا فرما دیں وہ لے لو اور جس سے تمہیں روکیں تو رک جاؤ۔
اس آیت میں اور سورة النحل کی آیت میں اجمالی طور پر اسے بیان فرمایا جس پر نص قائم نہ تھی اور جس کا ذکر نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا کہ قرآن میں کسی چیز کا نہیں چھوڑا مگر اسے بیان فرمایا خواہ تفصیلا خواہ اصلا اور فرمایا آیت : الیوم اکملت لکم دینکم (المائدہ : 3) آج مکمل کردیا میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ثم الی ربھم یحشرون یعنی جزا کے لیے اٹھائے جائیں گے جیسا کہ حضرت ابوہریرہؓ کی حدیث میں گزرا ہے صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :" قیامت کے روز حقوق والوں کو حقوق ادا کیے جائیں گے حتی کہ سینگوں والی بکری سے بغیر سینگوں والی بکری کے لیے قصاص لیا جائے گا "۔ یہ دلیل ہے کہ جانوروں کو بھی قیامت کے روز اٹھایا جائے گا۔ یہ حضرت ابوذر، حضرت ابوہریرہ اور حسن وغیرہ کا قول ہے۔ حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے حضرت ابن عباسؓ نے ایک روایت میں فرمایا : جانوروں اور پرندوں کا حشر ان کا مرنا ہے۔ یہ ضحاک کا قول ہے۔ پہلا قول اصح ہے آیت کا ظاہر اور خبر صحیح اس کی تائید کرتی ہے۔ قرآن حکیم میں ہے : آیت : و اذا الوحوش حشرت (التکویر) اور حضرت ابوہریرہ کا قول، جعفر بن برقان نے یزید بن اصم کے حوالہ سے روایت کیا ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ساری مخلوق کو اٹھائے گا جانور، حیوان، پرندے اور ہر چیز کو اٹھائے گا، اس دن اللہ تعالیٰ کے عدل سے سینگوں والی بکری سے بغیر سینگوں والی بکری سے قصاص لیا جائے گا۔ پھر فرمائے گا : تو متی ہوجا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : و یقول الکفر یلیتنی کنت ترابا (النبائ) اور کافر (بصد حسرت) کہے گا : کاش میں خاک ہوتا۔ عطاء نے کہا : جب جانور بنی آدم کو اور ان کی گھبراہٹ کو دیکھیں گے تو وہ کہیں گے : سب تعریفیں اللہ کے لیے جس نے ہمیں تمہاری مثل تو نہیں بنایا، ہم نہ تو جنت کے امیدوار ہیں اور نہ دوزخ کا خوف ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں فرمائے گا : مٹی ہوجاؤ۔ اس وقت کافر خواہش کرے گا کہ وہ مٹی بن جائے۔ ایک جماعت نے کہا : یہ حشر جو آیت میں ہے وہ کفار کی طرف راجع ہے اور جو درمیان میں ہے وہ کلام معترض ہے اور دلائل کا قیام ہے۔ رہی حدیث تو اس سے مقصود حساب، قصاص کی تعظیم کی جہت پر تمثیل ہے اور اس میں اعتناء کی عظمت کے اعتبار سے تمثیل ہے تاکہ اس سے سمجھا جائے کہ ہر ایک سے حساب ہوگا اس سے کسی کے لیے بھاگنا نہیں ہے اور انہوں نے اس کو ایک اور حدیث سے تائید دی ہے جو صحیح میں نہیں ہے، بعض روات سے زیادتی مروی ہے فرمایا : حتی کہ بغیر سینگوں والی بکری کے لیے سینگوں والی بکری سے قصاص لیا جائے گا اور اس پتھر کے لیے قصاص لیا جائے گا جسے دوسرا پتھر لگا ہوگا اور اس لکڑی کے لیے قصاص لیا جائے گا جس کو دوسری لکڑی نے خراش دی ہوگی۔ ان علماء نے کہا : پس ظاہر ہوا کہ اس سے مقصود وہ تمثیل ہے جو عبرت اور خوف دلانے کے لیے مفید ہے، کیونکہ جمادات کو خطاب ثواب اور عقاب معقول نہیں اور کوئی بھی شعور والا یہ نظریہ نہیں رکھتا، یہ بیوقوف لوگوں کا ہی تصور ہو سکتا ہے۔ یہ علماء فرماتے ہیں : قلم ان پر جاری نہیں ہوتا پس ان سے مؤاخذہ جائز نہیں۔
میں کہتا ہوں : صحیح پہلا قول ہے جیسا کہ ہم نے حضرت ابوہریرہ کی حدیث سے ذکر کیا ہے اگرچہ احکام میں ان پر قلم جاری نہیں ہوتا لیکن جو ان کے درمیان ہوا اس کا ان سے مواخذہ ہوگا۔ حضرت ابوذر سے مروی ہے فرمایا : نبی کریم ﷺ کے سامنے دو بکریوں نے ایک دوسری کو سینگ مارے تو آپ ﷺ نے فرمایاـ:" اے ابوذر ! کیا تو جانتا ہے جو انہوں نے ایک دوسرے کو سینگ مارے ہیں ؟ " میں نے کہا : نہیں۔ فرمایا :" اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور وہ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا " یہ نص ہے مزید بیان ہماری کتاب التذکرۃ باحوال وامورالاخرۃ میں مجود ہے۔