5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 5:58

وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:58 in the Quran reader

اور جب تم لوگ نماز کے لئے اذان دیتے ہو تو یہ اسے بھی ہنسی اور کھیل بناتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ سمجھ نہیں رکھتے۔

آیت نمبر : 58۔ اس میں بارہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) الکلبی نے کہا : جب موذن اذان دیتا اور مسلمان نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو یہود کہتے : وہ کھڑے ہوئے کبھی کھڑے نہ ہوں، وہ ہنستے تھے جب مسلمان رکوع اور سجدہ کرتے تھے وہ اذان کے بارے میں کہتے : انہوں نے یہ بدعت نکالی ہے ہم نے گزشتہ قوموں میں ایسی چیز نہیں سنی، یہ تیرے لیے قافہ کے چیخنے کی طرح چیخنا کہاں سے آیا ہے یہ کتنی قبیح آواز ہے اور یہ معاملہ کتنا برا ہے۔ (2) (تفسیر بغوی، جلد 2، صفحہ 48) بعض علماء نے کہا : جب موذن نماز کے لیے اذان دیتا تھا تو وہ آپس میں ہنستے تھے اور بطور استہزا اشارے کرتے تھے اور مسلمانوں کو بیوقوف اور جاہل قرار دیتے تھے اور لوگوں کو اس سے نفرت دلاتے تھے اور نماز کی طرف بلانے والے سے دور کرتے تھے، بعض علماء نے فرمایا : وہ نماز کی طرف دعوت دینے والے کو نماز کے ساتھ استہزا اور مذاق کرنے والے کی طرح دیکھتے تھے، کیونکہ وہ نماز کی قدر ومنزلت سے ناواقف تھے پس یہ آیت نازل ہوئی اور یہ ارشاد ہوا : (آیت) ” ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ وعمل صالحا “۔ (حم السجدہ : 33) النداء کا معنی بلند آواز سے پکارنا ہیں اس کو ضمہ کے ساتھ بھی پڑھا جاتا ہے جیسے الدعاء الرغاء ناداہ، مناداۃ ونداء اس کا معنی ہے اس نے اسے آواز دی، تنادوا یعنی ایک دوسرے کو پکارا تنادوا کا معنی ہے وہ مجلس میں بیٹھے، ناداہ اس نے اسے مجلس میں بٹھایا، قرآن میں اذان کا ذکر صرف اسی جگہ ہے لیکن سورة جمعہ میں بطور اختصاص ذکر کیا گیا ہے۔ (1) مسئلہ نمبر : (2) علماء نے فرمایا : ہجرت سے پہلے مکہ میں اذان نہیں تھی، وہ اس طرح آواز دیتے تھے ” الصلوۃ جامعۃ “۔ جب نبی مکرم ﷺ نے ہجرت کی اور قبلہ، کعبہ، کی طرف پھیرا گیا تو اذان کا حکم دیا گیا، اور ” الصلوۃ جامعۃ۔ کی صدا کسی ایسے امر کے لیے باقی رہی جو پیش آجاتا، نبی مکرم ﷺ کو اذان کے امرنے پریشان کیا حتی کہ حضرت عبداللہ بن زید اور حضرت عمر بن خطاب ؓ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو خواب میں اذان دکھائی گئی، نبی مکرم ﷺ نے معراج کی رات آسمان میں اذان سنی تھی (2) (طبرانی، الاوسط، حدیث نمبر 9243) حضرت عبداللہ بن زید خزرجی انصاری اور حضرت عمر بن خطاب ؓ کے خواب مشہور ہیں۔ حضرت عبداللہ بن زید نے نبی مکرم ﷺ کو اس کے متعلق رات کو ہی بتا دیا تھا اور حضرت عمر ؓ نے خواب دیکھنے کے بعد کہا : جب صبح ہوگئی تو آپ کو بتاؤں گا، نبی مکرم ﷺ نے حضرت بلال ؓ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان دی جس طرح آج اذان دی جاتی ہے۔ حضرت بلال ؓ نے صبح کی اذان میں یہ زیادتی کی ” الصلوۃ خیر من النوم “۔ رسول اللہ ﷺ نے ان الفاظ کو قائم رکھا اور یہ انصاری کے خواب میں نہیں تھے، ابن سعد ؓ نے یہ حضرت ابن عمر ؓ سے ذکر کیا ہے۔ (3) (ابن ماجہ کتاب الاذان والسنۃ فیہ، حدیث نمبر 698، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) دارقطنی نے ذکر کیا ہے کہ حضرت ابوبکرصدیق ؓ کو اذان خواب میں دکھائی گئی انہوں نے اس کے متعلق نبی مکرم ﷺ کو آگاہ کیا، نبی مکرم ﷺ نے انصاری کے خبر دینے سے پہلے حضرت بلال ؓ کو اذان دینے کا حکم دیا تھا، یہ انہوں نے اپنی کتاب ” المدبج “ میں نبی مکرم ﷺ کی حدیث میں ذکر کیا ہے جو انہوں نے حضرت ابوبکر ؓ سے روایت کی ہے اور حضرت ابوبکر کی حدیث میں جو انہوں نے ان سے روایت کی ہے۔ مسئلہ نمبر : (3) اذان اور اقامت کے وجوب کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، امام مالک (رح) اور ان کے اصحاب کے نزدیک اذان مساجد میں جماعت کے لیے واجب ہے جہاں لوگ جمع ہوتے ہیں، موطا میں امام مالک (رح) نے اس پر نص قائم کی ہے، امام مالک (رح) کے متاخرین اصحاب میں اختلاف ہے ان کے دو قول ہیں۔ (1) شہر اور جو قصبہ شہر کی طرح ہے ان پر اس کا ادا کرنا سنت مؤکدہ واجب علی الکفایہ ہے، بعض نے فرمایا : یہ فرض علی الکفایہ ہے، اسی طرح اصحاب شافعی (رح) کا اختلاف ہے، طبری نے امام مالک (رح) سے حکایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : اگر شہر والے اذان جان بوجھ کر چھوڑ دیں تو وہ نماز کا اعادہ کریں ابو عمر نے کہا : میں شہر والوں پر اذان کے وجوب پر کوئی اختلاف نہیں جانتا ہوں، کیونکہ اذان دارالاسلام اور دارالکفر کے درمیان جدائی اور تفریق کرنے والی علامت ہے، رسول اللہ ﷺ جب کسی لشکر کو بھیجتے تھے تو اسے فرماتے تھے : ” جب تم اذان سنو تو رک جاؤ اور جب تم اذان نہ سنو تو حملہ کر دو “ اور صحیح مسلم میں ہے فرمایا : رسول اللہ ﷺ طلوع فجر کے وقت حملہ کرتے تھے جب اذان سن لیتے تو حملہ نہ کرتے تھے ورنہ حملہ کردیتے تھے۔ عطاء، مجاہد، اوزاعی اور داؤد رحمۃ اللہ علیہم نے کہا : اذان فرض ہے انہوں نے فرض کفایہ نہیں کہا : طبری نے کہا : اذان سنت ہے واجب نہیں ہے، انہوں نے اشہب عن مالک کے سلسلہ سے یہ روایت کیا ہے اگر مسافر جان بوجھ کر اذان چھوڑ دے تو اس پر نماز کا اعادہ واجب ہے، کو فیوں نے مکروہ کہا ہے کہ مسافر بغیر اذان اور اقامت کو کافی سمجھا تو بھی جائز ہوگا۔ ثوری (رح) نے کہا : سفر میں اذان کے قائم مقام اقامت ہوجاتی ہے اگر تو چاہے تو اذان دے اور اقامت بھی کہے، امام احمد بن حنبل (رح) نے کہا : مسافر اذان دے، کیونکہ حضرت مالک بن حویرث کی حدیث اس پر دلیل ہے (1) داؤد نے کہا : اذان اور اقامت ہر مسافر پر واجب ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت مالک بن حویرث کو اور ان کے ساتھی کو فرمایا : ” جب تم دونوں سفر میں ہو تو اذان دو اور تکبیر کہو، اور تم میں سے جو بڑا ہو وہ امامت کرائے “۔ اس کو بخاری نے نقل کیا ہے اور یہ اہل ظاہر کا قول ہے، ابن المنذر (رح) نے کہا : یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت مالک بن حویرث اور اس کے چچا کے بیٹے کو کہا : ” جب تم سفر میں ہو تو اذان دو اور تکبیر کہو اور تم میں سے بڑا امامت کرائے “ (2) ابن المنذر (رح) نے کہا : اذان اور اقامت سفروحضر میں ہر جماعت پر واجب ہیں، کیونکہ نبی مکرم ﷺ نے اذان کا حکم دیا اور امر وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ ابو عمر نے کہا : امام شافعی (رح)، امام ابوحنیفہ (رح)، ان کے اصحاب ثوری، احمد اسحاق، ابو ثور، اور طبری رحمۃ اللہ علیہم کا اتفاق ہے کہ مسافر جب جان بوجھ کر یا بھول کر اذان ترک کردے تو اس کی نماز ہوجائے گی، اسی طرح ان کے نزدیک حکم ہے جب اقامت کو ترک کردیں اقامت ترک کرنے میں زیادہ کراہت ہے، امام شافعی (رح) نے حجت پکڑی ہے کہ اذان واجب نہیں اور نہ نماز کے فرائض میں سے فرض ہے، کیونکہ مزدلفہ اور عرفہ میں نمازوں کے جمع کرنے کے وقت ایک نماز کے لیے اذان ساقط ہوجاتی ہے، امام مالک (رح) کا مذہب سفر میں اذان کے بارے میں امام شافعی (رح) کے مزہب کی طرح ہے۔ مسئلہ نمبر : (4) امام مالک (رح) اور امام شافعی (رح) اور ان کے اصحاب کا اتفاق ہے کہ اذان کے کلمات دو دو مرتبہ ہیں اور تکبیر (اقامت) کے کلمات ایک ایک مرتبہ ہیں مگر امام شافعی (رح) پہلی تکبیر کو چار مرتبہ کہتے ہیں، یہ حضرت ابو محذورہ کی حدیث میں ثقہ راویوں سے محفوظ ہے اور حضرت عبداللہ بن زید کی حدیث میں بھی اسی طرح ہے۔ (3) فرمایا : یہ ایسی زیادتی ہے جس کا قبول کرنا واجب ہے، امام شافعی (رح) کا قول ہے کہ اہل مکہ کی اذان ہمیشہ حضرت ابو محذورہ کی آل میں رہی، اسی طرح ان کے زمانہ تک ہے ان کے اصحاب نے کہا : اب بھی ان کے نزدیک اسی طرح ہے اور امام مالک کا جو نظریہ ہے وہ حضرت ابو محذورہ کی اذان میں اور حضرت عبداللہ بن زید کی اذان میں احادیث صحاح میں موجود ہے ان کے نزدیک مدینہ طیبہ میں آل سعد قرظی میں ابھی تک موجود ہے، امام مالک (رح) اور امام شافعی (رح) کا اذان میں ترجیع پر اتفاق ہے۔ اور یہ موذن کا ” اشھد ان لا الہ الا اللہ “ دو مرتبہ کہنا اور ” اشھد ان محمدا رسول اللہ “۔ دو مرتبہ کہنا ہے پھر دو دو مرتبہ آواز کو بلند اور لمبا کر کے کہنا ہے، امام مالک (رح)، امام شافعی (رح) کا اقامت میں کوئی اختلاف نہیں مگر قد قامت الصلوۃ “ میں اختلاف ہے امام مالک (رح) اس کو ایک مرتبہ کہتے ہیں اور امام شافعی (رح) دو مرتبہ کہتے ہیں، اکثر علماء کی رائے امام شافعی کے قول پر ہے، آثار بھی اس کے متعلق مروی ہے، امام ابوحنیفہ (رح) ثوری (رح) اور حسن بن حی (رح) نے کہا : اذان اور اقامت دونوں کے کلمات دو دو مرتبہ کہنے ہیں ان کے نزدیک ابتدا میں تکبیر اور اذان میں اللہ اکبر چار چار مرتبہ ہے، ان علماء کے نزدی اذان میں ترجیع (ایک مرتبہ کلمہ شہادت کہنا اور دو بارہ بلند آواز سے کہنا) نہیں ہے ان کی حجت حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ؓ کی حدیث ہے فرمایا : ہمیں اصحاب محمد نے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن زید ؓ نبی مکرم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے خواب میں دیکھا ہے گویا ایک شخص کھڑا ہے اور پر دو سبز چادریں ہیں وہ دیوار کے ایک کونے پر کھڑا ہے اس نے اذان کے کلمات دو دو مرتبہ کہے اور اقامت کے کلمات بھی دو دو مرتبہ کہے اور اذان اور اقامت کے درمیان وہ بیٹھا حضرت بلال ؓ نے اس کو سنا اور کھڑے ہوئے دو دو مرتبہ اذان کے کلمات کہے اور پھر تھوڑا سا بیٹھے اور پھر اقامت کے کلمات دو دو مرتبہ کہے، اس حدیث کو اعمش وغیرہ نے حضرت عمرو بن مرۃ سے انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے روایت کیا ہے یہی تابعین اور فقہاء عراق کا قول ہے۔ (1) (الاستذکار، جلد 4، صفحہ 14) ابو اسحاق سبیعی نے کہا : اصحاب حضرت علی ؓ اور حضرت عبداللہ ؓ اذان اور اقامت کے کلمات دو دو مرتبہ کہتے تھے یہ کو فیوں کی اذان ہے۔ نسل در نسل یہ طریقہ چلا آرہا ہے جیسا کہ حجازیوں میں متوارث ہے ان کی اذان میں تکبیر چار مرتبہ ہے جیسا کہ مکیوں کے ہاں ہے پھر ” لا الہ الا اللہ “ شہادت ایک مرتبہ ہے اور ” اشھد ان محمدا رسول اللہ “۔ ایک مرتبہ ہے پھر ” حی علی الصلوۃ “۔ ایک مرتبہ ہے پھر ” حی علی الفلاح “ ایک مرتب ہے پھر موذن آواز کو اونچا کرکے کلمہ شہادت کہے اور اشھد ان لا الہ الا اللہ “ آگے مکمل اذان کہے آخر تک دو دو مرتبہ، ابو عمر ؓ نے کہا : امام احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، دادؤ بن علی، محمد بن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہم کا خیال ہے جو رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے اس کے مطابق اذان و اقامت جائز ہے انہوں نے اس کو اباحت اور تخییر پر محمول کیا ہے انہوں نے فرمایا : ہر صورت جائز ہے کیونکہ ہر صورت نبی مکرم ﷺ سے ثابت ہے اور ان کے صحابہ نے اس پر عمل کیا ہے جو چاہے اذان کی ابتدا میں اللہ اکبر دو مرتبہ کہے اور جو چاہے یہ چار مرتبہ کہے، جو چاہے ترجیع کرے اور جو چاہے ترجیع نہ کرے، جو چاہے اقامت دو مرتبہ کہے، جو چاہے ایک مرتبہ کہے سوائے قد قامت الصلوۃ کے کلمات کے یہ ہر حال میں دو دو مرتبہ کہے۔ (2) (شرح معانی الآثار میں اس پر مفصل بحث موجود ہے) مسئلہ نمبر : (5) صبح کی نماز کے لیے تشویب میں اختلاف ہے اور تثویب سے مراد مؤذن کا قول ہے ” الصلوۃ خیر من النوم “۔ امام مالکرحمۃ اللہ علیہ، ثوری، اور لیث (رح) نے کہا : صبح کی اذان میں موذن حی علی الفلاح دو مرتبہ کہنے کے دو مرتبہ ” الصلوۃ خیر من النوم “۔ کہے یہ امام شافعی (رح) کا عراق میں قول تھا اور مصر میں یہ ہے کہ یہ نہ کہے، امام ابوحنیفہ (رح) اور ان کے اصحاب نے کہا : اگر چاہے تو اذان سے فارغ ہونے کے بعد یہ کہے، ان سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ کلمہ نفس اذان سے ہے اور فجر کی نماز میں لوگوں کا یہی معمول ہے، ابو عمر ؓ نے کہا : نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے حضرت ابو محذورہ ؓ کو حکم دیا کہ وہ صبح کی اذان میں ” الصلوۃ خیر من النوم “ کہے، ان سے حضرت عبداللہ بن زید ؓ کی حدیث میں مروی ہے (1) (سنن ابی داؤد کتاب الصلوۃ باب کیف الاذان، حدیث نمبر 422، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا : فجر کی اذان میں ” الصلوۃ خیر من النوم “ کہنا سنت سے ہے، حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ وہ یہ کہتے تھے۔ رہا موطا میں امام مالک (رح) کا قول کہ انہیں یہ خبر پہنچی ہے کہ موذن حضرت عمر ؓ کو صبح کی نماز کے متعلق آگاہ کرنے کے لیے آیا تو اس نے آپ کو سویا ہوا پایا، موذن نے کہا : ” الصلوۃ خیر من النوم “ تو حضرت عمر ؓ نے کہا : یہ صبح کی اذان میں کہا کرو، میں یہ نہیں جانتا کہ یہ حضرت عمر ؓ سے اس جہت سے مروی ہے کہ اس سے حجت پکڑی جائے اور اس کی صحت کو جانا جائے اس میں ہشام بن عروہ کی حدیث ہے جو ایک شخص سے مروی ہے جسے اسماعیل کہا جاتا ہے میں اس کو جانتا ہوں۔ ابن ابی شیبہ نے ذکر کیا ہے کہ ہمیں عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے ایک شخص سے روایت کیا جس کو اسماعیل کہا جاتا ہے، اس نے کہا : موذن آیا اس نے حضرت عمر ؓ کو صبح کی نماز کے متعلق آگاہ کیا، اس نے کہا : ” الصلوۃ خیر من النوم “ حضرت عمر ؓ کو اس پر تعجب ہوا، حضرت عمر نے موذن کو کہا : اس کو اپنی اذان میں رکھ، ابو عمر ؓ نے کہا : میرے نزدیک اس میں معنی یہ ہے کہ انہوں نے موذن کو کہا : صبح کی اذان اس قول کی جگہ ہے یہ اس کا مقام نہیں ہے گویا حضرت عمر ؓ نے امیر کے دروازے پر اس سے دوسری ندا کو ناپسند کیا جیسا کہ امراء نے بعد میں اس کو ایجاد کرلیا، ابو عمر ؓ نے کہا : مجھے اس تاویل پر ایک مخصوص وجہ نے ابھارا اگرچہ خبر کا ظاہر اس کے خلاف ہے، کیونکہ صبح کی نماز میں تثویب علماء کے نزدیک مشہور ہے اور عام لوگ یہ خیال کریں گے کہ حضرت عمر ؓ رسول اللہ ﷺ کی سنت سے ناواقف تھے نبی مکرم ﷺ نے مدینہ طیبہ میں حضرت بلال ؓ کو اور مکہ میں حضرت ابو محذورہ کو اس کا حکم دیا تھا یہ حضرت بلال ؓ اور حضرت ابو محذورہ ؓ کی اذان میں محفوظ اور معروف ہے جو نبی مکرم ﷺ کے لیے صبح کی نماز کے لیے اذان دی جاتی تھی، یہ علماء کے نزدیک، مشہور ہے، وکیع نے سفیان سے انہوں نے عمران بن مسلم سے انہوں نے حضرت سوید بن غفلہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اپنے مؤذن کی طرف پیغام بھیجا کہ جب تو حی الفلاح پر پہنچے تو پھر کہہ ” الصلوۃ خیر من النوم “ کیونکہ یہ حضرت بلال ؓ کی اذان ہے اور یہ معلوم ہے کہ حضرت بلال ؓ نے حضرت عمر ؓ کے لیے اذان نہیں دی تھی اور نہ رسول اللہ ﷺ کے بعد انہوں نے اس کو سنا تھا مگر ایک مرتبہ جب وہ شام میں داخل ہوئے تھے۔ مسئلہ نمبر : (6) اہل علم کا اجماع ہے کہ سنت یہ ہے کہ اذان وقت داخل ہونے کے بعد دی جائے گی سوائے فجر کی اذان کے فجر کی اذان مالک، امام شافعی، امام احمد اور اسحاق، اور ابو ثور رحمۃ اللہ علیہم کے قول میں طلوع فجر سے پہلے دی جائے گی ان کی حجت رسول اللہ ﷺ کا قول ہے کہ حضرت بلال ؓ رات کو اذان دیتے ہیں تم (اس وقت) کھاؤ پیو حتی کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم اذان دے، امام ابو حنیفہ، ثوری اور امام محمد بن حسن نے کہا : صبح کی نماز کے لیے اذان اس کے وقت کے داخل ہونے کے وقت دی جائے گی، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت مالک بن حویرث ؓ اور اس کے ساتھی کو فرمایا :” جب نماز کا وقت ہوجائے تو اذان کہنا اور اقامت کہنا اور تم میں سے بڑا امامت کرائے “ اور ان علماء نے بقیہ نمازوں پر اس کو قیاس کیا ہے اہل حدیث کہتے ہیں : جب مسجد کے لیے دو موذن ہوں تو ایک طلوع فجر سے پہلے اذان دے اور دوسر طلوع فجر کے بعد اذان دے۔ مسئلہ نمبر : (7) اس میں اختلاف ہے کہ موذن جو اذان دیتا ہے تکبیر اس کے علاوہ کوئی اور کہے، امام مالک (رح)، امام ابوحنیفہ (رح) اور ان کے اصحاب نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ حضرت محمد بن عبداللہ بن زید عن ابیہ کے سلسلہ سے یہ حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا، کیونکہ انہوں نے خواب میں دیکھی تھی کہ وہ حضرت بلال کو اذان کے کلمات سکھائیں، حضرت بلال ؓ نے اذان دی، پھر حضرت عبداللہ بن زید کو اقامت کہنے کا حکم دیا تو اس نے اقامت کہی (1) (سنن ابی داؤد، کتاب الصلوۃ باب فی الرجل یؤذن ویقیم اخر، حدیث نمبر 430، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ثوری، امام شافعی، اور لیث نے کہا : جو اذان دی وہی اقامت کہے، کیونکہ عبدالرحمن بن زیاد بن انعم کی حدیث ہے جو انہوں نے زیادہ بن نعیم سے انہوں نے حضرت زیاد بن حرث صدائی سے روایت کی ہے فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا جب صبح کا آغاز ہوا تو آپ نے مجھے اذان دینے کا حکم دیا میں نے اذان کہی پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو حضرت بلال اقامت کہنے کے لیے آئے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”(تمہارے بھائی) صدائی نے اذان دی ہے جو اذان دے وہی اقامت کہے “ (2) (سنن ابن ماجہ باب السنۃ فی الاذان حدیث نمبر 708، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ابو عمر ؓ نے کہا : عبدالرحمن بن زیاد افریقی ہے اکثر علماء نے اس کو ضیعف قرار دیتے ہیں، یہ حدیث ان کے علاوہ کسی سے مروی نہیں ہے پہلی حدیث سند کے اعتبار سے احسن ہے، اگر افریقی کی حدیث صحیح ہو کیونکہ بعض اہل علم نے انکی توثیق کی ہے اور انکی تعریف کی ہے تو اس کا قول اولی ہے، کیونکہ اختلاف کے موقع میں وہ نص ہے اور وہ حضرت عبداللہ بن زید ؓ کا واقعہ جو حضرت بلال ؓ کے ساتھ ہوا اس سے یہ مؤخر ہے اور رسول اللہ ﷺ کے آخری امر کی اتباع اولی ہے، نیز میں پسند کرتا ہوں کہ جب مؤذن ایک متعین ہو تو وہی تکبیر کہے، اگر کسی دوسرے نے اقامت کہہ دی تو نماز بالاجماع ہوجائے گی، مسئلہ نمبر : (8) موذن کے لیے حکم ہے کہ وہ اذان کو آہستہ آہستہ دے اور اس میں راگ نہ لگائے جس طرح آج اکثر جہلاء کرتے ہیں بلکہ اکثر لوگوں نے اسے گانے اور راگ سے بھی آگے نکال دیا ہے اس میں کئی ترجیعات کرتے ہیں اور کثرت سے تقطیعات کرتے ہیں حتی کہ یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، دراقطنی نے ابن جریج عن عطاء عن ابن عباس، ؓ کے سلسلہ سے روایت کیا ہے فرمایا : رسول اللہ ﷺ کا ایک موذن تھا جو اذان میں گانے کی طرز لگاتا تھا، رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا : ” اذان آسان نرم ہے جب تیری اذان آسان نرم ہو تو فبہا ورنہ تو اذان نہ دے “۔ علماء کی ایک جماعت کے نزدیک موذن قبلہ کی طرف منہ کرے اور حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح کے وقت دائین بائیں اپنے سر کو پھیرے یہ اکثر اہل علم کے نزدیک ہے، امام احمد (رح) نے فرمایا اپنے سر کو نہ پھیرے مگر یہ کہ وہم منارہ میں ہو اور وہ لوگوں کو آواز سنانا چاہتا ہو یہی اسحاق کا قول ہے افضل یہ ہے کہ موذن باوضو اذان دے۔ مسئلہ نمبر : (9) اذان سننے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ شہادتین کے آخر تک اذان کے کلمات کو دوہرائے اگر مکمل اذان کے کلمات دوہرائے تو بھی جائز ہے، کیونکہ حضرت ابوسعید کی سعید کی حدیث اسی پر دلالت کرتی ہے صحیح مسلم میں حضرت عمر بن خطاب ؓ سے مروی ہے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب موذن ” اللہ اکبر، اللہ اکبر، کہے تو تم میں سے ہر سننے والا شخص کہے : اللہ اکبر، اللہ اکبر، پھر موذن اشھد ان لا الہ الا اللہ “ کہے تو وہ بھی اشھد ان لا الہ الا اللہ “ کہے پھر موذن ” اشھد ان محمدا رسول اللہ “۔ کہے تو وہ بھی کہے ” اشھد ان محمدا رسول اللہ “۔ پھر موذن حی علی الصلوۃ “۔ کہے تو سننے والا ” لاحول ولا قوۃ الا باللہ “۔ پھر موذن حی علی الفلاح کہے تو وہ ” لاحول ولا قوۃ الا باللہ “۔ کہے پھر وہ : اللہ اکبر، اللہ اکبر کہے تو وہ بھی : اللہ اکبر، اللہ اکبر کہے پھر موذن ” لا الہ الا اللہ “ کہے تو وہ بھی ” لا الہ الا اللہ “ کہے، دل سے جو یہ کہے گا وہ جنت میں داخل ہوگا، اس کے متعلق حضرت سعد بن ابی وقاص نے رسول اللہ ﷺ سے سے روایت کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا : جس نے کہا : جب وہ مؤذن کو سنے اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ وان محمدا عبدہ ورسولہ، رضیت باللہ ربا وبمحمد رسولا وبالاسلام دینا تو اس کے پہلے سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ مسئلہ نمبر : (10) اذان اور موذن کی فضیلت : اس کے متعلق بہت سے صحیح آثار مروی ہیں ان میں سے ایک وہ ہے جس کو مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” جب اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ کر کے بھاگتا ہے اس کی بآواز بلند ہوا خارج ہو رہی ہوتی ہے حتی کہ وہ اذان نہیں سنتا “ تیرے لیے یہ کافی ہے کہ اذان اسلام کا شعار ہے، ایمان پر علامت ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے، رہا موذن تو مسلم نے حضرت معاویہ ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے روز سب سے لمبی گردنوں والے موذن ہوں گے یہ اس دن کی ہولناکی سے امن کی طرف اشارہ ہے واللہ اعلم، عرب گردن کی طوالت سے مراد قوم کا معزز ومعتبر شخص لیتے ہیں جیسا کہ شاعر نے کہا : طوال انضیۃ الاعناق واللمم : مؤطا میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ” موذن کی اذان کو جن وانس اور جو چیز بھی سنتی ہے وہ قیامت کے روز اس کے لیے گواہی دے گی “ اور سنن ابن ماجہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” جس نے ثواب کی نیت سے سات سال اذان دی اس کے لیے آگ سے برات لکھی جاتی ہے “ (1) (سنن ابن ماجہ کتاب الا ذان حدیث نمبر 718، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اس میں حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جس نے بارہ سال اذان دی اس کے لیے جنت واجب ہوگی، اور اس کے لیے اذان کے عوض ہر روز ساٹھ نیکیاں لکھی جاتی ہیں، ہر اقامت کی وجہ سے تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، (2) (سنن ابن ماجہ کتاب الا ذان حدیث نمبر 719، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ابو حاتم نے کہا : یہ سند منکر ہے اور حدیث صحیح ہے حضرت عثمان بن ابی العاص سے مروی ہے فرمایا : ” مجھے جو آخری وصیت رسول اللہ ﷺ نے فرمائی تھی وہ یہ تھی کہ میں کوئی ایسا موذن نہ لوں جو اذان پر اجرت لے (3) (سنن ابن ماجہ باب السنۃ فی الا ذان حدیث نمبر 705، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) یہ حدیث ثابت ہے۔ مسئلہ نمبر : (11) اذان پر اجرت لینے میں علماء کا اختلاف ہے قاسم بن عبدالرحمن (رح) اور اصحاب الرائے رحمۃ اللہ علیہم نے اس کو مکروہ کہا ہے اور امام مالک (رح) نے اس میں رخصت دی ہے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں ہے، امام اوزاعی (رح) نے کہا : یہ مکروہ ہے اور بیت المال سے اس کی اجرت لینے میں کوئی حرج نہیں، امام شافعی (رح) نے فرمایا : موذن کو وظیفہ خمس کے خمس سے یعنی نبی مکرم ﷺ کے حصہ سے دیا جائے گا، ابن المنذر (رح) نے کہا : اذان پر اجرت لینا جائز نہیں، ہمارے علماء نے اجرت لینے پر حضرت ابومحذورہ ؓ کی حدیث سے استدلال کیا ہے، اس میں نظر ہے اس حدیث کو نسائی اور ابن ماجہ (رح) وغیرہما نے روایت کیا ہے فرمایا : میں ایک جماعت کے ساتھ نکلا ہم کسی راستہ میں تھے تو رسول اللہ ﷺ کے موذن نے آپ ﷺ کے سامنے اذان دی، ہم نے موذن کی آواز سنی جب کہ ہم اس سے اعراض کرنے والے تھے ہم اس کا مذاق اڑاتے ہوے چیخے، رسول اللہ ﷺ نے سنا تو آپ نے کچھ لوگوں کو ہماری طرف بھیجا آپ ﷺ کے سامنے انہوں نے ہمیں بٹھا دیا، آپ ﷺ نے پوچھا ” تم میں سے کون تھا جس کی میں نے بلند آواز سنی “ تمام لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا اور سچی بات کہی، آپ ﷺ نے سب کو جانے کی اجازت دے دی اور مجھے روک لیا آپ نے مجھے فرمایا : ” تم اٹھو اور اذان دو “ میں اٹھا تو میرے نزدیک رسول اللہ ﷺ کے امر سے کوئی چیز زیادہ ناپسندیدہ نہ تھی اور جس کا مجھے حکم دیا تھا اس سے زیادہ ناگوار امر نہ تھا میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے کھڑا ہو اتو خود رسول اللہ ﷺ نے مجھے اذان کے کلمات سکھائے فرمایا ” کہو ” اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر، اشھد ان لا الہ الا اللہ “ اشھد ان لا الہ الا اللہ “ ” اشھد ان محمدا رسول اللہ “۔ ” اشھد ان محمدا رسول اللہ “۔ پھر مجھے فرمایا اپنی آواز کو بلند کر اور لمبار کر کے کہ اشھد ان لا الہ الا اللہ “ اشھد ان لا الہ الا اللہ “ ” اشھد ان محمدا رسول اللہ “۔ ” اشھد ان محمدا رسول اللہ “۔ حی علی الصلوۃ، حی علی الصلوۃ، حی علی الفلاح، حی علی الفلاح اللہ اکبر اللہ اکبر ” لا الہ الا اللہ “ پھر مجھے بلایا جب میں نے اذان مکمل کرلی آپ نے مجھے ایک تھیلی عطا فرمائی جس میں کچھ چاندی تھی پھر آپ نے حضرت ابو محذورہ ؓ کی پیشانی پر ہاتھ رکھا، پھر اسے اس کے چہرے پر گزارا پھر اس کے سینہ پر گزارا پھر جگر پر گزار حتی کہ رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ حضرت ابو محذورہ ؓ کی ناف تک پہنچ گیا پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تیرے لیے برکت دے، تیرے لیے برکت دے، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ مجھے مکہ میں اذان دینے کا حکم فرمائیں آپ ﷺ نے فرمایا : ” میں نے تجھے حکم دیا ، “ تو میرے دل میں رسول اللہ ﷺ کے لیے جو کراہیت تھی وہ سب ختم ہوگئی اور اس کی جگہ رسول اللہ ﷺ کی محبت پیدا ہوگئی میں مکہ میں رسول اللہ ﷺ کے عامل عتاب بن اسید ؓ کے پاس آیا میں نے رسول اللہ ﷺ کے امر سے ان کے ساتھ نماز کے لیے اذان دی (1) (سنن ابی داؤد، کتاب الصلوۃ کیف الاذان حدیث نمبر 422، 425، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) یہ ابن ماجہ کے الفاظ کا ترجمہ ہے۔ مسئلہ نمبر : (12) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ذالک بانھم قوم لایعقلون “۔ یعنی یہ عقل سے محروم ہیں جو عقل قبائح سے منع کرتی ہے گویا یہ ان کی طرح ہیں جن کے پاس عقل نہیں ہوتی روایت ہے کہ ایک نصرانی تھا جو مدینہ طیبہ میں رہتا تھا جب اس نے موذن کو ” اشھد ان محمدا رسول اللہ “۔ کہتے سنا تو اس نے کہا : حرق الکاذب جھوٹا آگ سے جلایا گیا، پس اس عیسائی کے گھر میں آگ کا ایک شعلہ گرا جب کہ وہ سویا ہوا تھا اس شعلہ نے اس کے گھر اور اس کافر کو جلا دیا، یہ مخلوق کے لیے عبرت تھی۔ آزمائش کلام کے سپرد کی گئی ہے کبھی نبی مکرم ﷺ کے ساتھ انہیں ڈھیل دی جاتی تھی حتی کہ انہیں فتح ہوتی تھی پس اس کے بعد ان کو موخر نہیں کیا جائے گا یہ ابن عربی رحمۃ اللہ علیہنے ذکر کیا ہے۔
Ayahs 5:59–60

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:59 in the Quran reader

کہو کہ اے اہل کتاب ! تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوا اس کے کہ تم خدا پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر بدکردار ہیں۔

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ١ؕ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ Open ayah 5:60 in the Quran reader

کہو کہ میں تمہیں بتاؤں کہ خدا کے ہاں اس سے بھی بدتر جزا پانیوالے کون ہیں ؟ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی اور جن پر وہ غضبناک ہوا اور (جن کو) ان میں سے بندر اور سُؤر بنادیا اور جنہوں نے شیطان کی پرستش کی ایسے لوگوں کا برا ٹھکانا ہے۔ اور وہ سیدھے راستے سے بہت دور ہیں۔

آیت نمبر : 59 تا 60۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” قل یاھل الکتب ھل تنقمون منا “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہود کا ایک گروہ آیا جن میں ابو یاسر بن اخطب اور رافع بن ابی رافع بھی تھا نبی مکرم ﷺ سے پوچھا کہ آپ کن رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے جواب میں یہ آیت پڑھی : (آیت) ” امنا باللہ وما انزل الینا وما انزل فی ابرھیم واسمعیل واسحق ویعقوب والاسباط وما اوتی موسیٰ و عیسیٰ وما اوتی النبیون من ربھم، لا نفرق بین احد منھم ونحن لہ مسلمون “۔ (بقرہ) جب آپ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا تو یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کرتے ہوئے کہا : بخدا ہم کوئی ایسے دین والے نہیں جانتے جو دنیا وآخرت میں تم سے زیادہ کم حصہ والے ہوں اور تمہارے دین سے برادین نہیں جانتے تو یہ آیت اور اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی یہ اس آیت کے ساتھ متصل ہے جس میں انہوں نے اذان کا انکار کیا تھا، یہ آیت اللہ تعالیٰ کی توحید کی شہادت اور حضرت محمد ﷺ کی نبوت کی شہادت کی جامع ہے اور اس کے دین کے نہ ہونے کو بیان کرنے والی جو انبیاء کے درمیان فرق کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کا دین نہیں جو تمام انبیاء پر ایمان لاتا ہے اور تا میں لام کو ادغام کرنا جائز ہے ان کے قرب کی وجہ سے (آیت) ” تنقمون “۔ کا معنی ہے تم ناراض ہوتے ہو، بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے تم ناپسند کرتے ہو، بعض نے فرمایا : تم انکار کرتے ہو، یہ تمام معانی قریب قریب ہیں، کہا جاتا ہے : نقم من کذا ینقم نقم ینقہ، پہلامادہ زیادہ ہے، عبداللہ بن قیس نے کہا : ما نقموا من بنی امیۃ الا انھم یحلمون ان غضبوا “۔ قرآن میں ہے : (آیت) ” وما نقموا منھم “۔ (البروج : 8) کہا جاتا ہے : نقمت علی الرجل فانا ناقم جب تو کسی پر ناراض ہو کہا جاتا ہے۔ مانقمت علی الاحسان، کسائی نے کہا : نقمت قاف کے کسرہ کے ساتھ ایک لغت ہے نقمت الامر ونقمتہ جب تو کسی کو ناپسند کرے، انتقم اللہ منہ اللہ جب تو کسی کو ناپسند کرے، انتقم اللہ منہ نے اس سے انتقام لیا، اسے سزا دی، اس سے اسم النقمۃ ہے اس کی جمع نقامات اور نقم ہے جیسے کلمۃ کی جمع کلمات اور کلم ہے اگر تو چاہے تو قاف کو ساکن کر دے اور اس کی حرکت نون کی طرف منتقل کر دے اور تو کہے : نقمۃ اور جمع نقم جیسے نعمۃ جمع نعم، (آیت) ” الا ان امنا باللہ “ یہ محل نصب میں ہے اس کا ناصب ” تنقمون “ ہے اور تنقمون “ بمعنی تعیبون (تم عیب لگاتے ہو) ہے یعنی کیا تم ہمیں عیب لگاتے ہو بجز اس کے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے حالانکہ تم جانتے ہو کہ ہم حق پر ہیں۔ (1) (آیت) ” ان اکثرکم فسقون “۔ یعنی تم میں سے اکثر ایمان کا ترک کیے ہوئے ہو اور اللہ کے امر کی پیروی سے نکلے ہوئے ہو بعض علماء نے فرمایا : یہ اس کہنے والے کے قول کی مثل ہے ” ھل تنقم منی الا انی عفیف وانک فاجر “ تو مجھے عیب نہیں لگا رہا مگر اس لیے میں پاک دامن ہوں اور تو فاجر ہے۔ بعض علماء فرمایا : اس کا مطلب ہے کیونکہ اکثر تم میں سے فاسق ہیں اس وجہ سے ہمیں عیب لگاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” قل ھل انبئکم بشر من ذلک “ یعنی میں تمہیں اس سے بھی برے لوگوں کے متعلق آگاہ کروں جو تمہیں عیب لگاتے ہیں، بعض علماء نے فرمایا : اس سے برا جو مکروہ چیز تم ہمارے لیے ارادہ کرتے ہو یہ ان کے قول کا جواب ہے جو انہوں نے کہا تھا : ہم کوئی تمہارے دین سے برا دین نہیں جانتے۔ (آیت) ” مثوبۃ “ بیان کے اعتبار سے منصوب ہے اس کی اصل مفعولۃ ہے واؤ کی حرکت تاکو دی گئی پھر واؤ ساکن ہوگئی اور اس کے بعد واؤ ساکن ہے پس ایک واو کو حذف کردیا گیا جیسے مقولہ، مجوزہ، مضوفہ، مصدر کے معنی پر ہے جیسے شاعر نے کہا : وکنت اذا جاری دعا لمضوفۃ اشمر حتی ینصف الساق مئزری : بعض علماء نے فرمایا : مفعلۃ جیسے تیرا قول : مکرمۃ معقلۃ : (آیت) ” من لعنہ اللہ ، “ من یہ محل رفع میں ہے جیسے فرمایا : بشرمن ذالک النار “ تقدیر عبارت ہے : ھو من لعن من العنہ اللہ۔ یہ بھی جائز ہے کہ محل نصب میں ہو، معنی یہ ہوگا : ھل انبئکم بمن العنہ اللہ، اور یہ بھی جائز ہے کہ شر سے بدل کی بنا پر محل جر میں ہو تقدیر یوں ہوگی : ھل انبئکم بمن لعنہ اللہ اس سے مراد یہود ہیں (2) (تفسیر بغوی) (آیت) ” الطاغوت “ کے متعلق قول گزر چکا ہے یعنی جنہوں نے پوجا کی شیطان کی فراء کے نزدیک موصول محذوف ہے، بصریوں نے کہا : موصول کا حذف جائز نہیں معنی یہ ہے : من لعنہ اللہ وعبدالطاغوت۔ ابن وثاب اور نخعی نے انبئکم تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے، حمزہ نے عبد الطاغوت با کے ضمہ اور تا کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اس کو فعل کے وزن پر اسم بنایا جیسے عضد یہ مبالغہ اور کثرت کے لیے وزن ہے جیسے یقظ، ندس، حذر اصل میں یہ صفت ہے اسی سے نابغہ کا شعر ہے : من وحش عجرۃ موشی اکارعہ طاوی المصیر کسیف الصیقل الفرد : را کے ضمہ کے ساتھ اور اس کو نصب جعل کی وجہ سے ہے یعنی جعل منھم عبداللطاغوت عبد کو الطاغوت کی طرف مضاف کیا اور اسے جر دی اور جعل بمعنی خلق ہے اس کا معنی ہے وجعل منھم من یبالغ فی عبادۃ الطاغوت، باقی قراء نے با اور تا کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور انہوں نے عبد کو فعل ماضی بنایا ہے اور غضب اور لعن فعل ماضی پر عطف کیا ہے، معنی یہ ہے : من لعنہ اللہ ومن عبدالطاغوت، یہ جعل کی وجہ سے منصوب ہے یعنی جعل منھم القردۃ والخنازیر وعبدالطاغوت لفظ من پر حمل کرنے کی وجہ سے عبد میں ضمیر واحد ذکر کی، حضرت ابی اور حضرت ابن مسعود ؓ نے عبدوالطاغوت پڑھا ہے معنی کا اعتبار کرتے ہوئے، ، حضرت ابن عباس ؓ نے عبدالطاغوت پڑھا ہے یہ بھی جائز ہے کہ یہ عبد کی جمع ہو جیسے کہا جاتا ہے : رھن ورھن سقف وسقف اور عباد کی جمع ہونا بھی جائز ہے جیسے کہا جاتا ہے : مثال ومثل۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ عبید کی جمع ہو جیسے رغیف ورغف، یہ عابد کی جمع ہونا بھی جائز ہے جیسے نازل کی جمع نزل ہے معنی ہے شیطان کے خادم حضرت ابن عباس ؓ سے عبد الطاغوت بھی مروی ہے اس کو عابد کی جمع بنایا ہے جیسے کہا جاتا ہے : شاھد کی جمع شھد، غائب کی جمع غیب، ابی واقد سے مروی ہے عباد الطاغوت مبالغہ کے لیے، یہ عابد کی جمع بھی ہے جیسے عامل کی جمع عمال ہے اور ضارب کی جمع ضراب ہے، محبوب نے ذکر کیا ہے کہ بصریوں نے عبادالطاغوت پڑھا ہے یہ بھی عابد کی جمع ہے جیسے قائم کی جمع قیام ہے یہ بھی جائز ہے کہ عبد کی جمع ہو (1) (المحرر الوجیز) اور ابو جعفر رؤاسی نے عبدالطاغوت پڑھا ہے یہ مفعول کی بنا پر ہے، تقدیر عبارت یوں ہوگی : عبدالطاغوت فیھم عون عقیلی اور ابن بریدہ نے عبادالطاغوت مفرد پڑھا ہے یہ جماعت کی تعبیر کے لیے ہے، حضرت ابن مسعود ؓ نے عبدالطاغوت پڑھا ہے اور حضرت ابی نے عبدت الطاغوت پڑھا ہے یہ جماعت کی تانیث کی بنا پر پڑھا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے عبدالطاغوت پڑھا ہے اور حضرت ابی نے عبدت الطاغوت پڑھا ہے یہ جماعت کی تانیث کی بنا پر پڑھا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : قالت الاعراب (الحجرت : 14) عبید بن عمیر نے اعبدالطاغوت پڑھا ہے جیسے کلب کی جمع اکلب آتی ہے یہ کل بارہ وجوہات قرات ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” اولئک شر مکانا “۔ کیونکہ ان کا مکان دوزخ ہے رہے مومنین ان کے مکان میں کوئی شر نہیں ہے۔ زجاج نے کہا : اولئک شر مکانا علی قولک تمہارے قول پر برے ٹھکانے والے ہیں نحاس نے کہا : جو اس آیت کے متعلق کہا گیا ہے اس میں سے بہتر یہ قول ہے اولئک لعنھم اللہ شر مکانا فی الاخرۃ من مکانکم فی الدنیا لما لحقکم من الشر، دنیا میں جو تمہیں شر لاحق ہے اس کی بنسبت آخرت میں ان کا درجہ بہت برا ہوگا، بعض علماء نے فرمایا : اولئک الذین لعنھم شرمکانا من الذین نقموا علیکم یعنی ان کا درجہ ان سے برا ہوگا جنہوں نے تم پر عیب لگایا بعض نے فرمایا : اولئک الذین نقموا علیکم شر مکانا من الذین لعنھم اللہ “۔ یعنی جن پر اللہ نے لعنت کی ان سے ان کا برا درجہ ہوگا جنہوں نے تم پر عیب لگایا جب یہ آیت نازل ہوئی تو مسلمانوں نے انہیں کہا : یا اخوۃ القردۃ والخنازیر اے بندوروں اور خنازیر کے بھائیوں تو انہوں نے رسوائی کی وجہ سے سر جھکا لیے (1) (تفسیر کشاف) اس کے متعلق شاعر نے کہا : فلعنۃ اللہ علی الیھود ان الیھود اخوۃ القردد :
Ayahs 5:61–63

وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:61 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان آئے حالانکہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لیکر جاتے ہیں۔ اور جن باتوں کو یہ مخفی رکھتے ہیں خدا انکو خوب جانتا ہے

وَ تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:62 in the Quran reader

اور تم دیکھو گے کہ ان میں اکثر گناہ اور زیادتی اور حرام کھانے میں جلدی کر رہے ہیں۔ بیشک یہ جو کچھ کرتے ہیں برا کرتے ہیں۔

لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:63 in the Quran reader

بھلا ان کے مشائخ اور علماء انہیں گناہ کی باتوں اور حرام کھانے سے منع کیوں نہیں کرتے ؟ بلا شبہ وہ بھی برا کرتے ہیں۔

آیت نمبر : 61 تا 63۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واذا جآء وکم قالوا امنا “ یہ منافقین کی صفت ہے معنی ہے کہ جو کچھ انہوں نے سنا اس سے کچھ فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ وہ کافر ہوتے ہوئے داخل ہوئے کافر ہوتے ہوئے خارج ہوئے (2) (المحرر الوجیز) (آیت) ” واللہ اعلم بما کانوا یکتمون “۔ یعنی ان کے نفاق کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد یہود ہیں جنہوں نے کہا تھا : تم اس پر ایمان لاؤ جو ایمان والوں پر نازل کیا گیا، دن کے آغاز کے وقت جب تم مدینہ میں داخل ہوا اور دن کے آخر میں انکار کرو، جب تم گھروں کو لوٹ کر آؤ۔ (3) (تفسیر بغوی) اس پر دلیل یہود کا پہلے ذکر ہے اور بعد میں بھی ان کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وتری کثیر منھم “۔ یعنی یہود میں سے بہتوں کو تو دیکھتا ہے، (آیت) ” یسارعون فی الاثم والعدوان “۔ گناہ اور ظلم میں جلدی کرتے ہیں اور حرام خوری میں جلدی کرتے ہیں۔ (آیت) ” واکلھم السحت لبئس ماکانوا یمعملون “ ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” لولا ینھھم الربنیون والاحبار “۔ لولا بمعنی افلا ہے ینھھم یعنی انہیں روکتے نہیں ہیں (آیت) ” الربنیون “ ن نصرانیوں کے علماء (آیت) ” الاحبار “ یہود کے علماء یہ حسن کا قول ہے، بعض نے فرمایا : یہ سب یہود میں ہے، کیونکہ یہ آیات ان کے متعلق ہیں پھر ان کے علماء کو توبیخ فرمائی کیونکہ انہوں نے برائی سے منع کرنا ترک کیا، فرمایا : بئس ماکانوا یصنعون “۔ جیسے انہیں توبیخ فرمائی جو گناہ میں جلد کرتے ہیں فرمایا : (آیت) ” بئس ماکانوا یمعملون “۔ یہ آیت دلیل ہے کہ برائی سے منع نہ کرنے والا بھی برائی کرنے والے کی طرح ہے، اس آیت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ترک کر نیکی وجہ سے علماء کو توبیخ ہے سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں یہ مفہوم گزر چکا ہے سفیان بن عیینہ نے روایت کیا ہے فرمایا : سفیان بن سعید نے مسعر سے روایت کیا ہے فرمایا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ ایک فرشتہ کو ایک شہر کے برباد کرنے کا حکم ملا اس نے عرض کی یارب اس میں فلاں عابد ہے اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ اس سے ہلاکت کا آغاز کر، کیونکہ احکام شریعت کی کھلی خلاف ورزی دیکھ کر اس کے چہرے کا رنگ بھی کبھی نہیں بدلا تھا، صحیح ترمذی میں ہے کہ لوگ جب ظالم کو دیکھیں اور اس کے ہاتھوں کو نہ پکڑیں تو قریب ہے اللہ تعالیٰ تمام کو سزا دے دے جو اس کے پاس ہوں (1) (جامع، ترمذی کتاب فضائل القرآن باب ومن سورة المائدہ : حدیث نمبر 2983، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) الصنع بمعنی العمل ہے مگر یہ جو وت کا تقاضا کرتا ہے کہا جاتا ہے سیف صنیع جگب اس کا کام اچھا کیا گیا ہو۔
Ayah 5:64

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ١ؕ غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا١ۘ بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ١ۙ یُنْفِقُ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ؕ وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ١ۙ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 5:64 in the Quran reader

اور یہود کہتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ (گردن سے) بندھا ہوا ہے۔ (یعنی اللہ بخیل ہے) انہیں کے ہاتھ باندھے جائیں اور ایسا کہنے کے سبب ان پر لعنت ہو۔ (بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں) وہ جتنا چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اے محمد یہ کتاب جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی ہے اس سے ان میں سے اکثر کی شرارت اور انکار اور بڑھے گا اور ہم نے انکے باہم عداوت اور بغض قیامت تک کیلئے ڈال دیا ہے۔ یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں تو خدا اس کو بجھا دیتا ہے اور یہ ملک میں فساد کے لیے دوڑتے پھرتے ہیں اور خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

آیت نمبر : 64۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وقالت الیھود یدا للہ مغلولۃ “۔ عکرمہ ؓ نے کہا : یہ جملہ فخاص بن عاز وراء (لعنہ اللہ) اور اس کے ساتھیوں نے کہا تھا ان کے بہت سے اموال تھے جب انہوں نے حضرت محمد ﷺ کی نبوت کا انکار کیا تو ان کا مال کم ہوگیا انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ بخیل ہے، اس کا ہاتھ ہمیں عطا کرنے سے باندھا ہوا ہے یہ آیت ان کے بعض لوگوں میں خاص ہے بعض علماء نے فرمایا : جو ایک قوم نے یہ کہا اور باقی لوگوں نے اس کا انکار نہ کیا تو وہ تمام برابر ہوگئے گویا سب نے یہ کہا (2) (تفسیر بغوی) حسن نے کہا : اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہمیں عذاب دینے سے روکا گیا ہے، بعض نے فرمایا : جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کو فقر وفاقہ اور مال کی قلت میں دیکھا اور انہوں نے (آیت) ” من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا “۔ (بقرہ : 245) کا ارشاد سنا اور انہوں نے دیکھا کہ حضرت محمد کریم ﷺ ان سے دیات میں مدد طلب کرتے ہیں تو انہوں نے کہا : محمد ﷺ کا اللہ فقیر ہے کبھی انہوں نے کہا : بخیل ہے ان کے قول (آیت) ” مغلولۃ “ کا یہی معنی ہے یہ بطور تمثیل ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک “۔ (الاسراء : 29) بخیل کو جعدالانامل اور مقبوض الکف اور کغمالا صابع اور مغلول الید کہا جاتا ہے شاعر نے کہا : کانت خراسان ارضا اذ یزیدبھا وکل باب من الخیرات مفتوح : فاستبدلت بعدہ جعدا اناملہ کا نما وجھہ بالخل منضوح : عرب کلام میں الید کا لفظ کا بھی کام کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے جیسے ارشاد ہے : (آیت) ” خذ بیدک ضغثا “۔ (ص : 44) یہ اللہ تعالیٰ پر محال ہے، کبھی نعمت کے لیے استعمال ہوتا ہے عرب کہتے ہیں کم یدلی عند فلان یعنی میرے کتنے احسانات اس پر ہیں کبھی یہ قوت کے لیے استعمال ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” واذکر عبدناداؤد ذالاید “۔ (ص : 17) یعنی ذالقوۃ، کبھی ملک اور قدرت کے لیے ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” قل ان الفضل بید اللہ، یؤتیہ من یشآء “۔ (آل عمران : 73) کبھی صلہ کے معنی میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” مما عملت ایدینا انعاما “۔ (یسین : 71) یعنی مما عملنا نحن اور فرمایا : (آیت) ” او یعفوا الذی بیدہ عقدۃ النکاح “۔ (بقرہ : 237) یعنی وہ جس کے لیے نکاح کی گرہ ہے، کبھی تائید اور نصرت کے معنی میں ہوتا ہے، اسی سے نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : یداللہ مع القاضی حتی یقضی والقاسم حتی یقسم اللہ “ کی تائید ونصرت قاضی کے ساتھ ہوتی ہے حتی کہ وہ فصلہ کرلے اور قاسم کے ساتھ ہوتی ہے حتی کہ وہ تقسیم کرے، کبھی فعل کی مخبر عنہ کی طرف اضافت کے لیے ہوتا ہے اس کو تشریف و تکریم دینے کے لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یابلیس مامنعک ان تسجد لماخلقت بیدی “ (ص : 75) اس کو کام کرنے کے معنی پر محمول کرنا جائز نہیں کیونکہ باری تعالیٰ واحد ہے اس پر بعضیت جائز نہیں اور اسے قوت وملک نعمت صلہ پر محمول کرنا درست نہیں، کیونکہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے ولی آدم اور اس کے دشمن ابلیس کے درماین اشتراک واقع ہوگا اور جو اس نے اس پر تفضیل ذکر کی ہے وہ باطل ہوجائے گی کیونکہ تخصیص کا معنی باطل ہوجائے گا اور صرف یہ باقی رہ جائے گا کہ اسے دو صفتوں پر محمول کیا جائے جن کا تعلق حضرت آدم (علیہ السلام) اور ابلیس کی تخلیق کے ساتھ ہے حضرت آدم کو شرف دینے کے لیے جب کہ ابلیس تخلیق میں ایسا نہیں اور یہ تعلق ایسا ہے جیسے مقدور کے ساتھ قدرت کا تعلق ہوتا ہے نہ کہ مباشرت کے طریق سے اور نہ مماست (چھونا) کے طریق سے ہے اس کی مثل وہ ہے جو روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تورات کو اپنے ہاتھ سے لکھا، اس سے اہل جنت کے لیے دارالکرامۃ اپنے ہاتھ سے لگایا اس کے علاوہ صفت کا تعلق اپنے مقتضا سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” غلت ایدیھم ولعنوا بما قالوا “۔ یا پر ضمہ ثقیل ہونے کی وجہ سے ضمہ کو حذف کیا گیا یعنی آخرت میں باندھے ہوں گے اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ ان پر بددعا ہو، اسی طرح (آیت) ” لعنوا بما قالوا “ ہے اس سے مقصود ہمیں تعلیم دینا ہے جیسا کہ فرمایا : (آیت) ” لتدخلن المسجد الحرام ان شآء اللہ “۔ (الفتح : 27) ہمیں استثناء سکھائی جس طرح ہمیں ابو لہب پر بدعا سکھائی (آیت) ” تبت یدا ابی لھب “۔ بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ساری مخلوق سے زیادہ بخیل ہیں ہر یہودی تجھے لئیم اور کمینہ نظر آئے گا اس قول کی بنا پر کلام میں واؤ کا اضمار ہوگا یعنی انہوں نے کہا : (آیت) ” یداللہ مغلولۃ غنت ایدیھم “۔ اللعن کا معنی دور کرنا ہے یہ پہلے گزر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” بل یدہ مبسوطتن “۔ مبتدا خبر ہیں یعنی اس کی نعمت تو پھیلی ہوئی ہے الید بمعنی نعمت ہے، بعض نے کہا : یہ غلط ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” بل یدہ مبسوطتن “۔ پس اللہ کی نعمتیں شمار سے زیادہ ہیں پھر یہ کیسے ہوگا کہ اس کی دو نعمتیں پھیلی ہوئی ہیں ؟ اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ یہ بھی جائز ہے کہ یہ جنس کا تثنیہ ہو، مفرد کا تثنیہ نہ ہو، پس یہ رسول اللہ ﷺ کے ارشاد : مثل المنافق کا الشاۃ العائر ۃ ابین الغتمین “ کی طرح ہے ایک جنس دنیا کی نعمت ہے اور دوسر جنت میں، آخرت کی نعمت ہے، بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد دنیا کی ظاہری اور باطنی نعمت ہے جیسے فرمایا : (آیت) ” واسبغ علیکم نعمہ ظاھرۃ وباطنۃ (لقمان : 20) (1) (تفسیر رازی، ایضا المحرر الوجیز) اور تمام کردی ہیں اس نے تم پر ہر قسم کی نعمتیں ظاہری بھی اور باطنی بھی، حضرت ابن عباس ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے فرمایا : نعمت ظاہرۃ سے مراد تیری خوبصورت تخلیق ہے اور نعمت باطنہ سے مراد اس کا تیرے برے اعمال پر پردہ ڈالنا ہے، بعض علماء نے فرمایا : دو نعمتوں سے مراد بارش ور نبات ہیں جن کے ساتھ اور جن سے نعمت میسر آتی ہے، بعض نے فرمایا : نعمت مبالغہ کے لیے ہے جیسے مجھے اس معاملہ کی قوت نہیں، سدی نے کہا : یداہ کا معنی اس کی ثواب اور عقاب کی قوتیں ہیں بخلاف اس کے جو یہود نے کہا : بیشک اس کا ہاتھ اس کو عذاب دینے سے بندہ ہے صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی مکرم ﷺ سے روایت کیا ہے ہے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا : تو خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا “ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بھرے ہوئے ہیں دن، رات کا خرچ کرنا اس میں کمی نہیں کرتا، بتاؤ جو اس نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے خرچ کیا ہے اس نے اس میں کچھ کمی نہیں کی جو اس کے دائیں ہاتھ میں ہے “۔ فرمایا ” اس کا عرش پانی پر ہے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں موت ہے وہ بلند کرتا ہے اور نیچے کرتا ہے “۔ السح سے مراد کثرت سے بہانا ہے یغیض کا معنی کم کرنا ہے اس حدیث کی مثال اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واللہ یقبض ویبصط “ (بقرہ : 245) رہی یہ آیت تو حضرت ابن مسعود ؓ کی قرات میں بل یداہ بسطان ہے، یہ اخفش نے حکایت کیا ہے انہوں نے کہا کہا جاتا ہے : ید بسطۃ یعنی کھلا ہاتھ (آیت) ” ینفق کیف یشاء جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے یہ بھی جائز ہے کہ اس آیت میں الید سے مراد قدرت ہو یعنی اس کی قدرت شامل ہے اگر چاہے تو وسیع کر دے اگر چاہے تو تنگ کر دے۔ (آیت) ” ولیزیدن کثیرا منھم “۔ لام قسم ہے۔ ما انزل الیک من ربک “ اس میں ماموصولہ ہے یعنی الذی انزل الیک من ربک “ اس میں ماموصولہ ہے یعنی الذن انزل الیک : طغیانا وکفرا یعنی جب قرآن سے کوئی چیز نازل ہوتی ہے تو وہ انکار کرتے ہیں اور انکا کفر زیادہ ہوا (آیت) ” والقینا بینھم “ مجاہد (رح) نے کہا یہود ونصاری کے درمیان کیونکہ اس سے پہلے فرمایا (آیت) ” لا تتخذوا الیھود والنصری اولیآء “ بعض علماء نے فرمایا : ہم نے یہود کے گروہوں کے درمیان عداوت وبغض ڈال دیا جیسا کہ فرمایا : (آیت) ” تحسبھم جمیعا وقلوبھم شتی “۔ (الحشر : 14) پس یہودی آپس میں بغض رکھتے ہیں متفق نہیں ہیں، وہ لوگ سے اللہ کی مخلوق میں سے سب سے زیادہ بغض رکھنے والے ہیں (آیت) ” کلما اوقدوا ناراللحرب “۔ اس سے مراد یہود ہیں۔ (آیت) ’ کلما “ ظرف ہے یعنی وہ جمع ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی جمعیت کو بکھیر دیا، بعض علماء نے فرمایا : یہود نے جب فساد کیا اور کتاب اللہ (تورات) کی مخالفت کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بخت نصر کو بھیجا پھر انہوں نے فساد کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بطرس رومی کو بھیجا پھر انہوں نے فساد برپا کیا تو اس پر مجوسیوں کو مسلط کیا پھر انہوں نے فساد کیا تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان پر غالب کیا، جب بھی ان کا معاملہ قائم ہوا اللہ تعالیٰ نے ان کا شیرازہ بکھیر دیا، جب بھی انہوں نے آگ جلائی یعنی شر کو ابھارا اور نبی مکرم ﷺ پر جنگ مسلط کرنے کی لیے جمع ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اسے بجھا دیا ان پر جبر فرمایا اور ان کے معاملہ کو کمزور کردیا، آگ کا ذکر مستعار ہے، قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ان کو ذلیل کیا اللہ تعالیٰ نے نبی مکرم ﷺ کو مبعوث فرمایا تو یہودی مجوسیوں کے ماتحت تھے پھر فرمایا : (آیت) ” ویسعون فی الارض فسادا “ یعنی وہ اسلام کے ابطال کے لیے کوشش کرتے ہیں یہ بہت بڑا فساد ہے، واللہ اعلم۔ بعض علماء نے فرمایا ؛ آگ سے مراد غضب کی آگ ہے یعنی جب انہوں نے اپنے نفسوں میں غضب کی آگ جلائی اور اپنے بدنوں اور قوت نفس کے ساتھ غضب کی آگ کی گرمی کو جمع کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس آگ کو بجھا دیا حتی کہ وہ کمزور ہوگئے یہ اس طرح ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو رعب کے ساتھ مدد دی۔ (1) (تفسیر طبری)
Ayahs 5:65–66

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 5:65 in the Quran reader

اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو ہم ان سے انکے گناہ محو کریتے اور انکو نعمت کے باغوں میں داخل کرتے۔

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ١ؕ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 5:66 in the Quran reader

اور اگر وہ تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئیں ان کو قائم رکھتے تو (ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ) اپنے اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے کھاتے۔ ان میں کچھ لوگ میانہ رو ہیں۔ اور بہت سے ایسے ہیں جن کو اعمال برے ہیں۔

آیت نمبر : 66۔ 67 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ولو ان اھل الکتب ان محل رفع میں ہے، اسی طرح آیت : ولو انھم اقاموا التورہۃ ہے۔ امنوا تصدیق کی۔ آیت : واتقوا شرک اور گناہوں سے اجتناب کیا۔ آیت : لکفرنا عنھم لام، لو کا جواب ہے۔ آیت : لکفرنا کا مطلب ہے ہم نے ڈھانپ دیا۔ یہ پہلے گزر چکا ہے تورات اور انجیل کو قائم کرنے کا مطلب ہے ان کے مقتضی کے مطابق عمل کرنا اور ان میں تحریف وتبدیلی نہ کرنا یہ مفہوم سورة بقرہ میں تفصیلا گزر چکا ہے۔ آیت : وماانزل الیھم من ربھم یعنی قرآن۔ بعض نے فرمایا : اس سے مراد ان کے انبیاء کی کتب ہیں (2۔ تفسیر بغوی) ۔ آیت : لا کلوا من فوقھم ومن تحت ارجلھم حضرت ابن عباس وغیرہ نے کہا : اس سے مراد بارش اور نبات ہیں یہ دلیل ہے کہ وہ قحط میں مبتلا تھے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے ہم ان کے رزق میں وسعت پیدا کرتے اور وہ متواتر کھاتے رہتے۔ فوق اور تحت کا ذکر دنیا کے جو خزانے ان پر کھولے جائیں گے ان میں مبالغہ کے اظہار کے لیے ہے۔ اس آیت کی مثال آیت : ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا ویرزقہ من حیث لا یحتسب (طلاق) اور جو خوش بخت) ڈرتارہتا ہے اللہ تعالیٰ سے بنا دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے نجات کا راستہ اور اسے (وہاں سے) رزق دیتا ہے جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔ آیت : وان لو استقاموا علی الطریقۃ لاسقینھم مآء غدقا (الجن) اگر وہ ثابت قدم رہیں راہ حق پر تو ہم انہیں سیراب کریں گے کثیر پانی سے۔ آیت : ولوان اھل القری امنوا واتقوا لفتحنا علیھم برکت من السمآء والارض (الاعراف : 96) اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور تقوی اختیار کرتے تو ضرور ہم کھول دیتے ان پر برکتیں آسمان کی اور زمین کی۔ اللہ تعالیٰ نے تقوی کو رزق کے اسباب میں سے بنایا ہے جیسا کہ ان آیات میں ہے اور مزید کا وعدہ ہے اس شخص کے لیے جس نے شکر ادا کیا۔ فرمایا : آیت : لئن شکرتم لازیدنکم (ابراہیم : 7) اگر تم ادا کرو گے تو میں تمہیں مزید دوں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ ان میں سے بعض اعتدال پسند ہیں وہ ان میں سے ایمان لانے والے ہیں جیسے نجاشی، سلمان اور عبداللہ بن سلام۔ یہ اعتدال پسند تھے انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں صرف وہ کہا ہے جو ان کی شان کے لائق ہیں۔ بعض علماء نے کہا : اقتصاد سے مراد وہ قوم لی ہے جو ایمان نہیں لائے تھے لیکن وہ اذیت دینے والے اور استہزا کرنے والے نہ تھے۔ واللہ اعلم۔ الاقتصاد سے مراد عمل میں اعتدال ہے۔ یہ القصد سے ہے القصد کا معنی ہے کسی چیز کو کرنا تو کہتا ہے : قصدتہ وقصدت لہ، وقصدت الیہ اس کا معنی ہے میں نے اس کا قصد کیا۔ سآء ما یعملون یعنی بہت برا ہے جو انہوں نے کیا ہے انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا، کتب میں تحریف کی اور حرام کھایا۔