Ayah 6:70آیت : 70
یعنی آپ ان کے ساتھ قلبی تعلق قائم نہ کیجئے، کیونکہ وہ خطا اور لغزش کو تلاش کرنے والے لوگ ہیں اگرچہ آپ ان کے ساتھ وعظ و نصیحت کرنے پر مامور ہیں۔ حضرت قتادہ ؓ نے بیان کیا ہے : یہ حکم منسوخ ہے اور اس کا ناسخ آیت : فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم (توبہ : 5) ہے۔
اور آیت : لعبا و لھوا کا معنی ہے اس دین کے ساتھ استہزا کرنا جس کی طرف آپ انہیں دعوت دیتے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : انہوں نے اس دین کے ساتھ استہزا کیا جس پر وہ تھے، پس انہوں نے اس کے مطابق عمل نہیں کیا۔ اور استہزاء دین میں جائز نہیں ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لعباولھوا کا معنی باطلا و فرحا ہے ( یعنی باطل قرار دینا اور پھر خوش ہونا) اس کا بیان پہلے گزر چکا ہے اور لعبا کا لفظ چار مقامات پر مقدم آیا ہے اور اسے اس طرح نظم کیا گیا ہے :
اذا أتی لعب و لھو و کم من موضع ھو فی القرآن
” جب لعب ولہو مذکور ہو اور قرآن کریم میں یہ کتنے مقامات پر ہے پس ایک بار ( سورة ) الحدید میں اور ایک بار القتال میں اور دو مقامات پر سورة الانعام میں ہے “۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں دین سے مراد عید ہے۔ کلبی نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے لیے عید بنائی ہے جس کی وہ تعظیم و تکریم کرتے ہیں اور اس دن اللہ تعالیٰ کی عبادت و ریاضت کرتے ہیں۔ ہر قوم نے اپنی عید کو لعب و لہو بنا دیا ہے سوائے حضور نبی مکرم ﷺ کی امت کے، کین کہ انہوں نے اسے نماز، ذکر اور صدقہ وغیرہ دینے کا دن بنایا ہے، مثلا جمعہ کا دن عید الفطر کا دن اور قربانی کا دن۔
قولہ تعالیٰ : آیت : وغرتھم الحیٰوۃ الدنیا یعنی وہ دینوی زندگی کے ظاہر کے سوا کچھ نہیں جانتے۔
قولہ تعالیٰ : آیت : وذکر بہ آپ انہیں نصیحت کیجئے قرآن کے ساتھ یا (یوم) حساب کے ساتھ۔
آیت : ان تبسل نفس بما کسبت یعنی نفس کو گروی رکھ دیا جائے اور ہلاکت کے حوالے کردیا جائے۔ یہ معنی حضرت مجاہدؓ، قتادہ، حسن، عکرمہ اور سدی سے مروی ہے۔ اور ابسال کا معنی ہے : آدمی کو ہلاکت کے لیے پیش کرنا۔ لغت میں یہی معنی معروف ہے۔ أبسلت ولدی میں نے اپنے بچے کو رہن رکھا۔ عوف بن احوض ابن جعفر نے کہا ہے :
وأبسال بنی بغیر جرم بعناہ ولا بدم مراق
بعوناہ یہ لفظ عین مہملہ کے ساتھ ہے اس کا معنی جنینا (ہم نے اسے مجرم قرار دیا)
اور البعر کا معنی الجنایۃ (جرم) ہے۔ بنی قشیر کے غنی نے سجیفہ کے دو بیٹوں کے خون کا ذمہ اٹھایا تو انہوں نے کہا : ہم تجھ سے راضی نہ ہوں گے، تو اس نے صلح کے مطالبہ میں اپنے بیٹوں کو ان کے پاس رہن رکھ دیا، اور نابغہ جعدی نے شعر کہا :
ونحن رھنا بالأفاقۃ عامرا بما کان فی الدرداء رھنا فأبسلا
الدرداء ان کا ایک دستہ تھا۔ آیت : لیس لھا من دون اللہ ولی ولا شفیع اس کا معنی پہلے گزر چکا ہے۔
قولہ تعالیٰ : وان تعدل کل عدل لا یوخذ منھا الآیۃ عدل کا معنی فدیہ ہے اور یہ سورة البقرہ میں گزر چکا ہے اور ھیم کا معنی گرم پانی ہے اور قرآن کریم میں ہے آیت : یصب من فوق رء وسھم الحمیم، الآیہ (الحج) ” انڈیلا جائے گا ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی “
آیت : یطوفون بینھا وبین حمیم اٰن (الرحمٰن) ” وہ گردش کرتے رہیں گے جہنم اور گرم کھولتے ہوئے پانی کے درمیان جواز حد گرم ہوگا “۔ اور یہ آیت بھی آیت قتال کے ساتھ منسوخ ہے۔
اور یہ بھی گیا ہے کہ یہ منسوخ نہیں ہے، کیونکہ ارشاد گرامی آیت : وذر الذین اتخذوا دینھم تہدید اور جھڑک ہے، جیسا کہ یہ ارشاد گرامی ہے : آیت : ذرھم یاکلوا ویتمتعوا (الحجر : 3) اور اس کا معنی ہے : آپ ان پر غمزدہ نہ ہوں، کیونکہ آپ تبلیغ کرنا اور نفوس کی ہلاکت کے بارے نصیحت کرنا لازم ہے، پس جس نے (اپنے نفس کو) ہلاک کردیا تحقیق اس نے اپنے آپ کو حوالے کردیا اور گروی رکھ دیا۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا اصل معنی حرام کرنا ہے، یہ ان کے قول سے ماخوذ ہے : ھذا بسل علیک ای حرام ( یہ تجھ پر حرام ہے) گویا وہ جنت سے محروم کردیئے گئے اور جنت ان پر حرام کردی گئی۔ شاعر نے کہا :
أجارتکم بسل علینا محرم وجارتنا حل لکم وھلیلھا
أبسال بمعنی تحریم ہے۔
Ayahs 6:71–73آیت : 71۔ 72۔ 73
آیت : قل اندعوا من دون اللہ مالا ینفعنا یعنی وہ جو ہمیں کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا اگر ہم اسے پوجیں۔ آیت : ولا یضرنا اور وہ ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اگر ہم اسے چھوڑ دیں۔ اس سے مراد بت (اصنام) ہیں۔ آیت : ونرد علی اعقابنا بعد اذ ھدنا اللہ یعنی ہم ہدایت کے بعد ضلالت و گمراہی کی جانب لوٹ جائیں۔
اعقاب کا واحد عقب ہے اور یہ مؤنث ہے، اور اس کی تصغیر عقیبۃ ہے۔ جب کوئی الٹے پاؤں واپس لوٹے تو کہا جاتا ہے : رجع فلان علی عقبیہ ابو عبیدہ نے کہا ہے : جو کوئی اپنی حاجت اور ضرورت سے واپس لوٹ آئے اور وہ اس کے ساتھ کامیاب نہ ہو تو کہا جاتا ہے : قدرد علی عقبنیہ۔
اور مبرد نے کہا ہے : اس کا معنی ہے تعقب بالشر بعد الخیر (وہ خیر اور بھلائی کے بعد شر کی طرف واپس لوٹا) ۔ یہ اصل میں العاقبۃ اور العقبی سے ماخوذ ہے اور یہ دونوں اس شی کے لیے (بولے جاتے) ہیں جو کسی شی کے پیچھے ہو اور واجب ہے کہ وہ اس کی اتباع اور پیروی میں ہو۔ اور اسی سے آیت : والعاقبۃ للمتقین ہے اور اسی معنی میں عقب الرجل ( پاؤں کی ایڑی) بھی ہے اور اسی سے العقوبۃ ہے، کیونکہ وہ (سزا) گناہ کے پیچھے ہوتی ہے اور گناہ کے سبب ہوتی ہے۔
قولہ تعالیٰ : آیت : کالذ اس میں کاف مصدر محذوف کی صفت ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔
آیت : استھوتہ الشیٰطین فی الارض حیران یعنی جنوں نے اسے گمراہ کردیا اور انہوں نے اس کی خواہش کو آراستہ اور مزین کیا اور اسے اس کی طرف دعوت دی۔ کہا جاتا ہے : ھوی یھوی الی الشیء کسی شے کی طرف انتہائی تیزی سے بڑھنا۔ اور زجاج نے کہا ہے : ھوی یھوی سے ماخوذ ہے اور یہ ھوی النفس سے ماخوذ ہے۔
یعنی شیطان نے اس کے لیے اس کی خواہش کو آراستہ کیا اور جماعت کی قرأت استھوتہ ہے یعنی ھوت بنی ( جنات نے اسے بھٹکا دیا) یہ قرأ ت جماعت کے مونث ہونے کی بنا پر ہے۔ اور حمزہ نے جمع کے مذکر ہونے کی بنا پر استھواہ الشیاطین پڑھا ہے۔ اور حضرت ابن مسعود ؓ سے استھواہ الشیطان مروی ہے اور حسن سے بھی مروی ہے اور اسی طرح حضرت ابی کی قرأت میں ہے اور ائتنا کا معنی تابعنا (تو ہماری پیروی کر) ہے۔
اور حضرت عبداللہ ؓ کی قرأت میں بھی دعونہ الی الھدی بینا ہے اور حسن سے بھی استھوتہ الشیاطون مروی ہے۔ حیران حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے اور یہ غیر منصرف ہے، کیونکہ اس کی مونث حیریٰ ہے جیسا کہ سکران کی مونث سکری ٰ اور غضبان کی مونث غضبی ہے۔ اور حیران وہ ہوتا ہے جو اپنے معاملے کی جہت کی رہنمائی نہیں پا سکتا۔ اور حاریحار حیرا و حیرۃ و حیرورۃ کا معنی ہے تردد (مضطرب اور متردد ہونا) اور اسی وجہ سے وہ پانی جو متغیر ہو کر زردرنگ ہوجائے اور اس کے باہر نکلنے کا رستہ (سوراخ) نہ ہو اس کا نام حائر رکھا گیا ہے اور اس کی جمع حوران ہے۔ اور الحائر وہ جگہ جس میں پانی متغیر اور متردد ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے :
تخطو علی بردیتین غذاھما غدق بساحۃ حائر یعبوب
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : بت کی پوجا کرنے والے کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جسے کوئی جن بلاتا ہے اور وہ اس کی پیروی میں چل پڑتا ہے اور ویہ صبح اس حال میں کرتا ہے کہ اس نے اسے انتہائی گمراہ کن اور ہلاکت والی جگہ میں پھینک دیا ہوتا ہے، اور پھر وہ اسی کی مصیبت اور تکلیف میں سرگرداں رہتا ہے۔ (تفسیر طبری جلد 9 صفحہ 329) اور ابو صالح کی روایت میں کہا ہے : یہ آیت حضرت عبدالرحمن ابن ابی بکر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، وہ اپنے والدین کو کفر کی دعوت دیتے تھے اور ان کے والدین اور مسلمان انہیں اسلام کی دعوت دیتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد : آیت : لہ اصحٰب یدعونہ الی الھدی کا یہی معنی ہے۔ اور وہ اس کا انکار کرتے تھے۔
ابو عمر نے بیان کیا ہے : ان کی والدی ام رومان بنت حارث بن غنم کنانیہ تھی اور وہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے سگے بھائی تھے۔ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ حالت کفر میں اپنی قوم کے ہمراہ بدر واحد ( کے میدان) میں حاضر ہوئے اور دعوت مبارزت دی اور ان کے مقابلے کے چیلنج کو قبول کرنے ہوئے ان کے والد محترم (حضرت ابوبکر صدیق ؓ) ان کی طرف بڑھے اور یہ ذکر کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا : متعنی بنفسک ( مجھے اپنی ذات سے فائدہ پہنچاؤ) پھر وہ (عبدالرحمن) اسلام لائے اور اپنے اسلام کو خوب اچھا کیا اور وہ صلح حدیبیہ کے وقت حضور نبی مکرم ﷺ کی معیت میں تھے۔ یہ اہل سیر کا قول ہے۔ انہوں نے کہا ہے : ان کا نام عبدالکعبہ تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے بدل کر عبدالرحمن رکھ دیا اور وہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی اولاد میں سب سے بڑے تھے۔
اور کہا جاتا ہے کہ نسل در نسل چار افراد نے حضور نبی مکرم ﷺ کو نہیں پایا، یعنی باپ ہو اور اس کے بیٹے ہوں سوائے حضرت ابو قحافہ، ان کے صاحبزادے حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، ان کے بیٹے عبدالرحمن بن ابی بکر اور ان کے بیٹے ابو عتیق محمد بن عبدالرحمن ؓ کے۔ واللہ اعلم
قولہ تعالیٰ : آیت : 71
کیونکہ حروف اضافت میں سے بعض کو بعض پر عطف کیا جاتا ہے۔ فراء نے کہا ہے : اس کا معنی ہے أمرنا بأن نسلم (ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم گردن جھکا دین) کیونکہ عرب کہتے ہیں : أمرتک لتذھب، و بأن تذھب دونوں کا معنی ایک ہے (معانی القرآن للفرائ، جلد 1 صفحہ 339) (میں نے تجھے حکم دیا کہ تو چلا جا)
نحاس نے کہا ہے : میں نے ابو الحسن بن کیسان کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ یہ لام جارہ ہے۔ اور کل لام تین قسم کے ہیں : لام خفض (لام جارہ) لام امر اور لام توکید، کوئی لام ان تین قسموں سے خارج نہیں ہو سکتا۔ اور اسلام کا معنی اخلاص ہے ( یعنی مخلص ہونا) ۔
اور اقامۃ الصلوٰۃ کا معنی ہے نماز ادا کرنا اور اس پر دوام اختیار کرنا۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ وان اقیموا الصلوٰۃ کا معنی پر عطف ہو، یعنی یدعونہ الی الھدی ویدعونہ ان اقیموا الصلاۃ (وہ اسے بلا رہے ہوتے ہیں ہدایت کی طرف اور وہ اسے بلا رہے ہوتے ہیں کہ صحیح صحیح نماز ادا کرہ) کیونکہ ائتنا کا معنی ہے ان ائتنا۔
قولہ تعالیٰ : آیت : وھو الذی الیہ تحشرون یہ مبتدا اور خبر ہیں۔ اور اسی طرح وھو الذی خلق السموات والارض بھی ہے یعنی وہی وہ ذات ہے جس کے لیے واجب ہے کہ اس کی عبادت کی جائے نہ کہ بت اور بالحق کا معنی بکلمۃ الحق ہے (یعنی کلمہ حق کے ساتھ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا) اور اس سے مراد اس کا قول کن ہے۔
قولہ تعالیٰ : آیت : ویوم یقول کن فیکون اور یاد کرو اس دن کو جس دن وہ کہے گا : تو ہو جا یا تم اس دن سے ڈرو جس دن وہ کن کہے گا یا اس دن کا اندازہ کرو جس دن وہ کن کہے گا۔ (یعنی اس یوم سے پہلے اد کر یا اتقوا یا قدر فعل محذوف ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا عطف واتقوہ کی باء پر ہے۔ فراء نے کہا ہے : کن فیکون کہا جاتا ہے یہ صور کے لیے خاص ہے۔ یعنی ویوم یقول للصور کن فیکون ( جس دن وہ صور کو کہے گا تو ہوجا تو وہ ہوجائے گا) اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے وہ لوگوں میں سے جن کی موت کا اور جن کی حیات کا ارادہ فرمائے وہ سب ہوجاتا ہے۔ اور ان دونوں تاویلوں کی بنا پر قولہ الحق مبتدا اور خبر ہے۔
اور یہ قول بھی ہے کہ قول باری قولہ الحق کے سبب مرفوع ہے، یعنی وہ ہوجاتا ہے جس کے بارے میں وہ حکم دیتا ہے اور الحق اس کی نعت ہے اور اس بناء پر مکمل معنی اس طرح ہوگا : آیت : فیکون قولہ الحق۔
اور ابن عامر نے فیکون نصب کے ساتھ قرأت کی ہے اور یہ حساب اور بعث بعد الموت کی سرعت اور تیزی کی طرف اشارہ ہے اور سورة البقرہ میں اس پر مکمل بحث گزر چکی ہے۔
قولہ تعالیٰ : آیت : یوم ینفخ فی الصور یعنی اس کی بادشاہی ہوگی جس دن صور میں پھونکا جائے گا یا اس کا حق ہوگا جس دن صور میں پھونکا جائے گا ( یعنی تقدیر عبارتے یہ ہے آیت : ولہ الملک یوم ینفخ فی الصور او ولہ الحق یوم ینفخ فی الصور) اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ (یوم) یوم یقول سے بدل ہے (اعراب القرآن للخاص، جلد 2، صفحہ 57 ) ۔ اور صور نور کا ایک سینگ ہے جس میں پھونکا جائے گا، پہلا نفخہ فنا کے لیے ہوگا اور دوسرا اٹھانے اور زندہ کرنے کے لیے (جامع ترمذی، باب ومن سورة الزمر، حدیث نمبر 3167، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور یہ صورۃ کی جمع نہیں ہے جیسا کہ بعض نے گمان کیا ہے، یعنی مردوں کی صورتوں (جسموں) میں پھونکا جائے گا جیسا کہ ہم اسے بیان کریں گے۔ امام مسلم (رح) نے حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کی حدیث بیان کی ہے ”۔۔ پھر صور میں پھونکا جائے گا اور اسے کوئی بھی نہیں سنے گا مگر وہ گردن کو جھکائے گا اور گردن کا اٹھالے گا۔۔۔ فرمایا۔۔۔ اور پہلے پہلے جو آدمی اسے سنے گا وہ اپنے اونٹ کے حوض کو مٹی کا لیپ کر رہا ہوگا۔۔ فرمایا۔۔ پس وہ مرجائے گا اور لوگ بھی مرجائیں گے پھر اللہ تعالیٰ بھیجے گا۔۔ یا فرمایا اللہ تعالیٰ نازل فرمائے گا۔۔ بارش جو شبنم کی طرح ہوگئی اور اس سے لوگوں کے جسم اگ پڑیں گے پھر صور میں دوسری بار پھونکا جائے گا تب وہ کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے “ (مسند امام احمد، حدیث نمبر 6555) آگے پوری حدیث ذکر کی۔۔
اور قرآن کریم میں بھی اسے طرح ہے آیت : ثم نفخ فیہ اخری (الزمر : 68) یہاں فیھا نہیں فرمایا، تو اس سے معلوم ہوگیا کہ یہ صورۃ کی جمع نہیں ہے اور تمام امتوں کا اس پر اجماع ہے کہ صور میں حضرت اسرافیل (علیہ السلام) پھونکیں گے۔ ابو الہیثم نے کہا ہے : جو کوئی صور کے سینگ ہونے کا انکار کرے تو وہ اس کی طرح ہے جو عرش، میزان اور پل صراط کا انکار کرتا ہے اور ان کی تاویلات تلاش کرتا ہے۔ ابن فارس نے کہا ہے : وہ صور جس کا ذکر حدیث طیبہ میں ہے وہ سینگ کی مانند ہے اسی میں پھونکا جائے گا۔ اور صور صورۃ کی جمع ہے۔ اور جوہری نے کہا ہے : صور سینگ ہے۔ راجز کا قول ہے :
لقد نطحنا ھم غداۃ الجمعین نطحا شدید لا کنطح الصورین
اور اسی معنی میں یہ ارشاد باری تعالیٰ بھی ہے : آیت : یوم ینفخ فی الصور (النمل : 87)
کلبی نے کہا ہے : میں نہیں جانتا وہ صور کیا ہے۔ اور کہا جاتا ہے : وہ صورۃ کی جمع ہے جیسا کہ بسرۃ اور بسر ہے۔ یعنی مردوں کی صورتوں (جسموں) اور ارواح میں پھونکا جائے گا۔ اور حسن نے یوم ینفخ فی الصور پڑھا ہے، اور صور میں ایک لغت صاد کے کسرہ کے ساتھ صور بھی ہے یہ صورۃ کی جمع ہے اور اس کی جمع صوار ہے، اور اس میں ایک لغت صیار یا کے ساتھ بھی ہے۔ اور عمرہ بن عبید نے کہا ہے عیاض نے پڑھا ہے آیت : یوم ینفخ فی الصور اور اس سے مراد خلق ہے۔ واللہ اعلم
میں ( مفسر) کہتا ہوں : جس نے کہا ہے اس آیت میں صور سے مراد صورۃ کی جمع ہے وہ ابو عبیدہ ہے۔ اگرچہ اس کا احتمال ہے لیکن یہ کتاب و سنت کے ساتھ مردود ہے اور یہ بھی کہ دوبارہ زندہ کرنے کے لیے صور میں دو بار نہیں پھونکا جائے گا، بلکہ اس میں ایک بار پھونکا جائے گا، پس حضرت اسرافیل (علیہ السلام) اس صور میں ایک بار پھونکیں گے جو کہ سینگ ہے اور اللہ تعالیٰ جسموں کو زندہ فرما دے گا۔
اور قرآن کریم میں ہے : آیت فنفخنا فیہ من روحنا (التحریم : 12)
قولہ تعالیٰ : آیت علم الغیب والشھادۃ اس میں عالم، الذی کی صفت ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے یعنی وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو تخلیق فرمایا وہ عالم الغیب ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ (عالم الغیب) اپنے سے پہلے مبتدا مضمر ہونے کی بنا پر مرفوع ہو۔ اور بعض سے یہ مروی ہے کہ انہوں نے ینفخ پڑھا ہے تو اس صورت میں یہ جائز ہے کہ اس کا فاعل علم الغیب ہو، کیونکہ جب اس میں پھونک اللہ تعالیٰ کے حکم سے بھی ماری جائے گی تو پھر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہی منسوب ہوگا۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ عالم معنی پر محمول کرتے ہوئے مرفوع ہو جیسا کہ سیبویہ نے کہا ہے :
لیبک یزید ضارع لخصومۃ
حسن اور اعمش نے عالم کہ لہ کی ہا سے بدل بناتے ہوئے مجرور پڑھا ہے۔
Ayah 6:74آیت : 74
قولہ تعالیٰ : آیت : واذ قال ابراھیم لابیہ ازر اس بارے میں علماء نے کافی کلام کیا ہے، پس ابوبکر محمد بن حسن جوینی شافعی اشعری نے ” النکت “ میں اس کی تفسیر میں کہا ہے : لوگوں کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام تارح ہے۔ اور جو کچھ قرآن کریم میں ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا نام آزر ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے نزدیک آزر ان کی لغت میں عیب اور برائی ہے گویا کہ یہ فرمایا : اور یاد کرہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کو کہا : یا مخطی (اے خطا کرنے والے) اتتخذ اصناما الھۃ ( کیا تم بتوں کو خدا بناتے ہو) اور جب معنی اس طرح ہو تو اسے مرفوع پڑھنا بھی جائز ہے۔
1 اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آزر بت کا نام ہے اور جب معنی یہ ہو تو محل نصب میں ہوگا اور اس سے پہلے فعل مضمر ہوگا، گویا کہ اس طرح کہا : آیت : واذ قال ابراھیم لابیہ اتتخذ آزر الھا، اتتخذ اصناما آلھۃ ( جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کو کہا : کیا تم آزر کو الٰہ بنا رہے ہو)
میں (مفسر) کہتا ہوں : جس اتفاق کا دعوی کیا ہے اس پر اجماع نہیں ہے۔ پس محمد بن اسحاق، کلبی اور ضحاک نے کہا ہے : بلاشبہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ آزر ہے اور وہی تارح ہے، جیسا کہ اسرائیل اور یعقوب ہیں۔ (میں کہتا ہوں) پس یہ دونوں نام اسی کے ہیں جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔
اور مقاتل نے کہا ہے : آزر لقب ہے اور تارح نام ہے اور اسے ثعلبی نے ابن اسحاق قشیری سے بیان کیا ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ معاملہ اس کے برعکس ہو۔ حسن نے کہا ہے : حضرت ابارہیم (علیہ السلام) کے باپ کا نام آزر تھا۔ اور سلیمان التمیمی نے کہا ہے : یہ گالی اور عیب ہے اور ان کے کلام میں اس کا معنی ہے وہ جو ٹیڑھا ہو ( یعنی بداخلاق ہو) ۔
معتمر بن سلمان نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا : مجھ تک یہ خبر پہنچی ہے کہ یہ کلمہ انتہائی عیب اور بدخلقی پر دلالت کرتا ہے اور یہ وہ شدید ترین کلمہ ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے لیے کہا۔ اور ضحاک نے کہا ہے : آزر کا معنی ہے اتنہائی پیر فرتوت (بہت بوڑھا) ۔
اور فراء نے کہا ہے : یہ ان کی لغت میں صفت ذم ہے، گویا کہ آپ نے کہا : اے خطا کرنے والے ( یعنی یا مخطئی) یہ اس کے مرفوع ہونے کے مطابق ہے اور جنہوں نے اسے مجرور پڑھا ہے اس کے مطابق تقدیر عبارت یہ ہوگئی : واذ قال ابراھیم لابیہ المخظیء ( اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے خطا کرنے والے باپ کو کہا) ۔ اور یہ غیر منصرف ہے، کیونکہ یہ افعل کے وزن پر ہے۔
نحاس نے یہی کہا ہے۔ اور جوہری نے کہا ہے : آزر عجمی اسم ہے، اور یہ آزر فلان فلانا سے مشتق ہے اس کا معنی ہے ازا عاونہ (جب کوئی دوسرے کی مدد کرے) اور وہ بتوں کی عبادت پر اپنی قوم کی مدد اور معاونت کرتا تھا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ القوۃ سے مشتق ہے۔ اور الأزر کا معنی قوت ہے۔ یہ ابن فارس سے منقول ہے۔ اور مجاہد اور یمان نے کہا ہے : آزر بت کا نام ہے اور یہ اس تاویل میں محل نصب میں ہے، تقدیر کلام ہوگئی آیت :: أتتخذ آزر الھا (کیا آپ بت کو الٰہ بنا رہے ہیں) آیت : أتتخذ اصناما اور یہ قول بھی ہے : کلام میں تقدیم و تاخیر ہے اور تقدیر کلام ہے آیت : : اتتخذ آزر اصناما۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : اس بنا پر آزر اسم جنس ہے۔ واللہ اعلم۔ اور ثعلبی نے کتاب ” العرائس “ میں کہا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وہ باپ جس کا نام اس کے باپ نے تارح رکھا تھا، جب وہ نمرود کے ساتھ اس کے بت کدے کا بااختیار متولی بن گیا تو اس نے اس کا نام آزر رکھ دیا۔ اور حضرت مجاہد نے کہا ہے : بلا شبہ آزر آپ (علیہ السلام) کے باپ کا نام نہیں ہے بلکہ وہ تو بت کا نام ہے اور آپ کا نسب اس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بن تارح بن ناخور بن ساروع ابن ارغو بن فالغ بن عامر بن شالخ بن ارفخشد بن سام بن نوح (علیہ السلام) (تفسیر طبری، جلد 9، صفحہ 344 ) ۔
اور آزر میں کئی قرائتیں ہیں : أازرا یہ دو ہمزوں کے ساتھ ہے اس میں پہلا مفتوح اور دوسرا مکسور ہے۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے اور آپ ہی سے أأزرا دو مفتوح ہمزوں کے ساتھ بھی مروی ہے اور اسے رفع کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے۔ اور یہ بھی حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ آپ کی پہلی دونوں قرأتوں کے مطابق تتخذ بغیر ہمزہ کے ہے۔
مہدی نے کہا ہے : أازرا ؟ تو کہا گیا ؛ بلا شبہ یہ بت کا نام ہے اور یہ أتتخذ ازرا کی تقدیر پر منصوب ہے اور اسی طرح أأزرا بھی ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ أازرا بنایا جائے اس بنا پر کہ یہ الأزر سے مشتق ہے اور اس کا معنی ہے پیٹھ، پس یہ مفعول من اجلہ ہوجائے گا۔ گویا کہ یہ کہا آیت :: أللقوۃ تتخذا اصناما ( کیا قوت کا سبب تم بتوں کو بناتے ہو) اور یہ بھی جائز ہے کہ ازر بمعنی وزر ( بوجھ) ہو، اور واؤ کو ہمزہ سے بدل دیا گیا ہو۔
قشیری نے کہا ہے : مشرکین پر حجت قائم کرتے ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور بتوں کی عبادت کے بارے میں آپ کا اپنے باپ کا رد کرنے کا واقعہ ذکر کیا ہے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اتباع و پیروی کرنے کے قریب تر لوگ عرب تھے، کیونکہ وہ آپ کی ذریت اور اولاد تھے (اور آیت میں اذکر فعل محذوف ہے) تقدیر کلام ہے : آیت : واذکر اذ قال ابراھیم (اور یاد کرو جب کہا ابراہیم (علیہ السلام) نے) یا پھر ذکر محذوف ہے جیسا کہ اس ارشاد گرامی میں مذکور ہے : آیت : ذکر بہ ان تفسل نفس بما کسبت ( اور نصحیت کرو قرآن سے تاکہ ہلاک نہ ہوجائے کوئی آدمی اپنے عملوں کی وجہ سے) اور تقدیر کلام ہوگی : آیت : وذکر اذ قال ابراہیم ( اور یاد دلائیے جب کہا ابراہیم (علیہ السلام) نے) اور آزر بھی پڑھا گیا ہے یعنی یا آزر، یہ منادی مفرد ہونے کی بنا پر ہے اور یہ حضرت ابی اور یعقوب وغیرہما کی قرأت اس کے قول کو تقویت دیتی ہے جو یہ کہتا ہے کہ آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کا نا ہے : آیت : اتتخذ اصناما الھۃ اس میں تتخذ فعل کے دو مفعول ہیں اور فعل میں استفہام برائے انکار ہے۔
Ayah 6:75قولہ تعالیٰ : آیت : وخذلک نری ابراھیم ملکوت السموٰت والارض یعنی ملکوت بمعنی ملک ( بادشاہی) ہے اور معنی صفت میں اظہار مبالغہ کے لیے واؤ اور تا کا اضافہ کردیا گیا ہے اور اسی کی مثل رغبوت، رھبوت اور جبروت ہیں (معانی القرآن للزجاج، جلد 2، صفحہ 265 ) ۔ اور ابو السمال العدوی نے لام ساکن کے ساتھ ملکوت پڑھا ہے۔ اور سیبویہ کے نزدیک فتحہ کو خفیف ہونے کی بنا پر حذف کرنا جائز نہیں ہے۔ اور شاید یہ اس میں ایک لغت ہے اور نری بمعنی أرینا ہے، پس یہ ماضی کے معنی میں ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد آسمانوں میں ملائکہ کی عبادت اور دیگر عجائب قدرت (کا دکھانا) ہے اور زمین میں اولاد آدم کی عصیاں شعاری (دکھانا) ہے، پس آپ جسے گناہ اور نافرمانی کرتے ہوئے دیکھتے تھے اس کے لیے بددعا کرنے تو اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کردیتا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی فرمائی : اے ابراہیم ! میرے بندوں سے رک جا، ( یعنی ان کی ہلاکت کی دعا نہ کیا کر) کیا تم جانتے نہیں کہ میرے اسماء میں سے الصبور (بہت زیادہ صبر کرنے والا) بھی ہے ؟ اسی کے ہم معنی روایت حضرت علی ؓ نے حضور نبی مکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ (تفسیر الدر المثور، جلد 3، صفحہ 24 )
اور یہ بھی کہا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے آسمانون اور زمین کو ظاہر فرمادیا یہاں تک کہ عرش اور سب سے نیچے والی زمین کو بھی۔ اور ابن جریج نے قاسم سے اور انہوں نے حضرت ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا : آپ (علیہ السلام) کے لیے ساتوں آسمان کھول دئیے گئے تو آپ نے ان کی طرف دیکھا یہاں تک کہ آپ کی نظر عرش تک پہنچ گئی اور آپ (علیہ السلام) کے لیے زمینوں کو کھول دیا گیا اور آپ نے ان کی طرف دیکھ لیا (معانی القرآن للنحاس، جلد 2، صفحہ 449، تفسیر طبری، جلد 9، صفحہ 349) اور آپ نے جنت میں اپنا محل بھی ملاحظہ فرمایا۔
پس اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے آیت : واتینٰہ اجرہ فی الدنیا ( العنکبوت : 27) ( اور ہم نے دیا ان کو ان (کی جانثاری) کا اجر اس دنیا میں) یہ حضرت سدی (رح) سے مروی ہے اور حضرت ضحاک (رح) نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے آپ کو آسمان کی بادشاہی میں سے وہ دکھائی جو کچھ اس نے ستاروں کے بارے بیان کیا ہے اور زمین کی بادشاہی میں سے سمندر، پہاڑ اور درخت دکھائے اور اسی طرح کی چیزوں کے بارے استدلال کیا گیا ہے۔
اور اسی طرح حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے اور فرمایا : جب آپ کی ولادت ہوئی تو آپ کو تہہ خانہ میں رکھا گیا اور آپ کا رزق آپ کی انگلیوں کے اطراف (پوروں) میں رکھ دیا گیا پس آپ انہیں چوستے رہتے تھے، نمرو لعین نے ایک خواب دیکھا تھا اور اس کی تعبیر یہ بتائی گئی کہ اس کی بادشاہی اس بچے کے ہاتھوں ختم ہوجائے گی جو ابھی پیدا ہوگا، تو اس نے مردوں کو عورتوں سے الگ رہنے کا حکم دے دیا۔ اور یہ بھی قول ہے کہ اس نے پیدا ہونے والے ہر بچے کو قتل کرنے کا حکم دے۔ آزر نمبرود کے مقربین میں سے تھا اس نے اسے ایک دن اپنے کسی کام کے لیے بھیجا تو اس دوران اس نے اپنی بیوی سے مجامعت کرلی اور وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے حاملہ ہوگئی۔
اور یہ قول بھی ہے : بلکہ اس نے بت خانہ میں اس کے ساتھ مجامعت کی اور وہ حاملہ ہوگئی اور اسی وقت اس کے سامنے بت گر گئے، پس اس نے اسے ایک قبیلے میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ اس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جنم دیا، اور آزر نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے زمین میں ایک تہہ خانہ کھودا اور اس کے دروازے پر ایک چٹان رکھ دی تاکہ درندے اسے پھاڑ نہ دیں۔ آپ کی ماں آپ کے پاس آتی رہتی تھی اور دودھ پلا دیتی تھی اور وہ انہیں اپنی انگلیاں چوستے ہوئے پاتی تھیں، ان میں ایک میں شہد تھا، ایک میں پانی تھا اور ایک میں دودھ آتا تھا، اور آپ نشوونما پاتے گئے، پس آپ ایک سال کی عمر میں تین سال کے لگتے تھے۔ پس جب اس نے آپ کو تہہ خانہ سے نکالا تو لوگوں کو اس سے وہم ہوا کہ یہ تو دو سال قبل پیدا ہوئے، تو آپ نے اپنی ماں سے پوچھا : میرا رب کون ہے ؟ تو اس نے جواب دیا : میں۔ پھر آپ نے پوچھا : تیرا رب کون ہے ؟ تو اس نے جواب دیا : تیرا باپ۔ آپ نے پھر سوال کیا : اس کا رب کون ہے ؟ اس نے جواب دیا : نمبرود۔ آپ نے پھر کہا : اور اس کا رب کون ہے ؟ تو اس نے آپ کو تھپڑ دے مارا اور وہ جان گئی کہ یہی وہ بچہ ہے جس کے ہاتھوں ان کی بادشاہی ختم ہوجائے گی۔
امام کسائی کی کتاب ” قصص الانبیائ “ میں یہ مکمل قصہ موجود ہے اور قصص میں اسی کتاب کی پیروی کی جاتی ہے۔ اور بعض نے کہا ہے : آپ کا مولد حران ہے لیکن آپ کے باپ نے آپ کو سر زمین بابل کی طرف منتقل کردیا۔ اور اسلاف میں سے عام اہل علم نے کہا ہے : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نمرود بن کنعان بن سخا ریب بن کوش بن سام بن نوح کے زمانہ میں پیدا ہوئے۔ اس کا ذکر سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ طوفان نوح اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ولادت کے درمیان ایک ہزار دو سو تریسٹھ برس کا فاصلہ تھا۔ اور وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے تین ہزار تین سو اکتیس برس بعد تھا۔
Ayah 6:76قولہ تعالیٰ : آیت : فلما جن علیہ الیل یعنی جب رات نے اسے اپنی تاریکی کے ساتھ ڈھانپ لیا، الجنۃ، الجنۃ، الجنۃ، الجنین، المجن اور الجن تمام الفاظ بمعنی ستر ( ڈھانپنا) ہیں اور جنان اللیل کا معنی رات کا سخت تاریک ہونا اور اس کا ڈھانپ لینا ہے، جیسا کہ شاعر نے کہا ہے :
ولولا جنان اللیل ادرک رکضنا بذی الرمث والارطی عیاض بن ناشب
اور کہا جاتا ہے : جنون اللیل بھی اسی معنی میں ہے۔ اور کہا جاتا ہے : جنۃ اللیل واجنہ اللیل (رات نے اسے ڈھانپ لیا) اس میں یہ دونوں لغتیں ہیں۔ (صحاح مادہ جنن)
راکو کبا یہ دوسرا قصہ ہے اور یہ آپ پر ملکوت پیش کرنے کے قصہ کے سوا ہے۔ کہا گیا ہے : آپ نے اس چٹان کو شق ہوتے دیکھا جو آپ کے تہہ خانہ کے منہ پر رکھی ہوئی تھی۔
اور یہ قول بھی ہے کہ جب آپ کے باپ نے آپ کو تہہ خانہ سے نکالا وہ سورج غروب ہونے کا وقت تھا تو آپ نے اونٹ، گھوڑے اور بکریاں دیکھیں اور فرمایا : ان کے لیے رب کا ہونا ضروری ہے اور آپ نے مشتری یا زہرہ کو دیکھا، پھر چاند کو دیکھا اور سورج کو اور یہ سب مہینے کے آخر میں ہوا۔ اور محمد بن اسحاق نے کہا ہے : اس وقت آپ کی عمر پندرہ برس تھی اور سترہ برس عمر ہونے کا بھی قول ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : جب آپ نمرود پر غالب آئے اس وقت آپ کی عمر سترہ برس تھی۔
قولہ تعالیٰ : آیت : قال ھذا ربی اس کے معنی میں مختلف اقوال ہیں اور کہا گیا ہے : آپ کا یہ قول نظر و فکر کی مہلت، عہد طفولیت میں اور حجت قائم ہونے سے پہلے کی حالت میں تھا۔ اور اس حال میں نہ کفر ہوتا ہے اور نہ ہی ایمان (تفسیر طبری، جلد 9، صفحہ 360 ) ۔ یہ قول کرنے والوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے جو علی بن ابی طلحۃ عن ابن عباس کی سند سے مروی ہے۔ فرمایا : آیت : فلما جن علیہ الیل راکوکبا قال ھذا ربی تو آپ نے اس کی پوجا کی یہاں تک کہ وہ آپ سے غائب ہوگیا۔
اور ایک قوم نے کہا ہے : یہ صحیح نہیں ہے اور انہوں نے کہا ہے : یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی رسول ہو اس پر اوقات میں سے کوئی ایسا وقت آئے مگر یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کرنے والا اور اسے پہنچاننے والا ہوتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر معبود سے بری ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے : کیونکر یہ صحیح ہو سکتا ہے کہ اس کا وہم اس کے بارے کیا جائے جسے اللہ تعالیٰ نے اس سے بچا لیا ہے اور اس سے پہلے ہی اس کی ہدایت اور رہنمائی فرما دی ہے اور اسے اپنی بادشاہی دکھا دی ہے تاکہ وہ کامل یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے (تفسیر طبری، جلد 9، صفحہ 359 ) ۔ یہ جائز نہیں ہے کہ اسے معرفت سے خالی تصور کیا جائے بلکہ اس نے پہلی نظر میں رب کریم کا عرفان حاصل کرلیا۔
زجاج نے کہا ہے : میرے نزدیک یہ جواب غلط ہے اور جس نے یہ کہا ہے اس نے غلطی کی ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں خبر دی ہے کہ انہوں نے کہا : آیت : واجنبنی وبنی ان نعبد الاصنام (ابراہیم 25) (اور بچا لے مجھے اور میرے بچوں کو کہ ہم پوجا کرنے لگیں بتوں کی) اور اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا : آیت : اذ جآء ربہ بقلب سلیم (الصافات۔۔ ) (جب وہ حاضر ہوئے اپنے رب کے دربار میں قلب سلیم کے ساتھ) یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کبھی کسی کو شریک نہیں کیا۔
زجاج نے کہا : میرے نزدیک جواب یہ ہے کہ انہوں نے کہا : (کیا) تمہارے قول کے مطابق یہ میرا رب ہے ؟ کیونکہ وہ بتوں، سورج اور چاند کی عبادت کرتے تھے۔ اور اسی قول کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : این شرکآءی (القصص : 62) (میرے شرکاء کہاں ہیں) حالانکہ وہ تو وحدہ لا شریک ہے۔ تو اس کا معنی یہ ہے : تمہارے قول کے مطابق جو میرے شریک ہیں وہ کہاں ہیں ؟ این شرکآئی علی قولکم۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تہہ خانے سے نکلے تو آپ نے ستارے کی روشنی دیکھی اور آپ اپنے رب کے طالب تھے، تو آپ کو گمان ہوا کہ یہ نور اور روشنی اسی کی ہے، تب آپ نے یہ کہا : آیت : ھذا ربی یعنی وہ مجھے اپنا نور دکھا رہا ہے۔ آیت : فلما افل لیکن جب وہ ڈوب گیا تو آپ نے جان لیا کہ یہ ان کا رب نہیں ہے۔ آیت : فلماا را القمر بازغا پھر جب آپ نے چاند کو چمکتے ہوئے دیکھا اور اس کی روشنی پر آپ کی نظر پڑی۔
آیت : قال ھذا ربی فلما افل قال لئن لم یھدنی ربی لا کونن من القوم الضآلین (تو کہا (کیا) یہ میرا رب ہے ؟ پھر جب وہ (بھی) غروب ہوگیا تو آپ نے کہا : اگر نہ ہدایت دیتا مجھے میرا رب تو ضرور ہوجاتا میں بھی گمراہ قوم سے) پھر جب سورج کو چمکتے ہوئے دیکھ تو کہا : (کیا) یہ میرا رب ہے ؟ اور یہ شرک نہیں ہے۔ بلاشبہ آپ نے اس روشنی اور نور کی نسبت اپنے رب کی طرف کی ہے، لیکن جب آپ نے اسے زائل ہوتے ہوئے دیکھا تو علم نے آپ کی رہنمائی کی کہ وہ اس کا مستحق نہیں ہے، تو آپ نے اپنے دل سے اس کی نفی کردی اور یہ یقین کرلیا کہ یہ مربوب ہے رب نہیں ہے۔
اور یہ قول بھی کیا گیا ہے کیہ آپ نے ھذا ربی کے الفاظ اپنی قوم پر حجت پختہ کرنے کے لیے کہے، پس (پہلے) آپ نے ان کے ساتھ موافقت ظاہر کی، لیکن جب ستارہ ڈوب گیا تو حجت مکمل اور پختہ ہوگئی اور فرمایا : جو شئی متغیر ہوجائے وہ رب نہیں بن سکتی۔ اور وہ لوگ ستاروں کی تعظیم بجا لاتے تھے۔ ان کی پرستش کرتے تھے اور ان کے ساتھ حکم لگاتے تھے۔
اور نحاس نے کہا ہے ؟ اس بارے میں حسین ترین قول وہ ہے جو حضرت ابن عباس ؓ سے صحیح مروی ہے۔ انہوں نے قول باری تعالیٰ : آیت : نور علی نور (النور : 35) کے بارے کہا ہے : اسی طرح بندہ مومن کا دل اللہ تعالیٰ کا عرفان حاصل کرتا ہے، اور اس پر اپنے دل سے استدلال کرتا ہے اور جب وہ اسے پہچان لیتا ہے تو وہ نور پر نور کا اضافہ کردیتا ہے۔ اسی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے دل سے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کی اور اس پر اپنے دلائل سے استدلال کیا، تو آپ کو یقین ہوگیا کہ آپ کا رب اور خالق ہے، پھر جب اللہ عزوجل نے اپنی ذات کے بارے میں آپ کو عرفان عطا فرمایا تو معرفت میں اور اضافہ ہوگیا، تب آپ نے فرمایا : آیت : اتحآجوٓنی فی اللہ وقد ھدائن (کیا تم جھگڑتے ہو مجھ سے اللہ کے بارے میں حالانکہ اس نے مجھے ہدایت دے دی ہے۔
؎ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ قول ان کے فعل اور عمل کا انکار کرتے ہوئے استفہام اور زجرو توبیخ کے معنی میں ہے اور معنی یہ ہے : اھذا ربی کیا یہ میرا رب ہے یا کیا اس کی مثل رب ہو سکتا ہے ؟ پھر ہمزہ کو حذف کردیا گیا ہے اور قرآن کریم میں ہے : آیت : افائن مت فھم الخلدون (الانبیائ : 34) یعنی افھم الخالدون۔ اور ہذلی نے کہا ہے :
رَفُونی وقالو یا خویلد لا ترع فقلت وانکرت الوجوہ ھم ھم
ایک دوسرے نے کہا :
لعمرک ما ادری وان کنت داریا بسبع رمین الجمر ام بثمان
(یہ دونوں شعروں میں ہمزہ استفہام محذوف ہے)
اور یہ قول بھی ہے کہ اس کا معنی ہیـ: آیت : ھذا ربی علی زعمکم (تمہارے گمان کے مطابق یہ میرا رب ہے)
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : این شرکآءی الذین کنتم تزعمون (القصص) ( کہاں ہیں وہ شریک جنہیں تم (میرا شریک) گمان کیا کرتے تھے۔ ) اور مزید فرمایا : آیت : ذق انک انت العزیز الکریم (الدخان : 49) ای عند نفسک (یعنی اپنے نفس کا ذائقہ چکھ) لو چکھو، تم بڑے معزز و مکرم ہو)
اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے : اور تم کہتے ہو یہ میرا رب ہے۔ اس میں قول کو مضمر کردیا گیا ہے اور قرآن کریم میں قول کا اضمار کثیر ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ھذا ربی میں یہ معنی ہے ای ھذا دلیل علی ربی (یہ میرے رب پر دلیل ہے)
Ayah 6:77آیت نمبر 77
آیت : فلما را القمر بازغا پھر جب چاند کو طلوع ہوتے دیکھے۔ کہا جاتا ہے : بزغ القمر جب چاند طلوع ہونا شروع ہو اور البزغ کا معنی الشق ( پھاڑنا) ہے، گویا چاند اپنے نور کے ساتھ تاریکی اور اندھیرے کو پھاڑ دیتا ہے۔ اور اسی سے ہے بزغ البیطار الدابۃ ( یہ تب کہا جاتا ہے) جب سالوتری جانور کا خون بہا دے۔
آیت : لئن لم یھدنی ربی یعنی اگر وہ مجھے ہدایت پر ثابت قدم نہ رکھتا۔ حالانکہ ہدایت یافتہ تھے۔ تو یہ نظروفکر کی مہلت
میں جاری ہو سکتا ہے یا آپ نے جواز عقلی کے امکان کے سبب ثابت قدمی کا سوال کیا، جیسا کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے کہا ہے : آیت : وما یکون لنا ان نعود فیھا الا ان یشآء اللہ ( اعراف : 89) (اور نہیں کوئی وجہ ہمارے لیے کہ ہم لوٹ آئیں اس میں مگر یہ کہ چاہے اللہ تعالیٰ ۔ )
اور قرآن کریم میں ہے : آیت : اھدنا الصراط المستقیم یعنی ہمیں ہدایت پر ثابت قدم رکھ، اس کا بیان پلے گزر چکا ہے۔
Ayah 6:78آیت نمبر 78
قولی تعالیٰ آیت : فلما را الشمس بازغۃ، بازغۃ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے، کیونکہ یہ آنکھ کی رؤیت ہے (اعراب القرآن للخاص، جلد 2، صفحہ 77) ۔ بزغ یبزغ بزوغا کا معنی ہے جب وہ طلوع ہوا۔ اور أفل یافل افولا کا معنی یہ ہے جب وہ غروب ہوا۔
اور فرمایا : ھذا اور الشمس مونث ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فلما افلت تو اس کے بارے کہا گیا ہے کہ شمس کی تانیث اس کی تفخیم اور اس کی عظمت کے سبب ہے۔ اور یہ اس کے اس قول کی طرح ہے : رجل نسابۃ وعلامۃ اور کہا : ھذاربی اس کا معنی ہے : ھذا الطالع ربی ( کیا یہ طلوع ہونے والا میرا رب ہے) ۔ کسائی اور اخفش نے یہی کہا ہے۔ اور ان کے سوا دوسروں نے کہا : ھذا الغؤ (کیا یہ روشنی میرا رب ہے) ۔ ابو الحسن علی بن سلیمان نے کہا ہے : ای ھذا الشخص ( کیا یہ شخص میرا رب ہے) ، جیسا کہ اعشی نے کہا :
قامت تبکیہ علی قبری من لی من بعدک یا عامر
ترکتنی فی الدار ذاغربۃ قد ذل من لیس لہ ناصر
Ayahs 6:79–80آیت نمبر 79
قولہ تعالیٰ آیت : انی وجھت وجھی یعنی میں نے اپنی عبادت اور توحید سے اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک کا قصد کیا۔
آیت میں الوجہ کا ذکر کیا کیونکہ چہرہ ان اعضاء میں سے زیادہ ظاہر ہے جن سے انسان پہچانا جاتا ہے۔ حنیفا اس کا معنی ہے حق کی طرف مائل ہوتے ہوئے۔ آیت : وما انا من المشرکین یہ ما کا اسم اور خبر ہے۔ اور جب تو وقف کرے تو کہے : انا تو تو نے بیان حرکت کے لیے الف کا اضافہ کردیا اور یہی صحیح لغت ہے۔ اور اخفش نے کہا ہے : عربوں میں سے بعض کہتے ہیں : أن۔ اور کسائی نے کہا ہے : عربوں میں سے بعض کہتے ہیں : أنہ یہ تین لغات ہیں۔
اور حالت وصل میں تین لغات ہیں کہ درج کلام میں الف کو حذف کردیا جائے، کیونکہ یہ حالت وقف میں بیان حرکت کے لیے زائد کیا گیا ہے۔ اور عربوں میں سے بعض حالت وصل میں الف کو ثابت رکھتے ہیں، جیسا کی کسی شاعر کا قول ہے :
أنا سیف العشیرۃ فاعرفونی
اور یہی بعض بنی قیس اور ربیعہ کی لغت ہے۔ یہ فراء سے منقول ہے اور بعض عرب حالت وصل میں کہتے ہیں : آن فعلت، مثلا عان فعلت، اسے کسائی نے بعض قضاعہ سے بیان کیا ہے۔
آیت : وحآجہ قومہ قال اتحآجونی فی اللہ وقد ھدٰئن ولا اخاف ما تشرکون بہ الآ ان یشآء ربی شیا وسع ربی کل شیء علما افلا تتذکرون۔
” اور جھگڑنے لگی ان سے ان کی قوم، آپ نے کہا : کیا تم جھگڑتے ہو مجھ سے اللہ کے بارے میں حالانکہ اس نے ہدایت دے دی ہے مجھے۔ اور نہیں ڈرتا میں ان سے جنہیں تم شریک بناتے ہو اس کا، مگر یہ کہ چاہے میرا ہی پروردگار کوئی تکلیف پہنچانا، گھیرے ہوئے ہے میرا رب ہر چیز کو (اپنے) علم سے تو کیا تم نصیحت قبول نہیں کروگے “۔
قولی تعالیٰ آیت : وحآجہ قومہ یہ جھگڑنے اور جدال کرنے پر دلیل ہے۔ اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی توحید کے بارے میں آپ سے جھگڑا کیا۔ آیت : قال اتحآجونی فی اللہ نافع نے نون کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور باقیوں نے نون کی مشدد پڑھا ہے۔ اور اس میں ابن عامر سے ہشام کی روایت مختلف ہے۔ جس نے اسے مشدد پڑھا ہے۔ اس نے کہا ہے : اس میں اصل دونوں ہیں۔ پہلی علامت رفع ہے اور دوری فعل اور یا کے درمیان بطور فاصلہ ہے، پس جب فعل میں دوہم مثل حرف جمع ہوگئے اور وہ ثقیل ہوگئے تو ایک نون کو دوسری میں ادغام کردیا گیا چناچہ تشدید واقع ہوگئی اور واؤ کو مد کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے تاکہ التقائے ساکنین نہ ہو، ایک واؤ اور دوسرا مشدد حروف میں سے پہلا۔
پس یہ مدد و ساکنوں کے درمیان فاصلہ ہوئی۔ اور جنہوں نے تخفیف کی ہے انہوں نے اجتماع مثلین کو خفیف سمجھتے ہوئے دوسرے نون کو حذف کردیا ہے۔ اور پہلی کو حذف نہیں کیا گیا، کیونکہ وہ رفع کی علامت ہے۔ اور اگر اسے حذف کردیا جائے تو مرفوع، مجزوم اور منصوب کے ساتھ مشتبہ ہوجائے گا۔ اور ابو عمر و ابن العلاء سے بیان کیا گیا ہے کہ قرأت غلط ہے۔ اور سیبویہ نے اسے جائز قرار دیا ہے اور کہا ہے : انہوں نے تضعیف (مضاعف) کو ثقیل سمجھا ہے۔ اور شعر بھی کہا ہے :
تراہ کا لثغام یعل مسکا یسوء الفالیات اذا فلینی
قولہ تعالیٰ آیت : ولا اخاف ما تشرکون بہ یعنی کیونکہ وہ نہ نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان۔
اور انہوں نے آپ کو اپنے الہٰوں کی کثرت کے سبب خوفزدی کیا تھا۔ مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اسے زندہ کر دے اور اسے قدرت دے دے تو اس وقت اسے اس کے ضرر اور نقصان کا خوف ہوگا۔
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد : آیت : الا ان یشآء ربی شیا کا یہی معنی ہے۔ یعنی مگر یہ کہ میرا رب ہے کہ وہ مجھے گناہ کے بدلے کوئی شے اور مصیبت لاحق کرے، جس کے مطابق میں نے عمل کیا تو اس کی مشیت مکمل ہوگئی۔ یہ استثنا ہے یہ پہلے کلام میں نہیں ہے۔ اور بہ میں با ضمیر میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ معبود کے لیے ہو اور فرمایا : آیت : الا ان یشاء ربی یعنی یہ کہ اللہ تعالیٰ نہیں چاہے گا کہ میں ان سے خوفزدہ ہوں، پھر فرمایا : وشع ربی کل شیء علما یعنی اس کا علم ہر شی کو محیط ہے۔ اس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔
Ayahs 6:81–82آیت نمبر 81۔ 82
قولہ تعالیٰ : آیت : وکیف اخاف ما اشرکتم یہاں کیف میں انکار کا معنی ہے۔ یہ ان پر اس بات کا انکار ہے کہ وہ اسے بتوں سے ڈرا سکتے ہیں، حالانکہ وہ خود اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے، یعنی میں کیسے ڈروں ان سے جو مردوہ ہیں، حالانکہ تم اس اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے جو ہر شے پر قادر ہے۔
آیت : مالم ینزل بہ علیکم سلطنا اس میں سلطان کا معنی حجت اور دلیل ہے۔ اس پر بحث پہلے گزر چکی ہے۔ آیت : فای الفریقین احق بالامن یعنی دونوں فریقوں میں سے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے امن و سلامتی کا کون زیادہ حق دار ہے ؟ کیا موحد یا مشرک۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان فیصلہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا : آیت : الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم اس میں ظلم سے مراد شرک ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق، حضرت علی، حضرت سلمان اور حضرت حذیفہ ؓ نے یہی کہا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قول میں سے ہے، جیسا کہ عالم سوال کرتا ہے اور وہ خودہی اپنے آپ کو جواب دیتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کا قول ہے۔ یعنی انہوں نے اس کے ساتھ جواب دیا جو ان پر حجت اور دلیل ہے۔ یہ ابن جریج نے کہا ہے۔
اور صیحین میں حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے جب یہ آیت نازل ہوئی : آیت : الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم تو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب پر یہ خاصی شاق گزری، وہ کہنے لگے : ہم میں سے کون ہے جس نے اپنے نفس پر ظلم نہیں کیا ؟ تو حضور نبی رحمت ﷺ نے فرمایا ” ایسا نہیں جس طرح تم گمان کر رہے ہو بلکہ کہ تو اس طرح ہے جیسے لقمان نے اپنے بیٹے کو کہا تھا : آیت : یبنی لا تشرک باللہ ان الشرک لظلم عظیم (لقمان۔۔ ) (اے میرے پیارے فرزند ! کسی کو اللہ کا شریک نہ بنانا، یقینا شرک ظلم عظیم ہے) آیت : وھم مھتدون اور وہی دنیا میں ہدایت یافتہ ہیں۔ (صحیح بخاری، کتاب التفسیر، سورة لقمان، باب لا تشرک باللہ، حدیث نمبر 4403، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
Ayah 6:83آیت نمبر 83
قولہ تعالیٰ : آیت : وتلک حجتنا اتینھا ابراھیم اس میں تلک آپ کے تمام دلائل کی طرف اشارہ ہے، یہاں تک کہ آپ نے ان کے ساتھ جھگڑا کیا اور آپ دلیل کے ساتھ ان پر غالب رہے۔ اور مجاہد نے کہا ہے : اس سے مراد آپ کا یہ قول ہے : آیت : الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم۔ (تفسیر طبری)
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد آپ کی ان کے خلاف وہ دلیل ہے کہ جب انہوں نے آپ کو کہا : کیا آپ ڈرتے نہیں اس سے کہ ہمارے الٰہ آپ کو ہلاک کر دین گے اس لیے کہ آپ انہیں سب و شتم کرتے ہیں ؟ تو آپ نے ان کو جواب دیا : کیا تم ان سے ڈرتے نہیں جب کہ تم عبادت اور تعظیم میں چھوٹے اور بڑے کو مساوی قرار دیتے ہو، کہ بڑا غضب ناک ہوجائے گا اور وہ تمہیں ہلاک کردے گا ؟
آیت : نرفع درجٰت من نشآء یعنی ہم علم، فہم و فراست، امامت اور بادشاہی عطا فرما کر جس کے چاہتے ہیں درجات بلند فرما دیتے ہیں۔ قراء کوفہ نے درجات کو تنوین کے ساتھ پڑھا ہے اور اسی کی مثل سورة یوسف میں بھی ہے انہوں نے فعل کو من پر واقع کیا ہے کیونکہ یہ فی الحقیقت مرفوع ہے، تقدیر کلام ہے : ونرفع من نشاء الی درجات پھر الی کو حذف کردیا گیا ہے۔ اور اہل حرمین اور ابو عمرو نے اضافت کی بنا پر بغیر تنوین کے پڑھا ہے، اس میں فعل درجات پر واقع ہے، اور جب درجات بلند کیے گئے تو صاھب درجہ کو بلند کردیا گیا۔ اس قرأت کو اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد آیت : رفیع الدرجٰت (غافر : 15) تقویت دیتا ہے۔ اور حضور ﷺ کا یہ ارشاد : اللھم ارفع درجتہ (اے اللہ ! اس کا درجہ بلند فرما) اس کے لیے باعث تقویت ہے، پس بلندی کی نسبت درجات کی طرف فرمائی۔ اور ہی ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے (وہی) اپنے شرف و فضل میں رفیع اور بلند ہے۔ پس دونوں قرأتیں باہم متقارب ہیں، کیونکہ جس کے درجات بلند کردئیے گئے تحقیق اسے بلند کردیا گیا، اور جسے بلند کردیا گیا تحقیق اس کے درجات بلند کردیئے گئے۔ آیت : ان ربک حکیم علیم یعنی وہ ہر شی کو اس کے محل میں رکھتا ہے۔