Ayahs 5:90–92آیت نمبر 90 تا 92
اس میں سترہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) یایھا الذین امنوا ان اشیاء کے ترک کرنے کے ساتھ مومنوں کو خطاب کیا ہے، کیونکہ ان شہوات اور عادات کے ساتھ زمانہ جاہلیت میں ملوث تھے اور ان کے نفوس پر یہ غالب تھیں۔ پس بہت سے مومنوں کے نفوس میں کچھ باقی تھیں۔ ابن عطیہ نے کہا (1): اس قبیل سے تھا پرندوں کو دیکھ کر کام کو نہ جانا اور کتب وغیرہ سے فال لینا اور اس طرح کی بیہودہ چیزیں جو آج کل جاہل لوگ کرتے ہیں، رہا خمر (شراب) ابھی تک یہ حرام نہیں کی گئی اس کی مکمل حرمت جنگ احد کے واقعہ کے بعد تیسرے سال نازل ہوئی اور جنگ احد ہجرت کے تیسرے سال شوال میں ہوئی۔ اس کا اشتقاق پہلے گزرچکا ہے رہا المیسر (جوا) سورة بقرہ میں اس کا ذکر گزرچکا ہے، رہا الانصاب تو بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد بت ہیں۔ بعض نے فرمایا : اس سے مراد نرد اور شطرنج کا کھیل ہے اس کا بیان سورة یونس آیت 32 میں (آیت) فماذا بعد الحق الا الضلال کے تحت آئے گا۔
رہا الازلام اس سے مراد تیر ہیں اس کے بارے میں پہلی سورت میں گزرچکا ہے۔ کہا جاتا ہے : بیت اللہ شریف میں خدام اور بتوں کے خدام کے پاس تیر تھے کوئی شخص آتا جب وہ کسی کام کا ارادہ کرتا تو اس سے کوئی تیر نکالتا اگر اس پر لکھا ہواہوتا امرنی ربی (میرے رب نے مجھے حکم دیا) تو وہ کام کو چلا جاتا خواہ اسے پسند ہوتا یا ناپسند ہوتا۔
مسئلہ نمبر 2۔ شراب کی حرمت بتدریج ہوئی اور بہت سے واقعات کے ساتھ ہوئی، کیونکہ وہ لوگ شراب کے بہت حریص تھے اور سب سے پہلے شراب کے متعلق یہ نازل ہوا : (آیت) یسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر ومنافع للناس (بقرہ : 219) یعنی اس کی تجارت میں منافع ہیں۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو بعض لوگوں نے شراب کو ترک کردیا اور انہوں نے کہا : جس میں بڑا گناہ ہے اس کی ہمیں ضرورت نہیں اور بعض لوگوں نے اسے ترک نہ کیا انہوں نے کہا : ہم اس کی منفعت لیتے ہیں اور اس کا گناہ چھوڑتے ہیں پھر یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) لاتقربوا الصلوۃ وانتم سکری (النسائ : 43) بعض لوگوں نے پھر اس کو چھوڑ دیا اور کہا : ہمیں اس کی حاجت نہیں جو ہمیں نماز سے غافل کردے اور بعض نے نماز کے اوقات کے علاوہ شراب پی حتی کہ یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) یایھا الذین امنوا انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس۔
پس لوگوں پر یہ مطلقا حرام ہوگئی حتی کہ بعض نے کہا : اللہ تعالیٰ نے شراب سے زیادہ کسی چیز کو شدت سے حرام نہیں فرمایا۔
ابو میسرہ نے کہا : یہ حضرت عمر بن خطاب کے سبب نازل ہوئی انہوں نے نبی کریم ﷺ کے لیے شراب کے عیوب ذکر کیے اور شراب کی وجہ سے لوگوں پر کیفیات نازل ہوتی تھی اللہ تعالیٰ سے انہوں نے اس کی حرمت کی دعا مانگی اللھم بین لنافی الخمر بیاناشافیا۔ اے اللہ ! شراب کے بارے ہمارے لیے شافی بیان فرما، تو یہ آیات نازل ہوئیں۔ حضرت عمر نے کہا : انتھینا انتھیناہم رک گئے، ہم رک گئے (1) ۔ سورة بقرہ میں اور سورة النساء میں یہ گزرچکا ہے۔
ابو دائود نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : (آیت) یایھا الذین امنوا لاتقربوا الصلوۃ وانتم سکری (النسائ : 43) اس آیت کو سورة مائدہ کی آیت (آیت) انما الخمر والمیسر والانصاب نے منسوخ کردیا (2) ۔ اور صحیح مسلم میں حضرت سعد بن ابی وقاص سے مروی ہے فرمایا : میرے متعلق قرآنی آیات نازل ہوئیں۔ اس میں فرمایا : میں انصار کے ایک گروہ کے پاس آیا، انہوں نے کہا : ادھر آئو ہم تجھے کھانا کھلائیں گے اور شراب پلائیں گے۔ یہ شراب کے حرام ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ فرمایا : میں ان کے پاس ایک باغ میں آیاوہاں اونٹ کا بھونا ہوا سر اور شراب کا مٹکا تھا۔ فرمایا : میں نے ان کے ساتھ کھایا، پیا۔ فرمایا : میں نے ان کے پاس انصار اور مہاجرین کا ذکر کیا۔ میں نے کہا : مہاجرین، انصار سے افضل ہیں۔ فرمایا : ایک شخص نے اونٹ کے جبڑے اٹھائے اور مجھے اس کے ساتھ مارا پس میرا ناک زخمی ہوگیا۔ ایک روایت میں ہے : اس نے ناک چیر دیا، اور سعد کا ناک چیرا ہو تھا۔ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور سارا واقعہ عرض کیا۔ اللہ تعالیٰ نے میرے بارے میں یعنی شراب کے بارے میں ان کا ذکر کیا۔ یہ ارشاد نازل ہوا (آیت) انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ۔
مسئلہ نمبر 3۔ یہ احادیث دلالت کرتی ہیں کہ شراب پینا اس وقت مباح معمول اور معروف تھا نہ اس پر انکار کیا گیا اور نہ اسے بدلا گیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس پر اسے قائم رکھا اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے اس پر سورة النساء کی آیت دلالت کرتی ہے (آیت) لاتقربوا الصلوۃ وانتم سکری (النسائ : 43) جیسا کہ پہلے گزرا ہے کیا ان کے لیے اس کا مقدار کا پینامباح تھا جو نشہ دیتی تھی ؟ حضرت حمزہ کا واقعہ اس میں ظاہر ہے جب انہوں نے حضرت علی ؓ کی اونٹنیوں کی کھو کھیں چیر دی تھی اور ان کی کہانیں کاٹ دی تھیں، حضرت علی ؓ نے اس بارے میں نبی کریم ﷺ کو بتایا آپ حضرت حمزہ کے پاس آئے۔ حضرت حمزہ سے نبی کریم ﷺ کے متعلق ایسا کلام صادر ہوا جو نبی کریم ﷺ کے احترام، توقیر اور اکرام کے مخالف تھا جو دلیل ہے کہ حضرت حمزہ کی عقل ختم ہوچکی تھی نشہ آور شراب پینے کی وجہ سے، اسی وجہ سے راوی نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ جان گئے کہ وہ نشہ میں دہت ہیں، پھر نبی کریم ﷺ نے حضرت حمزہ پر انکار نہ کیا اور نہ ان پر سختی کی، نہ حالت نشہ میں اور نہ اس کے بعد بلکہ آپ الٹے پائوں لوٹے اور باہر نکل آئے۔ جب حضرت حمزہ نے کہا : تم تو میرے باپ کے غلام ہو۔ یہ اس کے خلاف ہے جو اصولیوں نے کہا ہے اور جو انہوں نے بیان کیا ہے، کیونکہ انہوں نے کہا : ہر شریعت میں نشہ حرام تھا، کیونکہ شرائع بندوں کے مصالح ہوتی ہیں نہ کہ مفاسد ہوتی ہیں اور مصالح کی اصل عقل ہے جیسا کہ مفاسد کی اصل عقل کا ضائع ہونا ہے پس ہر وہ چیز جو عقل کو ضائع کردے یا اس میں تشویش پیدا کردے اس سے منع واجب ہے مگر یہ کہ حضرت حمزہ کی حدیث کو اس پر محمول کیا جائے کہ انہوں نے اس کے پینے سے نشہ کا قصد نہیں کیا تھا لیکن وہ جلدی اثر کرگئی اور ان کے دماغ پر غالب آگئی۔ واللہ اعلم
مسئلہ نمبر 4۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : رجس حضرت ابن عباس ؓ عنہنے اس آیت میں فرمایا : رجس سے مراد ناراضگی ہے، جب کہ بدبودار چیز پائخانہ اور غلاظت کو رجس کہا جاتا ہے الرجززا کے ساتھ ہو تو اس کا معنی عذاب ہے اور الرکس کا معنی غلاظت ہے اور الرجس کا لفظ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے (1) ۔ (آیت) من عمل الشیطان یعنی شیطان کے ابھارنے اور مزین کرنے کی وجہ سے بعض نے فرمایا : وہ ان امور کے آغاز پر تو خود عمل کرتا ہے حتی کہ پھر وہ ان میں شیطان کی اقتدا کرتا ہے۔
مسئلہ نمبر 5۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاجتنبوہ یعنی اس سے دور ہٹ جائو۔ اللہ تعالیٰ نے ان امور سے دور رہنے کا حکم دیا ہے اور امر کے صیغہ سے ذکر فرمایا نیز احادیث کی نصوص اور اجماع امت بھی ان کی حرمت پر موجود ہے پس تحریم کی جہت سے اجتناب ثابت ہوا، اس کے ساتھ شراب حرام کی گئی۔ علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں کہ سورة مائدہ شراب کی حرمت کے ساتھ نازل ہوئی۔ یہ مدینہ طیبہ میں سب سے آخر میں نازل ہوئی۔ تحریم مردار، خون اور لحم الخنزیر میں نازل ہوئی۔
(آیت) قل لا اجد (الانعام : 145) اور دوسری آیات میں تو وہ خبر کے انداز میں نازل ہوئی جب کہ شراب کی حرمت نہی اور زجر کے انداز میں نازل ہوئی یہ موکد تحریم ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہنے روایت کیا ہے فرمایا : جب شراب کی تحریم نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب ایک دوسرے کے پاس گئے اور کہا کہ شراب حرام کردی گئی ہے اور شرک کے برابر کی گئی ہے یعنی بتوں کے لیے ذبح کے ساتھ ملایا ہے اور وہ شرک ہے پھر (آیت) لعلکم تفلحون کو معلق کیا فلاح کو امر کے ساتھ معلق کیا یہ وجوب کی تاکید پر دلیل ہے۔
مسئلہ نمبر 6۔ شراب کی تحریم اور شرع کے اس کو خبیث سمجھنے اور اس پر رجس کا اطلاق کرنے اور اس سے اجتناب کا امر دینے سے جمہور علماء نے اس کی نجاست کا حکم سمجھا ہے اور اس میں جمہور علماء کی ربیعہ، لیث بن سعد اور مزنی، امام شافعی اور بعض بغدادی علماء اور قروی علماء متاخرین نے مخالفت کی ہے۔ یہ علماء کہتے ہیں : شراب پاک ہے۔ حرام صرف اس کا پینا ہے۔ سعید بن حداد قروی نے اس کی طہارت پر، مدینہ طیبہ کی گلیوں میں اس کے بہائے جانے پر استدلال کیا ہے۔ فرماتے ہیں : اگر یہ ناپاک ہوتی تو صحابہ کرام اسے گلیوں میں نہ بہاتے اور رسول اللہ ﷺ بھی اس سے منع فرماتے جس طرح کے راستوں میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ صحابہ کرام نے ایسا اس لیے کیا تھا، کیونکہ ان کے لیے تہہ خانے اور کنویں نہیں تھے جن میں وہ شراب کو بہاتے، کیونکہ ان کے عام حالت ایسے ہی تھے کہ ان کی لیٹرینیں گھروں میں نہ تھیں، حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : وہ گھروں میں لیٹرینیں بناناناپسند کرتے تھے اور اس شراب کو مدینہ سے باہر لے جانے میں کلفت اور مشقت تھی نیز اس سے حکم پر فورا عمل سے تاخیر لازم آتی اور اس سے بچناممکن بھی تھا، کیونکہ مدینہ طیبہ کے راستے وسیع تھے اور شراب بھی اتنی زیادہ نہ تھی کہ وہ نہر بن جاتی اور پورے راستہ کو گھیر لیتی بلکہ وہ تھوڑی جگہوں پر تھی جس سے بچائو ممکن تھا۔ نیز اس عمل میں اس کو بہانے کی شہرت کا فائدہ بھی موجود تھا تاکہ شراب کی حرمت اس کے تلف کرنے کے ساتھ پھیل جائے اور اس سے نفع حاصل نہ کیا جائے اور لوگ اس پر موافقت کریں۔ واللہ اعلم
اگر یہ کہا جائے کہ تنجیس (ناپاک قراردینا) حکم شرعی ہے اور اس میں کوئی نص نہیں ہے اور کسی چیز کے حرام ہونے سے پہلے اس کا نجس (ناپاک ہونا) لازم نہیں آتا، شرع میں بہت سی حرام چیزیں ایسی ہیں جو نجس نہیں ہیں۔ ہم کہیں گے : اللہ تعالیٰ نے فرمایا : رجس یہ شراب کی نجاست پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ لغت میں رجس کا معنی نجاست ہے پھر اگر ہم یہ التزام کریں کہ ہم کوئی حکم نہ لگائیں مگر جن میں کوئی نص پائیں تو شریعت معطل ہوجائے گی، کیونکہ شریعت میں نصوص کم ہیں، پس پیشاب، پاخانہ، خون، مردار وغیرہ کی نجاست پر کون سی نص موجود ہے ؟ یہ ظواہر، عمومات اور قیاس ہیں مزید سورة الحج میں اس معنی کی وضاحت آئے گی انشاء اللہ تعالی۔
مسئلہ نمبر 7۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) فاجتنبوہ یہ مطلق اجتناب پر دلالت کرتا ہے کہ کسی اعتبار سے بھی اس سے نفع نہ اٹھایاجائے نہ پینے کا نہ بیچنے کا، نہ سرکہ بنانے کا، نہ علاج کا، نہ کوئی اور۔ اس پر احادیث دلالت کرتی ہیں، مسلم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کو ایک مشکیزہ شراب تحفہ میں دیا، رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا : ” کیا تجھے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام کیا ہے ؟ “ اس نے کہا : ” نہیں “ حضرت ابن عباس ؓ عنہنے فرمایا : پھر اس نے ایک شخص سے سرگوشی کی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا : ” تو نے اس سے کیا سرگوشی کی ہے “ اس نے کہا : میں نے اسے بیچنے کا حکم دیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا :” جس ذات نے اس کا پیناحرام کیا ہے اس نے اس کا بیچنا بھی حرام کیا ہے “۔ فرمایا : اس نے اپنا منہ کھول دیاحتی کہ ساری شراب نکل گئی (1) یہ ہمارے بیان کی دلیل ہے، کیونکہ اگر اس میں کوئی جائز منفعت ہوتی تو رسول اللہ ﷺ اس کو بیان فرمادیتے جیسا کہ مردار بکری کے بارے فرمایا تم نے اس کی کھال کیوں نہیں اتاری اور پھر اسے دباغت کیوں نہیں کیا اور پھر اس سے نفع کیوں نہیں اٹھایا ؟ (2)
مسئلہ نمبر 8۔ خون اور شراب کی بیع کی تحریم پر مسلمانوں کا اجماع ہے اس میں غلاظت اور تمام نجاسات اور ان تمام چیزوں کی بیع کی حرمت پر دلیل ہے جن کا کھانا حلال نہیں ہے اسی وجہ سے واللہ اعلم۔ امام مالک کے نزدیک چوپائوں کا گوبر بیچنامکروہ ہے۔ اور ابن القاسم نے اس میں رخصت دی ہے، کیونہ اس میں منفعت ہے قیاس وہ ہے جو امام مالک نے کہا ہے، یہی امام شافعی کا مذہب ہے یہ حدیث اس کی صحت پر شاہد ہے۔
مسئلہ نمبر 9۔ جمہور فقہاء کا خیال ہے کہ کسی کے لیے شراب کو سرکہ بناناجائز نہیں اگر سرکہ بنانا جائز ہوتا تو رسول اللہ ﷺ اس شخص کو مشکیزہ کا منہ کھولنے نہ دیتے تاکہ اس میں جو کچھ ہے نکل نہ جائے، کیونکہ سرکہ مال ہے اور نبی کریم ﷺ نے مال کو ضائع کردیا۔
حضرت عثمان بن ابی العاص نے یتیم کی شراب بہادی تھی آپ ﷺ سے اسے سرکہ بنانے کی اجازت طلب کی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” نہیں “۔ آپ نے سرکہ بنانے سے منع فرمایا۔ اہل حدیث اور اہل الرائے کی ایک جماعت کی یہی رائے ہے اور سحنون بن سعید کا میلان بھی اسی طرف ہے، دوسرے علماء نے کہا : شراب کو سرکہ بنانے میں کوئی حرج نہیں انسان کے عمل سے جو سرکہ بن گئی اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ یہی ثوری، اوزاعی، لیث بن سعد اور کو فیوں کا قول ہے۔ امام ابوحنیفہ نے فرمایا : اگر شراب میں کستوری اور نمک ڈالی گئی پھر وہ مربی بن گیا اور شراب کی حالت بدل گئی تو جائز ہے۔
امام محمد بن حسن نے امام ابوحنیفہ کی ” المربی “ میں مخالفت کی ہے فرمایا : سرکہ میں تبدیل کیے بغیر اس سے علاج بھی نہیں کیا جائے گا۔ ابو عمر نے کہا : عراقیوں نے شراب کو سرکہ بنانے میں حضرت ابو درداء کے قول سے حجت پکڑی ہے وہ قول ابو ادریس خولانی عن ابی الدرداء کے واسطہ سے مروی ہے اور قوی نہیں ہے۔ حضرت ابو درداء شراب کا مربی کھاتے تھے وہ کہتے تھے : سورج اور نمک نے اس کی دباغت کی ہے۔ حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عثمان بن ابی العاص نے شراب کو سرکہ بنانے کے مسئلہ میں ان کی مخالفت کی ہے اور سنت کے ہوتے ہوئے کسی رائے میں حجت نہیں ہے۔ (وباللہ التوفیق)
یہ بھی احتمال ہے کہ سرکہ بنانے سے منع ابتداء اسلام میں ہو جب اس کی تحریم نازل ہوئی تھی تاکہ اسے ہمیشہ روکے نہ رکھیں، کیونکہ اس کے پینے کا زمانہ قریب تھا اس سے قطعی طور پر ان کے ارادہ میں عادت کو ختم کرنا تھا جب صورت حال اس طرح ہے تو اس کو سرکہ بنانے کے متعلق نہی میں اور اس کو بہانے کے حکم میں یہ نہ تھا کہ اس کا کھانا ممنوع ہے جب سرکہ بن جائے، اشہب نے امام مالک سے روایت کیا ہے فرمایا : جب نصرانی شراب کو سرکہ بنادے تو اس کو کھانے میں کوئی حرج نہیں، اسی طرح ہے اگر مسلمان اسے سرکہ بنادے اور وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے۔ اس روایت کو ابن عبد الحکم نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔ صحیح وہ ہے جو امام مالک نے ابن القاسم اور ابن وہب کی روایت میں ذکر کیا ہے کہ کسی مسلمان کے لیے شراب سے علاج کرنا صحیح نہیں حتی کہ وہ اسے سرکہ بنادے اور اسے بیچنا بھی جائز نہیں بلکہ وہ اسے انڈیل دے۔
مسئلہ نمبر 10۔ امام مالک اور ان کے اصحاب کا قول مختلف نہیں کہ جب شراب خود بخود سرکہ بن جائے تو اس کا کھانا حلال ہے یہی حضرت عمر بن خطاب، قبیصہ، ابن شہاب اور امام شافعی کا ایک قول ہے۔ یہ اکثر فقہاء کے مذہب کا ماحاصل ہے۔
مسئلہ نمبر 11۔ ابن خویز منداد نے ذکر کیا ہے کہ شراب کی ملکیت ہوگی اور انہوں نے اس کو اس طرف لوٹایا ہے کہ اس سے گلہ کے پھندے کو دور کیا جائے گا اور اس سے آگ بجھائی جائے گی۔ یہ نقل امام مالک سے معروف نہیں بلکہ یہ تو اس کے قول پر ہے جو اس کو پاک خیال کرتا ہے، اگر اس کی ملکیت جائز ہوتی تو نبی کریم ﷺ اس کو بہانے کا حکم نہ دیتے، نیز ملکیت نفع کی ایک صورت ہے اور اس کو بہانے کے ساتھ وہ نفع باطل ہوگیا۔
مسئلہ نمبر 12۔ یہ آیت دلیل ہے کہ نرد اور شطرنج بطور جوا کھیلنایاجوا کے بغیر کھیلناحرام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جب شراب کو حرام کیا تو اس معنی کی خبر دی جو اس میں تھا فرمایا : (آیت) یایھا الذین امنو انما الخمر والمیسر پھر فرمایا : انمایریدالشیطان ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء اور ہر وہ کھیل جس کا قلیل کثیر کی طرف دعوت دے اور وہ کھیلنے والوں کے درمیان عداوت اور بغض کو پیدا کرے اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نماز سے روکے وہ شراب پینے کی طرح ہے اور اس کی مثل حرام ہونا ثابت کیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ شراب پیناتو نشہ کا باعث بنتا ہے انسان اس کے ساتھ نماز پر قادر نہیں ہوتا جب کہ نرد اور شطرنج میں یہ معنی نہیں اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حرمت میں شراب اور جوئے کو جمع کیا ہے اور دونوں کا یہ وصف بیان کیا ہے کہ یہ دونوں لوگوں کے درمیان عداوت اور بغض پیدا کرتے ہیں اور اللہ کے ذکر اور نماز سے روکتے ہیں۔ یہ معلوم ہے کہ شراب اگر نشہ دیتی ہے تو جوا نشہ نہیں دیتا پھر اللہ کے نزدیک ان میں افتراق نہیں ہے جو تحریم میں ان کے درمیان برابری سے مانع ہو، کیونکہ دونوں معانی کے اعتبار سے مشترک ہیں نیز شراب کا قلیل، نشہ نہیں دیتا جس طرح نرد اور شطرنج کا کھیل نشہ نہیں دیتا پھر بھی شراب کا قلیل، کثیر کی طرح حرام ہے کوئی انکار نہیں کیا جاتا کہ نرد اور شطرنج شراب کی طرح حرام ہیں اگرچہ نشہ نہیں دیتی نیز کھیل کا آغاز غفلت کا موجب ہے اور وہ غفلت جو دل پر غالب آتی ہے وہ نشہ کی جگہ ہوتی ہے۔ اگر شراب حرام کی گئی ہے، کیونکہ یہ نشہ دیتی ہے اور نشہ کی وجہ سے نماز روکتی ہے پس نرد اور شطرنج کا کھیل بھی حرام ہونا چاہیے، کیونکہ وہ بھی غافل کرتا ہے اور نماز سے روکتا ہے۔
مسئلہ نمبر 13۔ یہ روایت دلیل ہے کہ اسے ناسخ نہیں پہنچی وہ سابقہ اباحت سے استدلال کرنے والا تھا پس یہ دلیل ہے کہ باسخ کے وجود کے ساتھ حکم نہیں اٹھتاجیسا کہ بعض اصولیوں نے کہا ہے بلکہ ناسخ کے پہنچنے کا ساتھ حکم اٹھتا ہے جیساکا اس پر یہ حدیث دلالت کرتی ہے یہ صحیح ہے، کیونکہ نبی کریم نے اسے توبیخ نہیں فرمائی بلکہ اس کے لیے حکم بیان فرمایا، کیونکہ وہ پہلے عمل کے ساتھ مخاطب تھا اگر اسے ترک کرتا تو بلا اختلاف نافرمانی کرنے والا ہوتا، اگرچہ ناسخ وجود میں پایا بھی گیا تھا اس طرح اہل قبا کے لیے واقع ہوا تھا جب وہ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آنے والا اور انہیں ناسخ کے بارے میں بتایاتو وہ کعبہ کی طرف پھرگئے۔ یہ سورة بقرہ میں گزرچکا ہے والحمد للہ۔ اس میں الخمر (شراب) اور اس کے اشتقاق اور میسرکاذکر گزرچکا ہے انصاب اور ازلام کے بارے اس سورة کے آغاز میں گزرچکا ہے۔
مسئلہ نمبر 14۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) انمایرید الشیطان ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء فی الخمر والمیسر۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو آگاہ فرمایا کہ شیطان ہمارے درمیان شراب کے ذریعے عداوت اور بغض پیدا کرنا چاہتا ہے، پس اسی نے ہمیں اس سے محتاط رہنے کا حکم دیا اور ہمیں اس سے منع فرمایا۔ روایت ہے کہ انصار دو قبیلوں نے شراب پی اور بعض نے بعض کے ساتھ مذاق کیا جب وہ ہوش میں آئے تو بعض نے اس کے آثار دیکھے جو دوسروں نے اس کے ساتھ کیا تھا وہ آپس میں بھائی بھائی تھے اور دلوں میں کسی قسم کا بغض نہ تھا تو بعض کہنے لگے : اگر میرا بھائی مجھ پر رحم کرنے والا ہوتا تو میرے ساتھ ایسا نہ کرتا پس اس طرح ان کے درمیان کینہ اور بغض پیدا ہوگیا پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) انمایرید الشیطان ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء، الایۃ۔
مسئلہ نمبر 15۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ویصدکم عن ذکر اللہ وعن الصلوۃ فرمایا : جب تم نشہ میں ہوجائوگے تو تم اللہ کا ذکر نہ کروگے اور نہ نماز پڑھو گے اگر تم نماز پڑھو گے تو تم پر خلط ملط کردے گا جس طرح اس نے حضرت علی کے ساتھ کیا، یہ بھی روایت ہے کہ حضرت عبد الرحمن کے ساتھ کیا ہے جیسا کہ سورة النساء میں گزرا ہے۔ حضرت عبید اللہ بن عمر نے فرمایا : قاسم بن محمد سے شطرنج کے بارے پوچھا گیا کہ کیا یہ جوا ہے اور نرد کے بارے پوچھا گیا کیا یہ جوا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہر وہ کھیل جو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نماز سے روک دے وہ میسر ہے۔ ابو عبید نے کہا : انہوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے : (آیت) ویصدکم عن ذکر اللہ وعن الصلوۃ، الایۃ۔
مسئلہ نمبر 16۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) فھل انتم منتھون جب حضرت عمر ؓ نے جان لیا کہ یہ وعید، انتھوا کے معنی پر شدید ہے، تو حضرت عمر نے کہا : ہم شراب سے رک گئے۔ نبی کریم ﷺ نے منادی کو حکم دیا کہ گلیوں میں اعلان کردیں کہ خبردار شراب حرام کی گئی، پس مٹکے ٹوٹ گئے اور شراب بہادی گئی حتی کہ وہ مدینہ کی گلیوں میں بہہ رہی تھی۔
مسئلہ نمبر 17۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) واطیعواللہ واطیعوالرسول واحذروا تحریم تاکید ہے اور وعید میں شدت ہے اور حکم کی پیروی ہے، منہی عنہ سے روکنا ہے۔ واطیعوا پر عطف اچھا ہے، کیونکہ پہلی کلام میں انتھوا کے معنی کی تاکید ہے اور تاکید کے لیے اطیعوا کو ذکر رسول میں مکرر کیا ہے اور مخالفت سے ڈرایا ہے اور آخرت کے عذاب کی دھمکی دی ہے۔ فرمایا : اگر تم نے مخالفت کی (آیت) انما علی رسولنا البلغ المبین یعنی ہمارے ذمہ تو اس تحریم کا پہنچانا ہے اور رسول پر اعمال خیر یا شر کا انجام بیان کرنا ہے۔ (1)
Ayah 5:93آیت نمبر 93
اس میں نو مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت براء بن عازب اور حضرت انس بن مالک نے کہا : جب شراب کی تحریم نازل ہوئی تو بعض صحابہ نے کہا : جو لوگ ہمارے فوت ہوچکے ہیں جب کہ وہ شراب پیتے تھے اور جوئے کا مال کھاتے تھے ان کا کیا ہوگا ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی (2) ۔ امام بخاری نے حضرت انس سے روایت کیا ہے فرمایا : میں ابو طلحہ کے گھر میں لوگوں کو شراب پلارہا تھا تو شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا، آپ ﷺ نے ندا کرنے والے کو ندا کرنے کا حکم دیا۔ ابو طلحہ نے کہا : باہر نکلو اور دیکھو یہ کیسی آواز ہے ؟ فرمایا : میں نکلا تو میں نے کہا : یہ منادی ندا کر رہا ہے کہ شراب حرام ہوگئی ہے۔ ابو طلحہ نے کہا : تم جائو اور اس شراب کو بہادو، اس وقت شراب الفضیح (وہ شراب جو کچی کھجور سے بنائی جاتی ہے) تھی، فرمایا : شراب مدینہ کی گلیوں میں بہہ رہی تھی۔ بعض لوگوں نے کہا : ایک قوم شہید ہوگئی جب کہ ان کے پیٹوں میں شراب تھی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) لیس علی الذین امنواوعملوا الصلحت جناح الخ۔
مسئلہ نمبر 2۔ یہ آیت اور یہ حدیث ان کے اس سوال کی مثل ہے جو انہوں نے پہلے قبلہ پر مرنے والوں کے متعلق کیا تھا تو یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) وماکان اللہ لیضیع ایمانکم (بقرہ : 143) (3) جو شخص کوئی ایساکام کرے جو اس کے لیے مباح ہو حتی کہ وہ اسی فعل کو کرتے ہوئے مرجائے تو اس پر کوئی گرفت اور گناہ نہیں اور نہ کوئی مواخذہ اور مذمت ہے، نہ اجر ہے، نہ مدح، کیونکہ مباح، شرع کی نسبت سے دونوں طرفوں میں برابر ہوتا ہے اس بنا پر مناسب ہے کہ خوف نہ کیا جائے اور جو مرچکا ہے اس کی حالت کے بارے میں سوال نہ کیا جائے جب کہ شراب اس کے پیٹ میں تھی جب کہ وہ مباح تھی۔ اور جس نے ایسا کہا ہے وہ اباحت کی دلیل سے غافل ہوا اور اس کو کوئی خطرہ نہیں یا اللہ تعالیٰ کے خوف کے غلبہ اور اپنے مومن بھائیوں پر شفقت کی وجہ سے مواخذہ اور سزا کا خیال آیا، کیونکہ انہوں نے پہلے شراب پی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے وہ وہم دور فرمادیا فرمایا : (آیت) لیس علی الذین امنواوعملوا الصلحت جناح فیما طعموا۔
مسئلہ نمبر 3۔ اس آیت کے نزول میں یہ حدیث واضح دلیل ہے کہ نبی ذالتمر جب نشہ دے تو وہ خمر ہے۔ یہ نص ہے اس پر اعتراض جائز نہیں، کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اہل زبان تھے اور انہوں نے سمجھا کہ یہ شراب ہے، کیونکہ اس وقت مدینہ طیبہ میں اور کوئی شراب نہ تھی۔ حکمی نے کہا : لناخمرولیست خمر کرم ولکن من تناج الباسقات کرام فی السماء ذھین طولا وفات ثمارھا ایدی الجناۃ اس پر واضح دلیل نسائی کی روایت ہے، ہمیں قاسم بن زکریا نے بتایا انہوں نے کہا ہمیں عبیداللہ نے بتایا انہوں نے شیبان سے انہوں نے اعمش سے انہوں نے محارب بن دثار سے انہوں نے حضرت جابر سے اور انہوں نے نبی مکرم ﷺ سے روایت فرمایا :” کشمش اور کھجورخمر (شراب) ہے “ اور عقل صحیح سے ثابت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب، ان کا لغت اور شرع کا عالم ہونا تھے کافی ہے، نینبی مکرم ﷺ کے منبر پر خطبہ دیا : اے لوگو ! خبردار شراب کی حرمت نازل ہوئی۔ جب نازل ہوئی یہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی انگور سے، کھجور سے، شہد سے، گندم سے اور جو سے اور خمر وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ دے یہ شراب کے معنی میں واضح ہے۔ حضرت عمر نے صحابہ کرام کی موجود گی میں منبر پر شراب کے بارے میں خطبہ دیا وہ اہل زبان تھے اور انہوں نے خمر سے نہ سمجھا مگر وہ جو ہم نے ذکر کیا ؓ ۔ جب یہ ثابت وہ گیا تو امام ابوحنیفہ اور کو فیوں کا مذہب باطل ہوگیا کہ خمر صرف انگور سے ہوتی ہے (امام اعظم ابوحنیفہ کا کہنا ہے خمر کا لفظ انگور کے ایسے رس جو پڑا پڑا جوش مارنے لگے اور گاڑھا ہوجائے اس میں حقیقت ہے اور دوسروں میں مجاز ہے اس لیے یہ اظہار محل نظر ہے) اور جو انگور کے علاوہ کسی چیز سے ہو تو اسے خمر نہیں کہا جاتا اور اسے خمر کا اسم شامل نہیں اسے نبیذ کہا جاتا ہے۔ شاعر نے کہا : ترکت النبیذ لاھل النبیذ وصرت حلیفا لمن عابہ شراب یدنس عرض الفتی ویفتح للشر ابوابہ
مسئلہ نمبر 4۔ امام ابو عبد اللہ مارزی نے کہا : جمہور سلف کا مذہب یہ ہے کہ جو نوع نشہ دے اس کا پینا حرام ہے خواہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ ہو، وہ شراب کچی ہو یا پکائی گئی ہو کوئی فرق نہیں، انگور سے نکالی گی ہو یا کسی دوسری چیز سے نکالی گئی ہے۔ جس نے شراب میں سے کچھ پیا اس شراب کی حد لگائی جائے گی اور جو انگو سے نکالی جائے گی جو کچی اور نشہ آور ہوتی ہے اس کی حرمت پر اجماع ہے خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر ہو اگرچہ ایک قطرہ بھی ہو۔ اور اس کے علاوہ جو شرابیں ہیں وہ جمہور اس کی تحریم کا قول کرتے ہیں اور کوفی علماء خمر کے علاوہ قلیل شراب میں اختلاف کرتے ہیں اور اس سے مراد وہ ہے جو نشہ نہیں دیتی۔ اور جو شراب انگور سے پکا کر بنائی جاتی ہے اہل بصرہ کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ حرمت انگور کے شیرہ پر اور کچی کشمش کی شراب پر منحصر ہے جو ان دونوں سے پکائی گئی ہے اور ان کے علاوہ کچی اور پکی حلال ہے جب تک کہ وہ نشہ نہ دے۔ امام ابوحنیفہ تحریم کو اس سے خاص کرتے ہیں جو کھجور اور انگور کے پھلوں کا نچوڑ ہو۔ اس میں ان کی تفصیل ہے۔ ان کا خیال ہے کہ انگور کی شراب قلیل ہو یا کثیر وہ حرام ہے مگر اسے اتنا پکایا جائے کہ ایک تہائی باقی رہ جائے۔ اور کشمش اور کھجور کی شراب اس کو پکایا گیا ہو تو حلال ہے اگرچہ اس کو آگ نے تھوڑا سا بھی چھوا ہو اور ان کی کچی شراب وہ حرام ہے لیکن اس کی حرمت کے باوجود اس پر حد ثابت نہیں ہوتی یہ اسی صورت میں ہے جب کہ نشہ نہ دے، اگر نشہ دے تو تمام برابر ہیں۔
ہمارے شیخ فقیہ امام ابوالعباس احمدؓؓؓؓؓرحمۃ اللہ علیہ نے کہا : اس مسئلہ میں مخالفت کرنے والوں پر تعجب ہے۔ وہ کہتے ہیں : شراب جو انگور کے شیرہ سے بنائی گئی ہو وہ تھوڑی بھی زیادہ کی طرح حرام ہے، اس پر اجماع ہے۔ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ خمر میں قلیل کیوں حرام ہے وہ تو عقل کو ضائع کرنے والی نہیں ہے ؟ پس یہ کہنا ضروری ہے کہ یہ زیادہ کی طرف دعوت دینے والی ہے یا یہ تعبد و تکلف کی بنا پر ہے۔ اس وقت انہیں کہا جائے گا : جو تم نے قلیل خمر میں مقدر کیا ہے وہی بعینہ قلیل نبیذ میں موجود ہے پس وہ بھی حرام ہو، کیونکہ ان دونوں کے درمیاں نام کا ہی فرق ہے جب یہ تسلیم کرلیا جائے یہ قیاس، قیاس کی انواع میں سے بلند ترین قسم ہے، کیونکہ اس میں فرع تمام اوصاف میں اصل کے مساوی ہے یہ اس طرح ہے جیسے غلام پر لونڈی کو قیاس کیا جاتا ہے آزادی کی سرایت میں پھر تعجب تو امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب پر ہے وہ قیاس میں غلو کرتے ہیں اور وہ قیاس کو اخبار احاد پر ترجیح دیتے ہیں، اس کے باوجود انہوں نے اس قیاس جلی کو ترک کردیاجس کی تائید کتاب و سنت اور امت کے ابتدائی علماء کے اجماع سے ہوتی ہے اور احناف نے یہ قیاس کا ترک ان احادیث کی وجہ سے کیا جن میں سے کوئی بھی صحیح نہیں ہے جب کہ علماء نے اپنی اپنی کتب میں ان کی علتیں بیان کی ہیں اور ان احادیث میں سے کوئی بھی صحیح نہیں ہے۔ مزید تفصیل سورة النحل میں آئے گی انشاء اللہ تعالی۔
مسئلہ نمبر 5۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : طعموا اس لفظ کی اصل کھانے کے بارے میں ہے طعم اطعام اور شرب الشراب کہا جاتا ہے لیکن مجازا اس میں کہا جاتا ہے : لم اطعم خبزا ولا ماء ولا نوما۔ شاعر نے کہا : نعاما بوجرۃ صعر الخدو دلا تطعم النوم الا صیام سورة بقرہ میں (آیت) ومن لم یطعمہ (بقرہ : 249) کے تحت گزرچکی ہے
مسئلہ نمبر 6۔ ابن خویز منداد نے کہا : یہ آیت مباح اور شہوت کو اور کھانے، پینے اور نکاح کرنے کی ہر لذت سے نفع حاصل کرنے کا شامل ہے اگرچہ ان میں مبالغہ کیا گیا ہو اور انتہائی مہنگی ہوں یہ آیت اس ارشاد : (آیت) لاتحرمو اطیبت ما احل اللہ لکم اور (آیت) قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ والطیبت من الرزق (الاعراف : 32) کی مثل ہے
مسئلہ نمبر 7۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذا ما اتقوا وامنوا وعملوا الصلحات ثم اتقو وامنواثم اتقوا واحسنو واللہ لا یحب المحسنین اس میں چار قول ہیں : (1) تقوی کے ذکر میں تکرار نہیں ہے اس کا معنی ہے شراب کے پینے سے بچو اور اس کی تحریم پر ایمان لے آئو۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ ان کا تقوی اور ایمان ہمیشہ اور دائمی ہے۔ تیسرا یہ کہ احسان کے معنی پر تقوی ہے۔
(2) دوسرا قول یہ ہے کہ انہوں نے شراب کی حرمت سے پہلے دوسری محرمات سے تقوی اختیار کیا پھر اس کی تحریم کے بعد اس کے پینے سے تقوی اختیار کیا پھر باقی اعمال میں بھی تقوی اختیار کیا اور عمل بہت عمدہ کیا۔
(3) تیسرا قول یہ ہے کہ وہ شرک سے بچے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے دوسرا معنی یہ کہ وہ کبائر سے بچے اور ایمان کو زیادہ کیا اور تیسرا معنی یہ کہ پھر وہ صغائر سے بچے اور نفلی کام کیے۔ محمد بن جریر نے کہا : پہلے تقوی سے مراد اللہ تعالیٰ کے حکم کو قبول کرنا اور اس کی تصدیق کرنا اور اس کے دین کو سمجھ کر اس پر عمل کرنا، دوسرے تقوی سے مراد تصدیق پر ثابت وقائم رہنا، تیسرے تقوی سے مراد احسان کے ساتھ تقوی اختیار کرنا اور نوافل کے ساتھ قرب حاصل کرنا۔
مسئلہ نمبر 8۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ثم اتقوا واحسنوا واللہ یحب المحسنین یہ دلیل ہے کہ متقی محسن اس متقی مومن سے افضل ہے جو عمل صالح کرتا ہے اور اس کی فضلیت احسان کے اجر کے ساتھ ہے۔
مسئلہ نمبر 9۔ اس آیت کی حضرت قدامہ بن مظعون نے تاویل کی جو صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے اپنے بھائی حضرت عثمان اور حضرت عبداللہ کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی، پھر مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کی تھی، جنگ بدر میں شرکت کی تھی اور حضرت عمر بن خطاب کے سسر تھے۔ حضرت عبد اللہ اور حضرت حفصہ کے ماموں تھے۔ حضرت عمر بن خطاب نے انہیں بحرین کا والی بنایا تھا پھر جارود کی شہادت پر انہیں معزول کردیا تھا، جارود عبدالقیس کا سردار تھا۔ انہوں نے حضرت قدامہ کے خلاف شراب پینے کی گواہی دی تھی۔ دارقطنی نے روایت کیا ہے فرمایا ہمیں ابوالحسن علی بن محمد مصری نے بتایا انہوں نے کہا ہمیں یحییٰ بن ایوب علاف نے بتایا انہوں نے کہا مجھے سعید بن عفیر نے بتایا انہوں نے کہا مجھے فلیح بن سلیمان نے بتایا انہوں نے کہا مجھے ثوربن زیدنے بتایا انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ شراب پینے والوں کو عہد رسالت مآب ﷺ میں ہاتھوں، جوتوں اور لاٹھیوں کے ساتھ مارا جاتا تھا، حتی کہ رسول اللہ ﷺ کا وصال ہوا، پھر حضرت ابوبکر ؓ کے دور میں یہ لوگ زیادہ تھے حضرت ابوبکر انہیں چالیس کوڑے لگاتے تھے حتی کہ وہ فوت ہوگئے ان کے بعد حضرت عمر بھی شرابیوں کو چالیس کوڑے لگاتے تھے حتی کہ مہاجرین اولین میں سے ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی تھی حضرت عمر نے اسے کوڑے لگانے کا حکم دیا۔ اس شخص نے کہا : تو مجھے کوڑے کیوں لگاتا ہے میرے اور تیرے درمیان کتاب اللہ ہے ؟ حضرت عمر نے کہا : کون سی کتاب اللہ میں ہے کہ میں تجھے کوڑے نہ لگائوں ؟ اس نے کہا : اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں : (آیت) لیس علی الذین امنوا وعملوا الصلحت جناح فیماطعموا اور میں ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والوں سے ہوں پھر جنہوں نے تقوی اختیار کیا اور ایمان لائے پھر تقوی اختیار کیا اور اچھے اعمال کیے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ بدر، احد، خندق اور دوسری تمام جنگوں میں حاضر ہوا۔ حضرت عمر نے کہا : کیا تم اس کا رد نہیں کرتے جو یہ کہہ رہا ہے ؟ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ آیات ان لوگوں کے بارے میں اتریں جو گزرچکے ہیں اور یہ لوگوں پر حجت ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : یایھا الذین امنوا انما الخمر والمیسر اؓلخ پھر مکمل آیت پڑھی اگر یہ ان لوگوں میں سے ہے تو اللہ تعالیٰ نے اسے شراب پینے سے منع کیا ہے۔ حضرت عمر نے کہا : تم نے سچ کہا ہے تم کیا کہتے ہو ؟ حضرت علی ؓ نے فرمایا : جب شراب پیے گا تو نشہ میں ہوگا جب نشہ میں ہوگا تو ہذیان بکے گا جب ہذیان بکے گا تو افترا باندھے گا اور جھوٹا الزام لگانے والے پر اسی کوڑے ہیں۔ حضرت عمر نے اسے کوڑے لگانے کا حکم دیاتو اسے کوڑے لگائے گئے (1) (سنن دارقطنی، حدیث نمبر 3344 ) ۔
حمیدی نے ابوبکر برقانی سے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : جب جارود بحرین سے آیا تو کہا : اے امیرالمومنین ! قدامہ بن مظعون نے نشہ دینے والی شراب پی ہے میں جب اللہ کے حق میں سے کوئی دیکھوں تو مجھ پر حق ہے کہ میں وہ تم تک پہنچائوں۔ حضرت عمر نے کہا : جو تم کہہ رہے ہو اس پر گواہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا : حضرت ابوہریرہ ؓ ۔ حضرت عمر نے حضرت ابوہریرہ کو بلایا، پوچھا : اے ابوہریرہ کیسے گواہی دیتے ہو ؟ حضرت ابوہریرہ نے کہا : میں نے اسے شراب پیتے ہوئے نہیں دیکھا اور میں نے اسے نشہ میں قے کرتے ہوئے دیکھا۔ حضرت عمر نے کہا : تم شہادت میں گہرے ہو، پھر حضرت عمر نے قدامہ کو خط لکھا وہ بحرین میں تھے اسے حاضر ہونے کا حکم دیا جب قدامہ آیا تو جارود مدینہ میں تھا۔ حضرت عمر نے جارود سے بات کی فرمایا : اس پر کتاب اللہ کو قائم کر۔ حضرت عمر نے جارود سے کہا : تو گواہ ہے یا خصم ہے۔ جارود نے کہا : میں گواہ ہوں۔ حضرت عمر نے کہا : تو نے گواہی ادا کردی پھر اس نے حضرت عمر سے کہا : میں تجھے اللہ کا واسطہ دیتا ہوں۔ حضرت عمر نے کہا : تو اپنی زبان کو سنبھال ورنہ میں تجھے سخت سزا دوں گا۔ جارود نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ حق نہیں کہ تیرے چچا کا بیٹا شراب پیئے اور تو مجھے اذیت دے۔ حضرت عمر نے اسے دھم کا یا تو حضرت ابوہریرہ نے کہا : جو بیٹھے ہوئے تھے اے امیر المومنین اگر تجھے ہماری گواہی پر شک ہے تو ابن مظعون کی بیوی ولید کی بیٹی سے پوچھ، حضرت عمر نے ہند کو بلایا اور اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پوچھا، ہند نے اپنے خاوند کے خلاف شہادت دی۔ حضرت عمر نے کہا : اے قدامہ میں تجھے کوڑے لگائوں گا۔ قدامہ نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر میں نے شراب پی ہے جیسا کہ وہ کہتے ہیں، تو اے عمر پھر بھی تم مجھے کوڑے نہیں لگاسکتے۔ حضرت عمر نے کہا : کیوں ؟ اس نے کہا : کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) لیس علی الذین امنوا وعملوا الصلحت جناح فیماطعمواذا ما اتقوا وامنو اوعملوا لصلحت ثم اتقواوامنو ثم اتقوا واحسنوا واللہ یحب المحسنین
حضرت عمر نے کہا : اے قدامہ تو نے غلط تاویل کی ہے جب تو اللہ سے ڈرتا ہے تو اس سے اجتناب کر جس کو اللہ نے حرام کیا ہے، پھر حضرت عمر قوم کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا : تم قدامہ کے کوڑوں میں کیا رائے رکھتے ہو ؟ قوم نے کہا : ہمارا خیال ہے تم اسے کوڑے نہ لگائو جب تک ہو مریض ہے۔ حضرت عمر اس کے کوڑے لگانے سے خاموش ہوگئے، پھر ایک دن صبح اپنے ساتھیوں سے کہا : تمہاری قدامہ کے کوڑوں کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ قوم نے کہا : ہم نہیں دیکھتے کہ تم اسے کوڑے لگائے جب تک وہ مریض ہے۔ حضرت عمر نے کہا : اللہ کی قسم ! اس کا اللہ تعالیٰ سے کوڑے کے تحت ملاقات کرنا مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اللہ سے ملوں جب کہ وہ میری گردن میں ہو ؟ اللہ کی قسم ! میں اسے کوڑے لگائوں گا تم میرے پاس کو ڑالے آئو، ان کا غلام اسلم ایک چھوٹا سا نرم کوڑا لے آیا۔ حضرت عمر نے اسے پکڑا اس پر ہاتھ پھیرا پھر اسلم سے کہا : میں نے تجھے تیری قوم کی بری عادتوں پر پایا ہے، تم میرے پاس کوئی اور کوڑا لائو پھر اسلم ایک مکمل کوڑا لایا، حضرت عمر نے قدامہ کو کوڑے لگانے کا حکم دیا قدامہ حضرت عمر پر ناراض ہوا اور اسے چھوڑ دیا گیا پھر دونوں نے حج کیا، قدامہ حضرت عمر کو چھوڑے رہاحتی کے اپنے حج سے واپس آگئے۔
حضرت عمر سقیا کے مقام پر اترے اور وہاں سو گئے جب حضرت عمر اٹھے تو کہا : قدامہ کو میرے پاس جلدی لائو، جائو اور اسے میرے پاس لے آئو اللہ کی قسم ! میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے پاس کر ئی آیا اور کہا : قدامہ سے صلح کرو وہ تمہارا بھائی ہے جب لوگ قدامہ کے پاس آئے تو اس نے آنے سے انکار کیا حضرت عمر نے قدامہ کو کھینچ کر لانے کا حکم دیا، حضرت عمر نے اس سے کلام کی اور اس کے لیے استغفار کیا یہ ان کی پہلی صلح تھی۔
ایوب ابن ابی تیمیہ نے کہا : اہل بدر میں سے ان کے علاوہ کسی کو شراب کی وجہ سے حد نہیں لگی۔ ابن عربی نے کہا : یہ آیت کی تاویل پر تیری رہنمائی کرتا ہے اور حضرت ابن عباس ؓ سے دارقطنی میں روایت کیا گیا ہے اور حضرت عمر سے برقانی کی حدیث میں جو کچھ ذکر کیا گیا ہے اس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ صحیح ہے۔ اس نے اس کو وسیع کیا کہ اگر جو شراب پیتا اور دوسرے احکام میں اللہ سے ڈرتا تو پھر شراب پر کسی کو حد نہ لگائی جاتی۔ یہ غلط تاویل ہے قدامہ پر مخفی رہی اور انہوں نے اس کو پہچان لیاجن کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی جیسے حضرت عمر ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ شاعر نے کہا : وان حراما لا اری الدھر با کیا علی شجوہ الا بکیت علی عمر حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ شام میں ایک قوم نے شراب پی اور انہوں نے کہا : ہمارے لیے یہ حلال ہے اور انہوں نے اس آیت کی تاویل کی، حضرت علی اور حضرت عمر نے اجماع کیا کہ ان سے توبہ طلب کی جائے اگر وہ توبہ کرلیں تو فبہا ورنہ وہ قتل کیے جائیں۔ الکیاطبری نے ذکر کیا ہے۔
Ayah 5:94آیت نمبر 94
اس میں آٹھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) لیبلونکم اللہ یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں ضرور آزمائے گا۔ ابتلا کا معنی آزمانا ہے، شکار عرب عاربہ کی معیشت کے ذرائع میں سے ایک تھا اور یہ تمام کے نزدیک عام تھا اور مستعمل تھا، اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کے متعلق احرام اور حرم کے ساتھ آزمایاجس طرح بنی اسرائیل کو ہفتہ کے دن کے احکام میں حد سے تجاوز نہ کرنے میں آزمایا تھا (1) (المحررالوجیز) ۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ حدیبیہ کے سال نازل ہوئی۔ بعض لوگوں نے نبی مکرم ﷺ کے ساتھ احرام باندھا ہوا تھا اور بعض نے نہیں باندھا ہوا تھا جب کوئی شکار سامنے آتا تو اس میں ان کے احوال اور افعال مختلف ہوتے اور ان پر اس کے احکام مشتبہ ہوگئے، پس اللہ تعالیٰ نے ان کے احوال و افعال کے احکام اور ان کے حج اور عمرہ کی ممنوعات کے بیان میں یہ آیت نازل فرمائی (1) (احکام القرآن لابن عربی ) ۔
مسئلہ نمبر 2۔ علماء کے دو مختلف قول ہیں کہ اس آیت کے مخاطب کون ہیں (1) وہ احرام نہ باندھنے والے لوگ ہیں یہ امام مالک کا قول ہے (2) اس سے مراد احرام باندھنے والے لوگ ہیں یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے اور اس کا تعلق لیبلونکم کے ساتھ ہے، کیونہ امتناع کی تکلیف جس کے ساتھ ابتلا محقق ہوتا ہے وہ احرام کے ساتھ ہے۔ ابن عربی نے کہا : یہ لازم نہیں کیونکہ تکلیف احرام نہ باندھنے والے پر بھی محقق ہوتی ہے کہ اس کے لیے شکار کے امور میں شرط رکھی گئی ہے اور شکار کرنے کی کیفیت جو اس کے لیے مشروع کی گئی ہے، صحیح یہ ہے کہ آیت میں خطاب تمام لوگوں کو ہے جو احرام باندھے ہوئے نہ تھے اور جو احرام باندھے ہوئے تھے، ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) لیبلونکم اللہ۔ یعنی وہ تمہیں مکلف بنائے گا اور تکلیف ابتداوآزمائش ہوتی ہے اگرچہ کثرت وقلت میں فرق ہوتا ہے اور ضعف اور شدت میں تباین ہوتا ہے۔
مسئلہ نمبر 3۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بشیء من الصید مراد بعض شکار ہے اور من بعضیہ ہے اس سے خاص خشکی کا شکار مراد ہے تمام شکار کو یہ حکم شامل نہیں، کیونکہ دریا کے لیے بھی شکار ہوتا ہے یہ طبری کا قول ہے اور الصید سے مراد المصید (جس کو شکار کیا جائے) کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) تنالہ ایدیکم۔
مسئلہ نمبر 4۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) تنالہ ایدیکم ورماحکم یہ چھوٹے بڑے شکار کے حکم کا بیان ہے (2) (ایضا) ۔
ابن وثاب اور نخعی نے ینالہ یعنی یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ مجاہد نے کہا : تمہارے ہاتھ ان کے بچوں، انڈوں اور ایسے شکار تک پہنچتے ہیں جو بھاگ نہیں سکتے اور تمہارے نیزے بڑے شکار تک پہنچتے ہیں۔ ابن وہب نے کہا : مالک نے کہا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : یایھا الذین امنوا لیبلونکم اللہ بشیء من الصید تنالہ ایدیکم ورماحکم ہر ہو چیز جس تک انسان کا ہاتھ، نیزہ یا کوئی اور ہتھیار پہنچتا ہے پھر وہ اسے قتل کردیتا ہے تو وہ شکار ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
مسئلہ نمبر 5۔ اللہ تعالیٰ نے خصوصا ہاتھوں کا ذکر فرمایا، کیونکہ شکار کرنے میں ہاتھ کا زیادہ تصرف ہوتا ہے اور اس میں شکاری کتے اور رسیاں اور ہاتھ سے بنائے گئے جال وغیرہ داخل ہیں خصوصی طور پر نیزوں کا ذکر کیا، کیونکہ ان کے ساتھ شکار کو زخمی کیا جاتا ہے اس میں تیر وغیرہ بھی داخل ہیں (3) (ایضا) ۔ شکاری کتے اور نیزوں میں سے جن چیزوں کے ساتھ شکار کیا جاتا ہے وہ سورة کے آغاز میں گزرچکا ہے۔ اس گفتگو میں کفایت ہے۔ والحمد للہ
مسئلہ نمبر 6۔ جو چیز جال وغیرہ میں واقع ہو وہ اس کے مالک کے لیے ہے اگر شکار کو کوئی جال کی طرف مجبور کرے اگر وہ نہ ہوتا تو اس کے لیے پکڑنا ممکن نہ ہوتا تو اس کا مالک اس میں شریک ہوگا اور جو شکار اس مکھیوں کے چھتے میں واقع ہو جو پہاڑ میں لگایا گیا تھا تو وہ جال کی طرح ہے۔ برجوں کے کبوتر ان کے مالکوں کو لوٹائے جائیں گے اگر قدرت ہوگی اسی طرح جباح (چھتہ) کی مکھیوں کا حکم ہے۔
امام مالک سے مروی ہے اور ان کے اصحاب نے کہا : جو کبوتر یا مکھی حاصل کرلے اس پر لوٹانا ضروری نہیں اگر کتے نے شکار کو مجبور کیا اور وہ کسی کہ کمرے یا گھر میں داخل ہوگیا تو وہ کتے چھوڑنے والے کے لیے نہ ہوگا اگر کتوں کے بھگانے کے بغیر کسی کے گھر میں شکار داخل ہوگیا تو وہ گھر والوں کا ہوگا۔
مسئلہ نمبر 7۔ بعض لوگوں نے اس آیت سے حجت پکڑی ہے کہ شکار پکڑنے والے کے لیے ہوگا، بھگانے والے کے لیے نہ ہوگا کیونکہ اس کا نہ ہاتھ پہنچا ہے نہ نیزہ اور نہ کوئی اور چیز۔ یہ امام ابوحنیفہ کا قول ہے۔
مسئلہ نمبر 8۔ امام مالک نے اہل کتاب کے شکار کو مکروہ کہا ہے اور اسے حرام نہیں کہا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تنالہ ایدیکم ورماحکم میں کم ضمیر سے مراد اہل ایمان ہیں، کیونکہ آیت کے آغاز میں فرمایا : یایھا الذین امنواپس ایمان والو سے اہل کتاب نکل گئے۔ جمہور علماء نے امام مالک کی مخالفت کی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وطعام الذین اوتوا الکتب حل لکم۔ یہ ان کے نزدیک ان کے ذبیحہ کی مثل ہے۔ ہمارے علماء نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ آیت کریمہ ان کے طعام کو کھانے کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے اور شکار اور چیز ہے پس طعام کے عموم میں شکار داخل نہیں اور اس کے لفظ کا اطلاق اس کو شامل نہیں۔ (1) (احکام القرآن لابن عربی )
میں کہتا ہوں : یہ اس بناپر ہے کہ شکار ان کے نزدیک مشروع نہیں ہے پس وہ ان کے طعام میں سے نہیں ہے پس یہاں یہ الزام ساقط ہوجائے گا اگر ان کے نزدیک ان کے دین میں یہ مشروع ہوتا تو اس کا کھانا ہمیں لازم ہوتا، کیونکہ لفظ اس کو بھی شامل ہوتا اور وہ ان کے طعام سے تھا۔ واللہ اعلم