5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 5:48

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّ١ؕ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَۙ Open ayah 5:48 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ! ) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔ اور ان (سب) پر شامل ہے تو جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کے مطابق ان کا فیصلہ کرنا اور حق جو تمہارے پاس آچکا ہے اس کو چھوڑ کر ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک (فرقے) کے لیے ایک دستور اور طریقہ مقرر کردیا ہے اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ایک ہی شریعت پر کردیتا مگر جو حکم اس نے تم کو دیئے ہیں ان میں وہ تمہاری آزمائش کرنی چاہتا ہے سو نیک کاموں میں جلدی کرو۔ تم سب کو خدا کیطرف لوٹ کر جانا ہے۔ پھر جن باتوں میں تم کو اختلاف تھا وہ تم کو بتادے گا۔

آیت نمبر : 48۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وانزلنا الیک الکتب “۔ یہ خطاب محمد ﷺ کو ہے اور (آیت) ” الکتب “ سے مراد قرآن ہے (1) (زاد المسیر، جلد 2 صفحہ 219۔ (آیت) ” بالحق “۔ سے مراد امر حق ہے، (آیت) ” مصدقا “۔ حال ہے، (آیت) ” لما بین یدیہ من الکتب “۔ یعنی جنس کتاب سے۔ (آیت) ” مھیمنا علیہ “۔ یعنی اس پر بلند “۔ یہ اس کی تاویل پر دلیل ہے جو کثرت ثواب میں تفضیل کا قول کرتا ہے جیسا کہ سورة فاتحہ میں اشارہ گزر چکا ہے، شرح السنۃ میں ابن حصار کا یہی اختار ہے اور ہم نے یہ سب کچھ اپنی کتاب ” شرح الاسماء الحسنی “ میں ذکر کیا ہے، الحمد للہ۔ قتادہ ؓ نے کہا : المھیمن “۔ کا معنی شاہد (گواہ) ہے، یعض نے فرمایا : اس کا معنی حفاظت کرنے والا ہے، (2) (زاد المسیر، جلد 2 صفحہ 220۔ حسن نے کہا : اس کا معنی تصدیق کرنے والا ہے، اسی سے شاعر کا قول ہے : ان الکتاب مھیمن لنبینا والحق یعرفہ ذوالالباب : حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : (آیت) ” مھمینا علیہ “۔ یعنی اس پر امین بنایا گیا ہے، سعید بن جبیر نے کہا : قرآن پہلی کتب کا امین ہے یہ حضرت ابن عباس ؓ اور حسن سے بھی مروی ہے، المھیمن الامین “۔ مبرد نے کہا : اس کی اصل مؤیمن ہے ہمزہ کو ھا سے بدل دیا گیا ہے جس طرح ارقت الماء میں ھرقت بولا جاتا ہے۔ یہ زجاج اور ابو علی نے بھی کہا ہے، بعض نے فرمایا : ھیمن، یمیمن، ھیمنہ کا معنی ہے وہ امین تھا، جوہری نے کہا : اس کا معنی ہے غیر کو خوف سے امن دینا، اصل میں امن فھو مؤامن (دو حمزوں کے ساتھ) پھر دو ہمزوں کے اجتماع کو ناپسند کرنے کی وجہ سے دوسرے ہمزہ کو یا سے بدلا گیا ہے پس یہ مؤیمن بن گیا ہے پھر پہلے ہمزہ کو ھا سے بدلا دیا گیا جیسے انہوں نے کہا : ھراق الماء واراقہ۔ کہا جاتا ہے : ھیمن علی الشی ٗ یھیمن جب کوئی شے کی حفاظت کرنے والا ہو فھو مھیمن ابو عبید سے مروی ہے : مجاہد اور ابن محصیصن نے مھیمنا علیہ میم کی فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے مجاہد نے کہا : حضرت محمد ﷺ قرآن کے محافظ ہیں (3) (تفسیر طبری، جلد 6، صفحہ 320) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فاحکم بینھم بما انزل اللہ “۔ حکم کو واجب کرتا ہے بعض علماء نے فرمایا : یہ (آیت) ” فاحکم بینھم او اعرض عنھم “ میں جو تخییر تھی اس کے لیے نسخ ہے، بعض نے فرمایا : یہ وجوب نہیں ہے معنی یہ ہے کہ ان کے درمیان فیصلہ کرو اگر تم چاہو، کیونکہ ہم پر اہل کتاب کے درمیان فیصلہ کرنا واجب نہیں جب وہ ذمی نہ ہوں، اور اہل ذمہ میں تردد ہے، اس میں کلام گزر چکا ہے، بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے مخلوق کے درمیان فیصلہ کرو، یہ آپ پر واجب تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولا تتبع اھوآء ھم یعنی جو تمہارے پاس حق آچکا ہے اس پر ان کی خواہشات اور ان کے مراد کے مطابق عمل نہ کرو، یعنی اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جو احکام بیان فرمائے ہیں ان کے مطابق فیصلہ کرنے کو ترک نہ کرو۔ (آیت) ” اھوآئ “ م جمع ہے ھوی کی اور اس کی جمع اھویۃ نہیں بنائی جاتی، سورة بقرہ میں یہ گزر چکا ہے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ان کی خواہشات کی پیروی سے منع فرمایا : یہ اس شخص کے قول کے بطلان پر دلیل ہے جو کہتا ہے : جو اہل کتاب کے شراب کو تلف کرے گا اس پر شراب کی قیمت لگائی جائے گی، کیونکہ ان کے لیے مال ہے پس ضائع کرنے والے پر ضمانت ہوگی، یہ ضائع کرنے والے پر اس کی ضمانت کا واجب کرنا یہود کی خواہشات کے مطابق فیصلہ کرنے کے مترادف ہے اور ہمیں ان کے خلاف کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (آیت) ” عما جآء ک “ کا معنی ہے علی ما جاء ک “۔ یعنی جو تیرے پاس آیا اس پر۔ (آیت) ” لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھاجا “۔ یہ پہلی شریعتوں سے تعلق نہ ہونے پر دلیل ہے، الشرعۃ اور الشریعۃ سے مراد وہ راستہ جو نجات کی طرف پہنچا دے اور لغت میں شریعت سے مراد وہ راستہ ہے جس کے ذریعہ پانی تک پہنچا جائے اور الشریعۃ وہ دین جو اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے شروع کیا۔ شرع لھم یشرع شرعا۔ اس کا معنی ہے سن، سنت قائم کرنا الشارع بڑے راستہ کو کہتے ہیں، الشرعۃ وتر کو بھی کہتے ہیں، جمع شرع وشرع وشراع “۔ جمع الجمع ہے۔ ابوعبید سے مروی ہے یہ مشترک ہے، المنھاج وہ راستہ جو مستمر ہو، النھج والمنھج کا معنی ہے واضح۔ راجز نے کہا : من یک ذاشک فھذا فلج ماء رواء و طریق نھج : ابو العباس محمد بن یزید نے کہا : الشریعۃ، راستہ کا آغاز، المنھاج (1) (زاد المسیر، جلد 2 صفحہ 220۔ متواتر راستہ حضرت ابن عباس ؓ اور حسن وغیرہما سے مروی ہے، (آیت) ” شرعۃ ومنھاجا “۔ سنت اور راستہ (2) (تفسیر طبری، جلد 6، صفحہ 323) آیت کا معنی یہ ہے کہ اس نے تورات کو تورات والوں کے لیے اور انجیل کو انجیل والوں کے لیے اور قرآن کو قرآن والوں کے لیے بنایا، یہ شرائع اور عبادات میں ہے، اصل توحید میں کوئی اختلاف نہیں ہے یہی معنی قتادہ ؓ سے مروی ہے، مجاہد ؓ نے کہا : الشرعۃ اور المنھاج سے مراد حضرت محمد ﷺ کا دین ہے اس کے ساتھ باقی تمام ادیان کو منسوخ کردیا گیا۔ (3) (تفسیر طبری، جلد 6، صفحہ 322) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولو شاء اللہ لجعلکم امۃ واحدۃ “۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمہاری شریعت کو ایک بنا دیتا اور تم حق پر ہوتے پھر بیان فرمایا کہ اختلاف سے مراد ایک قوم کا ایمان اور ایک قوم کا کفر ہے۔ (آیت) ” لکن لیبلوکم فی ما اتکم “۔ کلام میں حذف ہے اس کے ساتھ لام کی متعلق ہے یعنی اس نے تمہاری شرائع کو مختلف بنایا تاکہ وہ تمہیں آزمائے، ابتلا کا معنی اختبار ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فاستبقوا الخیرت “۔ یعنی طاعات کی طرف جلدی کرو، یہ دلیل ہے کہ واجبات کو مقدم کرنا، ان کی تاخیر سے افضل ہے، یہ تمام عبادات میں حکم ہے مگر نماز کے بارے میں امام ابوحنیفہ (رح) کا خیال ہے کہ اس کی تاخیر اولی ہے اور آیت کا عموم اس کے خلاف دلیل ہے۔ ال کیا نے یہ کہا ہے اس میں دلیل ہے کہ سفر میں روزہ رکھنا افطار سے افضل ہے۔ یہ تمام سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ (آیت) ” الی اللہ مرجعکم جمیعا فینبئکم بما کنتم فیہ تختلفون “۔ جس میں تم نے اختلاف کیا اور شکوک زائل ہوں گے۔
Ayah 5:49

وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ وَ احْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّصِیْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:49 in the Quran reader

اور (ہم پھر تاکید کرتے ہیں کہ) جو (حکم) خدا نے نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق تم فیصلہ کرنا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اور ان سے بچتے رہنا کہ کسی حکم سے جو خدا نے تم پر نازل فرمایا ہے یہ کہیں تم کو بہکانہ دیں۔ اگر یہ نہ مانیں تو جان لو کہ خدا چاہتا ہے کہ ان کے بعض گناہوں کے سبب ان پر مصیبت نازل کرے اور اکثر لوگ تو نافرمان ہیں۔

آیت نمبر : 49۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وان احکم بینھم بما انزل اللہ “۔ اس پر کلام گزر چکی ہے اور یہ تخییر کے لیے ناسخ ہے، ابن عربی نے کہا : یہ ایک عریض دعوی ہے، کیونکہ نسخ کی چار شرائط ہیں، ایک ان میں سے متقدم ومتاخر کی تاریخ کا معلوم ہونا ہے اور یہ شرط ان دوآیتوں میں مجہوم ہے پس یہ دعوی کرنا ممتنع ہے کی ایک دوسری کے لیے ناسخ ہے، پس حکم اپنے حال پر باقی ہے۔ (1) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 632) میں کہتا ہوں : ہم نے ابو جعفر نحاس سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت نزول میں متاخر ہے پس یہ آیت ناسخ ہے مگر یہ کہ کلام میں ان شئت مقدر کیا جائے، کیونکہ اس کی تخییر کا ذکر گزر چکا ہے، اور کلام کے آخر سے تخییر کو حذف کیا گیا، کیونکہ پہلی کلام اس پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ یہ اس پر معطوف ہے، تخییر کا حکم، معطوف علیہ کے حکم کی طرح ہے، یہ دونوں شریک ہیں، دوسرا پہلے سے جدا نہیں ہے، کیونکہ اس کا کوئی معنی نہیں ہے اور یہ صحیح نہیں ہے پس (آیت) ” وان احکم بینھم بما انزل اللہ “۔ کے قول کا (آیت) ” وان حکمت فاحکم بینھم بینھم بالقسط “۔ اور (آیت) ” فان جاءوک فاحکم بینھم اوعراض عنھم “۔ پر معطوف ہونا ضروری ہے، پس (آیت) ” وان احکم بینھم بما انزل اللہ “۔ کا معنی یہ ہے کہ آپ اس کے مطابق فیصلہ کریں اگر آپ فیصلہ کریں اور حکم کرنا اختیار کریں یہ سب محکم ہے منسوخ نہیں ہے کیونکہ ناسخ منسوخ کے ساتھ معطوف علیہ کی حیثیت سے مرتب نہیں ہوتا، پس اس میں نبی مکرم ﷺ کے لے تخییر محکم ہے، منسوخ نہیں ہے، یہ مکی نے کہا ہے، (آیت) ” وان احکم “ الکتاب پر عطف کی وجہ سے محل نصب میں ہے یعنی ہم نے تیری طرف نازل کیا کہ تم ان کے درمیان فیصلہ کروا سکیں اس کے مطابق جو اللہ نے اتارا، یعنی اللہ کے حکم سے جو اس نے آپ کی طرف اپنی کتاب میں اتار (آیت) ” واحذرھم ان یفتنوک، واحذرھم “ میں ھا اور میم سے (ان) بدل اشتمال ہے یا مفعول لاجلہ ہے یعنی آپ کو برگشتہ کرنے کی وجہ سے، ابن اسحاق سے مروی ہے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہود کے چند علماء جن میں ابن صوریا، کعب بن اسد، ابن صلویا، اور شاس بن عدی بھی تھے، یہ جمع ہوئے اور کہا : ہم محمد ﷺ کے پاس چلیں شاید ہم انہیں ان کے دین سے برگشتہ کردیں وہ بشر ہی تو ہے، وہ آپ کے پاس آئے اور کہا : اے محمد ﷺ آپ جانتے ہیں کہ ہم یہود کے علماء ہیں اگر ہم آپ کی اتباع کریں گے تو کوئی یہودی ہماری مخالفت نہیں کرے گا ہمارا ایک قوم کے ساتھ تنازع ہے ہم آپ کے پاس فیصلہ لے آئیں گے آپ ہمارے حق میں فیصلہ کردینا حتی کہ ہم تجھ پر ایمان لے آئیں گے (2) (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 266) رسول اللہ ﷺ نے انکار کردیا تو یہ آیت نازل ہوئی، اور فتنہ کی اصل اختیار ہے جیسا کہ گزر چکا ہے پھر اس کا معنی مختلف ہے پس یہاں (آیت) ” یفتنوک “ کا معنی ہے وہ آپ کو روکیں گے اور تمہیں دور کریں گے، الفتنہ بمعنی الشرک ہوگا اسی سے ہے (آیت) ” والفتنۃ اکبر من القتل “۔ (بقرہ : 217) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وقتلوھم حتی لاتکون فتنۃ “۔ (بقرہ : 193) کبھی ” الفتنۃ “ بمعنی العبرۃ ہوتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” لا تجعلنا فتنۃ للذین کفروا “۔ (الممتحنہ : 5) ہمیں نہ بنا دے فتنہ کافروں کے لیے۔ (آیت) ” لا تجعلنا فتنۃ للقوم الظلمین “۔ (یونس) اور ہمیں نہ بنا دے فتنہ ظالم قوم کے لیے۔ اور کبھی الفتنۃ کا معنی راستہ سے روکنا ہوتا ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے اور (آیت) ” وان احکم بینھم بما انزل اللہ “۔ تاکید کے لیے ہے یا یہ احوال اور احکام ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ ہر ایک کے متعلق آپ اس کے مطابق فیصلہ فرمائیں جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا، آیت میں نبی مکرم ﷺ پر نسیان کے جواز پر دلیل ہے، کیونکہ فرمایا (آیت) ” ان یفتنوک “ یہ نسیان سے ہوگا عمدا نہیں ہوگا، بعض علماء نے فرمایا : خطاب تو آپ ﷺ کو ہے اور مراد آپ کا غیر ہے، اس کا بیان سورة الانعام میں آئے گا، انشاء اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عن بعض ما انزل اللہ الیک “۔ کا معنی ہے عن کل ما انزل اللہ الیک “۔ بعض کا لفظ کل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ شاعر نے کہا : اویعتبط بعض النفوس حمامھا : (آیت) ” اور یرتبط “۔ بھی مروی ہے کل النفوس کا ارادہ کیا ہے اسی پر محمول کیا ہے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کو (آیت) ” لابین لکم بعض الذی تختلفون فیہ “۔ (الذخرف 63) ابن عربی نے کہا صحیح یہ ہے کہ بعض اس آیت میں اپنی حالت پر ہے اس سے مراد رجم ہے یا حکم سے مراد وہ ہے جس کا یہود نے ارادہ کیا تھا انہوں نے کل سے برگشتہ کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا واللہ اعلم اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فان تولوا یعنی اگر وہ تیرے حکم کا انکار کریں یا اس سے اعراض کریں، (آیت) ” فاعلم انما یرید اللہ ان یصیبھم ببعض ذنوبھم “۔ یعنی اللہ تعالیٰ انہیں جلاوطنی، جزیہ اور قتل کا عذاب دے گا، اسی طرح ہوا تھا، فرمایا (ببعض) بعض کے ساتھ سزا ان کی تباہی کے لیے کافی تھی، (آیت) ” وان کثیر من الناس لفسقون “۔ اس سے مراد یہود ہیں۔
Ayah 5:50

اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَ١ؕ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 5:50 in the Quran reader

کیا یہ زمانہ جاہلیت کے حکم کے خواہشمند ہیں ؟ اور جو یقین رکھتے ہیں ان کے لیے خدا سے اچھا حکم کس کا ہے ؟

آیت نمبر : 50۔ اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” افحکم الجاھلیۃ یبغون “۔ افحکم “۔ پر نصب یبغون کی وجہ سے ہے معنی یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ شریف کا حکم وضیع (گٹھیا) کے حکم کے خلاف کرتے تھے جیسا کہ کئی جگہ گزر چکا ہے، یہود ضعیف اور فقراء پر حدود قائم کرتے تھے اور طاقتور اغنیاء پر حدود قائم نہیں کرتے تھے پس وہ اس فعل میں جاہلیت کے مشابہ تھے، مسئلہ نمبر : (2) سفیان بن عیینہ نے ابن ابی نجیح سے انہوں نے طاؤس سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا : جب ان سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ اپنی بعض اولاد کو بعض پر ترجیح دیتا ہے تو وہ یہ آیت پڑھتے تھے : (آیت) ” افحکم الجاھلیۃ یبغون “۔ طاؤوس کہتے تھے : کسی کے لیے جائز نہیں کہ بعض اولاد کو بعض پر ترجیح دے، اگر وہ ایسا کرے گا تو نافذ نہ ہوگا اور فسخ ہوگا، اہل ظاہر نے یہی کہا ہے۔ امام احمد بن حنبل سے اسی طرح مروی ہے۔ ثوری، ابن المبارک اور اسحاق رحمۃ اللہ علیہم نے اس کو مکروہ کہا ہے، اگر کوئی ایسار کرے گا تو اس کا فیصلہ نافذ ہوگا اور رد نہیں کیا جائے گا، امام مالک، ثوری، امام شافعی اور اصحاب الرائے رحمۃ اللہ علیہم نے اس کی اجازت دی ہے اور انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے فعل سے استدلال کیا ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ کو دوسروں سے زیادہ دیا تھا اور نبی مکرم ﷺ کے ارشاد : فارجعہ (اس بیٹے سے واپس لے لے) اور فاشھد علی ھذا غیری میرے علاوہ کسی دوسرے کو گواہ بنا۔ سے استدلال کیا ہے اور پہلے مسلک کے علماء نے نبی مکرم ﷺ نے بشیر کو جو فرمایا تھا اس سے استدلال کیا ہے آپ نے فرمایا تھا :” اس کے علاوہ تیری اولاد ہے “ اس نے کہا : ہاں۔ فرمایا : ” کیا تو نے سب کو اس طرح ہبہ کیا ہے “ اس نے کہا : نہیں۔ فرمایا : ” پھر مجھے گواہ نہ بنا میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا “۔ ایک روایت میں ہے ” میں گواہ نہیں بنتا مگر صرف حق پر “۔ علماء نے فرمایا : جو طلم اور غیر حق ہو وہ باطل ہے جو جائز نہیں ہے اور نبی مکرم ﷺ کا ارشاد ” اس پر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا “۔ یہ شہادت کی اجازت نہیں ہے بلکہ اس سے زجر کیا ہے کیونکہ نبی مکرم ﷺ نے اس کو جور کہا ہے اور اس میں گواہ بننے سے اجتناب کیا ہے پس مسلمانوں میں کسی کو اس پر گواہ بنانا بھی ممکن نہیں، رہا حضرت ابوبکر ؓ کا فعل، تو وہ نبی مکرم ﷺ کے قول کے معارج نہیں ہو سکتا شاید انہوں نے اپنی دوسری اولاد کو عطیہ دیا ہو جو اس کے برابر ہو۔ اگر کہا جائے کہ اصل انسان کا اپنے مال میں مطلقا تصرف کرنا ہے، تو اس کے جواب میں کہا جائے گا اصل کلی اور معینۃ واقعہ اس اصل کے مخالف ہے ان کے درمیان کوئی تعارض نہیں ہے جیسے عموم اور خصوص ہوتا ہے اصول میں ہے کہ صحیح خاص پر عام کی بنا ہے، پھر یہ اس نافرمانی کا باعث ہوتا ہے جو بہت برا گناہ ہے اور یہ حرام ہے اور جو حرام تک لے جائے وہ ممنوع ہے اسی وجہ سے آپ ﷺ نے فرمایا ” اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو “۔ نعمان نے کہا : میرے باپ نے رجوع کیا اور وہ صدقہ لوٹا دیا، اور صدقہ کو باپ بالاتفاق واپس نہیں کرسکتا اور فارجعہ کا ارشاد فاردد کے معنی میں محمول ہے اور فسخ میں لوٹانا ظاہر ہے جیسا کہ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا :” جس نے کوئی ایسا علم کیا جس پر ہمارا امر نہیں ہے وہ رد ہے یعنی مردود اور منسوخ ہے “ یہ ظاہر اور قوی ہے اور منع میں واضح ترجیح ہے۔ مسئلہ نمبر : (3) ابن وثاب اور نخع نے کہا : (آیت) ” افحکم “ کو رفع یبغون کی بنا پر ہے ضمیر کو حذف کیا گیا جس طرح ابو النجم نے اپنے قول میں حذف کیا ہے۔ : قد اصبحت ام الخیار تدعی علی ذنبا کلہ لم اصنع : کلہ کو رفع کے ساتھ روایت کیا گیا ہے تقدیر عبارت اس طرح ہونا بھی جائز ہے افحکم الجاھلیۃ حکم یبغونہ “ پھر موصوف کو حذف کیا گیا : حسن، قتادہ، اعرض، اور اعمش، نے (آیت) ” افحکم “ کو حا اور کاف کے نصب اور میم کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، یہ جماعت کی قرات کے معنی کی طرف راجع ہے، کیونکہ نفس حکم مراد نہیں ہے اس سے مراد حکم ہے گویا فرمایا ” افحکم حکم الجاھلیۃ یبغون “ کبھی حکم اور حاکم لغت میں ہم معنی استعمال ہوتے ہیں اور وہ اس سے مراد کاہن اور دوسرے جاہلیت کے حکام لیتے ہیں حکم سے مراد عموم اور جنس ہے، کیونکہ اس سے متعین حاکم مراد نہیں لیا گیا، مضاف کا جنس واقع ہونا جائز ہے جیسا کہ ان کے قول میں جائز ہے : منعت مصرادبھا وشبھہ۔ ابن عامر نے تبغون تا کے ساتھ اور باقی قراء نے یا کے ساتھ پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ومن احسن من اللہ حکما لقوم یوقنون “۔ یہ انکار کی جہت سے استفہام ہے یعنی لا احد احسن۔ یہ مبتدا خبر ہے حکما پر نصب بیان کی بنا پر ہے (آیت) ” لقوم یوقنون “ یعنی عند قوم یوقنون۔
Ayah 5:51

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ١ؔۘ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:51 in the Quran reader

اے ایمان والو ! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ۔ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اور جو شخص تم میں سے انکو دوست بنائیگا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا۔ بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

آیت نمبر : 51۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : (1) (آیت) ” الیھود والنصری اولیآء “ یہ تتخذوا “ کے دونوں مفعول ہیں یہ شرعا تعلقات ختم کرنے پر دلیل ہے اس کا بیان سورة آل عمران میں گزر چکا ہے، پھر کہا گیا ہے کہ اس سے مراد منافقین ہیں یعنی اے وہ لوگو ! جو ظاہر ایمان وہ مشرکین سے دوستی رکھتے تھے اور انہیں مسلمانوں کے راز بتاتے تھے، بعض نے فرمایا : یہ ابو لبابۃ کے بارے میں نازل ہوئی جب مسلمان خوفزدہ ہوئے تھے حتی کہ ان میں سے کچھ لوگوں نے ارادہ کیا تھا کہ وہ یہود ونصاری سے دوستی لگا لیں، بعض علماء نے فرمایا : یہ حضرت عبادہ بن صامت، عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں نازل ہوئی پھر حضرت عبادہ نے تو یہود کی دوستی سے برات کرلی اور ابن ابی نے اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھا اس نے کہا : مجھے گردش کا خوف ہے۔ (آیت) ” بعضھم اولیآء بعض “۔ یہ مبتدا خبر ہیں، یہ دلیل ہے کہ شرع ان کی آپس میں موالات کو ثابت کرتی ہے حتی کہ یہود انصاری آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے ہیں۔ مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ومن یتولھم منکم “ یعنی جو تم میں سے مسلمانوں کے خلاف ان کی مدد کرے گا (آیت) فانہ منھم “ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس کا حکم ان کے حکم کی طرح ہے، یہ مرتد سے مسلمان کے میراث باٹنے کے اثبات کو مانع ہے جس سے ان سے دوستی کی تھی وہ ابن ابی تھا پھر یہ حکم قطع دوستی کا قیامت تک باقی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار “۔ (ہود : 113) اور مت جھکوان کی طرف جنہوں نے ظلم کیا ورنہ چھوئے گی تمہیں بھی آگ اور آل عمران میں فرمایا : (آیت) ” لا یتخذ المؤمنون الکفرین اولیآء من دون المؤمنین “۔ (آل عمران : 28) وہ منافق جو بناتے ہیں کافروں کو (اپنا) دوست مسلمانوں کو چھوڑ کر۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” لا تتخذوا بطانۃ من دونکم “۔ (آل عمران : 118) اس پر کلام گزر چکی ہے، بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ (آیت) ” ومن یتولھم منکم فانہ منھم “۔ یہ شرط اور جواب شرط ہیں، یعنی اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کی جس طرح انہوں نے مخالفت کی اور اس سے دشمنی واجب ہے جس طرح ان سے دشمنی واجب ہے اس کے لیے آگ واجب ہے جس طرح ان کے لیے واجب ہے پس وہ ان سے ہوگیا۔
Ayahs 5:52–53

فَتَرَى الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْهِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰۤى اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَةٌ١ؕ فَعَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِیْنَؕ Open ayah 5:52 in the Quran reader

تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم انکو دیکھو گے کہ ان میں دوڑ دوڑ کے ملے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہمیں خوف ہے کہ کہیں ہم پر زمانے کی گردش نہ آجائے۔ سو قریب ہے کہ خدا فرح بھیجے یا اپنے ہاں سے کوئی اور امر (نازل فرمائے) پھر یہ اپنے دل کی باتوں پر جو چھپایا کرتے تھے پشیمان ہو کر رہ جائیں گے۔

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ اِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ١ؕ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:53 in the Quran reader

اور (اس وقت) مسلمان (تعجب سے) کہیں گے کہ کیا یہ وہی ہیں جو خدا کی سخت سخت قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ان کے عمل اکارت گئے اور وہ خسارے میں پڑگئے۔

آیت نمبر : 52 تا 53۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فتری الذین فی قلوبھم مرض “۔ مرض سے مراد شک اور نفاق ہے، سورة بقرہ میں یہ گزر چکا ہے۔ اس سے مراد عبداللہ بن ابی اور اس کے منافق ساتھی ہیں (آیت) ” یسارعون فیھم یعنی وہ ان کی محبت ومعاونت میں جلدی کرتے ہیں۔ (آیت) ” یقولون نخشی ان تصیبنا دآئرۃ “۔ کہتے ہیں : ہمیں اندیشہ ہے ہم پر کوئی گردش زمانہ آئے خواہ وہ قحط کی صورت میں آئے تو وہ یہود ہمیں نوازیں گے نہیں اور وہ ہم پر مہربانی نہیں کریں گے یا ایسی صورت ہوجائے کہ یہود مسلمانوں پر غالب آجائیں تو معاملہ محمد ﷺ کے ہاتھ میں رہے گا نہیں۔ اس لیے ہم یہود سے رشتہ الفت رکھتے ہیں، یہ قول معنی کے زیادہ قریب ہے گویا یہ دارت تدور سے ہے یعنی ہمیں گردش زمانہ کا اندیشہ ہے اس پر یہ قول دلالت کرتا ہے۔ : (آیت) ” فعسی اللہ ان یاتی بالفتح “۔ شاعر نے کہا : یرد عنک القدر المقدورا ودائرات الدھر ان تدورا : یعنی گردش زمانہ ایک قوم سے دوسری قوم کی طرف پھر گئی، ” الفتح “ کے معنی میں اختلاف ہے الفتح کا معنی فیصلہ اور حکم بھی ہے، یہ قتادہ ؓ وغیرہ سے مروی ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ کا فیصلہ آیا تو بنی قریظہ کے جنگ جو ؤں کو قتل کردیا گیا اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قید بنایا گیا اور بنی نضیر کو جلاوطن کیا گیا۔ ابو علی نے کہا : یہ مسلمانوں کو مشرکین کے شہروں کی فتح عطا کرنا ہے، سدی نے کہا : اس سے مراد فتح مکہ ہے۔ (آیت) ” اوامر من عندہ “ سدی نے کہا : اس سے مراد جزیہ ہے حسن نے کہا : منافقین کے امر کا اظہار کرنا اور ان کے نام بتانا اور انکے قتل کا حکم دینا مراد ہے، بعض علماء نے فرمایا : شادابی اور خوشحالی کا مسلمان کے لے اظہار ہے۔ (آیت) ” فیصبحوا علی ما اسروا افی انفسھم ندمین “۔ یعنی وہ کفار سے دوستی کرنے پر شرمندہ ہوں گے جو وہ مومنین کے لیے اللہ تعالیٰ کی مدد دیکھیں گے اور جب وہ موت کو دیکھیں گے اور انہیں عذاب کی بشارت دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ویقول الذین امنوا “۔ سے مراد اہل مدینہ اور اہل شام ہیں، یقول بغیر واؤ کے پڑھا ہے ابو عمرو ؓ اور ابن ابی اسحاق نے یقول واؤ کے ساتھ اور ” ان یاتی “ پر عطف کی بنا پر نصب کے ساتھ پڑھا ہے، یہ اکثر نحویوں کے نزدیک ہے تقدیر اس طرح ہے ،: فعسی اللہ ان یاتی بالفتح وان یقول۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ معنی پر عطف ہے، کیونکہ عسی ان یاتی بالفتح کا معنی ہے وعسی ان یاتی اللہ بالفتح، کیونکہ عسی زید ان یاتی ویقوم عمرو۔ جائز نہیں ہے، کیونکہ معنی صحیح نہیں ہوتا جب تو کہتا ہے : وعسی زید ان یقوم عمرو، لیکن اگر تو کہتا ہے : عسی ان یقوم زید ویاتی عمرو، تو یہ عمدہ تھا اور جب تو ان ایاتی “ میں تقدیم کو مقدر کرتا تو اچھا ہوتا، کیونکہ تقدیر اس طرح ہوگی : عسی ان یاتی وعسی ان یقوم “۔ اور یہ اس قول کے باب سے ہوگا : ورایت زوجک فی الوغی متقلدا سیفا ورمحا : اس سے تیسرا قول بھی ہے کہ تو اسے الفتح پر عطف کرے جیسا کہ شاعر نے کہا : للبس عباءۃ وتقرعینی : اور (آیت) ” ان یاتی “ کو اسم جلالت سے بدل بنانا بھی جائز ہے تقدیر اس طرح ہوگی : عسی ان یاتی اللہ ویقول الذین امنوا “۔ اور کو فیوں نے) (آیت) ” ویقول الذین امنوا “۔ پہلے سے منقطع کرکے رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ (آیت) ” اھؤلآئ “۔ منافقین کی طرف اشارہ ہے، (آیت) ” اقسموا باللہ “۔ انہوں نے قسمیں اٹھائیں اور قسموں میں سختی پیدا کی، (آیت) ” انھم لمعکم “۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ وہ تمہارے ساتھ ہیں۔ یہ بھی جائز ہے کہ ” انھم، اقسموا “۔ کی وجہ سے منصوب ہو، یعنی مومنوں نے یہود کو توبیخ کی جہت سے کہا : کیا انہوں نے سخت سے سخت قسمیں اٹھائیں کہ وہ محمد ﷺ کے خلاف تمہاری مدد کریں گے ؟ یہ بھی احتمال ہے کہ مومنین ایک دوسرے کے معاون ہوں گے یعنی یہ قسمیں اٹھاتے ہیں کہ وہ مومن ہیں اللہ تعالیٰ نے آج ان کا پردہ چاک کردیا ہے۔ (آیت) ” حبطت اعمالھم “۔ یعنی ان کا نفاق باطل ہے۔ (آیت) ” فاصبحو خسرین “۔ یعنی ثواب میں گھاٹاپانے والے ہیں، بعض نے فرمایا : انہوں نے یہود کی دوستی میں خسارہ اٹھایا اور یہود کے قتل اور ان کے جلاوطن کیے جانے کے بعد انہیں کوئی ثمرہ نہ ملا۔
Ayah 5:54

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤ١ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ١٘ یُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 5:54 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھرجائے گا تو خدا ایسے لوگ پیدا کردے گا جن کو وہ دوست رکھے اور جسے وہ دوست رکھیں اور جو مومنوں کے حق میں نرمی کریں اور کافروں سے سختی سے پیش آئیں خدا کی راہ میں جہاد کریں اور کسی ملامت کرنے والے سے نہ ڈریں۔ یہ خدا کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا بڑی کشائش والا اور جاننے والا ہے۔

آیت نمبر : 54۔ اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ”، من یرتد منکم عن دینہ “ شرط اور جواب شرط ” فسوف، الخ “۔ ہے اہل مدینہ اور شام کی قرات میں من یرتدد یعنی دو والوں کے ساتھ ہے اور باقی قراء نے (آیت) ” من یرتد “ پڑھا ہے، یہ قرآن اور نبی مکرم ﷺ کے اعجاز میں سے ہے، کیونکہ اس نے ان کے ارتداد کی خبر دی اور یہ آپ کے عہد میں نہ تھا اور یہ غیب تھا۔ جو آپ نے خبر دی وہ مدت کے بعد ہوا تھا اور اہل ردت آپ ﷺ نے کے بعد ہوئے تھے، ابن اسحاق نے کہا : جب رسول اللہ ﷺ کا وصال ہوا تو عرب مرتد ہوگئے سوائے تین مساجد کے لوگوں کے، مسجد مدینہ، مسجد مکہ، اور مسجد جؤاثی اور ان کی ردت دو قسم کی تھی، ایک قسم وہ تھی، جنہوں نے پوری شریعت کو پھینک دیا تھا اور اس سے نکل گئے تھے، دوسری قسم وہ تھی جنہوں نے زکوۃ کے وجوب کو تسلیم نہیں کیا تھا اور اس کے علاوہ اسلام کے احکام کا اعتراف کیا تھا، انہوں نے کہا : ہم نماز، روزہ کریں گے اور زکوۃ نہیں دیں گے، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ان سے جہاد کیا اور حضرت خالد بن ولید کو لشکر کے ساتھ اس کی سرکوبی کے لیے بھیجا پس انہوں نے ان سے قتال کیا اور انہیں قیدی بنایا جیسا کہ ان کی اخبار سے مشہور ہے۔ مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ، یحبھم “۔ محل نعت میں ہے یہ حسن، قتادہ، وغیرہ کا قول ہے، یہ حضرت ابوبکر ؓ اور اس کے ساتھیوں کے بارے نازل ہوئی، سدی نے کہا : یہ انصار کے بارے میں نازل ہوئی، بعض نے فرمایا : یہ ایسی قوم کی طرف اشارہ ہے جو اس وقت موجود نہ تھے اور وہ یمن کے قبائل ہیں کندہ، بجیلہ اور اشجع، بعض علماء نے فرمایا : یہ اشعریین کے بارے میں نازل ہوئی، یہ حدیث شریف میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس کے تھوڑے عرصہ بعد اشعریین کشتیاں آئیں اور سمندری راستہ سے یمن کے قبائل آئے ان کے لیے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اسلام میں آزمائش تھی، عراق کی اکثر فتوحات حضرت عمر ؓ کے دور خلافت میں یمنی قبائل کے ہاتھوں ہوئیں۔ (1) (نوادرالاصول، صفحہ 253) جو اس آیت کے نزول میں کہا گیا ہے یہ اس میں سے اصح ہے۔ واللہ اعلم۔ حاکم ابو عبداللہ نے مستدرک میں اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کی طرف اشارہ فرمایا جب یہ آیت نازل ہوئی تو فرمایا : یہ اس کی قوم ہے (2) (مستدرک للحاکم جلد 2، صفحہ 313) قشیری نے کہا : ابوالحسن کے متبعین اس کی قوم سے ہیں، کیونکہ ہر جگہ جہاں قوم کو اس کے نبی کی طرف مضاف کیا گیا ہے اس سے مراد اس کے متبعین ہیں۔ مسئلہ نمبر : (3) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” اذلتہ علی المومنین اذلتہ قوم کی صفت ہے اسی طرح اعذۃ بھی صفت ہے یعنی وہ مومنین سے نرمی کا برتاؤ کرتے ہیں، دابۃ ذلول جو آسانی سے مطیع بنایا گیا ہو۔ الذل میں سے کسی شے کا دخل نہیں اور وہ کافروں پر بڑے سخت ہیں اور ان سے دشمنی رکھتے ہیں، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : وہ مومنین کے لیے اس طرح ہیں جس طرح باپ، بیٹے کیلیے ہوتا ہے اور سردار غلام کے لیے ہوتا ہے، وہ کفار پر اس طرح شدید ہیں جیسے شیر اپنے شکار کے لیے ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اشدآء علی الکفار رحمآء بینھم “۔ (الفتح : 29) یہ بھی جائز ہے کہ اذلۃ کی نصب حال کی بنا پر ہو یعنی یحبھم ویحبون کہ فی ھذہ الحال اس سے پہلے اللہ کا اپنے بندے سے محبت کرنا اور بندوں کا اللہ سے محبت کرنے کا معنی گزر چکا ہے۔ مسئلہ نمبر : (4) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یجاھدون فی سبیل اللہ “۔ وہ صفت کی جگہ میں ہے۔ (آیت) ” ولا یخافون لومۃ لائم “۔ یعنی وہ منافقین کے برعکس ہیں جو گردش زمانہ سے ڈرتے ہیں، اس سے حضرت ابوبکر ؓ ، حضرت عمر ؓ حضرت عثمان ؓ اور حضرت علی ؓ کی امامت کے ثبوت پر استدلال کیا گیا ہے، کیونکہ ان حضرات نے نبی کریم ﷺ کی زندگی میں جہاد کیا اور آپ کے بعد مرتدین سے قتال کیا پس معلوم ہوا کہ جن میں یہ صفات ہوں وہ اللہ کے ولی ہیں، بعض علماء نے فرمایا : یہ آیت عام ہے، ہر اس شخص کو شام ہے، جو قیامت تک کفار سے جہاد کرے گا۔ واللہ اعلم (آیت) ” ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشآء “ یہ مبتدا خبر ہیں، (آیت) ” واللہ واسع علیم “ یعنی وسیع فضل والا ہے اپنی مخلوق کی مصلحتوں کو جاننے والا ہے۔
Ayah 5:55

اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ Open ayah 5:55 in the Quran reader

تمہارے دوست تو خدا اور اس کے پیغمبر اور مومن لوگ ہی ہیں جو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے اور (خدا کے آگے) جھکتے ہیں

آیت نمبر : 55۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” انما ولیکم اللہ ورسولہ “۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے فرمایا : عبداللہ بن سلام نے نبی مکرم ﷺ سے کہا کہ ہماری قوم قریظہ اور نضیر نے ہمیں چھوڑ دیا ہے اور انہوں نے قسمیں اٹھائیں ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ ہم مجلس نہیں ہوں گے، اور ہم دور رہنے کی وجہ سے آپ کے اصحاب سے بھی مجلس نہیں کرسکتے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ عبداللہ بن سلام نے کہا : ہم اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور مومنین کے مددگار رہنے پر راضی ہیں۔ (1) (تفسیر بغوی، جلد 2 صفحہ 47) (آیت) ” والذین “ یہ تمام مومنین کو شامل ہیں۔ ابو جعفر محمد بن علی بن حسنین بن علی بن ابی طالب سے (آیت) ” انما ولیکم “ الخ کا معنی پوچھا گیا : کیا اس سے مراد حضرت علی ؓ ہیں ؟ فرمایا علی بھی مومنین میں سے ہیں۔ یہ قول دلیل ہے کہ یہ تمام مومنین کے لیے ہے نحاس نے کہا : یہ واضح قول ہے، کیونکہ الذین جمع کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ حضرت ابوبکر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی، دوسری روایت میں ہے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ حضرت علی ؓ کے بارے نازل ہوئی، یہ مجاہد اور سدی کا قول ہے، اس قول پر برانگیختہ کیا ہے۔ (آیت) ” الذین یقیمون الصلوۃ ویؤتون الذکوۃ وھم راکعون “۔ نے۔ مسئلہ نمبر : (2) یہ واقعہ اس طرح ہے کہ ایک سائل نے مسجد نبوی میں سوال کیا تو اسے کسی نے کوئی چیز عطا نہ کی حضرت علی ؓ نماز میں رکوع میں تھے اور آپ کے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی تھی آپ نے ہاتھ سے سائل کی طرف اشارہ کیا حتی کہ اس نے وہ انگوٹھی لے لی، الکیاطبری نے کہا : یہ دلیل ہے کہ عمل قلیل سے نماز باطل نہیں ہوتی، کیونکہ رکوع میں انگوٹھی کا صدقہ کرنا یہ نماز میں عمل کیا اور اس سے حضرت علی کی نماز باطل نہ ہوئی۔ اور (آیت) ” یؤتون الذکوۃ وھم راکعون “۔ یہ دلالت کرتا ہے کہ نفلی صدقہ کو زکوۃ کہا جاتا ہے، کیونکہ حضرت علی ؓ نے رکوع میں انگوٹھی کو صدقہ کیا یہ اس ارشاد کی مثل ہے (آیت) ” وما اتیتم من زکوۃ تریدون وجہ اللہ فاولئک ھم المضعفون “۔ (الروم) فرض اور نفل ایک نظم میں ہیں پس زکوۃ کا اسم فرض اور نفل کو شامل ہے جیسے صدقہ کا اسم نماز کا اسم فرض اور نفل کو شامل ہے۔ میں کہتا ہوں : اس جگہ زکوۃ سے مراد انگوٹھی صدقہ کرنا ہے اور انگوٹھی صدقہ کرنے پر زکوۃ کے لفظ کا حمل، اس میں بعد ہے کیونکہ زکوۃ کا لفظ مختص ہے زکوۃ کے ساتھ جو فرض ہے اس کا بیان سورة بقرہ میں گزر چکا ہے، اس سے پہلے (آیت) ” یقیمون الصلوۃ “۔ بھی ہے جو قرینہ ہے کہ اس سے مراد یہاں زکوۃ ہے۔ (آیت) ” یقیمون الصلوۃ “ کا معنی ہے وہ نماز کو اپنے حقوق کے ساتھ ان کے اوقات میں ادا کرتے ہیں، یہاں مراد فرضی نماز ہے۔ پھر فرمایا : (آیت) وھم راکعون “۔ یعنی نفل ادا کرتے ہیں بعض نے فرمایا : رکوع کا علیحدہ ذکر شرف کے اظہار کے لیے ہے، بعض نے فرمایا : مومنین اس آیت کے نزول کے وقت ایسی حالت میں تھے کہ بعض نماز کو مکمل کرنے والے تھے اور بعض رکوع میں تھے، ابن خویز منداد نے کہا : اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت) ” یؤتون الذکوۃ وھم راکعون “۔ نماز میں تھوڑے سے عمل کے جواز کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے اور یہ مدح کے طور پر ذکر ہے مدح کے باب میں کم از کم یہ ہے کہ وہ مباح ہو (1) (احکام القرآن للجاص) روایت ہے کہ حضرت علی ؓ نے سائل کو عطا فرمایا جب کہ آپ نماز میں تھے اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ نفلی نماز ہو اور یہ فرض نماز میں مکروہ ہو، یہ بھی احتمال ہے کہ مدح دونوں حالتوں کے اجتماع پر متوجہ ہو گویا اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو نماز اور زکوۃ کے وجوب کا اعتقاد رکھتا ہے پس نماز کو رکوع سے تعبیر فرمایا اور وجوب کے اعتقاد کو فعل سے تعبیر فرمایا جیسے تو کہتا ہے : المسلمون ھم المصلون تو یہ ارادہ نہیں کرتا کہ اس حال میں وہ نماز پڑھ رہے تھے، مدح حالت نماز کو متوجہ نہیں بلکہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو یہ فعل کرتا ہے اور اس کا اعتقاد رکھتا ہے۔
Ayah 5:56

وَ مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ۠ Open ayah 5:56 in the Quran reader

اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر اور مومنوں سے دوستی کرے گا تو (وہ خدا کی جماعت میں داخل ہوگا اور) خدا کی جماعت ہی غلبہ پانیوالی ہے۔

آیت نمبر : 56۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ومن یتول اللہ ورسولہ والذین امنوا “۔ یعنی جس نے اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے والی کے حکم کی پیروی کی وہ اللہ کا گروہ ہے، بعض علماء نے فرمایا : جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے قیام، رسول اللہ ﷺ اور مومنین کی نصرت کو مددگار بنایا۔ (آیت) ” فان حزب اللہ ھم الغلبون “۔ حسن نے کہا : حزب اللہ سے مراد اللہ کا لشکر ہے، ان کے علاوہ نے کہا : وہ اللہ کے انصار ہیں، شاعر نے کہا : کیف اضوی و بلال حزبی۔ یعنی میں کیسے کمزور سمجھا جاتا ہوں جب کہ بلال میرا مددگار ہے۔ مومنین اللہ کا حزب ہیں یقینا وہ یہود پر غالب آئے انہیں قیدی بنا کر قتل کرکے اور جلاوطن کرکے اور جزیہ لگا کر۔ الحزب “ لوگوں کا گروہ، اس کا اصل معنی النائبہ مصیبت زدہ لوگ مصیبت پر جمع ہوتے ہیں، حزب الرجل سے مراد اس کے اصحاب ہیں الحزب سے مراد ورد بھی ہے اسی سے حدیث ہے : فمن فاتہ حزبہ من اللیل (1) (سنن ابی داؤد، باب نام عن حزبہ، حدیث نمبر 1118، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، ایضا سنن ابن ماجہ باب ما جاء فی من نام عن حزبہ من اللیل، حدیث نمبر 1332، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) جس سے رات کا وظیفہ اور ورد رہ جائے، قد حزیت القرآن میں نے قرآن کا ورد کیا، الحزب سے مراد گروہ بھی ہے، تحزبوا کا معنی ہے جمع ہوئے، الاحزاب وہ گروہ جو انبیاء کے ساتھ جنگ کرنے پر جمع ہوئے، حزبہ امر اس کو کوئی حادثہ پہنچا۔
Ayah 5:57

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ الْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:57 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتابیں دی گئی تھی ان کو اور کافروں کو جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے دوست نہ بناؤ اور مومن ہو تو خدا سے ڈرتے رہو۔

آیت نمبر : 57۔ اس آیت میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : (1) حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہود اور مشرکین مسلمانوں پر ہنستے تھے جب مسلمان سجدہ کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الذین اتخذوا ھزواولعبا ، “۔ الھزا کا معنی سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ (آیت) ” من الذین اوتوا الکتب من قبلکم والکفار اولیاء “۔ ابو عمرو اور کسائی نے جر کے ساتھ پڑھا ہے اس معنی میں ” من الکفار “۔ کسائی نے کہا : حضرت ابی کے نسخہ میں ” من الکفار تھا اور یہاں ” من “ جنس کے بیان کے ہے نصب زیادہ واضح ہے یہ نحاس کا قول ہے بعض نے فرمایا : یہ قریب ترین عامل پر معطوف ہے اور وہ (آیت) ” من الذین اوتوا الکتب “۔ ہے، پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو منع فرمایا کہ یہود ومشرکین کو اپنا مددگار بنائیں اور انہیں بتایا کہ دونوں فریق مومنین کے دین کو مزاق اور کھیل بناتے ہیں، اور جنہوں نے نصب پڑھی ہے انہوں نے الذین پر عطف کیا ہے، جو (آیت) ” لا تتخذوا الذین اتخذوا ھزواولعبا ، “۔ میں ہے یعنی ان کو اور ان کو دوست نہ بناؤ اور اس قرات میں الھزء اور اللعب سے موصوف یہود ہیں کوئی دوسرا نہیں اور جن کو دوست بنانے سے منع کیا گیا ہے وہ یہود ومشرکین ہیں اور دونوں قرات میں جر کے ساتھ ہیں ھزء اور لعب سے موصوف ہیں مکی نے کہا : نصب پر جماعت کا اتفاق نہ ہوتا تو میں جر کو اختیار کرتا، کیونکہ اعراب میں معنی میں تفسیر اور معطوف علیہ سے قرب میں یہ قوی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے مشرکین ومنافقین کو مددگار نہ بناؤ اس کی دلیل یہ ہے۔ (آیت) ” انما نحن مستھزء ون “۔ (بقرہ : 14) اور مشرکین تمام کفار ہیں لیکن کفار کا لفظ غالب طور پر مشرکین کے لیے بولا جاتا ہے اس لیے اہل کتاب کا ذکر کافروں سے علیحدہ کیا۔ مسئلہ نمبر : (2) ابن خویز منداد نے کہا : یہ آیت اس ارشاد (آیت) ” لا تتخذوا الیھودوالنصری اولیآء بعضھم اولیآء بعض “۔ نہ بناؤ یہود اور نصاری کو اپنا دوست (و مددگار) وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور (آیت) ” لا تتخذوا بطانۃ من دونکم “۔ (آل عمران : 118) نہ بناؤ اپنا راز دار غیروں کو۔ منع اپنے ضمن من مشرکین کی تائید، ان کی مدد وغیرہ کو شامل ہے، حضرت جابر ؓ نے روایت کیا ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے جب احد کی طرف نکلنے کا ارادہ کیا تو یہود کی ایک قوم آئی اور کہا : ہم آپ کے پاس چلیں گے، نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” ہم اپنے معاملہ میں مشرکین سے مدد حاصل نہیں کرتے “ یہ مذہب شافعی (رح) میں سے صحیح ہے، امام ابوحنیفہ (رح) نے مشرکین کے خلاف یہود سے مدد لینے کو مسلمانوں کے لیے جائز قرار دیا ہے اور کتاب اللہ اس کے خلاف پر دلالت کرتی ہے نیز حدیث میں بھی ایسا موجود ہے۔ واللہ اعلم (1) (احکام القرآن جلد 3، صفحہ 85)