5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 5:67

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:67 in the Quran reader

اے پیغمبر ! جو ارشادات خدا کی طرف سے تم پر نازل ہوئے ہیں سب لوگوں کو پہنچ دو ۔ اور اگر ایسا نہ کیا تو تم خدا کے پیغام پہنچانے میں قاصر رہے۔ (یعنی پیغمبری کا فرض ادانہ کیا) اور خدا تم کو لوگوں سے بچائے رکھے گا۔ بیشک خدا منکروں کو ہدایت نہیں دیتا۔

آیت نمبر : 67 اس میں دو مسئلے ہیں ؛ مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا رشاد ہے : آیت : یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے تبلیغ کو ظاہر کرو، کیونکہ اسلام کے آغاز میں مشرکین کے خوف سے آپ تبلیغ مخفی طریقہ سے کرتے تھے پھر اس آیت میں تبلیغ کے اظہار کا حکم دیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو آگاہ کیا کہ وہ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا (1۔ تفسیر بغوی) ۔ حضرت عمر ؓ پہلے شخص تھے جنہوں نے اپنے اسلام کو ظاہر کیا اور فرمایا : ہم اللہ تعالیٰ کی سرا عبادت نہیں کریں گے، اس کے بارے میں یہ نازل ہوئی : یایھا النبی حسبک اللہ ومن اتبعک من المومنین (الانفال) اے نبی مکرم ! کافی ہے آپ کو اللہ تعالیٰ اور جو آپ کے فرمانبردار ہیں مومنوں سے۔ یہ آیت ان کے قول کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دین کے امر میں سے کوئی چیز تقیۃ چھپائی ہے۔ یہ آیت ان کے قول کے بطلان پر دلالت کر رہی ہے اور یہ رافضی لوگ ہیں۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے امر دین میں سے کوئی چیز کسی سے خفیہ نہیں کی، کیونکہ بلغ کا معنی ہے جو آپ کی طرف اتارا گیا ہے اس تمام کو ظاہرا پہنچاو۔ اگر یہ نہ ہوتا تو آیت : وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ میں کوئی فائدہ نہ ہوتا۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے حضرت زینب بنت جحش کے معاملہ کے بارے میں جو کچھ آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے اس کی تبلیغ کرو۔ صحیح قول عموم کا ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس کا معنی ہے اس تمام کو پہنچائیں جو آپ کی طرف اتارا گیا ہے اگر آپ اس میں سے کچھ چھپائیں گے تو آپ نے نہیں پہنچایا اللہ کا پیغام۔ یہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو تعلیم دی گئی ہے اور آپ کی امت کے اہل علم حضرات کی تادیب ہے کہ وہ امر شریعت میں سے کچھ نہ چھپائیں۔ اللہ تعالیٰ کو پہلے ہی معلوم تھا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم وحی میں سے کچھ نہیں چھپائیں گے۔ صحیح مسلم میں مسروق نے حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : جو تجھے یہ بیان کرے کہ حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے وحی میں سے کوئی چیز چھپائی تو اس نے جھوٹ بولا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : آیت : یایھا الرسول بلغ، الایہ۔ اللہ تعالیٰ رسوا کرے رافضیوں کو جنہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے وحی میں سے کوئی چیز چھپائی ہے جس کی لوگوں کو حاجت تھی۔ (2۔ احکام القرآن لل کیا الطبری) مسئلہ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : واللہ یعصمک من الناس یہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کی دلیل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود خبر دی کہ آپ معصوم ہیں، جس کو اللہ تعالیٰ نے عصمت کی ضمانت دی، پس یہ جائز نہیں کہ اس نے کوئی ایسی چیز ترک کی ہو جس کا انہیں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہو۔ اس آیت کے نزول کا سبب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایک درخت کے نیچے تشریف فرما تھے، ایک اعرابی آیا اس نے اپنی تلوار سونت لی اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے کہنے لگا : تجھے مجھ سے کون بچائے گا ؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کہا : ” اللہ “۔ اعرابی کا ہاتھ کا نپنے لگا اور تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی، اس نے اپنا سر درخت پر مارا حتی کہ اس کا دماغ بکھر گیا۔ یہ مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ قاضی عیاض نے کتاب الشفاء میں یہ ذکر کیا ہے فرمایا : یہ واقعہ صحیح میں روایت کیا گیا ہے۔ غورث بن حارث تھا جس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا تھا، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو معاف کردیا تھا، پھر وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ کر آیا اور کہا : میں تمہارے پاس ایک ایسے شخص سے ہو کر آیا ہوں جو تمام لوگوں سے بہتر ہے۔ اس سورت میں اس معنی میں کلام آیت : اذھم قوم ان یبسطوا الیکم ایدیھم (المائدہ : 11) کے قول کے تحت تفصیلا گزر چکی ہے اور سورة النساء میں بھی صلاۃ خوف کے ذکر میں۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے فرمایا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف ایک غزوہ میں شرکت کی ہمیں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایسی وادی میں پایا جس میں بہت زیادہ کانٹوں والے درخت تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایک درخت کے نیچے اترے اور اپنی تلوار اس کی ٹہنی سے لٹکا دی فرمایا : لوگ وادی میں بکھر گئے تاکہ سایہ حاصل کریں۔ فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” ایک شخص میرے پاس آیا جب کہ میں سویا ہوا تھا اس نے تلوار پکڑ لی، میں بیدار ہوا تو وہ میرے سر پر کھڑا تھا میں نے محسوس نہ کیا مگر وہ تلوار سونتے ہوئے تھا “۔ اس نے مجھے کہا : تجھے مجھ سے کون بچائے گا :؟ فرمایا : میں نے کہا : ” اللہ “۔ فرمایا : اس نے تلوار نیام میں ڈال لی، یہ ہے وہ شخص جو بیٹھا ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر کچھ تعرض نہ فرمایا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” جب اللہ نے مجھے رسالت کے ساتھ مبعوث فرمایا تو میں کچھ تنگ دل ہوا اور میں جانتا تھا کہ لوگوں میں سے کچھ میرے تکذیب کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی “ (1۔ تفسیر بغوی، جلد 2، صفحہ 51 ) ۔ حضرت ابو طالب ہر روز رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بنی ہاشم کے چند لوگ بھیجتے تھے جو آپ کی حفاظت کرتے تھے حتی کہ یہ آیت نازل ہوئی : آیت : واللہ یعصمک من الناس۔ بنی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے میرے چچا ! اللہ نے مجھے جن وانس کی اذیت سے محفوظ فرمایا ہے، مجھے ان حفاظت کرنے والوں کی ضرورت نہیں۔ میں کہتا ہوں : یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ مکہ تھا اور یہ آیت مکی ہے، جب کہ ایسا نہیں ہے پہلے گزر چکا ہے کہ بالاجماع یہ سورة مدنی ہے۔ اور اس سورة کے مدنی ہونے پر دلیل وہ حدیث ہے جو مسلم نے صحیح میں حضرت عائشہ سے روایت کی ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مدینہ طیبہ آئے تو ایک رات جاگتے رہے اور فرمایا : ” کاش میرے اصحاب میں سے کوئی نیک صالح شخص اس رات کو میری حفاظت کرتا “۔ حضرت عائشہ نے فرمایا : اسی اثنا میں ہم نے ہتھیار کی آواز سنی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” کون ہے “ ؟ اس نے کہا : حضرت سعد بن ابی وقاص۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا : ” تم کیسے آئے ہو ؟ “ اس نے کہا : میرے دل میں آپ کے متعلق خوف واقعہ ہوا میں اس لیے آیا ہوں تاکہ آپ کی حفاظت کروں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی اور سو گئے۔ صحیح کے علاوہ ہے حضرت عائشہ نے فرمایا : ہم اسی اثنا میں تھے کہ ہتھیار کی آواز سنی گئی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : ” یہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا : سعد اور حذیفہ، ہم آپ کی حفاظت کرنے کے لیے آئے ہیں حتی کہ میں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے خراٹے کی آواز سنی۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے چمڑے کے قبہ سے اپنا سر باہر نکالا اور فرمایا : ” اے لوگو ! واپس چلے جاؤ اللہ تعالیٰ نے میری حفاظت فرمائی ہے “۔ اہل مدینہ نے رسالاتہ یعنی جمع پڑھا ہے۔ اور ابو عمرو اور اہل کوفہ نے رسالتہ واحد پڑھا ہے۔ نحاص نے کہا : دونوں قراتیں بہتر ہیں اور جمع زیادہ واضح ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر تھوڑی تھوڑی وحی نازل ہوتی تھی پھر آپ اسے بیان کرتے تھے، افراد، کثرت پر دلالت کرتا ہے یہ مصدر کی طرح ہے اور مصدر کا اکثر کلام میں جمع اور تثنیہ نہیں بنایا جاتا، کیونکہ وہ اپنے لفظ کے ساتھ اپنی نوع پر دلالت کرتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : وان تعدوا نعمت اللہ لا تحصوھا (ابراہیم : 34) اور اگر تم گننا چاہو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو تو تم ان کا شمار نہیں کرسکتے۔ آیت : ان اللہ لا یھدی القوم الکفرین یعنی اللہ تعالیٰ کافروں کی رانمائی نہیں فرماتا۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : آپ تبلیغ کردیں، رہی ہدایت تو وہ ہمارے ذمہ ہے۔ اس کی مثال یہ ہے آیت : ما علی الرسول الا البلغ۔
Ayah 5:68

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:68 in the Quran reader

کہو کہ اے اہل کتاب ! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہوسکتے اور (یہ قرآن) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے اس سے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کفر اور بڑھے گا۔ تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کرو۔

آیت نمبر : 68 اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہود کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا : کیا آپ تسلیم نہیں کرتے کہ تورات اللہ کی طرف سے حق ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :” کیوں نہیں “ ، یہود نے کہا : ہم اس تورات پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے علاوہ کا انکار کرتے ہیں، پس یہ آیت نازل ہوئی یعنی تم دین میں سے کسی چیز پر نہیں ہو حتی کہ ان دونوں کتابوں میں ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لاؤ اور ان پر عمل کرو۔ ابو علی نے کہا : یہ بھی جائز ہے کہ یہ حکم تورات وانجیل کے نسخ سے پہلے ہو۔ مسئلہ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ولیزیدن کثیرا منھم ما انزل الیک من ربک طغیانا وکفرا۔ یعنی وہ رب کی طرف سے نازل شدہ کا انکار کرتے ہیں اور کفر پر کفر میں بڑھتے جاتے ہیں۔ الطغیان کا معنی ظلم اور غلو میں حد سے تجاوز کرنا ہے۔ ظلم میں سے کچھ ہوتا ہے، کچھ بڑا ہوتا ہے پس جو چھوٹے ظلم سے تجاوز کرتا ہے اس نے حد سے تجاوز کیا اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : کلا ان الانشان لیطغی (العلق) یعنی حق سے خروج میں حد سے تجاوز کرتا ہے۔ ؎ مسئلہ نمبر 3۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : فلا تاس علی القوم الکفرین یعنی آپ ان کافروں پر افسوس نہ کریں۔ اسی یا سی اسی کا معنی ہے غمگین ہونا۔ شاعر نے کہا : وانحلبت عیناہ من فرط الاسی فرط غم سے ان کی آنکھیں بہہ پڑیں۔ یہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اطمینان اور تسلی دینے کے لیے مطلق غمگین ہونے سے نہیں نہیں ہے، کیونکہ انسان اس پر قادر نہیں ہوتا بلکہ یہ تسلی دینا ہے اور حزن کی وجہ سے تعرض سے نہیں ہے۔ یہ مفہوم سورة آل عمران کے آخر میں تفصیلا گزر چکا ہے۔
Ayah 5:69

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئُوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 5:69 in the Quran reader

جو لوگ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان لائیں گے اور عمل نیک کریں گے خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہودی یا ستارہ پرست یا عیسائی ان کو (قیامت کے دن) نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہونگے۔

آیت نمبر : 69 اس آیت پر پہلے گزر چکی ہے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ آیت : والذین ھادو یہ معطوف ہے، اسی طرح الصبئون، ھادوا کی ضمیر پر معطوف ہے۔ یہ کسائی اور اخفش کا قول ہے۔ نحاس نے کہا : میں نے زجاج کو یہ کہتے سنا، اس کے سامنے اخفش اور کسائی کا قول ذکر کیا گیا تھا یہ دوجہتوں سے غلط ہے ایک یہ کہ ضمیر مرفوع پر عطف قبیح ہوتا ہے حتی کہ پہلے ضمیر کی تاکید لگائی جائے۔ دوسری یہ کہ معطوف، معطوف علیہ کا شریک ہوتا ہے معنی یہ ہوجائے گا کہ صائبین یہودیت میں داخل ہیں اور یہ محال ہے۔ فراء نے کہا ہے : آیت : الصبئون میں رفع جائز ہے، کیونکہ ان ضعیف عامل ہے یہ صرف اسم میں عمل کرتا ہے خبر میں عمل نہیں کرتا اور الذین میں یہاں اعراب واضح نہیں ہے پس ایک جہت پر دونوں امر جاری ہیں۔ پس صائبین پر رفع اصل کلام کی طرف رجوع کے اعتبار سے جائز ہے۔ زجاج نے کہا ہے : جس میں اعراب ظاہر ہوتا ہے اور جس میں اعراب ظاہر نہیں ہوتا ان کی جہت ایک ہے۔ خلیل اور سیبویہ نے کہا : رفع، تقدیم وتاخیر پر محمول ہے تقدیر یوں ہوگی : ان الذین آمنوا والذین ھادوا من آمن باللہ والیوم الاخر وعمل صالحا فلا خوف علیھم ولا ھم یحزنون والصابئون اسی طرح نصاری ہے۔ سیبویہ نے اس کی مثال اس شعر سے دی ہے : والا فاعلموا انا وانتم بغاہ ما بقینا فی شقاق جابی برجمعی نے کہا : فمن یک امسی بالمدینۃ رحلہ فانی وقیار بھا لغریب بعض علمانے فرمایا : ان بمعنی نعم ہے الصابئون مبتدا کی حیثیت سے مرفوع ہے اور خبر محذوف ہے، کیونکہ دوسرا اس پر دلالت کر رہا ہے پس اس تقدیر پر عطف کلام کے مکمل ہونے اور اسم اور خبر کے مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔ قیس رقیات کہا : بکر العواذل فی الصباح یلمننی والومھنہ ویقلن شیب قد علاک وقد کبرت فقلت انہ اخفش نے کہا : انہ بمعنی نعم ہے اور اس کے آخر میں ھاسکتہ کے لیے ہے۔
Ayah 5:70

لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا١ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْ١ۙ فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ Open ayah 5:70 in the Quran reader

ہم نے بنی اسرائیل سے عہد بھی لیا اور ان کی طرف پیغمبر بھی بھیجے (لیکن) جب کوئی پیغمبر ان کے پاس ایسی باتیں لیکر آتا جن کو ان کے دل نہیں چاہتے تھے تو وہ (انبیاء کی) ایک جماعت کو تو جھٹلادیتے اور ایک جماعت کو قتل کردیتے تھے۔

آیت نمبر : 70 یہ آیت سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ میثاق کا معنی یہ ہے کہ وہ عبادت نہ کریں مگر اللہ کی اور ان احکام کی پیروی کریں جن کا اللہ تعالیٰ کی عبادت کے بعد ذکر کیا گیا ہے۔ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ آپ ان کافروں پر غمگین نہ ہوں ہم نے ان کا عذر ختم کردیا ہے ہم نے ان کی طرف رسل کو بھیجا انہوں نے عہود کو توڑا، یہ اس کی طرف راضع ہے جس کے ساتھ سورة کا آغاز کیا گیا تھا اور یہ قول ہے : آیت : اوفوا بالعقود۔ آیت : کلما جآئھم، ھم ضمیر کا مرجع یہود ہیں۔ آیت : رسول بما لا تھوی انفسھم یعنی جو ان کی خواہشات کے مطابق نہ تھا آیت : فریقا کذبوا وفریقا یقتلون یعنی ایک فریق کو جھٹلایا اور ایک فریق کو قتل کیا جن کو انہوں نے جھٹلایا وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان جیسے دوسرے انبیاء کرام ہیں اور انہوں نے حضرت زکریا، حضرت یحییٰ وغیرہما کو قتل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آیت : یقتلون مضارع کا صیغہ ذکر فرمایا تو یہ آیت کا قافیہ کو ملانے کے لیے ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اصل میں اس طرح تھا آیت : فریقا کذبوا، وفریقا قتلوا وفریقا یکذبون وفریقا یقتلون۔ یہ عربوں کی عادت اور طریقہ ہے پھر مختصر کردیا۔ بعض نے فرمایا : فریقا کذبوا لم یقتلوھم وفریقا قتلوا فکذبوا اور یقتلون۔ فریق کی نعت ہے۔ واللہ اعلم
Ayah 5:71

وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:71 in the Quran reader

اور یہ خیال کرتے تھے کہ (اس سے ان پر) کوئی آفت نہیں آنے کی تو وہ اندھے اور بہرے ہوگئے۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی (لیکن) پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہوگئے۔ اور خدا ان کے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے۔

آیت نمبر : 71 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : وحسبوا الا تکون فتنۃ یعنی ان لوگوں نے گمان کیا جن سے میثاق لیا گیا تھا کہ اللہ کی طرف سے ان پر کوئی آزمائش اور ابتلا نہ ہوگی انہیں اپنے قول سے دھوکا ہوا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فرزند اور اس کے چہیتے ہیں اور انہوں نے طویل مدت مہلت ملنے کی وجہ سے دھوکا کھایا۔ ابو عمرو اور حمزہ اور کسائی نے (تکون) رفع کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ رفع اس بنا پر ہے کہ حسب معنی علم اور تیقن ہے اور ان مخففہ ہے اور لا کا دخول، تخفیف کے عوض ہے ضمیر کو حذف کیا گیا ہے، کیونکہ انہوں نے ناپسند کیا کہ اس سے فعل متصل ہو اور اس کے حکم سے نہیں ہے کہ اس پر داخل ہو پس ان کے درمیان لا کا فاصلہ کردیا۔ اور جنہوں نے نصب پڑھی ہے انہوں نے ان کو ناصبہ بنایا ہے اور حسب اپنے باپ پر باقی رکھا ہے۔ سیبویہ نے کہا : حسبت الا یقول ذالک یعنی حسبت انہ قال ذالک اگر تو چاہے تو یقول کو نصب دے دے نحاس نے کہا : نحویوں کے نزدیک حسب اور اس کے اخوات میں رفع عمدہ ہے جیسا کہ شاعر نے کہا : الا زعمت بسباسۃ الیوم اننی کبرت والا یشھد اللھو امثالی رفع عمدہ ہے، کیونکہ حسب اور اس کے اخوات، علم کے قائم مقام ہیں کیونکہ وہ ثابت چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فعموا وہ ہدایت سے اندھے ہوگئے۔ صموا حق سننے سے بہرے ہوگئے، کیونکہ جو انہوں نے دیکھا اور انہوں نے سنا اس سے نفع نہ اٹھایا۔ آیت : ثم تاب اللہ علیھم اس کلام میں اضمار ہے یعنی ان پر آزمائش واقع ہوئی تو انہوں نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی ان سے قحط کو دور کردیا یا حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث فرما کر نظر رحمت فرمائی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بتایا کہ اللہ ان پر نظر کرم فرمائے گا اگر وہ ایمان لے آئیں گے۔ یہ آیت : تاب اللہ علیھم کا بیان ہے یعنی اللہ تعالیٰ ان پر نظر رحمت فرمائے گا اگر وہ ایمان لے آئیں گے اور تصدیق کریں گے یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے حقیقیۃ توبہ کی۔ آیت : ثم عموا وصموا کثیر منھم یعنی حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق ان کے لیے حق واضح ہونے کے بعد بہت سے لوگ اندھے اور بہرے ہوئے۔ آیت : کثیر کا رفع واو جمع سے بدل ہونے کی بنا پر ہے۔ اخفش سعید نے کہا : جیسے تو کہتا ہے : رایت قومک ثلثیھم اگر تو چاہے تو مبتدا مضمر مان لے یعنی العمی والصم کثیر منھم۔ اگر تو چاہے تو تقدیر یوں کرے : العمی والصم منھم کثیر۔ چوتھا جواب یہ ہے کہ یہ ان لوگون کی لغت پر ہے جو کہتے ہیں : اکلونی البراغیث۔ اس بنا پر شاعر نے کہا : ولکن دیافی ابوہ وامہ بحوران یعصرن السلیط اقاربہ (اس شعر میں اقاربہ فاعل ہے پھر بھی یعصرن جمع مونث کا صیغہ ذکر ہوا ہے) اسی طرح ہے آیت : واسروالنجوی الذین ظلموا (الانبیائ : 3) اور غیر قرآن میں کثیرا پر نصب بھی جائز ہے یہ محذوف مصدر کی صفت ہوگا۔
Ayah 5:72

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 5:72 in the Quran reader

وہ لوگ بےشبہ کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ مریم کے بیٹے (عیسٰی) مسیح خدا ہیں۔ حالانکہ مسیح (یہود سے) یہ کہا کرے تھے کہ اے بنی اسرائیل خدا کی عبادت کرو جو میر ابھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی (اور جان رکھو کہ) جو شخص خدا کے ساتھ شرک کریگا خدا اس پر بہشت کو حرام کردے گا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

آیت نمبر : 72 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : لقد کفرالذین قالوا ان اللہ ھو المسیح ابن مریم۔ یہ یعقوبیہ فرقہ کا قول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک قطعی حجت کے ساتھ ان کا رد کیا جس کا وہ خود اقرار کرتے تھے فرمایا : مسیح نے خود کہا : اے بنی اسرائیل ! عبادت کرو اللہ کی جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے یعنی جس مسیح (علیہ السلام) خود کہتے ہیں : یا رب ! یا اللہ ! تو وہی کیسے اپنی ذات کو پکار رہے ہیں اور کیسے اپنی ذات سے سوال کر رہے ہیں یہ محال ہے۔ آیت : انہ من یشرک باللہ بعض علماء نے فرمایا : یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قول ہے۔ بعض نے فرمایا : یہ اللہ کی طرف سے نئی کلام ہے۔ الاشراک کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کے موجد ہونے کا عقیدہ رکھنا۔ سورة آل عمران میں المسیح کے اشتقاق کے بارے میں کلام گزر چکی ہے اعادہ کی ضرورت نہیں۔
Ayahs 5:73–74

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ١ۘ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَهُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:73 in the Quran reader

وہ لوگ (بھی) کافر ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ خدا تین میں کا تیسرا ہے۔ حالانکہ اس معبود یکتا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ اگر یہ لوگ ایسے اقوال (و عقائد سے باز نہیں آئیں گے تو ان میں جو کافر ہوئے ہیں وہ تکلیف دینے والا عذاب پائیں گے۔

اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:74 in the Quran reader

تو یہ کیوں خدا کے آگے توبہ نہیں کرتے اور اس سے گناہوں کی معافی نہیں مانگتے ؟ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے۔

آیت نمبر : 73۔ 74 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلٰثۃ یعنی تین میں سے ایک۔ اور زجاج وغیرہ سے روایت ہے کہ ثالث میں تنوین جائز نہیں۔ اور اس میں عربوں کا ایک اور مذہب بھی ہے کہتے ہیں رابع ثلاثۃ اس بنا پر جر اور نصب جائز ہے، کیونکہ وہ جس نے تین کو چار بنایا ان میں سے ہونے کی وجہ سے۔ اسی طرح جب تو نے کہا : ثالث اثنین تو تنوین جائز ہے۔ یہ نصاری کے تینوں فرقوں ملکیۃ، نسطوریہ اور یعقوبیہ کا قول تھا وہ کہتے تھے : اب، ابن اور روح القدس ایک خدا ہے وہ تین خدا نہیں کہتے تھے۔ یہ ان کے مذہب کا مفہوم ہے، وہ عبادت سے انکار کرتے تھے حالانکہ وہ ان کو لازم ہے جو اس طرح ہوا سے عبارت لاذمہ سے حکایت کرنا صحیح ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ کہتے ابن الہ ہے باب الہ ہے اور روح القدوس الہ ہے۔ سورة النساء میں اس پر گفتگو گزر چکی ہے اس قول کی وجہ سے اللہ نے انہیں کافر کہا ہے فرمایا : آیت : وما من الہ الا الہ واحد یعنی الہ متعدد نہیں ہیں تین خداؤں کا قول ان کو لازم ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے اگرچہ انہوں نے صراحۃ تین خداؤں کا لفطا اظہار نہیں کیا تھا۔ سورة بقرہ میں واحد کا معنی گزر چکا ہے۔ ” من “ زائدہ ہے غیر قرآن میں الھا واحدا استثنا کی بنا پر جائز ہے۔ کسائی نے بدل کی بنا پر جر کو جائز قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : وان لم ینتھوا یعنی اگر وہ تثلیث کے قول سے باز نہ آئے تو انہیں دنیا وآخرت میں دردناک عذاب چھوئے گا۔ آیت : افلا یتوبون تقریر اور توبیخ ہے یعنی وہ اس کی بارگاہ میں رجوع کریں اس سے سوال کریں وہ ان کے گناہوں پر پردہ ڈال دے گا۔ لعن سے مراد ان کے کافر لوگ ہیں کافروں کا خصوصی ذکر کیا، کیونکہ وہ اس کے قائل تھے، مومنین نہیں تھے۔
Ayah 5:75

مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌ١ؕ كَانَا یَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُبَیِّنُ لَهُمُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 5:75 in the Quran reader

مسیح ابن مریم تو صرف (خدا کے) پیغمبر تھے۔ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے۔ اور ان کی والدہ (مریم خدا کی ولی اور) سچّی فرماں بردار تھیں۔ دونوں (انسان تھے اور) کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو ہم ان لوگوں کے لئے اپنی آیتیں کس طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں پھر (یہ) دیکھو کہ کدھر الٹے جا رہے ہیں۔

آیت نمبر : 75 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل یہ مبتدا خبر ہیں یعنی مسیح (علیہ السلام) اگرچہ ان کے ہاتھوں پر بہت سے معجزات ظاہر ہوئے ہیں یہ ان معجزات کو اسی طرح لائے ہیں جیسے دوسرے رسل لائے تھے اگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) رسول ہیں تو پھر ہر رسول کو الہ ہونا چاہیے۔ یہ ان کے قول کا رد ہے ان پر حجت قائم کرنا ہے پھر حجت میں مبالغہ فرمایا۔ ارشاد فرمایا : آیت : وامہ صدیقۃ یہ مبتدا خبر ہیں۔ آیت : کا نا یاکلن الطعام یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مولود اور مربوب ہیں جس کو عورتیں جنم دیں کھانا کھائے وہ مخلوق اور حادث ہے جس طرح دوسری مخلوق ہے۔ ان میں سے کسی نے اس کا دفاع نہیں کیا پس جس کی تربیت کی گئی ہو وہ رب ہونے کی کیسے صلاحیت رکھتا ہے اور ان کا قول کہ وہ ناسوت سے کھاتا ہے لاہوت سے نہیں کھاتا یہ ان کے اختلاط کا مرجع ہے ایک الہ کا غیر الہ سے اختلاط متصور نہیں ہوتا، اگر حادث کے ساتھ قدیم کا اختلاط جائز ہوتا تو قدیم کا حادث ہونا جائز ہوتا اگر یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حق میں جائز ہوتا تو دوسروں کے حق میں بھی جائز ہوتا حتی کہ کہا جاتا : لا ہوت پر حادث کو مخالط ہے۔ بعض مفسرین نے آیت : کا نا یاکلن الطعام کی تفسیر میں کہا : یہ غائط اور بول سے کنایہ ہے اس میں اس بات پر دلالت ہے کہ وہ دونوں بشر ہیں۔ جنہوں نے حضرت مریم (علیہما السلام) کے نبیہ نہ ہونے کا قول کیا ہے انہوں نے امہ صدیقہ کے ارشاد سے استدلال کیا ہے۔ میں کہتا ہوں : اس میں نظر ہے، کیونکہ، نبیہ ہونے کے ساتھ صدیقہ ہونا جائز ہے جیسے حضرت ادریس (علیہ السلام) تھے۔ سورة آل عمران میں وہ گزر چکا ہے جو اس پر دلالت کرتا ہے۔ حضرت مریم (علیہا السلام) کو صدیقہ اس لیے کہا گیا وہ اپنے رب کی آیات کی کثرت سے تصدیق کرنے والی تھی اور انہوں نے اپنے بیٹے کی تصدیق کی تھی جس کی اس نے انہیں خبر دی۔ یہ حسن وغیرہ کا قول ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : انظر کیف نبی ن لھم الایت آیات سے مراد لالات ہیں۔ آیت : ثم انظر انی یوفکون یعنی وہ اس بیان کے بعد حق سے کیسے پھرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے : اف کہ یافکہ جب کوئی کسی کو پھیر دے۔ اس میں قدریہ اور معتزلہ کا رد ہے۔
Ayah 5:76

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا١ؕ وَ اللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 5:76 in the Quran reader

کہو کہ تم خدا کے سوا ایسی چیز کی کیوں پرستش کرتے ہو جس کو تمہارے نفع اور نقصان کا کچھ بھی اخیتار نہیں ؟ اور خدا ہی سب کچھ سنتا جانتا ہے۔

آیت نمبر : 67 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : قل اتعبدون من دون اللہ مالا یملک لکم ضراولا نفعا۔ بیان میں زیادتی اور ان پر حجت کا قائم کرنا ہے یعنی تم خود اقرار کرتے ہو کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی ماں کے پیٹ میں جنین تھے وہ کسی کے نفع اور نقصان کے مالک نہیں تھے اور جب تم نے اقرار کرلیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کبھی ایسی حالت میں بھی تھے کہ نہ سنتے تھے، نہ دیکھتے تھے، نہ جانتے تھے، نہ نفع دیتے تھے نہ نقصان دیتے تھے، پھر تم نے اسے کیسے الہ بنا لیا ؟ آیت : واللہ ھو السمیع العلیم اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیشہ سے سمیع علیم ہے نقصان اور نفع کا مالک ہے جس کی یہ صفت ہو وہ حقیقت میں الہ ہوتا ہے۔
Ayah 5:77

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ۠ Open ayah 5:77 in the Quran reader

کہو کہ اے اہل کتاب ! اپنے دین (کی بات) میں ناحق مبالغہ نہ کرو ' اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) پہلے گمراہ ہوئے اور اور بھی اکثروں کو گمراہ کر گئے اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔

آیت نمبر : 77 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : قل یاھل الکتب لا تغلوا فی دینکم غیر الحق۔ یعنی اس طرح حد سے تجاوز نہ کرو جس طرح یہود ونصاری نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں کیا تھا۔ یہود کا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں غلو اور افراط یہ تھا کہ انہوں نے کہا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر نکاح کے پیدا ہوئے ہیں اور نصاری کا غلویہ تھا کہ انہوں نے کہا : وہ الہ ہے، الغلو کا معنی حد سے تجاوز کرنا ہے سورة نساء میں اس کا بیان گزر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ولا تتبعوا اھواء قوم، اھواء جمع ہے ھوی کی سورة بقرہ میں یہ لفظ گزر چکا ہے الھوی ویہ نام اس لیے دیا جاتا ہے، کیونکہ ھوی (خواہش) انسان کو آگ میں گراتی ہے۔ آیت : قد ضلوا من قبل مجاہد اور حسن نے کہا : اس سے مراد یہود ہیں۔ آیت : واضلوا کثیرا یعنی لوگوں میں سے اکثر کو گمراہ کیا۔ آیت : وضلوا عن سواء السبیل یعنی حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے راستہ سے بھٹک چکے ہیں۔ ضلوا کا تکرار اس معنی پر ہے کہ وہ اس سے پہلے بھی گمراہ ہوئے اور بعد میں بھی گمراہ ہوئے مراد ان کے اسلاف ہیں جنہوں نے گمراہی کا آغاز کیا اور اس پر عمل پیرا ہوئے یعنی یہود ونصاری کے رؤسا۔
Ayah 5:78

لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ Open ayah 5:78 in the Quran reader

جو لوگ بنی اسرائیل میں کافر ہوئے ان پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی۔ یہ اس لئے کہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے

آیت نمبر : 78 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : لعن الذین کفروا۔۔۔ الخ۔ اس میں ایک مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ کافروں پر لعنت کرنا جائز ہے اگرچہ وہ انبیاء کی اولاد سے ہوں، کیونکہ نسب کا شرف ان کے حق میں لعنت کے اطلاق کو مانع نہیں۔ آیت : علی لسان داود و عیسیٰ ابن مریم کا معنی یہ ہے کہ وہ زبور اور انجیل میں لعنت کیے گئے، کیونکہ زبور حضرت داؤد (علیہ السلام) کی زبان تھی اور انجیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان تھی یعنی اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کتابوں میں ان پر لعنت کی۔ ان دونوں کا اشتقاق گزر چکا ہے۔ مجاہد اور قتادہ وغیرہ نے کہا : لعنھم کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں بندروں اور خنازیر میں مسخ کردیا۔ ابو مالک نے کہا : جو حضرت داؤد (علیہ السلام) کی زبان پر لعنت کیے گئے تھے وہ بندروں کی شکل میں مسخ کیے گئے تھے اور جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان پر لعنت کیے گئے تھے وہ خنزیروں کی شکل میں مسخ کیے گئے تھے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : جو حضرت داؤد (علیہ السلام) کی زبان پر لعنت کیے گئے تھے وہ اصھاب سبت تھے اور جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبازن پر لعنت کیے گئے تھے وہ مائدہ کا اس کے نزول کے بعد انکار کرنے والے تھے، اسی طرح نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : ان کے سلف وخلف پر لعنت کی گئی ہے جنہوں نے حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کیا، کیونکہ حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دونوں نے انہیں بتایا تھا کہ یہ حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مبعوث ہونے والے ہیں۔ پس جس نے حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کیا اس پر ان دونوں نے لعنت کی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ذلک بما عصوا، ذلک مبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے یعنی یہ لغت ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ہے، یہ بھی جائز ہے کہ ذالک سے پہلے مبتدا محذوف ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ محل نصب میں ہو یعنی ان کی نافرمانیوں اور زیادتیون کی بنا پر ہم نے ان کے ساتھ ایسا کیا۔
Ayahs 5:79–80

كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 5:79 in the Quran reader

(اور) برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے۔ بلا شبہہ وہ برا کرتے تھے۔

تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 5:80 in the Quran reader

تم ان میں سے بہتوں کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں۔ انہوں نے جو کچھ اپنے واسطے آگے بھیجا ہے برا ہے (وہ یہ) کہ خدا ان سے ناخوش ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں (مبتلا) رہیں گے۔

آیت نمبر : 79 اس میں دو مسئلے ہیں ؛ مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : کانوا لا یتناھون یعنی ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ آیت : لبئس ما کونوا یفعلوان منع کونے کو ترک کرنے کی وجہ سے ان کی مذمت کی گئی ہے، اسی طرح اس کی بھی مذمت ہے جس نے ان جیسا فعل کیا۔ ابو داود نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کیا ہے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے پہلے بنی اسرائیل کی بےدینی کا آغاز اس طرح ہوا کہ ایک شخص پہلی مرتبہ کسی بدکار سے ملتا تو اسے کہتا : اے فلاں ! اللہ سے ڈر اور جو تو کر رہا ہے اسے چھوڑ، کیونکہ یہ تیرے لیے حلالل نہیں، پھر دوسرے دن اسے ملتا تو اسے اس سے منع نہ کرتا وہ اس کے ساتھ کھانے پینے اور بیٹھنے والا ہوتا جب انہوں نے ایسا کیسا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل آپس میں ٹکرا دیئے، پھر یہ آیت پڑھی آیت : لعن الذین کفروا الایہ، پھر فرمایا : ” اللہ کی قسم ! تم نیکی کا حکم دو گے، برائی سے منع کرو گے، ظالم کا ہاتھ پکڑ لو گے اور اسے حق کی طرف لوٹاؤگے اور اسے حق کا جبرا پابند کرو گے ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کو آپس میں ٹکرا دے گا اور پھر تم پر بھی ایسی پھٹکار ہوگی جو پہلے لوگوں پر ڈالی گئی تھی “ (1۔ تفسیر بغوی، جلد 2، صفحہ 65 ) ۔ اس حدیث کو ترمذی نے بھی روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ ابن عطیہ نے کہا (2۔ المحرر الوجیز): اس پر اجماع ہے کہ برائی سے منع کرنا اس کے لیے فرض ہے جو اس کی طاقت رکھتا ہو اور اسے اپنے اوپر اور مسلمانوں پر ضرر کا خوف نہ ہو اگر اسے خوف ہو تو وہ اسے دل سے برا جانے اور اس برائی کرنے والے سے میل جول ترک کر دے۔ ماہرین علم نے کہا : برائی سے منع کرنے والے کے لیے خود معصیت سے سلامت ہونا شرط نہیں بلکہ نافرمان ایک دوسرے کو منع کریں۔ بعض علماء اصول نے کہا : جو شراب پیتے ہیں وہ ایک دوسرے کو منع کریں۔ انہوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے انہوں نے کہا : کیونکہ آیت : کانوا لا یتناھون عن منکرفعلوہ کا قول فعل میں ان کے اشراک کا تقاجا کرتا ہے اور انہیں منع نہ کرنے کے ترک پر ان کی مذمت کی آیت میں دلیل ہے کہ مجرموں کے ساتھ بیٹھنا منع ہے اور ان کو چھوڑنے کا حکم ہے اور یہود پر انکار میں اس قول سے تاکید پیدا کی گئی ہے۔ آیت : تری کثیرا منھم یتولون الذین کفروا۔ ما کانوا میں ما محل نصب میں ہے اور اس کا مابعد اس کی صفت ہے تقدیر عبارت اس طرح ہے لبئس ما کانوا یفعلون یا یہ محل رفع میں ہے یہ بمعنی الذی ہے۔ آیت : 80 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : تری کثیرا منھم یعنی یہود میں سے بعض علماء نے فرمایا : کعب بن اشرف اور ان کے ساتھی۔ یہ مجاہد نے کہا : یعنی منافقین۔ آیت : یتولون الذین کفروا یعنی مشرکین سے دوستی رکھتے ہیں، حالانکہ وہ ان کے دین پر نہیں ہیں۔ آیت : لبسء ماقدمت لھم انفسھم یعنی ان کے نفسوں نے ان کے لیے ان کاموں کو مزین کیا۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے برا ہے وہ جو انہوں نے اپنے نفسوں اور آخرت کے لیے آگے بھیجا۔ آیت : ان سخط اللہ علیہم مبتدا کے اضمار کی بنا پر ان محل رفع میں ہے جیسے تیرا قول ہے : بئس رجلا زید بعض نے فرمایا : ما سے بدل ہے جو بئس کے بعد ہے۔ اس بنا پر ما نکرہ ہوگا اور مرفوع ہوگا۔ یہ بھی جائز ہے کہ ان محل نصب میں ہو اس معنی کی وجہ سے لان سخط اللہ علیہم۔ وفی العذاب ھم خلدون یہ مبتدا خبر ہیں۔
Ayah 5:81

وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:81 in the Quran reader

اور اگر وہ خدا پر اور پیغمبر پر اور جو کتاب ان پر نازل ہوئی تھی اس پر یقین رکھتے تو ان لوگوں کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں اکثر بدکردار ہیں۔

آیت نمبر : 80 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ولو کانوا یومنون باللہ والنبی وما انزل الیہ ما اتخذوھم اولیائ۔ اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ جس نے کافر کو ولی بنایا وہ مومن نہیں جب وہ اس کے اعتقاد پر یقین رکھتا ہے اور اس کے افعال سے خوش ہو۔ آیت : ولکن کثیرا منھم فسقون ( یعنی اپنے نبی پر ایمان لانے سے خارج ہیں، کیونکہ انہوں نے تحریف کی یا حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے سے خارج ہوگئے ہیں، کیونکہ یہ ان کی منافقت ہے۔
Ayah 5:82

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَهُوْدَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۚ وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُهْبَانًا وَّ اَنَّهُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 5:82 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ) تم دیکھو گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی کرنیوالے یہودی اور مشرک ہیں۔ اور دوستی کے لحاظ سے مومنوں سے قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں مشائخ بھی۔ اور وہ تکبّر نہیں کرتے۔

آیت نمبر : 82 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : لتجدن اشد الناس عداوۃ للذینی امنوا الیھود۔ یہ لام، لام قسم ہے اور نون داخل ہوا حال اور مستقبل کے درمیان فرق کرنے کے لیے۔ یہ خلیل اور سیبویہ کے قول کے مطابق ہے۔ عداوۃ پر نصب بیان کے لیے ہے۔ اسی طرح آیت : ولتجدن اقربھم مودۃ للذین امنوا الذین قالوا انا نصری کی آیت ہے۔ یہ آیت نجاشی اور اس کے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی، جب مسلمان پہلی ہجرت میں ان کے پاس آئے، جیسا کہ سیرت ابن اسحاق وغیرہ میں مشہور ہے، مشرکین کے خوف اور فتنہ کی وجہ سے یہ بہت سے افراد ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بعد مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کی تو وہ آپ کے پاس پہنچنے پر قادر نہ ہوئے ان کے درمیان اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان جنگ حائل ہوگئی جب جنگ بدر ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے کفار کے سرداروں کو قتل کیا، تو کفار قریش نے کہا : تمہارا بدلہ حبشہ کی زمین سے لیں گے، پس نجاشی کی طرف انہوں نے تحائف اور دو صاحب عقل لوگ بھیجے شایدوہ تمہیں مسلمان دیدے جو اس کے پاس ہیں پس تم انہیں ان کے بدلے میں قتل کر دیتنا جو تمہارے افراد جنگ بدر میں قتل کیے گئے ہیں کفار قریش نے عمر و بن العاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ کو نجاشی کی طرف ہدایادے کر بھیجے۔ پس نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سنا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے عمرو بن امیہ ضمری کو بھیجا اور اسے نجاشی کی طرف خط کے کر بھیجا۔ عمرو بن امیہ ضمری نجاشی کے پاس آیا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا خط پڑھا پھر نجاشی نے حضرت جعفر بن ابی طالب اور مہاجرین کو بلایا اور راہبوں اور درویشوں کو بلایا پھر انہیں جمع کیا، پھر حضرت جعفر کو کہا کہ ان پر قرآن پڑھو، حضرت جعفر بن ابی طالب نے سورة مریم پڑھی، پس وہ کھڑے ہوئے تو ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، ان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : آیت : ولتجدن اقربھم مودۃ للذین امنوا الذین قالوا انانصری ذلک بان منھم قسیسین ورھبانا وانھم لا یستکبرون واذا سمعوا ما انزل الی الرسول تری اعینھم تفیض من الدمع مما عرفوا من الحق یقولون ربنا امنا فاکتبنا مع الشھدین (1۔ اسباب النزول للواحدی، صفحہ 197) اس کو ابو داود نے روایت کیا ہے فرمایا ہمیں محمد بن سلمہ مرادی نے بیان کیا فرمایا ہمیں ابن وہب نے بیان کیا فرمایا مجھے یونس نے بیان کیا انہوں نے ابن شہاب سے روایت کیا انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمن بن حرث بن ہشام سے روایت کیا۔ اور سعید بن مسیب سے اور عروہ بن زبیر سے مروی ہے کہ پہلی ہجرت مسلمانوں کی حبشہ کی زمین کی طرف تھی۔ طویل حدیث چلائی ہے۔ بیہقی نے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے فرمایا : نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نصاریٰ کے بیس افراد آئے جب کہ آپ مکہ میں تھے یا مکہ کے قریب تھے جب آپ کی خبر حبشہ کے متعلق پھیلی۔ پس ان نصاری نے آپ کو مسجد میں پایا اور انہوں نے آپ سے سوال کیے، قریش کے افراد کعبہ کے اردگرد اپنی مجالس میں تھے جب وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سوالات کرنے سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اللہ کی طرف بلایا اور ان پر قرآن پڑھا جب انہوں نے قرآن سنا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے پھر انہوں نے آپ کی دعوت کو قبول کیا اور آپ پر ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی اور انہوں نے آپ کے متعلق جان لیا جو آپ کے متعلق ان سے بیان کیا گیا تھا جب وہ نصاری آپ کے پاس اٹھ کھڑے ہوئے تو ابو جہل نے ان پر اعتراض کیا اور کہا : اللہ تعالیٰ اس قافلہ والوں کو رسوا کرے، تمہارے دین والوں نے تمہیں بھیجا تھا تاکہ تم اس شخص کی خبر لاؤ تم ان کی مجلس سے نہ اٹھے حتی کی تم اپنے دین کو چھوڑ چکے ہو اور تم نے اس کی تصدیق کی ہے جو اس نے تمہیں کہا ہے ہم نے تم سے زیادہ احمق قافلہ نہیں دیکھا یا اس جیسا کہ اس نے کہا۔ انہوں نے جوابا : کہا تم پر سلام ہو ہم تمہارے ساتھ جہالت امیز گفتگو نہیں کرتے۔ ہمارے اپنے اعمال ہیں اور تمہارے اپنے اعمال ہیں ہم اپنے نفسوں کے بارے میں بھلائی میں کو تائی نہیں کرتے۔ کہا جاتا ہے : یہ گروہ اہل نجران سے تھا اور کہا جاتا ہے : ان کے متعلق یہ آیات نازل ہوئیں آیت : الذین اتینھم الکتب من قبلہ ھم بہ یومنون واذایتلی علیھم قالوا امنا بہ انہ الحق من ربنا انا کنا من قبلہ مسلمین اولئک یوتون اجرھم مرتین بما صبروا ویدروء ون بالحسنۃ السیئۃ ومما رزقنھم ینفقون واذا سمعوا اللغو اعرضوا عنہ وقالوا لنا اعمالنا ولکم اعمالکم سلٰم علیکم لا نبتغی الجھلین (القصص) کہا جاتا ہے کہ حضرت جعفر اور ان کے اصحاب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ستر افراد کے ساتھ آئے جنہوں نے صوف کے کپرے پہنچے ہوئے تھے ان میں باسٹھ افراد حبشہ سے تھے اور آٹھ افراد شام سے تھے اور وہ یہ تھے بحیراء راہب، ادریس، اشرف، ابرہہ، ثمامہ، قثم، درید اور ایمن ان پر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے سورة یاسین پڑھی، جب انہوں نے قرآن سنا تو وہ رونے لگے اور ایمان لے آئے اور کہا : یہ کلام، کتنا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہونے والے کلام کے مشابہ ہے۔ پس ان کے متعلق یہ آیات نازل ہوئیں : آیت : لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین امنوا الیھود والذین اشرکوا ولتجدن اقربھم مودۃ اللذین امنوا الذین قالوا انا نصری۔ یعنی نجاشی کا وفد اور ان کے گرجوں والے۔ سعید بن جبیر نے کہا : ان کے متعلق یہ بھی نازل ہوا۔ آیت : الذین اتینھم الکتب من قبلہ ھم بہ یومنون واذا یتلی علیھم قالوا امنا بہ انہ الحق من ربنا انا کنا من قبلہ مسلمین اولئک یوتون اجرھم مرتین الخ (القصص) (1۔ تفسیر طبری، جلد 8، صفحۃ 600) مقاتل اور کلبی نے کہا : چالیس آدمی اہل نجران سے بنی حرث بن کعب سے تھے اور بتیس آدمی حبشہ سے تھے، اڑسٹھ آدمی اہل شام سے تھے۔ قتادہ نے کہا : یہ اہل کتاب کے کچھ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی یہ اس شریعت پر گامزن تھے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے تھے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث فرمایا تو آپ پر ایمان لائے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : ذلک بان منھم قسیسین ورھبانا، قسیین کا واحد قس اور قسیس ہے یہ قطرب کا قول ہے القسیس کا معنی عالم ہے۔ یہ قس سے ہے جس کا معنی ہے کسی چیز کو طلب کیا اور اس کا پیچھا کیا۔ راجز نے کہا : یصبحن عن قس الاذی غوافلا وتقسست اصواتھم باللیل تسمعتھا القس کا معنی چغلی بھی ہے۔ القص دین اور علم میں نصاری کا ریئس، سردار، اس کی جمع قسوس ہے اسی طرح القسیس، جیسے الشر اور الشریر، القسیسون وہ لوگ جو علماء اور عبادت گزاروں کی پیروی کرتے ہیں، قسیس کی جمع مکسر قساوسہ آتی ہے ایک سین کو واؤ سے بدل دیا گیا۔ قساوسۃ جسے مھالبۃ اصل میں قساسۃ تھا ایک سین کو واؤ سے بدل دیا گیا اور القسیس کا لفظ یا تو عربی ہے یا یہ رومی لغت ہے لیکن عربون نے اسے اپنے کلام کے ساتھ پا لیا پس یہ ان کی لغت سے ہوگیا کیونکہ کتاب اللہ میں کوئی ایسا لفظ نہیں جو عرب کی لغت سے نہ ہو جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ ابوبکر انباری نے کہا : میرے باپ نے ہمیں بتایا انہوں نے کہا ہمیں نصر بن داود نے بتایا انہوں نے کہا ہمیں ابو عبید نے بتایا فرمایا : میں نے معاویہ بن ہشام عن نصیر طائی عن الصلت عن ھامیہ بن رباب کے سلسلہ سے روایت کیا فرمایا : میں نے سلمان سے بان منھم قسیسین ورھبانا کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا : القسیین کو صوامع اور محراب میں چھوڑ دو ۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پڑھایا : آیت : بان منھم قسیسین ورھبانا۔ حضرت عروہ بن زبیر نے کہا : نصاری نے انجیل کو ضائع کردیا اور انہوں نے اس میں ایسی چیز کو داخل کردیا جو ان میں سے نہ تھا وہ چودہ افراد تھے جنہوں نے اس کو تبدیل کردیا، لوق اس، مرقوس، یحنس، مقبوس اور قسیس حق پر باقی رہا اور استقامت پر رہا، پس جو اس کے دین اور ہدایت پر تھا وہ قسیس تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ورھبانا راہب کی جمع ہے جیسے راکب کی جمع رکبان ہے۔ نابغہ نے کہا : لوانھا عرضت لاشبط راھب عبدا الالہ صرورۃ متعبد لرنا لروی تھا وحسن حدیثھا ولخالہ رشدا وان لم یرشد اس سے فعل رھب اللہ یرھبہ ہے یعنی وہ اللہ سے ڈرا۔ رھبا ورھبا ورھبۃ الرھبانیہ والترھب، گرجا میں عبادت کرنا۔ ابو عبید نے کہا : کبھی رہبان واحد کے لیے، کبھی جمع کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ فراء نے کہا : رہبان مفرد کے لیے ہو تو اس کی جمع رھابنۃ ورھابین آتی ہے جیسے قربان وقرابین۔ جریر نے جمع میں استعمال کیا : رھبان مدین لوراؤک تنزلوا والعصم من شعف العقول الفادر الفادر۔۔۔۔ عظیم کو بھی کہا جاتا ہے اسی طرح الفدور جمع فدر اور فدور ہے اسم ظرف المفدرۃ ہے۔ یہ جوہری نے کہا ہے اور التوحید کے بارے میں ایک اور نے کہا : لو ابصرت رھبان دیر فی الجبل لائحدر الرھبان یسعی ویصل یصل، الصلوۃ سے ہے، الرھابۃ، السحابۃ کے وزن پر ہے، سینے کی ہڈی جو زبان کی طرح پیٹ پر ابھری ہوئی ہوتی ہے۔ یہ حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے والوں مدح ہے جو کہ کفر پر اصرار کرنے والے نہ تھے (1۔ تفسیر بغوی) اسی وجہ سے کہا : آیت : وانھم لا یستکبرون وہ حق کی تابعداری سے انکار کرنے والے نہیں۔
Ayah 5:83

وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ١ۚ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:83 in the Quran reader

اور جب اس کتاب کو سنتے ہیں جو (سب سے پچھلے) پیغمبر (محمد ﷺ پر نازل ہوئی تو تم دیکھتے ہو کہ انکی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں اس لئے کہ انہوں نے حق بات پہچان لی۔ اور وہ (خدا کی جناب میں) عرض کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ لے۔

آیت نمبر : 83 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : واذا سمعوا ما انزل الی الرسول تری اعینھم تفیض من الدمع، من الدمع سے مرادبالدمع ہے یعنی انسوؤں کے ساتھ۔ یہ حال واقع ہو رہا ہے اسی طرح یقولون ہے۔ امرؤ القیس نے کہا : ففاجت دموع العین منی صبابۃ علی النحر حتی بل دمعی محملی خبر مستفیض، مشہور خبر کو کہتے ہیں جب وہ پھیل جائے اور مشہور ہوجائے۔ جیسے پانی کی کثرت ہو تو کہتے ہیں : فاض المائ۔ یہ علماء کے احوال ہیں جو روتے ہیں اور چنگھاڑتے نہیں، سوال کرتے ہیں اور چلاتے نہیں، پریشان ہوتے ہیں اور مرنے کا تکلف نہیں کرتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : اللہ نزل احسن الحدیث (الزمر : 23) اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے نہایت عمدہ کلام یعنی وہ کتاب جس کی آیتین ایک جیسی ہیں بار بار دہرائی جاتی ہیں اور کا نپنے لگتے ہیں اس کے (پڑھنے سے بدن ان کے جو ڈرتے ہی اپنے پروردگار سے پھر نرم ہوجاتے ہیں ان کے بدن۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : انما المومنون الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبھم (الانفال : 2) صرف وہی سچے ایماندار ہیں کہ جب ذکر کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا تو کا نپ اٹھتے ہیں ان کے دل۔ مرید اس کا بیان سورة الانفال میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں بیان فرمایا کہ مسلمانوں کے سخت ترین دشمن یہود ہیں اور ان کے مشابہ مشرکین ہیں اور مسلمانوں سے محبت کرنے والے نصاری ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : فاکتبنا مع الشھدین یعنی امت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہمیں لکھ لے جو حق کی گواہی دیتے ہیں۔ آیت : وکذلک جعلنکم امۃ وسطا لتکونوا شھدآء علی الناس (البقرہ : 143) یہ حضرت ابن عباس اور ابن جریج سے مروی ہے۔ حسن نے کہا : جو ایمان کی گواہی دیتے ہیں۔ ابو علی نے کہا : جو تیرے نبی اور تیری کتاب کی تصدیق کے ساتھ گواہی دیتے ہیں۔ فاکتبنا کا معنی اجعلنا ہے پس یہ ما قد کتب ودون کا قائم مقام ہے۔
Ayah 5:84

وَ مَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَا جَآءَنَا مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ نَطْمَعُ اَنْ یُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 5:84 in the Quran reader

اور ہمیں کیا ہوا ہے کہ خدا پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں۔ اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں) داخل کرے گا۔

آیت نمبر : 85 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : وما لنا لا نومن باللہ وما جاء نا من الحق دین میں ان لوگوں کی بصیرت کو بیان فرمایا یعنی وہ کہتے ہیں : کیا وجہ ہے کہ ہم ایمان نہ لائیں ؟ یعنی ہم ایمان کو ترک کریں۔ نومن حال واقع ہو رہا ہے۔ آیت : ونطمع ان یدخلنا ربنا مع القوم الصلحین یعنی حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے ساتھ۔ اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : آیت : ان الارض یرثھاعبادی الصلحون ( الانبیائ) اس سے مراد بھی حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہے، اس کلام میں اضمار ہے یعنی نطمع ان یدخلنا ربنا الجنۃ۔ اور بعض علماء نے فرمایا : مع بمعنی فی ہے جیسا کہ فی بمعنی مع ہوتا ہے تو کہتا ہے : کنت فیمن لقی الامیر یعنی مع من لقی الامیر۔ السمع کبھی مخفف اور کبھی غیر مخفف ہوتا ہے، کہا جاتا ہے : طمع فیہ طمعا وطماعۃ وطماعیۃ فھو طمع یہ مخفف ہے۔
Ayahs 5:85–86

فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:85 in the Quran reader

تو خدا نے ان کو اس کہنے کے عوض (بہشت کے) باغ عطا فرمائے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ اور نیکوکاروں کا یہی صلہ ہے۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 5:86 in the Quran reader

اور جن لوگوں کے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں۔

آیت نمبر : 58۔ 86 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : فاثابھم اللہ بما قالوا جنت یہ ان کے ایمان کے اخلاص اور ان کے کلام کی سچائی کی دلیل ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کے سوال کا جواب دیا اور ان کے طمع (امید) کو ثابت کیا۔ اسی طرح جس نے ایمان کو خاص کیا اور اس کے یقین کو سچا کیا اس کا ثواب جنت ہے پھر فرمایا : آیت : والذین کفروا اس سے مراد یہود، نصاری اور مشرکین ہیں۔ آیت : وکذبوا بایتنا اولئک اصحب الجحیم، الجحیم سے مراد ایسی آگ ہے جس کا جلانا سخت ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے : جحم فلان النار جب اس کا جلانا سخت ہو، شیر کی آنکھ کو حجمہ کہا جاتا ہے، کیونکہ اس کی چمک سخت ہوتی ہے۔ جنگ کو بھی کہا جاتا ہے۔ شاعر نے کہا : والحرب لا یبقی لجا حمھا التخیل والمراح الا الفتی الصبار فی النجدات والفرس الوقاح