Ayah 12:100آیت نمبر 100
ورفع ابویہ علی العرش حضرت قتادہ نے کہا : عرش سے مراد چار پائی ہے۔ اس کے محامل پہلے گزر چکے ہیں اور بعض اوقات بادشاہ کو عرش کے ساتھ تعبیر کردیا جاتا ہے اسی سے نابغہ ذبیانی کا قول ہے :
عروش تفانوا بعد عزو أمنۃ
پہلے گزر چکا ہے۔ وخروالہ سجدًا اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ وخروالہ سجدًا میں لہ کی ضمیر کے متعلق ایک قول یہ ہے کہ اس کا مرجع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے : معنی یہ ہوگا : اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے وہ سجدے میں گر گئے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے خواب کے ثبوت کے لیے قبلہ کی طرح تھے، یہ حضرت حسن سے مروی ہے، جبکہ نقاش نے کہا : یہ غلطی ہے (صحیح بات یہ ہے کہ) ضمیر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے کیونکہ سورت کے آغاز میں رایتھم لی سٰجدین ہے اور ان کا سلام یہ تھا کہ ادنی، اعلی کو اور چھوٹا بڑے کو سجدہ کرے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) ، آپ کی خالہ اور بھائیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو سجدہ کیا، آپ کے جسم پر کپکپی طاری ہوئی اور آپ نے کہا : ھٰذا تاویل رء یای من قبل اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خواب اور اس کی تعبیر کے درمیان ایک سو بیس سال کا عرصہ تھا۔ حضرت سلمان فارسی اور عبداللہ بن شداد نے کہا : چالیس سال کا عرصہ تھا۔ سدی، سعید بن جبیر اور عکرمہ (رح) نے کہا : چھتیس سال کا عرصہ تھا۔ حضرت حسن، جسربن فرقد اور فضیل بن عیاض نے کہا : اسی سال حضرت وہب بن منبہ نے کہا : حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جب کنویں میں پھنکا گیا تو آپ کی عمر سترہ سال تھی اور اسی سال آپ اپنے باپ سے غائب رہے اور اپنے باپ کی ملاقات کے بعد زندہ رہے اور وصال کے وقت آپ کی عمر ایک سو بیس سال تھی جبکہ تورات میں ایک سو چھبیس سال مرقوم ہے۔ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عزیزمصر کی بیوی سے پیدا ہونے والی اولاد إفراثیم، منشاء اور رحمت حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی ہے، جبکہ حضرت یوسف اور حضرت موسیٰ کے درمیان چار سو سال کا فاصلہ ہے۔ کہا گیا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس بیس سال رہے اور پھر آپ کا وصال ہوگیا۔ ایک قول کے مطابق : اٹھارہ سال رہے۔ بعض محدثین نے کہا : چالیس سال اور کچھ عرصہ رہے۔ اور حضرت یعقوب و یوسف (علیہما السلام) کے درمیان تینتیس سال کا عرصہ تھا پھر اللہ نے ان کو ملادیا۔ ابن اسحاق نے کہا : اٹھارہ سال کا عرصہ تھا۔ واللہ اعلم
مسئلہ نمبر 2 ۔ حضرت سعید بن جبیر ؓ نے حضرت قتادہ عن حسن ؓ نے کہا : وخروالہ سجدًا میں یہ نہیں تھا کہ انہوں نے سجدہ کیا ہو بلکہ ان کا ایک طریقہ تھا کہ وہ اپنے سروں سے اشارہ کرتے تھے، یہی ان کا سلام ہوتا تھا۔ ثوری، ضحاک اور دیگر لوگوں نے کہا کہ وہ اسی طرح کا سجدہ تھا جس طرح ہمارے ہاں ہوتا ہے اور یہی ان کا سلام تھا۔ ایک قول کے مطابق وہ رکوع کی طرح جھکنا تھا اور خرور علی الارض نہیں تھا اور اسی طرح جھک کر اور اشارہ کرکے ان کے سلام کا طریقہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سارے عمل کو ہماری شریعت میں منسوخ فرمادیا اور جھکنے کے بدلے کلام کو ہمارا اسلام بنادیا۔ مفسرین کا اس بات پر اجماع ہے کہ وہ سجدہ جس بھی طریقے سے تھا صرف سلام کے طور پر تھا سجدہ عبادت نہیں تھا۔ قتادہ نے کہا : ان کے نزدیک بادشاہوں کا یہی سلام ہوتا تھا، اور اللہ تعالیٰ نے اس امت کو اہل جنت کا سلام السلام علیکم عطا فرمایا۔
میں (قرطبی) نے کہا : یہ جھکنا اور اشارہ کرنا جس کو منسوخ کردیا گیا ہے یہ مصر کے علاقوں میں عجمیوں میں عادت بن چکا ہے، اسی طرح لوگوں کا کسی کے لیے کھڑا ہونا حتی کہ اگر وہ کھڑا نہ ہو تو آنے والا یہ محسوس کرتا ہے کہ اس نے اسے کوئی اہمیت نہیں دی اور اس کے دل میں اس کی کوئی قدر نہیں، اسی طرح جب وہ ملاقات کرتے ہیں تو ایک دوسرے کے لیے جھکنا ان کی مستقل عادت اور مستقل رواثت ہے، بالخصوص امراء اور سرداروں سے ملاقات کے وقت۔ ان لوگوں کے طریقے کو اپنا لیا اور سنن سے اعراض کرلیا۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے آپ نے فرمایا : ہم نے کہا : یارسول اللہ ﷺ ! جب ہم ایک دوست کو ملیں تو کیا ایک دوسرے کے لیے جھکیں ؟ آپ نے فرمایا : ” نہیں “۔ ہم نے عرض کیا : کیا ہم ایک دوسرے کے ساتھ معانقہ کریں ! آپ نے فرمایا : ” نہیں “۔ ہم نے کہا : کیا ہم مصافحہ کریں ؟ آپ نے فرمایا :” ہاں “۔ اس روایت کو ابوعمر نے التمہید میں روایت کیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے :” تم اپنے سردار اور اپنے سے بہتر آدمی کے لیے کھڑے ہوجاؤ “۔ مراد حضرت سعد بن معاذ ؓ تھے تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ یہ ان مخصوص حالات کی بنیاد پر حضرت سعد کے ساتھ ہی خاص ہوگا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ان کا قیام اس لیے تھا تاکہ وہ آپ کو گدھے سے اتاریں اور یہ بڑی عمر کے آدمی کے لیے جائز ہے، بشرطیکہ وہ اس وجہ سے اپنے آپ کو بڑا بہ سمجھنے لگے اور اگر وہ اس عمل کی وجہ سے اپنے آپ کو بڑا سمجھنے اور اپنے لیے اس کو لطف اور راحت محسوس کرے تو علماء نے اسے بھی جائز قرار نہیں دیا۔ اس کی وجہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ آپ نے فرمایا :” جس کو اس بات نے خوش کیا کہ لوگ کھڑے ہو کر اس کا استقبال کریں تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے ٹھکانہ جہنم میں بنالے “۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نزدیک نبی کریم ﷺ کی ذات سے بڑھ کر کوئی بھی زیادہ عزت والا نہ تھا اس کے باوجود وہ اس عمل ناپسندیدہ ہونے کی وجہ سے آپ کو دیکھ کر آپ کے لیے کھڑے نہیں ہوتے تھے۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ اگر یہ کہا جائے کہ انگلی کے ساتھ اشارہ کرنے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ تو اسے کہا جائے گا : یہ اس صورت میں جائز ہے جب بندہ آپ سے دور ہو، تاکہ آپ سلام کے وقت اس کی تعین کردیں، اور اگر وہ قریب ہو تو پھر جائز نہیں جبکہ ایک قول قرب کی دونوں صورتوں میں منع صورتوں میں منع کا ہے اس کا سبب نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ :” جس نے کسی اور کی مشابہت اختیار کی تو وہ ہم میں سے نہیں ہے “۔ اور آپ نے فرمایا :” یہود ونصاریٰ کی طرح سلام نہ کرو، پس یہود کا سلام ہتھیلی کے ذریعے اور نصاریٰ کا سلام اشارہ کے ساتھ ہے “۔ اور جب کوئی سلام کرے تو وہ نہ جھکے اور نہ ہی سلام کے ساتھ اس کے ہاتھ کو چومے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جھکنا تواضع پر دلالت کرتا ہے اور تواضع سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور کے لیے جائز نہیں۔ اور جہاں تک ہاتھوں کو بوسہ دینے کا تعلق ہے تو یہ عجمیوں کا عمل ہے اور ان کے ایسے افعال کی اتباع نہیں کی جائے گی جو انہوں نے اپنے بڑوں کی تعظیم کے لیے خود بنالیے ہیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” تم میرے سر کے پاس اس طرح کھڑے نہ ہوا کرو جس طرح عجمی اپنے سے برتر لوگوں کے سر کے پاس کھڑے ہوتے ہیں “۔ تو یہ عمل اسی کے مثل ہے البتہ مصافحہ میں کوئی حرج نہیں، نبی کریم ﷺ نے حبشہ سے واپسی کے موقع پر حضرت جعفر بن ابی طالب کے ساتھ مصافحہ کیا اور اس کا حکم بھی ارشاد فرمایا :” باہم مصافحہ کیا کرو یہ کھوٹ کو دور کرتا ہے “۔ غالب تمارنے حضرت شعبی سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ جب ملاقات کرتے تو مصافحہ کرتے تھے اور جب سفر سے واپس لوٹتے تو معانقہ کرتے تھے، اگر اعتراض کیا جائے کہ امام مالک نے تو مصافحہ کو بھی ناپسند کیا ہے تو اس کا جواب ہم یہ دیں گے کہ ابن وہب نے امام مالک سے روایت بیان کی ہے کہ آپ نے مصافحہ اور معانقہ کو ناپسند کیا ہے، سحنون اور دیگر اصحاب مالک نے یہی موقف اختیار کیا ہے تاہم امام مالک سے اس کے برعکس جواز مصافحہ کے حوالے سے بھی روایت موجود ہے۔ ابن عربی نے کہا : امام مالک نے صرف اس وجہ سے مصافحہ کو ناپسند کیا ہے کہ آپ نے اسے دین کا کوئی معاملہ خیال نہیں کیا اور نہ ہی یہ سلام کی طرح منقول ہے، اگر سلام کا حصہ ہوتا تو اعتبار سے بھی اس کے برابر ہوتا۔
میں (قرطبی) نے کہا : مصافحہ کے حوالے سے تو ایک حدیث بھی ہے جس میں اس کے بارے میں ترغیب ہے اور جو اس پر عمل پیرا ہونے اور اس کی مخافظت پر دلالت کرتا ہے۔ وہ حضرت براء بن عازب ؓ کی روایت ہے آپ نے فرمایا میں نبی کریم ﷺ کو ملا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑلیا تو میں نے عرض کیا : یارسول ﷺ ! میں تو یہ گمان کرتا تھا کہ مصافحہ عجمیوں کا (طریقہ) ہے ؟ آپ نے فرمایا :” ہم ان سے زیادہ مصافحہ کے حقدار ہیں جب دو مسلمان ایک دوسرے کو ملتے ہیں اور باہم محبت اور
اخلاص کی بنیاد پر ان میں سے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑتا ہے تو ان کے گناہوں کو معاف کردیا جاتا ہے “۔
قولہ تعالیٰ : وقد احسن بی اذا خرجنی من السجن۔ من الجب نہیں فرمایا یہ مہربانی اور کرم نوازی کے طور پر ہے تاکہ آپ اپنے بھائیوں کو تثریب علیکم کے قول کے ساتھ معاف کرنے کے بعد ان کی کاروائی یادنہ دلادیں۔
میں (قرطبی) نے کہا : یہی صوفیاء کرام کے نزدیک اصل ہے کہ صفا کے وقت جفا کو ذکرنا بھی جفا ہے، صوفیاء کا یہ قول صحیح ہے جس پر کتاب اللہ بھی دال ہے۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ اس کیوجہ یہ بھی تھی کہ چونکہ آپ کے قید میں جانے میں خود اپنا اختیار تھا کہ آپ نے خود کہا تھا : رب السجن احب الی مما یدعوننی (یوسف :33) جبکہ کنویں میں جانا اللہ تعالیٰ کے ارادے سے تھا۔ جبکہ ایک قول یہ ہے کہ قید خانے میں آپ چوروں اور نافرمان لوگوں کے ساتھ تھے جبکہ کنویں میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ، تو اسی طرح قید خانے سے نجات دینے میں احسان بھی بہت بڑا تھا اور چونکہ قید خانہ میں آپ ایسے معاملے کی وجہ سے گئے جس کا آپ نے ارادہ کیا تھا اور اسی طرح اپنے اختیار سے گئے جب آپ نے خود کہہ دیا : رب السجن احب الی تو اس میں مصیبت اور کرب بھی زیادہ تھا۔ اور اس میں آپ نے یہ بھی کہا تھا : عندربک اپنے مالک کے پاس میرا ذکر کرنا تو اس پر آپ کا عتاب ہوا۔ وجآء بکم من البدورایت ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا مسکن کنعان کی سرزمین تھی، اور اہل کنعان مویشیوں والے اور صحرائی لوگ تھے۔ ایک قول کے مطابق حضرت یعقوب (علیہ السلام) صحراء کی طرف نکل گئے اور وہیں رہائش پذیر ہوگئے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اہل بادیہ میں سے کسی کو نبی مبعوث نہیں فرمایا۔ ایک قول یہ ہے کہ آپ بدا مقام کی طرف چلے گئے شاعر نے بھی اس شعر میں بدا سے مراد وہ مقام لیا ہے۔
وأنت التی حببت شغبًا بدا إلی وأوطانی بلاد سواھما
اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی پہاڑ کے نیچے اس جگہ پر ایک مسجد تھی۔ بدوا کہا جاتا ہے جب وہ لوگ بدا آئیں جس طرح غاروا غوراً کہا جاتا ہے یعنی جب وہ غور کے مقام پر آئے۔ معنی یہ ہوگا کہ وہ تمہیں بدا کے مقام سے لے آئے گا، اس کو امام قشیری نے ذکر کیا ہے۔ اور ماوردی نے ضحاک عن حضرت ابن عباس ؓ اسے بیان کیا ہے۔ من بعد ان نزغ الشیطٰن بینی وبین اخوتی یعنی حسد کو پیدا کرکے، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا ارشاد ہے۔ ایک قول کے مطابق نزغ کا معنی ہے افسد یعنی اس نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد بپا کیا۔ آپ کا ان کے گناہ کو شیطان پر ڈال دینا آپ کی طرف سے بطور مہربانی تھا۔ ان ربی لطیف لما یشآء یعنی وہ اپنے بندوں کے لیے نرم ہے، خطابی نے کہا : لطیف سے مراد وہ ذات ہے جو اپنے بندوں پع لطف وکرم ایسے طریقے سے ہوتا ہے جن کو بندے جانتے بھی نہیں ہوتے اور وہ ان کے لیے ایسے اسباب مہیا فرمادہتا ہے جو ان کے گمان میں بھی نہیں ہوتے، جس طرح کے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ؛ اللہ لطیف بعبادہٖ ہر زق من یشآء (الشوریٰ :19) ایک قول کے مطابق لطیف سے مراد معاملات کے وقائق کو جاننے والا ہے۔ یہاں اس سے مراد اکرام اور نرمی ہے۔ حضرت قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو قید خانے سے نکال کر انکے خاندان کو صحراء پہنچا کر اور آپکے دل سے شیطانی وسوسے کو نکال کر لطف وکرم فرمایا
روایت ہے کہ جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے اہل اور بچوں کے ساتھ آئے اور مصر کی سرزمین کو شرف بخشا تو جب
اس کی اطلاع حضرت یوسف (علیہ السلام) تک پہنچی تو آپ نے فرعون مصر سے اجازت مانگی جس کا نام ریان تھا کہ وہ آپ کو اپنے باپ یعقوب کو ملنے کی اجازت دے اور اسے آپ کے آنے کی خبر دی تو اس نے آپ کو اجازت دے دی اور اپنے ساتھیوں کی ایک جماعت کو آپ کے ساتھ سوار ہونے کا حکم دیا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور بادشاہ نکلے تو آپ کے ساتھ چار ہزار افراد تھے اور امیر کے ساتھ اللہ کی اتنی مخلوق تھی جس کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اور اہل مصر بھی ان کے ساتھ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو ملنے کے لیے سوار ہوگئے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) یہوذا کے ساتھ پر ٹیک لگا کر چل رہے تھے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے گھوڑے، لوگ اور لشکر کو دیکھا تو فرمایا : اے یہوذا ! یہ فرعون مصر ہے ؟ اس نے کہا : نہیں، بلکہ یہ آپ کا بیٹا یوسف ہے۔ جب دونوں ایک دوسرے کے قریب ہوئے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے سلام میں پہلا کرنا چاہا تو آپ کو اس سے روک دیا گیا کیونکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) آپ سے زیادہ اس کے حقدار تھے اور افضل بھی تھے، تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے سلام کا آغاز فرمایا اور فرمایا : تم پر سلام ہو اسے غموں کو دور کرنے والے ! اور روپڑے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) بھی آپ کے ساتھ روپڑے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) خوشی سے روئے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے والد گرامی کی پریشانی کو دیکھ کر روئے، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ رونا چار طرح سے ہوتا ہے، خوف سے رونا، تکلیف سے رونا، خوشی سے رونا اور دکھلاوے کا رونا، پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا : ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے غموں اور پریشانیوں کے بعد میری آنکھ کو ٹھنڈا کیا۔ اور اپنے گھرانے کے بیاسی آدمیوں کے ساتھ آپ مصر میں داخل ہوئے اور پھر وہ لوگ مصر سے تب نکلے جب ان کی تعدا چھ لاکھ اور کچھ ہزار ہوگئی۔ انھوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ دریاکو عبور کیا، اس بات کو عکرمہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے بیان فرمایا کہ جب وہ مصر میں داخل ہوئے تو مرد، عورتیں ملاکر وہ کل ترانوے آدمی تھے اور جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ نکلے تو ان کی تعداد چھ لاکھ ستر ہزار تھی۔ ربیع بن خثیم نے کہا : جب داخل ہوئے تو ان کی تعداد بہتر ہزار تھی اور جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ نکلے تو چھ لاکھ تھے۔ حضرت وہب نے کہا : جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور آپ کے بیٹے مصر میں داخل ہوئے تو مرد، عورتیں اور بچے ملا کر نوے آدمی تھے اور جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ فرعون سے بھاگ کر نکلے تو چھ لاکھ پانچ سو ستر اور کچھ مجاہدین تھے۔ مؤرخین نے کہا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) مصر میں چوبیس سال بڑی خوشحالی اور نعمت کی حالت میں مقیم رہے، مصر میں ہی آپ نے وصال فرمایا اور اپنے بیٹے یوسف کے نام وصیت لکھی کہ ان کے جسد اقدس کو یہاں سے اٹھا کر شام میں اپنے باپ حضرت اسحاق کے پہلو میں دفن کیا جائے تو آپ نے ایسا ہی کیا، اور پھر مصر واپس لوٹ آئے۔ سعید بن جبیر نے فرمایا : حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو ساج کے بنے ہوئے تابوت میں بیت المقدس منتقل کیا گیا۔ اسی دن عیصو فوت ہوا، تو دونوں کو ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا، اسی وجہ سے یہودی اپنے مردوں کو بیت المقدس لے جاتے ہیں۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور عیصوا اکٹھے پیدا ہوئے اور ایک ہی قبر میں دفن ہوئے دونوں کی عمر ایک سوچوہتر سال تھی۔
Ayah 12:101آیت نمبر 101
قولہ تعالیٰ : رب قداٰتیتنی من الملک وعلمتنی من تاویل الاھادیث قتادہ نے کہا : کسی نبی یا غیر نبی نے موت کی تمنا نہیں کی سوائے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے، اور وہ بھی تب جب آپ پر نعمتیں تمام ہوگئیں اور تمام معاملات مکمل ہوگئے تو آپ اپنے پروردگار کی ملاقات کے مشتاق ہوگئے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے موت کی تمنا نہیں کی بلکہ اسلام پر وفات کی تمنا کی ہے، یعنی جب میری موت آئے تو مجھے حالت اسلام میں موت دے، یہ جمہور کا قول ہے۔ سہل بن عبداللہ تستری نے کہا : موت کی تمنا صرف تین آدمی کرتے ہیں، ایسا آدمی جو موت سے بعد کے معاملات سے ناواقف ہوتا ہے یا وہ آدمی جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا مشتاق اور محب ہوتا ہے۔ صحیح میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی اس مصیبت کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے جو اس پر نازل ہوئی ہے اگر تمنا کرنا ضروری ہی ہو تو اسے یہ کہنا چاہیے۔ یا اللہ ! جب تک زندگی کو تو میرے لیے بہتر جانتا ہے مجھے زندہ رکھ اور جب موت میرے لیے بہتر ہو تو مجھے موت دے دے “۔ اس کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ مسلم میں ہی حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” تم میں سے کوئی بھی موت کی تمنا نہ کرے اور اس کے آنے سے پہلے اسے کوئی نہ ملائے، جب تم میں سے کوئی مرے گا تو اس کا سلسلہ عمل منقطع ہوجائے گا اور مومن کی عمر اس میں بھلائی اور خیر کا اضافہ کرتی ہے “۔
جب یہ بات ثابت ہوگئی تو کیسے کہا جاسکتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے موت، دنیا سے جانے اور عمل کے خاتمے کی تمنا کی ؟ یہ بعید از قیاس بات ہے، البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہوسکتا ہے انکی شریعت میں یہ جائز ہو، کیا فتنوں کے ظہور اور غلبہ کے وقت اور دین کے ضائع ہوجانے کے خوف کے وقت موت کی تمنا اور دعا جائز نہیں جس طرح کہ ہم (قرطبی) نے کتاب ” التذکرہ “ میں بیان کردیا ہے۔ اللہ کے ارشاد : من الملک میں من تبیضیہ ہے کیونکہ مصر کی بادشاہی کل بادشاہ ہی نہیں ہے اسی طرح علم تعبیر بھی کل علم نہیں ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ من جنس کے لیے ہے جس طرح کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد فاجتنبوا الرجس من یہ بھی کہا گیا ہے کہ تاکید کے لیے ہے، یعنی آتیتنی الملک وعلمتنی تاویل الاھادیث۔
قولہ تعالیٰ : فاطر السمٰوٰت والارض ندا کی صفت ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور وہ ہے سرب یہ ندا مضاف ہے۔ تقدیر عبارت ہے : یارب ! یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ندا ثانی ہو اور فاطر سے مراد خالق ہے، فھو سبحانہ فاطر الموجودات یعنی موجودات کا خالق، ان کا آغاز کرنے والا، ان کی نشوونما کرنے والا اور بغیر کسی چیز اور نمونے کے ان کو ایجاز فرمانے والا اس کی وضاحت کا خالق، ان کا آغاز کرنے والا، ان کی نشوونما کرنے والا اور بغیر کسی چیز اور نمونے کے ان کو ایجاد فرمانے والا اس کی وضاحت سورة البقرہ میں بدیع السموات والارض کے ارشاد گرامی کے تحت تفصیل سے گزرچکی ہے اور ہم (قرطبی) نے ” الکتاب الاسنی شرح اسماء اللہ الحسنی “ میں اس پر مزید اضافہ کیا ہے۔ انت ولی یعنی تو میرا مددگار اور دنیا وآخرت میں میرے معاملات کا والی ہے۔ توفنی مسلما والحقنی بالصلحین صالحین سے مراد آپ کے تین آباء ہیں یعنی حضرت ابراہیم، حضرت یعقوب علیہم السلام، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو مصر میں حالت طہارت و پاکیزگی میں فات نصیب فرمائی اور سنگ مرمر کے صندوق میں دریائے نیل میں آپ کی تدفین ہوئی، اس کا سبب یہ تھا کہ جب آپ کا وصال ہوا تو لوگ جمع ہوگئے، ہر ایک چاہتا تھا کہ اس کے محلے میں آپ کی تدفین ہو تو اس محلے میں برکت کا نزول ہو۔ تمام لوگ اس معاملے پر بضد ہوگئے حتیٰ کے قتال کی نوبت آگئی، تو پھر انھوں نے فیصلہ کیا کہ آپ کو دریائے نیل میں ایسی جگہ دفن کیا جائے جہاں سے پورے مصر میں پانی جاتا ہے۔ آپ کی قبر پر سے پانی گزرے گا پھر پورے مصر میں وہ پانی منتشر ہوجائے گا، (تو سب کو برکت حاصل ہوگی) تو انھوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نبی اسرائیل کو لے کر نکلے تو انہوں نے آپ کو دریائے نیل سے نکالا اور چار سو سال کے بعد آپ کا تابوت بیت المقدس منتقل کیا گیا اور آپ کو ایک دعا، والحقنی بالصلحین کی وجہ سے اپنے آباء کے ساتھ دفن کیا گیا۔ آپ کی عمر ایک سو سات سال تھی، حضرت حسن سے روایت ہے : حضرت یوسف (علیہ السلام) کو سترہ سال کی عمر میں کنویں میں ڈالا گیا اور غلامی، قید خانے اور بادشاہت میں اسی سال گزارے پھر آپ کے بکھرے ہوئے کاموں کو جمع کیا گیا اس کے بعد آپ نے تئیس سال زندگی گزاری (اس طرح کل عمر ایک سو بیس سال ہوئی) ۔ آپ کی اولاد میں ابن لہتہ کے قول کے مطابق افراثیم، منشا اور رحمت ہیں جو کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی زوجہ تھیں۔
امام زہری نے کہا : افراثیم بن یوسف کا بیٹا نون بن أفراثیم تھا اور نون کا بیٹا حضرت یوشع بن نون تھا اور یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ آپ کے معاون تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں نبی بنایا، تو ان کے بعد آپ نبی تھے۔ اور یہ وہی ہیں جنھوں نے اریحاء کو فتح کیا اور اس میں جابر لوگوں میں سے جو تھا اسے قتل کیا اور جس طرح سورة المائدہ میں گزر چکا ہے کہ سورج نے آپ کی خاطر رکنا چاہا۔ منشاء بن یوسف کا بیٹا موسیٰ بن منشا تھا موسیٰ بن عمران سے پہلے۔ اہل تورات کا خیال یہ ہے کہ یہی وہ ہیں جنھوں نے ایک عالم سے ملاقات کی خواہش کی تھی تاکہ اس سے علم حاصل کریں یہاں تک آپ نے اسے پالیا۔ اور عالم وہ تھا جس نے کشتی توڑا، بچے کو قتل کیا اور دیوار بنائی۔ اور موسیٰ بن منشا آپ کے ساتھ رہے یہاں تک کہ یہ آپ کے ساتھ وہاں تک پہنچے جہاں تک آپ پہنچے، جبکہ حضرت ابن عباس ؓ اس بات کا انکار کرتے ہیں اور صحیح بھی وہ بات ہے جو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمائی اسی قرآن میں بھی ہے، پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان کئی قومیں اور زمانے تھے ان کے درمیان حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے۔
Ayahs 12:102–104آیت نمبر 102 تا 104
قولہ تعالیٰ ۔ ذٰلک من انباء الغیب مبتدا اور خبر ہے نوحیہ الیک خبر ثانی ہے۔ زجاج نے کہا : یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ذٰلک بمعنی الذی ہو اور نوحیہ الیک اس کی خبر ہو، یعنی الذی من انبائ الغیب نوحیہ إلیک یعنی اے محمد ! ﷺ حضرت یوسف کے معاملے میں سے غیب کی خبروں میں سے جو ہم نے آپ کے سامنے بیان کی ہیں۔ نوحیہ الیک یعنی ہم اس وحی کے ذریعے آپ کو سکھاتے ہیں۔ وما کنت لدیھم یعنی بھائی یوسف کے ساتھ آپ ان کے پاس نہیں تھے اذاجمعوا امرھم جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں پھینکنے پر وہ متفق ہوئے وھم یمکرون یعنی کنویں میں پھینکے کے سلسلہ میں وہ یوسف کے ساتھ مکر کررہے تھے یعنی وہ احوال آپ نے
مشاہدہ نہیں کیے مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو (اے محمد ﷺ مطلع کردیا۔
قولہ تعالیٰ : وما اکثر الناس ولو حرصت بمومنین آپ کا خیال یہ تھا کہ جب عربوں نے اس قصہ کے متعلق پوچھا اور آپ نے ان کو اس کے متعلق بتایا ہے تو وہ ایمان لے آئیں گے مگر وہ ایمان نہ لائے، تو یہ آیت نبی کریم ﷺ کی تسلی کے لیے نازل ہوئی یعنی جس کو آپ یدایت دینا چاہیں اس کو آپ ہدایت نہیں دے سکتے، حرص یحرص باب ضرب یضرب ہے اور ضعیف لغت میں حرص یحرص بھی ہے یعنی باب سمع یسمع اور حرص اختیار کے ساتھ کسی چیز کا مطالبہ کرنے کو کہتے ہیں۔
قولہ تعالیٰ : وماتسئلھم علیہ من اجرٍ ، من صلہ ہے یعنی ماتسالھم جعلا، ان ھو یعنی ماھو، ھو سے مراد قرآن اور وحی ہے الاذکر یعنی نصیحت اور تذکرہ للعٰلمین سب جہانوں کے لیے۔
Ayahs 12:105–108آیت نمبر 105 تا 108
قولہ تعالیٰ ۔ وکاین من اٰیۃ فی السٰوٰت الارض خلیل اور سیبویہ نے کہا : یہ ای ہے اس پر کاف تشبیہ کا داخل ہوا تو این بن گیا، یہاں یہ کم کے معنی میں ہے سورة آل عمران میں اس کے حوالے سے گفتگو گرزچ کی ہے اور السمٰوٰت والارض کے حوالے سے سورة بقرہ میں بحث گزر چکی ہے۔ ایک قول کے مطابق یہ آیات گزشتہ امتوں کی سزاؤں کے آثار ہیں، یعنی وہ غافل تھے اور ان میں غور و فکر سے اعراض کرتے تھے۔ عکرمہ اور عمرو بن فائد نے والارض کو مرفوع پڑھا ہے اس صورت میں یہ مبتدا ہوگا اور اس کی خبر یمرون علیھا ہوگی۔ سدی نے فعل کو مضمر مانتے ہوئے والاض پڑھا ہے۔ ان دونوں قرأتوں کے مطابق وقف السمٰوٰت پر ہوگا۔ اور حضرت ابن مسعود ؓ نے یمرون کے بجائے یمشون علیھا پڑھا ہے۔
قولہ تعالیٰ : ومایؤمن اکثر ھم باللہ الاوھم مشرکون یہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے اس بات کا اقرار کیا کہ اللہ تعالیٰ ان کا اور سب اشیاء کا خالق ہے جبکہ وہ پوجا بتوں کرتے ہیں۔ یہ حضرت حسن بصری، مجاہد، عامر، شعبی اور اکثر مفسرین کا قول ہے۔ عکرمہ نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ولئن سالتھم من خلقھم لیقولن اللہ (الزخرف :87) اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ ان کو پیدا کرنے والا کون ہے تو ضرور کہیں گے : اللہ۔ پھر اللہ تعالیٰ کے بارے میں نازیبا کلمات کہتے ہیں اور اس کے شریک بناتے ہیں۔ حضرت حسن سے یہ بھی مروی ہے یہ اہل کتاب ہیں ان کے پاس شرک ایمان دونوں ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان لاتے ہیں اور محمد ﷺ کی تکفیر کرتے ہیں تو ان کے ایمان صحیح نہیں۔ ابن الانباری نے یہ روایت بیان کی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ آیت مشرکین عرب کے تلبیہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ان کا تلبیہ یہ تھا۔ لبیک لاشریک لک إلاشریکا ھولک تملکہ وما ملک حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ تیرا شریک ہے جس کو تو نے اپنا شریک بنایا ہے تو اس کا مالک ہے اور جس کا وہ مالک ہے اس کا بھی تو مالک ہے۔ آپ ہی سے روایت ہے کہ یہ نصاری ہیں اور یہ بھی رایت ہے کہ یہ مشتبھہ ہیں اجمالی طور پر ایمان لاتے ہیں اور تفصیلی طور پر شرک کرتے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی، معنی یہ ہوگا ومایومن اکثرھم باللہ یعنی زبان سے ایمان لاتے ہیں مگر دل سے وہ کافر ہیں۔ یہ ماوردی نے حضرت حسن سے روایت کی ہے۔ عطا نے کہا : یہ دعا کے متعلق ہے، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ کفار خوشحالی میں اپنے رب کو بھول جاتے اور جب ان پر کوئی مصیبت نازل ہوتی تو بڑے خلوص سے دعا مانگتے اس کی تفصل ان آیات میں ہے وظنوا انھم احیط بھم الآیہ (یونس :22) اور انہوں نے گمان کیا کہ انہیں گھیرلیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد : واذامس الانسان الضردعانالجتبہٖ الایہ (یونس : 12) اور جب انسان کو کوئی مصیبت آتی ہے تو اس کو دور کرنے کے لیے ہم سے دعا مانگتا ہے۔ اور ایک اور آیت میں ہے واذا مسہ الشرفذددعآءٍ عریض۔ (فصلت) اور جب اسے کوئی برائی لاحق ہو تو وہ لمبی چوڑی دعا والا ہوتا ہے۔ ایک قول یہ ہے اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ہلاکت کی نجات کے لیے دعا مانگتے ہیں اور جب اللہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو کوئی کہتا ہے : اگر فلاں نہ ہوتا تو ہم نجات نہ پاتے، اگر فلاں نہ ہوتا تو چور ہمارے پاس آجاتے اور اس طرح کے کلمات کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی نعمت کو فلاں کی طرف منسوب کردیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو ان کو چور سے بچایا ہوتا ہے اس کو کتے کہ طرف منسوب کردیتے ہیں۔
میں (قرطبی) نے کہا : اس قسم کی باتیں تو اکثر وام مسلمانوں سے بھی سرزد ہوجاتی ہے۔ ولاحول ولاقوۃ الاباللہ العلی العظیم۔ ایک قول کے مطابق یہ آیت واقعہ دخان کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ وہ واقعہ یوں ہے کہ قحط کے سالوں میں اہل مکہ کو دھویں نے ڈھانپ لیا تو انھوں نے کہا : ربنا اکشف عنا العذاب انا مؤمنون۔ (الدخان) اے ہمارے پروردگار ! ہم سے عذاب کو دور فرماہم ایمان دار ہیں تو یہ ان کا ایمان تھا اور عذاب کے چھٹ جانے کے بعد ان کا شرک، کفر کی طرف لوٹ گیا اس کا بیان اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے انکم عآبدون۔ (الدخان) تم لوٹ کرجانے والے ہو۔ لوٹ کر جانا ابتدا کے بعد ہی ہوتا ہے۔ تو الا وھم مشرکون کا معنی ہوگا : الاوھم عائدون۔ واللہ اعلم۔
قولہ تعالیٰ : افامنوٓا ان تاتیھم غاشیۃ من عذاب اللہ، غاشیۃ کا معنی حضرت ابن عباس ؓ نے مجللۃ کیا ہے یعنی ڈھانپا ہوا۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد ایسا عذاب ہے کو ان کو ڈھانپ لیتا ہو، اس کی مثال اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے : یوم یغشھم العذاب من فوقھم ومن ارجلھم (العنکبوت :55) جس دن ان کو ڈھانپ لے گا عذاب ان کے اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد وہ لڑائی ہے جو ان کے لیے بپا ہوگی۔ ضحاک نے کہا : اس سے مراد کڑک اور پھڑ پھڑانے والی ہے۔ اوتاتیھم الساعۃ یعنی قیامت بغتۃً حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، اس کی اصل مصدر ہے۔ مبرد نے کہا : عربوں سے نکرہ کے بعد حال کے جملے آئے ہیں جیسا کہ ان کا یہ قول : وقع امرھم بغتۃ وفجأۃ نحاس نے کہا : بغتۃ کا معنی مصیبت کا ایسی جگہ سے آنا ہے جہاں سے توقع نہ ہو۔ وھم لایشرون یہ تاکید ہے بغتۃ کے متعلق حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ چیخنے والی لوگوں پر چیخے گی اس حال میں کہ وہ اپنے بازاروں اور اپنے مقامات پر ہوں گے، جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تاخذھم وھم یخصمون۔ (یٰسین) وہ ان کو پکڑے گی در آنحالیکہ کردہ جھگڑ رہے ہوں گے۔
قولہ تعالیٰ : قل ھٰذہ سبیلی مبتدا اور خبر ہیں یعنی اے محمد ! ﷺ فرمادیجیے یہ میرا رستہ، سنت اور طریقہ ہے۔ یہ ابن زید کا قول ہے۔ ربیع نے کہا : سبیلی سے مراد دعوتی ہے، یعنی میری دعوت، مقاتل نے کہا : اس سے مراد دینی یعنی مراد دین ہے۔ معنی سب کا ایک ہی ہے، یعنی وہ طریقہ جس پر میں ہوں اور جس کی طرف میں دعوت دیتا ہوں وہ جنت کی طرف لے جاتا ہے۔ علیٰ بصیرۃٍ یعنی حق اور یقین پر، اسی سے فلان مستبصر بھذا ہے۔ انا تاکید ہے ومن اتمعنی مضمر پر عطف ہے۔ وسبحٰن اللہ یعنی اے محمد ﷺ ! فرمادیجئے وسبحن اللہ ومآ انا من المشرکین میں ان مشرکین سے نہیں ہوں جو اللہ تعالیٰ کے لیے مدمقابل بناتے ہیں۔
Ayahs 12:109–110آیت نمبر 109 تا 110
قولہ تعالیٰ : ومآ ارسلنا من قبلک الارجالاً نوحی الیھم من اھل القرٰی یہ ان لوگوں کا رد ہے جو یہ کہتے تھے : لولآ انزل علیہ ملک (انعام :8) کیوں نہ اترا اس پر فرشتہ، یعنی ہم نے مردوں کو رسول بنا کر بھیجا ہے، جن میں نہ کوئی عورت ہے نہ جن اور نہ کوئی فرشتہ، یہ اس روایت کی بھی تردید ہے جو نبی اکرم ﷺ سے بیان کی جاتی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” عورتوں میں چار نبی ہیں، حوا، آسیہ، ام موسیٰ اور مریم “۔ اس کے متعلق کچھ آل عمران میں گزر چکا ہے۔ من اھل القرٰی سے مراد مدائن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صحراؤں اور دیہاتوں میں رہنے والے لوگوں سے کوئی نبی مبعوث نہیں فرمایا کیونکہ دیہاتیوں میں جفا اور سختی کا غلبہ ہوتا ہے جبکہ شہروں میں رہنے والے زیادہ عقلمند، حلیم، افضل اور زیادہ جاننے والے ہوتے ہیں۔ حضرت بصری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اہل بادیہ سے کبھی بھی مبعوث نہیں فرمایا اسی طرح نہ جنوں اور عورتوں میں سے کسی کو نبی بنا کر بھیجا۔ حضرت قتادہ نے کہا : من اھل القرٰی، سے مراد من اھل الأمصار ہے کیونکہ وہ زیادہ حلم اور علم والے ہوتے ہیں۔ علماء نے کہا : رسول کی شرائط میں سے یہ ہے کہ وہ مرد ہو، آدمی ہو، اور شہری ہو، آدمی کی شرط علماء نے صرف ان کے اس قول سے بچنے کے لیے لگائی ہے کہ یعوذون برجال من الجن (الجن :6) وہ جنوں میں سے مردوں کی پناہ مانگتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
قولہ تعالیٰ : افلم یسیروافی الارض فینظروا کیا یہ لوگ زمین میں سیروسیاحت نہیں کرتے تاکہ انبیاء کو جھٹلانے والی قوموں کے انجام کو دیکھیں اور عبرت حاصل کریں۔ ولدار لاٰخرۃ خیر یہ متبدا اور خبر ہے۔ فراء کا خیال ہے کہ دار ہے ہی آخرت البتہ کسی چیز کو خود اس کی طرف لفظی اختلاف کی وجہ سے مضاف کردیا جاتا ہے، جسے یوم الخمیس، بارحۃ الاولی وغیرہ۔ شاعر نے کہا۔
ولو أقوت علیک دیار عبس عرفت الذل عرفان الیقین
عرفان بھی یقین ہی ہوتا مگر عرفان اور یقین دومختلف لفظ اس لیے شاعر نے عرفان الیقین کہہ دیا ہے۔ مراد عرفانا یقینًا ہے
کسائی نے صلاۃ الاولیٰ کے قول سے استدلال کیا ہے۔ اخفش نے مسجد الجامع سے استدلال کیا جبکہ نحاس نے کہا : اضافۃ الشی الی نفسہ محال ہے، کیونکہ کسی چیز کی اضافت دوسری چیز کی طرف اس لیے کی جاتی ہے تاکہ اس کے ذریعے اس کی معرفت حاصل ہوجائے سو عمدہ بات یہ ہے کہ الصلاۃ الاولیٰ کہا جائے اور جس آدمی نے صلاۃ الاولیٰ کہا اس کا مطلب عند صلاۃ الفریضۃ الاولی ہوگا۔ اس کو اولی اس وجہ کہا گیا کہ نماز کی فرضیت کے بعد سب سے پہلے یہی نماز ادا کی گئی اسی طرح سب سے پہلے جو سب سے زیادہ ظاہر ہوئی وہ بھی یہی ہے اسی وجہ سے اس کو ظہر بھی کہا جاتا ہے۔
تقدیر عبارت ہوگی، ولدار الحال الآخرہ خیر یہ بصریوں کا قول ہے اور اس دار سے مراد جنت ہے اور خیر سے مراد ھی خیر
للمتقین ہے۔ اس کو وللدار الاخرہ بھی پڑھا گیا ہے۔ نافع، عاصم اور یعقوب وغیرہ نے افلا تعقلون پڑھا ہے جبکہ باقی قراء نے خبر کے طور پر یعقلون پڑھا ہے۔
قولہ تعالیٰ : حتی اذا استیئس الرسل اس کی قرات اور معنی پہلے گزر چکا ہے۔ وظنوا انھم قد کذبوا اس آیت کریمہ میں انبیاء کی ایسے امور سے تنزیہ اور عصمت بیان کی گئی ہے جو ان کے شایان شان نہیں۔ یہ باب بہت بڑا ہے اور اس کا خطرہ بہت زیادہ ہے اس پر توقف کرنا چاہیے کہیں ایسا نہ ہو کہ انسان بھٹک جائے اور جہنم کا حقدار بن بیٹھے۔ معنی یہ ہوگا : اے محمد ﷺ ! ہم نے آپ سے پہلے صرف مردوں کو ہی رسول بنا کر بھیجا پھر ہم نے ان کی امتوں کو کوئی سزا نہیں دی حتی اذا استیئس الرسل تک کہ رسول مایوس ہوگئے، یعنی اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے۔ وظنوا انھم قد کذبوا یعنی انہیں یقین ہوگیا کہ ان کی قوم نے ان کی تکذیب کریں گے نہ کہ قوم نے تکذیب کریں گے نہ کہ قوم نے تکذیب کی بلکہ انبیاء نے گمان کیا کہ وہ ان کی تکذیب کریں گے ( کہ رسولوں نے کافروں پر جس عذاب کا وعدہ کیا تھا وہ عذاب اب تک نہیں آیا) یعنی انہیں یہ خوف لاحق ہوا کہ ان کے پیروکاروں کے دلوں میں شک داخل ہوجائے گا، تو اس طرح وظنو کی اس صورت میں یہ تاویل ہوگی۔ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعود، حضرت ابوعبدالرحمٰن سلمی، حضرت ابوجعفر بن قعقاع، حضرت حسن، حضرت قتادہ، ابو رجا عطاری، عاصم، حمزہ، کسائی، یحییٰ بن وثاب، اعمش اور خلف نے کذبوا کو مخفف پڑھا ہے یعنی قوم نے یہ گمان کیا کہ ان کے رسولوں نے انہیں جو عذاب کی خبر دی تھی اس میں انہوں نے ان سے جھوٹ بولا ہے اور سچ نہیں بولا۔ ایک قول یہ ہے معنی یہ ہوگا ان کی قوم نے یہ گمان کیا کہ رسولوں نے جوان سے اللہ کی مدد کا وعدہ کیا تھا وہ جھوٹا نکلا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ رسولوں نے گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے جو وعدہ کیا تھا اس کی خلاف ورزی کی (نعوذ باللہ) یہ روایت صحیح نہیں ہے، کیونکہ رسول ایسا گمان نہیں کرسکتا۔ اور جو ایسا گمان کرے وہ مدد کا مستحق نہیں ہوسکتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کیسے فرمایا : جآء ھم نصرنا ان کے پاس مدد آپہنچی ؟ ابونصر قشیری نے کہا : اگر یہ روایت صحیح ہے تو ایسا ہوسکتا ہے کہ بشر کے دل میں یہ بات کھٹکتی ہو البتہ ان کے دلوں میں وہ متحقق اور ثابت نہ ہوئی ہو، حدیث میں ہے :” بیشک اللہ تعالیٰ نے میری امت کی ایسی باتوں سے درگزر فرمایا ہے جو ان کے دلوں میں پیدا ہوتی ہیں، جب تک زبان نے وہ بات کہی نہ ہو یا اس پر عمل نہ کیا گیا ہو “۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ یہ کہا گیا ہو : وہ اس گمان کے قریب پہنچ گئے تھے جس طرح کہ آدمی کا قول : بلغت المنزل یعنی میں منزل کے قریب پہنچ گیا۔ ثعلبی اور نحاس نے حضرت ابن عباس ؓ سے ذکر کیا ہے آپ نے فرمایا : وہ بشر تھے اور لمبی آزمائش سے کمزور پڑگئے اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ ان کے ساتھ وعدہ خلافی ہوئی ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت کریمہ پڑھی حتی یقول الرسول والذین اٰمنوا معہ متٰی نصر اللہ (البقرہ :42) حتیٰ کہ رسول اور ایمان لانے والوں نے کہا : اللہ کی مدد کب آئے گی ؟ حکیم ترمذی نے کہا ہے : ہمارے نزدیک اس کی توجیہ یہ ہے کہ رسول اللہ تعالیٰ کی مدد کے وعدے کے بعد خوف زدہ ہوگئے تھے اور ان کا خوف زدہ ہونا اللہ تعالیٰ کے وعدے میں کمزوری کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ ان کے دلوں کی کمزروی کی وجہ سے تھا کہ کہیں کوئی ایسی بات نہ ہوگئ ہو جس نے اس شرط اور وعدوں کو توڑ دیا ہو جوان کے ساتھ کیا گیا تھا۔ تو جب مدت طویل ہوگئی تو اس بنا پر ناامیدی اور گمانات درآئے۔ مہدوی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت بیان کی ہے، کہ بشری تقاضوں کے مطابق انبیاء نے یہ گمان کیا کہ ان کے ساتھ وعدہ خلافی ہوگئی ہے۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ارشاد رب ارنی تحی الموتیٰ (البقرہ :260) سے آپ نے استشہاد کیا۔ (بہرحال) پہلی قرأت زیادہ مناسب اور اولیٰ ہے۔ مجاہد اور حمید نے قد کذبوا کاف کے فتحہ اور ذال مخفف کے ساتھ پڑھا ہے معنی یہ ہوگا کہ قوم نے جب عذاب کی تاخیر میں اللہ کے فضل کو دیکھا تو رسولوں نے جھوٹ بولا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ معنی یہ ہو : جب رسولوں کو یقین ہوگیا کہ ان کی قوم نے کفر اختیار کرکے اللہ پر جھوٹ بولا ہے تو رسول ہماری مدد کو لے آئے۔ بخاری میں حضرت عروہ ؓ نے آپ سے حتیٰ اذا استیئس الرسل کے متعلق سوال کیا۔ حضرت عروہ ؓ کہتے ہیں میں نے کہا : یہ کذبوا ہے یا کذبوا ؟ تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : کذبوا۔ میں نے کہا : ان کو یقین تھا کہ ان کی قوم نے ان کی تکذیب کی ہے تو پھر گمان کیسا ؟ آپ نے فرمایا : مجھے قسم انہیں یقین نہیں تھا۔ میں نے آپ کو کہا : وظنوٓا انھم قدکذبوا آپ نے فرمایا : معاذاللہ ! رسول اپنے رب کے بارے میں یہ گمان نہیں کرسکتے۔ میں نے کہا : تو اس آیت کا کیا مطلب ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : یہ رسولوں کے پیروکار تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے اور انہوں نے رسولوں کی تصدیق کی تھی وہ اللہ کی مدد آنے سے مایوس ہوگئے اور رسولوں نے یہ گمان کرلیا کہ اب ان کے پیروکار ان کی تکذیب کریں گے تو اس وقت ہماری مدد آگئی۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : جآء ھم نصرنا کے بارے میں دو قول ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ کی مدد رسولوں کے پاس آگئی یہ مجاہد کا قول ہے۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ ان کی قوم پر اللہ کا عذاب آگیا۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ فنجی من نشاء ایک قول یہ ہے کہ انبیاء اور ان پر ایمان لانے والے لوگوں (کونجات ملی) عاصم سے فنجی من نشآء ایک نون اور یا مفتوح کے ساتھ روایت کیا ہے۔ من فعل مجہول کا نائب فاعل ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے۔ ابوعبید نے اس قرات کو اختیار کیا ہے کیونکہ یہ مصحف عثمان ؓ اور دیگر مصاحف میں ہے۔ ابن محیصن نے فنجافعل ماضی پڑھا ہے۔ اور من فاعل ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے، جبکہ باقیوں کی قرات کے مطابق مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ولا یرد باسنا یعنی عذابنا ہمارا عذاب نہیں ٹالا جاسکتا۔
عن القوم المجرمین یعنی کافرین ومشرکین سے۔
Ayah 12:111آیت نمبر 111
قولہ تعالیٰ : لقد کان فی قصصھم یعنی حضرت یوسف، آپ کے باپ اور بھائیوں کے قصہ میں یا قوموں کے قصوں میں۔ عبرۃ یعنی فکر، تذکرہ اور نصیحت۔ لاولی الالباب یعنی بہت زیادہ عقلمندوں کے لیے۔ محمد بن اسحاق نے عن زہری عن محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی کہا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) ایک سو چھہتر سال زندہ رہے۔ اور آپ کے بھائی عیصو آپ کے ساتھ ایک دن میں فوت ہوئے اور دونوں ایک قبر میں دفن کیے گئے۔ اس وجہ سے اللہ کا ارشاد : لقد کان فی قصصھم عبرۃ لاولی الالباب سورت کے آخر تک ہے۔ ماکان حدیثًا یفترٰی یعنی یہ قرآن ایسی بات نہیں جو گھڑی گئی ہو یا یہ قصہ ایسی بات نہیں جو گھڑا گیا ہو۔ ولٰکنن تصدیق الذی بین یدیہ یعنی جوع اس سے پہلے ہیں تورات، انجیل اور اللہ تعالیٰ کی ساری کتب میں سے۔ یہ تاویل اس آدمی کی نزدیک ہوگی جس کا خیال ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے، و تفصیل کل شیء ایسی چیزیں جن کی بندوں کو ضرورت ہوتی ہے حلال و حرام اور شرائع و احکام وغیرہ وھدی ورحمۃً لقومٍ یومنون اور سراپا ہدایت و رحمت ہے اس قوم کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔