Ayah 5:96آیت نمبر 96
اس میں تیرہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) احل لکم صید البحریہ حکم دریائی شکار کو حلال کرنے کا ہے اس سے مراد مچھلیوں کا شکار ہے یہاں بھی الصید بمعنی المصید ہے البحر کی طرف مضاف کیا گیا ہے کیونکہ وہ اس کے سبب سے ہے۔ البحر کے متعلق گفتگوسورئہ بقرہ میں گزرچکی ہے۔ متاعا مصدر کی بنا پر منصوب ہے یعنی متعتم بہ متاعا۔
مسئلہ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وطعامہ کا لفظ مشترک ہے اس کا اطلاق ہر کھانے پر ہوتا ہے اور خاص کھانے پر بھی ہوتا ہے جیسے صرف پانی اور گندم، صرف کھجور، صرف دودھ۔ کبھی اس کا اطلاق نیند پر بھی ہوتا ہے جیسا کہ پہلے گزرچکا ہے یہاں اس مراد وہ ہے جس کو دریا پھینک دے اور وہ اس پر تیرنے لگے۔ دارقطنی نے حضرت ابن عباس ؓ سے (آیت) احل لکم صید البحر وطعامہ متاعا لکم ولسیارۃ الایہ کے تحت روایت کیا ہے کہ صیدہ سے مراد وہ ہے جو شکار کیا گیا اور طعامہ سے مراد وہ ہے جس کو دریا پھینک دے۔ حضرت ابوہریرہ سے اس کی مثل مروی ہے یہ صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ طعام سے مراد اس کا مردہ ہے یہ اسی معنی میں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے فرمایا : طعام سے مراد وہ ہے جو اس کی وجہ سے نمکین کیا گیا ہو (1) (المحرر الوجیز، جلد 2 صفحہ 241) اور باقی ہو، ان کے ساتھ ایک جماعت کا بھی یہی خیال ہے۔ قوم نے کہا : طعام سے مراد وہ نمک ہے جو اس کے پانی اور دوسری نباتات سے حاصل ہوتا ہے۔
مسئلہ نمبر 3۔ امام ابوحنیفہ نے کہا : پانی پر مردہ تیرتی ہوئی مچھلی نہیں کھائی جائے گی اور دوسری مچھلیاں کھائی جائیں گی اور دریائی حیوانات میں صرف مچھلی کھائی جائے گی، یہی ثوری کا قول ہے ابو اسحاق فزاری کی روایت میں جو ان سے مروی ہے۔ حسن نے مردہ تیرنے والی مچھلی کو مکروہ قرار دیا ہے۔ حضرت علی بن ابی طالب سے مروی ہے کہ انہوں نے بھی مکروہ کہا۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ الجری (مچھلی جس کی پیٹھ چوڑی ہوتی ہے اور منہ بھی کھلاہوتا ہے اور اس کی ہڈی نہیں ہوتی) کا کھانا مکروہ کہا ہے ان سے ان تمام کا کھانا بھی مروی ہے اور یہی صحیح ہے۔ عبد الرزاق نے ثوری سے انہوں نے جعفر بن محمد سے انہوں نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ جراد (مکڑی) اور مچھلیاں پاک ہیں۔ حضرت علی سے مردہ تیرنے والی مچھلی کے کھانے میں اختلاف مروی ہے اور حضرت جابر سے اختلاف مروی نہیں انہوں نے اس کو مکروہ کہا ہے۔ یہ قول طائو وس، محمد بن سیرین، جابر بن زید کا ہے انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے عموم کی حجت پکڑی ہے (آیت) حرمت علیکم المیتۃ اور ابو دائود اور دارقطنی کی حدیث سے استدلال کیا یہ جو حضرت جابر بن عبداللہ نے نبی مکرم ﷺ سے روایت کی ہے فرمایا :” جس سے دریا ہٹ جائے اور جس کو دریا باہر پھینک دے اور جس کو تم پانی پر مردہ اور تیرتا ہوا پائو تو اسے نہ کھائو “ (2) (سنن دارقطنی، باب الصید والذبائح جلد 4 صفحہ 267، 268 )
دار قطنی نے کہا : عبدالعزیز بن عبیداللہ عن وہب بن کیسان عن جابر کے سلسلہ میں منفرد ہے اور عبدالعزیز ضعیف ہے اس سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔ سفیان ثوری نے ابو الزبیر عن جابر عن النبی ﷺ کے سلسلہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
دارقطنی نے کہا : ابو احمد زبیری کے علاوہ ثوری سے مسند کسی نے روایت نہیں کی جب کہ وکیع، عدنیان، عبد الرزاق، مؤمل اور ابو عاصم وغیرہم نے اس کی مخالفت کی ہے۔ ان تمام نے ثوری سے موقوف روایت کی ہے۔ ابو دائود نے کہا : یہ حدیث ضعیف طریق سے مسند ذکر کی گئی ہے اور وہ طریق یہ ہے عن ابن ابی ذئب عن ابی الزبیر عن جابر عن ؓ عنہالنبی ﷺ (ا) (سنن ابی دائود، کتاب الاطعمہ، باب فی اکل الفانی من سمک، حدیث نمبر 3319، ضیاء القرآن پبلی کیشنز )
دار قطنی نے کہا : اسماعیل بن امیہ اور ابن ابی ذئب نے ابو الزبیر سے مرفوع روایت کی ہے اور مرفوع صحیح نہیں ہے۔ یحییٰ بن سلیم عن اسماعیل بن امیہ نے اس کو مرفوع ذکر کیا جب کہ دوسرے محدثین نے اس کو موقوف ذکر کیا ہے۔ امام مالک، امام شافعی، ابن ابی لیلی، اوزاعی اور اشجعی کی روایت میں ثوری نے کہا : دریا کی ہر چیز کھائی جائے گی خواہ مچھلی ہو یا دوسرے جانور ہوں، خواہ ان کو شکار کیا گیا ہو یا وہ مردہ پائے گئے ہوں، امام مالک اور ان کے متبعین نے نبی مکرم ﷺ کے اس ارشاد ھوالطہور ماءہ الحل میتۃ (1) (جامع ترمذی، کتاب الطہارت، جلد 1 صفحہ 11) (سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے) اس باب میں اسناد کی جہت سے حضرت جابر کی حدیث صحیح ترین ہے جو اس مچھلی کے بارے میں ہے جس کو عنبر کہا جاتا ہے یہ ثابت ہے اور اسے شیخین نے نقل کیا ہے اس میں ہے جب ہم مدینہ طیبہ آئے تو رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور ہم نے اس مچھلی کا تذکرہ کیا آپ ﷺ نے فرمایا ـ:” یہ وہ رزق تھا جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے نکالا کیا تمہارے پاس اس کے گوشت میں سے کچھ ہے کہ تم ہمیں بھی کھلائو “ (2) (صحیح مسلم، کتاب الصید والزبائح، جلد 2، صفحہ 147 ) ۔ ہم نے اس میں سے گوشت رسول اللہ ﷺ کے بھیجاتو آپ ﷺ نے تناول فرمایا۔ یہ مسلم کے الفاظ کا ترجمہ ہے اور دار قطنی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : میں حضرت ابوبکر پر گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے فرمایا : مردہ پانی کے اوپر تیرنے والی مچھلی اس کے لیے حلال ہے (3) (سنن دارقطنی، کتاب الصید والزبائح، جلد 4، صفحہ 269) جو اس کے کھانے کا ارادہ کرے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے انہوں نے سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : میں حضرت ابوبکر پر گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے پانی کے اوپر مردہ تیرتی ہوئی مچھلی کھائی اور ابو ایوب نے سند أروایت کی ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کے گروہ میں سمندر پر سوار ہوئے تو انہوں نے پانی پر مردہ مچھلی پائی انہوں نے ابو ایوب سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا : کیا یہ پاک ہے یہ متغیر نہیں ہوئی ؟ انہوں نے کہا : ہاں۔ حضرت ابو ایوب نے کہا : تم اسے کھائو اور میرا حصہ رکھ لو وہ روزے سے تھے۔ جبلہ بن عطیہ سے سند أروایت کیا ہے کہ ابو طلحہ کے ساتھیوں نے پانی پر تیرتی ہوئی پائی انہوں نے اس کے متعلق ابو طلحہ سے پوچھاتو انہوں نے کہا : مجھے ہدیہ دے دو ۔
حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا : مچھلی پاک ہے، مکڑی پاک ہے (4) (سنن دارقطنی، کتاب الصید والزبائح، جلد 4، صفحہ 270) دارقطنی نے حضرت عمر سے روایت کیا ہے۔ یہ آثار اس کے قول کو رد کرتے ہیں جو ان کو مکروہ کہتا ہے اور آیت کے عموم کی تخصیص وہ جمہور کی حجت ہے مگر امام مالک نے پانی کے خنزیر کو مکروہ کہا ہے اس کے نام کی وجہ سے لیکن حرام نہیں کیا ہے فرمایا : تم خنزیر کہتے ہو۔ امام شافعی نے فرمایا : پانی کے خنزیر میں کوئی حرج نہیں۔ لیث نے فرمایا : سمندر کے مردہ میں کوئی حرج نہیں، فرمایا : اسی طرح پانی کا کتا اور پانی کے گھوڑے کا حکم ہے، فرمایا : پانی کا انسان اور پانی کا خنزیر نہیں کھایاجائے گا۔
مسئلہ نمبر 4۔ علماء کا اس حیوان میں اختلاف ہے جو خشکی اور پانی دونوں جگہوں پر رہتا ہے کیا اس کا شکار محرم کے لیے حلال ہے یا نہیں ؟ امام مالک، ابو مجلز، عطا، سعید بن جبیر وغیرہم نے فرمایا : ہر وہ جانور جو خشکی میں زندگی گزارتا ہے اور اس کے لیے اس میں زندگی ہے تو وہ خشکی کا شکار ہے اگر محرم نے اسے قتل کیا تو فدیہ دے گا۔ ابو مجلز نے اس میں مینڈک، کچھوے اور کیکڑے کا اضافہ کیا ہے۔ مینڈک اور اس کی اجناس امام ابوحنیفہ کے نزدیک حرام ہیں۔ امام شافعی کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ مینڈک کو کھانا جائز نہیں اور اس کا قول ان چیزوں میں مختلف ہے جو خشکی میں رہتے ہیں اور ان کے مشابہ ہیں جنہیں نہیں کھایا جاتا جیسے خنزیر، کتا وغیرہ اور صحیح ان تمام چیزوں کا کھانا ہے، کیونکہ انہوں نے خنزیر کے کھانے کے جواز پر نص قائم کی ہے اور وہ خشکی میں اس کے مشابہ ہے جس کو نہیں کھایا جاتا۔ اور ان کے نزدیک مگر مچھ، فرش (سمندری جانور ہے) اور دلفین (یہ بھی سمندری جانور ہے) نہیں کھائے جائیں گے اور ہر وہ چیز جس کی کچلیاں (بڑے دانت) ہوں وہ نہیں کھایاجائے گا، کیونکہ نبی مکرم ﷺ نے ہر ذی ناب (کچلیاں) کے کھانے سے منع فرمایا ہے۔
ابن عطیہ نے کہا : ان انواع میں جو پانی سے باہر نہیں نکلتی ہیں وہ یقینا صید البحر (دریائی شکار) سے ہیں اس پر امام مالک نے مینڈک کے بارے میں ” المدونہ “ میں جو فرمایا اس کا جواب مل گیا، کیونکہ انہوں نے فرمایا : مینڈک دریائی شکار میں سے ہے۔ عطا بن ابی رباح سے اس کے خلاف مروی ہے جو ہم نے ذکر کیا ہے وہ حیوان کی اکثر زندگی کا اعتبار کرتے ہیں ان سے ابن الماء کے متعلق پوچھا گیا کیا وہ خشکی کا شکار ہے یا دریائی شکار ہے ؟ انہوں نے کہا : جہاں وہ زیادہ رہتا ہے وہ اس جگہ کا شکار ہے اور جہاں وہ بچے دیتا ہے اس جگہ کا ہے یہ امام ابوحنیفہ کا قول ہے، درست یہ ہے کہ ابن الماء خشکی کا شکار ہے وہ چرتا ہے اور دانے کھاتا ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 243 ) ۔ ابن عربی نے کہا : وہ حیوان جو پانی اور خشکی دونوں جگہ رہتا ہے اس میں صحیح یہ ہے کہ اس کو نہ کھایا جائے، کیونکہ اس میں دلیل تحلیل اور دلیل تحریم متعارض ہیں پس احتیاطا تحریم کی دلیل غالب ہوتی ہے۔ واللہ اعلم
مسئلہ نمبر 5۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وللسیارۃ اس میں دو قول ہیں ایک یہ کہ اس سے مراد مقیم اور مسافر ہیں جیسا کہ ابو عبیدہ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اس مچھلی کو کھایاجب کہ وہ مسافر تھے اور نبی مکرم ﷺ نے بھی کھایاجب کہ آپ مقیم تھے پس اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ وہ مقیم کے لیے حلال ہے جس طرح کہ وہ مسافر کے لیے حلال ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ السیارۃ سے مراد وہ لوگ ہیں جو سمندر پر سوار ہوتے ہیں جیسا کہ امام مالک اور نسائی کی حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص نے نبی مکرم ﷺ سے سوال کیا عرض کی : ہم سمندر پر سوار ہوتے ہیں اور ہمارے پاس پانی کم ہوتا ہے اگر ہم اس پانی کے ساتھ وضو کریں تو ہم پیاسے رہ جائیں کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کرسکتے ہیں ؟ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا :” اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے “ ابن عربی نے کہا : ہمارے علماء نے فرمایا : اگر نبی مکرم ﷺ اسے نعم (ہاں) فرمادیتے تو اس کے ساتھ صرف پیاس کے خوف کے وقت وضو کرنا جائز ہوتا، کیونکہ جواب، سوال پر مرتب ہوتا ہے اور اس پر یہ مشکل ہوتا لیکن نبی مکرم ﷺ نے قاعدہ تاسیس سے آغاز کیا اور شرع نے بیان سے آغاز فرمایا :” اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے “۔
میں کہتا ہوں : جواب ان پر مقصود ہوتا اور دوسروں کی طرف متعدی نہ ہوتا اگر شریعت کا یہ حکم ثابت نہ ہوتا کہ شریعت کا ایک شخص پر حکم، تمام لوگوں پر ہوتا ہے مگر تخصیص کے ساتھ جس پر نص وارد ہوجائے جیسے حضرت ابوہریرہ کو نبی مکرم ﷺ نے فرمایا تھا :” بکری کا بچہ اس کو تو قربانی کر اور تیرے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں “ (2) (صحیح بخاری، کتاب الاضحی، جلد 2، صفحہ 833)
مسئلہ نمبر 6۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) وحرم علیکم صید البحر مادمتم حرما، تحریم عیان کی صفت نہیں بلکہ یہ افعال کے متعلق ہوتی ہے اور حرم علیکم صید البحر کا معنی ہے شکار کا فعل تم پر حرام کیا گیا ہے اور وہ شکار کرنے سے منع کرنا ہے یا الصید بمعنی المصید ہوگا اس بنا پر کہ مفعول کا فعل کے ساتھ نام رکھا گیا جیسا کہ پہلے گزرچکا ہے۔ یہ اظہر ہے، کیونکہ علماء کا اجماع ہے کہ محرم کے لیے اس شکار کا قبول کرنا بھی جائز نہیں جو اس کو ہبہ کیا گیا ہو اور اس کا خریدنا اور اس کا شکار کرنا بھی جائز نہیں اور کسی اعتبار سے اس کی ملکیت کی تجدید جائز نہیں اس میں علماء کا کوئی اختلاف نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت) حرم علیکم صید البحر مادمتم حرماعام ہے اور نیز اس کی دلیل حضرت صعب بن جثامہ کی حدیث ہے۔
مسئلہ نمبر 7۔ علماء کا اختلاف ہے اس بارے میں جو محرم شکار میں سے کھاتا ہے۔ امام مالک، امام شافعی ان کے اصحاب، احمد اور اسحاق سے مروی ہے اور حضرت عثمان بن عفان سے صحیح یہ مروی ہے کہ محرم کے لیے اس شکار کے کھانے میں کوئی حرج نہیں جب کہ وہ اس کے لیے شکار نہ کیا گیا ہو۔ کیونکہ ترمذی، نسائی اور دار قطنی نے حضرت جابر سے روایت کیا ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا :” خشکی کا شکار تمہارے لیے حلال ہے جب کہ وہ تم نے اسے شکار نہ کیا ہو یا تمہارے لیے شکار نہ کیا گیا ہو “ (1) (جامع ترمذی، کتاب الحج، جلد 1 صفحہ 104، سنن ابی دائود، کتاب المناسک، باب لحم الصید للمحرم، حدیث نمبر 1577، ضیاء القرآن پہلی کیشنز ) ۔ ابو عیسیٰ نے کہا : یہ باب میں احسن حدیث ہے۔
نسائی نے کہا : عمرو بن ابی عمرو، اس حدیث میں قوی نہیں اگرچہ امام مالک نے ان سے روایت کی ہے اگر محرم اس شکار سے کھائے جو اس کے لیے شکار کیا گیا ہے تو وہ دیت دے۔ حسن بن صالح اور اوزاعی کا بھی یہی قول ہے امام مالک کا قول اس شکار کے بارے میں مختلف ہے جو بعینہ محرم کے لیے شکار کیا گیا ہے۔ امام مالک کے نزدیک مشہور مذہب یہ ہے کہ محرم اس شکار سے نہ کھائے جو معین محرم یا غیر معین محرم کے لیے شکار کیا گیا ہو اور حضرت عثمان نے جو اپنے ساتھیوں کا کہا : اس کو نہیں لیا، جب شکار کا گوشت پیش کیا گیا جب کہ وہ محرم تھے (آپ نے فرمایا تھا) کھائو تم میری مثل نہیں، کیونکہ میری وجہ سے یہ شکار کیا گیا ہے۔ اہل مدینہ کے ایک گروہ نے یہی کہا ہے، امام مالک سے یہ بھی مروی ہے۔ امام ابوحنیفہ اور اس کے اصحاب نے کہا : محرم کے لیے شکار کا کھانا ہر حال میں کھانا جائز ہے جب کہ اسے غیر محرم نے شکار کیا ہو، خواہ وہ اس کے لیے شکار کیا گیا ہو یا شکار نہ کیا گیا ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ظاہر ارشاد ہے : لاتقتلو الصید وانتم حرم تم شکار نہ کرو جب کہ تم محرم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا شکار حرام کیا ہے اور اسے قتل کرنا محرموں پر حرام کیا ہے نہ کہ وہ حرام کیا ہے جو کسی غیر نے شکار کیا ہے۔ اور بہزی کی حدیث سے حجت پکڑی ہے بہزی کا نام زید بن کعب ہے۔ انہوں نے نبی مکرم ﷺ سے اس وحشی گدھے کے بارے میں روایت کیا ہے جو زخمی تھا آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر کو حکم دیا کہ اپنے ساتھیوں میں تقسیم کردو۔ یہ امام مالک وغیرہ کی حدیث میں ہے۔ نیز ابو قتادہ کی حدیث سے جو نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے اس سے حجت پکڑی ہے جس میں ہے کہ جس میں ہے کہ انما ھی طعمۃ اطعمکموھا اللہ (2) (صحیح مسلم، کتاب الحج، جلد 1، صفحہ 380) یہ وہ کھانا ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں کھلایا ہے۔ یہ حضرت عمر بن خطاب کی ایک روایت میں حضرت عثمان بن عفان کا قول ہے حضرت ابوہریرہ ، حضرت زبیر بن العوام، مجاہد، عطا اور سعید بن جبیر کا قول ہے۔ حضرت علی بن ابی طالب، حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ محرم کے لیے کسی حال میں شکار کا کھاناجائز نہیں ہے خواہ وہ اس کے لیے شکار کیا گیا ہو یا شکار نہ کیا گیا ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قول عام ہے : (آیت) حرم علیکم صید البحر مادمتم حرما۔
حضرت ابن عباس ؓ عنہنے فرمایا : یہ مبہم ہے، طائو وس، جابر بن زید، ابو الشعشاء نے بھی یہی فرمایا ہے، ثوری سے بھی یہی مروی ہے اور اسحاق نے بھی یہی کہا ہے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ لیثی کی حدیث سے حجت پکڑی ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو وحشی گدھا ہدیہ پیش کیا جب کہ ابواء میں تھے یا ودان میں تھے وہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں واپس کردیا۔ فرمایا : جب رسول اللہ ﷺ نے میرے چہرے پر پریشانی دیکھی تو فرمایا :” ہم تجھے واپس نہ کرتے مگر ہم احرام باندھے ہوئے ہیں “ (1) (صحیح مسلم، کتاب الحج، جلد 1، صفحہ 379) ۔ اس حدیث کو ائمہ نے ذکر کیا ہے اور یہ لفظ امام مالک کا ہے۔ ابو عمر نے کہا : سعید بن جبیر، مقسم، عطا اور طائو وس کی حدیث سے حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت صعب بن جثامہ نے رسول اللہ ﷺ کو وحشی گدھے کا گوشت پیش کیا۔ سعید بن جبیر نے اپنی حدیث میں کہا : وحشی گدھے کا پچھلاحصہ پیش کیا آپ ﷺ نے اسے واپس کردیا اس کا خون گر رہا تھا گویا وہ اس وقت میں شکار کیا گیا تھا۔ مقسم نے اپنی حدیث میں کہا : وحشی گدھے کی ٹانگ پیش کی۔ عطا نے اپنی حدیث میں کہا : شکار کا بازو پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اسے قبول نہ کیا اور فرمایا : ہم محرم ہیں۔ طائو وس نے اپنی حدیث میں کہا : عضدامن لحم صید شکار کے گوشت میں سے بازو پیش کیا۔ اسماعیل نے علی بن مدینی سے انہوں نے یحییٰ بن سعید سے انہوں نے ابن جریح سے انہوں نے حسن بن مسلم سے انہوں نے طائو وس سے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ” مگر ان میں سے بعض “۔ حضرت ابن عباس ؓ سے انہوں نے زید بن ارقم سے روایت کیا ہے اسماعیل نے کہا : میں نے سلیمان بن حرب کو اس حدیث کی یہ تاویل کرتے سنا کہ وہ نبی مکرم ﷺ کے لیے شکار کیا گیا تھا حدیث میں ان کا یہ قول ہے کہ آپ ﷺ نے اسے وہ واپس کردیا جب کہ اس کے خون کے قطرے گر رہے تھے گویا وہ اس وقت شکار کیا گیا تھا۔ اسماعیل نے کہا : سلیمان نے اس حدیث کی تاویل کی، کیونکہ وہ تاویل کا محتاج تھا۔
رہی امام مالک کی روایت تو وہ تاویل کی محتاج نہیں، کیونکہ محرم کے لیے شکار کو زندہ پکڑنا جائز نہیں اور نہ اس کاذبح کرنا جائز ہے۔ اسماعیل نے کہا : سلیمان بن حرب کی تاویل پر تمام احادیث مرفوعہ اس میں غیر مختلف ہوں گی انشاء اللہ تعالی۔
مسئلہ نمبر 8۔ جب کوئی شخص احرام باندھے اور اس کے ہاتھ میں یا اس کے گھر میں اس کے گھر والوں کے پاس شکارہو تو امام مالک نے کہا : اگر وہ اس کے ہاتھ میں ہو تو اس پر اس کا چھوڑنا واجب ہے اور اگر اس کے گھر والوں کے پاس ہو تو اس کا اس پر چھوڑنا واجب نہیں۔ یہ امام ابو حنیفہ، امام احمد بن حنبل کا قول ہے اور ایک قول میں امام شافعی نے کہا : خواہ وہ اس کے ہاتھ میں ہو یا گھر میں ہو اس پر اس کا چھوڑنا واجب نہیں۔ یہی ابو ثور کا قول ہے۔ مجاہد، عبداللہ بن حرث سے اس کی مثل مروی ہے۔ اور امام مالک سے مروی ہے اور ابن ابی لیلی، ثوری، امام شافعی نے دوسرے قول میں کہا : اس پر اس کا چھوڑنا واجب ہے خواہ وہ اس کے گھر میں ہو یا اس کے ہاتھ میں ہو اگر اس نے اسے نہ چھوڑا تو ضامن ہوگا اس کے چھوڑنے والے قول کی وجہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) حرم علیکم صید البرمادمتم حرمایہ ملک اور تصرف میں عام ہے اور اس کو پکڑے رکھنے والے قول کی وجہ یہ ہے کہ جو چیز احرام کی ابتدا میں مانع نہیں وہ اس کی ہمیشہ ملک میں رکھنے کے مناسب نہیں، اس کی اصل نکاح ہے۔ مسئلہ نمبر 9۔ اگر غیر محرم، مقام حل میں شکار کرے پھر اسے حرم میں لے آئے تو اس میں اس کے لیے ہر قسم کا تصرف جائز ہے۔ (یعنی) ذبح کرنا اس کا گوشت کھانا۔ امام ابوحنیفہ نے کہا : جائز نہیں۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ یہی معنی شکار میں پایا جاتا ہے پس حرم میں حلالی کے لیے جائز ہوگا جیسے روکنا اور شرا ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں (1) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 689) ۔
مسئلہ نمبر 10۔ جب محرم، حلالی کے شکار پر راہنمائی کرے پھر حلالی اسے قتل کردے تو اس میں اختلاف ہے۔ امام مالک، امام شافعی اور ابو ثور نے کہا : اس پر کوئی شی نہیں ہے، یہی ابن الماجثون کا قول ہے۔ کو فیوں، احمد، اسحاق اور صحابہ وتابعین کی ایک جماعت نے کہا : اس پر جزا ہے کیونکہ محرم نے اپنے احرام کے ساتھ ترک تعرض کا التزام کیا تھا پس وہ دلالت کی وجہ سے ضامن ہوگا جیسے وہ شخص جس کے پاس ودیعت رکھی گئی ہو جب وہ چور کی چوری کرنے پر راہنمائی کرے۔
مسئلہ نمبر 11۔ اس محرم کے بارے میں اختلاف ہے جب وہ کسی دوسرے محرم کی شکار کی طرف راہنمائی کرے۔ کو فیوں اور اشہب مالکی کا خیال ہے کہ ان میں سے ہر ایک پر جزا ہے۔ امام مالک، امام شافعی اور ابو ثور نے کہا : جزا قاتل محرم پر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ومن قتلہ منکم متعمدا فجزاء کے وجوب کا تعلق قتل کے ساتھ ہے یہ کسی دوسرے کے انتفاء کی دلیل ہے، کیونکہ وہ دلالت کرنے والا ہے، پس اس کی دلالت کی وجہ سے چٹی لازم نہیں ہوگی جیسے کوئی غیر محرم حرم میں، حرم کے شکار پر دلالت کردے۔ کو فیوں اور اشہب نے نبی مکرم ﷺ کے قول سے استدلال کیا ہے جو ابو قتادہ کی حدیث میں ہے ھل اشرتم واعنتم (2) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 690) کیا تم نے اشارہ کیا یا مدد کی ہے ؟ یہ جزا کے وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ پہلا قول اصح ہے۔ واللہ اعلم
مسئلہ نمبر 12۔ جب کوئی درخت مقام حل میں اگا ہو اہو اور اس کی شاخیں حرم میں ہوں پھر شکار اس حصہ سے پکڑا تو اس میں جزا ہے، کیونکہ اس نے وہ حرم سے پکڑا ہے۔ اگر اس کی اصل حرم میں ہو اور اس کی فرع حل میں ہو اس سے پکڑے گئے شکار کے بارے میں ہمارے علماء کا اختلاف ہے۔ جزا اصل کے اعتبار سے ہے اور فرع کی طرف دیکھنے کے اعتبار سے اس کی نفی ہے۔
مسئلہ نمبر 13۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واتقوا اللہ الذی الیہ تحشرون یہ اس تحلیل وتحریم کے بعد تنبیہ اور تشبیہ ہے پھر تحذیر میں مبالغہ کے لیے قیامت اور حشر کے امر کو ذکر کیا ہے۔ واللہ اعلم
Ayah 5:97آیت نمبر 97
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) جعل اللہ الکعبۃ یہاں جعل بمعنی خلق ہے۔ یہ پہلے گزرچکا ہے کعبۃ کو کعبۃ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ چکور ہے اور عرب کے اکثر گھر گول اور چکور ہیں۔ بعض نے فرمایا : کعبۃ کو یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ ظاہر اور مشہور ہے پس ہر اٹھی ہوئی چیز بارز (ظاہر) اور کعب کہلاتی ہے خواہ وہ گول ہو یاگول نہ ہو اسی سے کعب القدم اور کعوب القناۃ پائوں کا ٹخنہ اور قناہ کا قلعہ۔ کعب ثدالمراۃ جب عورت کے سینہ پر پستان ظاہر ہوں۔ اور اس کو البیت اس لیے کہا جاتا ہے، کیونکہ چھت اور دیواروں والا ہے یہ البیتیۃ کی حقیقت ہے اگرچہ اس میں کوئی ساکن نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو الحرام کہا، کیونکہ اس نے اسے حرمت والا بنایا ہے۔ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا :” مکہ کو اللہ نے حرم بنایا ہے اور لوگوں نے اس کو حرم نہیں بنایا ہے “ (1) (جامع ترمذی، کتاب الحج، جلد 1 صفحہ 100) ۔ اس کا اکثر تفصیل سے گزرچکا ہے۔ الحمد للہ
مسئلہ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) قیما للناس یعنی لوگوں کی صلاح اور معاشی کا باعث ہے، کیونکہ لوگوں کو اس کے ذریعے امن ملا ہے اس بنا پر یاقیاما معنی یقومون ہے۔ بعض نے فرمایا : قیما، یقومون بشرائعھا۔ ابن عامر عاصم نے قیما پڑھا ہے یہ دونوں وائو کے ساتھ تھا وائو ماقبل کسرہ کی وجہ سے یا سے بدل گئی ہے۔ بعض نے کہا : قوام۔ علماء نے فرمایا : ان اشیاء کے لوگوں کے لیے قیام بنانے میں حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا تو اس کی جبلت میں حسد، مقابلہ، قطع تعلقی ایک دوسرے سے اعراض، لوٹنا، غارت گری، قتل کرنا اور انتقام لینے جیسی صفات بھی پید افرمائیں پس حکمت الہیہ اور مشیت اولیت میں ضروری تھا کہ کوئی انہیں روکنے والا ہو جس کے ساتھ حالات درست رہیں اور کوئی روکنے والا ہو جس کے ساتھ انجام عمدہ ہو۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) انی جاعل فی الارض خلیفۃ (بقرہ : 30) اللہ تعالیٰ نے انہیں خلافت کا حکم دیا اور ان کے امور کو متحد کیا جو اتحاد انہیں تنازع سے روکے اور وہ انہیں باہمی الفت پر ابھارے اور قطع تعلقی سے روکے، ظالم کو مظلوم سے روکے اور ہر ہاتھ کو اس پر ثابت کرے جس پر وہ غالب ہے۔ ابن القاسم نے روایت کیا ہے فرمایا : ہمیں مالک نے بتایا کہ حضرت عثمان بن عفان ؓ فرماتے تھے : امام اس سے زیادہ روکتا ہے جتنا کہ قرآن روکتا ہے۔ یہ قول ابو عمر ؓ عنہؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓرحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا ہے اور سلطان کا ایک سال کا ظلم لوگوں کے لیے ایک لمحہ خلفشار سے کم نقصان دہ ہے پس اللہ تعالیٰ نے اس فائدہ کے لیے خلیفہ بنایاتا کہ امور اس کی رائے پر جاری ہوں اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے امور کے حد سے تجاوز کرنے سے روکتا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو دلوں میں بیت الحرام کی عظمت پیدا فرمائی اور ان کے نفوس میں ہیبت ڈالی۔ اور ان کے درمیان اس کی حرمت کو عظیم کیا پس اس کی طرف پناہ لینے والامحفوظ ہوگا اور جو مجبور کیا جائے گا وہ اس میں محفوظ ہوگا اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) اولم یرو انا جعلنا حرما امنا ویتخطف الناس من حولھم (العنکبوت : 67) کیا انہوں نے (غور سے) نہیں دیکھا کہ ہم نے بنادیا ہے حرم کو امن والا، حالانکہ اچک لیا جاتا ہے لوگوں کو ان کے پاس سے۔
علماء نے فرمایا : جب یہ جگہ مخصوص ہے تو ہر مظلوم یہاں نہیں پکڑا جائے گا اور ہر ڈرنے والایہاں سے نہیں اٹھایاجائے گا اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینوں کو ایک دوسری پناہ گاہ بنایا۔
مسئلہ نمبر 3۔ یہ اسم جنس ہے اور مراد بالاجماع تین مہینے ہیں (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 243 ) ۔ اللہ تعالیٰ نے عربوں کے دلوں میں ان کی حرمت ثابت فرمائی تھی وہ ان مہینوں میں کسی نفس کو خوفزدہ نہیں کرتے تھے اور نہ ان میں خون کا مطالبہ کرتے تھے اور نہ ان میں بدلہ لیتے تھے حتی کہ ایک شخص اپنے باپ کے قاتل یا بیٹے کے قاتل سے ملتا تو اسے بھی اذیت نہ پہنچاتا تھا انہوں نے ان میں زمانہ کا تہائی حصہ قطع کیا اور ان میں سے تین مہینے متواتر بنائے جن میں وہ آرام و سکون سے رہتے تھے اور امن و سکون سے زمین میں سفر کرتے تھے اور انہوں نے ایک مہینہ نصف سال میں بنایا تھا وہ بھی محترم تھا اور وہ رجب کا مہینہ ہے اس کو رجب مضر کہا جاتا تھا اور اس کو رجب الاصم بھی کہا جاتا تھا، کیونکہ اس میں لوہے کی آواز نہیں سنی جاتی تھی اس کو منصل الاسنۃ بھی کہا جاتا تھا، کیونکہ عرب اس مہینہ میں اپنے نیزوں سے لوہا اتار لیتے تھے یہ قریش کا مہینہ ہے۔ اور عوف بن احوص نے اسی نام سے تعبیر کیا ہے : شھر بنی امیۃ والھدایا اذا سیقت مضرجھا الدمائ نبی مکرم ﷺ نے اس کو شہر اللہ کہا یعنی شہر آل اللہ اور اہل حرم کو آل اللہ کہا جاتا ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ شہر اللہ مراد لیاہوکیون کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر سختی فرمائی، کیونکہ بہت سے عرب اس کو حرمت والا مہینہ خیال نہ کرتے تھے (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 244 ) ۔ انشاء اللہ مہینوں کے اسماء سورة براءۃ میں آئیں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں الہام کیا اور رسل کرام کی زبانوں پر ہدی اور قلائد کو جاری فرمایا۔
مسئلہ نمبر 4۔ جب وہ اونٹ لیتے تھے تو اس کا خون نکالتے تھے یا اس کو جوتوں کا ہار پہنا دیتے تھے یا ایک شخص خود وہ ہار پہن لیتا تھا جیسا کہ سورت کی ابتدا میں گزرا ہے، کوئی اسے پریشان نہیں کرتا تھا جب وہ اس سے ملتا تھا اس کے اور اس کے طلب یا ظلم کے درمیان یہ حد اور فیصل ہوتا تھا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کا نظام بھیجا اور حضرت محمد ﷺ کے ذریعے حق کو بیان فرمایا اور اپنے دین کو ایک نظم میں پرویا اور حق اپنے نصاب کی طرف لوٹا اور امامت اس کی طرف منسوب کی گئی اور اس کا وجوب مخلوق پر رکھا اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) : وعداللہ الذین امنوا منکم وعملوا الصلحت لیستخلفنھم فی الارض (النور : 55) وعدہ فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے تم میں سے اور نیک عمل کیے کہ ضرور خلیفہ بنائے گا انہیں۔
سورئہ بقرہ میں امامت کے احکام گزرچکے ہیں ان کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔
مسئلہ نمبر 5۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ذلک لتعلموا، ذلک کا اشارہ اس طرف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان امور کو باعث بقا بنایا ہے معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اس لیے کیا تاکہ تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے امور کی تفاصیل جانتا ہے اور اے لوگو ! اللہ تعالیٰ تمہاری پہلی اور بعد والی مصلحتوں کو جانتا ہے پس اپنے کفر کی حالت پر اس کے لطف کو دیکھو (3) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 244 ) ۔
Ayahs 5:98–99آیت نمبر 98 تا 99
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ما علی الرسول الا البلغ ہدایت دینا، توفیق بخشنا اور ثواب دینا اس کے ذمہ نہیں اس پر تو صرف پیغام پہنچانا ہے اس میں قدریہ کا رد ہے جیسا کہ گزرچکا ہے۔ البلاغ کی اصل البلوغ ہے جس کا معنی پہنچنا ہے۔ بلغ یبلغ بلوغا ابلغہ ابلاغا وتبلغ تبلغا۔ بالغہ مبالغۃ بلغہ تبلیغا اور اسی سے البلاغۃ ہے کیونکہ اس کا معنی ہے لفظ کی خوبصورتی میں نفس تک معنی کو پہنچانا۔ تبالغ الرجل جب کوئی بلاغت کو استعمال کرے اور وہ بلیغ نہ ہو اس میں بلاغ ہے جس کا معنی کفایہ ہے، کیونکہ وہ حاجت کی مقدار کو پہنچاتا ہے (آیت) واللہ یعلم ماتبدون یعنی اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو کہا جاتا ہے : بدا السر راز ظاہر ہوا ابداہ صاحبہ یبدیہ اس نے اسے ظاہر کیا۔ (آیت) وما تکتمون یعنی کفر اور نفاق میں سے جو تم اپنے دلوں میں چھپاتے ہو۔
Ayah 5:100آیت نمبر 100
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) قل لایستوی الخبیث والطیب اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ حسن نے کہا : الخبیث اور الطیب سے مراد حلال اور حرام ہے۔ سدی نے کہا : مومن و کافر ہیں۔ بعض نے کہا : مطیع اور عاصی ہیں۔ بعض نے کہا : ردی اور جید ہے۔ یہ بطور مثال ہے صحیح یہ ہے کہ لفظ ان تمام امور کو شامل ہے مکاسب، اعمال، لوگ، علوم ومعارف وغیرہ سب متصور ہوسکتے ہیں اس میں سے خبیث فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس کا انجام اچھا ہوتا ہے اگرچہ زیادہ بھی ہو اور پاکیزہ تھوڑا بھی نفع بخش ہوتا ہے اور انجام کے اعتبار سے عمدہ ہوتا ہے۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 244 ) ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) والبلد الطیب یخرج نباتہ باذن ربہ والذی خبث لایخرج الا نکدا (الاعراف : 58) اور جو سرزمین عمدہ زرخیز ہے (کثرت سے) نکلتی ہے اس کی پیداوار اپنے رب کے حکم سے اور جو خراب ہے نہیں نکلتی اس سے (پیداوار) مگر قلیل گھٹیا۔
اس آیت کی مثال یہ ارشاد بھی ہے : (آیت) ام نجعل الذین امنوا وعملوا الصلحت کالمفسدین فی الارض ام نجعل المتقین کالفجار (ص) کیا ہم بنادیں گے انہیں جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان لوگوں کی مانند جو فسادبرپا کرتے ہیں زمین میں یا ہم بنادیں گے پرہیزگاروں کو فجار کی طرح۔
اور اللہ تعالیٰ ارشاد ہے : (آیت) ام حسب الذین اجترحوا السیات ان نجعلھم کا الذین امنو اوعملوا الصلحت (الجاثیہ : 21) کیا خیال کر رکھا ہے ان لوگوں نے جو ارتکاب کرتے ہیں برائیوں کا کہ ہم بنادیں گے انہیں ان لوگوں کی مانند جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔
خبیث، طیب کے مساوی نہیں ہوتا نہ مقدار میں، نہ خرچ کرنے میں، نہ مکان میں، نہ ذہاب میں۔ پاکیزہ دائیں جہت سے لیتا ہے خبیث بائیں جہت سے لیتا ہے، پاکیزہ جنت میں ہے، خبیث دوزخ میں ہے۔ یہ بالکل واضح ہے اور برابری کی حقیقت ایک جہت میں ہمیشہ رہنا ہے اس کی مثل استقامت (سیدھا ہونا) ہے اور اس کی ضد اعوجاج (ٹیڑھا ہونا) ہے جب معاملہ اس طرح ہے تو یہ مسئلہ بنتا ہے۔
مسئلہ نمبر 2۔ بعض علماء نے فرمایا : بیع فاسد فسخ کی جائے گی اور بازار کے حوالہ سے قائم نہیں رکھی جائے گی اور نہ بدن کے تغیر سے قائم رکھی جائے گی، کیونکہ اس کے قائم رکھنے میں بیع صحیح کے ساتھ برابر ہوجائے گی، بلکہ اسے ہمیشہ فسخ کیا جائے گا اور مشتری کو ثمن واپس کی جائے گی اگر وہ قابض ہوچکا ہو اگر اس (بائع) کے ہاتھ میں تلف ہوگئی تو وہ اس کا ضامن ہوگا، کیونکہ وہ امانت پر قابض نہیں ہوا تھا بلکہ شبہ عقد کی وجہ سے قابض ہوا تھا۔
بعض علماء نے فرمایا : بیع کو فسخ نہیں کیا جائے گا، کیونکہ بیع جب فسخ کی جائے گی اور اس کے فوت ہونے کے بعد رد کی جائے گی تو بائع پر اس میں ضرر اور غبن ہوگا اور وہ سامان جو سوروپے کے برابر تھا وہ جب بائع کا لوٹائی جائے گی تو وہ بیس روپے کے برابر ہوگا اور مال میں عقوبت نہیں ہے۔ پہلاقول اصح ہے، کیونکہ آیت عام ہے اور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا :” جس نے ایسا عمل کیا جس پر ہمارا امر نہیں ہے وہ رد ہے “ (1) (صحیح بخاری، کتاب البیوع، جلد 1 صفحہ 287)
میں کہتا ہوں : جب مسائل فقہ میں عدم استواء میں اس معنی کو تلاش کیا جائے گا تو وہ کثرت سے ملیں گے اس میں سے غاصب کا مسئلہ بھی ہے۔
مسئلہ نمبر 3۔ جس نے مغصوبہ جگہ پر مکان بنایا، درخت لگایا تو اس عمارت اور درخت کو کاٹنا لازم ہے، کیونکہ وہ خبیث ہے اور اسے لوٹایاجائے گا، جب کہ امام ابوحنیفہ کا قول ہے : اس کو نہیں اکھیڑا جائے گا اور اس زمین کے مالک سے قیمت لے لے گا اس کو رسول اللہ ﷺ کا قول لیس لعرق ظالم حق (2) (صحیح بخاری، کتاب الحرث والمزارعۃ، جلد 1، صفحہ 314) ظالم کے لیے کوئی حق نہیں ہے۔ رد کرتا ہے۔
ہشام نے کہا : العرق الظالم سے مراد وہ ہے جو دوسرے کی زمین میں درخت لگاتا ہے تاکہ اس کا مستحق ہوجائے۔ امام مالک نے کہا العرق الظالم سے مراد وہ شخص ہے جو بغیر حق کے کوئی چیز لیتا ہے یا کنواں کھودتا ہے یا درخت لگاتا ہے۔ امام مالک نے فرمایا : جو زمین غصب کرے پھر اسے کاشت کرے یا کرائے یا گھر غصب کرے اس میں رہائش رکھے یا اسے کرائے پر دے پھر اس کا مالک اس کا مستحق ہوجائے تو رہائش رکھنے کا کرایہ غاصب پر ہوگا اور غاصب نے دوسرے سے جو کرایہ لیا تھا وہ بھی واپس کرنا ہوگا اور جب کوئی شخص اس گھر میں نہ رہے یا زمین کو کاشت نہ کرے اور اسے معطل کردے تو امام ملک کا مشہور مذہب یہ ہے کہ اس پر کچھ نہیں ہے اور ان سے یہ بھی مروی ہے کہ اس پر کرایہ ہے۔ وقار نے اس کو اختیار کیا ہے، یہی امام شافعی کا مذہب ہے، کیونکہ نبی مکرم ﷺ کا ارشاد ہے :” ظالم کے لیے کوئی حق نہیں ہے “۔
ابو دائود نے ابو زبیر سے روایت کیا ہے کہ دوآدمی جھگڑا لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے ایک نے دوسرے کی زمین میں کھجور کے درخت لگائے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ زمین والے کے حق میں کیا اور کھجوروں والے کو کہا کہ وہ اپنی کھجوریں نکال لے فرمایا : میں نے دیکھا کہ ان کھجوروں کی جڑوں کو کلہاڑی کے ساتھ مارا گیا حتی کہ وہ نکالیں گئیں جب کہ وہ مکمل کھجوریں تھیں۔ یہ نص ہے۔ ابن حبیب نے کہا : اس میں حکم یہ ہے کہ زمین والے کا ظالم پر اختیار ہے اگر چاہے تو اکھیڑ ہوئے درختوں کی قیمت دے کر انہیں روک لے اگر چاہے تو انہیں اکھیڑدے اور اکھیڑنے کی اجرت غاصب پر ہوگی۔
دار قطنی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جس نے کسی قوم کے گھروں میں ان کی اجازت سے گھربنایاتو اسے گھر کی قیمت دی جائے گی اور جس نے ان کی اجازت کے بغیر گھر بنایاتو اس کے لیے گھر توڑنا ہوگا “ (1) (دارقطنی، باب المراۃ تقتل اذا ارتدت، جلد 4، صفحہ 243 ) ۔ ہمارے علماء نے فرمایا : اس کے لیے قیمت ہوگی، کیونکہ اس نے ایسی جگہ پر مکان بنایا جس کی منفعت کا وہ مالک تھا یہ اس طرح ہے کہ جس نے کسی شبہ کی وجہ سے مکان بنایا یا درخت لگائے تو اس کے لیے حق ہے اگر مال کا ملک چاہے تو اسے اس کی قیمت دے دے جس حالت پر وہ قائم ہے اگر وہ انکار کرے تو جس نے عمارت بنائی یا درخت لگائے اسے کہا جائے گا : اسے خالی زمین کی قیمت دے دے۔ اور اگر وہ انکار کرے تو دونوں شریک ہوں گے۔ ابن الماجثون نے کہا : اس کے اشتراک کی تفسیر یہ ہے کہ خالی زمین کی قیمت لگائی جائے گی پھر اس عمارت کی قیمت لگائی جائے گی عمارت کے ساتھ والی قیمت خالی زمین کی قیمت سے بڑھ جائے گی تو کام کرنے والا اس زمین کے مالک کے ساتھ شریک ہوگا اگر وہ پسند کریں تو تقسم کرلیں یاوی سے روکے رکھیں۔ ابن الجہم نے کہا : جب زمین کا مالک عمارت کی قیمت دے گا اور اپنی زمین لے گا تو اس کے لیے گزشتہ سالوں کا کرایہ ہوگا۔ ابن القاسم وغیرہ سے مروی ہے جب کوئی شخص کسی کی زمین میں اس کی اجازت سے مکان بنائے تو پھر اس کے لیے اس کا نکالنا واجب ہوجائے تو وہ اسے اپنی کھڑی ہوئی عمارت کی قیمت دے گا۔ پہلا قول اصح ہے، کیونکہ نبی مکرم ﷺ کا ارشاد ہے ” اس کے لیے قیمت ہے “ اور اس پر اکثر فقہاء کا مذہب ہے۔
مسئلہ نمبر 4۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ولواعجبک کثرۃ الخبیث بعض علماء نے فرمایا : یہ خطاب نبی مکرم ﷺ کو ہے اور مراد امت ہے کیونکہ نبی مکرم ﷺ خبیث پر تعجب نہیں کرتے بعض نے فرمایا مراد نبی مکرم ﷺ کی ذات ہے اور آپ کا اعجاب یہ ہے کہ آپ نے جو کفار کی کثرت اور مال حرام کی کثرت کا اور مومنین کی قلت اور حلال مال کی قلت کا مشاہدہ کیا تو تعجب کیا۔
(آیت) فاتقوا اللہ یاولی الالباب لعلکم تفلحون اس کا معنی پہلے گزرچکا ہے۔
Ayahs 5:101–102آیت نمبر ا 0 ا تا 102
ان آیات میں دس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ بخاری اور مسلم وغیرہما نے روایت کیا ہے۔ یہ بخاری کے الفاظ کا ترجمہ ہے۔ حضرت انس سے مروی ہے ایک شخص نے پوچھا : اے اللہ کے نبی ! میرا باپ کون ہے ؟ فرمایا :” تیرا باپ فلاں ہے (1) (صحیح بخاری، کتاب التفسیر، جلد 2، صفحہ 665) تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت) یایھا الذین امنوا لاتسئلو عن اشیاء ان تبد لکم تسوء کم۔
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا :” اللہ کی قسم ! تم مجھ سے کسی چیز کے بارے میں نہیں پوچھو گے مگر میں تمہیں اس کے متعلق بتائوں گا جب تک کہ میں اس جگہ میں ہوں (2) (صحیح مسلم، جلد 2، صفحہ 263 ) “ ایک شخص اٹھا اور پوچھا : یارسول اللہ ! میں کہاں داخل ہوں گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :” آگ میں “ حضرت عبداللہ بن حذافہ اٹھے پوچھا : یارسول اللہ ! میرا باپ کون ہے ؟ فرمایا ؟ ” تیرا باپ حذافہ ہے “ آگے پوری حدیث ذکر کی۔ ابن عبد البر نے کہا : حضرت عبد اللہ بن حذافہ پہلے اسلام لے آئے تھے انہوں نے حبشہ کی زمین کی طرف ہجرت کی تھی اور بدر میں شریک ہوئے تھے اور ان میں مزاح کی صفت تھی ان کو رسول اللہ ﷺ نے اپنا خط دے کر کسری کی طرف بھیجا تھا جب انہوں نے کہا : یارسول اللہ ! ﷺ میرا باپ کون ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” تیرا باپ حذافہ ہے “ ان کی والدہ نے انہیں کہا : میں نے تجھ سے زیادہ نافرمان بیٹا نہیں سنا تو امن میں تھا کہ تیری ماں نے زمانہ جاہلیت کی عورتوں کی طرح گناہ کیا ہوتا اور تو اسے لوگوں کے سامنے رسوا کرتا۔ حضرت عبد اللہ نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر آپ مجھے کالے غلام کے ساتھ لاحق کردیتے تو میں اس کے ساتھ لاحق ہوجاتا۔ ترمذی اور دارقطنی نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت) وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا (آل عمران : 97) لوگوں نے کہا : یارسول اللہ ! کیا ہر سال میں حج فرض ہے ؟ آپ ﷺ خاموش ہوگئے لوگوں نے پھر کہا : کیا ہر سال میں حج فرض ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :” نہیں، اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال واجب ہوجاتا (1) “ (جامع ترمذی، کتاب الحج، جلد 1، صفحہ 00 ا) ۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) یایھا الذین امنوا لاتسئلو عن اشیاء ان تبد لکم تسوء کم الایہ۔
یہ لفظ دارقطنی کے ہیں امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : یہ حسن ہے مگر مرسل ہے ابو البختری نے حضرت علی سے ملاقات نہیں کی اور اس کا نام سعید ہے۔ اس حدیث کو دارقطنی نے ابو عیاض عب ابی ہریرہ کے سلسلہ سے بھی روایت کیا ہے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اے لوگو ! تم پر حج پر فرض کیا گیا ہے “ ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا : یارسول اللہ ! ہر سال فرض ہے ؟ آپ ﷺ نے اس سے اعراض فرمایا، اس نے پھر سوال لوٹایا اور کہا : یارسول اللہ ! ہر سال میں حج فرض ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : قائل کون ہے ؟ انہوں نے کہا : فلاں۔ فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال حج فرض ہوجاتا، اگر واجب ہوجاتاتوتم اس کی طاقت نہ رکھتے اگر تم اس کی طاقت نہ رکھتے تو تم کفر کرتے “ (2) (سنن دار قطنی، کتاب الحج، جلد 2، صفحہ 282) ۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) یایھا الذین امنوا لاتسئلو عن اشیاء ان تبد لکم تسوء کم الایہ۔
حسن بصری نے اس آیت میں فرمایا : لوگوں نے نبی مکرم ﷺ سے امور جاہلیت کے متعلق پوچھاجن کو اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا تھا سوال کی کوئی وجہ نہیں تھی ان چیزوں کے متعلق جن کو اللہ نے معاف کردیا تھا۔ مجاہد نے حضرت عباس سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت اس قوم کے متعلق نازل ہوئی جنہوں نے بحیرہ، سائبۃ، وصیلۃ، حام کے بارے میں پوچھا (3) (احکام القرآن لابن العربی جلد 2، صفحہ 698) یہ سعید بن جبیر کا قول ہے اور فرمایا : کیا تم نے دیکھا نہیں کہ بعد میں فرمایا : (آیت) ماجعل اللہ من بحیرۃ ولاسائبۃ ولاوصیلۃ ولاحام۔
میں کہتا ہوں : صحیح اور مسند میں کفایت ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ یہ آیت تمام کے جواب میں نازل ہوئی ہو سوال قریب قریب تھے۔ اشیاء کا وزن افعال ہے اور یہ غیر منصرف ہے، کیونکہ یہ حمراء کے مشابہ ہے۔ یہ کسائی کا قول ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا وزن افعلاء ہے جیسے تیرا قول ہے ھین واھونائ۔ فراء اور اخفش سے مروی ہے اور اس کی تصغیر میں اشیاء کہا جاتا ہے۔ مازنی نے کہا : اس کی تصغیر شہیات بنانا واجب ہے جس طرح اصدقاء کی تصغیر بنائی جاتی ہے اور مونث میں صدیقات اور مذکر میں صدیقون ہے۔
مسئلہ نمبر 2۔ ابن اعون نے کہا : میں نے نافع سے (آیت) لاتسئلو عن اشیاء الخ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا : ہمیشہ کچھ مسائل ناپسند کیے جاتے تھے۔ مسلم نے حضرت مغیرہ بن شعبہ سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :” اللہ تعالیٰ نے تم پر مائوں کی نافرمانی کرنا، بچیوں کو زندہ درگور کرنا، حقوق ادا نہ کرنا اور منہیات کا ارتکاب کرنا حرام کیا ہے اور تمہارے لیے تین چیزوں کو ناپسند کیا ہے قیل وقال، کثرت سے سوال اور مال کا ضائع کرنا “ (4) (صحیح مسلم، کتاب الاقضیہ، جلد 2، صفحہ 75) ۔
بہت سے علماء کا قول ہے کہ کثرت سے سوال سے مراد خواہ مخواہ فقہی مسائل کثرت سے پوچھنا ہے، غلط سوال کرنا اور مسائل میں تشقیق پیدا کرنا ہے اور جو احکام نازل نہیں ہوئے ان کا موجب بننا ہے۔ سلف صالحین اس صورت کو ناپسند فرماتے تھے اور کو تکلیف (احکام کے نزول کا موجب بننا) سے شمار کرتے تھے اور وہ کہتے تھے : جب مسئلہ درپیش ہوگا تو اس مسئلہ کی توفیق دی جائے گی۔ امام مالک نے کہا : میں نے اس شہر کے اہل کو پایا ان کے پاس کتاب وسنت کے علاوہ علم نہ تھا جب کوئی مسئلہ پیش آتا تو امیر موجود علماء کو جمع کرتا اور جس پر علماء متفق ہوجاتے اسے نافذ کردیتا تم کثرت سے سوال کرتے ہو حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے مسائل کو ناپسند فرمایا ہے۔
بعض علماء نے فرمایا : کثرت سوال سے مراد لوگوں سے اصرار کے ساتھ اور کثرت کے لیے لوگوں سے اموال اور حوائج کا کثرت سے سوال کرنا ہے۔ یہ بھی امام مالک کا قول ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : کثرت مسائل سے مراد لوگوں کے خواہ مخواہ بلاضرورت احوال پوچھنایہاں تک کہ وہ لوگوں کی پوشیدہ باتوں کا ظاہر کرے اور ان کی برائیوں پر اطلاع کا موجب ہوں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی مثل ہے : (آیت) ولاتجسسو اولایغتب بعضکم بعضا (الحجرات : 12) ابن خویز منداد نے کہا : اسی وجہ سے ہمارے بعض اصحاب نے کہا : جب کسی کو کھاناپیش کیا جائے تو وہ یہ نہ پوچھے کہ یہ کہاں سے آیا ہے یا اس کو کوئی چیز پیش کی جائے جس کو وہ خریدے تو وہ یہ نہ پوچھے کہ یہ کہاں سے آئی ہے ؟ مسلمانوں کے امور کو سلامتی اور صحت پر محمول کرے۔
میں کہتا ہوں : حدیث کو عموم پر محمول کیا جائے تو وہ ان تمام وجوہ کو شامل ہے۔
مسئلہ نمبر 3۔ ابن عربی نے کہا : ایک غافل قوم نے پیش آنے والے مسائل کے متعلق سوالات کی تحریم کا اعتقاد رکھا ہے حتی کہ انہوں نے اس آیت کے ساتھ تعلق جوڑا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے، کیونکہ یہ آیت صریح ہے کہ وہ سوال جس سے منع کیا گیا ہے وہ ہے جس کے جواب میں کوئی تکلیف واقع ہو اور وقت کے مسائل کے جواب میں کوئی تکلیف واقع نہیں ہوتی پس یہ آپس میں جدا ہیں (1) (احکام القرآن لابن العربی جلد 2، صفحہ 700) ۔
میں کہتا ہوں : ابن عربی کا یہ قول کہ ” ایک غافل قوم نے اعتقاد رکھا ہے “ اس میں قبح ہے۔ بہتر یہ تھا کہ یوں کہتے ” ایک قوم کا نظریہ پیش آنے والے مسائل کی تحریم کا ہے کیونکہ یہ اس کی عادت پر جاری ہوا ہے “ ہم نے کہا : بہتر یہ تھا، کیونکہ سلف صالحین کی قوم اس کو ناپسند کرتی تھی۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ اس شخص پر لعنت کرتے تھے جو ایسا مسئلہ پوچھتا جو پیش نہیں آیا ہوتا تھا۔ یہ دارمی نے اپنی مسند میں ذکر کیا ہے اور زہری سے ذکر کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا : ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت زید بن ثابت انصاری کہتے تھے جب ان سے کسی امر کے متعلق پوچھا جاتا تھا کیا مسئلہ درپیش ہے ؟ اگر لوگ کہتے : ہاں۔ تو اس کا حل بیان فرماتے جو اس کے متعلق جانتے تھے۔ اگر لوگ کہتے کہ یہ مسئلہ درپیش تو نہیں ہے، تو فرماتے : اس کو چھوڑو حتی کہ یہ پیش آجائے۔
حضرت عمار بن یاسر سے سند کے ساتھ مروی ہے کہ ان سے کسی مسئلہ کے متعلق پوچھا جاتاتو وہ کہتے : یہ مسئلہ بھی پیش ہے ؟ وہ کہتے : نہیں، تو آپ فرماتے : ہمیں چھوڑو حتی کہ وہ مسئلہ پیش ہوجائے، اس وقت تمہارے لیے اس کو بیان کرنے کی کوشش کریں گے۔ دارمی نے کہا ہمیں عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں ابن فضیل نے بیان کیا انہوں نے عطا سے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ عنہنے فرمایا : میں نے اصحاب رسول سے بہتر قوم نہیں دیکھی انہوں نے صرف تیرہ مسائل پوچھے تھے حتی کہ آپ کا وصال ہوگیا وہ تمام سوالات قرآن میں ہیں ان میں سے یہ ہیں۔ (آیت) یسئلونک عن الشھر الحرام (البقرہ : 217)
(آیت) ویسئلونک عن المحیض (البقرہ : 222) صحابہ کرام صرف وہ پوچھتے تھے جو انہیں نفع دیتا تھا۔
مسئلہ نمبر 4۔ ابن عبد البر نے کہا : آج کے سوال سے یہ کوئی خوف نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے کوئی تحریم اور تحلیل نازل ہوگی جو سمجھنے کے لیے علم میں رغبت کی وجہ سے اور اپنی ذات سے جہالت کی نفی کی وجہ سے اس معنی کو حاصل کرنے کے لیے دین میں اس پر وقوف واجب ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ جہالت کا علاج سوال ہے۔ جس نے عناد کی بنا پر بغیر سکیھے اور سمجھنے کی نیت کے سوال کیا تو وہ ایسا شخص ہے جس کا نہ قلیل سوال حلال ہے نہ کثیر حلال ہے۔ ابن عربی نے کہا : عالم کے لیے مناسب ہے کہ وہ ان چیزوں میں مشغول ہوں وسیع دلائل، نظر کے راستوں کی وضاحت کرنا، اجتہاد کے مقدمات کو حاصل کرنا، استمداد پر معین آلہ کو شمار کرنا۔ جب کوئی مسئلہ پیش ہوگا وہ حل ہوجائے گا اور اس کا ادراک ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ صواب کا راستہ کھول دے گا (1) (احکام القرآن لابن العربی جلد 2، صفحہ 700) ۔
مسئلہ نمبر 5۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) وان تسئلو عنھا حین ینزل القرآن تبدلکم اس میں غموض اور پوشیدگی ہے، کیونکہ آیت کی ابتدا میں سوال سے نہی وارد ہوئی پھر فرمایا : (آیت) وان تسئلو عنھا حین ینزل القرآن تبدلکم یعنی پھر ان کے لیے سوال کو مباح کیا۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے اگر تم ان کے علاوہ مسائل پوچھو گے جن میں حاجت ہوگی۔ پس مضاف حذف کیا گیا ہے اور اس کو غیر حذف پر محمول کرنا درست نہیں۔ جرجانی نے کہا : عنھا کی ضمیر دوسری اشیاء کی طرف لوٹ رہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین (المومنون) یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) پھر فرمایا : (آیت) ثم جعلنہ نطفۃ (المومنون : 13) یعنی ابن آدم کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو نطفۃ فی قرار مکین نہیں بنایا تھا لیکن جب انسان کا ذکر کیا گیا تو وہ حضرت آدم ہے جو اپنی مثل انسان پر دلیل ہے یہ قرینہ حال کے ساتھ تھا معنی یہ ہے کہ اگر تم اشیاء کے متعلق سوال پوچھو گے جب تحلیل یا تحریم یا حکم نازل کیا جائے گا یا تمہیں تفسیر کی حاجت ہوگی جب تم سوال کروگے تو اس وقت تمہارے لیے حکم ظاہر کردیا جائے گا اس نوع نے سوال کا مباح کردیا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ مطلقہ، اور وہ عورت جس کا خاوند فوت ہوجائے اور حاملہ عورت کی عدت بیان فرمائی اور ان عورتوں کی عدت کا ذکر نہیں ہوا جو حیض والی نہیں تھیں اور حاملہ بھی نہیں تھیں لوگوں نے ان کے متعلق پوچھا تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت) والئی یئسن من المحیض (طلاق : 4) پس سوال سے نہی اس صورت میں ہے جب سوال کی حاجت نہ ہو مگر جب حاجت ہو تو پھر سوال کرنا منع نہیں ہے۔
مسئلہ نمبر 6۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) عفا اللہ عنھا اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ کو معاف کردیا جو ان سے پہلے ہوچکا۔
بعض علماء نے فرمایا : یعنی اللہ تعالیٰ نے ان اشیاء کے متعلق سوال کرنے کو معاف کردیا جو انہوں نے امور جاہلیت سے اور جو ان جیسے تھے، کے متعلق پوچھا تھا۔ بعض نے فرمایا : العفو بمعنی ترک ہے یعنی اس نے ترک فرمادیا اور جس کے متعلق حلت اور حرمت کا حکم معروف نہیں ہے وہ معاف ہے پس تم ان کے متعلق بحث نہ کرو شاید تمہارے لیے اس کا ظاہر ہوجائے تو وہ تمہیں تکلیف دے۔ عبید بن عمیر فرمایا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے حلال فرمایا اور حرام فرمایا جس کو اس نے حلال فرمایا اس کو حلال سمجھو اور جس کو حرام فرمایا اس سے اجتناب کرو اور ان کے درمیان کچھ چیزوں کو چھوڑ دیا نہ انہیں حلال فرمایا اور نہ حرام فرمایا پس یہ اللہ کی طرف سے معاف ہیں پھر یہ آیت پڑھی۔
دارقطنی نے ابو ثعلبہ خشنی سے روایت کیا ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اللہ تعالیٰ نے کچھ فرائض مقرر فرمائے ہیں پس تم انہیں ضائع نہ کرو اور بعض چیزوں کو حرام کیا ہے پس تم ان کی پروردی نہ کرو اور بعض حدود مقرر فرمائی ہیں ان سے تجاوز نہ کرو اور کچھ چیزوں سے دانستہ سکوت فرمایا ہے ان سے بحث نہ کرو “ (1) (سنن دارقطنی، کتاب الصید والذبائح، حدیث نمبر 104، صفحہ 298) ۔
اس تقدیر کی بنا پر کلام میں تقدیم وتاخیر ہے یعنی ان چیزوں کے متعلق مت پوچھو جن کو اللہ نے معاف فرمایا ہے اگر وہ تمہارے لیے ظاہر کردی جائیں تو تمہیں تکلیف ہو یعنی خود ہی اس نے ان کا ذکر نہیں کیا پس ان میں کوئی حکم ثابت نہیں کیا۔
بعض علماء نے فرمایا : اس میں تقدیم و تاخیر نہیں ہے بلکہ معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ سے درگزر فرمایا ہے جو گزرچکا اگرچہ نبی مکرم ﷺ نے اسے ناپسند فرمایا تھا پس تم آئندہ ایسے مسائل نہ پوچھنا، پس عنھا کی ضمیر کا مرجع مسئلہ ہے یا سوالات ہیں جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 7۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) قد سالھا قوم من قبلکم ثم اصبحوا بھا کافرین اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ہم سے پہلے ایک قوم تھی کہ انہوں نے اس کی مثل آیات کا سوال کیا جب انہیں وہ عطا کی گئیں اور ان پر احکامات فرض کیے گئے تو انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہیں جیسے حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم نے اونٹنی کا سوال کیا تھا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب نے مائدہ (دستر خوان) کا سوال کیا تھا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس سے ڈرایا ہے جس میں پہلی قومیں مبتلا ہوئی تھیں۔ واللہ اعلم
مسئلہ نمبر 8۔ اگر کوئی کہنے والا کہے کہ جو تم نے سوال کی کراہیت اور اس کے متعلق نہی کا ذکر کیا ہے اس کے معارض یہ ارشاد ہے (آیت) فسئلو اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون (النحل) پس دریافت کرلو اہل علم سے اگر تم خود نہیں جانتے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو جس کا حکم دیا ہے وہ اس کے متعلق ہے جس کا وجوب ثابت ہے اور اس کے مطابق عمل کرنا ان پر واجب ہے اور جس کے متعلق نہی وارد ہے وہ وہ ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے بندوں کو مکلف نہیں کیا ہے اور اس کا اپنی کتاب میں ذکر نہیں کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 9۔ مسلم نے حضرت عامر بن سعد سے انہوں نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” مسلمانوں میں بڑا مجرم وہ ہے جو کسی ایسی چیز کے متعلق سوال کرے جو مسلمانوں پر حرام نہ کی گئی ہو پھر اس کے سوال کی وجہ سے ان پر حرام کردی گئی ہو “ (1) (صحیح مسلم، کتاب الفضائل، جلد 2، صفحہ 262 ) ۔ قشیری ابو نصر نے کہا : اگر عجلانی زنا کے متعلق سوال نہ کرتے تو لعان ثابت نہ ہوتا۔ ابوا لفرج جوزی نے کہا : یہ اس پر محمول ہے جو کسی چیز کے متعلق عبث سوال کرتا ہے پس اس کے برے ارادہ کی وجہ سے اس چیز کی تحریم کے ساتھ سزا دی گئی اور تحریم عام ہوتی ہے۔
مسئلہ نمبر 10۔ ہمارے علماء نے فرمایا : اس حدیث کے ساتھ قدریہ کا کوئی تعلق نہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کے سبب اور علت کی وجہ سے کوئی کام کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے بلند ہے بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے بلکہ سبب اور داعی اس کے افعال میں سے ایک فعل ہے لیکن قضا وقدر پہلے طے کرچکی ہے کہ جس چیز کے متعلق سوال کیا گیا اس کو حرام کردیا جائے گا جب اس کے بارے سوال واقع ہوگا نہ یہ کہ سوال تحریم کا موجب اور اس کی علت ہے اس کی مثالیں بہت ہیں (آیت) لایسئل عما یفعل وھم یسئلون (الانبیائ) نہیں پرسش کی جاسکتی اس کام کے متعلق جو وہ کرتا ہے اور ان (تمام سے) باز پرس ہوگی۔