Ayah 5:30آیت نمبر : 30۔
اس آیت میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فطوعت لہ نفسہ “۔ یعنی اس کے نفس نے اس پر قتل کا معنی آسان کردیا نفس نے اسے تشجیع کی اور اپنے بھائی کو قتل کرنے کی صورت آسان بنادی، کہا جاتا ہے طاع الشی یطوع یعنی آسان کردیا، اطاعت کی، طوعہ فلان لہ یعنی اس نے اسکے لیے معاملہ آسان کردیا، ہر وی نے کہا : طوعت و اطاعت کا ایک معنی ہے، کہا جاتا ہے طاع لہ کذا جب کوئی کسی کے پاس خوشی سے آئے، بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے طاوعتہ نفسہ فی قتل اخیہ، حرف جر کو ہٹا دیا اور قتل اخیہ منصوب ہوگیا، روایت ہے کہ وہ ناواقف تھا کہ وہ اپنے بھائی کو کیسے قتل کرے، ابلیس ایک پرندہ یا کوئی حیوان لے کر آیا اور اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا تاکہ قابیل اس کی اقتداء کرے تو قابیل نے بھی ایسا کیا، یہ ابن جریج اور مجاہد وغیرہما نے کہا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : قابیل نے ہابیل کو سویا ہوا پایا تو اس نے پتھر کے ساتھ اس کا سر کچل دیا (2) (زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 200)
اور یہ مکہ کے پہاڑ ثور میں ہوا تھا یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے، بعض علماء نے فرمایا : یہ حرا کے عقب میں ہوا، محمد بن جریر طبری نے یہ حکایت کیا ہے امام جعفر صادق نے کہا : بڑی مسجد کی جگہ بصرہ میں ہوا تھا، ہابیل کی عمر میں اس وقت بیس سال تھی جب قابیل نے اسے قتل کیا تھا، کہا جاتا ہے : قابیل اپنی طبع کی وجہ سے قتل کو جانتا تھا، کیونکہ انسان اگرچہ قتل کو نہ بھی دیکھے پھر بھی وہ طبعی طور پر اس کو جانتا ہے کہ نفس فانی ہے اور اس کا تلف کرنا ممکن ہے پس اس نے ایک پتھر اٹھایا اور ہند کی زمین میں اسے قتل کردیا۔ واللہ اعلم۔
جب اپنے بھائی کو قابیل نے قتل کردیا تو شرمندہ ہوا اور اس کے سر کے پاس روتے ہوئے بیٹھ گیا، پھر دو کوئے آئے وہ آپس میں لڑنے لگے ایک دوسرے کو قتل کردیا پھر اس قاتل کوے نے مقتول کوے کے لیے گڑھا کھودا اور اسے دفن کردیا، تو قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کے لیے بھی ایسا ہی کیا، السؤۃ سے مراد شرمگاہ ہے، بعض نے فرمایا : اس سے مراد مقتول جسم ہے پھر وہ عدن کی زمین کی طرف بھاگ گیا، پھر ابلیس اس کے پاس آیا اور کہا : آگ نے تیرے بھائی کی قربانی کو کھالیا ہے، کیونکہ وہ آگ کی عبادت کرتا تھا تو بھی آگ کی عبادت کر یہ تیرے لیے اور تیری اولاد کے لیے ہوجائے گی، پس اس نے آگ کے لیے ایک مکان بنایا، یہ پہلا شخص تھا جس نے آگ کی عبادت کی۔ واللہ اعلم۔
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے جب اس نے قتل کیا تھا تو حضرت آدم (علیہ السلام) مکہ میں تھے درخت خشک ہوئے کھانوں کا ذائقہ بدل گیا، پھل کھٹے ہوئے اور پانی نمکین ہوگیا اور زمین کا رنگ تبدیل ہوگیا، حضرت آدم (علیہ السلام) نے کہا : زمین پر کوئی حادثہ ہوگیا ہے وہ ہند میں آئے تو ہابیل کو قابیل قتل کرچکا تھا۔ (1) (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 243)
بعض نے فرمایا : قابیل وہ ہے جو حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرف لوٹا، جب وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس آیا تو آپ نے پوچھا : ہابیل کہاں ؟ اس نے کہا : میں نہیں جانتا، گویا تو نے مجھے اس کی حفاظت پر مقرر کیا تھا، حضرت آدم (علیہ السلام) نے اسے کہا : کیا تو نے ایسا کیا ہے ؟ اللہ کی قسم ! اس کا خون ندا دے رہا ہے اے اللہ ! اس زمین پر لعنت کر جس نے ہابیل کے خون کو پیا، روایت ہے کہ اس وقت سے زمین خون کو نہیں پیتی، پھر حضرت آدم (علیہ السلام) سو سال زندہ رہے اور مسکرائے نہیں حتی کہ ان کے پاس فرشتہ آیا اور کہا : حضرت آدم اللہ نے تجھے سلام کیا اور تجھے ہنسایا، یہ مجاہد (رح) اور سالم بن ابی الجعدرحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے، حضرت آدم (علیہ السلام) کی عمر سے ایک سو تیس سال گزر گئے یہ ہابیل کے قتل کے پانچ سال بعد ہوا تو ان کے لیے ایک چیز پیدا ہوئی اس کی تفسیر ہبۃ اللہ ہے یعنی ہابیل کا بدل (2) (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 243)
مقاتل نے کہا : قابیل کے ہابیل کو قتل کرنے سے پہلے درندے اور پرندے حضرت آدم (علیہ السلام) سے انس رکھتے تھے، جب قابیل نے ہابیل کو قتل کیا تو وہ بھاگ گئے روایت ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے کہا : جب حالت تبدیل ہوگئی،
تغیرت البلاد ومن علیھا فوجہ الارض مغیر قبیح :
تغیر کل ذی طعم ولون وقل بشاشۃ الوجہ الملیح :
بہت سے اشعار ہیں جن کو ثعلبی وغیرہ نے ذکر کیا ہے، ابن عطیہ نے کہا : ہر شعر بشاثۃ کی نصب کے ساتھ ہے اور بغیر تنوین کے ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 180 دارالکتب العلمیہ)
قشیری وغیرہ نے کہا : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : حضرت آدم (علیہ السلام) : نے شعر نہیں کہا۔ حضرت محمد ﷺ اور تمام انبیاء شعر سے نہی میں برابر ہیں لیکن جب ہابیل کو قتل کیا گیا تو حضرت آدم (علیہ السلام) نے اس کا مرثیہ کہا، وہ سریانی تھے وہ مرثیہ بھی سریانی زبان میں ہے، حضرت آدم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے حضرت شیث (علیہ السلام) کو اس کی وصیت کی تھی فرمایا : تو میرا وصی ہے، مجھ سے یہ کلام محفوظ کرلے تاکہ وراثت چلتی رہے، پس یہ یعرب بن قحطان کے زمانہ تک محفوظ رہی پھر یعرب نے اس کا عربی میں ترجمہ کیا اور اسے شعر بنا دیا (2) (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 243)
مسئلہ نمبر : (2) حضرت انس سے مروی ہے فرمایا : نبی مکرم ﷺ سے منگل کے دن کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا :” یہ خون کا دن ہے اس میں حضرت حوا کو حیض آیا اور اس میں ابن آدم نے اپنے بھائی کو قتل کیا “ (٭) (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 3364، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
صحیح مسلم وغیرہ سے حضرت عبداللہ ؓ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” کوئی نفس ظلما قتل نہیں کیا جاتا مگر اس کے خون کا بوجھ حضرت آدم کے پہلے بیٹے پر ہوتا ہے، کیونکہ اس نے قتل کا آغاز کیا تھا “۔ (3) (صحیح مسلم، کتاب القسامہ، جلد 2، صفحہ 60)
یہ تعلیل پر نص ہے، اس اعتبار سے ابلیس پر ہر اس شخص کی معصیت کا بوجھ ہوگا جس نے سجدہ کی نافرمانی کی، اسی طرح جس نے اللہ کے دین میں ایسی بدعت کا آغاز کیا جس کا دین سے کوئی تعلق نہیں، نبی مکرم ﷺ نے فرمایا ” جس نے اسلام میں کوئی اچھا کام شروع کیا اس کے لیے اس کا اجر ہوگا اور ان لوگوں کا اجر بھی ہوگا، جو قیامت تک اس پر عمل کریں گے اور جس نے اسلام میں کوئی براکام شروع کیا اس کے لیے اس کا گناہ ہوگا جو قیامت تک اس کے مطابق عمل کریں گے “ (ا) (ریاض الصالحین باب فیمن سن سنۃ حسنۃ اوسیئۃ صفحہ 126، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) یہ خیر وشر میں نص ہے۔
نبی مکرم ﷺ نے فرمایا ” مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ خوف گمراہ ائمہ کا ہے “ ‘۔ (4) (مسند احمد بن حنبل، جلد 5، صفحہ 276)
یہ تمام صریح ہے اور آیت کے معنی میں صحیح نص ہے، یہ اس وقت تک ہے جب تک اس معصیت سے وہ توبہ نہ کرے، کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) وہ پہلے تھے جنہوں نے اس چیز کے کھانے میں مخالفت کی جس سے منع کیا گیا تھا، اور ان پر ان لوگوں کا بوجھ نہ ہوگا جو اس چیز کے کھانے پینے میں نافرمانی کریں گے جس سے منع کیا گیا ہے، کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے اس سے توبہ کرلی تھی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی تھی پس وہ ایسے ہوگئے جیسے نے گنا کیا ہی نہیں، دوسری وجہ یہ کہ اس نے بھول کر کھایا تھا جیسا کہ صحیح قول ہے، ہم نے سورة بقرہ میں بیان کردیا ہے اور بھولنے والا گنہگار نہیں ہوتا اور نہ اس مواخذہ کیا جاتا ہے۔
مسئلہ نمبر : (3) یہ آیت حاسد کی حالت کے بیان کو متضمن ہے حتی کہ حسد نے اسے قریبی رشتہ دار کو اور مہربان شخص کو، اذیت دور کرنے والے کو ہلاک کرنے پر ابھارا۔
مسئلہ نمبر : (4) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فاصبح من الخسرین “۔ یعنی ان سے ہوگیا جس نے نیکیاں کم کردیں، مجاہد نے کہا : قاتل کا ایک پاؤں اس کی پنڈلی سے ران تک باندھا دیا جاتا ہے اور یہ قیامت تک ایسا ہی رہے گا اور اس کا چہرہ سورج کی طرح ہوتا ہے سورج جدھر بھی گھومتا ہے گرمیوں میں اس پر آگ کا گھراؤ ہوتا ہے اور سردیوں میں اس پر برف کا گھراؤ ہوتا ہے۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 180 دارالکتب العلمیہ)
ابن عطیہ رحمۃ اللہ علیہنے کہا : اگر یہ صحیح ہے تو وہ اس گھاٹے سے ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد (آیت) ” فاصبح من الخسرین “۔ اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے ورنہ خسران (گھاٹا) تو دنیا وآخرت کے خسران کو عام ہے۔ (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 180 دارالکتب العلمیہ)
میں کہتا ہوں : شاید یہ عقوبت اسے اس قول پر ہو کہ وہ گنہگار تھا، کافر نہ تھا، تو معنی ہوگا وہ دنیا میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے تھا۔
Ayah 5:31آیت نمبر : 31۔
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فبعث اللہ غرابا یبحث فی الارض “۔ مجاہد ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے دو کوے بھیجے وہ آپس میں لڑے حتی کہ ایک نے دوسرے کو قتل کردیا پھر گڑھا کھود کر اسے دفن کردیا (3) (تفسیر طبری، جلد 6، صفحہ 237)
ابن آدم پہلا تھا جو قتل کیا گیا، بعض علماء نے فرمایا : کوئے نے زمین کو اپنی خوراک کے لیے کھودا تاکہ وہ ضرورت کے وقت تک اسے چھپائے رکھے، کیونکہ ایسا کرنا کوے کی عادت ہے پس اس کے ذریعے قابیل اپنے بھائی کو پوشیدہ کرنے آگاہ ہوگیا، اور روایت ہے کہ قابیل نے جب ہابیل کو قتل کیا تو اسے ایک بوری میں رکھ دیا اور اسے سو سال اپنی گردن میں اٹھائے پھرتا رہا (4) (زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 201)
یہ مجاہد (رح) کا قول ہے۔
ابن القاسم (رح) نے امام مالک (رح) سے روایت کیا ہے کہ اس نے اسے ایک سال اٹھائے رکھا، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے بعض علماء نے فرمایا کی اس میں بدبو پیدا ہوگئی وہ نہیں جانتا تھا کہ ہو کیا کرے، یہاں تک کہ اس نے کوئے کی اقتدا کی جیسا کہ گزر چکا ہے، خبر میں حضرت انس ؓ سے مروی ہے فرمایا : میں نے نبی مکرم ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ” اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کی اولاد پر تین احسان فرمائے تین چیزوں کے بعد، روح نکلنے کے بعد اس میں بدبو کا واقع ہونا، اگر روح نکلنے کے بعد بدبو نہ ہوتی تو کوئی دوست کسی دوست کو دفن نہ کرتا اگر جسم میں کیڑے پیدا نہ ہوتے تو بادشاہ جسموں کو خزانہ کرلیتے اور یہ انکے لیے دراہم ودنانیر سے بہتر ہوتا اور بڑھاپے کے بعد موت کا احسان فرمایا، آدم بوڑھا ہوجاتا ہے تو وہ اپنے آپ سے اکتا جاتا ہے، اس کے اہل اس کی اولاد اور اس کے قریبی رشتہ دار اکتا جاتے ہیں پس موت اس کے لیے زیادہ پردہ کا باعث ہوتی ہے۔ (1) موسوعہ اطراف الحدیث جلد 2، صفحہ 332)
ایک قوم نے کہا : قابیل دفن کو جانتا تھا لیکن اس نے اسے میدان میں تحقیر کرتے ہوئے چھوڑ دیا، پس اللہ تعالیٰ کوا بھیجا وہ ہابیل پر مٹی ڈالنے لگا تاکہ اسے دفن کر دے اس وقت قابیل نے کہا : (آیت) ” یویلتی اعجزت ان اکون مثل ھذا الغراب فاواری سوءۃ اخی فاصبح من الندمین “۔ جب اس نے ہابیل کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کرم نوازی دیکھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ایک کوا مقرر فرمایا دیا حتی کہ اس نے اسے چھپا دیا، یہ شرمندگی توبہ کے طور پر نہ تھی، بعض علماء نے فرمایا : وہ اس کے مفقود ہونے پر شرمندہ ہوا اور اس کے قتل پر شرمندہ نہ ہوا اگرچہ وہ توبہ کی شروط کو پورا کرنے والا نہ تھا یا وہ شرمندہ ہوا لیکن ہمیشہ کے لیے شرمندہ نہ ہوا۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اگر اس کی ندامت قتل پر ہوتی تو یہ اس کی ندامت بطور توبہ ہوتی کہا جاتا ہے حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا ہابیل کی قبر پر آئے اور کئی دن تک اس پر روتے رہے، پھر قابیل ایک پہاڑ کی چوٹی پر تھا اسے ایک بیل نے سینگ مار کر نیچے گرا دیا اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے، کہا جاتا ہے : حضرت آدم (علیہ السلام) نے قابیل کے خلاف دعا کی تو زمین اسے نگل گئی کہا جاتا ہے : قابیل، ہابیل کے قتل کے بعد وحشی بن گیا اور اس نے جنگل کو لازم پکڑ لیا وہ صرف وحشی جانور کھاتا تھا جب وہ کسی وحشی پر غالب آتا تو اسے زور سے ضرب لگاتا حتی کہ وہ مر جاتا پھر اسے کھاتا، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ضرب سے مارا ہوا جانور ہابیل کے وقت سے حرام تھا، یہ پہلا شخص تھا جو آدمیوں میں سے آگ کی طرف چلایا گیا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ربنا ارنا الذین اضلنا من الجن والانس “۔ الایۃ : (حم السجدہ : 29)
ابلیس جنوں میں سے کافروں کا سردا رہے، اور قابیل انسان میں خطا کاروں کا سردار ہے جیسا کہ آگے بیان سورة حم فصلت میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ، بعض علماء نے فرمایا : اس قت میں شرمندگی توبہنہ تھی اللہ سب کچھ جانتا ہے اور پختہ کرتا ہے۔
آیت کا ظاہر یہ ہے کہ ہابیل، آدم سے پہلا میت سے، اسی وجہ سے چھپانے کا طریقہ مخفی تھا اور اسی طرح طبری نے ابن اسحاق سے حکایت کیا ہے اور انہوں نے بعض اہل علم سے روایت کیا ہے جو پہلے لوگوں کی کتابوں میں ہے، اور یبحث کا معنی ہے مٹی کو چونج سے کریدنا اور اسے اڑنا، ایس وجہ سے سورة براۃ کو البحوث بھی جاتا ہے، کیونکہ اس نے منافقین کی تفتیش کی، اس شاعر کا قول ہے :
ان الناس غطون تغطیت عنھم وان یحثونی کان فیھم مباحث :
ضرب المثل ہے : لاتکن کالباحث علی الشفرۃ :
شاعر کا کہا :
فکانت کعنز السوء قامت برجلھا الی مدیۃ مدفونہ تستثیرھا :
مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ نے کوئے کو حکمت کی خاطر بھیجا تاکہ ابن آدم چھپانے کی کیفیت دیکھ لے، اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (آیت) ” ثم اماتہ فاقبرہ “۔ (عبس) کا یہی معنی ہے پس چھپانے میں کوے کا فعل مخلوق میں سنت باقیہ بن گیا اور لوگوں پر فرض کفایہ بن گیا جس نے ایسا کردیا دوسرے لوگوں سے فرض ساقط ہوگیا یہ حکم قریبی رشتہ داروں کے ساتھ خاص ہے پھر پڑوسیوں کے لیے ہے، پھر تمام پھر تمام مسلمانوں پر ہے، رہے کفار تو ابو داؤد نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا میں نے نبی مکرم ﷺ سے عرض کی : آپ کا چچا، بوڑھا گمراہ فوت ہوگیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا : ” تم جاؤ اور اپنے باپ کو مٹی میں چھپا دو پھر کچھ بیان نہ کرنا حتی کہ تم میرے پاس آجاؤ (1) (سنن ابی داؤد، کتاب الجنائز، جلد 2، صفحہ 102، ایضا حدیث نمبر 2799، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
میں گیا اسے مٹی میں چھپا دیا پھر آپ کے پاس آیا تو مجھے رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا میں نے غسل کیا اور مجھے دعا دی۔
مسئلہ نمبر : (3) قبر میں کشادگی اور عمدگی مستحب ہے، کیونکہ ابن ماجہ نے حضرت ہشام بن عامر سے روایت کیا ہے فرمایا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قبر کھودو، اسے کھلا کرو اور بہتر کرو (2) (سنن ابی داؤد، کتاب الجنائز، جلد 2، صفحہ 113، ایضا حدیث نمبر 1548، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اورع سلمی سے مروی ہے فرمایا میں ایک رات نبی مکرم ﷺ کی حفاظت کرنے کے لیے آیا وہاں ایک شخص بلند آواز سے قرات کررہا تھا، نبی مکرم ﷺ نکلے تو میں نے کہا : یا رسول اللہ ! یہ ریا کار ہے پھر وہ شخص مدینہ طیبہ میں فوت ہوگیا لوگ اس کے کفن اور غسل سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اس کی نعش کو اٹھایا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ؛ ” اس پر مہربانی اور نرمی کرو اللہ نے اس پر نرمی فرمائی ہے، کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتا تھا “ فرمایا : اس کی قبرکھودی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” اس کے لیے قبر کو وسیع کرو اللہ تعالیٰ نے اس پر وسعت فرمائی ہے “۔ کسی صحابی نے عرض کی : یارسول اللہ ! آپ اس پر حزین ہوئے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” ہاں یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا تھا “۔ (3) (سنن ابن ماجہ کتاب الجنائز، جلد 2، صفحہ 113، ایضا حدیث نمبر 1547، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اس حدیث کو انہوں نے ابوبکر بن ابی شیبہ سے انہوں نے زید بن حباب سے انہوں نے موسیٰ بن عبیدہ سے انہوں نے سعید بن ابی سعید سے روایت کیا ہے۔
ابو عمر بن عبدالبر نے کہا : حضرت اورع سلمی نے نبی مکرم ﷺ سے ایک حدیث روایت کی ہے، ان سے سعید بن سعید مقبری نے روایت کی ہے، رہا ہشام بن عامر بن امیہ بن حساس بن عامر بن غنم بن عدی بن النجار انصاری اس کو زمانہ جاہلیت میں شہاب کہا جاتا تھا نبی مکرم ﷺ نے اس کا نام تبدیل کیا تھا آپ ﷺ نے اس کا نام ہشام رکھا تھا۔ اس کا باپ عامر جنگ احد میں شہید ہوا تھا ہشام بصرہ میں رہا اور وہاں ہی ان کا وصال ہوا یہ کتاب الصحابہ میں ذکر کیا گیا ہے۔
مسئلہ نمبر : (4) پھر کہا گیا ہے کہ لحد، شق سے افضل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ نے کے لیے اس کو اختیار کیا، نبی مکرم ﷺ کا جب وصال ہوا تو اس وقت مدینہ طیبہ میں دو شخص تھے ایک لحد بناتا تھا اور دوسرا لحد نہیں بناتا تھا، صحابہ نے مشورہ سے کہا : ان میں سے جو پہلے آئے گا وہ اپنا کام کرے گا، پس وہ پہلے آیا جو لحد بناتا تھا اور دوسرا لحد نہیں بناتا تھا، صحابہ کرام مشورہ سے کہا : ان میں سے جو پہلے آئے گا وہ اپنا کام کرے گا، پس، پس وہ پہلے آیا جو لحد بناتا تھا، رسول اللہ ﷺ کیلئے لحد بنائی گئی (4) (مؤطا امام مالک، کتاب الجنائز، جلد 1، صفحہ 213)
امام مالک نے موطا میں ہشام بن عروہ عن ابیہ کے واسطہ سے یہ ذکر کیا ہے، ابن ماجہ نے حضرت انس ؓ اور حضرت عائشہ (رح) سے یہ روایت کیا ہے، یہ دو شخص ابو طلحہ اور ابو عبیدہ تھے ابو طلحہ لحد بناتے تھے اور ابو عبیدہ شق بناتے تھے (1) (سنن ابن ماجہ، کتاب الجنائز، جلد 1، صفحہ 113، ایضا حدیث نمبر 1548، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
لحد کا مطلب وہ شق ہے جو قبر کی ایک طرف میں بنایا جاتا ہے، اگر زمین سخت ہو اس میں میت کو رکھا جاتا ہے، پھر اس پر کچی اینٹیں لگائی جاتی ہیں، پھر مٹی ڈالی جاتی ہے، حضرت سعد بن ابی وقاص نے اپنی مرض موت میں فرمایا : میرے لیے لحد بنانا اور کچھی اینٹیں لگانا جس طرح رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا گیا تھا (2) (صحیح مسلم، کتاب الجائز، جلد 1، صفحہ 311)
مسلم نے اس کو روایت کیا ہے، ابن ماجہ وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ہمارے لیے لحد ہے اور دوسروں کے لیے شق ہے “ (3) (سنن ابن ماجہ، کتاب الجنائز، جلد 1، صفحہ 112، ایضا حدیث نمبر 1542، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
مسئلہ نمبر : (5) ابن ماجہ نے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے فرمایا : میں حضرت ابن عمر کے ساتھ ایک جنازہ میں آیا جب لحد میں میت کو رکھا گیا تو حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا : بسم اللہ وفی سبیل اللہ وعلی ملۃ رسول اللہ ﷺ جب لحد پر اینٹیں برابر کرنا شروع کیں تو کہا : اللھم اجرھا من الشیطان و عذاب القبر، اللہم جاف الارض عن جنبیھا وصعد روحھا ولقھا منک روضوانا، میں نے کہا : اے ابن عمر ! کیا تم نے یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے یا تم نے یہ اپنی رائے سے کہا ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا : پھر تو میں اس قول پر قادر ہوں، بلکہ میں نے یہ چیز رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے، (4) (سنن ابن ماجہ، کتاب الجنائز، جلد 1، صفحہ 112، ایضا حدیث نمبر 1542، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جنازہ پر نماز پڑھی پھر میت کی قبر پر آئے اس کے سر کی جانب سے تین مرتبہ مٹی ڈالی، (5) (سنن ابن ماجہ، کتاب الجنائز، جلد 1، صفحہ 113)
یہ اس آیت کے متعلق احکام تھے، (آیت) ” یویلتی “ اصل میں یاویلتی تھا پھر یا کو الف سے بدلا گیا حسن نے اصل میں یا سے پڑھا ہے، پہلا قول اصح ہے کیونکہ ندا میں یا کا حذف اکثر ہے، عرب یہ کلمہ ہلاکت کے وقت بولتے ہیں، یہ سیبویہ کا قول ہے، اصمعی نے کہا : ویل کا معنی بعد ہے، حسن نے ” اعجزت “ جیم کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے (6) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 181 دارالکتب العلمیہ)
نحاس نے کہا : یہ شاذ لغت ہے کہا جاتا ہے عجزت المراۃ جب عورت اپنا پچھلا حصہ ڈھانپ دے، عجزت عن الشیء عجزا ومعجزۃ ومعجزۃ، واللہ اعلم۔
Ayah 5:32آیت نمبر : 32۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” من اجل ذلک “۔ یعنی قاتل کی اس جرات کی وجہ سے زجاج نے کہا : اس کی جنایت کی وجہ سے کہا جاتا ہے : اجل الرجل علی اھلہ شرا یا جل اجلا، جب کوئی زیادتی کرے مثلا اخذ یاخزا اخذا خنوت نے کہا :
واھل خباء صالح کنت بینھم قد احتربوا فی عاجل انا اجلہ :
یعنی میں خیانت کرنے والا ہوں، بعض علماء نے فرمایا : میں ان پر زیادتی کرنے والا ہوں، عدی بن زید نے کہا :
اجل اللہ قد فضلکم فوق من احکا صلبا بازار :
اس کی اصل الجر ہے، اسی سے الاجل مدت ہے، کیونکہ وہ وقت ہوتا ہے جس کی طرف پہلی عقد کھینچی جاتی ہے، اسی سے الاجل نقیض العاجل ہے یعنی متقدم امر اس کی طرف کھینچا جاتا ہے، اسی سے اجل بمعنی نعم ہے، کیونکہ یہ انقیاد ہے اس کی طرف جس کی طرف کھینچا گیا ہے اسی سے الاجل جنگلی گائیوں کا ریوڑ ہے، کیونکہ وہ ایک دوسرے کی طرف کھینچتی ہیں، یہ رمانی کا قول ہے یزید بنالقعقاع ابو جعفر نے من اجل ذالک پڑھا ہے، یعنی نون کے کسرہ اور ہمزہ کے حذف کے ساتھ، یہ بھی ایک لغت ہے اصل میں اجل ذالک ہے ہمزہ کا کسرہ نون کو دیا گیا ہے اور ہمزہ کو حذف کیا گیا ہے، پھر بعض علماء نے فرمایا، یہ بھی جائز ہے کہ (آیت) ” من اجل ذلک “ کا تعلق (آیت) ” من الندمین “۔ کے ساتھ ہو اور وقف ” من اجل ذلک “۔ پر ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ مابعد کے متعلق ہو وہ ” کتبنا “ ہے اور ” من اجل “ کلام کا ابتدا ہے اور اس کی تکمیل ” من الندمین “ ہے، یہ اکثر لوگوں کا نظریہ ہے یعنی اس کے سبب ہم نے فرض کیا، بنی سرائیل کو خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے ان سے پہلے بھی وعید نازل ہوئی، اس سے پہلے مطلقا قول تھا پس بنی اسرائیل کی سرکشی اور خونریزی کی وجہ سے کتاب کے ساتھ حکم کو سخت کیا گیا۔
(آیت) ” بغیر نفس “ یعنی اس نے قتل نہ کیا ہو کہ وہ قتل کا مستحق ہو، اللہ تعالیٰ نے تمام شرائع میں قتل کو حرام کیا تھا مگر تین صورتوں میں (1) ایمان کے بعد کفر اختیار کرنا، (2) احصان کے بعد زنا کرنا (3) ظلما کسی نفس کو قتل کرنا۔
(آیت) ” اوفساد “ یہاں فساد سے مراد شرک ہے، بعض نے فرمایا : ڈاکہ ڈالنا ہے، حسن نے اوفساد پڑھا ہے فعل کے حذف کی تقدیر پر جس پر پہلی کلام دلالت کرتی ہے تقدیر عبارت ہے : اواحدث فسادا اس پر دلیل یہ ارشاد ہے : (آیت) ” من قتل نفسا بغیر نفس “۔ کیونکہ یہ بہت بڑا فساد ہے، عام قراء نے فساد جر کے ساتھ پڑھا ہے اور بغیر فساد کے معنی پر ہے۔
(آیت) ” فکانما قتل الناس جمیعا “۔ اس تشبیہ کی ترتیب میں مفسرین کے اقوال میں اضطراب ہے، کیونکہ تمام لوگوں کو قتل کرنے کی سزا ایک قتل کی سزا سے زیادہ ہے، حضرت ابن عباس سے مروی ہے انہوں نے فرمایا : اس کا معنی یہ ہے کہ جس نے کسی نبی کو قتل کیا یا عادل امام کو قتل کیا گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کیا اور جس نے اس کو زندہ کیا ان کی مدد ونصرت سے تو اس نے گویا تمام لوگوں کو زندہ کیا (1) (تفسیر طبری جلد 6 صفحہ 241)
ان سے یہ بھی مروی ہے فرمایا : جس نے ایک نفس کو قتل کیا اور اس کی حرمت کو توڑا وہ تمام لوگوں کو قتل کرنے والے کی مثل ہے اور جس نے ایک نفس کے قتل کے قتل کو ترک کیا اور اس کی حرمت کی حفاظت کی اور اللہ کے خوف کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا وہ اس کی مانند ہے جس نے تمام لوگوں کو زندہ کیا (2) (تفسیر طبری جلد 6 صفحہ 241)
حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے گویا مقتول کے پاس اس نے تمام لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک شخص کو زندہ کیا اور اسے ہلاکت سے بچایا تو اس نے بچائے گئے شخص کے نزدیک تمام لوگوں کو زندہ کیا (3) (تفسیر طبری جلد 6 صفحہ 243)
مجاہد نے کہا : اس کا معنی ہے جس نے مومن نفس کو جان بوجھ کر قتل کیا اللہ تعالیٰ نے اس کی جزا جہنم بنائی ہے اور اس پر غضب کیا ہے اور اس پر لعنت کی ہے اور اس کے لیے بڑا عذاب تیار کیا ہے۔ (4) اگر وہ تمام لوگوں کو قتل کرتا تو اس پر زیادہ نہ کیا جاتا اور جس نے قتل نہیں کیا اس سے تمام لوگ زندہ ہوئے، ابن زید نے کہا اسکا معنی ہے جس نے کسی نفس کو قتل کیا اس پر وہی قصاص لازم ہوتا ہے جو تمام لوگوں کو قتل کرنے والے پر لازم ہوتا ہے فرمایا (آیت) ” ومن احیاھا “ جس نے اس کو معاف کردیا جس کا قتل کرنا اس کے لیے واجب تھا، یہ حسن کا بھی قول ہے، یعنی قدرت کے بعد معاف کردینا۔ (5) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 182 دارالکتب العلمیہ)
بعض علماء نے فرمایا : جس نے کسی نفس کو قتل کیا تو تمام مسلمان اس کے خصم ہیں، کیونکہ اس نے تمام کو ہلاک کیا اور جس نے اس کو زیادہ کیا گویا اس نے تمام لوگوں کو زندہ کیا، یعنی تمام پر اس کا شکر واجب ہے، بعض نے فرمایا : ایک شخص کے قاتل کے گناہ کو تمام لوگوں کے قاتل کا گناہ بنایا، اس کی شان ہے کہ جو چاہے حکم دے، بعض نے فرمایا : یہ بنی اسرائیل کے ساتھ مختص ہے ان پر یہ سختی کرنے کے لیے ہے، ابن عطیہ نے کہا : جو کچھ کہا گیا ہے تشبیہ تمام پر واقع ہے ایک شخص کی حرمت کو تار تار کرنے والا تمام لوگوں کی حرمت کو تار تار کرنے والا ہے، اس کی مثال یہ ہے کہ دو شخص قسم اٹھائیں کہ وہ ان دو درختوں کے پھلوں سے کچھ کھائیں گے، پھر ان میں سے ایک درخت کے پھل سے کھالیا اور دوسرے نے دوسرے درخت کے پھل سے کھالیا تو وہ قسم توڑنے کے گناہ میں برابر ہیں (6) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 183۔ 182 دارالکتب العلمیہ)
بعض علماء نے فرمایا ؛ جس نے ایک شخص کے قتل کو حلال سمجھا اس نے تمام کے قتل کو حلال سمجھا، کیونکہ اس نے شرع کا انکار کیا۔
(آیت) ” ومن احیاھا “ میں تجوز ہے، اس سے مراد ہلاکت سے بچانا ہے ورنہ زندہ کرنا حقیقت میں اختراع کے معنی میں ہے اور یہ کام اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے ہے یہ احیاء نمرود لعین کے قول کی طرح ہے ،: انا احی وامیت، ترک کو احیا فرمایا پھر بنی اسرائیل کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے پاس رسل بینات کے ساتھ آئے اور ان میں اکثر حد سے تجاوز کرنے والے تھے اور اللہ کے حکم کو چھوڑنے والے تھے۔