Ayah 5:4آیت نمبر : 4۔
اس آیت میں اٹھارہ مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یسئلونک “۔ یہ آیت حضرت عدی بن حاتم اور حضرت زید بن مہلہل کے سبب نازل ہوئی اور یہ زید الخیل ہے جس کا نام رسول اللہ ﷺ نے زید الخیر رکھا تھا ان دونوں صحابہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ہم کتوں اور بازوں کے ساتھ شکار کرتے ہیں، کتے گائیوں، جنگلی گدھوں اور ہر نوں کو پکڑتے ہیں پھر کچھ تو ذبح کرلیے جاتے ہیں اور بعض کو کتے مار ڈالتے ہیں ہم ان کو ذبح نہیں کرسکتے، جب کہ اللہ تعالیٰ نے مردار کو حرام کیا ہے پس ہمارے لیے کیا حلال ہوگا ؟ تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (1) (الجامع لا سباب النزول جلد 1، صفحہ 124۔
مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ماذا احل لھم قل احل لکم الطیبت “۔ ما محل رفع میں مبتدا ہے اور اس کی خبر (آیت) ” احل لکم “ ہے اور ذا زائدہ ہے اگر تو چاہے تو ذا کو بمعنی الذی بنا دے اور پھر (آیت) ” قل احل لکم الطیبت “۔ ہوگی (آیت) ” الطیبت “۔ سے مراد حلال ہے ہر حرام چیز طیب نہیں ہے، بعض علماء نے فرمایا : (آیت) ” الطیبت “۔ سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کا کھانا، پینا اچھا لگے اور دنیا میں اور آخرت میں اس کے استعمال میں ضرر نہ ہو۔ بعض علماء نے فرمایا (آیت) ” الطیبت “۔ سے مراد ذبائح ہیں، کیونکہ وہ ذبح کرنے کے ساتھ پاک ہوجاتے ہیں۔
مسئلہ نمبر : (3) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وما علمتم “۔ یعنی ان چیزوں کا شکار جن کو تم نے سکھایا، اس کلام میں اضمار ضروری ہے اگر اضمار نہ ہو تو معنی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ حلت جس کے متعلق پوچھا گیا ہے وہ معلم درندوں کو شامل ہے اور یہ کسی کا بھی مذہب نہیں ہے، کیونکہ وہ جو کتے کے گوشت کو حلال کرتا ہے تو وہ معلم کی اباحت کی تخصیص نہیں کرتا، مزید کتے کے کھانے کے بارے میں علماء کا جو اختلاف ہے وہ انشاء اللہ سورة الانعام میں آئے گا۔
بعض علماء جنہوں نے قرآن کے احکام میں کتب تصنیف کی ہیں انہوں نے کہا ہے کہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اباحت ان چیزوں کو شامل ہے جن کو ہم نے سکھایا شکاری جانوروں میں سے اس میں کتا اور چیرنے پھاڑنے والے پرندوں میں سے کھانا ہے، حضرت عدی (رح) کے پانچ کتے تھے جن کے اس نے نام رکھے ہوئے تھے ان کے کتوں کے نام یہ تھے سلبب، غلاب، المختلس، المتناعس، سہیلی نے کہا : پانچویں میں مجھے شک ہے فرمایا : اخطب تھا یا فرمایا وثاب تھا۔
مسئلہ نمبر : (4) امت کا اجماع ہے کہ کتا جب کالا ہو اور مسلمان نے اسے سکھایا ہو اور جب اسے شکار پر ابھارا جائے تو وہ بھاگے اور جب اسے بلایا جائے تو وہ آجائے، شکار کو پکڑنے کے بعد اسے جھڑکا جائے تو وہ شکار چھوڑ دے اور اس شکار میں سے کچھ نہ کھائے جس کو شکار کرے اور اپنے ناخنوں اور دانتوں سے شکار میں نشان ڈالا ہے اور اس کے ساتھ مسلمان شکار کرے اور اسے چھوڑتے وقت مسلمان اللہ کا نام ذکر کرے تو اس کا شکار صحیح ہے اور بلا اختلاف اسے کھایا جائے گا، اگر ان شرائط میں سے کوئی شرط نہ پائی جائے تو اختلاف داخل ہوجائے گا اگر کتے کے علاوہ مثلا چیتا اور اس جیسا جانور اور باز، شکرا وغیرہ پرندے سے شکار کیا گیا ہو تو جمہور امت کا خیال یہ ہے کہ تعلیم کے بعد جو شکار کرے وہ جارح کا سبب ہے۔ کہا جاتا ہے : جرح فلان واجترح جب وہ کوئی چیز حاصل کرے، اسی سے الجارحۃ ہے، کیونکہ اس کے ذریعے کمایا جاتا ہے، اسی سے اجتراح السیات ہے گناہوں کا ارتکاب کرنا، اعشی نے کہا :
ذا جبار منضجا میسمہ یذکر الجارح ماکان اجترح :
اور قرآن حکیم میں ہے : (آیت) ” ویعلم ما جرحتم بالنھار، (انعام : 60)
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ام حسب الذین اجترحوالسیات۔ (الجاثیہ : 21)
مسئلہ نمبر : (5) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” مکلبین “۔ اس سے مراد کتوں کے مالک ہیں وہ مودب کی طرح ہوتے ہیں جو تادیب کرتے ہیں، بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے کہ وہ شکار پر اس طرح جھپٹتے ہیں جیسے کتے جھپٹتے ہیں، رمانی نے کہا : اس میں ہر قول کا احتمال ہے (آیت) ” مکلبین “ میں اس بات پر دلیل نہیں کہ صرف کتے کا شکار مباح کیا گیا ہے، کیونکہ یہ ” مومنین “ کے قول کے طرح ہے اگرچہ جنہوں نے کتے پر اباحت کو خاص کیا ہے انہوں نے اس آیت سے دلیل پکڑی ہے، حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے جس کو ابن المنذر نے حکایت کیا ہے فرمایا : جو باز اور دوسرے پرندوں سے شکار کیا جاتا ہے، جس کو تو ذبح کرنے کی طاقت رکھتا ہو تو اسے ذبح کردے وہ تیرے لیے حلال ہے ورنہ تو اسے نہ کھا (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 156 دارالکتب العلمیہ) ابن المنذر نے کہا : ابو جعفر سے باز کے متعلق پوچھا گیا کہ اس کا شکار حلال ہے ؟ تو انہوں نے کہا : نہیں مگر یہ کہ تم اسے ذبح کرلو (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 156 دارالکتب العلمیہ) ضحاک ؓ اور سدی ؓ نے کہا (آیت) ” وما علمتم من الجوارح مکلبین “ سے مراد کتے ہیں اگر کتا کالا سیاہ ہو تو حسن، قتادہ، اور نخعی رحمۃ اللہ علیہم نے اس کا شکار مکروہ قرار دیا ہے۔ امام احمد نے کہا : میں کوئی ایسا شخص نہیں جانتا جس نے رخصت دی ہو جب کہ کتا کالا سیا ہو، اسحاق بن راہویہ (رح) نے بھی یہی کہا ہے رہے مدینہ طیبہ کے عوام اور کوفہ کے عوام یہ سکھائے گئے کتے کے شکار کو جائز قرار دیتے ہیں (3) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 156 دارالکتب العلمیہ)
اور جنہوں نے کالے کتے کے شکار سے منع فرمایا اس کی وجہ یہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے : الکلب الاسود شیطان (4) (صحیح مسلم، کتاب الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 197) کالا کتاب شیطان ہے، اس کو مسلم نے نقل کیا ہے، جمہور علماء آیت کے عموم سے استدلال کیا ہے اور باز کے شکار کے جواز پر سبب نزول سے استدلال کیا ہے اور جو ترمذی نے حضرت عدی بن حاتم ؓ سے حدیث روایت کی ہے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے باز کے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” جو وہ تیرے لیے روک لے وہ کھا “ (5) (جامع ترمذی کتاب الصید، جلد 1، صفحہ 177، ایضا، حدیث نمبر 1387، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اس کی سند میں مجالد ہے جو غیر معروف ہے، سوائے اس ایک سند کے معروف نہیں اور یہ راوی ضعیف ہے، مطلب یہ ہے کہ جو کتے کا حکم ہے وہ چیتے کا حکم ہے ان میں کوئی فرق نہیں ہے مگر ایسی صورت میں جس کا تاثیر میں کوئی دخل نہیں یہ اصل معنی میں قیاس ہے تلوار کو چھری پر قیاس کرنے کی طرح ہے اور لونڈی کو غلام پر قیاس کرنے کی طرح ہے۔
مسئلہ نمبر : (6) جب یہ ثابت ہوگیا تو جان لو کہ شکاری کے لیے ضروری ہے کہ وہ کتے کو چھوڑے وقت ذبح اور اباحت کی نیت کرے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے، کیونکہ نبی مکرم ﷺ کا ارشاد ہے : ” جب تو اپنے کتے کو چھوڑے اور اس پر اللہ کا نام لے تو تو کھا “ (6) (جامع الترمذی کتاب الصید، جلد 1، صفحہ 177، ایضا صحیح بخاری حدیث نمبر 5054، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) یہ ارشاد نیت اور بسم اللہ کا تقاضا کرتا ہے، اگر کتا چھوڑتے وقت لہو ولعب کا قصد کیا ہوگا تو امام مالک (رح) کے نزدیک مکروہ ہوگا، ابن عبدالحکم نے اس کو جائز قرار دیا ہے، یہ لیث کے قول کا ظاہر ہے، لیث نے کہا : میں نے کوئی شکار ایسا نہیں دیکھا جو باطل کے زیادہ مشابہ ہے یعنی شکار، اگر کوئی تذکیہ (ذبح) کی نیت کے بغیر کتا چھوڑے تو وہ شکار حرام ہوگا کیونہ وہ فساد اور بغیر منفعت کے حیوان کے اتلاف کے باب سے ہوگا، رسول اللہ ﷺ نے حیوان کے قتل کرنے سے منع فرمایا ہے مگر کھانے کے لیے، جمہور علماء کا نظریہ یہ ہے کہ کتاب یا باز چھوڑتے وقت زبان سے بسم اللہ کہنا ضروری ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا : تو اللہ نام ذکر کرے “۔ اللہ تعالیٰ کا نام اگر کسی اعتبار سے ذکر نہ کیا تو شکار نہیں کھایا جائے گا یہ اہل ظاہر اور اہل حدیث کی جماعت کا مذہب ہے، ہمارے اصحاب اور دوسرے علماء کا نظریہ یہ ہے کہ مسلمان جس چیز کا شکار کرے اور اسے ذبح کرے تو اگرچہ بسم اللہ عمدا بھی ترک کردے تو اس کا کھانا جائز ہے، ان علماء نے بسم اللہ کے امر کو ندب پر محمول کیا ہے، امام مالک کا مشہور مذہب عمدا یا سہوا بسم اللہ ترک کرنے کے درمیان فرق ہے فرمایا : عمدا بسم اللہ ترک کرنے کی وجہ سے نہیں کھایا جائے گا اور سہوا ترک کرنے کی وجہ سے کھایا جائے گا، یہ فقہاء الامصار کا قول ہے اور امام شافعی (رح) کا ایک قول ہے یہ مسئلہ سورة الانعام میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
پھر شکاری کے ہاتھ سے کتا چھوڑتے وقت اس کا بھاگنا ضروری ہے جب کہ اس کی زمان اس کے ہاتھ میں ہو، وہ اس کو چھوڑ دے اور اسے ابھارے اور وہ بھاگے یا کتا شکار کو دیکھنے کے وقت ساکن کھڑا ہو اور اس کے لیے حرکت نہ ہو مگر شکاری کے ابھارنے کے ساتھ یہ اسی صورت کے قائم مقام ہے جب اس کی زمام اس کے ہاتھ میں ہو پھر اس نے اسے ابھارتے ہوئے چھوڑا ہو، یہ ایک قول کے مطابق ہے اگر کتا بغیر چھوڑے اور بغیر ابھارے خود ہی شکار کے پیچھے لگ جائے تو اس کا شکار جائز نہیں اور نہ اس کا کھانا حلال ہے، یہ جمہور امام مالک، امام شافعی، ابو ثور اور اصحاب الرائے کا نظریہ ہے کیونکہ اس نے بغیر چھوڑے اپنے لیے شکار کیا ہے اور اپنے لیے پکڑا ہے، اس میں شکاری کا کوئی دخل نہیں ہے، اس کا چھوڑنا شکار کی طرف منسوب نہیں ہے کیونکہ اس پر نبی مکرم ﷺ کا ارشاد : اذا ارسلت کلبک المعلم (1) (صحیح مسلم، کتاب الصید والذبائح جلد 2 صفحہ 145) جب تو اپنے سکھائے ہوئے کتے کو چھوڑے “ ، صادق نہیں آتا، عطا بن ابی رباح، اور اوزاع نے کہا : اس کا شکار کھایا جائے گا جب اسے شکار کے لیے نکالا ہو۔
مسئلہ نمبر : (7) جمہور علماء نے (آیت) ” علمتم “ عین اور لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت محمد بن حنیفہ (رح) نے عین کے ضمہ اور لام کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے یعنی جوارح کے عمل اور ان کے ساتھ شکار کرنے سے (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 157 دارالکتب العلمیہ)
جو تم نے کھایا الجوارح سے مراد، الکواسب “۔ (کمانے والے) ہے، انسانی اعضاء کو بھی جوارح کہا جاتا ہے، کیونکہ ان کے ذریعے کسی چیز کو حاصل کیا جاتا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : ان کو جوارح اس لیے کہتے ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے کسی چیز کو حاصل کیا جاتا ہے اور تصرف کیا جاتا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : ان کو جوارح اس لیے کہتے ہیں، کیونکہ یہ زخمی کرتے ہیں اور خون بہاتے ہیں، یہ ضعیف ہے اہل لغت کا قول اس کے خلاف ہے۔ ابن المنذر نے ایک قول یہ حکایت کیا ہے مکلبین “ ، جمہور کی قرات کاف کے فتحہ اور لام کے شد کے ساتھ ہے۔ المکلب کتوں کو سکھانے والا اور انہیں شکار پر برانگیختہ کرنے والا جو کتے کے علاوہ کو سکھاتا ہے، اسے مکلب کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ حیوان کو روکتا ہے جیسے کتا۔
بعض علماء نے حکایت کیا ہے کہ شکار کو مکلب کہا جاتا ہے، اس بنا پر مکلبین کا معنی شکاری لوگ ہوں گے، بعض علماء نے فرمایا : الکلب کتوں کے مالک کو کہا جاتا ہے، کہا جاتا ہے : کلب فھو مکلب وکلاب حسن نے مکلبین کاف کے سکون اور لام کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے، اسکا معنی ہے اصحاب کلاب کہا جاتا ہے ،: امشی الرجل، جب کسی کے جانور زیادہ ہوں : اکلب، جس کے کتے زیادہ ہوں، اصمعی نے کہا :
کل فتی وان امشی فاثری ستخلجہ عن الدنیا ممنون :
مسئلہ نمبر : (8) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” تعلمونھن مما علمکم اللہ “۔ مونث ضمیر لفظ جوارح کی رعایت کرتے ہوئے ذکر کی گئی ہے، کیونکہ جوارح، جارحۃ کی جمع ہے۔ اور علماء کے درمیان تعلیم میں دو شرطوں میں کوئی اختلاف نہیں وہ دونوں شرطیں یہ ہیں کہ جب اسے شکار پر حملہ کا حکم دیا جائے تو وہ بھاگ پڑے اور جب اسے منع کیا جائے تو وہ رک جائے، کتوں میں ان دو شرطوں میں کوئی اختلاف نہیں اور اسی طرح کتے جیسے دوسرے کا حکم ہے، پرندے جو شکار کرتے ہیں ان میں اختلاف ہے، مشہور یہ ہے کہ جمہور کے نزدیک، ان کی تعلیم میں بھی یہ دونوں شرطیں ہیں، ابن حبیب نے ذکر کیا ہے کہ جھڑکنے سے رک جائے، پرندوں میں یہ شرط نہیں، کیونکہ پرندہ غالبا ایسا نہیں کرتا، اس میں یہ کافی ہے کہ تو اسے حکم دے تو وہ اطاعت کرے، ربیعہ نے کہا : جب اسے بلایا جائے تو وہ آجائے تو وہ معلم ضاری ہے، اکثرحیوان طبعا جب انہیں ابھارا جائے تو وہ بھاگ پڑتے ہیں، امام شافعی اور جمہور علماء نے تعلیم میں یہ شرط رکھی ہے کہ وہ اپنے مالک کے لیے چیز کو پکڑے۔
امام مالک (رح) کے مشہور مذہب میں یہ شرط نہیں۔ امام شافعی (رح) نے فرمایا : المعلم وہ ہے جب اس کا مالک اسے ابھارے تو وہ بھاگ پڑھے اور جب اسے واپس بلائے تو وہ واپس آجائے اور شکار کو مالک کے لیے پکر لے لیے پکڑلے اس میں سے خود کچھ نہ کھائے جب وہ کئی مرتبہ اس طرح کرے اہل عرف نے کہا : ہو معلم شمار ہوگا، امام شافعی (رح) اور کو فیوں سے مروی ہے جب وہ اسے شکار پر ابھارے تو وہ بھاگ پڑے، جب شکار کو پکڑے تو رک جائے اور جب وہ دو مرتبہ اسی طرح کرے تو تیسری مرتبہ اس کا شکار کھایا جائے گا، بعض علماء نے فرمایا : تین مرتبہ ایسا کرے اور چوتھی مرتبہ اس کا شکار کھایا جائے گا، بعض نے فرمایا : ایک مرتبہ ایسا کرے تو وہ معلم ہے دوسری مرتبہ اس کا شکار کھایا جائے گا۔
مسئلہ نمبر : (9) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فکلوا مما امسکن علیکم “ وہ تمہارے لیے شکار کو پکڑیں، اس کی تاویل میں علماء کا اختلاف ہے، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت ابوہریرہ ؓ نخعی، قتادہ، ؓ ابن جبیر، عطا بن ابی رباح، عکرمہ، امام شافعی (رح)، امام احمد، اسحاق، ابو ثور، نعمان (رح) اور اس کے صحاب نے کہا : وہ نہ کھائے، اگر شکاری جانور خود کھالے تو بقیہ جانور نہیں کھایا جائے گا۔ کیونکہ اس نے وہ اپنے لیے پکڑا ہے اپنے مالک کے لیے نہیں پکڑا ہے، امام ابوحنیفہ (رح) اور ان کے اصحاب کے نزدیک چیتا کتے کی طرح ہے اور پرندوں میں یہ شرط نہیں لگائی بلکہ وہ جب شکار سے کھا بھی لے تو پھر بھی جانور کھایا جائے گا۔
حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت سلمان فارسی اور حضرت ابوہریرہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے کہا : اس کا معنی ہے اگر وہ کھالے، جب شکاری جانور شکار سے کھالے خواہ کتا ہو یا چیتا ہو یا پرندہ ہو اس کا مابقی شکار کھایا جائے گا اگرچہ صرف ایک ٹکڑا بھی بچا ہو، یہ امام مالک اور ان کے ساتھیوں کا قول ہے اور امام شافعی کا دوسرا قول یہی ہے اور یہ قیاس ہے، اس باب میں دو احادیث ہیں، جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے اس مفہوم پر دلالت کرتی ہیں، ایک حدیث حضرت عدی بن حاتم کی جو کلب معلم میں ہے ” جب وہ کھالے تو تو نہ کھا، کیونکہ یہ اس نے اپنے لیے پکڑا ہے۔ (1) اس حدیث کو مسلم نے نقل کیا ہے، دوسری حدیث ابو ثعلبہ خشنی کی ہے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے کتے کے شکار کے بارے میں فرمایا : ” جب تو اپنے کتے کو چھوڑے اور اس پر اللہ کا نام لے تو کھا اگرچہ اس سے کتے نے کھایا ہو اور تیرا ہاتھ تجھ پر لوٹا دے اسے کھا “ (1) (سنن ابی داؤد کتاب الضحایا، جلد 2، صفحہ 38)
اس حدیث کو ابو داؤد نے روایت کیا ہے اور حضرت عدی سے جو روایت کیا گیا وہ صحیح نہیں، ان سے صحیح مسلم کی حدیث ہے، جب دونوں روایتیں متعارض ہیں تو ہمارے اصحاب نے ان کو جمع کرنے کا ارادہ کیا انہوں نے نہی والی حدیث کو تنزیہ اور تقوی پر محمول کیا اور اباحت کی حدیث کو جواز پر محمول کیا، انہوں نے فرمایا : حضرت عدی ؓ چونکہ خوشحال تھا اس لیے نبی مکرم ﷺ نے انہیں رکنے کا اور ورع فتوی دیا اور حضرت ابو ثعلبہ ؓ محتاج تھے تو انہیں جواز کا فتوی دیا، واللہ اعلم۔
اس تاویل کی صحت پر دلیل آپ ﷺ کا ارشاد ہے جو حضرت عدی کی حدیث میں ہے۔ ” مجھے خوف ہے کہ اس نے اپنے لیے پکڑا ہو “ یہ ہمارے علماء کی تاویل ہے، ابوعمرنے الاستذکار کتاب میں فرمایا : حضرت عدی کی حدیث، حضرت ابو ثعلبہ ؓ کی حدیث کے معارض ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ حضرت ابو ثعلبہ ؓ کی حدیث اس کی ناسخ ہے پس ان کا یہ کہنا : اگرچہ وہ کھا بھی لے یا رسول اللہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” اگرچہ کھا بھی لے “۔
میں کہتا ہوں : اس میں نظر ہے، کیونکہ تاریخ مجہول ہے اور جب تاریخ معلوم نہ وہ تو دونوں احادیث کو جمع کرنا اولی ہے۔ واللہ اعلم اور اصحاب شافعی نے کہا : اگر کتا انتہائی بھوک کی وجہ سے کھا گیا تو جانور کھایا جائے گا ورنہ نہیں کھایا جائے گا، کیونکہ یہ سوء تعلیم سے ہے، ایک قوم سے مروی ہے، جس شکار سے کتا اور چیتا کھالے اس کے درمیان اور باز کے کھانے کے درمیان فرق کیا ہے، کتے اور چیتے کے کھانے کے بعد انہوں نے منع کیا ہے اور باز کے کھانے کے بعد اس کی اجازت دی ہے، یہ نخعی ثوری، اصحاب الرائے اور حماد بن ابی سلیمان کا قول ہے، اور حضرت ابن عباس ؓ سے حکایت ہے انہوں نے کہا : کتے اور چیتے کو مارنا اور جھڑکنا ممکن ہے اور پرندے میں یہ ممکن نہیں اور پرندے کی تعلیم کی حد یہ ہے کہ اسے بلایا جائے تو وہ آجائے اور اسے شکار پر ابھارا جائے تو وہ اڑ جائین، اس میں اس سے زیادہ ممکن نہیں، مارنا اسے اذیت دے گا۔
مسئلہ نمبر : (10) جمہور علماء نے نظریہ یہ ہے کہ درندہ یا کتا جب شکار کا خون پی لے تو شکار کھایا جائے، عطا نے کہا : خون کا پینا، کھانا نہیں ہے، شعبی اور سفیان ثوری (رح) نے اس کا کھانا مکروہ قرار دیا ہے، علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں کہ شکار کی اباحت کا سبب کتے یا درندے کا شکار کو کا ٹنا ہے اور اس کا ٹنے کا یقینی ہونا ضروری ہے اس میں کسی قسم کا شک نہ ہو اور شک کی صورت میں اس کا کھانا جائز نہیں۔
مسئلہ نمبر : (11) اگر شکاری اپنے کتے کے ساتھ دوسرا کتا پائے تو وہ اس پر محمول ہوگا کہ وہ کسی دوسرے شکاری کی طرف سے نہیں چھوڑا گیا، یہ شکار کی طلب میں خود طبعی طور پر بھاگا ہے۔ اس مسئلہ میں بھی اختلاف نہیں ہے۔ کیونکہ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” اگر دوسرے کتے اس کے ساتھ مل جائیں تو پھر نہ کھا “ (2) (صحیح مسلم کتاب الصید الذبائح، جلد 2، صفحہ 145)
ایک روایت میں ہے ” تو نے اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی اور دوسرے کتے پر نہیں پڑھی “ (3) (صحیح مسلم کتاب الصید الذبائح، جلد 2، صفحہ 148) اگر دوسرے شکاری نے کتا چھوڑا ہو پھر دونوں کتے اس شکار میں شریک ہوگئے ہوں تو وہ شکار دونوں شکاریوں کے لیے ہوگا دونوں اس میں شریک ہوں گے، اگر ایک کتے نے اپنے شکار کو چیر پھاڑ دیا ہو پھر دوسرا کتا آجائے تو شکار اس کا ہوگا جس کے کتے نے اسے پکڑ کر چیر دیا تھا، اسی طرح وہ شکار نہیں کھائے جائے گا جس کو تیر مارا گیا پھر وہ پہاڑ سے نیچے گرایا پانی میں غرق ہوا تو اسے بھی نہیں کھایا جائے گا، کیونکہ آپ ﷺ نے حضرت عدی ؓ کو کہا تھا ” اگر تو اپنا تیر پھینکے اور اللہ کا نام ذکر کرے اگر وہ تجھ سے پورا دن غائب ہوجائے اور تو اس میں اور کچھ نہ پائے مگر اپنے تیر کا اثر تو کھا اگر تو اسے پانی میں غرق پائے تو اسے نہ کھا تجھے معلوم نہیں پانی نے اسے قتل کیا یا تیرے تیر نے “ (1) (صحیح مسلم، کتاب الصید والذبائح، جلد 2، صفحہ 146)
یہ نص ہے۔
مسئلہ نمبر : (12) اگر شکار کتوں کے منہ میں مر جائے جب کہ انہوں نے اسے زخمی نہ کیا ہو تو اسے نہیں کھایا جائے گا، کیونکہ ہو دبانے سے مراد ہے یہ کند چھری سے ذبح کرنے کے مشابہ ہے جس میں جانور ذبح میں مر جاتا ہے ہے رگوں کے کاٹنے سے پہلے، اگر جوارح سے اس کو لے لینا اور سے ذبح کرنا ممکن تھا پھر اس نے ذبح نہ کیا حتی کہ شکار مرگیا تو وہ شکار نہیں کھایا جائے گا، وہ ذبح میں کوتاہی کرنے والا تھا، وہ ذبح پر قدرت رکھتا تھا اور جو قادر ہو اس کی ذبح، غیر مقدور کی ذبح کے مخالف ہے اگر اس نے شکار کو پکڑا اور چھری نکالنے سے پہلے فوت ہوگیا یا اس نے اسے پکڑا جب کہ چھری اس کے ہاتھ میں تھی پھر بھی اس کا کھانا جائز ہے اگر اس کے ساتھ چھری نہ ہو اور وہ اس کی تلاش میں مشغول ہوا تو اسے نہیں کھایا جائے گا۔ امام شافعی (رح) نے فرمایا : شکار کرنے والے جانوروں نے شکار کو پکڑا اور اسے زخمی نہیں کیا تو اس میں دو قول ہیں ایک یہ کہ اسے نہیں کھایا جائے گا حتی کہ اسے زخمی کردیا جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” من الجوارح “ یہ ابن القاسم کا قول ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ وہ حلال ہے۔ یہ اشہب کا قول ہے۔ اشہب نے کہا : اگر کتے کے ٹکرانے سے مرگیا تو بھی کھایا جائے گا۔
مسئلہ نمبر : (13) حضور نبی مکرم ﷺ کا ارشاد ہے : ” اگر پورا دن شکار غائب رہے، پھر تو اس میں کوئی اثر نہ پائے سوائے اپنے تیر کے اثر کے تو تو کھا “۔ اسی طرح ابو ثعلبہ کی حدیث میں ہے جس کو ابو داؤد نے نکالا ہے۔ مگر اس میں زائد ہے، ” تین دن کے بعد کھا جب کہ اس میں بدبو پیدا نہ ہوئی ہو “۔ (2) (ایضا، سنن ابی داؤد حدیث نمبر 2474، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
نبی مکرم ﷺ کا ارشاد اس کے مخالف ہے ” کل ما اضمیت ودع ما انمیت “ (3) (المعجم الکبیر للطبرانی جلد 12، صفحہ 27)
تو کھا جو جلدی سے قتل ہوجائے جب کہ تو اس کو دیکھ رہا ہو اور تو اسے چھوڑ دے جو تجھ سے غائب ہوجائے اور مر جائے جب تو اسے نہ دیکھ رہا ہو کہا جاتا ہے : قد انمیت الرمیۃ فنمت، تنمی۔ جب جانور غائب ہو کر مر جائے۔
امراء القیس نے کہا :
فھو لا تنمی رمیتہ مالہ لاعد من نفرہ :
علماء کا اختلاف ہے غائب شکار کے کھانے میں اس کے متعلق تین اقوال ہیں۔
(1) اسے کھایا جائے گا خواہ اسے تیر نے قتل کیا ہو یا کتے نے قتل کیا ہو۔
(2) اس سے کچھ نہیں کھایا جائے گا جب وہ غائب ہوجائے کیونکہ آپ کا ارشاد ہے : کل ما اصمیت ودع انمیت “۔ اس کو نہیں کھایا جائے گا، کیونکہ اندیشہ ہے کہ اس کے قتل پر تیر کے علاوہ حشرات الارض نے مدد کی ہو۔
(3) تیر اور کتے کے شکار میں فرق ہے تیر لگا ہوا گم ہوجائے اور پھر مل جائے تو اسے کھایا جائے گا اور کتے کا شکار ایسی صورت میں نہیں کھایا جائے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ تیر ایک جہت سے قتل کرتا ہے پس اس میں کوئی اشکال نہیں ہے اور درندہ یا کتا کئی جہات سے قتل کرتا ہے اس میں اشکال ہوتا ہے ہمارے علماء کے تین اقوال ہیں۔ امام مالک (رح) نے مؤطا کے علاوہ میں کہا : جب شکار رات گزارے پھر وہ مردہ پائے تو باز یا کتا یا تیر نے شکار کو چیر پھاڑ نہ دیا ہو تو اسے نہ کھایا جائے گا، ابو عمر نے کہا : یہ تیری راہنمائی کرتا ہے کہ جب شکار کو پہنچ جائے تو ان کے نزدیک حلال ہے وہ اسے کھائے اگرچہ رات بھی گزر جائے مگر وہ مکروہ فرماتے تھے جب رات گزار لے، کیونکہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اگر تجھ سے شکار ایک رات غائب ہوجائے تو تو نہ کھا، اسی طرح ثوری (رح) سے مروی ہے فرمایا : جب تجھ سے ایک دن غائب ہوجائے تو اس کا کھانا مکروہ ہے۔ امام شافعی (رح) نے فرمایا : قیاس یہ ہے کہ وہ اسے نہ کھائے جب اس سے اس کا گرنا غائب ہوجائے، اوزاعی نے کہا : اگر دوسرے دن وہ اسے مردہ پائے اور اس میں اپنے تیر یا کتے کا اثر پائے تو اسے کھائے اسی طرح اشہب، عبدالملک اور اصبغ نے کہا : علماء نے فرمایا : شکار کا کھانا جائز ہے اگرچہ رات گزر جائے جب کہ وہ اپنے شکار کو قتل کر دے، حدیث شریف میں ہے ” جب تک کہ وہ بدبو دار ہوجائے تو اسے مستقذ رات لاحق ہومتغیر کھانا کھایا (1)
بعض علماء نے فرمایا : یہ معلل ہے جس سے اس کے کھانے پر ضرر کا خوف ہوتا ہے اس تعلیل پر اس کا کھانا حرام ہوتا ہے اگر خوف محقق ہو۔ واللہ اعلم۔
مسئلہ نمبر : (14) یہودی اور نصرانی کے کتے کے ساتھ کرنے میں علماء کا اختلاف ہے۔ حسن بصری (رح) نے اس کو مکروہ کہا ہے مجوسی کا کتا، باز اور شکر اس کے ساتھ شکار کو حضرت جابر بن عبداللہ حسن، عطا، مجاہد، نخعی ثوری اور اسحاق نے مکروہ کہا ہے اور ان کے کتوں کے ساتھ کو امام مالک، امام شافعی اور امام ابو حنفیہ رحمۃ اللہ علیہم نے جائز قرار دیا ہے جب کہ شکار کرنے والا مسلمان ہو، ان علماء نے فرمایا : یہ اس کی چھری کی مثل ہے، اور اگر اہل کتاب میں سے شکاری ہو تو امام مالک کے علاوہ جمہور امت اس کے شکار کے جواز کے قائل ہیں اس کے اور اس کے ذبیحہ کے درمیان فرق کیا ہے اور یہ تلاوت کی (آیت) ” یایھا الذین امنوا لیبلونکم اللہ بشیء من الصید تنالہ ایدیکم ورماحکم “۔ (المائدہ : 94) فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس میں یہودی اور نصرانی کا ذکر نہیں کیا۔ ابن وہب اور اشہب نے کہا : یہودی اور نصرانی کا شکار اس کے ذبیحہ کی طرح حلال ہے اور امام محمد کی کتاب میں صابی کا نہ شکار جائز ہے اور نہ اس کی ذبح جائز ہے، یہ یہود ونصاری کے درمیان قوم ہے اور ان کا دین نہیں ہے۔ اور اگر شکاری مجوسی ہو تو اس کے کھانے سے امام مالک، امام شافعی، امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہم ان کے اصحاب اور جمہور علماء نے منع کیا ہے، ابو ثور کے اس میں دو قول ہیں۔
(1) ان علماء کے قول کی طرح۔
(2) مجوسی اہل کتاب سے ہے اور ان کا شکار جائز ہے۔ اگر نشہ والا شخص شکار کرے یا ذبح کرے تو اس کا شکار نہیں کھایا جائے گا اور نہ اس کا ذبیحہ کھایا جائے گا ذبح میں قصد کی ضرورت ہوتی ہے اور نشہ والے کا کوئی قصد نہیں ہے۔
مسئلہ نمبر : (15) (آیت) مما امسکن علیکم “۔ کے ارشاد من کے بارے میں نحویوں کا اختلاف ہے۔ اخفش نے کہا : یہ زائدہ ہے جیسے (آیت) ” کلوا من ثمرہ “۔ (الانعام : 141) میں ہے بصریوں نے اس کو خطا کہا ہے، انہوں نے کہا : من اثبات میں زائد نہیں ہوتا ہوتا نفی اور استفہام میں زائد کیا جاتا ہے۔ (آیت) ” من ثمرہ یکفر عنکم من سیاتکم یغفرلکم من ذنوبکم “۔ میں تبعیض کے لیے ہے، اس کا جواب دیا اور کہا : (آیت) ” یغفرلکم ذنوبکم “۔ (الصف : 12) (من) کے اسقاط) کے ساتھ ہے۔ یہ ایجاب میں اس کی زیادتی پر دلالت کرتا ہے اس کا جواب دیا گیا ہے کہ من یہاں تبعیض کے لیے ہے، کیونکہ شکار میں سے گوشت حلال ہے نہ گوبر اور خون۔
میں کہتا ہوں : یہ مراد نہیں ہے اور کھانے میں معہود نہیں ہے اور جو انہوں نے کہا ہے اس پر اعتراض کیا گیا ہے اور (آیت) ” مما امسکن “ سے مراد یہ کہ تمہارے لیے جوارح جو باقی چھوڑیں، یہ اس کے قول پر ہے جس نے کہا : اگر کتا شکار کھالے تو کوئی نقصان نہیں، اس احتمال کے سبب شکار کے کھانے کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے جب شکار سے شکار جانور کھا بھی لے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔
مسئلہ نمبر : (16) یہ آیت کریمہ کتوں کے رکھنے اور شکار کے لیے کتا پالنے کے جواز پر دلالت کرتی ہے صحیح سنت میں یہ ثابت ہے اور کھیتی اور جانوروں کی حفاظت کے لیے کتوں کے رکھنے کا سنت نے اضافہ کیا ہے، ابتدائے اسلام میں کتوں کے قتل کرنے کا حکم دیا حتی کہ اس عورت کے پیچھے آنے والے کتے کو قتل کیا جاتا تھا جو عورت دیہات سے آتی تھی، مسلم نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے فرمایا : ” جس نے شکاری کتے یا جانروں کی حفاظت کرنے والے کتے کے علاوہ کتا رکھا ہر روز اس کے اجر سے دو قیراط کم ہوتے ہیں “۔ (1) (صحیح مسلم، کتاب المساقات۔۔۔۔۔۔ جلد 2، صفحہ 21)
اسی طرح حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے جانوروں کی حفاظت والے، شکار والے یا کھیتی کی حفاظت کرنے والے کتے کے علاوہ کتا رکھا اس کے اجر سے روزانہ ایک قیراط کم ہوگا “۔ (2) (صحیح مسلم، کتاب المساقات۔۔۔۔۔۔ جلد 2، صفحہ 21)
الزہری نے کہا : حضرت ابن عمر ؓ کے لیے حضرت ابوہریرہ ؓ کا قول ذکر کیا گیا ہے، انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ حضرت ابوہریرہ ؓ پر رحم فرمائے، وہ کھیتی والے تھے، جو ہم نے ذکر کیا اس پر سنت دلالت کرتی ہے، جس نے ان منافع کے علاوہ کے لیے کتا رکھا اس کے اجر سے کمی ہوگی، خواہ مسلمانوں کو کتے کا ڈرانے، بھونکنے کے ساتھ انہیں تشویش میں ڈالنے کی وجہ سے ہو جس طرح بصرہ کے بعض شعراء نے کہا جب کہ وہ عمار میں اترے اور اس کے کتے کی آواز سنی تو کہا :
نزکنا بمعمار فاشلی کلابہ علینا فکدنا بین بیتیہ نؤکل :
فقلت لاصحابی اسر الیھم اذا الیوم ام یوم القیامہ اطول :
یا جس گھر میں کتے ہوتے ہیں اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے اور یا اس کی نجاست کی وجہ سے جیسا کہ امام شافعی کا خیال ہے یا ایسی چیز کے متعلق نہی ہے جس میں منفعت نہ ہو۔ واللہ اعلم۔
دونوں روایتوں میں سے ایک روایت میں فرمایا : قیراطان “ (دو قیراط) اور دوسری روایت میں ہے ” قیراط “ (ایک قیراط) اس میں احتمال ہے کہ کتوں کی دو قسمیں ہوں ایک دوسری سے زیادہ سخت قسم ہو جیسے وہ کالا کتا جس کے قتل کرنے کا نبی مکرم ﷺ نے حکم فرمایا اور استثنا میں اسے داخل نہیں کیا جب اس کے قتل سے منع فرمایا : آپ ﷺ نے فرمایا : ” تم پر کالے کتے دو نقطوں والے کو قتل کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ شیطان ہے “ (1) (صحیح مسلم، کتاب المساقات والمزارعۃ۔ جلد 2، صفحہ 22)
اس حدیث کو مسلم نے نقل کیا ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ جگہ کے اختلاف کی بنا پر ہو مثلا مدینہ طیبہ یا مکہ مکرمہ میں کتا رکھنا دو قراط کی کمی کا باعث ہو اور دوسری جگہوں پر ایک قیراط کمی کا باعث ہو۔ واللہ اعلم۔
اور جو کتا رکھنا مباح ہے اس کے رکھنے سے اجر کم نہیں ہوتا جیسے گھوڑا، بلی، اس کا بیچنا اور خریدنا جائز ہے حتی کہ سحنون نے کہا : اس کی ثمن کے ساتھ حج کرسکتا ہے، اور جانوروں کی حفاظت والا کتا جس کا رکھنا جائز ہے امام مالک (رح) کے نزدیک وہ کتا ہے جو جانوروں کے ساتھ چلتا ہے وہ کتا مراد نہیں ہے جو گھر میں چوروں سے حفاظت کرتا ہے اور کھیتی کا کتا اس سے مراد وہ ہے جو رات اور دن میں وحوش سے حفاظت کرتا ہے نہ چوروں سے حفاظت کے لیے کتا رکھنا جائز قرار دیا ہے۔
مسئلہ نمبر : (17) اس آیت میں دلیل ہے کہ عالم کے لیے وہ فضیلت ہے جو جاہل کے لیے نہیں ہے کیونکہ کتا جب سکھایا جاتا ہے تو اسے تمام کتوں پر فضیلت ہوتی ہے پس انسان کو جب علم ہو تو اس کو تمام لوگوں پر فضیلت کا ہونا بدرجہ اولی ہوگا خصوصا جب وہ اپنے علم کے مطابق عمل کرے، یہ اس طرح ہے جیسا کہ حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے فرمایا : ہر چیز کی قیمت ہے اور انسان کی قیمت وہ ہے جو اسے خوبصورت بنائے۔
مسئلہ نمبر : (18) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واذکرواسم اللہ علیہ “۔ پڑھنے کا حکم ہے، بعض علماء نے فرمایا : شکار پر کتا چھوڑنے کا آگاہ کرنے اور ذبح کے وقت بسم اللہ پڑھنا ایک ہے اس بیان سورة انعام میں آئے گا۔ بعض علماء نے فرمایا : یہاں کھانے کے وقت بسم اللہ پڑھنا مراد ہے اور یہ قول اظہر ہے صحیح مسلم میں ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے حضرت عمر بن ابی سلمہ ؓ سے کہا : ” اے غلام ! بسم اللہ پڑھ اور دائیں ہاتھ سے کھا اور اپنے سامنے سے کھا۔ “ (2) (صحیح بخاری، کتاب الاطعمۃ جلد 2، صفحہ 809)
حضرت حذیفہ (رح) کی حدیث سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” شیطان کھانے کو حلال سمجھتا ہے مگر یہ کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے “ (3) (صحیح مسلم، کتاب الاشربیہ جلد 2، صفحہ 172)
اگر کھانے کی ابتدا میں بسم اللہ بھول جائے تو آخر میں بسم اللہ پڑھے، نسائی نے حضرت امیہ بن مخشی سے روایت کیا ہے یہ رسول اللہ کے صحابہ کر امرضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے تھے، رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو کھانا کھاتے دیکھا جب کہ اس نے بسم اللہ نہیں پڑھی تھی جب وہ آخری لقمہ میں تھا تو اس نے کہا : بسم اللہ اولہ وآخرہ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” شیطان اس کے ساتھ کھانا کھاتا رہا پھر جب اس نے بسم اللہ پڑھی تو جو اس نے کھایا تھا اسے قئی کردیا “۔ (4) (سنن ابی داؤد، کتاب الاطعمۃ، حدیث 3276، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
مسئلہ نمبر : (19) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واتقوا اللہ “ تقوی کا حکم دیا اور قریبی اشارہ ان اوامر کی طرف ہے جن کی یہ آیات اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہیں اور حساب کی سرعت اس حیثیت سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے از روئے علم ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے اور ہر چیز کو شمار کر رکھا ہے، اسے شمار کرنے اور عقد کی ضرورت نہیں ہے جیسے حساب کرنے والے کرتے ہیں اسی وجہ سے فرمایا : (آیت) ” وکفی بنا حسبین “۔ (الانبیائ) اللہ تعالیٰ ایک دفعہ ہی خلائق کا حساب کرلے گا، یہ بھی احتمال ہے کہ یہ قیامت کے دن کی وعید ہو گویا فرمایا : تمہارے لیے اللہ کا حساب جلدی ہونے والا ہے، کیونکہ قیامت قریب ہے، یہ بھی احتمال ہے کہ حساب سے مراد جزا دینا ہو گویا دنیا میں جلد قریب جزا دینے کی دھمکی دی اگر انہوں نے اللہ کا خوف نہ کیا۔
Ayah 5:5آیت نمبر : 5۔
اس میں دس مسائل ہیں :۔
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الیوم احل لکم الطیبت “۔ یعنی الیوم اکملت لکم دینکم والیوم احل لکم الطیبات “۔ تاکید کے لیے اعادہ فرمایا یعنی تمہارے لیے ان پاکیزہ چیزوں کو حلال کیا جن کا تم نے سوال کیا اور پاکیزہ چیزیں اس آیت کے نزول سے پہلے مسلمانوں کے لیے مباح کی گئی تھیں، یہ ان کے سوال کا جواب ہے، کیونکہ انہوں نے کہا : ہمارے لیے کیا حلال کیا گیا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا (آیت) ” الیوم “۔ کے ذکر سے اشارہ حضرت محمد ﷺ کے وقت کی طرف ہے جیسے کہا جاتا ہے : ھذہ ایام فلاں یہ فلاں کے ایام ہیں یعنی یہ تمہارے ظہور اور اسلام کے پھیلنے کا وقت ہے، میں نے اس کے ساتھ تمہارے دین کو مکمل کردیا اور تمہارے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال کردیا، اس سے پہلے آیت میں الطیبات کا ذکر گزر چکا ہے۔
مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وطعام الذین اوتوا الکتب حل لکم “۔ یہ مبتدا خبر ہیں۔ الطعام سے مراد ہر وہ چیز جو کھائی جاتی ہے ذبائح اس سے ہیں، اکثر علماء تفسیر کے نزدیک یہاں خاص ذبائح مراد ہیں اور ان کے طعام سے جو ہم پر حرام ہیں وہ عموم الخطاب کے تحت داخل نہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ “۔ (الانعام : 121) نہ کھاؤ اس سے جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو پھر استثنی فرمائی : (آیت) ” وطعام الذین اوتوا الکتب حل لکم “۔ یعنی یہودی اور نصرانی کا ذبیحہ تمہارے لیے حلال ہے اگرچہ نصرانی ذبح کے وقت مسیح (علیہ السلام) کا نام اور یہودی یا عزیر کہے۔ کیونکہ وہ اپنی ملت پر ذبح کرتے ہیں، عطا نے کہا : نصرانی کے ذبیحہ سے کھاؤ اگرچہ وہ مسیح (علیہ السلام) کا نام لے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذبائح کو مباح قرار دیا اور جو وہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے قاسم بن مخیمرہ نے کہا : اس کے ذبیحہ سے کھاؤ اگرچہ وہ سر جس کا نام لے، یہ ان کے کنیسہ کا نام ہے، یہ زہری، ربیعہ، شعبی اور مکحول رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے، اور دو صحابہ حضرت ابو درداء ؓ اور حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے مروی ہے، علماء کی ایک جماعت نے کہا : جب تم سنو کہ کتابی اللہ تعالیٰ کے علاوہ ذبح کے وقت کوئی نام لے رہا ہے تو پھر نہ کھاؤ یہی قول صحابہ میں سے حضرت علی ؓ ، حضرت عائشہ ؓ حضرت ابن عمر ؓ کا ہے، اور یہی قول طاؤوس، حسن کا ہے انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے دلیل پکڑی ہے : (آیت) ” ولا تاکلوا مما لم یذکراسم اللہ علیہ وانہ لفسق “۔ (الانعام : 121)
امام مالک (رح) نے فرمایا : میں اس کو ناپسند کرتا ہوں، انہوں نے اس کو حرام قرار نہیں دیا، میں کہتا ہوں : تعجب ہے الکیاطبری پر جس نے اہل کتاب کے ذبیحہ کے جواز پر اتفاق حکایت کیا ہے اس نے اس سے استدلال کیا ہے کہ بسم اللہ ذبیحہ میں شرط نہیں ہے، اس نے کہا : اس میں شک نہیں کہ یہودی، نصرانی ذبیحہ پر بسم اللہ نہیں پڑھتے مگر اس معبود کا جو مسیح اور عزیر کی طرح حقیقۃ معبود نہیں ہے، اگر وہ حقیقۃ معبود کا نام لیتے تو پھر بھی ان کا یہ نام لینا عبادت کے طریق پر نہ تھا بلکہ وہ ایک دوسرے طریق پر تھا اور بسم اللہ کا شرط ہونا، بغیر عبادت کے سمجھ نہیں آتا اور کافر سے تسمیہ کا وجود اور اس کا عدم برابر ہے، کیونکہ اس سے عبادت کا تصور بھی نہیں، کیونکہ نصرانی مسیح کے نام پر ذبح کرتا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے مطقا ان کے ذبائح کی حلت کا حکم فرمایا ہے پس اس میں دلیل ہے کہ بسم اللہ اصلا شرط نہیں ہے جیسا کہ امام شافعی (رح) نے فرمایا مزید علماء کے اختلاف کا ذکر سورة انعام میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
مسئلہ نمبر : (3) ایسی چیزیں جن میں ذبح کی ضرورت نہیں جیسے کھانا جس میں ذبح نہیں ہوتی اس میں علماء کا کوئی اختلاف نہیں ہے جیسے پھل، گندم ان کا کھانا جائز ہے، کیونکہ کسی ایک کا مالک ہونا اس میں مضمر نہیں، اور وہ کھانا جس میں کسی کا عمل دخل ہوتا ہے اس کی دو قسمیں ہیں اس میں صنعت کی گردش ہوگی اس کے ساتھ دین کا کوئی تعلق نہ ہوگا جیسے آٹے کی روٹی، زیتون کا تیل وغیرہ اگر ذمی سے دور کرے تو یہ اضطراب کی بنا پر ہوگا اور دوسری قسم یہ تذکیہ ہے جس کا ہم نے ذکر کیا یہ دین اور نیت کا محتاج ہے جب قیاس یہ تھا کہ ان کے ذبائح جائز نہیں ہیں جیسے تو کہتا ہے نہ ان کی نماز ہے اور نہ ان کی مقبول عبادت ہے، اللہ تعالیٰ نے اس امت کو ان کے ذبائح میں رخصت دی ہے نص نے قیاس سے خارج کردیا، جیسا کہ ہم نے حضرت ابن عباس ؓ کے قول سے ذکر کیا ہے۔
مسئلہ نمبر : (4) جس چیز کو وہ ذبح کریں اس میں علماء کے دو قول ہیں کہ کیا جو چیز ان پر حرام ہے اس میں ذبح کا عمل ہوگا یا نہیں ؟ جمہور علماء کا نظریہ یہ ہے کہ ذبح ہر ذبیحہ میں عامل ہے اس میں سے جو حلال ہے اور جو اس پر حرام ہے، کیونکہ وہ ذبح کرنے والا ہے، اہل علم کی ایک جماعت نے کہا : ہمارے لیے ان کے ذبیحہ سے وہ حلال ہے جو ان کے لیے حلال ہے۔ کیونکہ جو ان کے حلال نہیں ہے اس میں ان کا ذبح کرنا بھی عمل نہیں کرتا، اس گروہ نے ایسے جانور کو کھانے سے منع کیا ہے جس کا گردہ خراب ہو اور خالص چربی جو اہل کتاب کے ذبائح سے ہو لفظ طعام کو انہوں نے بعض طعام پر مقصور کیا ہے اور پہلے طائفہ نے عموم پر اس کو محمول کیا ہے وہ تمام چیزیں جو کھائی جاتی ہیں سب کو طعام کا لفظ شامل ہے، یہ اختلاف امام مالک کے مذہب میں بھی موجود ہے، ابو عمر نے کہا : امام مالک نے یہود کی چربی کو مکروہ کہا ہے اونٹوں میں جو وہ نحر کریں اسے کھانا بھی مکروہ کہا ہے، اکثر علماء اس میں حرج نہیں دیکھتے سورة انعام میں مزید بیان آئے گا، امام مالک (رح) اہل کتاب کے ذبیحہ کو مکروہ قرار دیتے تھے جب مسلمان کا ذبیحہ موجود ہو اور ان کے لیے ایسے بازاروں کا ہونا بھی مکروہ قرار دیا ہے جن میں وہ اپنے ذبائح فروخت کریں، یہ ان کی طرف سے تنزہ اور تقوی ہے۔
مسئلہ نمبر : (5) مجوس کے بارے میں علماء کا اجماع ہے سوائے ان علماء کے جو جماعت سے جدا ہوئے کہ ان کا ذبیحہ نہیں کھایا جائے گا نہ ان سے نکاح کیا جائے گا، کیونکہ علماء کے مشہور مہذہب پر یہ اہل کتاب نہیں ہیں، اور ایسے لوگوں کے کھانا کھانے میں کوئی حرج نہیں جس کے لیے کتاب نہیں ہے جیسے مشرکین، بت پرست جب کہ وہ کھانا ان کے ذبائح سے نہ ہو اور اس کے تزکیہ کی ضرورت نہ ہو سوائے جبن (پنیر) کے، کیونکہ اس میں مردار کا اوجھ ہوتا ہے، اگر بچے کا باپ مجوسی ہو اور ماں کتابی ہو تو اس کا حکم امام مالک (رح) کے نزدیک اس کے باپ والا ہوگا اور دوسرے علماء نے نزدیک بچہ کا ذبیحہ نہیں کھایا جائے گا جب اس کے والدین میں سے کوئی ایک ایسا ہو جس کا ذبیحہ نہیں کھایا جاتا۔
مسئلہ نمبر : (6) نصاری بنی تغلب کا ذبیحہ اور ہر وہ شخص جو یہودیت اور نصرانیت میں داخل ہے ان کے ذبائح کے متعلق حضرت علی ؓ منع کرتے تھے، کیونکہ بنی تغلب عرب تھے، آپ فرماتے تھے : انہوں نے نصرانیت سے سوائے شراب پینے کے کچھ نہیں لیا، یہ امام شافعی (رح) کا قول ہے، اس بنا پر نصاری کے ذبائح سے منع نہیں کیا جاتا جو ان میں سے یقینی نصرانی ہیں جمہور علماء نے کہا ہر نصرانی کا ذبیحہ حلال ہے خواہ وہ بنی تغلب سے ہو یا کسی اور قبیلہ سے ہو، اسی طرح یہود کا حکم ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے (آیت) ” ومن یتولھم منکم فانہ منھم “۔ (المائدہ : 51) سے حجت پکڑی ہے اگر بنی تغلب نصاری میں سے نہ ہوتے مگر ان کی دوستی کی وجہ سے تو ان کے ذبائح کھائے جائیں گے۔
مسئلہ نمبر : (7) تمام کفار کے برتنوں میں کھانے، پینے، پکانے میں کوئی حرج نہیں جب کہ وہ سونے، چاندی اور خنزیر کی جلد سے نہ ہوں، لیکن انکے برتن دھونے کے بعد استعمال کیے جائیں گے، کیونکہ وہ نجاستوں سے نہیں بچتے اور مردار کھاتے ہیں، جب وہ ان ہانڈیوں میں پکاتے ہیں تو وہ بھی ناپاک ہوجاتی ہے، اور بعض اوقات نجاسات مٹی کی ہانڈیوں کے اجراء میں سرایت کر جاتی ہیں جب اس کے بعد اس ہانڈی میں کوئی چیز پکائی جائے تو اس نجس اجزاء کے ہانڈی میں پکائی جانے والی چیز سے ملنے کا اندیشہ ہے پس تقوی کا تقاضا یہ ہے کہ اس سے بچا جائے۔
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا : اگر برتن نحاس (تانبے) یا لوہے کا ہو تو اسے دھویا جائے گا اور اگر برتن مٹی کا ہو تو اس میں پانی ابال کر دھویا جائے گا یہ اس صورت میں ہے جب اس کی ضرورت ہو، یہ امام مالک کا قول ہے۔ اور وہ برتن جو پکانے کے لیے استعمال نہیں ہوتے ان کو بغیر دھوئے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ دارقطنی نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے ایک نصرانی کے گھر میں لکڑی کے برتن میں وضو کیا اور یہ صحیح ہے، اس کا مکمل بیان سورة الفرقان میں آئے گا صحیح مسلم میں حضرت ابو ثعلبہ خشنی سے مروی ہے فرمایا میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ہم اہل کتاب قوم کی زمین میں ہوتے ہیں ہم ان کے برتنوں میں کھاتے ہیں اور شکار والی زمین میں ہوتے ہیں میں اپنی کمان کے ساتھ شکار کرتا ہوں اور اپنے سدھائے ہوئے کتے کے ساتھ شکار کرتا ہوں اور اپنے اس کتے کے ساتھ شکار کرتا ہوں جو سدھایا ہوا نہیں ہوتا آپ مجھے بتائیں ان میں سے کون سی چیز میرے لیے حلال ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :” جو تو نے اہل کتاب کی قوم کی زمین کا ذکر کیا ہے کہ تم وہاں ہوتے ہو اور ان کے برتنوں میں کھاتے ہو، اگر تو تم ان کے برتنوں کے علاوہ کوئی چیز پاؤ تو تم ان میں نہ کھاؤ اگر کوئی اور برتن نہ پاؤ تو ان کے برتنوں کو دھوؤ پھر ان میں کھاؤ“ (1) (صحیح مسلم، کتاب الصید والذبائح، جلد 2، صفحہ 146) پھر مکمل حدیث ذکر کی۔
مسئلہ نمبر : (8) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وطعامکم حل لھم “۔ یہ آیت دلیل ہے کہ وہ ہماری شرع کی تفصیل کے مخاطب ہیں یعنی جب وہ ہم سے گوشت خریدیں تو ان کے لیے وہ حلال ہے اور ہمارے لیے ان کی ثمن حلال ہے۔
مسئلہ نمبر : (9) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” والمحصنت من المؤمنت والمحصنت من الذین اوتو الکتب من قبلکم “۔ اس آیت کا معنی سورة بقرہ، اور سورة نساء میں گزر چکا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے، کہ (آیت) ” والمحصنت من المؤمنت والمحصنت من الذین اوتو الکتب “۔ سے مراد وہ عورتیں ہیں جو مملکت اسلامیہ میں ہوں نہ کہ دارا الحرب میں ہوں پس یہ اہل کتاب کی ان عورتوں کے ساتھ خاص ہوگا جو مملکت اسلامیہ میں ہوں، بعض علماء نے فرمایا : آیت کے عموم کی وجہ سے ذمیہ حربیہ ہر ایک سے نکاح کرنے کی اجازت ہے، حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے، فرمایا (آیت) ” والمحصنت “ صاد کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، اور کسائی نے بھی اسی طرح پڑھا ہے مجاہد (رح) نے کہا (آیت) ” المحصنت “ ، سے مراد آزاد عورتیں ہیں، ابو عبید نے کہا : ان کا نظریہ یہ ہے کہ اہل کتاب کی لونڈیوں سے نکاح کرنا حلال نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” من ما ملکت ایمانکم من فتیتکم المؤمنت “۔ (النسائ : 25) یہ وہ قول ہے۔ جب پر بڑے بڑے علماء کا نظریہ قائم ہے۔
مسئلہ نمبر : (10) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ومن یکفربالایمان “۔ بعض علماء نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” والمحصنت من الذین اوتوالکتب “۔ تو اہل کتاب کی عورتوں نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ ہمارے دین سے راضی نہ ہوتا تو ہمارے لیے نکاح مباح نہ فرماتا تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” ومن یکفربالایمان “ یعنی جس نے اس کا انکار کیا جو حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا گیا، ابو الہیثم نے کہا : الباء صلہ ہے یعنی ومن یکفر الا یمان یعنی یجحدہ۔ جس نے ایمان کا انکار کیا (آیت) ” فقد حبط عملہ (المائدہ : 5) ابن السمیقع نے فقد حبط با کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، بعض علماء نے فرمایا : جب فرائض اور احکام ذکر کیے گئے تو ان کا قیام لازم تھا اور اس کی مخالفت پر وعید ذکر کی گئی، کیونکہ ان کے ضائع کرنے پر زجر کی تاکید اس میں ہے، حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد ؓ سے مروی ہے کہ معنی یہ ہے ومن یکفر باللہ “ جس نے اللہ کا انکار کیا حسن بن فضل نے کہا : اگر یہ روایت صحیح ہو تو اس کا معنی ہے برب الایمان، شیخ ابو الحسن اشعری نے کہا : اللہ تعالیٰ کو ایمان کہنا جائز نہیں مگر حشویہ اور سالمیہ فرقوں کا قول اس کے خلاف ہے کیونکہ ایمان امن یومن ایمانا کا مصدر ہے اور اس فاعل مومن ہے الایمان کا معنی تصدیق ہے اور تصدیق نہیں ہوتی مگر کلام اور باری تعالیٰ کا کلام ہونا جائز نہیں۔