5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 5:20–26

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا١ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:20 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ بھائیو تم پر خدا نے جو احسان کئے ہیں ان کو یاد کرو کہ اس نے تم میں پیغمبر پیدا کئے اور تمہیں بادشاہ بنایا۔ اور تم کو اتنا کچھ عنایت کیا کہ اہل عالم میں سے کسی کو نہیں دیا۔

یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَرْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:21 in the Quran reader

تو بھائیو ! تم ارض مقدس (یعنی ملک شام) جسے خدا نے تمہارے لئے لکھ رکھا ہے چل داخل ہو اور (دیکھنا مقابلے کے وقت) پیٹھ نہ پھیر دینا ورنہ نقصان میں پڑجاؤ گے۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّ فِیْهَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ١ۖۗ وَ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى یَخْرُجُوْا مِنْهَا١ۚ فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ Open ayah 5:22 in the Quran reader

وہ کہنے لگے موسیٰ وہاں تو بڑے زبردست لوگ (رہتے) ہیں اور جب تک وہ اس سر زمین سے نکل نہ جائیں تم وہاں جا نہیں سکتے ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم جا داخل ہونگے۔

قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْهِمُ الْبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ١ۚ۬ وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:23 in the Quran reader

جو لوگ (خدا سے) ڈرتے تھے ان میں سے دو شخص جن پر خدا کی عنایت تھی کہنے لگے کہ ان لوگوں پر دروازے کے راستے سے حملہ کردو۔ جب تم دروازے میں داخل ہوگئے تو فتح تمہاری ہے۔ اور خدا ہی پر بھروسا رکھو بشرطیکہ صاحب ایمان ہو۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ Open ayah 5:24 in the Quran reader

وہ بولے کہ موسیٰ جب تک وہ لوگ وہاں ہیں ہم کبھی وہاں نہیں جاسکتے (اگر لڑنا ہی ضرور ہے) تو تم اور تمہارا خدا جاؤ اور لڑو اور ہم یہیں بیٹھے رہیں گے۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 5:25 in the Quran reader

موسیٰ نے (خدا سے) التجا کی کہ پروردگار میں اپنے اور اپنے بھائی کے سوا کسی اور پر اختیار نہیں رکھتا تو ہم میں اور ان نافرمان لوگوں میں جدائی کردے۔

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۚ یَتِیْهُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:26 in the Quran reader

خدا نے فرمایا کہ وہ ملک ان پر چالیس برس تک کیلئے حرام کردیا گیا ہے (کہ وہاں جانے نہ پائیں گے اور جنگل کی) زمین میں سرگرداں پھرتے ہیں گے تو ان نافرمان لوگوں کے حلال پر افسوس نہ کرو۔

آیت نمبر : 20 تا 26۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واذ قال موسیٰ لقومہ یقوم اذکروا نعمۃ اللہ علیکم “۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیان ہے کہ ان کے اسلاف نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر سرکشی کی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمانی کی، اسی طرح انہوں نے حضرت محمد ﷺ کے اوپر سرکشی کی، یہ آپ ﷺ کو تسلی دینا ہے، یعنی اے ایمان والو ! اللہ کی نعمت کو یاد کرو، جو تم پر ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کو یاد کرو، حضرت عبداللہ بن کثیر (رح) سے مروی ہے کہ انہوں نے یا قوم اذکروا “۔ (میم کے ضمہ کے ساتھ) پڑھا ہے اسی طرح جو اس کے مشابہ ہیں تقدیر یا ایھا القوم ہے۔ (آیت) ” اذ جعل فیکم انبیآء “ انبیاء غیر منصرف ہے کیونکہ اس میں الف تانیث ہے۔ (آیت) ” وجعلکم ملوکا “۔ یعنی تم پہلے فرعون کے غلام اور ان کے ہاں مجبور تھے اس کے بعد اب تم اپنے معاملہ کے مالک ہو اس معاملہ میں تم پر کوئی غالب نہیں ہے، اس نے تمہیں غرق سے نجات دی، پس وہ اس وجہ سے بادشاہ ہیں۔ سدی (رح) حسن (رح) وغیرہ نے اسی طرح تفسیر کی ہے۔ سدی (رح) نے کہا : ان میں سے ہر ایک اپنے نفس، اہل اور مال کا مالک ہوا۔ (1) (زادالمسیر، جلد 2، صفحہ 190) قتادہ ؓ نے کہا : (آیت) ” وجعلکم ملوکا “۔ فرمایا ہم بیان کرتے تھے کہ بنی آدم میں سے یہ پہلے تھے جن سے خدمت لی گئی تھی، (2) تفسیر طبری، جلد 6، صفحہ 202) ابن عطیہ (رح) نے کہا : یہ ضیعف ہے، کیونکہ قبطی لوگ بنی اسرائیل سے خدمت لیتے تھے، بنی آدم کے امر کا ظاہر یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے مسخر تھے جب سے ان کی نسل بڑھی اور ان کی تعداد زیادہ ہوگئی، تملیک کے معنی میں علماء کا اختلاف ہے (3) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 173 دارالکتب العلمیہ) بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے اس نے تمہیں منازل والا بنایا تم پر بغیر اجازت کے کوئی داخل نہیں ہوتا یہ مفہوم اہل علم کی ایک جماعت سے مروی ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جب کوئی شخص کسی کے گھر میں بغیر اجازت کے داخل نہیں ہوتا تو وہ اس گھر کا مالک ہے، حسن اور زید بن اسلم سے بھی یہ مروی ہے کہ جس کا گھر، بیوی اور خادم ہو وہ مالک ہے۔ یہ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کا قول ہے جیسا کہ علم میں ابو عبدالرحمن حنبلی (رح) سے مروی ہے فرمایا : میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کو سنا جب کہ ان سے ایک شخص نے پوچھا۔ اس نے کہا کیا ہم فقراء مہاجرین میں سے نہ تھے ؟ حضرت عبداللہ نے اسے کہا : کیا تیری بیوی ہے، جس کے پاس تو رات گزارتا ہے ؟ اس نے کہا : ہاں۔ فرمایا : کیا تیرے لیے کوئی منزل ہے جس میں تو رہتا ہے ؟ اس نے کہا : ہاں۔ حضرت عبداللہ نے کہا : انت من الاغنیاء تو غنی لوگوں میں سے ہے، اس نے کہا : میرا خادم بھی ہے، حضرت عبداللہ ؓ نے کہا تو ملوک میں سے ہے، ابن عربی (رح) نے کہا : اس کا فائدہ یہ ہے کہ جب آدمی پر کفارہ واجب ہوتا ہے اور وہ گھر اور خادم کا مالک ہوتا ہے تو ان دونوں چیزوں کو کفارہ میں بیچا جائے گا اس کے لیے روزہ رکھنا جائز نہیں، کیونکہ وہ رقبہ (غلام) پر قادر ہے اور ملوک روزہ کے ساتھ کفار ادا نہیں کرسکتے اور غلام آزاد کرنے سے عاجز تصور نہیں ہوتے۔ (4) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 588) حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد ؓ نے کہا : ان کو من وسلوی کے ساتھ ملوک بنایا اور پتھر سے پانی نکالنے اور بادل سے سایہ کرنے کے ساتھ انہیں ملوک بنایا۔ (5) (زادالمسیر، جلد 2، صفحہ 190) یعنی وہ ملوک کی طرح مخدوم تھے، حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ خادم اور منزل کے ساتھ ملوک بنایا، مجاہد، عکرمہ اور حکم بن عیینۃ رحمۃ اللہ علیہم کا یہی قول ہے اور انہوں نے زوج کا اضافہ کیا ہے، اسی طرح زید بن اسلم نے فرمایا : مگر انہوں نے کہا نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے کہ جس کا گھر ہو یا فرمایا منزل ہو وہ اس کی طرف پناہ لیتا ہو، بیوی ہو، خادم ہو۔ (6) (تفسیر ماوردی، جلد 2، صفحہ 25) جو اس کی خدمت کرتا ہو تو وہ مالک ہے، یہ نحاس نے ذکر کیا ہے، کہا جاتا ہے، جو غیر سے مستغنی ہو وہ مالک ہے یہ اس طرح ہے جس طرح نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : من اصبح امنافی سربہ معافی فی بدنہ ولہ قوت یومہ فکانما حیزت لہ الدنیا بخذا فیرھا (1) (جامع ترمذی، کتاب الزہد، جلد 2، صفحہ 58، ایضا ابن ماجہ، حدیث نمبر 4130، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واتکم ‘ یعنی اس نے تمہیں عطا کیا (آیت) ” مالم یؤت احد من العلمین “۔ جمہور مفسرین کے قول میں یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے اپنی قوم کو خطاب ہے، یہی کلام کی وجہ سے، مجاہد (رح) نے کہا : ایتاء سے مراد من وسلوی، پتھر سے پانی نکالنا اور بادلوں سے سایہ کرنا ہے، بعض علماء نے فرمایا : ان میں انبیاء کی کثرت تھی، اور وہ آیات جو انکے پاس آئیں وہ مراد ہیں، بعض نے فرمایا : کھوٹ اور غش سے پاک دل مراد ہے، بعض نے فرمایا : غنائم کا حلال کرنا اور ان سے نفع اٹھانا مراد ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ قول مردود ہے، کیونکہ مال غنیمت کسی امت کے لیے حلال نہیں تھا، سوائے اس امت محمد یہ کے جیسا کہ صحیح میں ثابت ہے اس کا بیان انشاء اللہ آگے آئے گا، یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے کلام ہے انکے نفوس کو مطمئن کرنے کے لیے تاکہ قوت حاصل کریں اور جبارین کی زمین میں داخل ہونے کے امر کو مضبوطی سے پکڑی اور اس شخص کی طرح ان کا نفوذ ہو جس کو اللہ تعالیٰ عزت دیتا ہے اور اس کی شان کو بلند کرتا ہے۔ (آیت) ” من العلمین “ یعنی تمہارے زمانہ کے لوگ۔ حسن سے مروی ہے، ابن جبیر، اور ابو مالک نے کہا : یہ خطاب حضرت محمد ﷺ کی امت کو ہے (2) (زاد المسیر جلد 2، صفحہ 191) یہ ظاہر کلام سے عدول ہے جو مستحسن نہیں ہے، اخبار متفق ہیں کہ دمشق جبارین کا مکان تھا، (آیت) ” المقدسۃ “ اس کا معنی مطھرۃ ہے، مجاہد نے کہا : اس کا معنی مبارکہ ہے۔ البرکۃ قحط اور بھوک سے پاک کرنا ہے، قتادہ نے کا ہ : یہ شام کا ملک ہے، مجاہد (رح) نے کہا : طور اور اس کے اردگرد کا علاقہ ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، سدی (رح) اور ابن زید (رح) نے کہا : یہ اریحاء ہے، زجاج نے کہا : دمشق، فلسطین اور اردن کا بعض علاقہ ہے۔ (3) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 174 دارالکتب العلمیہ) قتادہ ؓ کا قول ان تمام کا جامع ہے۔ (آیت) ” التی کتب اللہ لکم “ یعنی تم پر اس میں داخل ہونا فرض کیا ہے اور تمہارے اس میں داخل ہونے کا وعدہ کیا ہے، تمہارے لیے اس میں ٹھہرنے کا وعدہ کیا ہے، جب بنی اسرائیل مصر سے نکلے تو انہیں اہل اریحاء سے جہاد کرنے کا حکم ملا جو فلسطین کے شہروں میں سے ہے تو انہوں نے کہا : ہمیں تو ان شہروں کا علم ہی نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے امر کے ساتھ بارہ نقیب (سردار) بھیجے ہر قبیلہ سے ایک شخص تھا وہ اخبار کو تلاش کرتے تھے جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے، پس انہوں نے عمالقہ میں جبارین کو دیکھا وہ بڑے خوفناک جسموں والے تھے حتی کہ یہاں تک کہا گیا ہے کہ بعض نے ان نقباء کو دیکھا تو انہیں اپنی آستین میں لے لیا جب کہ ایک پھل بھی ساتھ تھا جو اس نے اپنے باغ سے توڑا تھا وہ ان نقباء کو لے کر آیا اور اپنے بادشاہ کے سامنے بکھیر دیا اور کہا : یہ لوگ ہم سے لڑنے کا ارادہ کرتے ہیں، بادشاہ نے انہیں کہا : تم اپنے ساتھی کی طرف لوٹ جاؤ اور انہیں ہماری خبر بتاؤ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے، بعض نے کہا : جب وہ لوٹ کر گئے تو انہوں نے اس علاقہ کے انگوروں میں سے ایک گچھا لیا، بعض علماء نے کہا : اسے ایک شخص نے اٹھایا، بعض نے کہا : اسے بارہ نقباء نے اٹھایا۔ میں کہتا ہوں : یہ اشبہ ہے کہا جاتا ہے : جب وہ جبارین تک پہنچے تو انہوں نے انہیں دیکھا ان میں سے دو آدمی انکے ایک آدمی کی آستین میں داخل ہوتے ان کے انگوروں کا گچھا نہ اٹھایا جاتا مگر پانچ آدمی لکڑی میں اٹھاتے تھے اور انار کا دانہ جب وہ اند سے خالی کیا جاتا تو پانچ یا چار آدمی داخل ہوتے، (علامہ آلوسی نے کہا : یہ سب خرافات ہیں) میں کہتا ہوں : اس میں اور پہلے قول میں تعارض نہیں، کیونکہ وہ جابر جس نے انہیں آستین میں لیا تھا، کہا جاتا ہے، : گود میں لیا تھا، وہ عوج بن عناق تھا وہ سب سے دراز قامت تھا اور بڑے جسم والا تھا جیسا کہ آگے ذکر آئے گا، تمام لوگوں کا طول ساڑھے چھ ہاتھ تھا، کلبی نے کہا : ان میں سے ہر ایک کا طول اسی ہاتھ تھا جب ان نقباء نے خبر پھیلا دی سوائے یوشع اور کالب بن یوقنا کے تو بنی اسرائیل، جہاد سے رک گئے انہیں چالیس سال تیہ میں عذاب دیا گیا یہاں تک کہ نافرمان مر گئے اور ان کی اولاد بڑھی پھر انہوں نے جبارین سے قتال کیا اور وہ ان پر غالب آگئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولا ترتدوا علی ادبارکم “۔ یعنی تم میری اطاعت سے نہ لوٹو اور جو میں نے تمہیں جبارین سے قتال کرنے کا حکم دیا ہے اس سے نہ لوٹو۔ بعض علماء نے فرمایا : اللہ کی طاعت سے معصیت کی طرف نہ لوٹو، معنی ایک ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” قالو یموسی ان فیھا قوما جبارین “۔ یعنی بڑے بڑے جسموں والے، لمبے لمبے قد والے ہیں یہ پہلے گزر چکا ہے، کہا جاتا ہے : نخلۃ جبارۃ یعنی طویل کھجور، الجبار جو عظمت والا ہو، فقر اور ذلت سے محفوظ ہو، زجاج نے کہا : آدمیوں میں جبار اسے کہتے ہیں جو سرکش ہو جو لوگوں پر اپنے ارادہ کے مطابق جبر کرتا ہو، اس بنا پر اس کی اصل الاجبار سے ہوگی جس کا معنی مجبور کرنا ہے، کیونکہ وہ اپنے ارادہ کے مطابق دوسروں کو مجبور کرتا ہے، اجبرہ اس نے اسے مجبور کیا بعض نے فرمایا : یہ جبر العظم سے مشتق ہے پس اس بنا پر جبار کی اصل اپنے امر کی اصلاح کرنے والا ہوگا پھر ہر اس شخص کے لیے استعمال ہونے لگا جو اپنے لیے نفع حاصل کرتا ہے خواہ حق کے ساھ ہو یا باطل کے ساتھ ہو، بعض نے فرمایا : جبر العظم بھی اکراہ کے معنی کی طرف راجع ہے، فراء نے کہا : میں نے فعال، افعل سے نہیں سنا مگر دو حرفوں سے جبار، من اجبر دراک من ادرک، پھر کہا گیا یہ بقایا عاد سے تھے، بعض نے فرمایا : یہ عیصوابن اسحاق کی اولاد سے تھے اور یہ روم سے تھی اور ان کے ساتھ عوج اعنق تھا، اس کا قد تین ہزار تین سو تینتیس ہاتھ تھا، یہ حضرت ابن عمر کا قول ہے، وہ اپنی کھونٹی سے بادل میں سوراخ کرتا تھا اور اس سے پانی پیتا تھا اور وہ سمندر کی تہ سے مچھلی پکڑتا تھا اور سورج کے قریب کرکے اسے بھون لیتا تھا اور پھر کھاتا تھا، طوفان نوح آیا تو وہ اس کے گھٹنے سے اوپر نہ ہوا تھا، اس کی عمر تین ہزار چھ سو سال تھی، اس نے جب اتنی بڑی چٹان اکھیڑی جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لشکر کی مقدار تھی تاکہ وہ ان پر مارے تو اللہ تعالیٰ نے ایک پرندہ بھیجا جس نے اس چٹان کو کاٹ دیا وہ چٹان اس کی گردن پر گری اور اسے گرا دیا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آئے جب کہ ان کا قد دس ہاتھ تھا اس کا عصا دس ہاتھ تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دس ہاتھ اور بلند ہوئے مگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) عوج کے ٹخنے تک پہنچے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا اسے لگا تو وہ مقتول ہوگیا، بعض نے کہا : آپ کا عصا اس کے ٹخنے کے نیچے والی رگ پر لگا تو وہ گرگیا اور مرگیا اور وہ مصر کے دریا نیل پر گرا ایک سال لوگوں نے اسے بطور پل استعمال کیا، اس مفہوم کو مختلف الفاظ کے ساتھ محمد بن اسحاق، طبری، اور مکی رحمۃ اللہ علیہم وغیرہ نے ذکر کیا ہے کلبی نے کہا : عوج، ہاروت وماروت کی اولاد سے تھا جب انہوں نے عورت سے برائی کی تھی اور وہ عورت حاملہ ہوگئی تھی، (ا) (یہ قول علم کلام کی تحقیقات کے خلاف ہے، مترجم) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وانا لن ندخلھا “۔ یعنی ایلیاء کا شہر اور کہا جاتا ہے : اریحاء (آیت) ” حتی یخرجوا منھا “۔ حتی کہ وہ شہر بغیر قتال کے ہمارے حوالے کردیں، بعض علماء نے فرمایا : یہ انہوں نے جبارین کے خوف کی وجہ سے کہا تھا اور انہوں نے نافرمانی کا قصد نہیں کیا تھا، کیونکہ انہوں نے کہا تھا ؛ (آیت) ” فان یخرجوا منھا فانا دخلون “۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” قال رجلن من الذین یخافون “۔ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ نے کہا : یہ یوشع اور کالب بن یوقنا تھے (1) (زادالمسیر، جلد 2، صفحہ 193) ابن قانیا بھی کہا جاتا تھا یہ دونوں بارہ نقیبوں میں سے تھے، (آیت) ” یخافون “۔ یعنی وہ جبارین سے ڈرتے تھے، قتادہ نے کہا : وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے، ضحاک نے کہا : وہ دونوں افراد جبارین کے شہر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دین پر تھے (2) (تفسیر طبری، جلد 6، صفحہ 214) اس بنا پر (آیت) ” یخافون کا معنی ہوگا وہ عمالقہ سے ڈرتے تھے طبعی حیثیت سے تاکہ وہ ان کے ایمان پر مطلع نہ ہوجائیں اور وہ انہیں فتنہ میں مبتلا کریں لیکن وہ اللہ پر یقین رکھتے تھے، بعض علماء نے فرمایا : وہ بنی اسرائیل کے ضعف اور ان کی بزدلی کا خوف رکھتے تھے، مجاہد اور ابن جبیر، نے ” یخافون “ یا کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم سے نہ تھے۔ (آیت) ” انعم اللہ علیھما “۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر اسلام یا یقین اور صلاح کا انعام فرمایا۔ (آیت) ” ادخلوا علیھم الباب فاذا دخلتموہ فانکم غلبون “۔ ان دونوں نے بنی اسرائیل کو یہ کہا کہ ان کے جسموں کی بڑائی تمہیں خوف میں نہ ڈالے، ان کے دل تمہاری وجہ سے رعب سے بھرے ہوئے ہیں، ان کے اجسام بڑے ہیں اور دل کمزور ہیں وہ جان چکے تھے کہ جب وہ اس دروازہ سے داخل ہوں گے تو غلبہ انہیں ہوگا، یہ بھی احتمال ہے کہ ان دونوں نے یہ اللہ کے وعدہ پر یقین کی بنا پر کہا تھا پھر ان دونوں نے کہا : (آیت) ” وعلی اللہ فتوکلوا ان کنتم مؤمنین “۔ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی تصدیق کرنے والے ہو کہ وہ تمہاری مدد کرے گا، پھر پہلے قول کی بنا پر کہا گیا کہ جب ان دونوں نے یہ کہا تو بنو اسرائیل نے ان دونوں کو رجم کرنے کا ارادہ کیا، انہوں نے کہا : ہم تمہاری تصدیق کریں اور ہم دس افراد کا قول چھوڑ دیں، پھر انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : (آیت) ” انا لن ندخلھا ابدا ما داموا فیھا “۔ یہ قتال سے خالص عناد ہے اور نصرت سے مایوسی ہے، پھر وہ رب تبارک وتعالیٰ کی صفت سے جاہل تھے، انہوں نے کہا : (آیت) ” فاذھب انت وربک “۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا آنے جانے کے ساتھ وصف بیان کیا، اللہ تعالیٰ اس سے بلند وبالا ہے یہ دلیل ہے کہ وہ مشبہۃ تھے، یہ حسن کے قول کا معنی ہے، کیونکہ انہوں نے کہا : یہ ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کا انکار ہے، اس کلام کے معنی میں یہ ظاہر ہے، بعض علماء نے کہا : یعنی تیرے رب کا تیری مدد کرنا، ہماری مدد کرنے سے زیادہ احق ہے اور اس کا تیرے ساتھ قتال کرنا، اگر تو اس کا رسول ہے۔ ہمارے قتال سے اولی ہے، یہ ان کی طرف سے کفر تھا، کیونکہ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت میں شک کیا، بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے کہ تو جا اور قتل کر اور تیرا رب تیری مدد کرے، بعض نے کہا : انہوں نے رب سے مراد حضرت ہارون (علیہ السلام) لیے تھے، وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بڑے تھے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کی اطاعت کرتے تھے، بہرحال انہوں نے اپنے قول سے فسق کا ارتکاب کیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” فلا تاس علی القوم الفسقین “۔ یعنی ان پر غمگین نہ ہوں۔ (آیت) ” انا ھھنا قعدون “۔ ہم یہاں رہیں گے اور ہم قتال نہیں کریں گے، قاعدین حال کی بنا پر جائز ہے، کیونکہ کلام اس سے پہلے مکمل ہوچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” قال رب انی لا املک الا نفسی واخی “۔ کیونکہ وہ انکی اطاعت کرتے تھے، بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے میں صرف اپنے نفس کا مالک ہوں، پھر کلام کی ابتدا فرمائی اور فرمایا : (آیت) ” واخی “ یعنی میرا بھائی (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 176 دارالکتب العلمیہ) صرف اپنے نفس کا مالک ہے۔ (آیت) ” اخی “ پہلے قول کی بنا پر نفسی پر عطف کی بنا پر محل نصب میں ہے اور دوسرے قول کی بنا پر محل رفع میں ہے۔ اگر تو چاہے تو ان کے اسم پر عطف کرے اور وہ یا ضمیر ہے یعنی میں اور میرا بھائی ہم صرف اپنے نفسوں کے مالک ہیں اگر تو چاہے تو املک میں جو ضمیر مضمر ہے اس پر عطف کرے گویا فرمایا : لا املک انا واخی الا انفسنا ‘۔ میں اور میرا بھائی صرف اپنے نفسوں کے مالک ہیں۔ (آیت) ” فافرق بیننا وبین القوم الفسقین “۔ کہا جاتا ہے : کہا جاتا ہے : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے اور اس قوم کے درمیان جدائی کا سوال کیوں کیا ؟ اس کے کئی جوابات ہیں۔ (1) کیونکہ وہ حق سے بہت دور تھے اور انہوں نے جو عصیاں کا ارتکاب کیا تھا اس کی وجہ سے وہ صواب سے بہت دور چلے گئے تھے، اسی وجہ سے وہ تیہ میں ڈالے گئے۔ (2) تمیز طلب کرنے کے لیے یعنی ہمیں ان کی جماعت سے علیحدہ کردے اور ہمیں انکے ساتھ عقاب میں لاحق نہ کر، بعض نیف رمایا : اس کا معنی ہے ہمارے درمیان اور انکے درمیان فیصلہ فرما، یا ہمیں اپنی عصمت کے ساتھ اس نافرمانی سے محفوظ کرلے جس میں تو نے انہیں مبتلا کیا ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فیھا یفرق کل امر حکیم “۔ (الدخان) (آیت) ” یفرق “ بمعنی یقضی ہے، اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی کیا جب انہیں تیہ میں مار ڈالا، بعض علماء نے فرمایا : اس نے آخرت میں یہ فیصلہ کرنے کا ارادہ فرمایا : یعنی ہمیں جنت میں کردے اور ہمیں ان کے ساتھ آگ میں نہ ڈال فرق جو احوال میں مباعدہ (ووری) پر دلالت کرتا ہے اس پر شاہد شاعر کا قول ہے : یا رب فافرق بینہ وبینی اشد ما فرقت بین اثنین : ابن عیینہ نے عمو بن دینار سے انہوں نے عبید بن عمیر سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فافرق را کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” قال فانھا محرمۃ علیھم اربعین سنۃ یتیھون فی الارض “۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا قبول فرمائی اور انہیں تیہ میں چالیس سال سزا دی، التیہ کا اصل معنی لغت میں حیرت ہے، تاہ یتبہ تیھا وتوھا حیران ہونا، توھتہ یا اور واؤ کے ساتھ ہے اور یا زیادہ ہے، الارض التیھاء ایسی زمین جس میں ہدایت و راستہ نہ ملے، ارض تیہ وتیھاء اس سے شاعر کا قول ہے : تیہ اتاویہ علی السقاط : ایک اور شاعر نے کہا : بیتھاء قفر والمطی کا نھا قطا الحزن قد کا نت فراخا بیوضھا : بنی اسرائیل تھوڑے سے فراسخ چلتے تھے، بعض نے فرمایا : چھ فراسخ کی مقدار چلتے تھے، دن اور رات میں، صبح وہیں ہوتے تھے جہاں شام کو ہوتے تھے اور وہ شام کو وہاں ہوتے جہاں وہ صبح کو ہوتے تھے اور چلتے رہتے تھے انہیں قرار نہیں تھا اس میں اختلاف ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہما السلام) ان کے ساتھ تھے یا نہیں ؟ بعض نے فرمایا ہو وہ ساتھ نہیں تھے، کیونکہ تیہ سزا تھی اور تیہ کے ساتھ بچھڑنے کے ایام کی تعداد کے برابر تھے، ہر دن کے مقابلہ میں ایک سال رکھا گیا فرمایا : (آیت) ” فافرق بیننا وبین القوم الفسقین “۔ بعض نے فرمایا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) ان کے ساتھ تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان پر معاملہ آسان کردیا تھا، جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر آگ کو ٹھنڈا اور سلامتی والا کردیا تھا، اور محرمۃ کا معنی ہے انہیں اس میں داخل ہونے سے روکا گیا تھا جیسے کہا جاتا ہے ،: حرم اللہ وجھک علی النار۔ اللہ تعالیٰ تیرے چہرے کو آگ سے محفوظ کرے، حرمت علیک دخول الدار “ ، تجھ پر گھر میں داخلہ ممنوع ہے۔ یہ تحریم منع ہے نہ تحریم شرع یہ اکثر اہل تفسیر سے مروی ہے جیسا کہ شاعر نے کہا : جالت لتصرعنی فقلت لھا اقصری انی امرء صرعی علیک حرام : یعنی میں شہسوار ہوں مجھے پچھاڑنا ممکن نہیں۔ ابو علی نے کہا : یہ بھی جائز ہے کہ یہ تحریم تعبد ہو، کہا جاتا ہے ،: یہ عقلاء کی ایک جماعت کے بارے میں کہنا کیسے جائز ہے کہ وہ چند فرسخ چلیں اور وہ اس سے نکلنے کی راہ نہ پائیں ؟ اس کا جواب ابو علی نے یہ دیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس زمین کو پھیر دیتا ہو جس پر وہ تھے جب وہ ہوتے ہوں اور انہیں وہ اس جگہ کی طرف لوٹا دیتا ہو جس سے انہوں نے آغاز کیا ہو، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بطور معجزہ اشتباہ اور خروج سے مانع اسباب پیدا کردیئے ہوں۔ اربعین، التیہ کے لیے ظرف زمان ہے، یہ حسن ؓ اور قتادہ ؓ کا قول ہے اور انہیں نے کہا : ان میں سے کوئی وہاں اس عرصہ میں داخل نہ ہوا، اس صورت میں علیھم پر وقف ہوگا، ربیع بن انس وغیرہ نے کہا : کہ (آیت) ” اربعین سنۃ “۔ تحریم کی ظرف ہے۔ (1) (زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 195) اس بنا پر اربعین سنۃ پر وقف ہوگا پہلی صورت میں معنی ہوگا کہ ان کی اولاد وہاں داخل ہوئی، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے اور ان میں سے کوئی نہ بچا مگر یوشع اور کالب، یوشع ان کی اولاد کے ساتھ اس شہر کی طرف نکالا اور اس شہر کو فتح کیا دوسری صورت میں مفہوم یہ ہوگا کہ چالیس سال بعد جوان میں سے باقی تھے وہ اس شہر میں داخل ہوئے، حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہما السلام) تیہ میں ہی فوت ہوگئے تھے (2) (تفسیر طبری، جلد 6، صفحہ 220) دوسرے علماء نے کہا : اللہ تعالیٰ نے یوشع کو نبوت بخشی اور انہیں جبارین سے قتال کرنے کا حکم دیا اس پر سورج کو روک دیا گیا تھا حتی کہ وہ شہر میں داخل ہوئے اس میں وہ جلایا گیا جس کے پاس مال غنیمت پایا گیا تھا پہلے لوگ جب مال غنیمت حاصل کرتے تو آسمان سے ایک سفید آگ نازل ہوتی اور وہ مال غنیمت کو کھاجاتی یہ اس کی قبولیت کی دلیل ہوتی تھی اگر جس مال غنیمت میں خیانت ہوتی تھی تو آگ اس مال کو نہ کھاتی تھی، درندے اور وحشی آتے تھے اور وہ اسے کھاتے تھے پس آگ نازل ہوئی اور اس نے مال غنیمت کو نہ کھایا، یوشع نے کہا : تم میں خیانت ہے، ہر قبیلہ میری بیعت کرے پس ہر قبیلہ نے اس کی بیعت کی، ان میں سے ایک شخص کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا، آپ نے فرمایا : تیرے پاس خیانت کا مال ہے اس نے گائے کے سر کی مقدار سونا نکالا پھر آگ نازل ہوئی اور مال غنیمت کو کھاگئی وہ آگ چاندی کی مثل سفید ہوتی تھی اس کی آواز ہوتی تھی جیسے درخت کی آواز ہوتی ہے اور پرندے کے پروں کی آواز ہوتی ہے اور علماء بیان کرتے ہیں کہ اس ہوا نے اس خیانت کرنے والے اور اس کے مال کو جلا دیا اب اسے غور عاجز کہا جاتا ہے وہ غال (خیانت کرنے والے) کے نام سے پہچانا گیا، اس کا نام عاجز تھا۔ میں کہتا ہوں : اس سے ہم سے پہلے خیانت کرنے والے کی سزا مستفاد ہوتی ہے، ہماری ملت میں مال غنیمت کا حکم گزر چکا ہے، صحیح حدیث جو رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے اس میں اس نبی کا اسم اور مال غنیمت کا بیان نہیں ہے، حدیث میں ہے غزابی من الانبیاء ایک نبی نے جنگ لڑی۔ اس حدیث کو مسلم نے تخریج کیا ہے اس میں ہے فرمایا : ” انہوں نے حملہ کیا پس وہ اس شہر کے قریب عصر کی نماز کے وقت پہنچے یا اس کے قریب وقت تھا، اس نبی نے سورج کو فرمایا : تو بھی حکم کا پابند ہے اور میں بھی پابند ہوں اے اللہ ! تھوڑا اسے مجھ پر روک لے پس سورج اس پر روک لیا گیا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح عطا فرمائی، فرمایا : انہوں نے مال غنیمت جمع کیا تو آگ اسے کھانے کے لیے نہ آئی اور آگ نے اسے کھانے سے انکار کردیا اس نبی نے فرمایا تم میں خیانت ہے ہر قبیلہ سے ایک شخص میری بیعت کرے، انہوں نے بیعت کی، فرمایا : دو یا تین آدمیوں کا ہاتھ چمٹ گیا، یوشع نے فرمایا : ” تم میں خیانت ہے “ (1) (صحیح مسلم، کتاب الجہاد السیر جلد 2، صفحہ 85) پہلے کی طرح ذکر کیا، ہمارے علماء نے فرمایا : اہل اریحاء کے ساتھ جنگ کے وقت سورج کو روکنے اور جمعہ کے دن پچھلے ٹائم فتح کے قریب ہونے، فتح سے پہلے سورج کے قروب ہونے حضرت یوشع (علیہ السلام) کے ڈرنے میں حکمت یہ تھی کہ اگر ان پر سورج نہ روکا گیا تو ہفتہ کی وجہ سے ان پر جنگ حرام ہوجائے گی، ان کے دشمن کو انکی خبر ہوجائے گی پس انہوں نے ان میں تلوار چلائی اور انہوں جڑ سے اکھیڑ دیا، یہ حضرت یوشع (علیہ السلام) کی نبوت کی علامت تھی، اس کے بعد کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی خبر سے ان کی نبوت ثابت ہوچکی تھی، واللہ اعلم۔ حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا : ” ہم سے پہلے کسی امت کے لیے مال غیمت حلال نہیں تھا “۔ (2) (صحیح مسلم، کتاب الجہاد السیر جلد 2، صفحہ 85) اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ضعف اور عجز کو دیکھا پھر ہمارے لیے اسے حلال کردیا، یہ اس شخص کے قول کا رد ہے۔ جو (آیت) ” واتکم مالم یؤت احدا من العلمین “۔ کی تاویل میں کہتے ہیں کہ اس سے مراد مال غنیمت کو حلال کرنا اور ان سے نفع اٹھانا ہے۔ ان علماء سے جنہوں نے کہا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تیہ میں فوت ہوئے تھے ان میں عمرو بن میمون اودی ہے، اس نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کا بھی زائد ذکر کیا ہے دونوں حضرات تیہ میں کسی غار کی طرف نکلے، حضرت ہارون (علیہ السلام) کا وصال ہوگیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں دفن کردیا اور پھر بنی اسرائیل کی طرف لوٹ آئے، انہوں نے کہا : حضرت ہارون (علیہ السلام) کا کیا ہوا ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : وہ فوت ہوگئے ہیں، بنی اسرائیل نے کہا : تم نے جھوٹ بولا ہے، لیکن تو نے قتل کیا ہے، کیونکہ ہم اس سے محبت کرتے تھے، وہ بنی اسرائیل میں محبوب تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی فرمائی کہ لوگوں کو حضرت ہارون (علیہ السلام) کی قبر کی طرف لے چلو، میں انہیں اٹھاؤں گا حتی کہ وہ خود انہیں بتائیں گے کہ وہ فوت ہوچکے ہیں اور تو نے اسے قتل نہیں کیا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہیں حضرت ہارون (علیہ السلام) کی قبر کی طرف لے گئے پھر ندا دی : اے ہارون ! وہ قبر سے نکل آئے جب کہ اپنے سر کو جھاڑ رہے تھے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا میں تمہارا قاتل ہوں ؟ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے کہا : نہیں، لیکن میں فوت ہوگیا ہوں : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : اپنی آرام گاہ کی طرف لوٹ جا، تو وہ واپس چلے گئے حسن نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تیہ میں وصال نہیں فرمایا تھا، ان کے علاوہ علماء نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اریحاء فتح کیا تھا اور یوشع لشکر کے مقدمہ پر تھے پس انہوں نے وہاں کے۔۔۔۔ لوگوں سے قتال کیا، پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ساتھ اریحاء میں داخل ہوئے اور وہاں ٹھہرے رہے جتنا کہ اللہ نے ان کا ٹھہرنا چاہا، پھر اللہ تعالیٰ نے انکی روح قبض فرمالی ان کی قبر کو کوئی نہیں جانتا، ثعلبی نے کہا : یہ قول اصح ہے۔ میں کہتا ہوں : مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : ملک الموت کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف بھیجا گیا جب عزائیل (علیہ السلام) آئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں طمانچہ مارا اور ان کی آنکھ پھوڑ دی ملک الموت اپنے رب کی بارگاہ میں لوٹ آئے اور عرض کی : تو نے مجھے ایسے بندے کی طرف بھیجا ہے جو موت کا ارادہ نہیں کرتا، فرمایا اللہ تعالیٰ نے مالک الموت کو آنکھ لوٹا دی اور فرمایا : ان کی طرف دوبارہ جاؤ انہیں کہو کہ بیل کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ رکھو ان کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے ہر بال کے بال کے بدلے ایک سال عمر ہوگی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : اے میرے پروردگار ! پھر کیا ہوگا ؟ فرمایا پھر موت ہوگی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : پھر ابھی موت دے دے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ نے سوال کیا کہ وہ اسے بیت المقدس کے پتھر پھینکنے کی مقدار قریب کر دے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اگر میں وہاں ہوتا تو میں تمہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قبر راستہ کی جانب سرخ ٹیلے کے نیچے دکھاتا “۔ (1) (صحیح مسلم کتاب الفضائل، جلد 2، صفحہ 267) ہمارے نبی مکرم ﷺ کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قبول معلوم تھی آپ نے اس کی جگہ بیان فرمائی اور آپ ﷺ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قبر میں نماز پڑھتے دیکھا جیسا کہ حدیث الاسرا میں ہے مگر یہ احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قبر کو آپ کے علاوہ مخلوق سے مخفی رکھا ہو اور لوگوں کے لیے اس کو مشہور نہ کیا ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی عبادت شروع ہوجائے، طریق (راستہ) سے مراد بیت المقدس کا راستہ ہے اور طریق کے لفظ کی جگہ جانب الطور کے الفاظ ہیں، علماء نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ملک الموت کو طمانچہ مارنے اور ان کی آنکھ پھوڑنے کی تاویل میں اختلاف کیا ہے ایک قول یہ ہے کہ آنکھ خیالی ہے حقیقی نہیں، یہ باطل ہے، کیونکہ یہ نظریہ اس طرف لے جاتا ہے کہ انبیاء کرام جو ملائکہ کی صورتیں دیکھتے ہیں ان کی حقیقت نہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ وہ معنوی آنکھ تھی، حجت کے ساتھ اس کو پھوڑا، یہ مجاز ہے حقیقت نہیں، تیسرا قول یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ملک الموت کو نہیں پہچانا، انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو بغیر اجازت کے انکے گھر میں داخل ہوا ہے وہ ان کی جان کا ارادہ کرتا ہے پس آپ نے اپنے نفس کا دفاع کیا اور اسے طمانچہ مارا اور اس کی آنکھ پھوڑ دی ہر ممکن کے ساتھ ایسی صورت مدافعت واجب ہے، یہ بہتر قول ہے کیونکہ آنکھ اور طمانچہ میں حقیقت ہے، یہ قول امام ابوبکر بن خزیمہ (رح) نے کہا : مگر ان پر اعتراض کیا گیا اس قول کی بنا پر جو حدیث میں ہے، وہ یہ ہے کہ ملک الموت جب اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر گئے تو کہا یا رب تو نے مجھے ایسے بندے کی طرف بھیجا ہے جو موت کو نہیں چاہتا (1) (صحیح مسلم کتاب الفضائل، جلد 2، صفحہ 267) اگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں نہ پہچانا ہوتا تو ملک الموت کا قول سچا نہ ہوگا، اس طرح دوسری روایت میں ہے عزرائیل (علیہ السلام) نے کہا تھا اپنے رب کے حکم کا جواب دو یہ دلیل ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ملک الموت کو پہچانا تھا۔ واللہ اعلم۔ تیسرا قول یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بہت جلد غصہ میں آنے والے تھے، جب وہ غصہ میں ہوتے تھے تو ان کی ٹوپی سے دھواں نکلتا تھا اور ان کے بدن کے بال کھڑے ہوجاتے تھے، سرعت غضب کی وجہ سے انہوں نے ملک الموت کو طمانچہ مارا ابن عربی نے کہا : یہ اس طرح ہے جس طرح تو نے ملاحظہ کیا، کیونکہ انبیاء کرام معصوم ہوتے ہیں اس سے کہ ابتداء ان سے حالت رضا اور غصب میں اس کی مثل واقع ہو ،۔ چوتھا قول یہ ہے : اور یہ ان تمام اقوال سے صحیح ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ملک الموت کو پہچانا تھا کہ وہ ان کی روح قبض کرنے کے لیے آئے ہیں لیکن وہ پختہ کام کرنے والے کی طرح آئے تھے کہ بغیر تخییر کے انہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی روح قبض کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس وہ بات تھی جس پر ہمارے نبی مکرم ﷺ نے نص قائم فرمائی ہے کہ ” اللہ تعالیٰ کسی نبی کی روح قبض نہیں فرماتا حتی کہ اسے اختیار ہے۔ (2) (صحیح بخاری کتاب المغازی، جلد 2، صفحہ 638، معنا) جب عزرائیل (علیہ السلام) اس طریقہ سے ہٹ کر آئے جسیحضرت موسیٰ (علیہ السلام) جانتے تھے تو انہوں نے قوت نفس اور اپنے جذبہ کی وجہ سے جلد کی اور ادب سکھایا اور اسے طمانچہ مارا اور آنکھ پھوڑ دی، یہ ملک الموت کی آزمائش تھی کیونکہ انہوں نے صراحۃ اختیار کا ذکر نہیں کیا تھا اور اس کی صحت پر دلیل یہ ہے کہ جب ملک الموت دوبارہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئے تو انہیں زندگی اور موت کے درمیان اختیار دیا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے موت کو اختیار کیا اور حکم الہی کو تسلیم کیا، اللہ تعالیٰ اپنے غیب کے ساتھ احکم واعلم ہے، یہ قول اصح ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بارے میں کہا گیا ہے، مفسرین نے اس کے بارے میں قصص واخبار لکھی ہیں جن کی صحت کے بارے میں اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، صحیح میں ان کا ذکر نہیں ہے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عمر ایک سو بیس سال تھی، روایت کیا جاتا ہے کہ حضرت یوشع (علیہ السلام) کو ان کے وصال کے بعد خواب میں دیکھا اور ان سے پوچھا : آپ نے موت کو کیسا پایا ؟ انہوں نے کہا : ایسی بکری کی طرح جس کی کھال اتاری گئی جب کہ وہ زندہ ہو، یہ معنی صحیح ہے آپ ﷺ نے صحیح حدیث میں فرمایا :” موت کے لیے سختیاں ہیں (3) (ایضا، جلد 2، صفحہ 640) جیسا کہ ہم نے اپنی کتاب ” التذکرہ “ میں بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فلاتاس علی القوم الفسقین “۔ آپ پریشان نہ ہوں۔ الاسی کا معنی حزن وملال ہے آسی یا سی اسی یعنی غمگین ہونا۔ شاعر نے کہا : یقولون لاتھلک اسی و تحمل : لوگ کہتے ہیں غمگین ہو کر ہلاک نہ ہو اور برداشت کر۔
Ayahs 5:27–28

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ١ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ١ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ١ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 5:27 in the Quran reader

اور (اے محمد) ان کو آدم کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کے حالات (جو بالکل) سچے ّ (ہیں) پڑھ کر سن دو کہ جب ان دونوں نے (خدا کی جناب میں) کچھ نیازیں چڑھائیں تو ایک کی نیاز تو قبول ہوگئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی (تب قابیل ہابیل سے) کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کردونگا۔ اس نے کہا کہ خدا پرہیزگاروں ہی کی (نیاز) قبول فرمایا کرتا ہے۔

لَئِنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنِیْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْكَ لِاَقْتُلَكَ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:28 in the Quran reader

اور اگر تو مجھے قتل کرنے کیلئے مجھ پر ہاتھ چلائے گا تو میں تجھ کو قتل کرنے کیلئے تجھ پر ہاتھ نہیں چلاؤں گا۔ مجھے تو خدائے رب العالمین سے ڈرلگتا ہے۔

آیت نمبر : 27۔ اس آیت میں دو مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واتل علیھم نبا ابنی ادم بالحق “۔ اس آیت کا ماقبل سے تعلق اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات پر تنبیہ ہے کہ یہود کا ظلم کرنا اور ان کا عہود اور مواثیق کو توڑنا ابن آدم کے اپنے بھائی پر ظلم کی طرح ہے معنی یہ ہے کہ اگر ان انہوں نے اے محمد ﷺ تیرے ساتھ زیادتی کی ہے تو انہوں نے تجھ سے پہلے انبیاء کو قتل کیا ہے قابیل نے ہابیل کو قتل کیا تھا شر بہت پرانا ہے انہیں یہ قصہ یاد دلایا اور یہ سچا واقعہ ہے جھوٹی احادیث کی طرح نہیں ہے۔ اس میں اسلام کے مخالف کو خاموش کرنا ہے اور نبی مکرم ﷺ کو تسلی دینا ہے، حضرت آدم کے ان بیٹوں کے بارے اختلاف ہے، حسن بصری نے کہا : یہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی صلب سے نہ تھے، یہ دونوں بنی اسرائیل سے تھے اللہ تعالیٰ نے یہود کے حسد کو ظاہر کرنے کے لیے مثال بیان فرمائی، ان دونوں کے درمیان جھگڑا تھا پس ان دونوں نے دو قربانیاں کیں اور قربانیاں صرف بنی اسرائیل میں تھیں ابن عطیہ (رح) نے کہا : یہ وہم ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ بنی اسرائیل کا کوئی شخص دفن کرنے کی صورت سے واقف نہ تھا حتی کہ اس نے کوے کی اقتدا کی (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 178 دارالکتب العلمیہ) صحیح یہ ہے کہ وہ دونوں حضرت آدم کی صلب سے تھے یہ جمہور مفسرین کا قول ہے، حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابن عمر ؓ وغیرہما نے یہی کہا ہے، یہ دونوں ہابیل اور قابیل تھے، (2) (زاد المسیر جلد 2، صفحہ 197) قابیل کی قربانی سنبل کی لکڑیوں کا گٹھا تھا، کیونکہ وہ صاحب زرع (کھیتی باڑی کرنے والا) تھا، اس نے اپنے کھیت سے گھٹیا مال چنا تھا پھر اس میں ایک عمدہ سٹہ پایا تو اسے صاف کر کیے کھالیا اور ہابیل کی قربانی مینڈھا تھا، کیونکہ وہ ریوڑ والا تھا، اس نے اپنی بھیڑوں سے ایک عمدہ جانور لیا (آیت) ” فتقبل “ پس اسے جنت کی طرف اٹھایا گیا وہ جنت میں چرتا رہا حتی کہ اس کے ساتھ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا فدیہ دیا تھا، یہ سعید بن جبیر وغیرہ کا قول ہے جب ہابیل کی قربانی قبول کی گئی، کیونکہ وہ مومن تھا تو قابیل نے حسد کی بنا پر اسے کہا کیونکہ وہ کافر تھا، کیا تو زمین پر چلے گا جب کہ لوگ تجھے مجھ سے افضل دیکھیں گے، (آیت) ” لاقتلنک “ میں تجھے قتل کر دوں گا بعض علماء نے فرمایا : اس قربانی کا سبب یہ تھا کہ حضرت حواء (علیہا السلام) ہر بطن میں ایک مذکر اور ایک مونث جنم دیتی تھیں مگر حضرت شیث (علیہ السلام) اکیلے پیدا ہوئے یہ ہابیل کے عوض تھے جیسا کہ آگے آئے گا، اس کا نام ہبۃ اللہ ہے، کیونکہ جبرئیل (علیہ السلام) نے حضرت حوا سے کہا جب انہوں نے اس کو جنم دیا، یہ تیرے لیے ہابیل کا بدل ہبۃ اللہ ہے، حضرت آدم (علیہ السلام) کی عمر ایک سوتیس سال تھی جب حضرت (علیہ السلام) کی پیدائش ہوئی تھی، حضرت آدم (علیہ السلام) ایک بطن کے لڑکے کی دوسرے بطن کی لڑکی سے شادی کرتے تھے کسی کے لیے اس کی جڑواں بہن حلال نہیں تھی قابیل کے ساتھ اس کی خوبصورت بہن پیدا ہوئی جس کا نام اقلیمیا تھا اور ہابیل کے ساتھ بہن پیدا ہوئی وہ ایسی خوبصورت نہ تھی اس کا نام لیوذا تھا جب حضرت آدم (علیہ السلام) نے ہابیل اور اقلیمیا کا نکاح کرنا چاہا تو قابیل نے کہا : میں اپنی بہن کا زیادہ حق دار ہوں، حضرت آدم (علیہ السلام) نے قابیل کو حکم دیا تو اس نے حکم نہ مانا، حضرت آدم (علیہ السلام) نے اسے منع کیا تو وہ نہ رکا، انہوں نے قربانی پر اتفاق کرلیا، یہ مفسرین کی ایک جماعت کا قول ہے جن میں حضرت ابن مسعود ؓ بھی ہیں روایت ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اس وقت حاضر تھے۔ واللہ اعلم۔ اس کے متعلق حضرت جعفر صادق ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اپنی بیٹی کا اپنے بیٹے سے نکاح نہیں کرتے تھے، اگر حضرت آدم (علیہ السلام) نے ایسا کیا ہوتا تو نبی مکرم ﷺ اس سے انحراف نہ کرتے اور حضرت آدم (علیہ السلام) کا دین ہی نبی مکرم ﷺ کا دین ہے، اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدم (علیہ السلام) کو زمین پر اتارا اور انہیں جمع فرمایا تو حضرت حوا (علیہا السلام) نے ایک لڑکی کو جنم دیا اس کا نام عناق رکھا اس نے بےحیائی کی، یہ پہلی بےحیائی کرنے والی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس پر ایک قاتل کو مسلط کردیا، پھر حضرت آدم (علیہ السلام) کے ہاں حضرت حوا نے قابیل کو جنم دیا پھر ہابیل کو جنم دیا، جب قابیل بالغ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ایک مونث جن کو اس کے لیے ظاہر کیا جس کو جمالہ کہا جاتا تھا وہ انسانی شکل میں تھی اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو وحی فرمائی کہ اس کا نکاح قابیل سے کر دو ، آپ نے اس کا نکاح قابیل سے کردیا، جب ہابیل بالغ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرف ایک انسانی شکل میں حوریۃ (حور) اتاری اور اس کے لیے رحم پیدا کیا، اس کا نام بزلۃ تھا جب ہابیل نے اس کی طرف دیکھا تو وہ اس سے محبت کرنے لگا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرف وحی فرمائی کہ بزلۃ کا نکاح ہابیل سے کردو تو حضرت آدم (علیہ السلام) نے ایسا کردیا، قابیل نے کہا : اے والد محترم کیا میں اپنے بھائی سے بڑا نہیں ہوں ؟ حضرت آدم (علیہ السلام) نے کہا : ہاں، قابیل نے کہا : میں اس کا زیادہ حق دار ہوں جو آپ اس کے ساتھ کر رہے ہیں، حضرت آدم (علیہ السلام) نے اسے کہا : اے بیٹا اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کا حکم دیا ہے، فضل اللہ کے دست قدرت میں ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، قابیل نے کہا : اللہ کی قسم ایسا نہیں، لیکن آپ نے اسے مجھ پر ترجیح دی ہے، حضرت آدم (علیہ السلام) نے کہا : تم دونوں قربانی دو جس کی قربانی قبول ہوگی وہ اس فضل کا زیادہ حق دار ہوگا۔ میں کہتا ہوں : حضرت جعفر سے یہ قصہ صحیح نہیں ہے، اور وہ قول جو ہم نے ذکر کیا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) ایک بطن کے لڑکے کا نکاح دوسرے بطن کی لڑکی سے کرتے تھے، یہ درست ہے اور اس پر دلیل یہ ارشاد ہے : (آیت) ” یایھا الناس اتقوا ربکم الذی خلقکم من نفس واحدۃ وخلق منھا زوجھا وبث منھما رجالا کثیرا ونسآء “۔ (النسائ : 1) اے لوگو ! ڈرو اپنے رب سے جس نے پیدا فرمایا تمہیں ایک جان سے اور پیدا فرمایا اسی سے جوڑا اس کا اور پھیلا دئیے ان دونوں سے مراد کثیر تعداد اور عورتیں (کثیر تعداد میں) یہ نص کی مانند ہے پھر یہ منسوخ ہوگیا جیسا کہ اس کا بیان سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ حضرت حوا نے بیس بطنوں سے چالیس جوڑے جنم دیئے ان پہلا قابیل تھا اور اس کی جڑواں بہن اقلیمیا تھی اور ان کا آخری عبدالمغیت پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی نسل میں برکت ڈال دی، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا حضرت آدم (علیہ السلام) کا وصال نہ ہوا حتی کہ ان کی اور ان کی اولاد چالیس ہزار تک پہنچ گئی تھی اور حضرت جعفر سے جو مروی ہے کہ حضرت حوا نے بیٹی جنم دی اور اس نے بےحیائی کی، پھر کہا گیا : کس کے ساتھ بےحیائی کی ؟ کیا جن کے ساتھ جو اس کے پاس آیا ؟ اس جیسا قول نقل صحیح کا محتاج ہوتا ہے ہے جو عذر کو قطع کر دے اور نقل صحیح معدوم ہے۔ مسئلہ نمبر : (2) ہابیل کے قول میں (آیت) ” انما یتقبل اللہ من المتقین “۔ ہے اس سے پہلے کلام میں محذوف ہے، کیونکہ جب قابیل نے اسے کہا : (آیت) ” لاقتلنک “ میں تجھے ضرور قتل کروں گا تو ہابیل نے اسے کہا : تو مجھے کیوں قتل کرے گا جب کہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا اور اللہ نے میری قربانی قبول کی ہے تو اس میں گناہ نہیں ہے میں نے تقوی اختیار کیا اور میں واضح حق پر تھا اور اللہ تعالیٰ متقین سے قبول فرمتا ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 178 دارالکتب العلمیہ) ابن عطیہ (رح) نے کہا : تقوی سے یہاں مراد شرک سے بچنا ہے اہل سنت کا اس پر اجماع ہے جس نے شرک سے اجتناب کیا وہ موحد ہے اور اس کے اعمال جن میں اس میں نیت سچی ہے وہ مقبول ہیں شرک اور گناہوں سے بچنے والے کے لیے بلند درجہ ہے قبولیت اور رحمت کے ساتھ خاتمہ ہے اللہ کے خبر دینے سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ پر رحمت کرنا اور قبول واجب نہیں، حضرت عدی بن ثابت ؓ نے کہا : اس امت کے متقی کی قربانی نماز ہے۔ (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 178 دارالکتب العلمیہ) میں کہتا ہوں : یہ عبادات میں سے خاص نوع ہے، بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا جس نے میرے دوست سے دشمنی کی میرا اس سے اعلان جنگ ہے اور بندہ کسی ایسی چیز سے میرا قرب حاصل نہیں کرتا جتنا کہ فرائض ادا کرکے حاصل کرتا ہے اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتارہتا ہے حتی کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کی قوت سماعت بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور میں اس کی قوت بصارت بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور میں اس کی قوت ید بن جاتا ہوں جس سے ہو پکڑتا ہے اس کے پاؤں میں میری قوت آجاتی ہے جس سے وہ چلتا ہے، اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اسے ضرور عطا کروں گا اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے گا تو میں اس کو ضرور پناہ دوں گا اور مجھے کسی چیز سے اتنا تردد نہیں ہوتا جسے میں کرنا چاہتا ہوں جتنا کہ مومن کے نفس سے تردد ہوتا ہے وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور میں اس کی برائیوں کو ناپسند کرتا ہوں (3) (صحیح بخاری کتاب الرقائق، جلد 2، صفحہ 963 )
Ayah 5:29

اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۚ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 5:29 in the Quran reader

میں چاہتا ہوں کہ تو میرے گناہ میں بھی ماخوذ ہو اور اپنے گناہ میں بھی پھر (زمرئہ) اہل دوزخ میں ہو۔ اور ظالموں کو یہی سزا ہے۔

آیت نمبر : 29۔ اس آیت میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” لئن بسطت الی یدک “ یعنی تو اگر میرے قتل کا قصد کرے گا تو میں تیرے قتل کا قصد نہیں کروں گا، اس کی طرف سے تسلیم کرنا ہے خبر میں ہے ” جب فتنہ ہو تو ابن آدم کے بہتر بیٹے کی طرح ہوجا “ (1) (سنن ابی داؤد کتاب الفتن، جلد 2، صفحہ 229، ایضا، حدیث نمبر 3715، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ابو داؤد نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت کیا ہے فرمایا : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر کوئی مجھ پر میرے گھر میں داخرحمۃ اللہ علیہ ہو اور میرے طرف وہ اپنا ہاتھ مجھے قتل کرنے کے لیے بڑھائے تو ؟ فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” تو آدم کے بیٹوں میں بہتر بیٹے کی طرح ہوجا “۔ پھر یہ آیت تلاوت کی : (آیت) ” لئن بسطت الی یدک لتقتلنی “۔ (2) (سنن ابی داؤد کتاب الفتن، جلد 2، صفحہ 229، ایضا، حدیث نمبر 3715، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) مجاہد نے کہا : ان پر اس وقت فرض تھا کہ کوئی تلوار نہ سونتے اور نہ روکے اسے جو اسے قتل کرنے کا ارادہ کرتا ہے۔ (3) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 178 دارالکتب العلمیہ) ہمارے علماء نے فرمایا : یہ بطور تعبد جائز تھا، مگر ہماری شریعت میں بالاجماع دفاع جائز ہے، اس کے وجوب میں اختلاف ہے اور اصح اس کا وجوب ہے کیونکہ اس میں برائی سے منع کرنا ہے، حشویہ میں ایک گروہ ہے جو اس کے لیے دفاع جائز قرار نہیں دیتے جس پر حملہ کیا گیا ہے انہوں نے حضرت ابوذر کی حدیث سے احتجاج کیا ہے اور علماء نے اس کو فتنہ میں قتال کرکے ترک پر محمول کیا ہے اور شبہ کے وقت ہاتھ روکنے پر محمول کیا ہے جیسا کہ ہم نے اپنی کتاب ” التذکرہ “ میں بیان کیا ہے، حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ اور جمہور علماء نے کہا : ہابیل، قابیل سے زیادہ قاقتور تھا لیکن وہ قتال سے بچا رہا، ابن عطیہ (رح) نے کہا : یہ اظہر قول ہے اس سے تائید ملتی ہے کہ قابیل گنہگار تھا کافر نہیں تھا، کیونکہ اگر وہ کافر ہوتا تو ہابیل اسے قتل کرنے سے نہ بچتا، بچنے کی وجہ یہی ہے کہ بچنے والا کسی موحد کو قتل کرنے سے اجتناب کرتا ہے اور وہ اس پر راضی ہوتا ہے کہ وہ ظلم کرے تاکہ آخرت میں (اسے سزا ملے اور) اسے جزا ملے، حضرت عثمان ؓ نے یہی کہا تھا، بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے میں تیرے قتل کا قصد نہیں کرتا بلکہ میں اپنے نفس کے دفاع کا قصد کرتا ہوں۔ اس بنا پر بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے میں تیرے قتل کا قصد نہیں کرتا بلکہ میں اپنے نفس کے دفاع کا قصد کرتا ہوں، اس بنا پر بعض علماء نے کہا : ہابیل سویا ہوا تھا تو قابیل آیا اور پتھر سے اس کا سر کچل دیا جیسا کہ آگے آئے گا : اور آدمی کا ظالم سے دفاع کرنا جائز ہے اگرچہ وہ دشمن کو دفاع میں قتل بھی کر دے۔ بعض علماء نے فرمایا : اگر تو میرے قتل سے ابتدا کرے گا تو میں تجھے کبھی قتل نہیں کروں گا، بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے اگر تو ظلما میری طرف ہاتھ بڑھائے گا تو میں ظلم کرنے والا نہیں، میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔ مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” انی ارید ان تموا باثمی واثمک “۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی نبی مکرم ﷺ کے قول : اذا التقی المسلمان بسیفیھما فالقاتل والمقتول فی النار “ ، جب دو مسلمان اپنی اپنی تلواروں کے ساتھ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخ میں ہیں، کے معنی کی طرح ہے، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! یہ قاتل (اس کے دوزخ میں ہونے کی سمجھ آتی ہے) مقتول کے دوزخ میں ہونے کی کیا وجہ ہے ؟ فرمایا :” وہ بھی تو اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا حریص تھا “۔ (1) (صحیح بخاری، کتاب الایمان، جلد 1، صفحہ 9) گویا ہابیل نے ارادہ کیا کہ میں تیرے قتل پر حریص نہیں ہوں مجھے گناہ لاحق ہوتا اگر میں تیرے قتل پر حریص ہوتا، میں چاہتا ہوں کہ تو اپنے گناہ کے ساتھ میرا گناہ بھی اٹھائے، بعض نے فرمایا : باثمی کا مطلب ہے میرا گناہ جو میرے ساتھ خاص ہے جس میں مجھ سے کوتاہی ہوئی، یعنی میرے گناہوں میں سے لیا جائے اور تیرے مجھ پر ظلم کرنے کے سبب وہ گناہ تجھ پر ڈالا جائے اور تو اپنے گناہ کے ساتھ میرے گناہ کو اٹھائے اس کی تائید نبی کریم ﷺ کا ارشاد کرتا ہے ” قیامت کے روز ظالم اور مظلوم کو لایا جائے گا، تو ظالم کی نیکیاں لی جائیں گی اور مظلوم کی نیکیوں میں اضافہ ہوگا حتی کہ انصاف دیا جائے گا اگر اس کی نیکیاں نہ ہوں گی تو مظلوم کی برائیوں سے لے کر ظالم پر ڈال دی جائیں گی “۔ مسلم نے اس کا مفہوم تخریج کیا ہے۔ یہ پہلے گزر چکا ہے، اس کی تائید اللہ تعالیٰ کا ارشاد کرتا ہے : (آیت) ” ولیحملن اثقالھم واثقالا مع اثقالھم “۔ (العنکبوت : 13) اور ضرور اٹھائیں گے اپنے بوجھ اور دو سے کئی بوجھ اپنے (گناہوں کے) بوجھوں کے ساتھ۔ یہ واضح ہے اور اس میں کوئی اشکال نہیں ہے، بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے میں چاہتا ہوں کہ تو میرا اور اپنا گناہ اٹھائے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” والقی فی الارض رواسی ان تمیدبکم “۔ (النحل : 15) اور کھڑے کردیئے زمین میں اونچے اونچے پہاڑ تاکہ زمین ڈولتی نہ رہے تمہارے ساتھ۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یبین اللہ لکم ان تضلوا “۔ (النسائ : 176) یعنی لئلا تضلوا پس لا کو حذف کیا گیا۔ میں کہتا ہوں یہ ضعیف ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کوئی نفس ظلما قتل نہیں کیا جائے گا مگر اس کے خون کا بوجھ حضرت آدم کے پہلے بیٹے (قاتل) پر ہوگا، کیونکہ اس نے سب سے پہلے قتل کی سنت قائم کی تھی “ (2) اس سے ثابت ہوا کہ قتل کا گناہ حاصل ہے اسی وجہ سے اکثر علماء نے فرمایا : معنی یہ ہے کہ میرے قتل کا گناہ اور تیرا گناہ جو تو نے میرے قتل سے پہلے کیا اس کے ساتھ تو لوٹے گا، ثعلبی نے کہا : یہ اکثر مفسرین کا قول ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ استفہام ہے یعنی کیا میں ارادہ کرتا ہوں ؟ یہ انکار کی جہت پر ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وتلک نعمۃ “۔ (الشعراء : 22) یعنی او تلک نعمۃ “۔ یہ اس لیے ہے، کیونکہ قتل کا ارادہ معصیت ہے، قشیری نے اس کو حکایت کیا ہے ابو الحسن ابن کیسان سے پوچھا گیا : مومن کیسے ارادہ کرتا ہے کہ اس بھائی گناہگار ہو اور وہ دوزخ میں جائے۔ تو ابو الحسن نے کہا : یہ ارادہ اس کی طرف قتل کے لیے ہاتھ بڑھانے کے بعد واقع ہوا، معنی یہ ہے کہ تو نے میری طرف مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، میں تجھے اس سے ثواب کے ارادہ سے ضرور روکوں گا، ان سے کہا گیا : پھر اس نے باثمی واثمک کیسے کہا ؟ اسکا کیا گناہ تھا جب وہ قتل کیا گیا ؟ تو ابو الحسن نے کہا : اس کے تین جواب ہیں (1) (صحیح بخاری کتاب الایمان، جلد 1، صفحہ 9) تو اٹھائے میرے قتل کا گناہ اور اپنے گناہ کو جس کی وجہ سے اس نے تیری قربانی قبول نہیں کی، یہ قول مجاہد سے مروی ہے۔ (1) (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 241) دوسرا جواب یہ ہے کہ تو اٹھائے میرے قتل کا گناہ اور مجھ پر تجاوز کرنے کا گناہ، کیونکہ وہ تجاوز کرنے کی وجہ سے گناہگار ہوا تھا اگرچہ اس نے (ابھی) قتل بھی نہ کیا تھا۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ اگر وہ اس کی طرف ہاتھ بڑھاتا تو گناہگار ہوتا جب وہ اس سے رک گیا تو اس کا گناہ اس کے مخالف کی طرف لوٹا، یہ تیرے اس قول کی مثل ہوگیا، المال بینہ وبین زید، یعنی مال دونوں کے درمیان ہے معنی یہ ہے کہ تو ہمارا گناہ اٹھائے، با کا معنی ہے وہ اپنی منزل کی طرف لوٹا، (آیت) ” وبآء و بغضب من اللہ “۔ (آل عمران : 112) یعنی وہ لوٹے، سورة بقرہ میں اس پر تفصیلا گفتگو گزر چکی ہے۔ شاعر نے کہا : الا تنتھی عنا ملوک وتتقی محارمنا لا یبوء الدم بالدم : یعنی قصاص میں خون کے ساتھ خون نہیں لوٹتا۔ (آیت) ” فتکون من اصحب النار “۔ یہ دلیل ہے کہ وہ اس وقت دونوں مکلف تھے انہیں وعدہ اور وعید لاحق ہوا، ہابیل نے اپنے بھائی قابیل سے کہا : (آیت) ” اصحب النار “۔ اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ قابیل کافر تھا، کیونکہ (آیت) ” فتکون من اصحب النار “۔ کا لفظ قرآن میں جہاں بھی واقع ہوا ہے کفار کے بارے میں واقع ہوا ہے، یہ قول یہاں مردود ہے اس بنا پر جو ہم نے اس آیت کی تاویل میں مفسرین سے ذکر کیا ہے، (آیت) ” من اصحب النار “۔ کا معنی ہے تیرے دوزخ میں ہونے کی مدت۔ واللہ اعلم۔