5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 5:41

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا١ۛۚ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ١ۙ لَمْ یَاْتُوْكَ١ؕ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ١ۚ یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ١ؕ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ١ۖۚ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:41 in the Quran reader

اے پیغمبر جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں (کچھ تو) ان میں سے (ہیں) جو منہ سے کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں لیکن ان کے دل مومن نہیں ہیں۔ اور (کچھ) ان میں سے یہودی ہیں۔ ان کی وجہ سے غمناک نہ ہونا۔ یہ غلط باتیں بنانے کیلئے جاسوسی کرتے پھرتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں (کے بہکانے) کیلئے جاسوس بنے ہیں جو ابھی تمہارے پاس نہیں آئے (صحیح) باتوں کو ان کے مقامات (میں ثابت ہونے کے بعد) بدل دیتے ہیں اور (لوگوں سے) کہتے ہیں اگر تمہیں یہ حکم ملے تو اس کو لے لینا اگر نہ ملے تو اس سے احتراز کرنا اگر خدا کسی کو گمراہ کرنا چاہے تو اس کے لئے تم کچھ بھی خدا سے (ہدایت کا) اختیار نہیں رکھتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے پاک کرنا نہیں چاہا۔ ان کے لیے دنیا میں بھی ذلّت ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے

آیت نمبر : 41۔ مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یایھا الرسول لا یحزنک “۔ اس آیت کے سبب نزول میں تین اقوال ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ بنی قریظہ اور بنی نضیر کے بارے نازل ہوئی ایک قریظی نے نضیری کو قتل کردیا، بنو نضیر جب بنی قریظہ کا قتل کرتے تو وہ انہیں قصاص نہ دیتے بلکہ وہ انہیں دیت دیتے تھے جیسا کہ آگے بیان آئے گا پس وہ فیصلہ نبی مکرم ﷺ کے پاس لائے آپ نے قرظی اور نضیری کے درمیان برابری کا فیصلہ کیا، نبو نضیر کو یہ اچھا نہ لگا اور انہوں نے اسے قبول نہ کیا (1) (زاد المسیر جلد 2 صفحہ 211) بعض علماء نے فرمایا : یہ ابو لبابہ کے باے میں نازل ہوئی جب نبی کریم ﷺ نے اسے بنی قریظہ کی طرف بھیجا تو انہوں نے خیانت کی جب اس نے ان کی طرف ذبح کا اشارہ کیا۔ (2) (زاد المسیر جلد 2، صفحہ 210) بعض علماء نے فرمایا : یہ یہودی مرد عورت کے زنا اور رجم کے قصہ میں نازل ہوئی، یہ اصح قول ہے، اس کو ائمہ حدیث امام مالک (رح)، بخاری (رح)، مسلم (رح) ترمذی (رح)، ابو داؤد (رح) نے روایت کیا ہے ابوداؤد (رح) نے کہا : حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے انہیں فرمایا ” تم میرے پاس دو شخص اپنے میں سے پیش کرو جو زیادہ علم والے ہوں “ تو وہ صوریا کے بیٹوں کو لائے آپ نے ان سے اللہ کے واسطہ سے سوال کیا : ” تم تورات میں ان کے امر کے کیسے پاتے ہو “۔ انہوں نے کہا : ہم تورات میں پاتے ہیں کہ جب چار آدمی گواہی دیں کہ انہوں نے اس کا ذکر اس کی فرج میں اس طرح دیکھا ہے جیسے سرمہ دانی میں سرمچو ہوتا ہے تو انہوں رجم کیا جائے گا، آپ ﷺ نے فرمایا ” پھر تمہیں ان کو رجم کرنے سے کیا مانع ہے “ انہوں نے کہا : ہمارا سلطان چلا گیا ہے پس ہم قتل کو ناپسند کرتے ہیں نبی مکرم ﷺ نے گواہوں کو بلایا وہ آئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس کا ذکر اس کی فرج میں سرمہ دانی میں سرمچو کی طرح دیکھا ہے نبی مکرم ﷺ نے انہیں رجم کا حکم دیا (3) (سنن ابی داؤد کتاب الحدود، جلد 2 صفحہ 256، ایضا حدیث نمبر 3862، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) صحیحین کے علاوہ میں شعبی سے مروی ہے انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : اہل فدک میں سے ایک شخص نے زنا کیا تو اہل فدک نے مدینہ کے یہود کی طرف لکھا کہ حضرت محمد ﷺ سے اس کے متعلق پوچھو اگر وہ تمہیں کوڑوں کا حکم دے تو اسے قبول کرو اور اگر وہ تمہیں رجم کا حکم دے تو اسے قبول نہ کرو، انہوں نے مسئلہ پوچھا تو آپ نے ابن صوریا کو بلایا وہ ان کا عالم تھا اور وہ کا نا تھا، رسول اللہ ﷺ نے اسے کہا : ” میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں تم اپنی کتاب میں زنا کی حد کیسے پاتے ہو “۔ ابن صوریا نے کہا : چونکہ آپ نے اللہ کے واسطہ سے سوال کیا ہے ہم تورات میں یہ پاتے ہیں کہ دیکھنا زنا ہے، گلے ملنا زنا ہے، بوسہ دینا زنا ہے، اگر چار آدمی گواہی دیں کہ انہوں نے اس کا ذکر اس کی فرج میں سرمہ دانی میں سرمچو کی طرح دیکھا ہے تو رجم واجب ہے۔ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا ” یہ اسی طرح ہے صحیح مسلم میں حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے فرمایا : نبی مکرم ﷺ کے پاس سے ایک یہودی گزارا گیا اس کا منہ کالا کیا گیا تھا اور کوڑے لگائے گئے تھے، پس آپ ﷺ نے انہیں بلایا فرمایا :” کیا تم زانی کی حد اپنی کتاب میں اس طرح پاتے ہو ؟ “ انہوں نے کہا : ہاں، پھر آپ نے ان کے ایک عالم کو بلایا فرمایا : ” میں تجھ سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل کی کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی حد اس طرح پاتے ہو “ ، اس نے کہا : نہیں اگر آپ نے مجھے اللہ کا واسطہ نہ دیا ہوتا تو میں تجھے نہ بتاتا، ہم اس کی سزا رجم پاتے ہیں لیکن زنا ہمارے اشراف میں بہت زیادہ ہوگیا ہے، جب ہم کسی شریف کو پکڑتے تھے تو چھوڑ دیتے تھے اور جب کسی کمزور کو پکڑتے تھے تو اس پر حد قائم کرتے تھے، ہم نے کہا : آؤ ہم ایک چیز پر جمع ہوجائیں کہ ہم شریف اور وضیع پر حد قائم کریں گے پھر ہم نے رجم کی جگہ منہ کالا کرنا اور کوڑے لگانا شروع کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے دعا کی : اے اللہ ! میں پہلا ہوں جس نے تیرے حکم کو زندہ کیا جب کہ وہ اسے ختم کرچکے تھے۔ اس کے متعلق رجم کا حکم دیا تو اللہ تعالیٰ نے (آیت) ” یایھا الرسول لا یحزنک ‘ الذین یسارعون فی الکفر من الذین قالوا امنا بافواھھم ولم تؤمن قلوبھم، ومن الذین ھادوا سمعون للکذب سمعون لقوم اخرین لم یاتوک یحرفون الکم من بعد مواضعہ یقولون ان اوتیم ھذا فخذوہ “۔ نازل فرمایا۔ انہوں نے کہا : حضرت محمد ﷺ کے پاس جاؤ اگر وہ تمہیں منہ کالا کرنے اور کو روں کا حکم دیں تو قبول کرلو اگر وہ تمہیں رجم کا فتوی دیں تو اسے چھور دو پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون “۔ (آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الظلمون “۔ (آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الفسقون ، “۔ یہ تمام کفار کے بارے میں ہے۔ (1) (صحیح مسلم، کتاب الحدود جلد 2 صفحہ 70) اس روایت میں اس طرح ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک شخص گزارا گیا اور حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث میں ہے ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو لایا گیا جنہوں نے زنا کیا تھا، رسول اللہ ﷺ چلے حتی کہ یہود کے پاس آئے آپ ﷺ نے فرمایا : ” تم تورات میں زانی کی کیا سزا پاتے ہو “ (2) (سنن ابی داؤد، کتاب الحدود جلد 2 صفحہ 254) (الحدیث) ایک روایت میں ہے یہود رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک مرد اور ایک عورت کو لے کر آئے جنہوں نے زنا کیا تھا اور ابو داؤد کی کتاب میں حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث میں ہے ان کا ایک گروہ آیا، رسول اللہ ﷺ کو انہوں نے قف وادی کی طرف بلایا آپ انکے پاس بیت المدراس میں آئے، انہوں نے پوچھا، اے ابو القاسم ! ہمارے ایک مرد نے ایک عورت سے زنا کیا ہے ہمارے درمیان فیصلہ فرمائیے (3) (سنن ابی داؤد، کتاب الحدود جلد 2 صفحہ 254) ان تمام روایات میں کوئی تعارض نہیں ہے یہ ایک ہی واقعہ ہے ابو داؤد نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے بہت عمدہ ذکر کی ہے، انہوں نے کہا : یہود کے ایک مرد اور عورت نے زنا کیا وہ ایک دوسرے کو کہنے لگے : ہمیں اس نبی کے پاس لے جائیں، کیونکہ وہ نبی تخفیفات کے ساتھ مبعوث ہوا ہے اگر تو وہ رجم سے کم کا فتوی دے تو ہم اسے قبول کرلیں گے اور اس کے ساتھ ہم اللہ کی بارگاہ میں حجت پیش کریں گے ہم کہیں گے : تیرے انبیاء میں سے ایک نبی نے فتوی دیا ہے، فرمایا وہ نبی مکرم ﷺ کے پاس آئے جب کہ آپ مسجد میں صحابہ میں بیٹے تھے انہوں نے عرض کی اے ابا قاسم ! آپ ایسے مرد اور عورت کے بارے کیا کہتے ہیں جنہوں نے بدکاری کی حضور ﷺ نے ان سے کلام نہ کی حتی کہ بیت المدراس میں آئے پس آپ دروازے پر کھڑے ہوئے اور فرمایا : میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل کی تم تورات میں زانی کی کیا سزا پاتے ہو جب کہہ وہ شادی شدہ ہو ؟ “ انہوں نے کہا : اس کا منہ کالا کیا جائے گا اس مرد اور عورت کو گدھے پر ایک دوسرے کی طرف منہ کر کے بٹھایا جائے گا اور انہیں شہر کا چکر لگوایا جائے گا، ان میں سے ایک نوجوان خاموش تھا جب نبی مکرم ﷺ نے اسے خاموش دیکھا تو اس سے پھر اللہ کا واسطہ دے کر سوال کیا تو اس نے کہا : جب آپ اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتے ہیں تو ہم تورات میں رجم پاتے ہیں، یہاں تک حدیث کو چلایا کہ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : میں تورات کے مطابق فیصلہ کروں گا “ پس آپ نے رجم کرنے کا حکم دیا (1) (سنن ابی داؤد، کتاب الحدود جلد 2 صفحہ 255 ) مسئلہ نمبر : (2) ان روایات کا حاصل یہ ہے کہ یہود نے نبی مکرم ﷺ سے فیصلہ کروایا تو آپ ﷺ نے تورات کے مطابق فیصلہ کیا اور اس کو صوریا کے بیٹوں کی طرف منسوب کیا، آپ نے یہود کی شہادت سنی اور اس کے مطابق عمل کیا، اسلام، احصان میں شرط نہیں، یہ چار مسائل ہیں : جب ذمی لوگ امام کے پاس فیصلہ لے آئیں اگر انہوں نے کوئی ظلم و زیادتی کی ہے یا غصب کیا ہے تو وہ انکے درمیان فیصلہ کرے گا اور انہیں اس ظلم و زیادتی سے منع کرے گا اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے، اگر ایسا مسئلہ نہ ہو تو امام کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے کا اختیار ہے اور فیصلہ نہ کرنے کا بھی اختیار ہے، یہ امام مالک اور امام شافعی (رح) کا نظریہ ہے لیکن امام مالک ان سے اعراض کو اولی سمجھتے ہیں اگر وہ فیصلہ کرے گا تو اسلام کے حکم کے مطابق فیصلہ کرے گا، امام شافعی (رح) نے فرمایا : حدود میں ان کا فیصلہ نہیں کرے گا، امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا : ہر حال میں ان کے درمیان فیصلہ کرے گا، یہی زہری، عمر بن عبدالعزیز (رح) اور حکم کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے یہی امام شافعی (رح) کا ایک قول ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وان احکم بینھم بما انزل اللہ “۔ کہ ان کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے نازل کیا، اس کا مزید بیان آگے آئے گا، امام مالک (رح) نے اس ارشاد سے حجت پکڑی ہے (آیت) ” فان جآءوک فاحکم بینم اواعرض عنھم “۔ یہ تخییر میں نص ہے، ابن القاسم (رح) نے فرمایا : جب ان کے بشپ اور زنا کرنے والے آئیں تو حاکم کو اختیار ہے، کیونکہ حکم کا نافذ کرنا بشپ کا حق ہے، اور مخالف کہتا ہے بشپ کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا، ابن عربی (رح) نے کہا : یہ قول اصح ہے، کیونکہ دو مسلمان اگر اپنے درمیان کسی کو حکم بنا دیں تو اس کا فیصلہ نافذ ہوتا ہے، حاکم کی رضا کا اعتبار نہیں کیا جاتا، پس کتابی اس کے اولی مستحق ہیں، عسی نے ابن القاسم (رح) سے روایت کیا ہے وہ اہل ذمہ نہ ہوں بلکہ وہ اہل حرب ہوں۔ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : وہ جو عیسیٰ نے ابن القاسم سے روایت کیا ہے اور انہوں نے یہ اس روایت سے لیا ہے جو طبری وغیرہ نے روایت کیا ہے کہ دو زنا کرنے والے اہل خیبر یافدک سے تھے وہ رسول اللہ ﷺ سے جنگ کرنے والے تھے، زانیہ کا نام بسرہ تھا اور انہوں نے مدینہ کی یہود کی طرف پیغام بھیجا کہ تم حضرت محمد ﷺ سے اس کے متعلق پوچھو، اگر وہ تمہیں بغیر رجم کے فیصلہ سنائیں تو وہ قبول کرلو اور اگر وہ تمہیں رجم کا فیصلہ سنائیں تو اس سے اجنتاب کرو (2) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2 صفحہ 621) ابن عربی نے کہا : اگر یہ صحیح ہوتا تو ان کا زانیوں کو لانا اور ان کا سوال کرنا عہد وامان ہوتا اگر عہد اور ذمہ نہ ہوتا تو ان کے متعلق آپ کو رکنے کا حکم ہوتا اور ان میں عدل کا حکم ہوتا ہے پس عیسیٰ کی روایت کے لیے کوئی جہت نہیں ان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خبر دی، (آیت) ” سمعون للکذب سمعون لقوم اخرین لم یاتوک “۔ (3) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2 صفحہ 6212) جاسوسی کرنے والے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے وہ جاسوس ہیں دوسری قوم کے جو نہیں آئی آپ کے پاس۔ جب نبی مکرم ﷺ کو انہوں نے حکم بناتا تو آپ کا فیصلہ ان میں نافذ ہوگا ان کے لیے رجوع کی گنجائش نہیں پس جو کسی کو دین میں حکم بناتا ہے تو یہ مسئلہ بنتا ہے۔ (4) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2 صفحہ 622) مسئلہ نمبر : (3) اس کی اصل یہ آیت ہے، امام مالک (رح) نے فرمایا : جب کوئی شخص کسی کو حکم بنا لے تو اس کا فیصلہ نافذ ہوگا اگر وہ قاضی کے پس فیصلہ جائے گا تو وہ اسے قائم رکھے گا مگر یہ کہ وہ فیصلہ صراحتہ ظلم ہو (1) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2 صفحہ 6212) سحنون نے کہا : اگر قاضی اسے درست دیکھے گا تو وہ اسے قائم رکھے گا۔ (2) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2 صفحہ 6212) ابن عربی نے کہا : یہ اموال اور ان حقوق میں ہوگا جو طالب کے ساتھ خاص ہیں رہی حدود تو ان حکم کا فیصلہ نہ ہوگا مگر سلطان کا فیصلہ نافذ ہوگا، ضابطہ یہ ہے کہ ہر وہ حق جس کے ساتھ دو جھگڑے والے خاص ہیں اس میں تحکیم جائز ہے اور محکم کی اس میں تحکیم نافذ ہوگی (3) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2 صفحہ 6212) اس کی تحقیق یہ ہے لوگوں کے درمیان تحکیم وہ ان کا حق ہے حاکم کا حق نہیں ہے مگر تحکیم کی اجازت ولایت کے قاعدہ کو ختم کرنا ہے اور یہ لوگوں کو لڑانے تک پہنچانے والا ہے جس طرح گدھے لڑتے ہیں، کسی فاصل کا ہونا ضروری ہے شرع نے والی کو قائم کرنے حکمدیا تاکہ جنگ کا قاعدہ ختم ہوجائے اور والی سے تخفیف کرتے ہوئے تحکیم میں اجازت دی گئی اور لوگوں کو مقدمہ لے جانے کی مشقت میں تخفیف کی خاطر تحکیم کی اجازت دی گئی تاکہ دونوں مصلحتیں مکمل ہوجائیں اور فائدہ حاصل ہوجائے۔ امام شافعی (رح) وغیرہ نے کہا : تحکیم جائز ہے اور یہی فتوی ہے۔ (4) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2 صفحہ 6212) بعض علماء نے کہا : یہود پر نبی کریم ﷺ کا فیصلہ ان کی کتاب کے حکم کو قائم کرنا تھا کیونکہ انہوں نے اس میں تحریف کی تھی اور اس کو چھپا دیا تھا اور ان پر عمل ترک کردیا تھا، کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا کہ نبی مکرم ﷺ نے کہا تھا : اے اللہ میں تیرے امر کو پہلا زندہ کرنے والا ہوں جب کہ وہ (یہود) اسے مردہ کرچکے تھے (5) (سنن ابن ماجہ کتاب الحدود، صفحہ 187) یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ مدینہ طیبہ تشریف لائے اسی وجہ سے آپ نے صوریا کے بیٹوں سے تورات کے حکم کے متعلق پوچھا اور آپ نے اس سے قسم طلب کی، حدود میں کفار کے اقوال اور ان پر ان کی شہادت بالاجماع غیر مقبول ہے، لیکن آپ ﷺ نے اس پر بطریق الزام یہ فیصلہ کیا جس کا انہوں نے التزام کیا ہوا تھا اور اس پر عمل پیرا تھے یہ بھی احتمال ہے کہ علم کے طریق کا حصول وحی کے ساتھ ہوا تھا اور اس پر عمل پیرا تھے، یہ بھی احتمال ہے کہ علم کے طریق کا حصول وحی کے ساتھ ہو یا اللہ تعالیٰ نے صوریا کے بیٹوں کی تصدیق آپ کے دل میں ڈال دی ہو یہ فیصلہ آپ نے ان کے قول پر نہ فرمایا ہو۔ نبی مکرم ﷺ کے لیے بیان فرمایا اور رجم کی مشروعیت کی خبر دی اس کا آغاز اس وقت سے ہے، پس تورات کا حکم جو آپ نے قائم فرمایا اس سے یہ فائدہ ملتا ہے اور آپ نے بیان فرمایا کہ یہ شریعت کا حکم ہے اور تورات اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” انا انزلنا التورۃ فیھا ھدی ونور یحکم بھا النبیون الذین اسلموا “۔ آپ ﷺ انبیاء میں سے تھے حضرت ابوہریرہ ؓ نے آپ سے روایت کیا ہے ” میں اس کے مطابق فیصلہ کروں گا جو تورات میں ہے “۔ (6) (سنن ابی داؤد، کتاب الحدود، جلد 2، صفحہ 255) مسئلہ نمبر : (4) جمہور علماء ذمی کی شہادت کو رد کرتے ہیں کیونکہ وہ شہادت کا اہل نہیں اس کی شہادت نہ کافر کے مخالف قبول ہوگی اور نہ مسلمان کے مخالف مقبول ہوگی، اور تابعین وغیرہم کی ایک جماعت نے انکی شہادت قبول کی ہے جب کوئی جب کوئی مسلمان گواہ موجود نہ ہو اس کا بیان سورة کے آخر میں آئے گا، اگر کہا جائے کہ آپ ﷺ نے ان کی شہادت پر فیصلہ کیا تھا اور زانیوں کو رجم کیا تھا، اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ان پر نافذ ہوا جو آپ نے جانا کہ یہ تورات کا حکم ہے اور ان پر اس کے مطابق عمل کرنے کو لازم کیا جس کے مطابق بنی اسرائیل عمل کرتے تھے یہ ان پر حجت کو لازم کرنے کے لیے تھا اور ان کی تحریف اور تبدیلی کے اظہار کے لیے تھا آپ نافذ کرنے والے تھے نہ کہ فیصلہ کرنے والے تھے، یہ پہلی تاویل پر ہے اور جو احتمال ذکر کیا گیا ہے اس تاویل پر ہے اس صورت میں یہ اس واقعہ کے ساتھ خاص ہوگا، کیونکہ صدر اول میں کوئی ایسا نہیں سنا گیا جس نے ان کی شہادت قبول کی ہو۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر : (5) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” لایحزنک “۔ نافع نے یا کے ضمہ اور زا کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ باقی قراء نے یا کے فتحہ اور زاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ الحزن اور الحزن، سرور (خوشی) کی ضد ہے حزن الرجل فھو حزن وحزین واحزنہ غیرہ وحزنہ، اسی طرح اسل کہ اور سل کہ ہے، محزون اس پر بنایا گیا ہے، یزیدی نے کہا : حزنہ قریش کی لغت ہے احزنۃ تمیم کی لغت ہے دونوں طرح پڑھا گیا ہے، احتزن وتحزن کا ایک ہی معنی ہے۔ آیت میں نبی مکرم ﷺ کو تسلی دینا ہے، یعنی کفر کی طرف ان کی جلدی سے پریشان نہ ہوں اللہ تعالیٰ نے ان کے خلاف تمہاری مدد کا وعدہ کیا ہے۔ مسئلہ نمبر : (6) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” من الذین قالوا امنا بافواھھم “ یہ منافق ہیں، (آیت) ” ولم تؤمن قلوبھم “ ان کے دلوں میں ایمان نہیں ہے جیسا کہ زبانیں ایمان کا اقرار کر رہی ہیں، (آیت) ” من الذین ھادوا “ یہود مدینہ، یہاں کلام مکمل ہے۔ پھر آغاز کیا فرمایا : (آیت) ” سمعون للکذب “ یعنی وہ جاسوسی کرنے والے ہیں اس کی مثل ہے طوافون علیکم بعض نے فرمایا کلام کی ابتدا (آیت) ” من الذین ھادوا سے ہے یعنی یہود میں سے ایک قوم ہے جو جھوٹ سنتے ہیں یعنی اپنے رؤسا کے جھوٹ کو قبول کرتے ہیں یعنی تورات میں جو وہ تحریف کرتے ہیں اسے قبول کرتے ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے اے محمد ﷺ وہ آپ کلام سنتے ہیں تاکہ آپ جھوٹ بولیں، ان میں کچھ ایسے لوگ تھے جو نبی مکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوتے تھے پھر عام لوگوں کے پاس آپ ﷺ پر جھوٹ لکھتے تھے ان کے سامنے آپ کی توہین کرتے تھے (آیت) ” سمعون لقوم اخرین لم یاتوک “۔ کا یہ معنی ہے منافقین میں ایسے لوگ تھے جو ایسا کرتے تھے، فراء نے کہا : سماعین اور طوافین جائز ہے جیسے فرمایا : ملعونین اینما ثقفوا اور اسی طرح فرمایا : (آیت) ” ان المتقین فی جنت ونعیم، (طور) پھر فرمایا (آیت) ” فکھین اخذین “۔ سفیان بن عیینہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جاسوس کا اس آیت میں ذکر کیا (آیت) ” سمعون لقوم اخرین لم یاتوک (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 192 دارالکتب العلمیہ) نبی کریم ﷺ نے ان سے تعرض نہیں فرمایا، حالانکہ آپ کو ان کے متعلق علم تھا، کیونکہ اس وقت احکام پختہ نہیں ہوتے تھے اور اسلام کو قوت حاصل نہ تھی جاسوس کا حکم سورة الممتحنہ میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ مسئلہ نمبر : (7) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یحرفون الکلم من بعد مواضعہ “۔ وہ آپ سے کلام کو سمجھنے کے بعد دوسری تاویلیں کرتے ہیں، حالانکہ اس محمل کو جانتے ہیں جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے اور احکام کو بیان فرمایا ہے پس انہوں نے کہا : شریعت رجم کا ترک ہے اور انہوں نے رجم کا بدل چالیس کوڑے بنادیئے یہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں تبدیلی تھی (آیت) ” یحرفون، سمعون “ کی صفت ہے (آیت) ” یاتوک “ میں جو ضمیر ہے اس سے حال نہیں ہے، کیونکہ جب وہ نہ آئے تو نہ سنا، تحریف یہ ہے کہ وہ موجود ہو، سنے پر تبدیلی کرے تبدیلی کرنے والے بعض یہود تھے سب نہیں تھے، اسی وجہ سے (آیت) ” من الذین ھادوا “ کا معنی فریق سماعون زیادہ درست ہے، (آیت) ” یقولون “ ، یہ (آیت) ” یحرفون “ کی ضمیر سے حال ہے۔ (آیت) ” ان اوتیتم ھذا فخذوہ “۔ یعنی محمد ﷺ تمہیں کوڑوں کا قول لائیں تو قبول کرو ورنہ نہیں (1) (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 256) مسئلہ نمبر : (8) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ومن یرد اللہ فتنۃ “۔ فتنہ سے مراد دنیا میں اس کی گمراہی اور آخرت میں سزا ہے۔ (2) (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 256) (آیت) ” فلن تملک لہ من اللہ شیئا “۔ تو تو اسے نفع نہیں پہنچائے گا (آیت) ” اولئک الذین لم یرد اللہ ان یطھرقلوبھم “ ، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیان ہے کہ اس نے ان پر کفر کا فیصلہ کردیا ہے، یہ آیت دلیل ہے کہ ضلال اللہ کی مشیت سے ہے۔ ان لوگوں کا رد ہے جو اس کے خلاف کہتے ہیں جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے یعنی انکے دلوں پر مہر لگانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو پاک کرنے کا ارادہ ہی نہیں کیا جس طرح اس نے مومنین کو ثواب دینے کے لیے مومنین کے دلوں کو پاک کیا ہے۔ (آیت) ” لھم فی الدنیا خزی “ ، بعض علماء نے فرمایا : ان کی یہ رسوائی تھی جب انہوں نے رجم کا انکار کیا پھر تورات لائی گئی اور اس میں رجم کا حکم پایا گیا، بعض علماء نے فرمایا : دنیا میں انکی رسوائی یہ ہے کہ ان سے جزیہ لیا گیا اور ذلت ان پر مسلط کی گئی ،
Ayah 5:42

سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ١ؕ فَاِنْ جَآءُوْكَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْكَ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 5:42 in the Quran reader

(یہ) جھوٹی باتیں بنانے کے لئے جاسوسی کرنے والے اور (رشوت کا) حرام مال کھانیوالے ہیں۔ اگر یہ تمہارے پاس (کوئی مقدمہ فیصل کرانے کو) آئیں تو تم ان میں فیصلہ کردینا یا اعراض کرنا اگر تم ان سے اعراض کرو گے تو وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اگر فیصلہ کرنا چاہو تو انصاف کا فیصلہ کرنا کہ خدا انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

آیت نمبر : 42۔ اس آیت میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” سمعون للکذب “ تاکید اور تفخیم کے لیے مکرر ذکر کیا۔ مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” اکلون للسحت “۔ یعنی کثرت سے رشوت کھاتے ہیں، سحت کا لغوی معنی ہلاکت اور شدت ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فیسحتکم بعذاب (طہ : 61) وہ تمہارا نام ونشان مٹا دے گا کسی عذاب سے، فرزدق نے کہا : وعض زمان یا بن مروان لم یدع من المال الا مسحیا او مجلف “۔ اس طرح روایت ہے۔ اومجلف “ مرفوع ہے معنی پر عطف کی بنا پر، کیونکہ لم یدع کا معنی ہے لم یبق حالق (مونڈنے والے) کو کہا جاتا ہے : اسحت یعنی اس نے اسے جڑ سے اکھیڑ دیا حرام مال کو سحت کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ نیکیوں کا صفایا کردیتا ہے اور انہی کلیۃ ختم کردیتا ہے فراء نے کہا : اس کی اصل کلب الجوع ہے کہا جاتا ہے : رجل مسحوت المعدۃ، یعنی جس کا معدہ ہی نہ وہ، گویا وہ رشوت لینے والا ہے اور حرص کی وجہ سے حرام کھانے والا ہے جو اسے دیا جاتا ہے اس شخص کی مانند ہے جو حرض کیوجہ معدہ ہی نہیں رکھتا، حرام کو سحت کہا جاتا ہے کیونکہ وہ انسان کی مروت کو ختم کردیتا ہے۔ میں کہتا ہوں : پہلا قول اولی ہے کیونکہ دین کے جانے کے ساتھ مروت بھی چلی جاتی ہے اس کی مروت نہیں جس کا دین نہیں حضرت ابن مسعود ؓ وغیرہ نے کہا السحت سے مراد شوت ہے (1) (تفسیر طبری، جلد 6، صفحہ 288) حضرت عمر بن خطاب ؓ نے کہا حاکم کی رشوت سحت سے ہے نبی کریم ﷺ سے مروی ہے ہر وہ گوشت جو السحت سے پیدا ہوتا ہے آگ اس کی مستحق ہے صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ ﷺ السحت کیا ہے ؟ فرمایا : فیصلہ میں رشوت لینا “ (2) (تفسیر طبری، جلد 6، صفحہ 288) حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے فرمایا : اسحت یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کی کوئی حاجت پوری کرے، پھر وہ اسے ہدیہ دے تو وہ اسے قبول کرلے، ابن خویز منداد نے کہا : السحت یہ ہے کہ آدمی اپنے مرتبہ کی وجہ سے مال کھائے، یہ اس طرح ہے کہ سلطان کی بارگاہ میں مرتبہ ہو، پھر کوئی انسان اس سے حاجت طلب کرے تو وہ اس کی حاجت پوری نہ کرے، مگر رشوت لے کر، سلف صالحین کا کوئی اختلاف نہیں کہ کسی کے حق کو باطل کرنے کے لیے رشوت لینا جائز نہیں اس پر رشوت لینا سخت حرام ہے، امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا : جب حاکم رشوت لے گا تو وہ اسی وقت معزول ہوجائے گا اگرچہ اسے معزول نہ بھی کیا جائے اور رشوت لینے کے بعد اس کا ہر فیصلہ باطل ہے۔ میں کہتا ہوں : اس میں اختلاف کرنا جائز نہیں ان شاء اللہ، کیونکہ رشوت لینا فسق ہے اور فاسق کا فیصلہ جائز نہیں ہے۔ واللہ اعلم، نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” رشوت لینے والے اور رشوت دینے والے پر اللہ کی لعنت ہے “۔ (3) (جامع ترمذی، کتاب الاحکام جلد 1، صفحہ 159، ایضا ابن ماجہ، حدیث 2303، ضیاء القرآن پبلیکیشنز) حضرت علی ؓ سے مروی ہے فرمایا : سحت سے مراد رشوت، کاہن کی کمائی اور فیصلہ پر مال لینا ہے۔ (4) (تفسیر طبری، جلد 6، صفحہ 289) وہب بن منبہ سے مروی ہے ان سے پوچھا گیا : کیا رشوت ہر چیز میں حرام ہے ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں رشوت وہ ناپسندیدہ ہے جو تو اس لیے دے تاکہ تجھے وہ مل جائے تو تیری نہیں ہے یا تو اس حق کو دور کرنے کے لیے دے جو تجھ پر لازم ہے، لیکن جو رشوت تو اپنے دین، اپنے خون اور اپنے مال کو بچانے کے لیے دے وہ حرام نہیں، ابواللیث سمرقندی نے کہا : ہم اسی پر عمل کرتے ہیں کوئی حرج نہیں کہ آدمی اپنے نفس اور اپنے مال کی حفاظت کے لیے دے، اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے یہ مروی ہے وہ حبشہ میں تھے تو انہوں نے دو دینار رشوت دیئے اور فرمایا : گناہ رشوت لینے والے پر ہے نہ کہ دینے والے پر، مہدوی نے کہا : جس نے حجام (پچھنے لگانے والا) کی کمائی کے ساتھ سحت کا ذکر کیا اس کا مطلب ہے کہ رشوت لینے والے کی مروت کو ختم کردیتا ہے۔ میں کہتا ہوں : حجام (پچھنے لگانے والا) کی کمائی پاک ہے جس نے کوئی پاک چیز لی اس کی مروت ساقط نہیں ہوتی اور اس کا مرتبہ کم نہیں ہوتا، امام مالک (رح) نے حمید الطویل سے انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگوائے اور ابو طیبہ نے آپ ﷺ کو پچھنے لگائے تھے، رسول اللہ ﷺ نے اسے ایک صاع کھجور دینے کا حکم دیا تھا اور اس کے مالکوں کو اس کے خراج میں کمی کرنے کی سفارش کی تھی۔ (1) (صحیح بخاری، کتاب البیوع، جلد 1، صفحہ 283) ابن عبد البر نے کہا : یہ دلیل ہے کہ پچھنے لگانے والے کی کمائی پاک ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اسے نہ ثمن بنایا، جعل (انعام) بنایا نہ کسی باطل چیز کا عوض بنایا، حضرت انس ؓ کی حدیث اس حدیث کے لیے ناسخ ہے جس میں نبی مکرم ﷺ نے خون کی کمائی کو حرام قرار دیا اور پچھنے لگانے والے کے اجارہ سے جو مکروہ فرمایا اس کے لیے بھی ناسخ ہے، بخاری ابو داؤد نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگوائے اور پچھنے لگوانے والے کو اجرت دی، اگر یہ حرام ہوتی تو آپ اسے عطا نہ فرماتے۔ (2) (سنن ابی داؤد، کتاب البیوع، جلد 2، صفحہ 130، ایضا حدیث 2969، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) السحت اور السحت دونوں لغتیں ہیں اور دونوں کے ساتھ پڑھا گیا ہے، ابو عمرو، ابن کثیر اور کسائی نے دونوں ضموں کے ساتھ پڑھا ہے۔ باقی قراء نے صرف سین کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے، عباس بن فضل نے خارجہ بن مصعب سے انہوں نے نافع سے (آیت) ” اکالون للسحت “۔ سین کے فتحہ اور حال کے سکون کے ساتھ روایت کیا ہے، زجاج نے کہا : سحتہ کا معنی تھوڑا تھوڑا لے جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فان جآءوک فاحکم بینھم اواعرض عنھم “۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تخییر ہے یہ قشیری نے ذکر کیا ہے اس کا معنی گزر چکا ہے کہ وہ ایسے لوگ تھے جن سے معاہدہ تھا، ذمی نہیں تھے۔ نبی مکرم ﷺ جب مدینہ طیبہ آئے تو یہود کے ساتھ ایک معاہدہ کیا، ہم پر کفار کے درمیان فیصلہ کرنا واجب نہیں جب کہ وہ ذمی نہ ہوں بلکہ فیصلہ کرنا جائز ہے اگر ہم چاہیں، رہے اہل ذمہ تو کیا ان کے درمیان فیصلہ کرنا واجب ہے جب وہ ہمارے پاس معاملہ لے آئیں ؟ اس میں امام شافعی (رح) کے دو قول ہیں : اگر تو کسی ذمی کا مسلمان سے جھگڑا ہے تو فیصلہ کرنا واجب ہے مہدوی نے کہا : علماء کا اجماع ہے کہ حاکم پر واجب ہے کہ وہ مسلمان ذمی کے درمیان فیصلہ کرے اور دو ذمیوں کا فیصلہ ہو تو اس میں اختلاف ہے، بعض نے فرمایا : آیت محکمہ ہے اور حاکم کو اختیار دیا گیا ہے، یہ نخعی اور شعبی وغیرہما سے مروی ہے (3) (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 258) یہ امام مالک (رح) اور امام شافعی (رح) وغیرہما کا مذہب ہے، (4) (احکام القرآن للجصاص، جلد 2، صفحہ 436) مگر امام مالکرحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ زنا میں اہل کتاب پر حد قائم نہیں کی جائے گی، اگر مسلمان نے ذمیہ سے زنا کیا تو اسے حد لگائی جائے گی اور عورت پر حد نہ ہوگی، اگر دونوں زنا کرنے والے ذمی ہوں تو دونوں پر حد نہیں ہے، یہ امام ابوحنیفہ (رح) اور امام محمد بن حسن کا مذہب ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) سے یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا : انہیں کوڑے لگائیں جائیں گے اور انہیں رجم نہیں کیا جائے گا، امام شافعی (رح) امام ابو یوسف، اور ابو ثور رحمۃ اللہ علیہم وغیرہم نے کہا : ان دونوں پر حد ہوگی اگر وہ ہمارے فیصلہ پر راضی ہو کر آئیں۔ ابن خویز منداد نے کہا : جب وہ ایک دو سے پر تعدی کریں تو امام انہیں نہیں بلائے گا اور خصم کو امام کی مجلس میں حاضر نہیں کیا جائے گا مگر یہ کہ اس معاملہ کا تعلق ایسے مظالم سے ہو جن کی وجہ سے فساد پھیلتا ہو جیسے قتل ہے اور منازل کا چھیننا وغیرہ ہے، رہے قرض، طلاق اور باقی تمام معاملات تو ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا جائے گا مگر ان کی باہمی رضا مندی کے ساتھ قاضی کو اختیار ہے کہ وہ ان کا فیصلہ نہ کرے اور انہوں نے ان حکام کی طرف لوٹا دے، اگر وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا اسلام کے قانون کے مطابق فیصلہ کرے گا اور رہا مسلمانوں کے قانون پر انہیں مجبور کرنا جس کی وجہ سے انتشار پھیلتا ہو تو ہمارے اور ان کے معادہ کے فساد پر نہیں ہے بلکہ فساد کو ان سے اور دوسرے لوگوں سے دور کرنا واجب ہے، کیونکہ اس میں ان کے اموال اور خون کی حفاظت ہے، شاید ان کے دین میں اس کی اباحت ہو لیکن اس سے ہمارے درمیان انتشار پھیلتا ہو، اسی وجہ سے ہم نے انہیں سرعام شراب بیچنے سے منع کیا اور زنا اور دوسری برائیوں کے ظہار سے منع کیا تاکہ ان کے ذریعے مسلمانوں کے بیوقوف لوگ خراب نہ ہوں رہا وہ حکم ان کے دین کے متعلق ہے مثلا طلاق، زنا وغیرہ ان پر لازم نہیں کہ وہ ہمارے دین کی پیروی کریں ایسی صورت میں ان کے احکام کو نقصان دینا اور ان کی ملت کو تبدیل کرنا ہے، لیکن دیون اور معاملات اس طرح نہیں ہیں، کیونکہ ان میں مظالم اور قطع فساد کی وجہ ہے، واللہ اعلم۔ آیت میں ایک دوسرا قول بھی ہے وہ جو حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) اور نخعی سے مروی ہے کہ مذکورہ تخییر اس ارشاد سے منسوخ ہے : (آیت) ” وان احکم بینھم بما انزل اللہ “۔ حاکم پر واجب ہے کہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے، یہ عطاء خراسانی، امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہم اور ان کے اصحاب کا مذہب ہے عکرمہ (رح) سے مروی ہے فرمایا : (آیت) ” فان جآءوک فاحکم بینھم اواعرض عنھم “۔ کو دوسری آیت (آیت) ” وان احکم بینھم بما انزل اللہ “۔ نے منسوخ کردیا۔ مجاہد نے کہا : سورة المائدہ سے صرف دو آیتیں منسوخ ہیں، ایک یہ (آیت) ” فاحکم بینھم اواعرض عنھم “۔ اس کو (آیت) ” وان احکم بینھم بما انزل اللہ “۔ نے منسوخ کردیا اور دوسری یہ آیت (آیت) ” لا تحلوا شعآئر اللہ “۔ اس کو (آیت) ” فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم “۔ (توبہ : 5) نے منسوخ کردیا۔ زہری نے کہا : سنت گزر چکی ہے کہ اہل کتاب اپنے حقوق اور مواریث میں اپنے علماء کی طرف لوٹائے جائیں لیکن اگر وہ اللہ کے فیصلہ میں رغبت کرتے ہوئے آئیں تو ان کے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ ہوگا، سمرقندی نے کہا : یہ قول امام ابوحنیفہ (رح) کے قول موافق ہے کہ ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا جائے گا جب تک وہ ہمارے فیصلہ پر راضی نہ ہوں۔ نحاس نے ” الناسخ والمنسوخ “ میں فرمایا اللہ تعالیٰ ارشاد : (آیت) ” فان جآءوک فاحکم بینھم اواعرض عنھم “۔ منسوخ ہے۔ کیونکہ نبی مکرم ﷺ مدینہ طیبہ آئے تو آغاز میں یہ حکم نازل ہوا۔ اس وقت مدینہ میں یہود بہت تھے، ان کی اصلاح اسی میں تھی کہ انہیں اپنے علماء کی طرف لوٹایا جائے جب اسلام طاقتور ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” وان احکم بینھم بما انزل اللہ “۔ یہ حضرت ابن عباس، مجاہد، عکرمہ اور زہری رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین و رحمۃ اللہ علیہم حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) اور سدی (رح) کا قول ہے، یہ امام شافعی (رح) کے قول سے صحیح یہی ہے انہوں نے کتاب الجزیۃ میں فرمایا : حاکم کو کوئی اختیار نہیں جب وہ اس کے پاس اپنا فیصلہ لے آئیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” حتی یعطو الجزیۃ عن ید وھم صغرون “۔ (توبہ) یہاں تک کہ دین وہ جزیہ اپنے ہاتھ سے اس حال میں کہ وہ مغلوب ہوں۔ نحاس نے کہا : یہ احتجاجات میں صحیح ترین ہے، کیونکہ جب (آیت) ” وھم صغرون “ کے ارشاد کا یہ معنی ہو کہ ان پر مسلمان کے احکام جاری ہوں گے تو واجب ہے کہ انہیں ان کے احکام کی طرف نہ لوٹایا جائے اور یہ واجب ہے تو آیت منسوخ ہوئی، یہی امام ابو حنیفہ، امام زفر، امام ابو یوسف، اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں کہ جب اہل کتاب امام کے پاس فیصلہ لے آئیں تو اسے ان سے اعراض کرنا جائز نہیں، مگر امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا : عورت اور اس کا خاوند آئیں تو ان کے درمیان عدل سے فیصلہ کرے اگر صرف عورت آئے اور اس کا خاوند نہ ہو تو ان کا فیصلہ نہیں کرے گا۔ باقی علماء نے کہا : فیصلہ کیا جائے گا، پس اکثر علماء کا قول یہ ہے یہ آیت منسوخ ہے جب کہ اس کے ساتھ ساتھ حضرت ابن عباس ؓ کی توقیف اس میں ثابت ہے اگر حضرت ابن عباس ؓ سے حدیث مروی نہ ہوتی تو پھر ثابت ہوتا کہ یہ منسوخ ہے، کیونکہ علماء کا اجماع ہے کہ جب وہ امام کے پاس فیصلہ لے آئیں تو اس کے لیے ہے کہ وہ ان کے درمیان غور کرنے کے بعد ان کے درمیان غور کرے اگر وہ انکے درمیان کوئی صحیح فیصلہ کرنے والا پائے تو اس کے پاس بھیج دے ورنہ ان سے اعراض نہ کرے بعض علماء کے نزدیک وہ فرض کا تارک ہوگا اور ایسا کرنے والا ہوگا جو اس کے لیے حلال اور جائز نہیں تھا، نحاس نے کہا : جنہوں نے کہا : یہ آیت منسوخ ہے ان کا ایک دوسرا قول بھی ہے، بعض نے کہا : امام پر واجب ہے جب وہ اہل کتاب سے ایک کی حدود میں سے کسی حد کو جانے تو اسے قائم کرے اگرچہ وہ اس کے پاس فیصلہ نہ بھی لے آئیں، ان علماء نے (آیت) ” وان احکم بینھم بما انزل اللہ “۔ سے حجت پکڑی ہے کہ دو احتمال رکھتا ہے ایک یہ کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں جب وہ آپ کے پاس فیصلہ لے آئیں، دوسرا احتمال یہ ہے کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں، اگرچہ وہ آپ کے پاس فیصلہ نہ بھی لائیں جب کہ آپ ان سے مسئلہ خود جان لیں، انہوں نے کہا : ہم نے کتاب وسنت میں پایا ہے کہ ان پر حد قائم کی جائے گی اگرچہ وہ ہمارے پاس فیصلہ نہ بھی لائیں، کتاب اللہ میں ہے : (آیت) ” یایھا الذین امنوا کونوا قومین بالقسط شھدآء للہ “۔ (النسائ : 135) اے ایمان والو ! ہوجاؤ مضبوطی سے قائم رہنے والے انصاف پر گواہی دینے والے محض اللہ کے لیے۔ اور سنت میں حضرت براء بن عازب ؓ کی حدیث ہے فرمایا ؛ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک یہودی گزرا جس کو کوڑے لگائے گئے تھے اور منہ کالا کیا گیا تھا، آپ ﷺ نے پوچھا : ” کیا تمہارے ہاں زنا کرنے والے کی یہ حد ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں آپ ﷺ نے ان علماء میں سے ایک شخص کو بلایا فرمایا : ” میں تجھ سے اللہ کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں “۔ کیا تم میں زنا کرنے والے کی یہی حد ہے “ اس نے کہا : نہیں (1) یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے۔ نحاص نے کہا : انہوں نے حجت پکڑی کہ نبی کریم ﷺ نے خود ان کا فیصلہ فرمایا وہ ان کے پاس فیصلہ نہیں لائے تھے، اس حدیث سے یہی ثابت ہوتا ہے، اگر کوئی کہنے والا یہ کہے کہ مالک عن نافع عن عبداللہ بن عمر کی حدیث میں ہے کہ یہود نبی مکرم ﷺ کے پاس آئے تھے، اس کو کہا جائے گا امام مالک (رح) کی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ جنہوں نے زنا کیا تھا وہ فیصلہ پر راضی ہوئے تھے جب کہ نبی مکرم ﷺ نے انہیں رجم کیا تھا، ابو عمر بن عبدالبر “ نے کہا : جنہوں نے حضرت ابراء کی حدیث سے حجت پکڑی ہے اگر وہ غور کرتے تو اس سے حجت نہ پکڑتے کیونکہ حدیث میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد (آیت) ” ان اوتیتم ھذا فخذوہ وان لم تؤتوہ فاحذروا “۔ کی تفسیر ہے اس نے کہا : اگر وہ تمہیں کوڑوں کا اور منہ کالا کرنے کا فتوی دیں تو اسے قبول کرلو اگر وہ رجم کا فیصلہ کریں تو اجتناب کرو، یہ دلیل ہے کہ انہوں نے نبی مکرم ﷺ کو حکم بنایا تھا، یہ حضرت ابن عمر کی حدیث میں واضح ہے اگر کوئی یہ کہے کہ حضرت ابن عمر کی حدیث میں نہیں ہے کہ زانیوں نے رسول اللہ ﷺ کو حکم بنایا تھا اور وہ آپ کے فیصلے سے راضی نہیں ہوئے تھے، اسے کہا جائے گا کہ زانی کی حد، اللہ کے حقوق میں سے ہے حاکم پر تھا جوان کے درمیان فیصلہ کرتا تھا اور ان پر حدود کو قائم کرنا تھا اس نے رسول اللہ ﷺ کو حکم بنایا تھا۔ واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وان حکمت فاحکم بینھم بینھم بالقسط “۔ نسائی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : قریظہ اور نضیر دو قبائل تھے، نضیر، قریظہ سے زیادہ معزز تھا، جب قریظہ کا کوئی شخص بنی نضیر کا کوئی شخص قتل کردیتا تو اس کے بدلے اسے قتل کیا جاتا اور جب بنی نضیر کا کوئی شخص بنی قریظہ کے کسی شخص کو قتل کردیتا تو وہ سو وسق کھجور دیت دیتا جب رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے تو بنی نضیر کے ایک شخص نے بنو قریظہ کا ایک شخص قتل کردیا انہوں نے کہا : اپنا آدمی ہمیں دو تاکہ ہم اسے قتل کردیں انہوں نے کہا : ہمارے درمیان اور تمہارے نبی مکرم ﷺ موجود ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” وان حکمت فاحکم بینھم بینھم بالقسط “۔ یعنی نفس کے بدلے نفس ہوگا اور یہ نازل ہوا (1) (آیت) ” افحکم الجاھلیۃ یبغون “۔
Ayah 5:43

وَ كَیْفَ یُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِیْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 5:43 in the Quran reader

اور یہ تم سے (اپنے مقدمات) کیونکر فیصل کرائیں گے جبکہ خود ان کے پاس تورات (موجود) ہے جس میں خدا کا حکم (لکھا ہوا) ہے (یہ اسے جانتے ہیں) پھر اس کے بعد اس سے پھرجاتے ہیں اور یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔

آیت نمبر : 43۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وکیف یحکمونک وعندھم التورۃ فیھا حکم اللہ “۔ حسن نے فرمایا : اس سے مراد رجم ہے، قتادہ ؓ نے کہا : قصاص ہے (2) کہا جاتا ہے : (آیت) ” فیھا حکم اللہ “۔ کو قول دلالت کرتا ہے کہ وہ منسوخ نہیں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے۔ ابو علی نے کہا : ہاں اگر یہ منسوخ ہوتا تو نسخ کے بعد اس پر انہ حکم اللہ (یہ اللہ کا حکم ہے) کا اطلاق نہ ہوتا جیسا کہ شراب کی تحلیل یا ہفتہ کی پر اللہ کا حکم ہونے کا اطلاق نہیں ہوتا۔ (آیت) ” وما اولئک بالمؤمنین “۔ یعنی تیرے حکم سے وہ اللہ کی طرف سے ہے، ابو علی نے کہا : جس نے اللہ کے حکم کے علاوہ کو طلب کیا جب کہ وہ اس سے راضی نہیں تو وہ کافر ہے یہی یہود کی حالت تھی ،
Ayah 5:44

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۚ یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَ١ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 5:44 in the Quran reader

بیشک ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت اور روشنی ہے۔ اسی کے مطابق انبیاء جو (خدا کے) فرمانبردار تھے ' یہودیوں کو حکم دیتے رہے ہیں اور مشائخ اور علماء بھی۔ کیونکہ وہ کتاب خدا کے نگہبان مقرر کئے گئے تھے اور اس پر گواہ تھے (یعنی حکم الہٰی کا یقین رکھتے تھے) تو تم لوگوں سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لینا۔ اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں

آیت نمبر : 44۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” انا انزلنا التورۃ فیھا ھدی ونور “۔ یعنی بیان اور روشنی اور تعریف کہ حضرت محمد ﷺ حق ہیں ھدی محل رفع میں ہے مبتدا کی حیثیت سے اور (آیت) ” نور “ اس پر معطوط ہے (آیت) ” یحکم بھا النبیون الذین اسلموا للذین ھادوا “۔ بعض علماء نے فرمایا (آیت) ” النبیون “۔ سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں آپ کو جمع کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (1) (زادالمسیر، جلد 2، صفحہ 214) بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد ہر وہ نبی ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تو رات کی اقامت کے ساتھ مبعوث کیا گیا تھا یہود نے کہا : انبیاء یہود تھے، نصاری نے کہا : انبیاء نصاری تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کا جھوٹ بیان فرمایا : (آیت) ” اسلموا “ کا معنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک انہوں نے تورات کی تصدیق کی اور ان کے درمیان ہزار نبی تھے، کہا جاتا ہے : چار ہزار نبی تھے، کہا جاتا ہے اس سے بھی زیادہ تھے، وہ تورات میں جو احکام تھے اس کے مطابق فیصلے کرتے تھے بعض نے فرمایا (آیت) ” اسلموا “ کا معنی انہوں نے اللہ کے امر کی اطاعت کی جس کے ساتھ وہ بھیجے گئے تھے، بعض نے فرمایا : وہ انبیاء اس کے مطابق فیصلہ کرتے رہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر تھے، معنی ایک ہی ہے۔ (آیت) ” للذین ھادوا “۔ یہ علی الذین ھادوا کے معنی میں ہے لام بمعنی علی ہے، بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے اس کے مطابق وہ انبیاء فیصلے کرتے رہے جو فرمانبردار تھے یہود کے حق میں تھے اور جو ان کے خلاف تھے، پس علیھم حذف کیا گیا ہے۔ (آیت) ” الذین اسلموا “۔ یہاں مدح کے معنی میں نعت ہیں جیسے بسم اللہ الرحمن الرحیم “ میں ہے۔ (آیت) ” ھادوا یعنی انہوں نے کفر سے توبہ کی (2) (ایضا، جلد 2، صفحہ 215) بعض نے فرمایا : اس میں تقدیم وتاخیر ہے یعنی ہم نے تورات کو نازل کیا اس میں ہدایت اور نور ہے یہود کے لیے اس کے مطابق حکم دیتے رہے انبیاء اور اللہ والے اور علماء، یعنی اس کے مطابق اللہ والے فیصلے کرتے رہے یہ وہ لوگ تھے جو لوگوں کو اپنے علم کے ذریعے چلاتے تھے اور بڑے بڑے مسائل سے پہلے چھوٹے چھوٹے مسائل کے ساتھ کی تربیت کرتے تھے، حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے مروی ہے، آل عمران میں یہ مسئلہ گزر چکا ہے۔ ابو رزین نے کہا (آیت) ” الربنیون “ سے مراد علماء، حکماء اور احبار ہیں، حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد فقہاء ہیں۔ الحبر اور الحبر عالم آدمی کو کہتے ہیں۔ یہ التحبیر سے ماخوذ ہے جس کا معنی التحسین ہے، فھم یحبرون العلم، یعنی وہ علم کو بیان کرتے ہیں اور اس کو مزین کرتے ہیں وھو محبر فی صدورھم اور وہ ان کے سینوں میں مزین ہے، مجاہد (رح) نے کہا : (آیت) ” الربنیون “۔ علماء سے بلند مرتبہ ہوتے ہیں (1) (زادالمسیر، جلد 2، صفحہ 215) اس پر الف لام مبالغہ کے لیے ہے جوہری نے کہا : الحبر اور الحبر کا ایک معنی ہے، یہود کے علماء، اور کسرہ کے ساتھ افصح ہے، کیونکہ اس کی جمع افعال کے وزن پر آتی ہے، مفعول کے وزن پر نہیں آتی، فراء نے کہا : حبر کسرہ کے ساتھ عالم کو کہا جاتا ہے، ثوری نے کہا : میں نے فراء سے پوچھا حبر کو حبر کیوں کہا جاتا ہے ؟ انہوں نے کہا : عالم کو حبر اور حبر کہا جاتا ہے، مراد مدادالحبر ہے یعنی عالم کی سیاہی ہے، پھر مداد کو حذف کیا گیا جیسا کہ فرمایا : (آیت) ” وسئل القریۃ “۔ (یوسف : 82) یعنی اھل القریۃ “۔ فرمایا : میں نے اصمعی سے پوچھا انہوں نے فرمایا : یہ درست نہیں ہے حبر کو حبر اس کی تاثیر کی وجہ سے کہا جاتا ہے، کہا جاتا ہے علی اسنانہ حبر یعنی اس کے دانتوں پر زردی یا سیاہی ہے، ابو العباس نے کہا : حبر وہ ہے جس کے ساتھ حبر لکھتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ وہ تحقیق کرتا ہے، ابو عبید نے کہا : میرے نزدیک احبار کا واحد حبر ہے اس کا معنی ہے جو کلام کی تحییر علم کی معرفت وتحسین کو جانتا ہے، انہوں نے کہا : تمام محدثین اسی طرح خیال کرتے ہیں یعنی فتح کے ساتھ، حبر جس کے ساتھ لکھا جاتا ہے اور اس کی جگہ المحبرۃ ہے یعنی دواۃ، حبر کا معنی اثر ہے اور اس کی جمع حبور ہے، یہ یعقوب سے مروی ہے۔ (آیت) ” بما استحفظوا من کتب اللہ “۔ یعنی اس کو علم ودیعت کیا گیا، الباء الربانین اور الاحبار کے متعلق ہے گویا فرمایا : علماء جو محافظ ٹھہرائے گئے، (آیت) ” وکانوا علیہ شھدآء “ یعنی وہ کتاب پر گواہ ہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے، حضرت ابن عباس نے فرمایا : وہ نبی کریم ﷺ کے حکم گواہ ہیں کہ یہ تورات میں ہے (2) (زادالمسیر جلد 2، صفحہ 216) (آیت) ” فلا تخشوا الناس “۔ یعنی حضرت محمد ﷺ کے شان کے اظہار میں لوگوں سے نہ ڈرو اور رجم کے اظہار میں (آیت) ” واخشون بلکہ اس کے چھپانے میں مجھ سے ڈرو، یہ خطاب یہود کے علماء کے لے ہے اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جس نے واجب حق کو چھپایا اور اسے ظاہر نہ کیا۔ (آیت) ” ولا تشتروا بایتی ثمنا قلیلا “۔ کا معنی تفصیلا گزر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون “۔ کافروں، ظالمون اور فاسقون یہ سب کفار کے حق میں نازل ہوئے، یہ صحیح مسلم کی حدیث سے ثابت ہے جو حضرت براء سے مروی ہے یہ پہلے گزر چکی ہے رہا مسلمان تو وہ کافر نہیں ہوتا اگرچہ وہ گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرے، بعض علماء نے فرمایا : اس میں اضمار ہے یعنی جو قرآن کو رد کرتے ہوئے اللہ کے نازل شدہ کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا اور رسول اللہ ﷺ کے قول کے انکار کی وجہ سے اللہ کے نازل شدہ کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا وہ کافر ہے، یہ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد (رح) نے کہا : اس پر یہ آیت عام ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ اور حسن (رح) نے فرمایا : یہ ہر اس شخص کو عام ہے جو مسلمان، یہود اور کفار میں سے اللہ کے نازل شدہ حکم کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا یعنی وہ یہ اعتقاد رکھتا ہو اور قرآن کے فیصلہ کے خلاف کرنا حلال سمجھنا ہو، مگر وہ شخص جس نے ایسا کیا لیکن یہ اعتقاد رکھتا ہو کہ وہ حرام کا ارتکاب کررہا ہے تو وہ فاسق مسلمانوں میں سے ہے اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے چاہے تو اسے عذاب دے چاہے تو اسے معاف کر دے، حضرت ابن عباس ؓ نے ایک روایت میں فرمایا : جس نے اللہ کے نازل شدہ کے مطابق فیصلہ نہیں کیا اس نے ایسا فعل کیا جو کفار کے افعال کے مشابہ ہے بعض علماء نے فرمایا جو اللہ نے تمام نازل کیا اس کے مطابق فیصلہ نہ کیا وہ کافر ہے اور جس نے توحید کا فیصلہ کیا اور بعض شرائع کا فیصلہ نہ کیا تو وہ اس آیت میں داخل نہیں صحیح پہلا قول ہے مگر شعبی نے کہا : یہ یہود کے ساتھ خاص ہے، نحاس نے اس کو اختیار کیا فرمایا : اس پر تین چیزیں دلالت کرتی ہیں۔ (1) یہود کا پہلے (آیت) ” للذین ھادوا “ میں ذکر کیا گیا ضمیر کا مرجع وہ ہیں۔ (2) کلام کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا کہ اس کے بعد (آیت) ” وکتبنا علیھم “۔ ہے یہ ضمیر بالاجماع یہود کی طرف راجع ہے، نیز یہود وہ ہیں جنہوں نے رجم اور قصاص کا انکار کیا اگر کوئی کہنے والا یہ کہے : من جب مجازاۃ کے لے ہو توعامۃ ہوتا ہے مگر جب اس کی تخصیص پر کوئی دلیل واقع ہو ؟ اس کا جواب یہ ہے یہاں من بمعنی الذی ہے اس کی ہم نے ادلہ ذکر کی ہیں یہود وہ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے نازل شدہ کے مطابق فیصلہ نہ کیا یہ لوگ کافر ہیں یہ عمدہ ہے اس میں سے جو کچھ اس کے بارے کہا گیا ہے۔ روایت کیا جاتا ہے کہ حضرت حذیفہ سے ان آیات کے بارے پوچھا گیا : کیا یہ بنی اسرائیل کے بارے میں ہیں ؟ انہوں نے کہا : ہاں ان کے حق میں لیکن تم ان کے راستہ پر برابر چلو گے جس طرح جوتا، جوتے کے برابر ہوتا ہے، بعض نے فرمایا : الکافرون مسلمان کے لیے الظالمون، یہود کے لیے ہے اور الفاسقون نصاری کے لیے ہے یہ ابوبکر بن عربی کا اختیار ہے۔ (1) فرمایا : کیونکہ یہ آیات کا ظاہر ہے، یہ حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت جابر بن زید، ابن ابی زائدہ، ابن شبرمہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اور شعبی (رح) کا مختار قول ہے، طاؤس وغیرہ نے کہا : کفر صرف ملت اسلامیہ (2) سے انکار نہیں ہوتا بلکہ کفر کے مراتب ہیں، کفر مختلف ہوتا ہے کہ اگر وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے جو اس کے پاس ہے اس بنا پر کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے پس وہ اس کو تبدیل کرتا ہے جو موجب کفر ہے، اگر وہ خواہش نفس اور معصیت کی بنا پر ایسا فیصلہ کرتا ہے تو وہ گناہ ہے اس کی مغفرت ہو سکتی ہے یہ اہلسنت کی اصل پر ہے کہ گناہگاروں کی مغفرت ہے، قشیری نے کہا : خوارج کا مسلک یہ ہے کہ جو رشوت لے اور اللہ کے حکم کے علاوہ فیصلہ کرے وہ کافر ہے، یہ قول حسن اور سدی (رح) کی طرف منسوب کیا گیا ہے حسن (رح) نے یہ بھی کہا : اللہ تعالیٰ نے حکام سے تین عہد لیے ہیں۔ (1) وہ خواہش کی پیروی نہیں کریں گے۔ (2) وہ لوگوں سے نہیں ڈریں گے اور اس سے ڈریں گے۔ (3) اللہ تعالیٰ کی آیات کے عوض تھوڑی سی قیمت نہیں لیں گے۔