12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 12:10

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 12:10 in the Quran reader

ان میں سے ایک کہتے والے نے کہا کہ یوسف کو جان سے نہ مارو کسی گہرے کنوئیں میں ڈال دو کہ کوئی راہ گیر نکال (کر اور ملک میں) لے جائے گا۔ اگر تم کو کرنا ہے (تو یوں کرو) ۔

آیت نمبر 10 اس میں تیرہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : قال قآئل منھم کہنے والا یہوذا ہے، یہ حضرت یعقوب کا سب سے بڑا بیٹا تھا۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ ایک قول کے مطابق یہ روبیل ہے۔ اور یہ آپ کی خالہ کا بیٹا ہے وہی ہے جس نے فلن ابرح الارض کہا۔ ایک قول یہ ہے : وہ شمعون ہے۔ والقوہ فی غیبٰت الجب اہل مکہ، اہل بصرہ اور اہل کوفہ نے فی غیبٰت الجت پڑھا ہے جبکہ اہل مدینہ نے فی غیابات الجب پڑھا ہے ابوعبید کے نزدیک مختار واحد ہے کیونکہ اس سے مراد وہ ایک مقام ہے جہاں انہوں نے آپ کو پھنکا تھا اس وجہ سے انہوں نے جمع کا انکار کیا ہے۔ نحاس نے کہا : یہ لغت میں تنگی لانے کے مترادف ہے۔ اس کو جمع یعنی غیابات پڑھنا دواعتبار سے جائز ہے۔ سیبویہ نے سیرعلیہ عشیانات وأصیلانات حکایت کیا ہے اور اس سے مراد عشیۃ واصیلا ہے تو اس نے اس میں سے ہر وقت کو عشیۃ اور أصیلا بنا دیا ہے تو اسی طرح ہر وہ جگہ جہاں کوئی چیز چھپائی جائے وہ غیابۃ ہے۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ گہرے کنوئیں میں کئی تاریکیاں ہوتی ہیں۔ اور کہا جاتا ہے۔ غاب یغیب غیبا وغیابۃ جس طرح شاعر نے کہا ہے : ألا فالبثا شھرین أو نصف ثالث الی ذاکما قدغیبتی غیابیا ہر وی نے کہا : غیابۃ حوض یا کنوئیں کی وہ ایک طرف جس کو پانی کھا جاتا ہے یا پانی کے اوپر کنوئیں میں موجود طاق کے مشابہ ہے جو آنکھ سے کسی کو چھپالیتا ہے۔ ابن عزیر نے کہا : ہر وہ چیز جو آپ سے کسی چیز کو چھپالے وہ غیابہ ہے۔ میں (قرطبی) نے کہا : اسی سبب سے قبر کو غیابہ کہا گیا ہے۔ شاعر نے کہا : فإن أنا یومًا غیابتی فسیروا بسیری فی العشیرۃ والأھل اس شعر میں غیابتی سے مراد میری قبر ہے۔ اور ” جب “ سے مراد وہ حوض ہے جسے پتھروں سے نہ بنایا گیا ہو اور اگر اسے پتھروں سے بنایا جائے تو وہی کنواں کہلائے گا اعشی نے کہا : لئن کنت فی جب ثمانین قامۃ ورقیت أسباب السماء بسلم اس کو ” جب “ اس وجہ سے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ زمین میں ایک ٹکڑا کاٹا جاتا ہے اور ” جب “ کی جمع جببۃ وجباب وأجباب آتی ہے۔ اس آیت میں غیابہ اور جب دونوں کو جمع کردیا گیا کیونکہ اس سے کہنے والے کی مراد یہ تھی کہ اس کو کنوئیں کی کسی تاریک جگہ میں پھینکوتا کہ دیکھنے والے کی نظر اس تک نہ پہنچ سکے۔ ایک قول کے مطابق : یہ بیت المقدس کا کنواں ہے، ایک قول یہ ہے : وہ اردن میں ہے یہ وہب بن منبہ کا قول ہے مقاتل کا قول ہے : یہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے گھر سے تین فرسخ کے فاصلے پر تھا۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : یلتقطہ بعض السیارۃ جواب امر ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے۔ مجاہد، أبورجاء، حسن اور قتادہ نے تلتقطہ ” تا “ کے ساتھ پڑھا ہے اس صورت میں یہ اس معنی پر محمول ہوگا کہ بعض گزرنے والے سیارہ ہوتے ہیں۔ سیبویہ نے کہا : سقطت بعض أصابعہ یعنی سقطت کو مؤنث استعمال کیا ہے۔ اس پر اس نے شعر پڑھا : وتشرق بالقول الذی قد أذعتہ کما شرقت صدر القناۃ من الدم ایک اور شاعر نے کہا : أری مرالسئین أخذن منی کما أخذ السرار من الھلال شاعر نے شرق اور أخذت نہیں کہا۔ اور سیارہ سے مراد وہ جماعت ہے جو راستہ میں سفر کے لیے چلی ہے۔ کہنے والے نے یہ صرف اس وجہ سے کہا تاکہ انہیں آپ کو دور کسی جگہ لے جانے کی ضرورت بھی نہ پڑے اور مقصد بھی حاصل ہوجائے۔ پس گزرنے والوں میں سے جو آپ کو اٹھائے گا وہ آپ کو دور دراز مقام پر لے جائے گا تو گویا یہ ان کی تدبیر کی صورت تھی تاکہ ان کو بذات خود کوئی حرکت نہ کرنا پڑے۔ کیونکہ ہوسکتا تھا کہ ان کے والد ان کو اجازت نہ دیتے اور یہ بھی ہوسکتا تھا کہ وہ ان کے ارادے سے آگاہ ہوجاتے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ یہ اس بات پر دلیل ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی نہ اس واقعہ سے پہلے نبی تھے اور نہ ہی بعد میں کیونکہ انبیاء کسی مسلمان کے قتل کا منصوبہ نہیں بناتے البتہ وہ مسلمان تھے۔ ان کا یہ فعل اس عقیدے کی تردید کرتا ہے کہ انبیاء کبیرہ سے معصوم ہوتے ہیں جس طرح پہلے گزرچکا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس وقت وہ نبی نہ تھے پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت سے آگاہ فرمایا اور یہ زیادہ قرین قیاس ہے۔ وللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ ابن وہب نے کہا کہ امام مالک (رح) نے کہا ہے : حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں پھنکا گیا تو اس وقت وہ بچے تھے۔ اسی طرح ابن قاسم نے بھی آپ سے روایت کیا ہے، یعنی اس وقت آپ چھوٹے تھے۔ اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد : لاتقتلوا یوسف والقوہ فی غیٰبت الجب یلتقطہ بعض السیارۃ ہے آپ نے کہا کہ اٹھایا تو چھوٹے کو ہی جاسکتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ارسلہ معنا غدایرتع ویلعب وانالہ لحٰقظون بھی اس پر دلالت کرتا ہے۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ التقاط راستے سے کسی چیز کو اٹھانا ہے اسی طرح سے اللقیط اور اللقطہ ہے ہم (قرطبی) ان کے وہ احکامات جن پر آیت اور حدیث دلالت کرتی ہے اور اس سلسلے میں جو کچھ اہل علم اور اہل لغت نے کہا ہے ذکر کرتے ہیں۔ ابن عرفہ نے کہا ہے۔ التقاط سے مراد بغیر طلب کے کسی چیز کا پالینا ہے۔ اور اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد : یلتقطہ بعض السیارۃ ہے یعنی وہ ان کو پالیں گے بغیر اس کے کہ وہ گزرنے والی جماعت آپ کی تلاش میں ہو۔ علما کا لقیط کے بارے میں اختلاف ہے، ایک قول یہ ہے : اس کی اصل آزادی ہے کیونکہ آزاد، غلاموں پر غالب ہیں۔ حضرت حسن بن علی ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے لقیط کے آزاد ہونے کا فیصلہ دیا، اور وشروہ بثمن بخس دراھم معدودۃ (یوسف : 26) کی تلاوت فرمائی اسی جانب اشہب گئے ہیں جو امام مالک (رح) کے ساتھی ہیں اور یہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کا قول بھی ہے۔ اسی طرح حضرت علی ؓ اور ایک پوری جماعت سے روایت کیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم نخفی رحمۃ اللہ عنہ نے کہا : اگر اس نے اس کی غلامی کی نیت کی تو وہ مملوک ہوگا۔ اور اگر اس نے اجر وثواب کی نیت کی تو وہ آزاد ہوگا۔ امام مالک (رح) نے اپنے موطا میں لکھا ہے : ہمارے نزدیک لقیط کا معاملہ یہ ہے کہ وہ آزاد ہے اور اس کی ولاء مسلمانوں کی جماعت کے لیے ہوگی، وہی اس کے وارث ہوں گے اور وہی اس کے عاقلہ بھی ہیں۔ یہی امام شافعی (رح) کا قول ہے، انہوں نے نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد سے دلیل پکڑی ہے : وانما الولاء لمن أعتق، ولاء صرف اسی کی ہے جس نے آزاد کیا۔ امام شافعی (رح) نے فرمایا : نبی کریم ﷺ نے غیر معتق سے ولاء کی نفی کردی ہے۔ امام مالک (رح)، امام شافعی (رح) اور ان دونوں کے اصحاب اس بات پر متفق ہیں کہ لقیط کسی کا وارث نہیں بنے گا۔ امام اعظم ابوحنیفہ (رح) آپ کے اصحاب اور اکثر کو فیوں کا قول ہے : جو چاہے لقیط کا والی بن سکتا ہے اور جو اس کا والی بنے گا وہی اس کا وارث ہوگا اور اس کی طرف سے دیت بھی ادا کرے گا : اور امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی ولاء کے ساتھ جہاں چاہے منتقل ہوسکتا ہے جب تک کہ جو اس کا والی بنا اس نے اس کی طرف سے دیت ادا نہ کی ہو اگر اس نے اس کی طرف سے دیت ادا کی ہے تو کبھی بھی اپنی ولاء کے ساتھ منتقل نہیں ہوسکتا۔ ابوبکر بن ابی شیبہ نے حضرت علی ؓ سے ذکر کیا ہے۔ اگر وہ اس کا والی بننا چاہے جس نے اس کو اٹھایا تو وہ اس کا ولی بن جائے اور اس کے علاوہ اس کا والی بننا پسند کرتا ہے تو کسی اور کا والی بن جائے، اسی قسم کی بات حضرت عطا سے منقول ہے یہی ابن اشہاب (رح) اور اہل مدینہ کے ایک گروہ کا قول ہے، کہ لقیط آزاد ہے۔ ابن عربی نے کہا کہ لقیط کی اصل آزادی ہے غلام پر آزاد لوگوں کے غلبہ کی وجہ سے، لہٰذا غالب اکثریت پر فیصلہ کی جائے گا، پس اگر وہ ایسے گاؤں میں تھا جس میں سلمان اور عیسائی دونوں ہیں تو ابن قاسم نے کہا : جو زیادہ اکثریت میں ہے اس پر اس کا حکم لگایا جائے گا، اگر اس پر یہودیوں کا لباس ہے تو وہ یہودی ہے۔ اگر اس کا لباس نصاری والا ہے تو یہ نصرانی ہے۔ ورنہ وہ مسلمان ہوگا مگر یہ کہ اکثر گاؤں والے اگر اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب پر ہوں (تو پھر اس کے مسلمان ہونے کا حکم نہیں لگایا جائے گا) کسی اور آدمی کا قول ہے، اگر اس گاؤں میں ایک بھی مسلمان ہو تو لقیط کے مسلمان ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا، اسلام کے اس حکم کو غلبہ دیتے ہوئے کہ وہ غالب ہوتا ہے اور اس پر غلبہ نہیں پایا جاسکتا۔ اشہب کے قول کا مقتضیٰ بھی یہی ہے : وہ ہمیشہ مسلمان ہوگا کیونکہ میں اس کو ہر حال میں مسلمان ہی بناتا ہوں جس طرح کہ میں اس کو ہر حال میں آزاد بناتا ہوں۔ فقہاء کا ایسے لقیط کے بارے میں اختلاف ہے بینہ جس کی غلامی پر دلالت کرے۔ اہل مدینہ کے گروہ نے کہا ہے : اس سلسلہ میں بینہ کا قول نہیں کیا جائے گا۔ اسی جانب اشہب بھی گئے ہیں حضرت عمر ؓ کے اس ارشاد کی وجہ سے : وہ آزاد ہے، اور جس کی آزادی کا فیصلہ کردیا گیا اس کی غلامی کی بینہ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ابن قاسم نے کہا : اس معاملہ میں بینہ کو قبول کیا جائے گا، یہی امام شافعی (رح) اور کوفی کا قول ہے۔ مسئلہ نمبر 6 ۔ امام مالک (رح) نے لقیط کے بارے میں کہا : اگر ملتقط نے لقیط پر کچھ خرچ کیا ہو پھر کسی آدمی نے لقیط کے بارے میں بینہ پیش کردی کہ وہ اس کا بیٹا ہے تو اگر لقیط کے باپ نے جان بوجھ کر اس کو پھینکا تھا تو ملتقط باپ کی طرف رجوع کرسکتا ہے اور اگر پھینکنا نہ پایا جائے بلکہ وہ اس سے گم ہوگیا ہو تو پھر باپ پر کوئی چیز لازم نہ ہوگی اور ملتقط مفقہ کے سلسلہ میں متطوع شمار کیا جائے گا۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا : اگر اس نے لقیط پر کچھ خرچ کیا تو وہ متطوع (فی سبیل اللہ خرچ کرنے والا) ہوگا مگر یہ کہ حاکم نے اسے اس پر خرچ کرنے کا حکم دیا ہو۔ امام اوزاعی (رح) نے کہا : ہر وہ آدمی جس نے کسی ایسے آدمی پر خرچ کیا جس پر خرچ کرنا اس پر لازم نہ تھا تو یہ اس پر خرچ کردہ رقم کے ساتھ رجوع کرسکتا ہے۔ امام شافعی (رح) نے کہا : اگر لقیط کا مال نہ ہو تو اس کا نفقہ بیت المال پر ہوگا مال نہ ہونے کی صورت میں دو قول ہیں : ایک قول اس کے اپنے ذمہ میں اس کے لیے قرض لیا جائے گا اور دوسرا قول۔۔۔۔ بغیر کسی عوض کے مسلمانوں پر قسط باندھی جائے گی۔ مسئلہ نمبر 7 ۔ لقطہ اور ضوال (گمشدہ چیز) کے حکم میں علماء کا اختلاف ہے۔ اہل علم کے ایک گروہ نے کہا : لقطہ اور ضوال دونوں معنی میں برابر ہیں اور ان دونوں کا حکم بھی ایک ہی ہے یہ موقف امام ابو جعفر طحاوی (رح) کا ہے، انہوں نے ابوعبید قاسم کے اس قول کا انکار کیا ہے کہ گمشدگی صرف حیوان میں ہوتی ہے جبکہ لقطہ حیوان کے علاوہ دیگر چیزوں میں ہوتا ہے۔ اور فرمایا کہ یہ قول غلط ہے انہوں نے نبی کریم ﷺ کا ارشاد ان أمکم ضلت قلاد تھا کو بطور دلیل پیش کیا ہے کہ تمہاری ماں سے اس کا قلادہ گم ہوگیا۔ اس میں سرکار دو عالم ﷺ نے قلادہ پر مطلقا ضالہ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ مسئلہ نمبر 8 ۔ لقطہ کے بارے میں علماء کا اس بات پر اجتماع ہے کہ اگر وہ بالکل کوئی معمولی چیز ہو یا ایسی چیز ہو جو باقی نہیں رہ سکتی تو پھر پورا سال اس کا اعلان کیا جائے گا۔ اور اس پر بھی اجماع ہے کہ اگر سال گزرنے کے بعد مانقط اس چیز کو کھا گیا اور مالک اس کو اس کا ضامن بنانا چاہے تو وہ ایسا کرسکتا ہے اور اگر ملتقط نے اسے صدقہ کردیا ہو تو ٌپھر مالک کو ضامن بنانے اور اس کا اجروثواب حاصل کرنے دونوں کا اختیار ہے ان دونوں میں سے جس کو مالک اختیار کرے اس کے لیے بالاجماع ایسا کرنا درست ہوگا۔ صدقہ کرنے کے سبب میں ملتقط کا قبضہ نہیں چلے گا اور نہ ہی وہ سال سے قبل تصرف کرسکتا ہے علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ گمشدہ ریوڑ سے جس کا ضائع ہونے کا اندیشہ ہو اس کا کھانا ملتقط کے لیے جائز ہے۔ مسئلہ نمبر 9 ۔ فقہاء کا لقطہ کو اپنا لینے یا چھوڑدینے کی افضلیت کے بارے میں اختلاف ہے۔ اس سلسلے میں حدیث طیبہ میں لقطہ کو اٹھانے اور گمشدہ چیز کو لینے کے مباح ہونے پر دلیل ہے بشرطیکہ وہ اونٹ نہ ہو۔ بکری کے بارے میں آپ نے فرمایا : ” تمہارے لیے یا تمہارے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے “۔ اس میں آپ نے لقطہ کو اٹھانے پر ابھارا ہے اور کسی چیز کے بارے میں بھی آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ ضائع ہوجائے یا اس کا مالک آجائے۔ اگر لقطہ کو چھوڑدینا افضل ہوتا تو رسول ﷺ اس کا حکم ارشاد فرماتے جس طرح آپ نے اونٹ کی گمشدگی کے بارے میں فرمایا۔ واللہ اعلم۔ امام مالک (رح) کے اصحاب کے مذہب میں اس معاملہ میں گنجائش ہے۔ اگر وہ چاہے تو اس کو اٹھالے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے، یہ اسماعیل بن اسحاق (رح) کا قول ہے۔ مزنی نے امام شافعی (رح) سے نقل کرتے ہوئے کہا : میں کسی کے لیے اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ وہ لقطہ کو پانے کی صورت میں اس کو چھوڑ دے بشرطیکہ وہ اس پر امین ہو۔ امام شافعی (رح) نے کہا : لقطہ کا تھوڑا ہونا یا اس کا زیادہ ہونا ( اس سلسلہ میں) برابر ہے۔ مسئلہ نمبر 10 ۔ امام مالک (رح) اور دیگر ائمہ نے حضرت زید بن خالد جہتی ؓ سے روایت کیا، انہوں نے کہا : ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے آپ سے لقطہ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : ” لقطہ کی تھیلی اور رسی کے بارے میں پہچان کروا پھر سال بھر اس کا اعلان کر اگر اس کا مالک آجائے تو صیح ورنہ اس کے بارے میں تمہارا فیصلہ “ (صحیح ہوگا) پوچھنے والے نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ گمشدہ بکری ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :” تیرے لیے، تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیئے کے لیے “۔ اس نے کہا : گمشدہ اونٹ ؟ آپ نے فرمایا : ” تیرے لیے نہیں اور اس کے لیے ہے جس کے ساتھ اس کا مشکیزہ اور اس کے جوتے ہوں وہ پانی پر چلائے گا اور درخت کھائے گا یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پالے گا “۔ اور حضرت ابی ؓ کی روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا :” تو اس کی تعداد، برتن اور رسی کی حفاظت کر اگر اس کا مالک آجائے تو صحیح ورنہ اس سے نفع حاصل کر “۔ اس حدیث طیبہ میں تعداد کا لفظ زیادہ ہے۔ اس کو وغیرہ نے تخریج کیا ہے۔ علماء کا اس بات اجماع ہے کہ لقطہ کی تھیلی اور رسی اس کی علامات میں سے ایک علامت ہے۔ اور اس پر زیادہ دلالت کرتی ہے۔ جب لقطہ کا مالک اس کے تمام اوصاف کو بیان کردے گا تو لقطہ اس کے سپرد کردیا جائے گا ؟ ابن قاسم نے کہا ہے : اس کو دینے پر اٹھانے والے کو مجبور کیا جائے گا : اور اگر کوئی ایسا مستحق آگیا جو بینہ یعنی گواہی کی وجہ سے اس کا مستحق ٹھہرا ہے تو ملتفط کسی چیز کا ضامن نہیں ہوگا۔ اور کیا وہ آدمی اوصاف کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ قسم اٹھائے گا یا نہیں ؟ اس کے بارے میں دو قول ہیں پہلا قول اشہب کا ہے اور دوسرا قول قاسم کا۔ امام مالک آپ کے اصحاب اور امام احمد بن حنبل وغیرہ کے نزدیک بینہ اسے لازم نہیں جبکہ امام ابوحنیفہ (رح) اور امام شافعی نے فرمایا : یہ اس کے سپرد تب تک نہیں کیا جائے گا جب تک وہ اس بات پت بینہ پیش نہیں کرتا کہ یہ اسی کی ہے۔ اور یہ حدیث کی نص کے خلاف ہے، کیونکہ اگر حوالے کرنے میں بینہ شرط ہو تو پھر تھیلی، رسی اور عدد کے ذکر کا کوئی معنی نہیں، پس وہ بینہ کے ذریعے تو ہر حال میں اس کا مستحق ہوجائے گا اور نبی کریم ﷺ کا اس سے خاموشی اختیار فرمانا درست نہیں، لہٰذا یہ ضرورت کے وقت سے بیان کی تاخیر ہوگی۔ واللہ اعلم مسئلہ نمبر 11 ۔ حدیث طیبہ اونٹ اور ریوڑ پر نص ہے اور حدیث نے ان دونوں کے حکم کو بیان کردیا ہے اور ان کے علاوہ جتنے حیوان ہیں ان کے بارے میں حدیث میں سکوت ہے۔ ہمارے (قرطبی) علماء میں گائے کے بارے میں اختلاف ہے۔ کیا یہ اونٹ کے ساتھ ملحق ہوگی یا ریوڑ کیساتھ ؟ اسی طرح گھوڑے خچر اور گدھے کے التقاط کے بارے میں بھی ہمارے ائمہ کا اختلاف ہے۔ حضرت ابن قاسم (رح) کے قول کا ظاہر یہ ہے کہ انہیں اٹھایا جائے گا اور اشہب اور ابن کنانہ نے کیا ہے : نہیں اٹھایا جائے گا ابن قاسم (رح) کا قول زیادہ صحیح ہے نبی کریم ﷺ کے ارشاد کیوجہ سے : ” اپنے مومن بھائی کی گمشدہ چیز کی حفاظت کرو “۔ مسئلہ نمبر 12 ۔ علماء کا ضوال ( گمشدہ چیز) پر خرچ کرنے کے بارے میں اختلاف ہے امام مالک (رح) سے ابن قاسم نے ذکر کیا ہے کہ آپ نے کہا : اگر ملتقط نے چوپائیوں اور اونٹ وغیرہ پر خرچ کیا تو اس کے لیے جا ئز ہے کہ وہ لقطہ کے مالک پر نفقہ کیساتھ رجوع کرے خواہ اس نے اس پر حاکم کی اجازت کے ساتھ خرچ کیا یا اس کی اجازت کے بغیر آپ نے فرمایا : ملتقط کے لیے جائز ہے کے جو کچھ اس نے خرچ کیا اس نفقہ کے بدلے میں اس کو اپنے پاس روکے رکھے اور یہ اس کا زیادہ حق دار ہے جس طرح کہ رہن ہوتا ہے۔ امام شافعی (رح) نے کہا : جب گمشدہ چیز کو لینے والے نے اس پر خرچ کیا تو وہ متطوع ( فی سبیل اللہ خرچ کرنے والا) ہوگا ربیع نے یہ مسئلہ امام شافعی (رح) سے حکایت کیا ہے۔ مزنی نے امام شافعی (رح) کی طرف سے کہا ہے : جب حاکم نے اسے اس پر خرچ کرنے کا حکم دیا تو وہ دین ہوگا۔ اور جتنے کا اس نے دعویٰ کیا اس کی طرف سے قبول کیا جائے گا بشرطیکہ اتنا خرچ ہوجاتا ہو۔ امام اعظم أبو حنیفہ (رح) نے فرمایا : جب اس نے لقطہ اور اونٹ پر قاضی کی اجازت کے بغیر خرچ کیا تو متطوع ہوگا اور اگر قاضی کی اجازت کے ساتھ خرچ کیا تو یہ لقطہ کے مالک پر دین ہوگا جب بھی وہ آیا اور ملتقط کے لیے جائز ہے کہ جب اس کا مالک آئے تو اس کو اپنے پاس روک لے اور تین دن یا اس کے لگ بھگ وہ اس پر خرچ کرے یہاں تک کہ قاضی بکری یا اس کی مثل چیز کو بیچنے کا حکم دے اور اس کے نققہ کا فیصلہ کردے۔ مسئلہ نمبر 13 ۔ لقطہ کے بارے میں نبی کریم ﷺ کے ارشاد میں تعریف کے بعد ایسے الفاظ نہیں ہیں جو تملیک پر اور لقطہ کے مالک کے آنے کے بعد ملتقط سے ضمان کے ساقط ہونے پر دلالت کریں مثلاً : واسمتع بھاتم اس سے لطف حاصل کرو فشأنک بھا پس اس کے ساتھ تمہارا معاملہ فھی لک پس وہ تمہارے لیے ہے۔ فاستنفقھا پس تم اسے خرچ کرو۔ ثم کلھا پھر تم اسے کھاؤ، فھومال اللہ یؤتیہ من یشاء پس وہ اللہ کا مال ہے وہ جس کو چاہے دے دے۔ جس طرح کہ صحیح مسلم اور دیگر کتب میں ہے۔ حضرت زید بن خالد جہنی ؓ کی حدیث میں ہے جو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے :” پس اگر تو اس کا اعلان نہ کرے تو اس کو خرچ کرلے اور وہ تیرے پاس ودیعت بن جائے گی اور اگر زمانہ میں کبھی بھی اس کا مالک آگیا تو وہ اس کو ادا کرے “۔ ایک روایت میں ہے :” پھر تو اس کو کھالے اگر اس کا مالک آجائے تو اس کو وہ ادا کرے۔ اس کو امام مالک، امام بخاری (رح) نے روایت کیا ہے۔ علماء کا اجماع ہے کہ جب بھی اس کا مالک آگیا وہ اس کا زیادہ حق دار ہوگا سوائے داوٰدظاہری کے ان کا مؤقف یہ ہے کہ ملتقط تعریف کے بعد لقطہ کا مالک بن جائے گا ان ظواہر کی بنیاد پر، مگر ان کی بات کی طرف کوئی توجہ نہ دی جائے گی ایک تو اس وجہ سے کہ لوگوں نے اس کی مخالفت کی ہے اور دوسرا نبی کریم ﷺ کا ارشاد : فأذھاإلیہ کی وجہ سے کہ ” تو اس کو وہ ادا کردے “۔
Ayahs 12:11–12

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ Open ayah 12:11 in the Quran reader

(یہ مشورہ کرکے وہ یعقوب سے) کہنے لگے کہ ابا جان کیا سبب ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم اسکے خیر خواہ ہیں ؟

اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:12 in the Quran reader

کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے خوب میوے کھائے اور کھیلے کودے۔ ہم اسکے نگہبان ہیں۔

آیت نمبر 11 تا 12 قالوایٰابانامالک لاتامنا علیٰ یوسف حضرت حسن ؓ کو کہا گیا : کیا مؤمن حسد کرتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تجھے بنی یعقوب کا معاملہ کیوں بھول گیا ہے۔ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے : باپ بہت زیادہ چلانے والا ہے اور بھائی بہت زیادہ چھیننے والا ہے۔ اس وقت وہ ایک حیلہ کے ذریعے باپ، بیٹے کو جدا کرنے پر جمع ہوئے اور انہوں نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو کہا : قالوایٰابانامالک لا تامنا علیٰ یوسف ایک قول یہ ہے : جب انہوں نے باہم بات چیت کی اور متکلم ثانی کی رائے پر جدا جدا ہوئے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پاس واپس لوٹ کے گئے اور یہ بات کہی، اس میں اس بات پر بھی دلیل ہے کہ انہوں نے اس سے پہلے بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اپنے ساتھ نکلنے کے لیے حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے پوچھا مگر آپ نے انکار فرمایا جس طرح کہ آئے گا۔ یزید بن قعقاع، عمرو بن عبید اور زہری نے لاتامنا کو ادغام اور بغیر اشمام کے پڑھا ہے اور یہی قیاس ہے کیونکہ ادغام کا طریقہ یہ ہے کہ جب کا ادغام کیا جائے وہ ساکن ہو۔ طلحہ بن مصرف نے لاتامنا اصل پر رکھتے دونوں نونوں کو ظاہر کرکے پڑھا ہے۔ یحییٰ بن وثاب اور أبورزین نے لاتیمناتا کے کسرہ کے پڑھا ہے یہ لغت تمم ہے اور اعمش سے روایت ہے وہ کہتے ہیں أنت تضرف یہ پہلے گزر چکا ہے، تمام لوگوں نے اسے ادغام اور اشمام کے ساتھ پڑھا ہے، تاکہ یہ ادغام سے پہلے حرف کی حالت پر دلالت کرے۔ وانا لہ لنٰصحون یعنی ہم اس کی خفاظت میں (مخلص ہیں) حتی کہ ہم اسے آپ کے پاس واپس لے آئیں گے۔ مقاتل نے کہا : کلام میں تقدیم وتاخیر ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے اپنے باپ کو کہا : ارسلہ معناغدًا الایہ اس کو کل ہمارے ساتھ بھیجئے، تو اس وقت ان کے باپ نے کہا : انی لیحزننی ان تذھبوابہٖ تو اس وقت انہوں نے ان کی بات کے جواب میں کہا : مالک لاتامنا علیٰ یوسف الایہ۔ ارسلہ معنا غدًا یعنی اس کو کل ہمارے ساتھ بھیجئے صحراء کی طرف، یرتع ولیعب، غدا ظرف ہے سیبویہ کے نزدیک اصل غدو ہے یعض اوقات اس کو اصل کے مطابق بھی بولا جاتا ہے۔ نضربن شمیل نے کہا : فجر اور صبح کی نماز کے درمیان کے وقت کو غدوہ کہا جاتا ہے اسی طرح اس وقت کو بکرہ بھی کہا جاتا ہے۔ ترتع ونلعب نون اور عین کے سکون کے ساتھ اہل بصرہ کی قرأت ہے۔ اہل مکہ کی قرأت ہے۔ اہل مکہ کی قرأت میں سے معروف نرتع نون اور عین کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ اہل کوفہ کی قرأت یرتع ویلعب یا اور عین کے سکون کے ساتھ ہے اور اہل مدینہ کی قرأت یا اور عین کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ بہتر قرأت عربوں کے قول رتع الانسان والبصیر کے مطابق ہے۔ (یہ اس وقت بولتے ہیں) جب انسان اور اونٹ جس طرح چاہیں کھائیں۔ اور معنی یہ ہوتا ہے : ہم شادابی میں وسیع ہیں : اور ہر شاداب وادی خوشگوار ہے۔ شاعر نے کہا : فارعی فزأرۃ لاھناک المرتع۔ المرتع معنی چراہ گاہ ہے۔ ایک اور شاعر نے کہا : ترتع ما غفلت حتی أذا اد کرت فإنما ھی إقبال وادبار یہاں بھی ترتع اسی معنی پر دلالت کررہا ہے۔ دوسرے نے کہا : أکفراً بعد رد الموت عنی وبعد عطائک المائۃ الرثاعا الریاعا کا بیان بھی اسی معنی کو بیان کررہا ہے، یعنی الرتاعا سے مراد الراتعۃ ہے۔ معمر نے قتادہ سے ترتع روایت کیا ہے۔ نحاس نے کہا : انہوں نے اناذھبنا نستبق سے اسے اخذ کیا ہے کیونکہ اس کا معنی یہ ہے : ہم دوڑ میں اس کی معینہ انتہا میں سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اسی طرح عین کے سکون کے ساتھ یرتع بھی ہے، البتہ یہ اکیلا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے ہے اور ترتع عین کے کسرہ کے ساتھ ہو تو اس سے مراد وہ ہے جس نے ریوڑ کو چرایا یعنی یہ اس بات کی مشق اور تجربہ بھی کریں پس جی بھر کر کھائیں گے اور کبھی بچپن کی وجہ سے کھیلیں گے۔ قتبی نے کہا : یرتع یعنی ہم چوکیداری کریں گے اور حفاظت کریں گے اور ہم ایک دوسرے کا خیال رکھیں گے۔ اس صورت میں یہ آپکے قول : دعا ک اللہ سے ہوگا جس کا معنی ہے اللہ تیری حفاظت کرے۔ اور نلعب لعب سے ہوگا۔ ابو عمرو بن علا کو کہا گیا : انہوں نے نلعب کیسے کہا حالانکہ وہ انبیاء ہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا : اس وقت وہ انبیاء نہیں تھے۔ ایک قول یہ ہے : لعب سے مراد خوشی ومسرت میں سے جو مباح ہے وہ ہوگا نہ کہ وہ ممنوع کھیل مراد ہے جو حق وسچ کی ضد ہے، اسی وجہ سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کے نلعب کے قول کو رد نہیں فرمایا۔ اسی سے نبی کریم ﷺ کا ارشاد : فھلا بکرا تلا عبھاوتلاعبک ہے پس کیوں نہ باکرہ عورت کے ساتھ تو نے شادی کی تو اس کے ساتھ ملاعبت کرتا اور وہ تیرے ساتھ ملاعبت کرتی (اس حدیث میں سرکاردوعالم ﷺ نے لعب کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں) مجاہد اور قتادہ نے ترتع بمعنی مطیۃ پڑھا ہے۔ مفعول کو خذف کردیا گیا ویلعب کو مرفوع پڑھا ہے اس صورت میں یہ جملہ مستانفہ ہوگا اور معنی ہوگا : وہ اس میں سے تھا کو کھیلتا ہے۔ وانا لحٰفظون ہر اس چیز سے جس کا آپ کو اس پر خوف ہے۔ پھر یہ احتمال بھی ہے کہ وہ سوار ہو کر نکلے ہوں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ پیدل تھے منقول ہے کہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اس وقت تک اپنے کندھوں پہ اٹھائے رکھا جب تک حضرت یعقوب (علیہ السلام) ان کو دیکھ رہے تھے پھر جب وہ آپ کی آنکھوں سے غائب ہوئے تو انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو تکلیف دینے کے لیے اتاردیا تاکہ آپ ان کے ساتھ دوڑیں۔
Ayahs 12:13–14

قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ Open ayah 12:13 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ یہ امر مجھے غمناک کئے دیتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ (یعنی وہ مجھ سے جداہو جائے) اور مجھے یہ بھی خوف ہے کہ تم (کھیل میں) اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھاجائے۔

قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 12:14 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ اگر ہماری موجودگی میں کہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں اسے بھیڑ یا کھا گیا تو ہم بڑے نقصان میں پڑ گے۔

آیت نمبر 13 تا 14 قال انی لیحزننی ان تذھبوابہٖ محل رفع میں ہے یعنی تمہارا اس کے ساتھ جانا، آپ نے اپنی عدم موجودگی کے سبب اپنی پریشانی سے باخبر کیا۔ اخاف ان یاکلہ الذئب اور یہ اس وجہ سے تھا کہ آپ نے خواب میں دیکھا کہ بھیڑیا حضرت یوسف (علیہ السلام) پر حملہ آور ہوا تو آپ کو یہ خوف لاحق ہوا یہ کلبی کا قول ہے۔ ایک قول یہ ہے : آپ نے خواب دیکھا کہ آپ پہاڑی چوٹی پر ہیں اور حضرت یوسف (علیہ السلام) بطن وادی میں۔ اتنے میں دس بھیڑیوں نے آپ کو وحشت میں مبتلا کردیا جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کھانا چاہتے تھے تو ایک آدمی نے آپ سے ان کو زور سے دھکیلا پھر زمین پھٹ گئی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) تین دن تک اس میں چھپ گئے پس وہ دس آدمی آپ کے بھائی تھے جب وہ آپ کے قتل کی طرف مائل ہوئے تو جس نے آپ سے ان کو ہٹایا وہ آپ کا بڑا بھائی یہوذ اتھا اور زمین میں آپ کا چھپنا وہ تین دن آپ کا کنوئیں میں قیام تھا۔ اور ایک قول یہ ہے : آپ نے صرف اس لیے کہا کہ آپ کو ان کی طرف سے حضرت یوسف پر خوف تھا اور آپ نے بھیڑیے کے ذریعے وہ مراد لیے پس آپ کا خوف ان کی طرف سے آپ کا قتل تھا تو آپ نے ان کی پردہ پوشی فرماتے ہوئے بھڑیے کے ذریعے کنایۃ ان سے بات کی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : آپ نے ان کو بھڑیا کہا۔ ایک قول یہ ہے : آپ (علیہ السلام) کو ان کی طرف سے کوئی خوف نہ تھا ورنہ آپ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان کے ساتھ نہ بھیجتے اور آپ نے بھیڑیے سے صرف اس لیے ڈرایا کہ صحراوں میں اکثر ان سے خوف رہتا ہے۔ الذئب، تدابت الریح سے مشتق ہے جب وہ من کل وجہ آجائے اسی طرح احمد بن یحییٰ نے کہا ہے۔ انہوں نے کہا : الذئب مہموز ہے کیونکہ یہ من کل وجہ آتا ہے۔ ورش نے نافع سے الذیب بغیر ہمزہ کے روایت کیا ہے۔ جب ہمزہ ساکن ہو اور کا ماقبل مک سورة ہو تو وہ مخفف ہو کر یا بن جاتا ہے۔ وانتم عنہ غٰفلون یعنی تم کھانے پینے میں مشغول رہوگے۔
Ayah 12:15

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:15 in the Quran reader

غرض جب وہ اس کو لے گئے اور اس بات پر اتفاق کرلیا کہ اسکو گہرے کنوئیں میں ڈال دیں تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ (ایک وقت ایسا آئے گا کہ) تم ان کو اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور انکو (اس وحی کی) کچھ خبر نہ ہوگی۔

آیت نمبر 15 فلماذھبوابہٖ اجمعوٓا ایجعلوہ، ان محل نصب میں ہے یعنی علی ان یجعلوہ فی غیابۃ الجب اس قصہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ حضرت یعقوب نے جب آپ کو ان کے ساتھ بھیجا تو ان سے پختہ وعدہ لیا کہ وہ ضرور اس کی حفاظت کریں گے اور آپ کو روبیل کے سپرد کیا اور فرمایا : اے روبیل ! یہ چھوٹا ہے اور اے میرے بیٹے تو اس پر میری شفقت کو جانتا ہے اگر اسے بھوک لگے تو اس کو کھانا کھلانا اور اگر پیاس لگے تو پانی پلانا یہ اگر تھک جائے تو اٹھالینا پھر اس کو میرے پاس واپس لانے میں جلدی کرنا۔ انہوں نے آپ کو اپنے کندھوں پر اٹھانا شروع کیا ایک نہ اتارتا تھا کہ دوسرا اٹھالیتا اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کئی میل ان کے پیچھے چلے پھر واپس لوٹ گئے جب وہ اپنے باپ کی نظروں سے اوجھل ہوئے تو جس نے آپ کو اٹھایا ہوا تھا اس نے آپ کو زمین پر دے مارا حتیٰ کہ ہڈیاں ٹوٹنے کے قریب ہوگئیں تو آپ نے دوسرے کے پاس پناہ لی مگر ہر ایک کی طرف سے دوسرے سے زیادہ غصہ اور تکلیف ملی تو آپ نے روبیل سے مدد طلب کی اور کہا : تو میرا بڑا بھائی ہے میرے والد کے بعد میرا نگران ہے میرے بھائیوں میں میرے سب سے زیادہ قریب ہے۔ مجھ پر اور میری کمزروی پر رحم کر۔ تو اس نے آپ کو بہت سخت تھپڑ مارا اور کہا : میرے اور تیرے درمیان کوئی قرابت نہیں ان گیارہ ستاروں کو ملا جو تجھے ستاروں کو ملا جو تجھے ہم سے بچائیں تو آپ کو پتا چل گیا کہ ان کا حسد خواب کی وجہ سے ہے تو آپ اپنے بھائی یہوذا کے ساتھ چمٹ گئے اور کہا : اے میرے بھائی ! میری کمزوری، عاجزی اور کمسنی پر رحم کر اور اپنے باپ یعقوب (علیہ السلام) کے دل پر رحم کھا، کتنی جلدی تم اس کی وصیت کو بھول گئے اور اس کے عہد کو تم نے توڑ دیا، تو یہوذا کا دل نرم ہوا اور اس نے کہا : اللہ کی قسم جب تک میں زندہ ہوں یہ تمہارے کبھی بھی قریب نہ آسکیں گے تو اس نے کہا : اے میرے بھائیو ! جب نفس کو اللہ نے حرام کیا ہو اس کا قتل بہت بڑی غلطی ہے پس اس بچے کو اس کے باپ کے پاس واپس چھوڑ آؤ اور ہم اس کے ساتھ معاہدہ کرتے ہیں کہ یہ اپنے باپ کو اس واقعہ میں سے کچھ بھی نہیں بتائے گا، تو اس کے بھائی نے کہا : اللہ کی قسم تو فقط یعقوب (علیہ السلام) کے نذدیک اپنا مقام چاہتا ہے۔ اللہ کی قسم ! اگر تو نے اسے نہ چھوڑا تو ہم اس کے ساتھ تجھے بھی قتل کردیں گے، تو اس نے کہا : اگر تمہیں یہ بات پسند نہیں تو لو یہ تاریک اور خوفناک کنواں ہے جو سانپوں اور کیڑے مکوڑوں کی پناہ گاہ ہے۔ اسے اس میں پھنک دو اگر اسے ان میں سے کسی چیز نے آلیا تو یہی اس کی مراد ہوگی اور تم اس کے خون سے محفوظ رہوگے اور اگر یہ گزرنے والی کسی جماعت کے ہاتھ لگ گیا تو وہی اس کی قسمت ہوگی تو یہ معاملہ ان کے نزدیک طے ہوگیا یہی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فلما ذھبوابہٖ واجمعوٓا ان یجعلوہ غیٰبت الجب، لما کا جواب محذوف ہے یعنی فلما ذھبوابہ واجمعوا علی طرحہ فی الجب عظمت فتنتھم۔ ایک قول یہ ہے : لما کا جواب ان کا یہ قول ہے : قالو ایٰابانااناذھبنانستبق۔ ایک قول کے مطابق : تقدیر عبارت یوں ہے فلماذھبوابہ من عندابیھم واجمعوافی لجب جعلوہ فیھا یہ بصریوں کے مذہب کے مطابق ہے۔ جہاں تک کو فیوں کا قول ہے تو ان کے نزدیک اس کا جواب اوحینآ ہے واو مقحمہ ہے ان کے نزدیک ” واؤ “ لما اور حتی کے ساتھ زائدہ ہوتی ہے جیسے اللہ تعالیی کا ارشاد : حتیٰ اذا جآء فتحت ابوابھا (الزمر : 71) یعنی (اصل میں) فتحت ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذا جآء امرنا وفارالتنور (ہود :40) یعنی فار۔ امری القیس نے کہا : فلما أجزنا ساحۃ الحی وانتحی یہاں بھی واؤ زائدہ ہے یعنی اصل میں صرف انتحی ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد : فلمآاسلماوت کہ للجبین (الصافات) ہے ونادینٰہ (مریم :52) یعنی نادینٰہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : واوحینآ الیہ میں اس وقت میں آپ کی نبوت پر دلیل ہے حضرت حسن، مجاہد، ضحاک اور حضرت قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس حال میں نبوت عطا فرمائی کہ آپ تاریک کنویں میں پانی کے اوپر اٹھے ہوئے پتھر پر تھے۔ کلبی نے کہا : جس وقت آپکو کنوئیں میں پھینکا گیا اس وقت آپ کی عمر اٹھارہ سال تھی، اور آپ چھوٹے نہ تھے اور جس نے کہا ہے کہ آپ چھوٹے تھے تو عقلاً یہ بات بھی بعید نہیں کہ چھوٹے بچے کو بھی خبر دے دی جائے اور اس کی طرف وحی کردی جائے۔ ایک قول یہ ہے : وحی دراصل الہام تھا۔ جس طرح کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واوحٰی ربک الی النحل (النحل : 68) تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف الہام کیا۔ ایک قول یہ ہے : آپ خواب میں تھے۔ پہلا قول زیاہ ظاہر ہے۔ واللہ اعلم۔ جبرائیل امین آپ کے پاس وحی لے کر آئے۔ لتنبئنھم بامرھم اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی فرمائی کہ عنقریب انہیں اپنے کہے کی سزا مل جائے گی اس صورت میں وحی آپ کے دل کی تقویت اور سلامتی کی خوشخبری کے طور پر آپ کے کنویں میں پھینکے جانے کے بعد ہوئی۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ وحی فرمائی جو آپ کے بھائی آپ کے ساتھ کرنے والے تھے اس صورت میں وحی آپ کے کنوئے میں پھینکے جانے سے پہلے آپ کو بروقت خبردار کرنے کے لیے ہوئی۔ وھم لا یشعرون اور وہ یہ شعور نہیں رکھتے کہ آپ یوسف ہیں۔ اور یہ اس وقت ہے مصر میں حکومت آپ کے سپرد کی گئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ اپنے باپ اور بھائیوں کو اپنے مکان کے بارے میں آگاہ نہ کریں، ایک قول یہ ہے : اللہ تعالیٰ نے آپ کی نبوت کے بارے میں جو وحی فرمائی ( اس کا شعور نہیں) یہ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد کا قول ہے اور ایک قول یہ ہے ” ھا “ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے لیے ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں بذریعہ وحی اس سے آگاہ فرمادیا کہ جو کچھ انہوں (آپ کے بھائیوں) نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ کیا، اور عنقریب اللہ کے حکم سے آپ انہیں اس کے بارے میں بتائیں گے اور وہ (بھائی) اس بات کا شعور نہیں رکھتے جو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی۔ واللہ اعلم، حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ذکر کردہ قصہ جس کو سدی اور دیگر لوگوں نے ذکر کیا ہے۔ جب آپ کو گہرے کنوئیں میں پھنکا گیا۔ جب آپ کے بھائیوں نے آپ کو کنویں میں لٹکا دیا تو آپ کنوئیں کی منڈیر کے ساتھ لٹک گئے تو انہوں نے آپ کے ہاتھ باندھ دیے اور آپ کی قمض اتاردی۔ تو آپ نے کہا : اے میرے بھائیو ! مجھے میری قمیض واپس کروتا کہ اس کنوئیں میں اس کے ذریعے چھپ جاؤں پس اگر مرگیا تو وہ میرا کفن ہوگی اور اگر میں زندہ رہا تو اس کے ذریعے میں اپنی شرمگاہ کو ڈھانپ لوں گا۔ تو انہوں نے کہا : سورج چاند اور گیارہ ستاروں کو بلاوہ تمہارے سر کو ڈھانپیں اور تجھے کپڑے پہنائیں۔ آپ نے فرمایا : میں نے کسی چیز کو نہیں دیکھا، پس انہوں نے آپ کو کنوئیں میں لٹکا دیا یہاں تک کہ جب آپ اس کے نصف تک پہنچ گئے تو انہوں نے آپ کو اس ارادے کے ساتھ پھینک دیا کہ آپ گریں گے اور مرجائیں گے۔ کنوئیں میں پانی تھا، آپ اس میں گرے پھر آپ نے ایک چٹان کی پناہ لی اور اس پر کھڑے ہوگئے۔ ایک قول یہ ہے : شمعون نے اس کو یہ چاہتے ہوئے کاٹا کہ وہ آپ کو چٹان پر ٹکڑے ٹکڑے کردے، جبکہ جبرئیل امین ساق عرش کے نیچے تھے، پس اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ میرے بندے تک پہنچ۔ جبرئیل نے فرمایا : میں نے بہت زیادہ تیزی کی اور زمین پر اترا یہاں تک کہ میں رسی اور وقوع کے درمیان حائل ہوگیا اور میں نے آپ کو صحیح سلامت چٹان پر بٹھا دیا وہ کنواں شیروں کی پناہ گاہ تھا، آپ چٹان پر کھڑے ہوئے اور رونے لگے تو انہوں نے آپ کو آواز دی آپ نے اس آواز کو اپنے اوپر ایسی رحمت سمجھا جس نے انہیں (بھائیوں کو) پکڑلیا ہے۔ تو آپ نے انہیں جواب دیا۔ انہوں نے آپ کو چٹان سے گرانا چاہا مگر یہوذا نے انہیں روکا، یہوذا آپ کے پاس کھانا لایا کرتا تھا، جب آپ ننگے ہوگئے تو جبرئیل آپ کے پاس پہنچا اور جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ننگا آگ میں ڈالا گیا تو جبرائیل ریشم کی ایک قمیض لے کر آئے اور اس نے آپ کو پہنادی وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس تھی پھر حضرت اسحاق (علیہ السلام) اس کے وارث بنے پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) وارث بنے جب حضرت یوسف (علیہ السلام) بڑے ہوئے تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اس قمیض کو ایک تعویز میں ڈال کر آپ کے گلے میں ڈال دیا حضرت یوسف (علیہ السلام) اس کو علیحدہ نہیں کرتے تھے، جب آپ کو ننگا کنوئیں میں ڈالا گیا تو جبریل (علیہ السلام) نے وہ قمیض نکال کر آپ کو پہنادی۔ دہب نے کہا : جب آپ چٹان پر کھڑے ہوئے تو آپ نے کہا : اے بھائیو ! ہر میت کی کوئی نہ کوئی وصیت ہوتی ہے۔ میری وصیت کو سنو، انہوں نے کہا : وہ کیا ہے ؟ آپ نے کہا : جب تم سارے اکھٹے ہو کر ایک دوسرے سے مانوس ہورہے ہوگے تو میری غیربت کو یاد کرنا اور جب تم کسی نوجوان کو دیکھو گے تو میری جوانی کو یاد کرنا، جبریل نے کہا : اے یوسف ! اس (وصیت) کو چھوڑو اور دعا میں مشغول ہوجاو، دعا کا اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑا مقام ہے پھر جبریل (علیہ السلام) نے آپ کو دعا بتائی تو آپ نے عرض کیا : اے اللہ ! اے ہر اجنبی کے مؤنس ! اے ہر تنہا کے ساتھی ! اے ہر خوف زدہ کے ملجا ! اے ہر مصیبت کو دور کرنے والے ! اے ہر سرگوشی کو جاننے والے ! اے ہر شکوہ کی انتہا اور اے ہر اجتماع کے حاضر ! اے زندہ ! اے زندہ رکھنے والے ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ اپنی امید میرے دلا میں ڈال دے یہاں تک کہ میرے نزدیک تیرے سوانہ کوئی غم اور نہ کوئی مصروفیت رہے، اور میرے لیے میرے معاملہ میں وسعت اور نکلنے کی راہ پیدا فرما دے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، فرشتوں نے کہا : اے ہمارے معبود ! ہم آواز اور دعا سنتے ہیں، آواز بچے کی ہے اور دعا نبی کی۔ ضحاک نے کہا : جبریل (علیہ السلام) حضرت یوسف (علیہ السلام) پر اس حال میں اترے کہ آپ گہرے کنوئیں میں تھے تو جبریل (علیہ السلام) نے کہا : کیا میں آپ کو ایسے کلمات نہ سکھاوں کہ جن کو اگر تم کہو تو اللہ تعالیٰ جلدی اس کنوئیں سے نکال لے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، تو جبریل (علیہ السلام) نے کہا : اے ہر مصنوع کو بنانے والے، اے ہر ٹوٹی ہوئی چیز کو درست کرنے والے، اے ہر راز کے شاہد، اے اجتماع کے حاضر، اے ہر مصیبت کو دور کرنے والے، اے اجبنی کے دوست اور اے ہر تنہا کے مونس ! میرے لیے کشادگی اور امید کو لا اور اپنی امید میرے دل میں ڈال دے یہاں تک کہ میں تیرے سوا کسی کی امید نہ کروں، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس دعا کو اس رات بار بار دہراتا تو اللہ تعالیٰ نے اس دن صبح آپ کو اس کنوئیں سے نکالا۔
Ayah 12:16

وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ Open ayah 12:16 in the Quran reader

(یہ حرکت کرکے) وہ رات کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے

آیت نمبر 16 اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ وجآء وٓاباھم عشآءً ، عشآءً سے مراد لیلاً ہے یعنی رات کے وقت یہ ظرف ہے اور حال کی جگہ میں ہے، وہ رات کے وقت آئے تاکہ تاریکی میں زیادہ بہتر انداز میں عذر گھڑسکیں، اسی وجہ سے کہا گیا ہے : رات کے وقت حاجب نہ مانگو، بیشک حیا دونوں آنکھوں میں ہے اور دن کے وقت گناہ سے عذر نہ کر تو عذر کرنے میں شرمندگی محسوس کرے گا۔ روایت ہے کہ جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کی گریہ زاری کو سنا تو فرمایا : تمہیں کیا ہوا ؟ ریوڑ میں کوئی مسئلہ بن گیا ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : یوسف کہاں ہے ؟ انہوں نے کہا : ہم دوڑ لگانے گئے تو بھیڑیا اسے کھا گیا، آپ روئے اور چیخے اور فرمایا : اس کی قمیض کہاں ہے ؟ جس طرح کہ اس کا بیان انشاء اللہ آئے گا۔ سدی اور ابن حبان نے کہا : جب انہوں نے کہا کہ اسے بھڑیا کھا گیا ہے تو آپ بےہوش ہو کر گر پڑے تو انہوں نے آپ پر پانی ڈالا مگر آپ نے کوئی حرکت نہ کی اور انہوں نے آوازیں دیں مگر آپ نے کوئی جواب نہ دیا، وہب نے کہا : یہوذا نے اپنا ہاتھ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے منہ اور ناک پر رکھا تو اس نے سانس کی حرکت کو بھی محسوس نہ کیا اور نہ ہی آپ کی نبض چلی، تو یہوذا نے انہیں (دیگر بھائیوں کو) کہا : قیامت کے ان مالک کی طرف سے ہمارے لیے ہلاکت و بربادی ہو ! ہم نے اپنے بھائی کو ضائع کردیا، حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو سحری کی ٹھنڈک سے کچھ افاقہ ہوا، آپ کو افاقہ ہو اتو آپ کا سرروبیل کی گود میں تھا، آپ نے فرمایا : اے روبیل ! کیا میں نے تجھے اپنے بیٹے پر امین نہیں بنایا تھا ؟ کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا ؟ اس نے کہا : اے میرے باپ ! اپنے رونے کو مجھ سے روکو، میں آپکو بتاتا ہوں، حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنا رونا روکا تو اس نے کہا : اے میرے باپ : اناذھبنا نستبق وترکنایوسف عند متاعنا فاکلہ الذئب ہم ذرا دوڑ لگانے گئے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ گئے تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ ہمارے علماء نے کہا : یہ آیت اس بات پر دلیل ہے کہ آدمی کا رونا اس کی گفتگو کی سچائی پر دلالت نہیں کرتا کیونکہ اس میں احتمال ہے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ تصنع کررہا ہو، تو مخلوق میں سے کوئی ایسا کرسکتا ہے اور کوئی نہیں کرسکتا، کہا گیا ہے : بناوٹی آنسو نہیں چھپ سکتا، جس طرح کہ حکیم نے کہا ہے : إذا اشتبکت دموع فی خدود تبین من بکی ممن تباکی جب آنسورخساروں پر رہتے ہیں تو جو واقعی رورہا ہو بناوٹی رونے والے سے واضح ہوجاتا ہے۔
Ayah 12:17

قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ Open ayah 12:17 in the Quran reader

(اور) کہنے لگے کہ ابا جان ہم تو دوڑ نے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے۔ تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے۔

آیت نمبر 17 اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ لستبق باب افتعال ہے : مسابقہ (باہم دوڑ لگانا) سے، ایک قول ہے : یعنی ہم نیزہ بازی کررہے تھے اسی طرح حضرت عبداللہ کی قرأت میں اناذھبناننتضل ہے یہ بھی دوڑ کی ایک قسم ہے یہ زجاج کا قول ہے۔ ازھری نے کہا ؛ نضال، تیروں میں ہوتا ہے اور رھان گھوڑے میں ہوتا ہے جبکہ مسابقہ کا لفظ ان دونوں کو جامع ہے۔ قشری ابونصر نے کہا : لستبق یعنی تیر اندازی میں، یا گھوڑے پر یا پھر دوڑنے میں، دوڑنے میں سابقہ سے مقصود دشمن کے خلاف سانس کی مشق ہے کیونکہ دشمن کے قتال میں اور ریوڑ سے بھیڑیے کو بھگانے میں یہ بھی ایک آلہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ سدی اور ابن حبان نے کہا : نستبق سے مراد ہے کہ ہم نے دوڑ میں بہت زیادہ شدت اختیار کی تاکہ ہم دیکھیں کہ ہم سے کون زیادہ آگے بڑھتا ہے ؟ ابن عربی نے کہا : سابقہ شریعت میں ایک طریقہ، عمدہ خصلت اور جنگ میں مددگار ہے۔ نبی کریم ﷺ نے خود بھی ایسا کیا اور اپنے گھوڑے کے ذریعے بھی مقابلہ فرمایا، اور آپ نے حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ دوڑ میں مقابلہ فرمایا تو آپ ان سے آگے نکل گئے پھر جب رسول اللہ ﷺ بڑے (سن رسیدہ) ہوگئے تو آپ ان کے ساتھ مقابلہ کیا تو حضرت عائشہ ؓ آپ سے سبقت لے گئیں تو آپ نے فرمایا : ” یہ اس کا بدلہ ہے “۔ میں (قرطبی) نے کہا : حضرت سلمہ بن اکوع ؓ نے ذی قرد سے مدینہ طیبہ کی طرف واپسی پر ایک آدمی کیساتھ مقابلہ کیا اور حضرت سلمہ بن اکوع سبقت لے گئے۔ (خرجہ مسلم) مسئلہ نمبر 2 ۔ مالک عن نافع عن ابن عمر ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اضمار شدہ گھوڑوں کے درمیان حفیاء سے لے کر ثنیتہ الودع تک مقابلہ کرایا اور جن کو اضمار نہیں کیا گیا تھا ان کا مقابلہ ثنبۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک کرایا۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بھی ان لوگوں میں سے تھے جن کے درمیان مقابلہ کرایا گیا۔ اس باب میں یہ حدیث اپنے ضمن میں تین شرائط کو لیے ہوئے ہے جن کے بغیر مقابلہ جائز نہیں۔ ایک یہ کہ مقابلہ کی مسافت معلوم ہونی چاہئے۔ دوسری یہ کہ گھوڑے مساوی صفت کے ہونے چاہیں۔ تیسری یہ کہ مضمر گھوڑے کا مقابلہ غیر مضمر کے ساتھ ایک ہی مسافت اور ایک ہی مقصد کے لیے نہیں ہونا چاہیے، مقابلہ کی یہ سنت جن گھوڑوں میں ہوگی وہ وہ گھوڑے ہیں جن کو دشمن کے ساتھ جہاد کے لیے تیار کیا گیا ہو نہ کہ فتنوں میں مسلمانوں کے باہمی قتال کے لیے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ نیزہ بازی اور اونٹ میں دوڑ کا مقابلہ کرانے کے متعلق امام مسلم نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کی ہے انہوں نے کہا : ہم نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ سفر کیا ہم ایک مقام پر رکے ہم میں سے کوئی چھپن چھودکھیلنے لگا اور کوئی نیزہ بازی کرنے لگا اور انہوں نے حدیث کا ذکر کیا۔ نسائی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” نیزہ بازی، اونٹوں کی دوڑ اور گھوڑوں کی دوڑ کے سوا کوئی مقابلہ نہیں “۔ نیزہ بازی کا ذکر ابن ابی زئب عن نافع بن ابی نافع عن ابی ہریرہ ؓ کی حدیث سے بھی ثابت ہے۔ اس کو نسائی نے ذکر کیا ہے۔ اور یہی حجاز اور عراق کے فقہاء کہتے ہیں۔ امام بخاری (رح) نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا انہوں نے کہا : نبی کریم ﷺ کی ایک اونٹنی تھی کس کا نام عضباء تھا وہ کبھی مقابلہ میں کسی سے پیچھے نہیں رہتی تھی (حمید نے لاتسبق کے بعد أولاتکاد تسبق کے الفاظ بیان کیے ہیں ) ۔ ایک مرتبہ ایک اعرابی ایک اونٹ پر آیا اور وہ اس سے اگے نکل گیا تو مسلمانوں کو اس بات سے رنج ہوا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ جو چیز بھی دنیا میں سر بلند ہو وہ اس کو سرنگوں کردے “۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ سوائے اونٹ، گھوڑے اور نیزہ بازی کے مقابلہ جائز نہ ہوگا۔ امام شافعی (رح) نے کہا : ان تین کے علاوہ میں مقابلہ جوا ہے۔ أبو البختری قاضی نے الجف والحافر والنصل والی حدیث میں أوجناح کے الفاظ کی زیادتی کی ہے۔ یہ لفظ اس نے رشید کی خاطر بڑھائے علماء نے اسی وجہ سے اور اس کی دیگر موضوعات کی وجہ سے اس کی حدیث کو چھوڑ دیا ہے۔ علماء کسی بھی صورت میں اس کی حدیث کو نہیں لکھتے۔ امام مالک (رح) سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : گھوڑے اور نیزہ بازی کے علاوہ کسی چیز میں مقابلہ نہیں کیونکہ یہی اہل حرب کے خلاف قوت ہیں۔ اور کہا : ہمارے نزدیک نیزہ بازی کی نسبت گھوڑے کا مقابلہ زیادہ پسندیدہ ہے۔ بعض علماء نے سوائے گھوڑے کے مقابلہ کے باقی ہر چیز میں شرط لگانے سے منع کیا ہے، کیونکہ عربوں کی یہی عادت تھی کہ وہ صرف گھوڑے میں ہی شرط لگاتے تھے۔ عطا سے روایت ہے کہ ہر چیز میں شرط لگانا جائز ہے اور ان کے قول کی یہ تأویل کی جاتی ہے کیونکہ ان کا اس کو عموم پر محمول کرنا تو جوئے کی اجازت کا سبب بنے گا حالانکہ یہ تو بالاتفاق حرام ہے۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ گھوڑے اور اونٹ میں مقابلہ صرف اسی صورت میں جائز ہوگا جب مسافت اور اس کی انتہا معلوم ہو جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے۔ اسی طرح نیزہ بازی میں مقابلہ جائز نہیں مگر ہو جب اس کی غایت معلوم ہو اور کمان بھی معلوم ہو، اور ٹارگٹ کی صورت کا علم ہو، اس ٹارگٹ کو پار کرنے کی شرط لگائی گئی ہو یا بغیر شرط کے پار ہوجائے۔ دوڑ میں سبقت کی تین صورتیں ہیں : حاکم یا حاکم کے علاوہ کوئی اور آدمی اپنے پاس سے رقم دے اور سبقت لے جانے والے کے لیے معلوم رقم کو مختص کردے اب جو بھی سبقت لے گا وہ رقم لے لے گا۔ دو آدمی مقابلہ کریں، دو مقابلہ کرنے والوں میں سے ایک رقم لکالے جبکہ دوسرا رقم نہ دے اگر دوسرا آدمی سبقت لے گیا تو وہ اس رقم کو حاصل کرلے گا۔ مقابلے کی تیسری صورت میں اختلاف ہے، وہ صورت یہ ہے کہ دو مقابلہ کرنے والوں میں سے ہر ایک برابر رقم دیں اور یہ شرط لگالیں کہ جو بھی سبقت لے گیا وہ ساری رقم لے لے گا۔ پھر جو سبقت لے گیا اس نے دونوں کی رقم لے لی۔ یہ صورت جائز نہیں یہاں تک کہ وہ دونوں اپنے درمیان ایک ایسے محلل کو داخل کریں جس سے ان دونوں کو یہ خطرہ ہو کہ وہ ان سے سبقت لے جاسکتا ہے پس اگر محلل سبقت لے گیا تو وہ ان دونوں کی رقم حاصل کرلے گا اور اگر ان دونوں میں سے کسی نے سبقت لی تو جس نے بھی سبقت لی وہ دونوں کی رقم لے لے گا۔ اور محلل کو کچھ نہیں ملے گا نہ ہی کوئی چیز دینی ہوگی اور اگر دوسرے نے صرف تیسرے پر سبقت حاصل کی تو گویا اس نے کسی پر بھی سبقت حاصل نہیں کی۔ امام شافعی (رح) کے اصحاب میں سے ابوعلی بن خیران نے کہا : محلل گھوڑے کا حکم یہ ہے کہ اس کی دوڑ کے بارے میں معلوم نہ ہو اور اس کو محلل اس وجہ سے کہتے ہیں کیونکہ وہ دو مقابلہ کرنے والوں کے مقابلہ کو حلال کرتا ہے یا خود اپنے مقابلے کو حلال کرتا ہے۔ اور علماء کا اس پت اتفاق ہے کہ ان دونوں کے درمیان محلل نہ ہو اور دو مقابلہ کرنے والوں نے یہ شرط لگائی ہو کہ جس نے بھی سبقت لی وہ اپنی رقم اور دوسرے کی رقم لے لے گا تو یہ صراحتاً جوا ہے اور جائز نہیں ہے۔ سنن ابی داؤد میں حضرت ابوہریر ؓ سے روایت ہے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی، آپ نے فرمایا : ” جس آدمی نے دوگھوڑوں کے درمیان ایک گھوڑا ڈالا جس نے بارے میں یہ خطرہ تھا کہ وہ سبقت لے جائیگا تو یہ جوا نہیں اور اس نے ایسا گھوڑا ڈالا جس کے بارے میں سبقت لے جانے کا خطرہ نہیں تھا تو یہ جوا ہے “۔ موطًاء میں حضرت سیعد بن مسیب سے روایت ہے انہوں نے کہا : گھوڑوں کی دوڑ میں شرط لگانے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ ان میں محلل ہو پس اگر وہ سبقت لے جائے تو انعام حاصل کرلے گا اور اگر دوسرے گھوڑے سبقت لے جائیں تو اس محلل پر کوئی چیز لازم نہ ہوگی۔ یہی امام شافعی (رح) اور جمہور اہل علم کا قول ہے۔ اس میں امام مالک (رح) کا قول محتلف ہے، ایک قول یہ ہے کہ گھوڑوں میں محلل کو لانا لازم نہیں اور ہم حضرت سیعد بن مسیب کے قول کو نہیں لیتے، پھر آپ نے کہا : محلل کے بغیر مقابلہ جائز نہیں، آپ کا یہی قول زیادہ عمدہ ہے۔ مسئلہ نمبر 6 ۔ گھوڑے اور اونٹ کے مقابلے میں صرف نوجوان (بالغ) آدمی کو ہی سوار کیا جائے گا، اور اگر گھوڑوں کے مالک خود سوار ہوں تو یہ زیادہ بہتر ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے آپ نے فرمایا : مقابلہ میں گھوڑوں پر صرف ان کے مالک ہی سوار ہوں گے۔ امام شافعی (رح) نے کہا : مقابلہ کی کم از کم صورت یہ ہے کہ وہ گردن سے آگے بڑھے یا اس کے بعض حصے سے آگے بڑھے، یا پھر اس کے پچھلے حصے یا اس کے بعض سے آگے بڑھے۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک نیزہ بازی کے مقابلہ کی بھی یہی صورت ہوگی۔ امام محمد بن حسن (رح) کا قول شافعی (رح) کے قول کی طرح ہے۔ مسئلہ نمبر 7: نبی کریم ﷺ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کیساتھ مقابلہ کیا، رسول اللہ ﷺ پہلے پہنچے حضرت ابوبکر ؓ کے گھوڑے کا سر رسول اللہ ﷺ کے گھوڑے کے ڈھڑ کے قریب تھا اور حضرت عمر ؓ کا گھوڑا تیسرے نمبر پر تھا۔ وترکنایوسف عندمتاعنا یعنی اپنے کپڑوں اور سامان کے پاس نگرانی کے لیے۔ فاکلہ الذئب جب انہوں نے اپنے باپ کو یہ کہتے ہوئے سنا : واخاف ان یاکلہ الذئب مجھے خوف ہے کہ اسے بھیڑیا نہ کھاجائے تو انہوں نے اس وجہ سے یہی کہا کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں پائے جانے والے اندیشوں میں یہ زیادہ ظاہر تھا۔ ومآانت بمؤمن لنا مومن سے مراد تصدیق کرنے والا۔ ولوکنا یعنی ان کنا یہ مبرد اور ابن اسحاق کا قول ہے۔ صٰدقین یعنی اپنی بات میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کی تصدیق اس وجہ سے نہ کی کہ آپ کے سامنے ان کی طرف سے کہی جانے والی باتوں کے خلاف بہت سے دلائل ظاہر ہوچکے تھے جس طرح کہ ان کا بیان آئے گا۔ ایک قول یہ ہے : ولؤکناصٰدقین یعنی اگر ہم آپ کے نزدیک سچے اور قابل اعتماد بھی ہوتے پھر بھی آپ ہم پر جھوٹ کی تہمت لگاتے اور آپ ہماری تصدیق نہ کرتے کیونکہ آپ کو یوسف سے شدید محبت ہے۔