Ayah 6:109آیت نمبر 109
قولہ تعالیٰ آیت : واقسموا باللہ جھد ایمانھم لئن جآء تھم ایۃ لیؤمنن بھا اس میں دو مسئلے ہیں
مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ آیت : واقسموا یعنی انہوں نے قسمیں کھائیں۔ اور جھد الیمین کا معنی ہے قسم کو مضبوط اور پختہ کرنا اور وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھانا ہے۔ اور قولہ آیت : جھد ایمانھم یعنی ان کی قسموں کی وہ انتہائی کوشش جس تک ان کا علم پہنچا ہے، اور جہاں تک ان کی قدرت انتہا کو پہنچ جاتی ہے اور وہ اس لیے کہ وہ اعتقاد رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی الہ اعظم ہے اور یہ الٰہ جن کی وہ پرستش کرتے ہیں ان کا گمان ہے کہ یہ انہیں اللہ تعالیٰ کے بہت قریب کردیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ان کے بارے خبر دی گئی ہے : آیت : ما نعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی ( الزمر : 3) ( ہم نہیں عبادت کرتے ان کی مگر محض اس لیے کہ یہ ہمیں اللہ کا مقرب بنا دیں)
وہ اپنے آبا کی، بتوں کی اور علاوہ ازیں دوسری چیزوں کی قسمیں کھاتے رہتے تھے، اور وہ اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم بھی کھاتے تھے اور وہ اسے جھد الیمین کا نام دیتے تھے جب قسم اللہ کی کھاتے۔ اور جھد کا لفظ مصدر ہونے کی بنا پر منصوب ہے اور سیبویہ کے مذہب کے مطابق اس میں عامل اقسموا ہے۔ کیونکہ یہ اس کے معنی میں ہے (الحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 333) اور الجھد ( جیم کے فتحہ کے ساتھ) اس کا معنی ہے مشقت اٹھانا (انتہائی کوشش کرنا) ۔ کہا جاتا ہے : فعلت ذالک بجھد ( میں نے وہ کام مشقت اور کوشش کے ساتھ کیا) اور الجھد ( جیم کے ضمہ کے ساتھ) اس کا معنی ہے طاقت۔ کہا جاتا ہے : ھذا جھد ( یہ میری طاقت ہے) اور بعض ان دونوں کو ایک ہی مینی میں رکھتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے اس قول سے استدلال کرتے ہیں آیت : والذین لا یجدون الا جھدھم ( توبہ : 79) ( اور جو ( نادار) نہیں پاتے بجز اپنی محنت ومشقت کی مزدوری کے) اور اسے جھدھم بھی پڑھا گیا ہے۔ یہ ابن قتیبہ سے منقول ہے۔ اور آیت کا سبب نزول جو کہ مفسرین نے ذکر کیا ہے، ان میں قرظی اور کلبی وغیرہ ہیں، وہ یہ ہے کہ قریش نے کہا : اے محمد ! ﷺ آپ ہمیں خبر دیتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پتھر پر اپنا عصا مارا تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے، اور یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مردوں کو زندہ کرتے تھے، اور یہ کہ قوم ثمود کے لیے ایک اونٹنی تھی، پس آپ بھی ہمارے سامنے ایسے معجزات میں سے کوئی لائیں تاکہ ہم آپ کی تصدیق کرسکیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” کون سی شی تم پسند کرتے ہو ؟ “۔ انہوں نے عرض کی : آپ ہمارے لیے صفا ( پہاڑ) کو سونا بنا دیجئے۔ تو قسم بخدا ! اگر آپ نے ایسا کرد یا تو ہم تمام یقینا آپ کی پیروی اور اتباع کریں گے۔ پس رسول اللہ ﷺ دعامانگنے کے لیے اٹھے، تو حضرت جبریل امین (علیہ السلام) آپ کے پاس حاضر ہوئے اور کہا : ” اگر آپ چاہیں تو صفا (پہاڑ) سونا ہوجائے، اور اگر اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ ظاہر فرما دیا اور انہوں نے اسے دیکھ کر تصدیق نہ کی تو وہ یقینا انہیں عذاب دے گا اس لیے آپ انہیں چھوڑ دیں یہاں تک کہ ان میں سے کوئی توبہ کرنے والا توبہ کرلے “۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بل یتوب تائبھم (تفسیر طبری، جلد 9، صفحہ 485، اسباب الزول للواحد، صفحہ 218) ( بلکہ ان میں سے کوئی توبہ کرنے والا توبہ کرلے) تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اور اللہ رب العزت نے واضح فرما دیا کہ جس کے بارے وہ اپنے علم ازلی کے ساتھ جانتا ہے کہ وہ ایمان نہیں لائے گا۔ وہ ایمان نہیں لائے گا اگرچہ وہ قسم بھی کھائے کہ وہ یقینا ایمان لائے گا۔
مسئلہ نمبر 2۔ قولہ تعالیٰ : آیت : جھد ایمانھم کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے ( کہ وہ ایسی قسم کھاتے ہیں) جو ان کے نزدیک انتہائی شدید اور اغلظ ہے۔ یہاں احکام میں سے بہت بڑا مسئلہ پیش آتا ہے اور وہ آدمی کا یہ قول ہے : الایمان تلزمہ ان کان کذا و کذا ( اس پر قسم لازم ہوگی اگر اس طرح ہوا ) ۔ ابن عربی نے کہا ہے : یہ قسم ابتداء اسلام میں اس صورت کے بغیر معروف ومشہور تھی، وہ کہتے تھے : علی اشد ما اخذہ احد علی احد ( مجھ پر اسے لینا انتہائی لازم اور ضروری ہے جو ایک کا دوسرے پر ہے۔
تو حضرت امام مالک (رح) نے فرمایا : اس کی عورتیں آزاد ( مطلقہ) ہوجائیں گی پھر صورتیں بہت زیادہ ہوگئیں یہاں تک کہ وہ لوگوں کے درمیان اس صورت کی طرف لوٹ آئیں جو ان کی اصل ہے۔ ہمارے شیخ الفہری طرسوسی کہا کرتے تھے : جب وہ اس میں حانث ہوگا تو اس پر تیس مسکینوں کو کھانا کھلانا لازم ہوگا، کیونکہ اس کا قول الایمان، یمین کی جمع ہے، اور اگر اس نے علی یمین کہا اور حانث ہوگیا تو ہم اس پر ایک کفارہ لازم کریں گے۔ اور اگر اس نے کہا : علی یمینان تو حانث ہونے کی صورت میں اس پر دو کفارے لازم ہوں گے اور ایمان یمین کی جمع ہے لہٰذا اس میں اس پر تین کفارے لازم ہوں گے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : احمد بن محمد بن مغیث نے اپنے وثائق میں ذکر کیا ہے کہ قیروان کے شیوخ نے اس میں اختلاف کیا ہے اور ابو محمد بن ابی زید نے کہا ہے : اس پر اپنی بیوی کے بارے میں تین طلاقیں لازم ہو سکتی ہیں، مکہ مکرمہ کی طرف پیدل چلنا، اپنے مال کا تہائی حصہ صدقہ کرنے، قسم کا کفارہ اور غلام کو آزاد کرنا لازم ہو سکتا ہے۔
ابن مغیث نے کہا ہے : اور اسی طرح ان کے سردار ابن ارفع اور فقہاء طلیطلہ میں سے ابن بدر نے کہا ہے۔ اور شیخ ابو عمران فاسی، ابو الحسن قابسی، اور ابو بکری بن عبدالرحمن قروی نے کہا ہے : اس پر ایک طلاق لازم ہوجائے گی جب اس کی نیت نہ ہوئی۔ اور اس بارے میں ان کی حجت ابن حسن کی روایت ہے جو انہوں نے اس قول کے بارے میں ابن وہب سے سنی ہے : اشد ما اخذہ احد علی احد ان علیہ فی ذالک کفارۃ یمین۔
ابن مغیث نے کہا ہے : جن کا ہم نے نام لیا ہے انہوں نے الایمان تلزمہ کینے والے پر ایک طلاق لازم کی ہے، کیونکہ اس کے اس قول سے بڑھ کر برا حال کوئی نہیں ہوتا : اشد ما اخذہ احد علی ان علیہ کفارۃ یمین۔ ( انہوں نے کہا) اور اسی کے مطابق ہم کہتے ہیں۔ فرمایا : پہلے گروہ نے ابن القاسم کے قول سے استدلال کیا ہے جوا نہوں نے اس کے بارے کہا جس نے یہ کہا : علی عھد اللہ وغیظ میثاقہ وکفالتہ واشد ما اخذہ احد علی احد علی امرا لا یفعلہ ثم فعلہ یعنی وہ کسی کام کے بارے مذکور لفظ کہہ کر قسم کھاتا ہے کہ وہ اسے نہیں کرے گا پھر وہ اسے کر گزرتا ہے۔ تو انہوں نے فرمایا : اگر اس نے طلاق اور عتاق کا ارادہ نہیں کیا اور اس نے ان دونوں کو اس سے جدا اور علیحدہ رکھا تو چاہیے کی اس پر تین کفارے لازم ہوں۔ اور اگر قسم کھاتے وقت اس کی کوئی نیت نہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے اس قول میں دو کفارے ادا کرے : علی عھد اللہ وغلیظ میثاقہ اور وہ غلام آزاد کرے گا اور اس کی عورتیں چھوٹ جائیں گی، اور مکہ مکرمہ کی طرف پیدل چل کر جائے گا اور اپنے مال کا تیسرا حصہ صدقہ کرے گا جب اس نے یہ کہا : اشد ما اخذہ احدعلی احد۔
ابن عربی نے کہا ہے : ربا طریقہ استدلال تو وہ یہ ہے کہ الایمان میں الف لام جنسی ہوگا یا عہدی ہوگا پس اگر الف لام عہدی ہو تو پھر معبود تیرا قول باللہ ہوگا تو اس صورت میں وہ لازم ہوگا جو فہری نے کہا ہے اور اگر الف لام جنسی ہو تو پھر طلاق جنس ہے اور اس پر یہ داخل ہو رہا ہے اور پھر اس کا عدد پورا نہیں کیا جائے گا، کیونکہ یہ وہ ہے جس میں ہر جنس میں ایک معنی داخل ہونا کافی ہوتا ہے، کیونکہ اگر جنس میں کل معنی داخل ہو تو پھر اس کے لیے تمام مال صدقہ کرنا لازم ہو، کیونکہ کبھی مال کا صدقہ کرنا قسم ہوتا ہے (احکام القرآن لابن عربی، جلد 2، صفحہ 737) واللہ اعلم
قولہ تعالیٰ : آیت قل انما الایت عند اللہ یعنی اے محمد ﷺ آپ فرمائیے : ان نشانیوں اور معجزات کے لانے پر اللہ تعالیٰ قادر ہے اور وہ جب چاہے گا انہیں لے آئے گا۔
آیت : وما یشعرکم، ای وما یدریکم ایمانکم اور تمہیں اپنی قسموں کے بارے میں کیا خبر مفعول کو حذف کردیا گیا ہے۔ پھر نیا کلام کیا اور فرمایا : آیت : انھآ اذا جآءت لا یومنون اس میں ان مکسور ہے، اور یہ قرأت حضرت مجاہد، ابو عمر اور ابن کثیر کی ہے، اور حضرت ابن مسعود ؓ کی قرأت اسی کی شہادت دیتی ہے۔ آیت : وما یشعرکم انھا اذا جاءت لا یومنون اور حضرت مجاہد اور ابن زید نے کہا ہے : اس کا مخاطب مشرکین ہیں، اور کلام مکمل ہوگیا۔ ان پر حکم یہ لگایا گیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے، اور تحقیق اس کے بعد آیت میں ( اللہ تعالیٰ نے) ہمیں بتایا کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اور یہ تاویل اس کی قرأت سے مشابہت رکھتی ہے جس نے تومنون تا کے ساتھ پڑھا ہے۔
اور فراء وغیرہ نے کہا ہے : خطاب مومنین کے لیے ہے، کیونکہ مومنوں نے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ اگر آیت نازل ہوئی تو شاید وہ ایمان لے آئیں گے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : وما یشعرکم یعنی تمہیں کیا خبر اور تمہیں کون بتائے اے مومنین ! انھا یعنی ہمزہ مفتوح ہے، اور یہ اہل مدینہ، اعمش اور حمزہ کی قرأت ہے یعنی لعلھا اذا جاءت لا یومنون ( شاید جب وہ نشانی آجائے تو وہ ایمان نہیں لائیں گے) خلیل نے کہا ہے : انھا بمعنی لعلھا ہے، اسے ان سے سیبویہ نے بیان کیا ہے۔ اور قرآن کریم میں ہے آیت : وما یدریک لعلہ یزکی (عبس) یعنی انہ یزکی ( اور آپ کیا جانیں شاید وہ پاکیزہ تر ہوجائے) اور عربوں سے حکایت ہے : ایت السوق انک تشتری لنا شیا، ای لعلک ( تو با زار آ شاید تو ہمارے لیے کوئی شئے خریدے)
اور ابو النجم نے کہا ہے :
قلت لشیبان ادن من لقائہ ان تغدی القوم من شوائہ
اور عدی بن زید نے کہا ہے :
اعاذل ما یدریک ان منیتتی الی ساعۃ فی الیوم اوفی ضحی الغد
تو ان میں ان بمعنی لعل مذکور ہے۔
اور درید بن صمہ نے کہا ہے :
ارینی جو ادا مات ھزلا لاننی اری ما ترین او بخیلا مخلدا
تو اس میں بھی لاننی، لعلنی کے معنی میں ہے۔ اور کلام عرب میں ان بمعنی لعل کا استعمال کثیر ہے۔ اور کسائی نے بیان کیا ہے کہ مصحف حضرت ابی بن کعب میں اسی طرح ہے : وما ادراکم لعلھا اور کسائی اور فراء نے کہا ہے : کہ لازائدہ ہے اور معنی ہے : وما یشعرکم انھا یعنی الآیات۔ تمہیں کیا خبر کہ نشانیاں جب مشرکین کے پاس آجائیں تو وہ ایمان لے آئیں گے پس اس میں لازائد کیا گیا ہے، جیسا کہ قول باری تعالیٰ میں لا زاید کیا گیا ہے : آیت : وحرم علی قریۃ اھلکنھا انھم لا یرجعون (الانبیائ) کیونکہ اس کا معنی ہے : و حرام علی قریۃ مھلکۃ رجوعھم ( ہلاک شدہ گاؤں پر ان کا رجوع حرام ہے)
اور اس قول باری تعالیٰ میں آیت : ما منعک الاتسجد (الاعراف : 12) اس کا معنی ہے : ما منعک ان تسجک (تجھے سجدہ کرنے سے کس نے روکا ہے) اور زجاج اور نحاس وغیرہما نے لا کے زائدہ ہونے ضعیف قرار دیا ہے اور کہا ہے : یہ غلط اور خطا ہے، کیونکہ اسے ایسی عبارت میں زائل کیا جاتا ہے جس میں یہ اشکال پیدا نہ کرے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کلام میں حذف ہے اور معنی یہ ہے : آیت : وما یشعرکم انھا اذا جاءت لا یومنون او یومنون (تمہیں کیا خبر ہے کہ جب وہ نشانی آجائے تو وہ ایمان نہیں لائیں گے یا ایمان لائیں گے) پھر سامع کو اس کا علم ہونے کی وجہ سے اسے حذف کردیا گیا۔ نحاس وغیرہ نے اسے ذکر کیا ہے۔
Ayah 6:110آیت نمبر 110
یہ آیت مشکل ہے، اور بالخصوص وہ (اشکال) اس میں ہے آیت : ونذرھم فی طغیانھم یعمھون کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے اور ہم ان کے دلوں کو اور ان کی آنکھوں کی قیامت کے دن آگ کے شعلوں اور انگاروں کی حرارت کی طرف پھیر دیں گے، جس طرح کہ وہ دنیا میں ایمان نہیں لائے۔
آیت : ونذرھم اور ہم انہیں دنیا میں چھوڑ دیں گے یعنی ہم انہیں مہلت دیں گے اور ہم انہیں سزا نہیں دیں گے، پس آیت کا کچھ حصہ آخرت کے بارے میں ہے اور کچھ دنیا کے بارے میں۔ اور اس کی نظیر یہ آیت ہے۔ آیت : وجوہ یومئذ خاشعۃ (الغاشیہ) یہ آخرت میں ہوگا اور آیت : عاملۃ ناصبۃ (الغاشیہ) یہ دنیا میں ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اور ہم دنیا میں پھیر دیں گے، یعنی ہم ان کے درمیان اور ایمان کے درمیان حائل ہوجائیں گے اگر وہ نشانی ان کے پاس آ بھی جائے، جیسا کہ ہم ان کے درمیان اور ایمان کے درمیان پہلی بار حائل ہوئے، جب آپ نے انہیں دعوت دی اور ان پر اپنا معجزہ ظاہر فرمایا۔
اور قرآن کریم میں ہے : آیت : واعلموا ان اللہ یحول بین المرء و قلبی (الانفعال : 24) ( اور خوب جان لو کہ اللہ ( کا حکم) حائل ہوجاتا ہے انسان اور اس کے دل ( کے ارادوں) کے درمیان) اور معنی یہ ہے : چاہیے یہ تھا کہ وہ ایمان لاتے جب ان کے پاس نشانی آگئی اور انہوں نے اسے اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھ لیا اور اسے اپنے دلوں کے ساتھ پہچان لیا، پس جب وہ ایمان نہیں لائے تو ایسا اللہ تعالیٰ کے ان کے دلوں اور ان کی آنکھوں کو پھرنے کے سبب ہوا۔
آیت : کما لم یومنو بی اول مرۃ اور کاف محذوف پر داخل کیا گیا ہے، ای فلا یومنون کما لم یومنوا بہ اول مرہ ( پس وہ ایمان نہیں لائیں گے جس طرح وہ پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے) یعنی پہلی مرتبہ ان کے پاس ایسی نشانیاں اور معجزات آئے جن کا معارض ( اور مقابل) لانے سے وہ عاجز آگئے مثلا قرآن کریم وغیرہ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اور ہم ان کے دلوں کو پھر دیں گے تاکہ وہ ایمان نہ لائیں جس طرح کہ گزشتہ امتوں کے کفار ایمان نہیں لائے جب انہوں نے ان نشانیوں کو دیکھا جن کی انہوں نے خواہش کی تھی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کلام میں تقدیم و تاخیر ہے : یعنی انھا اذا جاءت لا یومنون کمالم یومنوا اول مرۃ ونقلب افئدتھم وابصارھم ( یہ کہ جب وہ نشانی آجائے وہ ایمان نہیں لائے گے جس طرح وہ پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے اور ہم ان کے دلوں اور ان کی آنکھوں کو پھیر دیں گے) آیت : ونذرھم فی طغیانھم یعمھون اور ہم انہیں چھوڑ دیں گے کہ وہ اپنی سرکشی میں ہی چکر کاٹتے رہیں۔ اس کا بیان سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔
Ayah 6:111آیت نمبر 111
قولہ تعالیٰ آیت : ولو اننا نزلنا الیھم الملٓئکۃ اور اگر ہم ان کی طرف فرشتے اتارتے اور وہ انہیں عیاں دیکھ لیتے۔ آیت : وکلمھم الموتی اور مردے ان سے باتیں کرنے لگتے ہمارے انہیںٰ زندہ کرنے کے ساتھ۔ آیت وحشرنا علیھم کل شیء نشانیوں میں سے جن کا انہوں نے مطالبہ کیا ( وہ ہر شی ہم ان کے لیے جمع کردیے) قبلا ان کے سامنے۔ حضرت ابن عباس، حضرت قتادہ اور حضرت ابن زید ؓ عنہھم سے مروی ہے اور یہ نافع اور ابن عامر کی قرأت ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے معاینہ ان کے روبرو، تو وہ ایمان نہ لاتے۔
اور محمد بن یزید نے کہا ہے : قبلا بمعنی ناحیۃ ( طرف) ہوتا ہے، جیسا کہ آپ کہتے ہیں : لی قمل فلان مال (میرا فلاں کی طرف مال ہے) پس قبلا، طرف ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔ اور باقیوں نے قبلا پڑھا ہے یعنی قاف اور با کے ضمہ کے ساتھ، اور اس کا معنی ہے ضمناء پس یہ قبیل کی جمع ہوگی بمعنی کفیل، جیسا کہ رغیف اور رغف ہے۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : او تاتی باللہ والملٰئکۃ قبیلا (الاسرا) یعنی وہ اس کے ضامن ہوں گے۔ یہ فراء سے منقول ہے۔ اور اخفش نے کہا ہے : یہ معنی قبیل قبیل ہے۔ یعنی جماعت در جماعت۔
اور یہ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے اور یہ دونوں قولوں کے مطابق حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے اور محمد بن یزید نے کہا ہے قبلا بمعنی مقابلہ ہے ( یعنی سامنے) اور اسی معنی میں یہ ارشاد گرامی ہے : آیت : ان کان قمیصہ قد من قبل (یوسف : 26) (اگر یوسف کی قمیص آگے سے پھٹی ہوئی ہے) اور اسی سے قبل الرجل و دبرہ ہے اور یہ اس چیز کے لیے ہے جو آدمی کے سامنے ہو اور اس کے پیچھے ہو۔ اور اس سے قبل الحیض بھی ہے۔
ابو زید نے بیان کیا ہے : لقیت فلانا قبلا ومقابلۃ وقبلا وقبلا ان تمام کا معنی ہے میں آدمی کو بالمشافہ (روبرو) ملا۔ پس معنی میں ضمہ، کسرہ کی طرح ہی ہے اور دونوں قرأتیں مساوی اور برابر ہیں۔ مکی نے یہ کہا ہے اور حسن نے قبلا پڑھا ہے اس میں با سے ضمہ کو ثقیل ہونے کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے۔ اور فراء کے قول کے مطابق اس میں اس شئے کا بولنا مراد ہے جو بولتی نہیں اور اس چیز کی کفالت میں جو عقل وفہم نہیں رکھتی ان کے لیے بہت بڑی علامت اور نشانی ہے۔ اور اخفش کے قول کے مطابق اس میں ان اجناس کا جمع ہونا ہے جو معبود نہیں۔ اور حشر کا معنی جمع کرنا ہے۔
آیت : ماکانوا لیومنوا الا ان یشآء اللہ اس میں ان استثنا کے محل میں ہے پہلے کلام سے نہیں ہے۔ یعنی لکن انشاء اللہ لھم ( لیکن اگر اللہ تعالیٰ ان کے لیے چاہتا)
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ استثنا ان اہل سعادت کے لیے ہے جن کے لیے اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ وہ ایمان لے آئیں گے۔ اور اس میں حضور نبی مکرم ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ آیت ولکن اکثرھم یجھلون لیکن ان میں سے اکثر حق سے جاہل ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ اس چیز سے غافل اور جاہل ہیں کہ ایک نشانی اور معجزہ دیکھ لینے کے بعد مزید نشانیوں اور معجزات کی خواہشات کرنا جائز نہیں ہوتا۔
Ayah 6:112آیت نمبر 112
قولہ تعالیٰ : آیت : وکذٰلک جعلنا لکل نبی اس میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی مکرم ﷺ کو حوصلہ اور تسلی دے رہا ہے، یعنی جس طرح ہم نے آپ کو اس قوم کے ساتھ آزمائش میں ڈالا ہے اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے بھی ہر نبی کے لیے دشمن بنائے تھے۔ عدوا یعنی دشمن۔ پھر ان کی صفت بیان کی اور فرمایا : آیت : شیٰطین الانس والجن (تفسیر بغوی، جلد 2، صفحہ 124) سیبویہ نے بیان کیا ہے کہ جعل بمعنی وصف ہے۔ عدوا مفعول اول ہے۔ لکل نبی یہ مفعول ثانی کے محل میں ہے۔ آیت : شیٰطین الانس والجن یہ عدو سے بدل ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ شیاطین مفعول اول ہو اور عدوا مفعول ثانی ہو۔ گویا کہ اس طرح کہا گیا : جعلنا شیاطین الانس والجن عدوا اور اعمش نے شیاطین الجن والانس پڑھا ہے یعنی الجن کو مقدم کیا ہے۔ اور دونوں صورتوں میں معنی ایک ہی ہے۔ (معانی القرآن للنحاس، جلد 2، صفحہ 476)
آیت : یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول غرورا یہ اس شے سے عبارت ہے جو جنوں میں سے شیطان انسانوں کے شیطانوں کی طرح وسوسہ اندازی کرتے ہیں۔ اور اسے وحی کا نام اس لیے دیا گیا ہے، کیونکہ یہ خفیہ ہوتی ہے، اور ان کی ملمع سازی کو زخرف کہا ہے، کیونکہ وہ اسے خوب آراسہ کر کے بیان کرتے ہیں اور اسی وجہ سے سونے کو زخرف کا نام دیا گیا ہے۔
اور ہر وہ شے جو حسین ہو اور اس پر سونے کا پانی چڑھا یا گیا ہو تو وہ زخرف ہے۔ اور المزخرف کا معنی ہے المزین ( وہ شے جس کو آراستہ کیا جائے، خوشنما بنایا جائے) اور زخارف الماء کا معنی پانی کے راستے ہیں۔ اور غرورا کو مصدر کی بنا پر نصب دی گئی ہے، کیونکہ یوحی بعضھم الی بعض کا معنی ہے وہ انہیں اس کے ساتھ بہت دھوکہ دیتے ہیں۔ یغرونھم بذالک غرورا تو اس صورت میں غرورا مفعول مطلق ہوگا) ۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ حال کے محل میں ہو۔
اور غرورا کا معنی باطل ہونا ہے۔ نحاس نے کہا ہے : اور حضرت ابن عباس ؓ سے ضعیف اسناد کے ساتھ یہ مروی ہے کہ انہوں نے قول باری تعالیٰ : آیت : یوحی بعضھم الی بعض کے بارے میں کہا ہے کہ ہر جن کے ساتھ ایک شیطان ہے اور ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان ہے۔ پس ان میں سے ایک دوسرے کو ملتا ہے اور یہ کہتا ہے : میں نے اپنے صاحب کو اس طرحے گمراہ کیا ہے پس تو بھی اپنے صاحب کو اسی طرح گمراہ کر دے۔ اور دوسرے بھی اسے اسی طرح کہتا ہے۔ پس یہی ان میں سے بعض کی بعض کی طرف وحی ہے اور حضرت عکرمہ اور ضحاک، سدی اور کلبی نے یہی کہا ہے۔
نحاس نے کہا ہے : پہلا قول اسی پر دلالت کرتا ہے آیت : وان الشیٰطین لیوحون الی اولیئھم لیجادلوکم (الانعام : 121) پس یہ اسی معنی کی وضاحت کر رہا ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : اس پر صحیح سنت بھی دلالت کرتی ہے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :” تم میں سے کوئی بھی نہیں ہے مگر جنہوں میں سے ایک ساتھی اس پر مسلط کیا گیا ہے “۔ عرض کی گئی : کیا آپ بھی نہیں یا رسول اللہ ! ﷺ ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” میں بھی نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے اور اس نے اسلام قبول کرلیا ہے (یعنی وہ مطیع ہوچکا ہے) اور وہ مجھے خیر اور نیکی کے سوا کوئی حکم نہیں دیتا “۔ اس میں فاسلم کا لفظ میم کے رفع اور نصب دونوں کے ساتھ مروی ہے۔ پس رفع اس معنی پر ہے کہ میں اس کے شر سے محفوظ ہوں۔ اور نصب اس معنی کی بنا پر ہے کہ وہ اسلام لا چکا ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ما منکم من احد اور یہ نہیں کہا ولا من الشیاطین ( اور نہ شیطانوں میں سے) مگر یہ احتمال رکھتا ہے کہ اس میں دو جنسوں میں سے ایک کو دوسری کے بارے متنبہ اور آگاہ کرنا ہو۔ پس یہ آیت : سرابیل تقیکم الحر ( النحل : 81) کے باب سے ہوگا۔ اور اس میں بہت دوری اور دوری ہے، واللہ اعلم۔
اور حضرت عوف بن مالک (رح) نے حضرت ابو ذر ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اے اباذ ! کیا تو نے انسانوں اور جنات کے شیاطین کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کی ہے ؟ “۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ کیا انسانوں کے شیاطین بھی ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” ہاں وہ جنوں کے شیاطین سے زیادہ شریر ہیں “ (تفسیر طبری، جلد 9، صفحہ 499)
اور مالک بن دینار نے کہا ہے : بلاشبہ انسانوں کا شیطان مجھ پر جنوں کے شیطان سے زیادہ سخت اور تکلیف دہ ہے، اور وہ اس لیے کہ جب میں اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کروں تو جنوں کا شیطان مجھ سے دور ہوجاتا ہے اور انسانوں کا شیطان میرے پاس آجاتا ہے اور وہ مجھے واضح طور پر معاصی اور گناہوں کی طرف کھینچتا ہے۔ اور حضرت عمر بن خطاب ؓ نے ایک عورت کو یہ شعر کہتے ہوئے سنا :
ان النساء ریاحین خلقن لکم وکلکم یشتھی شم الریاحین
” بیشک عورتیں خوشبودار پودے ہیں تمہارے لیے پیدا کی گئی ہیں اور تم تمام ریاحین کی خوشبو پسند کرتے ہو “۔
حضرت عمر ؓ نے اسے اس طرح جواب دیا :
ان النسآء شیاطین خلقن لنا نعوذ باللہ من شر الشیاطین
” بلاشبہ عورتیں شیاطین ہیں جو ہمارے لیے پیدا کی گئی ہیں ہم شیاطین کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں “۔
قولہ تعالیٰ : آیت : ولو شآء ربک ما فعلوہ اور اگر آپ کا رب چاہتا تو وہ دھوکہ دہی کے قول کی وسوسہ اندازی نہ کرتے۔ فذرھم یہ امر ہے اور اس میں تہدید (ڈرانے) کا معنی ہے۔ سیبویہ نے کہا ہے : نہیں کہا جائے گا : وزر اور نہ ہی ودع، ترک کے سبب وہ ان دونوں سے مستغنی ہیں۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ قول اس کے اکثر استعمال کی بنا پر پے۔ اور قرآن کریم میں ہے آیت : وذرالذین اور ما ودعک اور حدیث طیبہ میں ہے : لینتھین اقوام عن ودعھم الجمعات (مسند امام احمد، حدیث نمبر 2132) ( قومیں اپنے جمعوں کو چھوڑنے سے باز آجائیں گی) اور اس کا قول اذا فعلوا اسے مراد معاصی اور گناہ ہیں۔ فقد تودع منھم تحقیق وہ ان سے چھڑا دیا گیا۔
زجاج نے کہا ہے : واؤ ثقیل ہے، پس جب ترک ہے اس میں واؤ نہیں ہے اور یہ اس کے معنی میں ہے جس میں واؤ ہے تو پھر اسے چھوڑ دیا گیا جس میں واؤ ہے اور یہ اس کے قول کا معنی ہے یہ نص نہیں ہے۔
Ayah 6:113آیت نمبر 113
قولہ تعالیٰ آیت : ولتصغی الیہ افئدہ، تصغی بمعنی تمیل ( مائل ہونا) ہے۔ کہا جاتا ہے : صغوت اصغو صغوا وصغوا، وصغیت اصغی، وصغیت یہ غین کے کسرہ کے ساتھ بھی ہے۔ اس سے کہا جاتا ہے : صغی یصغی صغی وصغیا، واصغیت الیہ اصغاء تمام ہم معنی ہیں۔
شاعر نے کہا ہے :؎
تری السفیۃ بہ عن کل محکمہ زیغ وفیہ الی التشبیہ اصغاء
اور کہا جاتا ہے : اصغیت الاناء ( اور یہ تب کہا جاتا ہے) جب تو برتن کو جھکا دے تاکہ جو کچھ اس میں ہے وہ جمع اور اکٹھا ہوجائے۔ اور اس کی اصل المیل الی الشیء لغرض من الاغراض ہے یعنی کسی غرض اور مقصد کے لیے کسی چیز کی طف مائل ہونا (جھکنا) اور اسی سے ہے صغت النجوم ستارے غروب ہونے کی طرف مائل ہوئے۔ اور قرآن کریم میں ہے : آیت : فقد صغت قلوبکما ( التحریم : 4) ( اور تمہارے دل بھی توبہ کی طرف مائل ہوچکے ہیں) ابو زید نے کہا ہے : ( کہا جاتا ہے) صغوہ معک وصغوہ معک، صغاہ مع کی ای میلہ ( اس کا میلان تیرے ساتھ ہے) اور حدیث میں ہے : فاصغی لھا لانائ (سنن ابی داؤد، کتاب الاستبرا باب سورة الھرۃ، حدیث 68، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) یعنی اس نے بلی کے لیے برتن جھکا دیا۔ اور اکرموا فلانا فی صاغیتہ یعنی تم فلان کی تکریم کرو اس کی اس قربت کے سبب جس کی طرف وہ مائل ہوتے ہیں اور جو اس کے پاس ہے اس کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اور اصغت الناقۃ ( یہ تب کہا جاتا ہے ( جب ناقہ اپنا سر آدمی کی طرف جھکائے گویا کہ وہ اس سے کچھ سن رہی ہے جب وہ اس پر کجاوہ باندھتا ہے۔
ذوالرمہ نے کہا ہے :
تصغی اذا شدھا بالکور جائحۃ حتی اذا ما استوی فی غرزھا تثب
اور ولتصغی میں لام لام کی ہے، اور اس میں عامل یوحی ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے : یوحی بعضھم الی بعض لیغروھم ولتصغی ( ان میں سے بعض بعض کی طرف القاء کرتے ہیں تاکہ وہ انہیں دھوکہ دیں تاکہ ( دل ان کی طرف) مائل ہوں) ۔ اور بعض نے یہ گمان کیا ہے کہ یہ لام امر ہے، اور یہ غلط ہے، کیونکہ اس میں ولتصغ الیہ الف کو حذف کرنا واجب ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ لام کی ہی ہے۔
اور اسی طرح ولیروہ لیقترفوا میں بھی ہے۔ مگر حسن نے آیت : ولیرضوہ ولیقترفوا لام کو سکون کے ساتھ پڑھا ہے، اور اسے لام امر قرار دیا ہے اور اس میں تہدید کا معنی موجود ہے۔
جیسا کہ کہا جاتا ہے : افعل ما شئت ( جو تیری مرضی وہ کر، تو اس میں امر تہدید کے لیے ہے) اور آیت ولیقترفوا ما ھم مقترفون کا معنی ہے ولیکتسبوا ( چاہیے کہ وہ کرتے رہیں) حضرت ابن عباس ؓ ، سدی اور ابن زید رحمۃ اللہ علیہما سے یہی مروی ہے۔ کہا جاتا ہے : خرج یقترف اھلہ ای یکتسب لھم ( وہ نکل گیا جو اپنے اہل کے لیے کرتا ہے) اور قارف فلان ھذا الامر جب وہ اس کام میں کود واقع ہو اور اسے عملا کرے۔ اور قرفتنی بھا ادعیت علی ای رمیتنی بالربیۃ ( تو نے مجھے شک میں ڈال دیا) اور قرف القرحۃ ( تب کہا جاتا ہے) جب وہ زخم کو چھیل دے اور اقترف کذبا ( اس نے جھوٹ گھڑ لیا) ۔
رؤبہ نے کہا ہے :
اعیا اقراف الکذب المقرف تقوی التقی وعفۃ العفیف
اور اس کا اصل معنی ہے کسی شی سے کوئی ٹکڑا کاٹنا۔
Ayah 6:114آیت نمبر 114
قولہ تعالیٰ : آیت : افغیر اللہ ابتغی حکما اس میں غیر کو ابتغی کے ساتھ نصب دی گئی ہے۔ اور حکما بیان ہونے کی بنا پر منصوب ہے، اور اگر چاہے تو حال بنا لے۔ اور معنی یہ ہے : کیا میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حاکم تلاش کروں حالانکہ وہ وہ ہے جو تمہیں آیات کے بارے سوال کی مشقت اور بوجھ کے وقت کافی ہوا ( کہ) اس نے تمہاری طرف کتاب مفصل نازل فرما دی، اس میں مفصل بمعنی مبین ( وضاحت کرنے والی) ہے۔ پھر کہا گیا ہے : حکم، حاکم سے زیادہ بلیغ ہے، کیونکہ حکم نام رکھنے کا کوئی مستحق نہیں ہے مگر وہی جو حق کے ساتھ فیصلے کرتا ہے، کیونکہ یہ مدح میں بہت عظیم صفت ہے اور حاکم ایسی صفت ہے جو فعل پر جاری ہوتی ہے، اور اس کے ساتھ اس کا نام بھی رکھا جاسکتا ہے جو بغیر حق کے فیصلے کرتا ہے۔
آیت : والذین اتینٰھم الکتٰب اس میں مراد یہود و نصاری ہیں۔ اور یہ قول بھی ہے : ( وہ مراد ہیں) جو ان میں سے اسلام لے آئے مثلا حضرت سلمان، حضرت صہیب اور حضرت عبداللہ بن سلام ؓ عنہھم۔ آیت یعلمون انہ یعنی وہ جانتے ہیں کہ یہ قرآن آیت منزل من ربک بالح یعنی وہ سب جو قرآن کریم میں وعدہ وعید میں سے ہے وہ سب برحق ہے۔ آیت فلا تکونن من الممترین یعنی آپ اس بارے میں شک کرنے والوں میں سے نہ ہو جائین کہ وہ یقینا جانتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کیا گیا ہے۔ اور حضرت عطا نے کہا ہے : آیت الذین اتینٰھم الکتٰب سے مراد حضور نبی مکرم ﷺ کے صحابہ کرام کے روساء ( سردار) ہیں اور وہ حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق اعظم، حضرت عثمان ذوالنورین اور حضرت علی ؓ عنہھم ہیں۔
Ayah 6:115آیت نمبر 115
قولہ تعالیٰ : آیت : وتمت کلمت ربک اہل کوفہ کی قرأت کلمہ واحد کے ساتھ ہے اور باقیوں کی جمع کے ساتھ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : مواعید ربک ( تیرے رب کے وعدے) پس انہیں کوئی تبدیل نہیں کرسکتا۔ اور کلمات، عبارات یا متعلقات کی طرف راجع ہے اور متعلقات سے مراد وعدہ اور وعید وغیر ہیں۔ حضرت قتادہ نے بیان کیا : الکمات سے مراد قرآن کریم ہے اسے کوئی بدلنے والا نہیں، جھوٹ گھڑنے والے نہ اس میں اضافہ کرسکتے ہیں اور نہ کمی کرسکتے ہیں۔
آیت : صدقا وعدلا یعنی اس میں جو وعدہ اور حکم ہے ( اس کی سچائی اور عدل سے) اس کے فیصلے کو کوئی رد کرنے والا نہیں اور نہ کوئی اس کا وعدہ کے خلاف ہونا ممکن ہے اور رمانی نے حضرت قتادہ سے بیان کیا ہے : جس بارے میں وہ اس کے ساتھ فیصلہ فرمائے اسے کوئی تبدیل کرنے والا نہیں، یعنی بلا شبہ اگر وہ اس کے لیے الفاظ میں تغیر و تبدل ممکن بنا دے جیسا کہ اہل کتاب نے تورات وانجیل میں تبدیلی کرلی تو پھر یہ قابلی اعتماد اور قابل اعتبار نہیں رہتا۔ اور یہ آیت قرآن کریم کی دلالات کے واجب الاتباع ہونے پر دلیل ہے، کیونکہ یہ ایسا حق ہے جسے ایسی شی کے ساتھ تبدیل کرنا ممکن نہیں جو اس کی مناقض ہو، کیونکہ یہ ایسے حکیم کی جانب سے ہے جس پر تمام امور میں سے کوئی شی مخفی نہیں ہے۔
Ayahs 6:116–117آیت نمبر 117
قولہ تعالیٰ : آیت : وان تطع اکثر من فی الارض یعنی اگر تو اطاعت کرے کفار کی۔ آیت : یضلوک عن سبیل اللہ تو وہ تجھے بہکا دیں گے اس راستے سے جو اللہ تعالیٰ کے اجر وثواب کی طرف پہنچا دیتا ہے۔
آیت : ان یتبعون الا الظن اس میں ان بمعنی ما ہے، اور اسی طرح آیت : وان ھم الا یخرصون ہے یعنی نہیں ہیں وہ مگر تخمینے لگاتے ہیں اور اندازے لگاتے ہیں، اور اسی سے الخرص ہے، اور اس کا اصل معنی کاٹنا ہے۔
شاعر نے کہا ہے :
تری قصد المران فینا کا نہ تذرع خرصان بائیدی الشواطب
یعنی وہ ٹہنی جو طولا کاٹی جاتی ہے اور اس سے (سہارا کے لیے) کھونڈی بنائی جاتی ہے۔ اور یہ خرصان خرص کی جمع ہے۔ اور اس سے خرص یخرص النخل خرصا ہے جب وہ اس کا اندازہ لگائے تاکہ وہ اس سے خراج وصول کرے۔ اور خارص وہ ہوتا ہے جو ایسی شی کے ساتھ کاٹتا ہے جس کے ساتھ کاٹنا جائز نہیں ہوتا، جب کہ اس کے ساتھ اسے یقین نہ ہو۔ اس کا مزید بیان ان شاہ اللہ تعالیٰ سورة ذاریات میں آئے گا۔ آیت : ان ربک ھو اعلم بعض لوگوں نے کہا ہے : یہاں اعلم بمعنی یعلم ہے۔ اور اس کی تائید میں حاتم طائی کا قول بیان کرتے ہیں۔
تحالفت طی من دوننا حلفا واللہ اعلم ما کنا لھم خذلا
اور خنساء کا قول ہے :
اللہ اعلم ان جفنتہ تغدو غداہ الریح اوتسری
ان دونوں میں اعلم بمعنی یعلم ہے)
اور اس میں کوئی حجت اور دلیل نہیں ہے، کیونکہ یہ آیت : وھو اعلم بالمھتدین کے مطابق نہیں ہوگا اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ اپنے اصل پر آیت : من یضل عن سبیلہ اس میں من بمعنی ای ہے۔ اور یہ محل رفع میں ہے اور اسے رفع دینے والا عامل یضل ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اعلم کے سبب محل نصب میں ہے، یعنی ان ربک اعلم ای الناس یضل عن سبیلہ ( بیشک آپ کا رب خوب جانتا ہے لوگوں میں سے کون ہے جو اس کی راہ سے بہک رہا ہے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ حرف جر کے حذف کے ساتھ محل نصب میں ہے یعنی بمن یضل بعض بصریوں نے یہ کہا ہے۔ یہ اچھا اور حسین ہے، اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی وجہ آیت : وھو اعلم بالمھتدین اور سورة نخل کے آکر میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : آیت : ان ربک ھو اعلم من یضل عن سبیلہ، وھو اعلم بالمھتدین اور یضل بھی پڑھا گیا ہے اور یہ مفعول کو حذف کرنے کی بنا پر ہے، اور پہلا قول احسن ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت : وھو اعلم بالمھتدین اور اگر یہ اضلال سے ہوتا تو وہ فرماتا : وھو اعلم بالھادین۔
Ayah 6:118قولہ تعالیٰ : آیت : فکلموا مما ذکر اسم اللہ علیہ یہ آیت کچھ لوگوں کے سبب نازل ہوئی جو حضور نبی مکرم ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے : یا رسو اللہ ! ﷺ بلاشبہ ہم اسے تو کھاتے ہیں جسے ہم خود مارتے ہیں اور اسے نہیں کھاتے جسے اللہ تعالیٰ مار دے ؟ تب یہ آیات نازل ہوئی : آیت نمبر 121، اسے ترمذی وغیر نے نقل کیا ہے (سنن ابی داؤد، کتاب الضحایا، باب فی ذبائح اھل الکتاب، حدیث 2436، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔
حضرت عطا نے کہا ہے : یہ آیت اس بات کا حکم ہے کہ کوئی مشروب پیتے وقت، ذبح کے وقت اور ہر قسم کی کھائی جانے والی شی کھاتے وقت اللہ تعالیٰ کا اسم گرامی ( یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم) پڑھنا چاہیے۔ اور قول باری تعالیٰ آیت : ان کنتم بایٰتہ مؤمنین یعنی اگر تم اس کے احکام اور اوامر کو لینے والے (پکڑنے والے) ہو، کیونکہ ایمان انہیں متمضن ہوتا ہے اور انہیں پکڑنے اور ان کی پیروی کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔
Ayah 6:119قولہ تعالیٰ : آیت : ومالکم الا تاکلو مما ذکر اسم اللہ علیہ اس کا معنی ہے تمہارے لیے کون سی شی مانع ہے اس کو کھانے سے جس پر تم نے اپنے رب کا نام لیا ہے اگرچہ تم نے اسے اپنے ہاتھوں سے مارا ہے۔
وقد فضل یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حلال اور حرام کو واضح طور پر بیان کردیا ہے اور تم سے التباس اور شک کو زائل کردیا گیا ہے اور ما استفہامیہ تقریر کو متضمن ہے۔ اور تقدیر کلام ہے : وای شی لکم فی الا تکلوا ( اور اس میں تمہارے لیے کون سی شی ہے کہ تم اسے نہیں کھاتے) اور ان بتقدیر حرف جر عمل جر میں ہے۔ اور اس بنا پر محل نصب میں ہونا بھی صحیح ہے کہ حرف جر مقدر نہ ہو اور نصب دینے والا عامل اس فعل کا معنی ہو جو مالکم میں ہے اور اس کی تقدیر ہے ما یمنعکم ( کونسی شی تمہیں روکتی ہے) پھر استثنا کی اور فرمایا آیت : الا ما اضظررتم الیہ اس میں مراد وہ سب ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حرام کیے ہیں مثلا مردار وغیر جیسا کہ سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ اور یہ استثنا منقطع ہے۔ اور نافع اور یعقوب نے آیت : وقد فصل لکم ما حرم دونوں فعلوں کو فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور ابو عمر، ابن عامر اور ابن کثیر نے دونوں میں ضمہ پڑھا ہے۔ (یعنی فصل اور حرم) اور کو فیوں نے فصل کو فتحہ کے ساتھ اور حرم کو ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور عطیہ العوفی نے فصل تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور اس کا معنی ہے جدا کرنا اور ظاہر کرنا، جیسا کہ اس آیت میں پڑھا گیا ہے۔ آیت : الٓر کتٰب احکمت ایتۃ ثم فصلت (ہود : 1) ای استبانت (یعنی ظاہر کردیں) ۔ ابو عبید نے اہل مدینہ کی قرأت کو اختیار کیا ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ فصل کا معنی بین (بیان کرنا، واضح کرنا) ہے اور یہ وحی ہے جو سورة المائدہ میں اس ارشاد کے تحت مذکور ہے : آیت : حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر (المائدہ : 3)
میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ بھات محل نظر ہے، کیونکہ سورة الانعام مکی ہے اور سورة المائدہ مدنی سورت ہے تو یہ کیسے اس کا بیان بن سکتی ہے جو ابھی تک نازل ہی نہیں ہوئی ؟ سوائے اس صورت کے کہ فصل بمعنی یفصل ہو۔ واللہ اعلم
قولہ تعالیٰ : آیت : وان کثیرا لیضلون اور قراء کوفہ نے اسے یصلون، اضل سے پڑھا ہے۔
آیت : باھوآئھم بغیر علم یعنی مشرکین نے جب کہا : جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی چھری کے ساتھ ذبح کیا ہے وہ اسے سے بہتر ہے جنہیں تمہیں تم اپنی چھریوں کے ساتھ ذبح کرتے ہو۔ بغیر علم یعنی بغیر علم کے جو وہ ذبح کے معاملہ میں جانتے ہیں، کیونکہ اس میں حکمت اس خون کا نکلنا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ہم پر حرام قرار دیا ہے بخلاف اس جانور کے جو دم گھٹنے سے مر جائے۔ اسی لیے محل مخصوص سے ذبح کو مشروع کیا گیا ہے تاکہ اس میں ذبح جانور سے تمام خون کے نکلنے کا سبب بن جائے بخلاف کسی اور عضو کے ( کیونکہ وہاں سے سارے خون کا نکلنا ممکن نہیں ہوتا ٰ ) واللہ اعلم
Ayah 6:120آیت نمبر : 120
قولہ تعالیٰ آیت : وذرا ا ظاہر الاثم و باطنہ اس بارے میں علماء کے بہت سے اقوال ہیں۔ اور ان کا نتیجہ اور حاصل جس کی طرف وہ راجح ہیں وہ یہ ہے کہ ظاہر وہ ہے جو بدن کا ایسا عمل ہو جس نے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہو اور باطن وہ عمل ہے جس کا دل سے اعتقاد رکھا جائے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف ہو، چاہے حکم امر کی صورت میں ہو یا نہی کی صورت میں۔ اس مرتبہ پر وہی پہنچ سکتا ہے جو تقویٰ اختیار کرے اور نیکی کرے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : ثم اتقوا وامنوا ثم اتقوا واحسنوا (المائدہ : 93) (پھر (ان احکام کے بعد بھی) ڈرتے ہیں اور (جو اترا) اس پر ایمان رکھتے ہیں پھر بھی ڈرتے ہیں اور اچھے کام کرتے ہیں) اور یہ اس اعتبار سے تیرا مرتبہ ہے جن کا بیان پہلے سورة المائدہ میں ہوچکا ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ وہ ہے جس پر وہ زمانہ جاہلیت میں تھے کہ ظاہر اڑنا کرتے اور باطنا انہیں بیویاں بناتے تھے۔ اور جو ہم نے پہلے بیان کیا ہے وہ ہر گناہ کو جامع ہے (اور ہر امر کا موجب ہے) ۔
Ayah 6:121آیت نمبر : 121
قولہ تعالیٰ : آیت : ولا تاکلوا ممالم یذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ ابو داؤد نے روایت بیان کی ہے کہ یہودی حضور نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے : ہم اسے تو کھالیتے ہیں جسے ہم خود مارتے ہیں اور اسے نہیں کھاتے جسے اللہ تعالیٰ مار دے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : آیت : ولا تاکلوا ممالم یذکر اسم اللہ علیہ الی آخری الآیۃ (سنن ابی داؤد، کتاب الضحایا، باب فی ذبائح اھل الکتاب، حدیث نمبر 2436، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ اور نسائی نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس قول باری تعالیٰ کے تحت بیان کیا ہے : آیت : ولا تاکلوا ممالم یذکر اسم اللہ علیہ انہوں نے بیان فرمایا : مشرکین نے ان سے جھگڑا کردیا اور انہوں نے کہا : جسے اللہ تعالیٰ ذبح کرے تو اسے تم کھاتے اور جسے تم خود ذبح کرتے ہو اسے تم کھالیتے ہو۔ تو اللہ سبحانہ نے ان کے لیے ارشاد فرمایا : لا تاکلوا تم نہ کھاؤ، کیونکہ تم نے اس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیا ہے۔ اور یہاں ایک اصولی مسئلہ بیان کیا جاتا ہے۔
مسئلہ نمبر 2 : اور وہ یہ ہے کہ جو لفظ سبب کی بنا پر وارد ہوگیا اسے اسی پر محصور کیا جائے گا یا نہیں ؟ تو ہمارے علماء نے بیان کیا ہے : اس میں دعو ٰی عموم کے صحیح ہونے میں کوئی اشکال نہیں جسے شارع نے ابتداء ہی الفاظ عموم کے ساتھ ذکر کیا ہو، البتہ وہ جسے کسی سوال کے جواب میں ذکر کیا ہو تو اس میں تفصیل ہے، جو اصول فقہ میں معروف ہے۔ مگر یہ کہ اگر اسے بغیر سوال کے لفظ مستقل کے ساتھ ذکر کیا جائے تو پھر وہ تعمیم کے ارادہ کے صحیح ہونے کی صورت میں اول (کلام) کے ساتھ لاحق ہوگا، پس قول باری تعالیٰ آیت : لا تاکلوا مردار کو شامل ہونے میں ظاہر ہے۔ اور اس میں وہ بھی داخل ہوگا جس پر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا کیونکہ یہ الفاظ عام ہیں کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا جائے، اور اس پر اللہ تعالیٰ کے نام کے سوا کسی اور کے ذکر کی زدیاتی وہ ہے جس کی تحریم کا تقاضا بطور نص اس ارشاد سے ہوتا ہے : آیت وما اھل بہ لغیر اللہ ( البقرہ : 173) ( اور وہ جانور بلند کی گیا جس پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام) کیا اس میں وہ جانور بھی داخل ہوگا جس پر ذبح کے وقت یا شکار پر چھوڑتے وقت کسی مسلمان نے تسمیہ جان بوجھ کر چھوڑ دیا ہو تو اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے اور اس میں پانچ قول ہیں۔ اور یہی وہ مسئلہ ہے۔
مسئلہ نمبر 3 : پہلا قول : اگر اس نے تسمیہ سہوا ( بھول کر) چھوڑ دیا تو دونوں جانور کھائے جائیں گے یہی اسحاق کا قول ہے اور امام احمد بن حنبل (رح) سے بھی ایک روایت ہے۔ اور اگر اس نے عمدا ( جان بوجھ کر) چھوڑ دیا تو دونوں نہ کھائے جائیں گے۔ امام مالک اور ابن القاسم نے اپنی کتاب میں یہی کہا ہے اور یہی امام اعظم ابوحنیفہ (رح)، آپ کے اصحاب، امام ثوری، حسن بن حی، عیسیٰ اور اصبح نے کہا ہے اور سعید بن جبیر اور عطا نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ اور نحاس نے اسے پسند کیا ہے اور کہا ہے : یہ احسن ہے، کیونکہ اسے فاسق کا نام نہیں دیا جاسکتا جب وہ بھول گیا۔
دوسرا قول : اگر اس نے تسمیہ عمدا یا سہوا چھوڑ دیا تو وہ دونوں کو کھالے گا۔ اور امام شافعی اور حسن رحمۃ اللہ علیہما کا قول ہے اور حضرت ابن عباس، حضرت ابوہریرہ ، حضرت عطا، حضرت سعیدبن مسیب، حضرت جابر بن زید، حضرت عکرمہ، حضرت ابو عیاض، حضرت ابو رافع، حضرت طاؤس، حضرت ابراہیم نخعی، حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اور حضرت قتادہ ؓ سے یہی مروی ہے۔ اور زہراوی نے امام مالک بن انس سے بیان کیا ہے۔ عبدالوہاب نے کہا ہے : تسمیہ سنت ہے، پس جب ذبح کرنے والے نے اسے بھول کر چھوڑ دیا تو امام مالک (رح) اور آپ کے اصحاب کے قول کے مطابق وہ ذبیحہ کھایا جائے گا۔
تیسرا قول : اگر اس نے تسمیہ عمداََ یا بھول کر چھوڑ دیا تو اس کا کھانا حرام ہے۔ محمد بن سیرین، عبداللہ بن عیاش بن ابی ربیعہ، عبداللہ بن عمر، نافع، عبداللہ بن زید خطمی اور شعبی رحمۃ اللہ علیھم نے یہی کہا ہے : اور اسی طرح ابو ثور اور داؤد بن علی نے کہا ہے اور امام احمد (رح) کی ایک روایت میں یہی ہے۔
چوتھا قول : اگار اس نے عمداََ تسمیہ چھوڑ دیا تو اسے کھانا مکروہ ہے۔ ہمارے علماء میں سے قاضی ابو الحسن اور شیخ ابوبکر نے یہی کہا ہے۔
پانچواں قول : اشہب نے کہا ہے کہ عمداََ تسمیہ چھوڑنے والے کا ذبیحہ کھایا جائے گا ( المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 340) مگر یہ کہ وہ حقیر اور ناپسند کرتا ہو اور اسی طرح علامہ طبری نے کہا ہے ( دلائل یہ ہیں) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : فکلوا مما ذکر اسم اللہ علیہ اور دوسرا ارشاد فرمایا : آیت : ولا تاکلوا ممالم یذکراسم اللہ علیہ پس اللہ تعالیٰ نے دونوں صورتیں بیان فرما دیں اور دونوں کا حکم واضح فرما دیا۔ اس کا قول لا تکلوا نہیں ہے جو تحریم پر دلالت کرتی ہے اسے کرامت پر محمول کرنا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ یہ اپنے بعض ایسے مقتضیات کو شامل ہے جو حرام محض ہے اور اس میں تبغض جائز نہیں، یعنی اس سے تحریم اور کراہت ایک ساتھ مراد لیے جائیں۔ اور یہ انتہائی عمداہ اور نفیس اصول ہے۔ اور رہا بھولنے والا تو اس کی طرف خطاب متوجہ ہی نہیں، کیونکہ اسے خطاب کرنا محال ہے، پس شرط اس پر واجب نہیں ہے۔
اور رہا وہ تسمیہ کو جان بوجھ کر ترک کرنے والا ہے تو وہ تین احوال سے خالی نہیں ہوگا یا تو وہ اس وقت تسمیہ ترک کرے تا جب ذبیحہ کو لٹائے گا اور کہے گا : میرا دل اللہ تعالیٰ کے اسماء اور اس کی توحید سے بھرا ہوا ہے لہٰذا میں اپنی زبان کے ساتھ ذکر کرنے کا محتاج نہیں ہوں۔
پس اسے وہ جائز قرار دیتے ہیں، کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کا ذکر کیا ہے اور اس کی تعظیم کی ہے۔ یا وہ کہتا ہے : بلاشبہ یہ صریح تسمیہ کا محل نہیں ہے، کیونکہ یہ قربت نہیں ہے، تو اسے بھی وہ جائز قرار دیتے ہیں۔ یا وہ کہتا ہے : میں تسمیہ نہیں پڑھوں گا، اور تسمیہ کی کون سی قدرومنزلت ہے، تو یہ حقیر جاننے والا فاسق ہے اس کا ذبیحہ نہیں کھائے جائے گا۔
علامہ ابن عربی (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 749) نے کہا ہے : مجھے راس المحققین، امام الحرمین پر بڑا تعجب ہے کہ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر بلا شبہ قرب کی حالت میں مشروع ہے اور ذبح حالت قربت نہیں ہے۔ یہ نظریہ قرآن وسنت سے معارض آتا ہے۔ آپ ﷺ نے حدیث صحیح میں فرمایا ہے : ” وہ جانور جس کا خون بہایا گیا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا تو اسے کھاؤ“۔ پھر اگر کہا جائے : اللہ تعالیٰ کا نام ذکر کرنے سے مراد دل میں نام لینا ہے، کیونکہ ذکر نسیان کی ضد ہے اور نسیان کا محل دل ہے پس ذکر کا محل بھی دل ہے۔ اور حضرت براء بن عازب ؓ نے روایت بیان فرمائی :” اللہ تعالیٰ کا نام ہر مومن کے دل میں ہے وہ تسمیہ پڑھے یا نہ پڑھے “ (ایضا، جلد 2، صفحہ 750 ) ۔ تو ہم کہیں گے : ذکر باللسان بھی ہے اور ذکر بالقلب بھی۔ اور وہ عمل جو عرب کرتے تھے وہ زبان سے بتوں کا نام لیتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنا نام زبان کے ساتھ لینے کے ذریعہ اسے ختم کیا اور شریعت میں یہی مشہور ہے یہاں تک کہ حضرت امام مالک (رح) کو کہا گیا : کیا وہ اللہ تعالیٰ کا نام لے گا جب وضو کر (ایضا) ، تو آپ نے فرمایا : کیا وہ ذبح کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اور رہی وہ حدیث جس کے ساتھ انہوں نے تعلق قائم کیا ہے ” کہ اللہ تعالیٰ کا نام ہر مومن کے دل میں ہیـ“ (صحیح بخاری، کتاب الصید والذبائح، جلد 2، صفحہ 828 ) ۔ یہ حدیث ضعیف ہے۔
تحقیق اہل علم کی ایک جماعت نے اس پر استدلال کیا ہے کہ ذبیحہ پر تسمیہ پڑھنا واجب نہیں ہے، کیونکہ حضور ﷺ نے ان لوگوں کو فرمایا جنہوں نے آپ سے سوال کیا اور کہا : یا رسول اللہ ﷺ ایک قوم ہمارے پاس گوشت لے کر آتی ہے اور ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے اس پرا للہ تعالیٰ کا نام لیا ہے یا نہیں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لے لو اور اسے کھالو “ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 2446۔ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3164، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔
اسے دارقطنی نے حضرت عائشہ ؓ سے اور امام مالک (رح) نے ہشام بن عروہ عن ابیہ کی سند سے مرسل روایت کیا ہے اور اسے مرسل بیان کرنے میں آپ پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا اور اس کی تاویل یہ ہے کہ آپ نے اس کے آخر میں کہا : وذالک فی اول الاسلام ( کہ وہ ابتداء اسلام میں ہوا) مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ پر آیت : ولاتاکلو ممالم یذکر اسم اللہ علیہ نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ یہ ضعیف ہے اور فی نفسہ حدیث میں وہ موجود ہے جو اس کا رد کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے انہیں اس میں کھانے پر تسمیہ پڑھنے کا حخم ارشاد فرمایا، تو یہ اس پر دلیل ہے کہ آیت آپ پر نازل ہوچکی تھی۔ اور جو کچھ ہم نے کہا ہے اس کو صحیح ہونے پر جو شے دلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ حدیث مدینہ طیبہ کی ہے اور علماء کا اس بارے کوئی اختلاف نہیں ہے کہ قول باری تعالیٰ : آیت : ولاتاکلو ممالم یذکر اسم اللہ علیہ سورة الانعام میں مکہ مکرمہ میں نازل ہوا۔
اور آیت : وانہ لفسق کا معنی ہے کہ یہ معصیت اور گناہ ہے۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے (تفسیر ماوردی، جلد 2، صفحہ 162 ) ۔ اور لفسق کا معنی الخروج ( نکلنا) ہے یہ پہلے گزر چکا ہے۔
مسئلہ نمبر 4۔ قولہ تعالیٰ : آیت : وان الشیٰطین لیوحون الی اولیھم، یعنی وہ وسوسہ اندازی کرتے ہیں اور ان کے دلوں میں باطل طریقہ سے جھگڑا کرنے کی باتیں ڈالتے ہیں۔ ابو داؤد نے حضرت ابن عباس ؓ سے آیت : وان الشیٰطین لیوحون الی اولیھم کے تحت روایت کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں : جسے اللہ تعالیٰ ذبح کرنے ( یعنی ماردے) تو اس کو تم نہ کھاؤ اور جسے تم خود ذبح کرو تو اسے کھالو، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت : نازل فرمائی : آیت : ولاتاکلو ممالم یذکر اسم اللہ علیہ
حضرت عکرمہ رحمۃ اللہ علی (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 340) نے کہا ہے : اس آیت میں شیاطین سے مراد فارس کے مجوسیوں میں سے سرکش انسان ہیں۔ اور حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت عبداللہ بن کثیر (رح) نے بیان کیا ہے : بلکہ شیاطین سے مراد جن ہیں اور جنوں میں سے کافر قریش کے اولیاء ( دوست) ہیں۔ اور حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ سے مروی ہے کہ انہیں کہا گیا کہ مختار کہتا ہے : میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ تو آپ نے فرمایا : اس نے سچ کہا ہے، بلاشبہ شیاطین اپنے دوستوں کی طرف القا کرتے رہتے ہیں۔
اور اللہ تعالیٰ کا قول : آیت : لیجادلوکم مراد ان کا یہ فقول ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ مار دے تم اسے نہ کھاؤ اور جسے تم مارو تم اسے کھالو۔ اور مجادلہ کا معنی ہے قوت کے ساتھ حجت کے طریقہ پر قل کا دفاع کرنا۔ یہ اجدل سے ماخوذ ہے، اس کا معنی ہے طاقتور پرندہ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ جدالہ سے ماخوذ ہے۔ اور اس سے مراد زمین ہے۔ تو گویا وہ اس پر غلبہ پاتا ہے دلیل کے ساتھ اور وہ اسے اس طرح مغلوب کرلیتا ہے یہاں تک کہ وہ قبضی کی ہوئی زمین کی طرح ہوجاتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ جدال سے ماخوذ ہے۔ اور اس کا معنی ہے بٹائی کا مضبوط ہونا، گویا ان دونوں میں سے ہی ایک اپنے ساتھی کی حجت اور دلیل کو بل دیتا ہے یہاں تک کہ اسے کاٹ دیتا ہے اور وہ حق کی نصرت اور معاونت میں حق ہوتی ہے اور باطل کی نصرت اور مدد میں باطل ہوتی ہے۔
مسئلہ نمبر 5 : قولہ تعالیٰ : آیت : وان اطعتموھم یعنی مردار کو حلال قرار دینے میں اگر تم نے ان کی بات مانی۔ آیت : انکم لمشرکون (تو تم مشرک ہوجاؤ گے) پس آیت اس پر دلیل ہے کہ جس نے ان چیزوں میں سے کسی چیز کو حلال قرار دیا جنہیں اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے تو وہ اس کے سبب مشرک ہوجائے گا۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے مردار کو حرام قرار دیا ہے اور یہ نص سے ثابت ہے۔ اور جب کسی نے کسی غیر کی حلال کردہ چیز کو قبول کرلیا تحقیق اس نے بھی شرک کیا۔ علامہ ابن عربی (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 752) نے کہا : بلاشبہ مومن مشرک کی اطاعت کرنے سے مشرک ہوجاتا ہے جب وہ اعتقاد میں اس کی اطاعت و پیروی کرے۔ اور جب وہ فعل اور عمل میں اس کی پیروی کرے اور اس کا عقیدہ صحیح سالم ہو اور توحید وتصدیق پر قائم اور جاری ہو تو گنہگار ہوگا۔ پس تم اسے سمجھ لو اور یہ سورة المائدہ میں گزر چکا ہے۔
Ayah 6:122آیت : 122
قولہ تعالیٰ : آیت : اومن کان میتا فاحیینٰہ جمہور نے واؤ کو مفتوح پڑھا ہے، اور اس پر ہمزہ استفہام داخل کیا گیا ہے۔ مسبی نے نافع بن ابی نعیم سے اومن کان واؤ ساکن کے ساتھ روایت کی ہے۔ نحاس نے کہا ہے : اس کا معنی پر محمول ہونا بھی جائز ہے، یعنی تم دیکھو اور تدبر کرو کیا میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی منصف تلاش کروں ؟ آیت : اومن کان میتا فاحیینہ کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے وہ مردہ تھا جس وقت وہ نطفہ تھا، پھر ہم نے اس میں روح پھونک کر اسے زندہ کیا، اسے ابن البحر نے بیان کیا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : کیا وہ جہ پہلے کافر تھا اور ہم نے اسے ہدایت عطا فرمائی ؟
یہ آیت حضرت حمزہ بن عبدالمطلب ؓ اور ابو جہل کے بارے نازل ہوئی۔ اور زید بن اسلم اور سدی نے کہا ہے : فاحیینہ سے مراد حضرت عمر ؓ ہیں ( یعنی ہم نے انہیں ہدایت عطا فرما کر زندگی بخش دی) ۔ آیت : کمن مثلہ فی الظلمت مراد ابو جہل لعنۃ اللہ علیہ ہے (یعنی وہ کفر کے سبب اندھیروں میں پڑا رہا) اور صحیح یہ ہے کہ یہ آیت ہر مومن اور کافر کے بارے میں عام ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ جہالت کے سبب مراد تھا تو ہم نے اسے علم کے ساتھ زندہ کردیا۔ بعض اہل علم نے شعراء بصرہ میں سے کسی کے یہ اشعار بھی بیان کیے ہیں جو اس تاویل کے صحیح ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔
وفی الجھل قبل الموت موت لاھلہ فاجسامھم قبل القبو قبور
” جہالت میں موت سے قبل ہی جاہلوں کے لیے موت ہے اور ان کے اجسام قبروں میں جانے سے پہلے ہی قبریں ہیں “
وان امرا لم یحی بالعلم میت فلیس لہ حتی النشور نشور
” اور بلاشبہ آدمی جو علم کے ساتھ زندہ نہیں ہوا وہ مردہ ہے اور اس کے لیے نشور ( مرنے کے بعد زندہ کیا جانا) بھی نشور نہیں ہے “۔
اور نور سے مراد ہدایت اور ایمان ہے۔ اور حسن نے کہا ہے : اس سے مراد قرآن کریم ہے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ اس سے مراد حکمت ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ وہی نور ہے جس کا ذکر ان ارشادات میں ہے : آیت : یسعی نورھم بین ایدیھم وبایمانھم (الحدید : 12) ( ذرا ہمارا بھی انتظار کرو ہم بھی روشنی حاصل کرلیں تمہارے نور سے) یمشی بہ اس نور کی رشنی میں وہ چلتا ہے۔ آیت : فی الناس کمن مثلہ فی الظلمی لوگوں کے درمیان وہ اس کی مثل ہو سکتا ہے جو اندھیروں میں پڑا ہو۔ ای کمن ھو تو اس میں مثل زائدہ ہے۔ آپ کہتے ہیں : انا اکرم مثلک، ای اکرمک ( میں تیری عزت و تکریم کرتا ہوں۔ اور اس کی مثل یہ ارشاد ہے آیت : فجزآء مثل ماقتل من النعم ( المائدہ : 95) ( تو اس کی جزا یہ ہے کہ اسی قسم کا جانور دے جو اس نے قتل کیا ہے)
آیت : لیس کمثلہ شیء (الشوری : 11) ( نہیں اس کی مانند کوئی چیز) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آیت : کمن مثلہ کا معنی ہے مثل من ھو فی الظلمات ( اس کی مثل جو تاریکیوں میں ہے) اور المثل اور المثل دونوں کا معنی ایک ہے۔ آیت : کذٰلک ذین للکٰفرین ما کانوا یعملون شیطان نے ان کے لیے بتوں کی عبادت کو آراستہ کردیا اور انہیں یہ وہم دلایا کہ وہ مسلمانوں سے افضل ہیں۔