Ayah 5:112آیت نمبر 112
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) اذقال الحواریوں یعیسی ابن مریم اس کا اعراب پہلے گزرچکا ہے۔ (آیت) ھل یستطیع ربک کسائی، حضرت علی، حضرت ابن عباس ؓ ، سعید ابن جبیر اور مجاہد کی قراءت ھل تستطیع یعنی تا کے ساتھ ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 259) اور ربک نصب کے ساتھ ہے۔ کسائی نے ھل کا لام کو لا میں ادغام کیا ہے باقی قراء نے یا کے ساتھ پڑھا ہے اور ربک کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے یہ قراءت پہلی قراءت سے زیادہ واضح ہے۔ سدی نے کہا : اس کا معنی ہے اگر تو اللہ تعالیٰ سے سوال کرے تو کیا تیرا رب تیری دعا قبول کرے گا ؟ پس یستطیع بمعنی یطیع ہوگا جیسا کہ علماء نے کہا : استجاب معنی اجاب ہوتا ہے اسی طرح استطاع بمعنی اطاع ہوتا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے کیا تیرا رب قدرت رکھتا ہے ؟ یہ سوال ان کا اللہ تعالیٰ کی معرفت کے استحکام سے پہلے تھا اسی وجہ سے ان کی غلطی اور ان کی نامناسب تجویز پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جوابا فرمایا : (آیت) اتقوا اللہ ان کنتم موء منین اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو، یعنی اللہ کی قدرت میں شک نہ کرو۔
میں کہتا ہوں : اس میں نظر ہے، کیونکہ حواری انبیاء کرام مخلص جانثار اور قریبی لوگ ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) من انصاری الی اللہ قا الحواریون نحن انصار اللہ (آل عمران : 52) کون ہیں میرے مددگار اللہ کی راہ میں ؟ (یہ سن کر) کہا حواریوں نے کیا ہم مدد کرنے والے ہیں اللہ (کے دین) کی۔
اسی طرح نبی مکرم ﷺ نے فرمایا :” ہر نبی کے حواری (مخلص ساتھی) ہوتے ہیں اور میرا حواری (مخلص ساتھی) زبیر ہے “ (1) (صحیح بخاری، کتاب المناقب، جلد 1، صفحی 527) یہ معلوم ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) اللہ تعالیٰ کی معرت اور جو اس کے لیے واجب اور جائز تھا اور جو اس پر کہنا حلال تھا وہ لے کر آئے اور انہوں نے یہ اپنی امتوں تک پہنچا یا تھا پھر یہ بات ان خاص لوگوں پر کیسے مخفی تھی حتی کہ وہ اللہ کی قدرت سے بھی ناواقف تھے، ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ان لوگوں سے صادر ہوا جوان کے ساتھ تھے جس طرح بعض جہاں نے نبی مکرم ﷺ سے کہا تھا : ہمارے لیے ایک درخت متعین فرمادیں جس طرح ان مشرکوں کے لیے ایک متعین ہے (2) (جامع ترمذی، باب ماجاء لترکبن سنن من کان قبلکم، حدیث نمر 2106، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) (مشرک زمانہ جاہلیت میں اس کی عبادت کرتے تھے) اور جس طرحضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم سے چند لوگوں نے کہا : (آیت) اجعل لنا الھا کمالھم الہۃ (الا عراف : 138) اس کا بیان انشاء اللہ سورة الاعراف میں آئے گا۔
بعض علماء نے فرمایا : ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی قدرت میں شک نہیں تھا، کیونکہ وہ مومن، عارف اور عالم تھے۔ یہ تیرے اس قول کی طرح ہے جیسے تو کسی کو کہتا ہے : کیا فلاں آنے کی طاقت رکھتا ہے ؟ حالانکہ تو جانتا ہے کہ وہ طاقت رکھتا ہے پس معنی یہ ہوگا کیا وہ یہ کرے گا، کیا وہ میری یہ بات قبول کرے گا یا نہیں ؟ وہ اللہ تعالیٰ کی استطاعت کو جانتے تھے کہ وہ یہ بھی کرسکتا ہے اور اس کے علاوہ بھی کرسکتا ہے۔ یہ وہ خبر، دلالت اور نظر کے اعتبار سے جانتے تھے پس انہوں نے علم معاینہ کا ارادہ کیا تھا جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا تھا : اے میرے رب ! دکھا مجھے کیسے تو مردوں کو زندہ کرے گا ؟ حالانکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خبر اور نظر کے اعتبار سے یہ جانتے تھے لیکن انہوں نے اس معاینہ کا ارادہ کیا جس میں کوئی شک وشبہ نہیں رہتا، کیونکہ نظر اور خبر کے علم میں شبہ اور اعتراضات داخل ہوتے ہیں اور علم المعاینہ میں ایسی کوئی چیز داخل نہیں ہوتی اسی وجہ سے حواریوں نے کہا : (آیت) تطمئن قلوبنا جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا تھا : (آیت) ولکن الیطمئن قلبی (بقرہ : 260 )
میں کہتا ہوں : یہ عمدہ تاویل ہے اور اس سے بھی بہتر تاویل وہ ہے کہ یہ ان لوگوں کا قول تھا جو حواریوں کے ساتھ تھے اس کا بیان آگے آئے گا۔ ابن عربی نے اللہ تعالیٰ کے اسماء میں المستطیع کو بھی داخل کیا ہے اور فرمایا : کتاب و سنت میں یہ اسم موجود نہیں ہے لیکن فعلا وارد ہے انہوں نے حواریوں کا قول ذکر کیا (آیت) ھل یستطیع ربک۔ ابن الحصار نے اپنی کتاب ’ شرح السنۃ “ میں اس کا رد کیا ہے۔ ابن الحصار نے کہا : اللہ تعالیٰ کا یہ قول اس بات کی خبر دے رہا ہے جو حواریوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کہا تھا (آیت) ھل تستطیع ربک استطاعت میں شک نہیں تھا اس سوال میں تلطف اور اللہ تعالیٰ کا ادب مقصود تھا، کیونکہ ہر ممکن کا وقوع اس کے علم میں ہے اور حواری تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں میں اچھے لوگ تھے پھر یہ ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ہر ممکن چیز پر قادر ہونے کے متعلق جہالت کا گمان کیسے جائز ہے ؟ رہی تاوالی قراءت۔ تو بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے کیا تو اپنے رب سے سوال کرنے کی طاقت رکھتا ہے ؟ یہ حضرت عائشہ ؓ اور مجاہد کا قول ہے۔ حضرت عائشہ ؓ نے کہا قوم اللہ تعالیٰ کی ذات کو زیادہ جانتی تھی (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 259۔ دارالکتب العلمیہ بیروت) ، وہ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں ؟ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : اس کا مطلب ہے کیا تو اپنے رب سے سوال کرنے کی طاقت رکھتا ہے ؟
حضرت عائشہ ؓ سے یہ بھی مروی ہے فرمایا : حواریوں کو شک نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ دستر خوان کے اتارنے پر قادر ہے لیکن انہوں نے کہا : کیا تو اپنے رب سے سوال کرنے کی طاقت رکھتا ہے ؟ حضرت معاذبن جبل سے مروی ہے فرمایا : ہمیں نبی مکرم ﷺ نے پڑھایا : (آیت) ھل یستطیع ربک۔ معاذ نے کہا : میں نے کئی مرتبہ نبی مکرم ﷺ کو تا کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنا۔ ھل تستطیع ربک (2) (جامع ترمذی، کتاب القراۃ من رسول للہ، باب فی فاتحۃ الکتاب، حدیث نمبر 2854، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ زجاج نے کہا : اس کا معنی ہے جو تو اپنے رب سے سوال کرے گا کیا تو دعوی کرتا ہے کہ تیرا رب تیری دعا قبول فرمائے گا ؟ بعض علماء نے فرمایا : کیا تو اپنے رب سے دعا یا سوال کرنے کی طاقت رکھتا ہے ؟ یہ مفہوم قریب قریب ہیں۔ محذوف نکالنا ضروری ہے جیسے فرمایا : (آیت) وسئل القریۃ (یوسف : 82) اور یا کی قراءت پر حذف کی ضرورت نہیں رہتی۔ (آیت) قال اتقوا اللہ یعنی گناہوں سے اور کثرت سوال سے بچو، کیونکہ تم نہیں جانتے ہو کہ وہ آیات کی تجویز پر تمہارے لیے کیا اتاردے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ خود وہی کرتا ہے جو اس کے بندوں کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ (آیت) ان کنتم مومنین یعنی اگر تم اس پر ایمان لانے والے ہو اور جو کچھ وہ لے کر آیا ہے اس پر ایمان لانے والے ہو، وہ تمہارے لیے ایسی آیات لایا ہے جن میں کفایت ہے
Ayah 5:113آیت نمبر 113
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) قالو انرید ان ناکل منھا۔ ان کی وجہ سے ناکل منصوب ہے۔
(آیت) وتطمئن قلوبنا ونعلم ان قد صدقتناونکون علیھا من الشھدین یہ تمام معطوف ہے انہوں نے اپنے سوال کا سبب بیان کیا جب انہیں سوال سے منع کیا گیا ناکل منھا میں دو وجہیں ہیں : (1) انہوں نے اپنی بھوک مٹانے کے لیے کھانے کا ارادہ کیا۔ یہ اس لیے تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جب نکلتے تھے تو ان کے پیچھے پانچ ہزار یا اس سے زیادہ آدمی ہوتے تھے، بعض تو ان میں آپ کے اصحاب ہوتے تھے اور بعض دیکھتے تھے اور استہزاء کرتے تھے۔ ایک دن آپ ایک علاقہ کی طرف نکلے تو ایک جنگل میں پہنچ گئے جہاں ان کے لیے کھانے پینے کے لیے کچھ نہ تھا وہ بھوکے ہوگئے اور انہوں نے حواریوں سے کہا : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے عرض کرو تاکہ وہ دعا فرمائیں کہ ہم پر آسمان سے خوان نازل ہو۔ شمعون جو حواریوں کے سردار تھے وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئے اور کہا کہ لوگ عرض کررہے ہیں آپ دعا فرمائیں ان پر آسمان سے خوان نازل ہو۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے شمعون سے کہا : ان کو کہو کہ اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔ شمعون نے یہ لوگوں کو کہا تو پھر انہوں نے کہا : تم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے عرض کرو کہ ہم اس سے کھانا چاہتے ہیں۔ (2) ناکل منھا تاکہ ہم اس کی برکت حاصل کریں ہمیں کھانے کی حاجت نہیں۔ ماوردی نے کہا : یہ بہتر ہے، کیونکہ اگر وہ کھانے کے محتاج ہوتے تو انہیں سوال کرنے سے منع نہ کیا جاتا۔
وتطمئن قلوبنا میں تین احتمال ہیں : (1) ہمارے دل مطمئن ہوجائیں کہ واقعی اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبی بناکر بھیجا ہے (2) ہم مطمئن ہوجائیں کہ اللہ نے ہمیں ہماری دعوت کے لیے چن لیا ہے (3) ہمارے دل مطمئن ہوجائیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے سوال کا قبول فرمالیا ہے۔ یہ تینوں احتمال ماوردی نے ذکر کیے ہیں۔ مہدوی نے کہا : ہمارے دل مطمین ہوجائیں کہ اس نے ہمارے روزے اور عمل کو قبول فرلیا ہے۔ ثعلبی نے کہا : ہم اس کی قدرت کا یقین کرلیں اور ہمارے دل مطمئن ہوجائیں۔ (آیت) ونعلم قد صدقتنا ہم جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں (آیت) ونکون علیھا من الشھدین اور ہم اللہ کی وحدانیت اور آپ کی رسالت ونبوت کے گواہی دینے والے ہوجائیں۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے جب ہم لوٹ کرجائیں تو جنہوں نے یہ نہیں دیکھا ہم تمہارے لیے ان کے پاس گواہ ہوجائیں۔
Ayah 5:114آیت نمبر 114
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) قال عیسیٰ ابن مریم اللھم ربناسیبویہ کے نزدیک اللھم کی اصل یا اللہ ہے دومیم آخر میں یا کا بدل ہیں اور ربنادوسرا منادی ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 261 ) ۔ سیبویہ اس کے علاوہ کوئی صورت جائز قرار نہیں دیتے۔ نعت ہونا جائز نہیں، کیونکہ اصوات مشابہ ہوتی ہیں اس کی وجہ سے جو اس کو لاحق ہوتی ہے۔ (آیت) انزل علینا مائدۃ، مائدہ اس دسترخوان کو کہتے ہیں جس پر کھاناچنا ہواہو۔ اور جس پرکھانانہ ہو اسے خوان کہا جاتا ہے۔ یہ ماد عبدہ سے فاعلۃ کا وزن ہے جب غلام کھانا کھلائے۔ المائدہ جو دیا گیا ہو۔ اسی سے رؤبۃ کا قول ہے، اخفش نے اس کو پڑھا : نھدی رؤس المترفین لانداد الی امیر المومنین الممتاد (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 260) یعنی جس کا سوال کیا گیا ہو۔ پس المائدہ جو کھانے والوں کو کھانا کھلایا گیا ہو کھانے کو مجازا مائدہ کہتے ہیں، کیونکہ وہ مائدہ پر کھایا جاتا ہے جیسے عرب بارش کو آسمان کہتے ہیں، اہل کوفہ نے کہا : مائدہ کو مائدہ اس لیے کہتے ہیں، کیونکہ جو اس پر ہوتا ہے حرکت کرتا ہے یہ عربوں کے اس قول سے مشتق ہوگا مادالشی جب کوئی چیز حرکت کرے۔ شاعر نے کہا : لعلک باک ان تغنت حمامۃ یمید بھا غصن من الایک مائل اس شعر میں یمید کا معنی حرکت کرنا ہے۔ ایک اور شاعر نے کہا : وأقلقنی قتل الکنانی بعدہ فکادت بی الارض الفضاء تمید اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) والقی فی الارض رواسی ان تمیدبکم (النحل : 15) اور اللہ تعالیٰ نے گاڑدیئے ہیں زمین میں اونچے اونچے پہاڑ تاکہ زمین لرزتی نہ رہے تمہارے ساتھ۔
ابوعبیدہ نے کہا : مائدۃ فاعلۃ بمعنی مفعولۃ ہے جیسے عیشۃ الراضیۃ بمعنی عیشۃ مرضیۃ ہے۔ ماء دافق بمعنی مدفوق ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) تکون لناعیدا، تکون، مائدۃ کی صفت ہے ہے جواب نہیں ہے۔ اعمش نے تکن جواب کی بنا پر مجزوم پڑھا ہے اس کا معنی ہے اس کے نزول کا دن ہمارے پہلے اور پچھلے لوگوں کے لیے عید کا دن ہوگا۔ بعض علماء نے فرمایا : مائدہ (دسترخوان) ان پر اتوار کے دن صبح شام نازل ہوتا تھا، اسی وجہ سے انہوں نے اتوارکوعید کا دن بنایا۔ العید، مفرد ہے اور اس کی جمع الاعیاد ہے اس کی جمع یا کے ساتھ بنائی گئی ہے، حالانکہ اس کی اصل وائو ہے، کیونکہ یا واحد میں لازم ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کے اور اعوادالخشب کے درمیان فرق کرنے کے لیے یا سے جمع بنائی گئی ہے۔ قد عید واکامعنی ہے وہ عید میں حاضر ہوئے یہ جوہری کا قول ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کی اصل عاد یعود ہے یعنی لوٹناعید اصل میں عود تھا وائو کو ماقبل کسرہ کی وجہ سے یا سے بدل دیا جیسے میزان، میقات اور میعاد میں یہ اصل میں موازن، موقات اور موعاد تھے۔
بعض علماء نے فرمایا : عیدالفطر اور عیدالاضحی کو عید اس لیے کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ ہر سال لوٹ کر آتی ہے۔ خلیل نے کہا : عید ہر وہ دن ہے جس میں لوگ جمع ہوتے ہیں گویا وہ اس کی طرف لوٹ کر آئے ہیں ابن الانباری نے کہا : عید کو عید کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ خوشی اور فرحت میں لوٹ کر آتی ہے کہ یہ تمام مخلوق کے لیے خوشی کا دن ہے کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا کہ قیدی بھی اس دن طلب نہیں کیے جاتے اور سزا نہیں دیے جاتے، وحشی اور پرندے شکار نہیں کیے جاتے اور بچے مدارس میں نہیں جاتے۔ بعض علماء نے فرمایا : عید کو عید اس لیے کہا جاتا ہے، کیونکہ ہر انسان اپنی قدرو منزلت کی طرف لوٹتا ہے کیا آپ دیکھتے نہیں کہ لوگوں کے لباس، ہیئات اور کھانے مختلف ہوتے ہیں بعض مہمان ہوتے ہیں بعض میزبان ہوتے ہیں، بعض رحم کرتے ہیں بعض پر رحم کیا جاتا ہے۔ بعض علماء نے کہا : عید کو عید اس لیے کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ عزت اور عظمت والا دن ہے اس کو عید کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ یہ ایک عربوں کے نزدیک بہترین نر تھا اور اس کی لوگ نسبت کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے : اہل عیدیۃ۔ شاعر نے کہا : عیدیۃ اردھنت فیھا الدنانیر یہ پہلے گزرچکا ہے۔ حضرت زید بن ثابت نے لاولانا واخراناجمع پڑھا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس سے لوگوں کے آخری شخص نے اسی طرح کھایا جس طرح پہلے شخص نے کھایا۔ (آیت) وایۃ منک یعنی یہ تمہاری طرف سے حجت و دلالت ہوگا۔ (آیت) وارزقنا یعنی ہمیں عطا فرما، (آیت) وانت خیر الرازقین یعنی جس نے بھی عطا کیا تو اس سے بہتر ہے، کیونکہ تو غنی اور خوبیوں سرراہا ہے۔
Ayah 5:115آیت نمبر 115
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) قال اللہ انی منزلھا علیکم یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وعدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سوال کا اس کے ساتھ جواب دیا جیسا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا سوال حواریوں کے لیے جواب تھا، یہ اس چیز کو ثابت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دسترخوان کو نازل اور اس کا وعدہ حق ہے پس ایک قوم نے مائدہ کے نزول کے بعد انکار کیا اور کفر کیا پس انہیں بندروں اور خنزیروں میں مسخ کردیا گیا : حضرت ابن عمرنے کہا : قیامت کے روز سب سے سخت عذاب منافقوں کو ہوگا اور اصحاب مائدہ اور آل فرعون میں سے جنہوں نے کفر کیا تھا (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 262) اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) فمن یکفر بعد منکم فانی اعذبہ عذابا لا اعذبہ احدا من العلمین علماء کا مائدہ کے بارے میں اختلاف ہے کہ کیا وہ نازل ہوا تھا یا نہیں پس جمہور علماء کا نظریہ یہ ہے کہ وہ نازل ہوا تھا اور یہی نظریہ حق ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) انی منزلھا علیکم مجاہد نے کہا : وہ نازل نہیں ہوا تھا یہ ایک مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کے لیے بیان فرمائی ہے اور لوگوں کو منع فرمایا کہ انبیاء سے نشانیوں کا سوال کریں۔ بعض علماء نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ان کا سوال قبول کرنے کا وعدہ فرمایا جب انہیں فرمایا (آیت) فمن یکفر بعد منکم پھر جو تم میں سے اس کے بعد کفر کرے گا۔ تو اسے عذاب دوں گا۔۔۔۔۔۔ الخ۔ تو وہ اپنے مطالبہ سے مستعفی ہوگئے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا اور کہا : ہم یہ نہیں چاہتے۔ یہ حسن کا قول ہے۔ یہ قول اور اس سے پہلے والا قول غلط ہے، صحیح یہ ہے کہ مائدہ نازل ہوا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہنے کہا : حضرت عیسیٰ بن مریم نے بنی اسرائیل کو کہا : تم تیس دن روزے رکھو پھر اللہ تعالیٰ سے جو چاہو سوال کرو وہ تمہیں عطا فرمائے گا، پس نہوں نے تیس روزے رکھے اور کہا : اے عیسیٰ ! اگر ہم کسی کے لیے کام کرتے ہیں پھر اپنے کام کو ختم کرتے ہیں تو وہ ہمیں کھانا کھلاتا ہے اور ہم نے روزے رکھے ہم بھوکے رہے ہیں پس تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو وہ ہم پر آسمان سے مائدہ نازل کرے۔ ملائکہ وہ دستر خوان لے آئے اس پر سات روٹیاں تھیں سات مچھلیاں تھیں پس انہوں نے لوگوں کے سامنے وہ دستر خوان رکھ دیا پس لوگوں کے آخری آدمی نے بھی اسی طرح کھایا جس طرح پہلے آدمی نے کھایا تھا۔ ابو عبداللہ محمد بن علی ترمذی حکیم نے ” نوادرالاصول “ میں ذکر کیا ہے ہمیں عمر بن ابی عمر نے بتایا فرمایا ہمیں عمار بن ہاروں ثقفی نے بتایا انہوں نے ذکر یا بن حکیم حنظلی سے روایت کیا انہوں نے علی بن زید بن جدعان سے انہوں نے ابو عثمان نہدی سے انہوں نے حضرت سلمان فارسی سے روایت کیا فرمایا : جب حواریوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے مائدہ کا سوال کیا تو وہ کھڑے ہوئے اپنے اون والے کپڑے اتار دیے اور کھدر والے کپڑے پہن لیے وہ سیاہ موٹے دھاگے سے سربال تھا اور سیاہ لحاف تھا۔ آپ اٹھے اور قدم سے قدم ملایا اور ایڑی کے ساتھ ایڑی کو ملایا اور انگوٹھے کو انگوٹھے کے ساتھ ملایا اور اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھا، پھر اپنے سر کو جھکایا اللہ تعالیٰ کے لیے خشوع کیا پھر رونے لگے حتی کے آنسو ان کی داڑھی پر جاری ہوئے اور آنسوئوں کے قطرے ان کے سینے پر گرنے لگے، پھر عرض کی : اے اللہ ہمارے پروردگار ! ہم پر دسترخوان نازل فرما آسمان سے وہ ہمارے پہلے اور پچھلوں لیے عید ہو اور تیری طرف سے نشانی ہو اور ہمیں عطا فرما اور تو روزی دینے والوں میں سے بہتر ہے۔ پس زرد گول دسترخوان نازل ہوا وہ دوعماموں کے درمیان تھا ایک عمامہ اوپر تھا اور ایک عمامہ نیچے تھا اور لوگ اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : اے اللہ ! اسے رحمت بنادے اور اسے آزمائش نہ بناالہی ! میں تجھ سے عجائب کا سوال کرتا ہوں پس تو عطا کرتا ہے پس دسترخوان عیسیٰ (علیہ السلام) کے سانے اترا اور وہ رومال سے ڈھانپا ہوا تھا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سجدے میں گرگئے اور حواری بھی آپ کے ساتھ سجدہ میں گر گئے وہ اسکی ایسی عمدہ خوشبو محسوس کررہے تھے جو انہیں اس سے پہلے کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : جو تم میں سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا عبادت گزار ہے اور اللہ تعالیٰ پر جرأت کرنے والا ہے اور اللہ تعالیٰ پر زیادہ اعتماد کرنے والا ہے وہ اس دستر خوان سے کپڑا ہٹائے تاکہ ہم اس سے کھائیں اور ہم اس پر اللہ کا ذکر کریں اور اس پر اللہ کی حمد کریں۔ حواریوں نے کہا : اے روح اللہ ! آپ اس کے زیادہ لائق ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اٹھے اچھی طرح وضو کیا پھر نماز پڑھی اور لمبی دعا مانگی پھر دسترخوان پر بیٹھے اور اس سے کپڑاہٹا یا اس دسترخوان پر بھونی ہوئی مچھلی تھی جس میں کوئی کانٹا نہیں تھا اس سے گھی بہہ رہا تھا کر اث (بدبودار سبزی) کے علاوہ اس کے ارد گرد تمام سبزیاں رکھی گئی تھیں اور اس کے سر کے پاس نمک اور سرکہ تھا اور دم کی جانب پانچ روٹیاں تھیں ایک روٹی پر پانچ انار تھے ایک روٹی پر کھجوریں تھیں اور ایک روٹی پر زیتون تھا۔ ثعلبی نے کہا : ایک روٹی پر زیتون تھا دوسری پر شہد تھا تیسری پر انڈے تھے اور چوتھی پر پنیر تھا اور پانچویں پر خشک گوشت تھا، یہود کو یہ خبر پہنچی توغم اور پریشانی میں آئے وہ اس کی طرف تعجب سے دیکھ رہے تھے۔ شمعون نے کہا : جو حواریوں کا سردار تھا، اے روح اللہ ! یہ دنیا کا کھانا ہے یا جنت کا کھانا ہے ؟ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : ؓ اس کے بعد تم نے ایسی نشانیوں کا سوال کیا تو مجھے اندیشہ ہے کہ تمہیں عذاب دیا جائے، شمعون نے کہا : ؓ عنہبنی اسرائیل کے خدا کی قسم ! میں نے اس سے کوئی برا ارادہ نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا : اے روح اللہ ! اگر اس نشانی کے ساتھ ایک اور نشانی بھی ہوتی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : ؓ عنہاے مچھلی تو اللہ کے اذن سے زندہ ہوجا، پس وہ مچھلی تازہ مچھلی کی طرح حرکت کرنے لگی اس کی آنکھیں چمکنے لگیں، حواری گھبراگئے، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : کیا وجہ ہے کہ تم کسی چیز کے بارے میں سوال کرتے ہوں جب وہ تمہیں دی جاتی ہے تو تم ناپسند کرتے ہو مجھے اندیشہ ہوتا ہے کہ تمہیں عذاب دیا جائے ؟ فرمایا : یہ دسترخوان آسمان سے نازل ہوا اور اس پر نہ دنیا کا کھانا تھا اور نہ جنت کا کھانا تھا لیکن یہ ایک ایسی چیز تھی جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت بالغہ سے پیدا کیا تھا۔ اس نے فرمایا : ہوجا تو وہ ہوگئی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : اے مچھلی تو اسی طرح ہوجا جس طرح تو پہلے تھی، تو وہ پہلے کی طرح بھونی ہوئی ہوگئی۔ حواریوں نے کہا : اے روح اللہ ! آپ ہی پہلے اس سے کھائیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : معاذاللہ ! اس سے وہ کھائے جس نے طلب کیا اور جس نے سوال کیا حواریوں نے اس سے کھانے سے انکار کردیا اس خوف سے کہیں یہ فتنہ اور سزا نہ ہو، جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دیکھا تو اس پر فقراء، مساکین، مریضوں، اپاہج، جزام والے، چلنے سے عاجز، نابینے اور زرد پانی والوں کو بلایا اور فرمایا : اپنے رب کے رزق اور اپنے نبی کی دعا سے کھائو اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرو، اور فرمایا : تمہارے لیے خوشگور ہوگا اور تمہارے علاوہ لوگوں پر عذاب ہوگا۔ پس انہوں نے کھایا حتی کہ وہ سات ہزار تین سوافراد تھے وہ نکلے تو ڈکار مار رہے تھے اور ہر مریض ٹھیک ہوچکا تھا جس نے اس سے کھایا تھا اور ہر فقیر جس نے اس سے کھایا تھا وہ موت تک کھانے سے مستغنی ہوگیا تھا جب لوگوں نے یہ خیرات وبرکات دیکھی تو اس کھانے پر رش کرکے آگئے چھوٹا، بڑا، بوڑھا، نوجوان، غنی، فقیر سب آگئے اور اس سے کھانے لگے، وہ ایک دوسرے پر ناراض ہوئے۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہ صورت دیکھی تو ان کے درمیان باری مقرر کردی، ایک دن وہ کھانا نازل ہوتا اور ایک دن نازل نہ ہوتا، جیسا کہ ثمود کی اونٹنی تھی ایک دن گھاس کھاتی تھی اور ایک دن پانی پیتی تھی پس وہ دستر خوان چالیس دن نازل ہوا وہ چاشت کے وقت نازل ہوتا تھا اور اسی طرح رہتا حتی کہ سایہ ڈھل جاتا۔ ثعلبی نے کہا : وہ دستر خوان قائم رہتا اس سے کھایا جاتا حتی کہ جب سورج ڈھل جاتا تو وہ اوپر اڑ جاتا پس لوگ اس سے کھاتے پھر وہ آسمان کی طرف لوٹ جاتا اور لوگ اس کے سایہ کو دیکھتے رہتے حتی کہ وہ ان سے چھپ جاتا جب چالیس دن مکمل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی فرمائی۔ اے عیسیٰ ! میرے اس دسترخوان کو صرف فقراء کے لیے خاص کردے اغنیاء کے لیے یہ نہیں ہے، تو اغنیاء اس بارے میں شک کرنے لگے اور وہ فقراء کی طرف لوٹے اور لوگوں کو شک میں ڈالا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے عیسیٰ ! میں اپنی شرط کے ساتھ پکڑنے والا ہوں پس صبح اس میں سے تینتیس خنزیر بن چکے تھے وہ غلاظت کھاتے تھے اور کوڑا تلاش کرتے تھے، پاکیزہ کھانا کھانے اور نرم بستروں پر سونے کے بعد یہ حالت ہوگئی۔ جب لوگوں نے یہ دیکھا تو روتے ہوئے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جمع ہوئے۔ خنزیر آئے اور اپنے گھٹنوں پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سانے بیٹھ گئے وہ رونے لگے اور ان کے آنسو بہنے لگے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) انہیں پہچان گئے اور یہ کہا : کیا تو فلاں فلاں نہیں ہے ؟ وہ اپنے سر سے اشارہ کرتا لیکن کلام نہ کرسکتا تھا، وہ سات دن اسی طرح ٹھہرے رہے۔ بعض علماء نے فرمایا : چار دن ٹھہرے رہے پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ان کی روحیں قبض کرلے صبح ہوئی تو معلوم نہ ہوا کہ وہ کہاں چلے گئے انہیں زمین نگل گئی یا انہیں کیا ہوا ؟
میں کہتا ہوں : اس حدیث میں کلام ہے۔ سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابو عبدالرحمن سلمی سے مروی ہے کہ مائدہ کا کھانا روٹی اور مچھلی تھی۔ ابن عطیہ نے کہا : وہ مچھلی میں ہر کھانے کی خوشبو پاتے تھے۔ یہ ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ حضرت عمار بن یاسر اور قتادہ نے کہا : مائدہ آسمان سے نازل ہوتا تھا اور اس پر جنت کے پھلوں میں سے پھل ہوتے تھے (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 261 ) ۔ وہب بن منبہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے جو کی روٹیاں اور مچھلیاں نازل فرمائیں۔ اور ترمذی نے ابواب التفسیر میں حضرت عمار بن یاسر سے روایت کیا ہے فرمایا :” رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آسمان سے مائدہ نازل ہوا اس میں روٹی اور گوشت تھا انہیں حکم دیا گیا تھا کہ خیانت نہ کرو اور نہ کل کے لیے ذخیرہ کرو، پس انہوں نے خیانت کی اور ذخیرہ کیا اور کل کے لیے رکھ لیا تو وہ بندروں اور خنزیروں میں مسخ کردیے گئے “ (2) (جامع ترمذی، کتاب التفسیر، جلد 2، صفحہ 132) ابو عیسیٰ نے کہا : یہ حدیث ہے جو ابو عاصم اور کئی دوسرے لوگوں نے سعید بن ابی عروبۃ عن قتادہ عن خلاص عن عمار بن یاسر کے سلسلہ سے موقوف روایت کی ہے ہم اسے مرفوع نہیں جانتے مگر حسن بن قزعہ کی حدیث سے ہمیں حمید بن مسعدہ نے بتایا فرمایا ہمیں سفیان بن حبیب نے سعید بن ابی عروبہ سے اسی طرح رویت کرکے بتایا اور انہوں نے اسے مرفوع روایت نہیں کیا۔ یہ حسن بن قزعہ کی حدیث سے اصح ہے ہم مرفوع حدیث کے لیے کوئی اصل نہیں جانتے۔ سعید بن جبیر نے کہا : دستر خوان پر ہر چیز اتاری گئی تھی سوائے گوشت اور روٹی کے۔
عطا نے کہا : اس پر ہر چیز نازل ہوئی سوائے مچھلی اور گوشت کے کعب نے کہا : دستر خوان الٹا آسمان سے اتار گیا تھا فرشتے اسے آسمان اور زمین کے درمیان اڑاتے رہے اور اس پر گوشت کے سوا ہر چیز تھی۔
میں کہتا ہوں : یہ تینوں اقوال ترمذی کی حدیث کے مخالف ہیں اور وہ حدیث ان سے اولی ہے، کیونکہ اگر وہ مرفوع صحیح نہیں ہے تو صحابی کبیر سے موقوف صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔ یہ قطعی بات ہے کہ دسترخوان نازل ہوا اور اس پر کھانا تھا اور اس کی تعیین کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ابو نعیم نے کعب سے روایت کیا ہے کہ دسترخوان دو مرتبہ نازل ہوا تھا بنی اسرائیل کے بعض عبادت گزار بندوں کے لیے۔ کعب نے کہا : بنی اسرائیل کے تین عبادت گزار جمع ہوئے وہ تینوں ایک صحرا میں جمع ہوئے اور ان میں سے ہر ایک کے پاس اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک اسم تھا، ایک نے کہا : تم مجھ سے سوال کرو میں اللہ تعالیٰ سے تمہارے لیے دعا کروں گا تم جو چاہو گے۔ انہوں نے کہا : ہم تجھ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ تو اللہ تعالیٰ سے دعا کر کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے اسی جگہ ایک بڑا کھلا چشمہ ظاہر کردے اور سبز و شاداب باغات ہوں، اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو بڑا چشمہ اور سبزوشاداب باغ ظاہر ہوگیا، پھر ایک نے کہا : تم مجھ سے جو چاہو مانگو میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا، انہوں نے کہا : ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرکے وہ ہمیں جنت کے پھلوں میں سے کچھ کھلائے۔ اس نے دعا کی تو ان پر کھجور اتری انہوں نے اس سے کھایا وہ واپس نہ گئی مگر وہ اس کا ایک رنگ کھاچکے تھے پھر وہ اٹھا لی گئی۔ ایک نے کہا : تم مجھ سے سوال کرو میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا جو تم چاہو، انہوں نے کہا : ہم تجھے سے سوال کرتے ہیں کہ تو دعامانگ کہ اللہ ہم پر دسترخوان نازل کرے جو اس نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کیا تھا پس اس نے دعا کی تو دستر خوان نازل ہوا انہوں نے اپنی ضرورت اس سے پوری کی پھر وہ اٹھا لیا گیا، پھر پوری خبر ذکر کی۔
مسئلہ : سلمان مذکور کی حدیث میں دسترخوان کا بیان ہے وہ دستر خوان تھا ٹانگوں والا میز نہیں تھا۔ سفرۃ (دسترخوان) نبی مکرم ﷺ کا دستر خوان تھا اور عرب کے دسترخوان تھے ابو عبداللہ ترمذی حکیم نے روایت کیا ہے ہمیں محمد بن بشار نے بتایا فرمایا ہمیں معاذ بن ہشام نے بتایا فرمایا مجھے میرے ماں باپ نے بتایا انہوں نے یونس سے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے حضرت انس سے روایت کیا ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کبھی ٹیبل (میز) اور پیالہ میں اور باریک نرم روٹی نہیں کھائی (1) (جامع ترمذی، کتاب الطعمہ، جلد 2، صفحہ 1 ) ۔ قتادہ نے فرمایا : میں نے حضرت انس ؓ سے کہا : پھر کس پر روٹی کھاتے تھے۔ فرمایا : دسترخوانوں پر۔ محمد بن بشار نے کہا : یہ یونس ابو الفرات الاسکاف ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ حدیث صحیح ثابت ہے اس کے رجال پر بخاری اور مسلم کا اتفاق ہے، اس کو ترمذی نے روایت کیا ہے فرمایا ہمیں محمد بن بشار نے بیان کیا فرمایا ہمیں معاذبن ہشام نے بتایا پھر یہ حدیث ذکر کی اور اس میں فرمایا : یہ حسن غریب ہے۔ ترمذی ابو عبداللہ نے کہا : خوان وہ نئی چیز ہے جو عجمیوں نے شروع کی ہے اور عرب تو مشقت کرنے والے تھے اور وہ سفر پرکھاتے تھے سفر کا مفرد سفرۃ ہے یہ دسترخوان چمڑے سے بنائے جاتے تھے۔ ان دستر خوانوں کے لٹکا نے کے لیے دھاگے تھے وہ بند ہوتے تھے اور کھلتے تھے۔ کھلنے کی وجہ سے انہیں دستر خوان کہا جاتا تھا، کیونکہ جب کھلتے تھے تو جو کچھ ان میں ہوتا تھا ظاہر ہوجاتا تھا۔ اسی وجہ سے اسے سفرہ کہا جاتا ہے۔ سفر کو سفر اس لیے کہا جاتا ہے کہ آدمی خود اپنے گھر سے باہر ظاہر ہوجاتا ہے سکرجۃ وہ پیالہ جو مائع چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ سالن مختلف قسم کے کھانوں سے تیار ہوتا ہے اور عربوں کے لیے کھانے کے لیے مختلف چیزیں نہ تھیں ان کا کھانا ثرید ہوتا تھا جس پر گوشت کے ٹکڑے ہوتے ہیں۔ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” گوشت کو دانتوں سے نوچ کر کھایا کرو۔ کیونکہ یہ لذیذ اور عمدہ ہوتا ہے (2) (جامع ترمذی، باب ماجاء انہ قال انھسوالحم نھسا، حدیث نمبر 1758، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ اگر کہا جائے کہ مائدہ کا ذکر احادیث میں ہے۔
ان احادیث میں ایک حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث ہے فرمایا : لوکان الضب حراما ما اکل علی مائدۃ النبی اگر گوہ حرام ہوتی تو نبی مکرم ﷺ کے دستر خوان پر نہ کھائی جاتی۔ اس کو مسلم وغیرہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے فرماتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تصلی الملائکۃ علی الرجل مادامت مائدتہ موضوعۃ فرشتے اس شخص کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں جب تک اس کا دستر خوان بچھا رہتا ہے۔ اس حدیث کو ثقات نے روایت کیا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ مائدہ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو کپڑے اور رومال کی طرح بچھائی اور پھیلائی جاتی ہے، اس کا حق ہی ہے کہ یہ مادۃ ہو یعنی دال مشدد کے ساتھ ہو عربوں نے ایک دال کو یا بنادیا اور مائدہ کہا گیا۔ اور فعل اس کے ساتھ واقع ہوتا ہے۔ مناسب یہ ہے کہ یہ ممدوۃ ہوتا لیکن لغت میں فاعل کے وزن پر استعمال ہوتا ہے جیسے عرب کہتے ہیں : سرکاتم یہ مکتوم کے معنی میں ہے عیشۃ راضیۃ، مرضیۃ کے معنی میں ہے۔ اسی طرح لغت میں مفعول فاعل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، مثلا رجل مشوم یہ شائم کے معنی میں ہے۔ حجاب مستور یہ ساتر کے معنی میں ہے۔
خوان وہ چیز چوپائیوں کے ذریعے زمین سے بلند ہو۔ مائدہ ہر وہ چیز جو پھیلائی اور بچھائی گئی ہو۔ السفرۃ جو اس کو ظاہر کردے جو اس کے اندر ہو، اسی وجہ سے سفرہ دھاگوں کے ساتھ باندھا ہوتا ہے۔ حسن سے مروی ہے فرمایا : میز پر کھانا ملوک (بادشاہوں) کا فعل ہے رومال پر کھانا عجمیوں کا فعل ہے اور سفرہ پر کھانا عربوں کا فعل ہے۔ یہ سنت ہے۔ واللہ اعلم
Ayah 5:116آیت نمبر 116
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) واذقال اللہ یعیسی ابن مریم ءانت قلت لناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ۔ اس گفتگو کے وقت میں علماء کا اختلاف ہے۔ قتادہ، ابن جریح اور اکثر مفسرین نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قیامت کے روز فرمائیں گے۔ سدی اور قطرب نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت فرمایا جب انہیں آسمان کی طرف اٹھایا اور نصاری نے آپ کے متعلق کہا جو کچھ کہا، ان علماء نے اس آیت سے استدلال کیا ہے (آیت) ان تعذبھم فانھم عبادک اگر تو انہیں عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں۔ کیونکہ اذ کلام عرب میں ماضی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ پہلاقول اصح ہے اس پر دلیل ماقبل کلام ہے (آیت) یوم یجمع اللہ الرسل جس دن اللہ تعالیٰ جمع فرمائے گا رسولوں کو، اور مابعد کلام ہے (آیت) ھذا یوم ینفع الصدقین صدقھم یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو ان کا سچ نفع دے گا۔ اس بنا پر اذبمعنی اذا ہوگا جیسے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے : (آیت) ولو تری اذ فزعوا (السبا : 51) یہاں اذ بمعنی اذا ہے۔ ابو النجم نے کہا : ثم جزاہ اللہ عنی اذجزی جنات عدن فی السموات العلا اس شعر میں اذبمعنی اذا ہے۔ اسود بن جعفر نے کہا : فالان اذ ھازلتھن فانما یقلن الا لم یذھب الشیخ مذھبا اس میں بھی اذبمعنی اذا ہے۔ مستقبل کو لفظ ماضی سے تعبیر کیا گیا ہے، کیونکہ یہ امر متحقق تھا اور اس کی برہان ظاہر تھی گویا وہ کام واقع ہوچکا ہے۔
قرآن کریم میں ہے (آیت) ونادی اصحاب النار اصحاب الجنۃ (الاعراف : 50) دوزخی جنتیوں کو پکاریں گے۔ یہاں صیغہ ماضی کا استعمال ہوا ہے۔ اس کی بہت سی مثالیں ہیں اس سوال کے معنی میں اہل تفسیر کا اختلاف ہے۔ یہ بطور استفہام نہیں اگرچہ استفہام کی صورت میں ذکر کیا گیا ہے۔ پہلا قول یہ ہے کہ یہ سوال اس لیے کیا تاکہ جوان کے الہ ہونے کا دعوی کرتے ہیں ان کو توبیخ ہوجائے تاکہ سوال کے بعد ان کا انکار تکذیب میں زیادہ بلیغ ہوجائے اور توبیخ و تقریع میں سخت ہوجائے۔ دوسر اقول یہ ہے کہ ان کی تعریف کا قصد فرمایا کہ ان کی قوم نے ان کے بعد نظریات کو بدل لیا اور ان پر ایسے ایسے دعوی کیے جو انہوں نے کہا نہیں تھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ نصاری نے حضرت مریم (علیہ السلام) کو الہ نہیں بنایا تھا پھر ان کے بارے میں یہ کیسے فرمایا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب انہوں نے کہا کہ مریم نے بشر کو جنم نہیں دیا بلکہ الہ کو جنم دیا تو ان کا یہ کہنا لازم ہے کیونکہ جزئیت کی وجہ سے اس کے قائم مقام ہوگئی جس کو اس نے جنا۔ پس وہ کہنے والوں کے قائم مقام ہوگئے جب یہ بات انہیں لازم ہوئی۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) قال سبحنک مایکون لی ان اقول ما لیس لی بحق ان کنت قلتہ فقد علمتہ۔ ترمذی نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے فرمایا : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی حجت کو پایا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے اس قول میں حجت دی (آیت) واذقال اللہ یعیسی الخ۔ حضرت ابوہریرہ نے نبی مکرم ﷺ سے روایت کیا ہے ” اللہ تعالیٰ نے ان کو حجت بخشی (آیت) سبحنک مایکون لی ان اقول ما لیس لی بحق “ ابو عیسیٰ نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے (1) ۔ جواب سے پہلے دوامور کی وجہ سے تسبیح سے آغاز کیا (1) (جامع ترمذی، کتاب التفسیر، جلد 2، صفحہ 132) جو ان کی طرف منسوب کیا گیا ہے اس وجہ سے وہ مبرا ہیں۔ (2) اللہ تعالیٰ کی عزت کے سامنے عجز کا اظہار کرنے کے لیے اور اللہ تعالیٰ کی سطوت کے خوف سے سبحنک سے آغاز کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کہا (آیت) ءانت قلت لناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ اس قول کی وجہ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر کپکپی طاری ہوگئی حتی کہ اس کی ہڈیوں کی آواز سنی گئی اور کہا : سبحانک۔ پھر کہا : (آیت) مایکون لی ان اقول ما لیس لی بحق یعنی میری مجال نہیں کہ میں ایسی بات کا دعوی کروں جس کا مجھے حق نہیں یعنی میں مربوب ہوں، رب نہیں، میں عابد ہوں معبود نہیں، پھر کہا : (آیت) ان کنت قلتہ فقد علمتہ اس کو اللہ تعالیٰ کے علم کی طرف لوٹایا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس کو جاننے والا تھا کہ انہوں نے یہ نہیں کہا ہے۔ لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہ سوال کیا تاکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو الہ بنانے والے کے لیے تنبیہ ہوجائے، پھر فرمایا : (آیت) تعلم مافی نفسی ولا اعلم مافی نفسک جو مجھ میں پوشیدہ ہے تو وہ جانتا ہے اور میں وہ نہیں جانتا جو تیرے غیب میں ہے۔
بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے تو وہ جانتا ہے جو میں جانتا ہوں اور میں نہیں جانتا جو تو جانتا ہے۔ بعض نے فرمایا : تو جانتا ہے جو میں مخفی کرتا ہوں اور میں وہ نہیں جانتا جو تو مخفی کرتا ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے تو جانتا ہے جو میں ارادہ کرتا ہوں اور میں نہیں جانتا جس کا تو ارادہ کرتا ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے تو میرے رازوں کو جانتا ہے اور میں تیرے راز کو نہیں جانتا کیونکہ سر کی جگہ نفس ہے۔ بعض نے کہا : تو جانتا ہے جو مجھ سے دنیا میں ہوا اور میں نہیں جانتا جو تیری طرف سے دار آخرت میں ہوگا۔
میں کہتا ہوں : ان اقوال کا معنی قریب قریب ہے یعنی تو میرے راز جانتا ہے اور تو اسے جانتا ہے جس پر میرا ضمیر مشتمل ہے جس کو تو نے پیدا کیا ہے میں اس کو نہیں جانتا جو تو نے غیب اور علم میں سے اپنے ساتھ خاص کیا ہے۔ (آیت) انک انت علام الغیوب تو جانتا ہے جو ہوچکا ہے اور جو ہوگا اور جو نہیں تھا اور جو کچھ ہونے والا ہے۔
Ayah 5:117آیت نمبر 117
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ماقلت لھم الا ما امرنی بہ یعنی میں نے دنیا میں انہیں توحید کا حکم دیا۔ (آیت) ان اعبدوا اللہ ان کا اعراب میں کوئی محل نہیں ہے یہ ان مفسرہ ہے جیسے (آیت) وانطلق الملامنھم ان امشوا (ص : 6) میں، ان مفسرہ ہے اور اس کا محل نصب میں ہونا بھی جائز ہے ماذکرت لھم الا عبادۃ اللہ یعنی میں نے ان کو نہیں یاددلایامگر اللہ کی عبادت۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ محل جر میں ہو یعنی بان اعبدوا اللہ۔ نون کو ضمہ دینا اولی ہے، کیونکہ وہ کسرہ کے بعد ضمہ کو عرب ثقیل سمجھتے ہیں اور التقاء ساکنین کی اصل پر کسرہ بھی جائز ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) وکنت علیھم شھیدا جو میں نے انہیں حکم دیا اس کی حفاظت کرنے والا تھا۔ (آیت) مادمت فیھم، مامحل نصب میں ہے یعنی وقت دوامی فیھم، (آیت) فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم بعض علماء نے فرمایا : یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اٹھانے سے پہلے موت دی تھی لیکن صحیح نہیں ہے، کیونکہ اخبارو احادیث ان کے اٹھائے جانے پر متفق ہیں اور وہ آسمان میں زندہ ہیں وہ قرب قیامت میں آسمان سے اتریں گے، دجال کا قتل کریں گے اس کا بیان آگے آئے گا۔ اس کا معنی ہے جب تو نے مجھے آسمان کی طرف اٹھالیا۔ حسن نے کہا : وفات کا لفظ قرآن میں تین معانی میں استعمال ہوا ہے : (1) موت کے لیے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) اللہ یتوفی الانفس حین موتھا (الزمر : 42) یعنی ان کی عمر کے عرصہ کے ختم ہوتے کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں موت دیتا ہے (2) نیند۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) وھو الذی یتوفکم بالیل (الانعام : 60) یعنی وہ تمہیں رات کے وقت سلاتا ہے (3) اٹھالینا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) یعیسی انی متوفیک (آل عمران : 55) اے عیسیٰ میں تجھے اٹھانے والا ہوں۔
(آیت) کنت انت اس میں انت تاکید کے لیے ہے اور الرقیب، کنت کی خبر ہے اس کا معنی ہے ان پر نگران تھا، ان کو جاننے والا تھا اور ان کے افعال کا مشاہدہ کرنے والا تھا اس کی اصل المراقبۃ ہے یعنی تاڑنا، نگرانی کرنا۔ اسی سے مرقبہ ہے کیونکہ وہ رقیب میں بلند جگہ پر ہوتی ہے۔ (آیت) وانت علی کل شیء شہید یعنی میری بات اور ان کی بات کا مشاہدہ کرنے والا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے تو نافرمان اور اطاعت شعار کا مشاہدہ کرنے والا ہے۔ مسلم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : ہمارے درمیان رسول اللہ ﷺ نصیحت کے لیے خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے فرمایا :” اے لوگو ! تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ننگے پائوں، برہنہ بدن اور غیر مختون جمع کیے جائو گے جس طرح ہم نے ابتدا میں مخلوق کو پیدا کیا تھا ہم اسی طرح اسے لوٹائیں گے یہ ہم پر وعدہ ہے، بیشک ہم ایسا کرنے والے ہیں، خبر دار نبی مکرم ﷺ ! سب سے پہلے جس کو لباس پہنا یا جائے گا وہ ابراہیم (علیہ السلام) ہوں گے، خبردار ! میری امت کے کچھ لوگوں کو لایاجائے گا پھر انہیں دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا، میں کہوں گا : یارب ! یہ میرے ساتھی ہیں، ارشاد ہوگا : آپ نہیں جانتے جو کچھ انہوں نے آپ کے بعد اپنی طرف سے دین میں اختراع کیا، پھر میں اسی طرح کہوں گا جس طرح صالح بندے (عیسی علیہ السلام) نے کہا تھا : (آیت) وکنت علیھم شھیدا مادمت فیھم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم وانت علی کل شی شھید ان تعذبھم فانھم عبادک وان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم فرمایا مجھے کہا جائے گا یہ مرتد ہوگئے تھے جب سے آپ ان سے جدا ہوئے “ (1) (مسند احمد حدیث نمبر 2096) ۔
Ayah 5:118آیت نمبر 118
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ان تعذبھم فانھم عبادک یہ بھی شرط اور جواب شرط ہیں اور (آیت) وان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم یہ بھی شرط اور جواب شرط ہیں۔ نسائی نے حضرت ابو ذر سے روایت کیا ہے فرمایا نبی مکرم ﷺ ایک آیت کو ساری رات قیام میں پڑھتے رہے حتی کے صبح ہوگئی (آیت) ان تعذبھم فانھم عبادک وان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم (2) (مسند احمد حدیث نمبر 21387) ، اس آیت کی تفسیر میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض نے فرمایا : یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے لیے مہربانی اور لطف طلب کرنے کے لیے کہا : جس طرح ایک سردار اپنے غلام کے لیے رحمت طلب کرتا ہے، اسی وجہ سے فانھم عصوک نہیں کہا۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ اللہ تعالیٰ کے امر کو تسلیم کرنے کے اعتبار سے کہا اور عذاب سے پناہ طلب کرنے کے لیے کہا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کافر کو نہیں بخشے گا۔ بعض علماء نے فرمایا : ان تعذبھم میں ھم ضمیر کا مرجع وہ لوگ ہیں جو کفر پر مرگئے تھے اور ان تغفرلھم میں ھم ضمیر کا مرجع وہ لوگ ہیں جنہوں نے موت سے پہلے توبہ کرلی تھی۔ یہ بہتر قول ہے۔ رہا ان کا قول جنہوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نہیں جانتے تھے کہ کافر کی بخشش نہیں ہوتی یہ ایساقول ہے کہ کتاب اللہ پر جرأت کی گئی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی اخبار منسوخ نہیں ہوتی ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معلوم تھا کہ انہوں نے گناہوں کا ارتکاب کیا ہے اور آپ کے بعد انہوں نے ایسے اعمال کیے ہیں جن کا آپ نے حکم نہیں دیا تھا مگر وہ دین کے عمود (ستون) پر تھے، پس عرض کی : وان تغفرلھم یعنی اگر تو میرے بعد کے گناہ معاف کرے اور کہا (آیت) فانک انت العزیز الحکیم یہ نہیں کہا : (آیت) فانک انت الغفورالرحیم۔ کیونکہ واقعہ تسلیم امر کا تقاضا کرتا ہے اور حکم اس کی طرف تفویض کرنے کا تقاضا کرتا ہے اگر آپ (آیت) فانک انت الغفورالرحیم کہتے تو یہ وہم ہوتا کہ آپ نے ان کے لیے مغفرت کی دعا کی ہے جو شرک پر مرے ہیں اور یہ محال ہے، تقدیر اس طرح ہے کہ اگر تو انہیں باقی رکھے کفر پر حتی کہ یہ مرجائیں اور تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں توحید کی ہدایت دے اور اپنی اطاعت کی توفیق دے پھر تو انہیں بخش دے تو تو ایسا غالب ہے کہ کوئی چیز تجھے تیرے ارادے سے روک نہیں سکتی۔ الحکیم جو تو کرتا ہے اس میں حکمت ہوتی ہے تو جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ ایک جماعت نے (آیت) فانک انت الغفورالرحیم پڑھا ہے۔ یہ قرآن میں سے نہیں ہے۔ یہ قاضی عیاض نے شفا میں ذکر کیا ہے۔ ابوبکر انباری نے کہا : قرآن پر اس نے طعن کیا جس نے کہا : (آیت) فانک انت العزیز الحکیم کا ارشاد (آیت) وان تغفرلھم کے مناسب نہیں، کیونکہ مغفرت کے مناسب (آیت) فانک انت الغفورالرحیم ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ احتمال نہیں رکھتا مگر جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا جب اس کی طرف اس کو نقل کیا جائے جس کی طرف اس نے نقل کیا تو معنی میں ضعف ہوگیا، کیونکہ الغفورالرحیم منفرد شرط ثانی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے شرط اول کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں بنتا اور وہ اس پر ہے جو اللہ نے نازل کیا۔ اس کی قراءت پر مسلمانوں کا اجماع ہے یہ دونوں شرطوں سے متصل ہے کیونکہ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر تو انہیں عذاب دے تو تو سب پر غالب اور حکمت والا ہے۔ اگر تو انہیں بخش دے تو تو سب پر غالب اور حکمت والا ہے (یعنی) دونوں امور تعذیب اور غفران میں تو غالب اور حکمت والا ہے۔
اپنے عموم کی وجہ سے یہاں عزیز و حکیم ہی بہتر ہے، کیونکہ یہ دونوں شرطوں کو جامع ہے جب کہ الغفور الرحیم یہاں درست نہیں کیونکہ یہ عموم کا احتمال نہیں رکھتا جس عموم کا احتمال (آیت) العزیز الحکیم رکھتا ہے اور پوری آیت میں جو اللہ تعالیٰ کی تعظیم، اس کا عدل اور اس کی ثناء اور مذکورہ دو شرطیں موجود ہیں اس کے اعتبار سے عزیز و حکیم ہی اولی ہے بنسبت ان اسماء کے جو بعض کلام کے مطابق ہوں اور بعض کے نہ ہوں۔
مسلم نے حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص ؓ کے طریق سے روایت کیا ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے حضرت ابراہیم کا یہ قول تلاوت کیا (آیت) رب انھن اضللن کثیرا من الناس فمن تبعنی فانہ منی ومن عصانی فانک غفوررحیم (ابراہیم) اے میرے پروردگار ! ان بتوں نے تو گمراہ کردیا بہت سے لوگوں کو پس جو کوئی میرے پیچھے چلا تو وہ میرا ہوگا اور جس نے نافرمانی کی (تو اس کا معاملہ تیرے سپرد ہے) بیشک تو غفور رحیم ہے۔
اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قول ذکر کیا : (آیت) ان تعذبھم فانھم عبادک وان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم پھر اپنے ہاتھ اٹھائے اور عرض کی : اللھم امتی اے اللہ ! میری امت کو بخش دے، پھر رونے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے جبریل ! محمد کے پاس جا اور تیرا رب بہتر جانتا ہے اور اس سے پوچھ کہ تجھے کون سی چیز رلارہی ہے ؟ جبریل امین آپ ﷺ کے پاس آئے اور یہی سوال کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے بتایا جو انہوں نے کہا۔۔۔۔۔ اللہ بہتر جانتا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے جبریل ! میرے محبوب محمد ﷺ کے پاس جا اور اسے خوشخبری دے کہ ہم تجھے تیری امت کے معاملے میں خوش کریں گے اور تجھے پریشان نہیں کریں گے۔ بعض علماء نے فرمایا : آیت میں تقدیم و تاخیر ہے۔ اس کا معنی ہے اگر تو انہیں عذاب دے تو تو غالب، حکمت والا ہے اور اگر تو انہیں بخش دے تو وہ تیرے بندے ہیں۔ کلام کی اپنے نسق پر توجیہ اولی ہے جیسا کہ ہم نے بیان کی ہے۔ وباللہ التوفیق
Ayahs 5:119–120آیت نمبر 119 و 120
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) قال اللہ ھذا یوم ینفع الصدقین صدقھم یعنی دنیا میں جو ان کا صدق تھا، رہا آخرت میں تو اس میں صدق نفع نہیں دے گا۔ دنیا میں صدق، اس میں احتمال ہے کہ عمل میں اللہ کے لیے صدق ہو۔ یہ بھی احتمال ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے بارے کذب اور جھوٹ کو ترک کیا۔ اس دن میں انہیں صدق نفع دے گا اگرچہ صدق ہر دن نفع دیتا ہے، یہ اس لیے فرمایا : کیونکہ اس میں جزا کا وقوع ہوگا۔ بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد آخرت میں ان کا صدق ہے۔ یہ انبیاء کرام کی شہادت دینا ہے کہ انہوں نے تبلیغ کی تھی۔ اور جو اپنے نفسوں پر اعمال کی صحیح صحیح گواہی دیں گے، اس دن میں سچ کے نفع کی وجہ یہ ہوگی کہ گواہی کو چھپانا ترک کرنے کی وجہ سے مواخذہ ان سے روک لیا جائے گا اور انبیاء کا اقرار کرنے اور اپنے نفسوں پر شہادت کی وجہ سے انہیں بخش دیا جائے گا۔ واللہ اعلم
نافع اور ابن محیصن نے یوم کو نصب کے ساتھ پڑھا ہے، باقی قراء نے رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ قراءت واضح ہے۔ یہ مبتدا اور خبر کی بنا پر ہے پس یوم ینفع، ھذا کی خبر ہے اور جملہ قول کی وجہ سے محل نصب میں ہے، رہا نافع اور ابن محیصن کی قراءت، تو ابراہیم بن حمید نے محمد بن یزید سے روایت کیا ہے کہ یہ قراءت جائز نہیں، کیونکہ مبتدا کی خبر کو نصب دی گئی ہے اور اس میں بنا جائز نہیں۔ ابراہیم بن سری نے کہا : یہ اس معنی میں جائز ہے اللہ تعالیٰ نے یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کہا کہ یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو سچ نفع دے گا۔ اور یوم قول کی ظرف ہے اور ھذا قول کا مفعول ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہوگی : (آیت) قال اللہ ھذا القول فی یوم ینفع الصدقین۔ بعض نے فرمایا : تقدیر عبارت یہ ہے : (آیت) قال اللہ تعالیٰ ھذہ الاشیاء تنفع یوم القیامۃ۔ کسائی اور فراء نے کہا : یہاں یوم مبنی برنصب ہے، کیونکہ یہ اسم کے علاوہ کی طرف مضاف کیا گیا ہے جیسے تو کہتا ہے : مضی یومئذ۔ کسائی بطور دلیل یہ شعر پڑھا ہے : علی حین عاتبت المشیب علی الصبا وقلت ألما اصبح والشیب وازع (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 264، دارالکتب العلمیہ بیروت) زجاج نے کہا : بصری اس کو جائز قرار نہیں دیتے جو فراء اور کسائی نے کہا ہے جب ظرف فعل مضارع کی طرف مضاف ہو، اگر فعل ماضی ہو تو صحیح ہوتا ہے جیسا کہ شعر میں گزرا ہے۔ فعل کو ظروف زمان کی طرف مضاف کرنا جائز ہے۔ کیونکہ فعل بمعنی مصدرہوتا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ بھی جائز ہے کہ یہ ظرف منصوب ہو اور اس مبتدا کی خبر ہو جو ھذا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ حدث کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور ظروف زمان، احداث کے متعلق اخبار ہوتے ہیں، تو کہتا ہے : القتال الیوم، الخروج الساعۃ اور جملہ قول کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ بھی جائز ہے کہ ھذامبتدا کی حیثیت سے محل رفع میں ہو اور یوم مبتدا کی خبر ہو اور اس میں عامل محذوف ہو، تقدیر اس طرح ہوگی : قال اللہ ھذا الذی قصصناہ یقع یوم ینفع الصا دقین صدقھم۔ اس میں تیسری قراءت بھی ہے۔ یوم ینفع یعنی تنوین کے ساتھ۔ اس صورت میں کلام میں حذف ہوگا تقدیر عبارت فیہ ہوگی جیسے اس ارشاد میں ہے : (آیت) واتقوا یوما لاتجزی نفس عن نفس شیا (بقرہ : 48) یہ اعمش کی قراءت ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) لھم جنت یہ مبتدا خبر ہیں۔ تجری یہ صفت ہے۔ (آیت) من تحتھا یعنی اس کے محلات اور اشجار کے نیچے۔ یہ پہلے گزرچکا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کا ثواب بیان فرمایا کہ وہ ان سے ایسا راضی ہے کہ اس کے بعد کبھی غضب نہ ہوگا۔ (آیت) ورضو عنہ وہ اس جزا سے راضی ہوں گے جو اس نے انہیں عطا فرمائی (آیت) ذلک الفوز کامیابی۔ (آیت) العظیم جس کی خیر عظیم اور کثیر ہو، اس کو حاصل کرنے والے کی منزلت مرفوع ہوئی اور بلند ہوئی۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) للہ ملک السموت والارض وما فیھن وھو علی کل شیء قدیر یہ آیت اس کے بعد ذکر فرمائی جو نصرانیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں الہ کا دعوی کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اس کے لیے ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور دوسری مخلوق کے لیے نہیں ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ اس کا یہ معنی ہو کہ وہ ذات جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے وہ باغات عطا فرمائے گا جس کا ذکر اس نے اپنے اطاعت شعار بندوں کے لیے کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے احسان اور کرم سے ہمیں بھی ان لوگوں سے کردے۔ سورة مائدہ مکمل ہوئی۔
الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین