Ayahs 12:30–32آیت نمبر 30 تا 32
وقال نسوۃ فی المدینہ، نسوۃ کو نون کے ضمہ کے ساتھ نسوہ بھی پڑھا گیا ہے۔ یہ اعمش، مفصل اور سلمی کی قرأت ہے اس کی جمع کثرت نساء ہے اس کو قالت نسوہ اور قال نسوہ دونوں طرح پڑھنا جائز ہے جیسے قالت الاعراب اور قال الاعراب یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کہ ابل مصر میں یہ قصہ مشہورہوگیا اور عورتوں نے گفتگو کی۔ ایک قال یہ ہے : یہ عزیز مصر کے ساقی کی بیوی تھی، اس کے نان بائی کی بیوی تھی، اس کے قیدی ساتھی کی بیوی تھی وغیرہ۔ ایک قول یہ ہے : حاجب کی بیوی تھی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے۔ تراعدفتٰھا عن نفسہٖ کلام عرب میں الفتی تو جوان کو کہتے ہیں جبکہ عورت فتاۃ کہلاتی ہے قد شغفھا حبا ایک قول کے مطابق : شغفھا سے مراد ہے غلبھا جبکہ ایک قول یہ ہے : اس کی محبت اس کے اندر داخل ہوگئی۔ مجاہد وغیرہ سے منقول ہے عمرو بن دینا نے عن عکرمہ عن ابن عباس ؓ روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا۔ اس کے دل کی تہہ میں محبت داخل ہوگئی۔ حسن بصری نے کہا الشغف دل کے باطن کو کہتے ہیں۔ سدی اور ابوعبید نے کہا : شغاف القلب سے مراد دل کا غلاف ہے اور اس سے مراد کی اوپر والی جلد ہے ایک قول کے مطابق : یہ دل کا درمیان حصہ ہے۔ ان تمام اقوال کی روشنی میں معنی قریب قریب ہے۔ اور معنی یہ ہوگا : اس کی محبت اس کے شفاف (دل کے باطن) میں داخل ہوگئی پس وہ اس پر غالب آگئی : نابغہ نے کہا :
وقد حال ھم دون داخل دخول الشفاف تبتغیہ الأصابع
ایک قول یہ ہے : شفاف، بیماری ہے۔ اصمعی نے رجز کہنے والے کو کہا :
یتبعھا وھی شفاف
ابوجعفربن محمد محیصن اور حسن بصری نے اسے شغفھا عین غیر معجمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن الاعرابی نے کہا : اس کا معنی یہ ہے کہ اس کی محبت نے اس (زلیخاء) کے دل کو جلا دیا اور اس نے کہا : عمل پہلی قرأت پر ہے۔ جوہری نے کہا : وشغفہ الحب احرق قلبہ۔ ابوزید نے کہا : اس نے اس کو بیمار کردیا، یعنی شغف کا معنی أمرض ہے جیسے کہا جاتا ہے : قد شغف بکذافھومثغوف۔ حسن بصری نے قد شغفھا پڑھا اور کہا : اس کا باطن محبت سے بھرپور تھا۔ نحاس نے کہا : اکثر اہل لغت کے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ اسکی وجہ سے ہر مذہب چلا گیا، کیونکہ شتان الجبال سے مراد ان کا بلند ترین حصہ ہے قد شغف بذالک شغفاغین کے سکون کے ساتھ بولا جاتا ہے۔ جب اس کا شوق دلایا جائے۔ مگر ابو عبیدہ نے امری القیس کا شعر پڑھا :
ایقتلنی وقد شعفت فؤادھا کما شعف المھنؤۃ الرجل والطالی
اس نے کہا : محبت کی سختی اور اس کے جوش کو اس کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔
شعبی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : الشغف غین کے ساتھ کا معنی ہے محبت اور الشعف عین کے ساتھ کا معنی جنون ہے نحاس نے کہا : قد شغفھا غین کے کسرہ کے ساتھ بھی اس کو بیان کیا گیا ہے، جبکہ کلام عرب میں شغفھا غین کے فتحہ کے بغیر معروف ہی نہیں۔ اسی طرح شغفھا، یعنی اس نے اس حال میں چھوڑا کہ وہ جنون میں مبتلاہوچکا تھا۔ سعید بن ابی عروبہ نے حضرت بصری سے روایت کرتے ہوئے کہا ہے : الشغاف، سے مراد دل کا حجاب ہے۔ اور الشعاف سے مراد دل کا سیاہ نشان ہے۔ پس اگر محبت شغاف تک جاتی تو وہ مرجاتی۔ حضرت حسن بصری نے کہا : الشعاف، دل کے ساتھ ملی ہوئی اس جلد کو کہتے ہیں جو دکھائی نہیں دیتی اور وہ سفید جلد ہوتی ہے۔ اس (یوسف) کی محبت زلیخاء کی جلد کے ساتھ یوں چمٹ گئی جس طرح جلددل کے ساتھ چمٹی ہوئی ہوتی ہے۔
انالنرٰئھا فی ضلٰلٍ مبین یعنی اس کام میں۔ قتادہ نے کہا : فتٰھا سے مراد فتی زوجھا ہے کیونکہ ان لوگوں کے نزدیک تو حضرت یوسف (علیہ السلام) غلاموں کے حکم میں تھے۔ اور ان کے بارے میں زلیخا کا حکم نافذ تھا۔ مقاتل نے عن ابی عثمان نہدی عن سلمان فارسی کہا ہے کہ حضرت سلمان فارسی ؓ نے فرمایا : عزیز مصر کی بیوی نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اپنے شوہر کو ہبہ کہا تو اس نے پھر ان کو زلیخاء کو ہبہ کردیا اور کہا : تو اس کو کیا کرے گی ؟ تو اس نے کہا : میں اس کو بیٹا بناؤں گی۔ اس نے کہا : یہ تیرا ہے۔ اس نے اس کی پرورش کی حتیٰ کہ وہ جوان ہوگئے اور اس کے (زلیخاء) دل میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں (کوئی خاص بات نہ تھی) تو وہ بےپردہ ان کے سامنے آتی، بناؤ سنگھار کرتی اور بڑی نرمی سے انھیں بلاتی پس اللہ تعالیٰ نے انہیں محفوظ رکھا۔
فلماسمعت بمکرھن یعنی ان عورتوں کی زلیخاء کی غیبت کو اور اس کے حوالے سے ان کے مکر و فریب کو سنا۔ ایک قول یہ ہے : زلیخاء نے ان عورتوں کو اس محبت پر مطلع کیا اور اس راز پر امین بنایا تو انہوں نے اس کے راز کو ظاہر کردیا تو اس کو ” مکر “ کہا گیا ہے۔ ارسلت الیھن کلام میں حذف ہے یعنی أرسلت إلیھن تدعوھن إلی الیمۃ لتوقعھن فیما وقعت فیہ مجاہد نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہوئے کہا ہے : عزیز مصر کی بیوی نے اپنے شوہر سے کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ میں کھانا تیار کروں اور ان عورتوں کو دعوت دوں تو عزیز مصر نے اسے کہا : اس طرح کرلو، تو اس نے کھانا بنایا پھر ان کے لیے گھر کو مزین کیا اور ان کی طرف دعوت بھیجی کہ ان کے لیے کھانا تیار ہے اور تم میں سے جس جس عورت کو دعوت دی گئی ہے وہ غیر حاضر نہ ہو۔ وہب بن منبہ نے کہا : وہ چالیس عورتیں تھیں اور ناپسندیدگی کے باوجود وہ آئیں ان کے بارے میں امیہ بن ابی الصلت نے کہا :
حتی إذا جئنھا قسرا ومھدت لھن أنضادا وکبابا
وہب بن منبہ نے کہا : وہ آئیں اور اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئیں، واعتدت لھن متکاً یعنی اس نے ان کی جگہیں تیار کیں جن کے ساتھ وہ ٹیک لگاتیں گئیں۔ ابن جبیر نے کہا : ہر مجلس میں ایک جام تھا جس میں شہد، مالٹا، اور تیز چھری تھی۔ مجاہد اور سعید بن جبیر نے متکا پڑھا ہے یعنی مخفف غیر مہموز اور قبطیوں کی لغت میں ” المتک “ مالٹے کو کہتے ہیں۔ اور مجاہد نے بھی اسی طرح اس کی تفسیر کی ہے۔ سفیان نے عن منصور عن مجاہد روایت کیا ہے کہ مجاہد نے کہا : المتکاء، متقل ہونے کی صورت میں اس کا معنی کھانا ہوگا جبکہ
” المتک “ مخفف ہونے کی صورت میں اس سے مراد مالٹا ہے۔ شاعر نے کہا :
نشرب الاثم باصواع جھارا وتری المتک بیننا متعا را
ازدشنوہ کہتے ہیں : اس سے مراد لیموں کا کٹا ہو ادرخت ہے۔ جوہری نے کہا : المتک سے مراد وہ ہے جس کو ختنہ کرنے والی باقی چھوڑتی ہے۔ اور المتک کی اصل گوشت کے ساتھ لپٹی ہوئی جھلی ہے۔ اور عورتوں میں سے المتکاء وہ ہے جس کا ختنہ نہ ہوا ہو فراء نے کہا : اہل بصرہ کے ثقہ لوگوں میں سے ایک شیخ نے مجھے بیان کیا ہے کہ ” المتک “ مخفف ہونے کی صورت میں گوشت میں لپٹی ہوئی جھلی ہے اور ان سے کسی نے کہا ہے کہ یہ لیموں کا درخت ہے۔ اس کو اخفش نے بیان کیا ہے۔ ابن زید نے کہا : اس سے مراد لیموں کا درخت اور شہد ہے جس کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔ شاعر نے کہا ہے :
فظلنا بنعمۃ واتکانا وشربنا الحلال من قللہ
اس میں اتکانا سے مراد أکلنا ہے یعنی ہم نے کھایا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : واعتدت العتاد سے مشتق ہے۔
اور متکا کے بارے میں سب سے عمدہ بات وہ ہے جو علی بن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا : اس سے مراد مجلس ہے۔ اور جہاں تک مفسرین کی ایک جماعت کا تعلق ہے جنہوں نے اس سے مراد کھانا لیا ہے تو یہ اس تقدیر پر درست ہوگا۔ طعام متکاء جیسے وسئل القریۃ (یوسف :82) اور اس حذف پر یہ آیت واٰیت کل واحدۃٍ منھن سکینًا دلالت کرتی ہے کیونکہ عورتوں کا چھریوں سمیت آنا وہ کسی ایسے کھانے کے لیے ہی ہے جو چھریوں کے ساتھ کاٹا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب ” اعراب القران “ میں یوں ہی کہا ہے جبکہ اپنی کتاب ” معانی القرآن “ میں انہوں نے کہا : معمر نے قتادہ سے روایت کیا ہے ” المتکاء سے مراد ایک قول یہ ہے ” المتکاء “ سے مراد ہر وہ چیز ہے کہ کھاتے، پیتے یا گفتگو کرتے ہوئے جس کے ساتھ ٹیک لگائی جائے، یہ اہل لغت کے یہاں معروف بات ہے اور اس کے حوالے سے صحیح روایات بھی ہیں۔ قتبی نے کہا جاتا ہے : أتکانا عند فلان یعنی أکلنا، متکاء کی اصل موتکا ہے اسی کی طرح ہیں متزن اور متعد، کیونکہ یہ وذنت، وعدت اور وکأت سے مشتق ہیں۔ اس کا باب اتکا، یت کی اتکاء آتا ہے۔ کل واحدۃٍ منھن سکینا دونوں مفعول ہیں۔ کسائی اور فراء نے حکایت کیا ہے کہ سکین مذکر اور مونث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ فراء نے شعر پڑھا ہے :
فعیث فی السنام غداۃ قر بسکین موثقۃ النصاب
محل استشہاد بسکین موثقۃ النصاب ہے یہاں سکین مؤنث استعمال ہوتی ہے۔ جوہری نے کہا : اس میں غالب تذکیر ہے اس نے کہا :
یری ناصحا فیما بدا فإذا خلا فذالک سکین علی الحلق حاذق
جبکہ اس شعر میں سکین کی صفت حادق استعمال ہوئی جس سے پتہ چل رہا ہے کہ یہ مذکر ہے۔ اصمی نے کہا : سکین میں صرف تذکیر ہی معروف ہے۔
وقالت اخرج علیھن التقائے ساکنین کی وجہ سے تا مضموم ہوگا، کیونکہ جب بعد میں ضمہ ہو تو کسرہ ثقیل ہوتا ہے اور اصل میں تو تا مکسور ہوگا۔ ایک قول یہ ہے زلیخاء نے ان عورتوں کو کہا : تم نے پھلوں کو کاٹنا اور کھانا نہیں یہاں تک کہ میں تمہیں بتاون۔ پھر اس نے اپنے خادم کو کہا : جب میں تجھے کہوں کہ میرے لیے ایلاء کو بلا وتوسف کو بلانا۔ ایل بت تھا کس کی وہ عبادت کرتے تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) مٹی میں کام کرتے تھے اس لیے آپ نے اپنی کمر کسی ہوئی تھی اور کلائیوں سے کپڑا لپٹا ہوا تھا اس نے اپنے خادم کو کہا : میرے لیے أیل کو بلالاؤ یعنی میرے لیے رب کو بلالاؤ۔ عبرانی زبان میں ایل رب کو کہتے ہیں۔ عورتیں حیران ہوئیں اور انہوں نے کہا : وہ کیسے آئے گا ؟ خادم اوپر چڑھا اور اس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بلایا۔ پس جب آپ نیچے اترے تو زلیخاء نے عورتوں کو کہا : جو کچھ تمہارے پاس ہے اسے کاٹو۔ فلما راینہ اکبر نہ وقطعن ایدیھن یہاں تک کہ چھریاں ہڈیوں تک پہنچ گئیں۔ یہ وہب بن منبہ کا قول ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : آپ ان کے سامنے تب گئے جب زلیخاء نے ان کا بناو سنکھار کیا، تو اچانک آپ ان کے سامنے گئے تو وہ مدہوش ہوگئیں اور آپ کے چہرے کے حسن اور اس کی زیب وزینت کے سبب حیران ہوگئیں تو انہوں نے ہاتھوں کو کاٹنا شروع کردیا اور ان کا گمان یہ تھا کہ وہ مالٹے کاٹ رہی ہیں۔ اکبرنہ کے معنی اختلاف ہے جویبر نے ضحاک عن ابن عباس ؓ روایت کیا ہے کہ اس کا معنی ہے کہ انہوں نے آپ کو عظیم خیال کیا۔ انہیں سے یہ بھی روایت ہے کہ وحشت کی وجہ سے ان کی وجہ سے ان کی منی اور مذی خارج ہوگئی۔ شاعر نے کہا :
إذا ما رأین الفحل من فوق قارۃٍ صھلن واکبرن المنی المدفقا
شعر میں اکبرن سے مراد وحشت وخوف کی وجہ سے منی کا خارج ہونا ہے۔
ابن سمعان نے اپنے اصحاب سے روایت کرتے ہوئے کہا : انہوں نے کہا کہ عشق کی وجہ سے ان کی مذی نکل گئی۔ وہب نے کہا : وہ آپ کے عشق میں یوں مبتلا ہوئیں کہ ان میں سے دس عورتیں وہشت، حیرت اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سبب وجد کی وجہ سے مرگئیں۔ ایک قول یہ ہے : اس کا معنی یہ ہے کہ دہشت کے سبب ان کو حیض آگیا۔ یہ قتادہ، مقاتل اور سدی کا قول
ہے۔ شاعر نے کہا :
نأتی النساء علی أطھارھن ولا نأتی النساء إذا اکبرن إکبارا
ہم عورتوں کے پاس ان کے طہر میں آتے ہیں اور جب انہیں حیض آجائے تو ہم ان کے پاس نہیں آتے، اکبرن سے مراد حیض کا آنا لیا گیا ہے۔
ابوعبیدہ اور دیگر نے اس کا انکار کیا ہے انہوں نے کہا : کلام عرب میں یہ معنی نہیں ہے البتہ یہ ممکن ہے کہ آپ کو بہت بڑا خیال کرنے کی شدت ان کو حیض آگیا ہو، کیونکہ بعض عورت پر فزع وخوف کی کیفیت طاری ہوتی ہے تو وہ حمل کو گرا دیتی ہے یا اسے حیض آجاتا ہے۔ زجاج نے کہا : اکبرنہ کہا گیا ہے حضنہ نہیں کہا گیا پس پتا چلا اکبار بمعنی حیض نہیں ہے۔ زہری نے جواب دیا اور کہا :” اکبرت “ کا بمعنی حاضت ہونا ممکن ہے کیونکہ جب ابتدا میں عورت کو حیض آتا ہے تو وہ صفر سنی سے نکل کر کبر میں پہنچ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا : اکبرنہ کی ھا، ھا وقف بھی ہوسکتی ہے اس صورت میں یہ کنایۃ نہ ہوگی۔ اور یہ ناکارہ بات ہے، کیونکہ ھا وقف وصل کی صورت میں گرجاتی ہے۔ ابن الانباری نے کہا : ھافعل کے مصدر سے کنایہ ہے یعنی اکبرن اکبارا بمعنی حضن حیضا۔ حضرت ابن عباس ؓ کے پہلے قول کی مطابق تو ھاء ضمیر حضرت یوسف (علیہ السلام) کیطرف راجع ہوگی یعنی اعظمن یوسف وأجللنہ۔
وقطعن ایدیھن مجاہد نے کہا : قطعنھا سے مراد لاقیناھا ہے۔ ایک قول یہ ہے : خدشنھا یعنی زخمی کردیا۔ ابن ابی نجیح نے مجاہد سے راویت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا : چھری کے ساتھ زخمی کردیا۔ نحاس نے کہا : مجاہد کی مراد یہ ہے کہ ایسا کاٹنا نہیں تھا کہ جس میں ہاتھ علیحدہ ہوگئے ہوں بلکہ یہ صرف زخم اور خراشیں تھیں اور یہ بات تو لغت میں معروف ہے کہ جب کوئی انسان اپنے دوسرے دوست کے ہاتھ کو زخمی کردے تو کہا جاتا ہے کہ اس نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ عکرمہ نے کہا : ایدیھن سے مراد کمامھن ہے مگر اس معنی میں بعد ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ایدیھن سے مراد ان کی انگلیوں کے پورے ہیں، یعنی انہوں نے کٹنے اور زخم لگنے کی وجہ سے کوئی دردمحسوس نہ کیا اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے دل حضرت یوسف (علیہ السلام) میں مشغول تھے اس لیے انہوں نے کوئی دردمحسوس نہ کیا۔ تقطیع کثرت کی طرف اشارہ کرتی ہے اس سلسلہ میں یہ بھی ممکن ہے کہ ایک ہاتھ کئی جگہوں سے کٹ گیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ کٹنے والے ہاتھوں کی تعداد ہی زیادہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وقلن حاش للہ یعنی معاذاللہ۔ اصمعی نے نافع سے روایت کیا ہے کہ اس نے اسے اسی طرح پڑھا ہے جس طرح ابوعمر وبن العلاء نے پڑھا وقلن حاش اللہ یعنی الف کو ثابت رکھ کے اور یہی اصل ہے۔ اور جس نے الف کو حذف کیا ہے اس نے للہ کے لام کے عوض بنادیا ہے۔ اس میں چار لغتیں ہیں حاشاک، حاشالک، حاش لک اور حشالک۔ اور اسی طرح حاشازید اور حاشازیدا کہا جاتا ہے۔ نحاس نے کہا : میں نے علی بن سلیمان سے سناوہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن زید سے سنا : نصب اولی ہے کیونکہ یہ بھی صحیح ہے کہ یہ فعل ہے جیسے ان کا قول : حاش لذید اور اس میں سے کسی حرف کو حذف بھی نہیں کیا جاتا۔ نابغہ نے کہا ہے :
ولا أحاشی من الأ قوام من أحد
احاشی واحد متکلم کا صیغہ ہے یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے اسے تسلیم کیا جائے۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ حاش حرف ہے اور احاشی فعل ہے اور حاش کے بعد جز کا واقع ہونا اس کے فعل ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ ابوزید نے ایک اعرابی سے حکایت کی ہے : اللھم اغفرلی ولمن یسمع، حاشا الشیطان وأبا الأصبع، تو اس نے بھی نصب ہی دی ہے۔ حسن بصری نے وقلن حاش للہ سین کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور ان سے حاش الالہ۔ بھی مروی ہے جبکہ حضرت ابن مسعود ؓ اور حضرت ابی ؓ نے ” حاش اللہ “ بغیر لام کے پڑھا ہے۔ اسی سے شاعر کا یہ قول ہے :
حاشا أبی ثوبان إن بہ ضنا عن الملحاۃ والثتم
یعنی حاشالأبی ثوبان نہیں بلکہ حاشاأبی ثوبان ہے۔ زجاج نے کہا : کلمہ کی اصل حاشیہ سے ہے اور الثابمعنی الناحیۃ ہے۔ آپ کہتے ہیں : کنت فی حشافلان یعنی میں فلاں کے کونے میں تھا، اور آپ کا قول حاشالزید یعنی زید اس سے جدا ہوا اور اس سے دور ہوا۔ اس صورت میں تمام مذکورین میں سے باہر نکلنے اور جدا ہونے کی استثنا ہوگی۔ ابوعلی نے کہا : یہ المحاشاۃ سے فاعل ہے یعنی حاشا یوسف وصارفی حاشیۃ وناحیۃ مماقرف بہ، یا اس سے مراد یہ ہے کہ یوسف بشر سے دور ہے، پس حاشا اور حاش سیبویہ کے نزدیک استثنا کی صورت میں حرف جر ہیں اور مبرد اور ابو علی کے قول کے مطابق فعل ہیں۔
ماھٰذا بشرًا خلیل اور سیبویہ نے کہا کہ ما، لیس کی طرح ہے، جیسے آپ کہتے ہیں : لیس زید قائماً ، اور ماھٰذا بشرًا اور ماھن امھاتھم کو فیوں نے کہا : جب با کو حذف کیا جائے تو پھر نصب دی جاتی ہے۔ اس کی تشریح احمد بن یحییٰ نے کی کہ جب آپ مازید بمنطلق کہتے ہیں تو باکا محل نصب ہوتا ہے، اسی طرح تمام حروف جر کی صورتحال ہے اور جب با کو حذف کیا جائے تو نصب دی جاتی ہے تاکہ یہ اپنے محل پر دلالت کرے۔ احمد بن یحییٰ نے کہا : یہ فراء کا قول ہے۔ اس نے کہا ما کوئی عمل نہیں کرتا۔ بصریوں نے ان پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یوں کہنا چاہے : زید القمر کیونکہ اس کا معنی ہے زید کا لقمر۔ احمد بن یحییٰ نے یہ کہتے ہوئے اس کی تردید کی ہے کہ باکو حروف جر میں کاف سے زیادہ داخل کیا گیا ہے، کیونکہ کاف اسم ہے۔ نحاس نے کہا : بصریوں کی بات ہی درست ہے اور اس بات میں تناقض ہے کیونکہ فراء نے مابمنطلق زید کو جائز قرار دیا ہے اور شعر بھی پڑھا ہے۔
أما واللہ أن لو کنت حرا وما بالحر أنت ولا العتیق
شعر میں مابالحر محل استشہاد ہے۔ اور اس نے نصب سے منع کیا ہے، اور ہم نحویوں کے درمیان اس قول کے جواز پر کسی اختلاف کو نہیں جانتے : مافیک براغب زید اور ماإلیک بقاصد عمرو پھر وہ باکو حذف کردیتے ہیں اور انہیں رفع دے دیتے ہیں۔ بصریوں اور کو فیوں نے مازید منطلق رفع کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اور بصریوں نے کہا ہے کہ یہ لغت تمم ہے اس پر انہوں نے شعر بطور استشہاد بیان کیا ہے :
أتیما تجعلون إلی ندا وما تیم لذی حسب ندید
ماتیم محل استشہاد ہے۔ الندوالندید والندیدۃ کا معنی ہے مثل اور نظیر۔ کسائی نے بیان کیا ہے کہ یہ تہامہ اور نجد کی لغت ہے۔ اور فراء کا گمان یہ ہے کہ رفع دونوں صورتوں میں سے زیادہ قوی صورت ہے۔ ابواسحاق نے کہا : یہ غلط ہے، کتاب اللہ اور لغت رسول ﷺ زیادہ قوی اور اولیٰ ہے۔
میں (قرطبی) نے کہا : مصحف حفصہ ؓ میں ماھذا ببشر ہے۔ اس کو غزنوی نے ذکر کیا ہے۔ قشیری ابونصر نے کہا : عورتوں نے یہ بات ذکر کی کہ صورت یوسف، صورت بشر سے زیادہ خوبصورت ہے بلکہ یہ تو ملکی صورت میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ (التین) دونوں آیتوں کے درمیان تطبیق کی صورت یہ ہوگی ان کا قول : حاش للہ یہ فی الحقیقت حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عزیز مصر کی بیوی کی طرف سے بہلانے کے الزام سے برأت کا اظہار ہے یعنی یوسف تو اس سے دور ہے۔ اور ان کا قول للہ سے مراد لخوفہ یعنی براۃ للہ من ھذا یعنی یوسف اس سے نجات پا گیا۔ اور مطلب یہ ہوگا کہ یہ گناہوں سے بری ہونے میں فرشتوں کی طرح ہے۔ اس صورت میں کوئی تناقض اور تضاد باقی نہیں رہتا۔
ایک قول یہ ہے : اور للہ کا قول اسی معنی کی تاکید ہے۔ اس معنی کے اعتبار سے عورتوں نے یہ بات اس گمان پر کہی کہ ان کے نزدیک فرشتے کی صورت بشر سے زیادہ خوبصورت ہے اور ان تک اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی : لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ (التین) نہیں پہنچا کیونکہ یہ تو ہماری کتاب میں ہے۔ بعض ضعیف الاعتقاد لوگوں کا یہ گمان ہے کہ اگر ان عورتوں کی یہ بات گمان باطل ہوتا تو اللہ تعالیٰ پر ان کی اس بات کی تردید اور ان کے جھوٹ کو واضح کرنا واجب تھا۔ اور یہ باطل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز بھی واجب اور لازم نہیں ہے اور نہ اللہ تعالیٰ پر یہ لازم ہے کہ جہاں بھی وہ کافروں کے کفر اور جھوٹوں کے جھوٹ کے متعلق خبر دے تو اس کے ساتھ ہی ان کا رد بھی کرے۔ اور اسی طرح اہل عرف قبیح چیز کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ شیطان ہے اور عمدہ چیز کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ فرشتہ ہے۔ مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس نے اس کی مثل نہیں دیکھی کیونکہ انسان فرشتوں کو نہیں دیکھتے اس کی بنیاد بھی اسی گمان پر ہے کہ فرشتوں کی صورت زیادہ خوبصورت ہے۔ یا پھر اس کی بنیاد فرشتے کے اخلاق کی طہارت اور تہمت سے اس کے دور ہونے پر ہے۔ ان ھٰذآالاملک یعنی یہ نہیں مگر فرشتہ۔ شاعر نے کہا :
فلست لأنی ولکن لملأک تنزل من جو السماء یصوب
تو انسان نہیں بلکہ ایسا فرشتہ ہے جو آسمان کی فضا سے اترا ہے۔ حضرت حسن بصری سے روایت ہے : ماھٰذا بشرًا با اور شین کے کسرہ کے ساتھ، یعنی یہ خریدا ہوا غلام نہیں اس جیسے آدمی کو بکنا نہیں چاہیے پس مصدر کو اسم مفعول کی جگہ پر رکھا گیا ہے۔ جس طرح فرمایا گیا احل لکم صید البحر (المائدہ :96) یعنی مصیدہ۔ اور اس کی امثلہ کثیر ہیں۔ یہ بھی ممکن یہ ہو : ماھذا بثمن یعنی اس جیسے آدمی کے ثمن اور قیمت نہیں لگائی جاسکتی ہے۔ اور اس صورت میں شراء سے مراد وہ ثمن ہونگے جن کے ذریعے خریدا جاتا ہے، جس طرح کہ جب کوئی آدمی کہے ھذا بألف تو اس کی بات کو رد کرنا مقصود ہو تو اس کو کہا جائے ماھذا بألف اس اعتبار سے با اس محذوف کے متعلق ہوگی جو کہ خبر ہے گویا کلام یوں ہے : ماھذامقدراً بشراء اور عام قراء کی قراءت اس کے زیادہ مشابہہ ہے، کیونکہ اس کے بعد ان ھٰذآ الاملک کریم آپ کی فضیلت میں مبالغہ ہے ملائکہ کی جنس میں آپ کی شان کی تعظیم کے طور پر۔ اور بشری جیسے الفاظ قرآن کریم میں یا کے ساتھ ہی لکھے جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : قالت فذٰلکن الذی لمتننی فیہ جب عورتوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھا تو زلیخا نے اپنے عذر (محبت) کو الفاظ میں ظاہر کیا لمتننی فیہ، فیہ کی ہ ضمیر سے مراد ہے فی حبہ اور ذالک بمعنی ھذا ہے یہ طبری کا مختار موقف ہے اور ایک قول یہ ہے کہ ” ہ “ ضمیر محبت کے لیے ہے اور معنی یہ ہوگا۔ ذالکن الحب الذی لمثننی فیہ یعنی حب ھذا ھوذالک الحب اور ” اللوم “ سے مراد قباحت و برائی کے ساتھ کسی کی صفت بیان کرنا ہے۔ پھر زلیخا نے اقرار کرتے ہوئے کہا : ولقد راودتہ عن نفسہٖ فاستعصم، فاستعصم کا معنی ہے رک گیا اور عصمت کو اسی لیے عصمت کہا جاتا ہے کہ یہ معصیت اور نافرمانی کے ارتکاب سے روکتی ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ” استعصم “ کا معنی استعصی ہے۔ معنی دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے۔ ولئن لم یفعل مآامرہ لیسجنن زلیخا نے دوبارہ ان عورتوں کی موجودگی میں آپ کو گناہ کی ترغیب دلائی اور حیاء کی چادر اتار پھینکی اور گناہ کرنے کی صورت میں آپ کو قید کی دھمکی دی اور اس نے یہ کاروائی اس وقت کی جب اسے نہ ملامت کا ڈر تھا اور نہ ہی گفتگو کا خوف نخلاف پہلی دفعہ کے۔ ولیکونًا من الصغیرین یعنی ذلیل ورسوا۔ مصحف میں ولیکونا کو الف کے ساتھ لکھا گیا اور تاکید کے لیے نون مخففہ کے ساتھ پڑھا گیا اور نون تاکید ثقیلہ بھی ہوتا ہے اور خفیفہ بھی اور لیسجنن پر نون کے ساتھ وقف کیا گیا کیونکہ یہ مشقلہ ہے اور لیکونًا پر الف کے ساتھ وقف کیا گیا اس کے مخففہ ہونے کی وجہ سے اور یہ رایت رجلا وزید وعمرا کی طرح نون اعراب کے مشابہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی لنسفعا بالناصیۃ۔ (العلق) اس کے مشابہ ہے۔ جس طرح کہ اعشی کا قول ہے :
ولا تعبد الشیطان واللہ فاعبدا
یعنی تو شیطان کی عبادت نہ کر اور اللہ کی عبادت کر۔ اس کی مراد یہاں ” فاعبداً “ ہے تو جب اس نے اس پر وقف کیا تو الف کے ساتھ کیا۔
Ayah 12:33آیت نمبر 33 تا 34
قال رب السجن احب الی ممایدعوننی الیہ، السجن اصل میں دخول السجن ہے مضاف کو حذف کردیا گیا یہ قول زجاج اور نحاس کا ہے۔ احب الی یعنی یہ میرے لیے معصیت ونافرمانی میں مبتلا ہونے کی نسبت زیادہ آسان ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جیل میں داخل ہونا کوئی پسندیدہ اور محبوب بات ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے عرض کیا : السجن احب الی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی فرمائی : اے یوسف ! السجن احب الی کہہ کے تو نے اپنے آپ کو قید کرلیا، اگر میرے نزدیک پسندیدہ ہے تو میں آپ کو عافیت دے دیتا۔ ابوحاتم نے بیان کیا ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے السجن کو سین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور بیان کیا گیا ہے کہ یہ ابن ابی اسحاق، عبدالرحمٰن، اعرج اور یعقوب کی قرآت ہے اور، سجنہ سجنا کا مصدر ہے۔ ولا تصرف عنی کیدھن، کیدھن سے مراد عورتوں کا مکر ہے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد ان عورتوں کا مکر ہے جنہوں نے آپ کو دیکھا تھا، کیونکہ انہوں نے آپ کو عزیز کی بیوی کی بات مان لینے کو کہا تھا اور یہ کہا تھا یہ مظلوم ہے اور آپ نے اس پر ظلم کیا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ان میں سے ہر ایک نے عزیز کی بیوی کے بارے میں نصیحت کرنے کے لیے خلوت کا مطالبہ کیا اور ان کا ارادہ یہ تھا کہ زلیخا کے حق میں وہ آپ کو علیحدہ کریں اور اس کی مدد و تعاون کرنے کی بات کریں کہ شاید آپ مان جائیں، تو ہر ایک نے خلوت حاصل کرلی اور ہر ایک نے آپ کو کہا : اے یوسف ! میری ضرورت کو پورا کرو میں تمہارے لیے تمہاری مالکہ کی نسبت بہتر ہوں تو ہر ایک نے آپ کو اپنی طرف دعوت دی اور آپ کو بہلایا پھسلایا، تو آپ نے عرض کیا : اے میرے پروردگار ! وہ ایک تھی اب پوری جماعت ہوگئی ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد عزیز کی بیوی کا مکر ہے جو اس نے آپ کو گناہ کی دعوت دی تھی۔ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کیدھا کہنے کے بجائے جمع کی ضمیر یا تو اس کے بڑے پن کی وجہ سے استعمال کی یا پھر تصریح سے تعریض کی طرف خروج کے لیے یہ اسلوب اختیار کیا، اور کید سے مراد دھو کے بازی کی کوشش ہے، اسی وجہ سے عرب جنگ کو کید کہتے ہیں کیونکہ اس میں لوگوں کا مکر و فریب اور دھوکہ بازی کا عمل ہوتا ہے۔ عمروبن لحار نے کہا :
ترات کی تکیدک ام بشر وکید بالتبرج ما تکید
اصب الیھن جواب شرط ہے یعنی میں ان کی طرف مائل ہوگیا ہوتا۔ یہ صبایصبو، صبوا وصبوۃً سے ہے یہ اس وقت بولا جاتا ہے جب کوئی مائل ہوجائے اور اس میں اشتیاق پیدا ہوجائے۔ شاعر نے کہا :
إلی ھند صبا قلبی وھند مثلھا یصبی
ہند کی طرف میرا دل مائل ہوا اور ھند جیسی عورت کی طرف مائل ہوا جاتا ہے۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کلام کا مطلب یہ ہے کہ اگر تو گناہ سے بچنے کے سلسلہ میں مجھ پر مہربانی نہ فرماتا تو میں اس میں واقع ہوجاتا۔ واکن من الجٰھلین اس سے مراد یہ ہے کہ ان جاہلین میں سے ہوجاتا جو گناہ کا ارتکاب کرکے مذمت کے مستحق بن جاتے ہیں یا اس سے مراد یہ ہے کہ میں ان لوگوں میں سے ہوجاتا جو جاہلوں جیسے کام کرتے ہیں۔ اس میں یہ دلیل ہے کہ کوئی آدمی اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر اس کی نافرمانی سے نہیں بچ سکتا اور یہ جہالت کی قباحت اور جاہل کی مذمت پر بھی دلیل ہے۔
فاستجاب لہ ربہ گویا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے عرض کیا : اے اللہ ! مجھ سے ان کے مکرکودور کر، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قبول فرمالیا اور آپ پر مہربانی فرماتے ہوئے آپ کو زنا میں واقع ہونے سے بچالیا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مکر کو دور فرما دیا۔ فصرف عنہ کیدھن، کیدھن کو جمع ذکر کرنے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ انہوں نے مل کر آپ کو بہلاتا تھا یا اس سے مراد عورتوں کا مکر ہے یا پھر عزیز مصر کی بیوی کا مکر ہے جس طرح کہ سابق آیت میں گزر چکا ہے۔ اس کو عموم پر محمول کرنا زیادہ بہتر ہے۔
Ayahs 12:34–35آیت نمبر 35
اس میں چار مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ ثم بدالھم یعنی عزیز اور اس کے مشیروں کے لیے ظاہر ہوا من بعد ماراوا الاٰیٰت اس سے مراد حضرت یوسف (علیہ السلام) کی برات کی علامات اور نشایناں ہیں، جس طرح کہ قمیض کا پیچھے سے پھٹنا، گواہ کی گواہی، ہاتھوں کا کٹنا، حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ملاقات سے ان عورتوں کا قلت صبر وغیرہ۔ اس کے باوجود انہوں نے یہ مناسب سمجھا کہ وہ آپ کو قید کردیں تاکہ وہ اس قصہ کو عام لوگوں میں مشہور ہونے سے چھپا سکیں اور قید کو حضرت یوسف (علیہ السلام) اور زلیخا کے درمیان حائل کعسکیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ آیات سے مراد وہ برکات ہیں جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ان میں رہائش پذیر ہونے کی وجہ سے ان پر ظاہر ہوئیں لیکن پہلی توجیہہ زیادہ صحیح ہے۔
مقاتل نے مجاہد عن حضرت ابن عباس ؓ کے ارشاد : ثم بدالھم من بعد ماراوا الاٰیٰت کے بارے میں کہا کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا : قمیض، گواہ کی گواہی، ہاتھوں کا کٹنا اور ان عورتوں کا آپ کو بہت بڑا سمجھنا یہ سب نشانیوں میں سے ہے۔ آپ کو قید کرنے کی مختلف وجوہات تھیں۔ ایک قول کے مطابق لوگون میں رسوائی سے بچنے کے لیے انہوں نے ایسا کیا اور زلیخا کو شرمندگی اور مایوسی کے خوف نے اسے پردے میں رکھنے پر راضی ہونے پر مجبور کردیا یہ حیلہ اس نے اس لیے
کیا تھا تاکہ جب اسے اسکے دیدار سے روک دیا جائے تو (اس کی خبروں سے اپنے بےتاب دل کو) تسلی وتشفی دے گی۔ شاعر نے کہا :
وما صبابۃ مشتاق علی أمل من اللقاء کمشتاق بلا أمل
ملاقات کی امید پر مشتاق کی سوزش عشق اس طرح نہیں جس طرح بغیر امید کے مشتاق کی محبت ہوتی ہے۔ یا پھر اس کو یہ توقع تھی کہ قید ان کو میری اطاعت پر مجبور کردے گی اور یہ اس بات پر راضی ہوجائیں گے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ لیسجننہ ارشاد گرامی میں یسجننہ فاعل کی جگہ میں ہے، ای ظھرلھم ان یسجنوہ یعنی ان کے سامنے یہ بات ظاہر ہوئی کہ آپ کو قید میں ڈال دیں، یہ سیبویہ کا قول ہے۔ مبرد نے کہا : یہ غلط ہے۔ فاعل پوار جملہ نہیں ہوتا البتہ فاعل وہ ہے جس پر بلادلالت کررہا ہے اور وہ ہے مصدر : یعنی بدالھم بداء تو فاعل کو اس وجہ سے حذف کردیا گیا کہ فعل اس پر دلالت کررہا ہے جس طرح کہ شاعر نے کہا : وحق لمن أبوموسیٰ ابوہ یوفقہ الذی نصب نجب الا
یہاں وحق الحق تھا تو الحق فاعل کو حذف کردیا گیا۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کا معنی یہ ہے : ثم بدالھم رأی لم یکونوا یعرفونہ اس کو حذف کردیا گیا کیونکہ کلام میں اس پر دلالت موجود ہے اسی طرح قول کو بھی حذف کردیا گیا اصل میں تھا قالوٰ لیسجننہ لام مفتوح یمین مضمر کے جواب میں ہے یہ فراء کا قول ہے۔ اور یہ فعل مذکر ہے مؤنث نہیں ن کیونکہ اگر مؤنث ہوتا تو یسجنانہ ہوتا۔ اس پر لھم کا قول دلیل ہے لھن ارشاد نہیں ہوا، گویا کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں اور ان کے معاونین کی طرف سے خبر دی اور مذکر کو غلبہ دے دیا یہ ابوعلی کا قول ہے۔ سدی نے کہا : حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قید کا سبب یہ تھا کہ عزیز کی بیوی کو یہ شک ہوا کہ آپ نے اس کی تشہیر کی اور اس کی اس کو خبر کو پھیلا دیا ہے اس صورت میں لھم کی ضمیر بادشاہ کے لیے ہوگی۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : حتیٰ حین یعنی نامعلوم مدت تک۔ یہ بہت سے مفسرین کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ
عنہ نے فرمایا : شہر میں پھیلی ہوئی خبر کے ختم ہونے تک، سعید بن جبیر نے کہا : چھ ماہ تک۔ ال کیا نے بیان کیا کہ اس نے تیرہ ماہ مراد لیے ہیں۔ عکرمہ نے 9 سال کی مدت بیان کی ہے۔ کلبی نے پانچ سال اور مقاتل نے سات سال بیان کی ہے۔ البقرہ میں حین اور اس پر مرتب ہونے والے احکام گزرچکے ہیں۔ وہب نے کہا : آپ بارہ سال قید میں رہے۔ اور حتیٰ بمعنی ألیٰ ہے جس طرح کہ ارشاد باری حتیٰ مطلع الفجر۔ (القدر) اللہ تعالیٰ نے قید کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے اس عورت کا ارادہ کرنے کی خطا سے طہارت کا سبب بنادیا اور عزیز مصر اگرچہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی جرات کو جان چکا تھا اس کے باوجود آپ کو قید کرنے میں گویا اپنی بیوی کی اطاعت کررہا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : حضرت یوسف (علیہ السلام) سے تین مرتبہ فرد گزاشت ہوئی ہے : جب آپ نے زلیخا کا ارادہ کیا تو قید میں ڈالے گئے، جب آپ نے نوجوانوں کو اذکرنی عندربک کہا تو کئی سال جیل میں ٹھہرے رہے اور جب بھائیوں کو انکم لسٰرقون۔ (یوسف) کہا تھا انہوں نے کہا ان یسرق فقد سرق اخ من قبل (یوسف : 77) (تم چور ہو تو انہوں نے کہا : اگر اس نے چوری کی ہے تو اس کے بھائی نے اس سے قبل چوری کی تھی)
مسئلہ نمبر 4 ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو گناہ پر قید کے ذریعے مجبور کیا گیا اور پانچ سال تک آپ قید خانہ میں رہے اور اپنے
مقام و مرتبہ کی عظمت کی وجہ سے اس کو ترجیح دی، اور اگر کسی آدمی کو قید کے ذریعے زنا پر مجبور کیا جائے تو بالا جماع اس کے لیے جائز نہیں۔ اور اگر مارنے کے ذریعے مجبور کیا جائے تو اس میں علماء کا اختلاف ہے، صحیح بات یہ ہے کہ اگر وہ مشکل ہو تو اس سے زنا کا گناہ اور حد ساقط ہوجائے گی۔ ہمارے (مالکیہ) بعض علماء نے کہا : یہ بات اس سے حد کو ساقط نہ کرے گی لیکن یہ ضعیف قول ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر دو عذاب جمع نہیں کرتا اور نہ ہی دو مصیبتوں میں مبتلا کرتا ہے کیونکہ یہ تو دین میں بہت بڑا حرج ہے جبکہ وماجعل علیکم فی الدین من حرج (الحج : 78) اور اس نے دین میں تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں بنائی۔ اس کا بیان انشا اللہ سورة ” النحل “ میں آئے گا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے صبر کیا اور مکر و فریب سے اسکی پناہ مانگی تو اللہ تعالیٰ نے انکی دعا کو قبول فرمالیا۔
Ayahs 12:36–38آیت نمبر 36 تا 38
ودخل معہ السجن فتیٰن۔ فتیٰن کا تثینہ ہے : اور یہ یائی ہے اور عربوں کا قول : الفتوشاذ ہے۔ وہب اور دیگر لوگوں نے کہا : حضرت یوسف (علیہ السلام) کو قید کرکے قید خانے کی طرف گدھے پر سوار کرکے لایا گیا اور کہا گیا : ھذا جزاء من یعصی سیدتہ یہ سزا ہے اس کی جس نے اپنی مالکن کی نافرمانی کی، جبکہ آپ فرما رہے تھے : یہ آگ کے لباس، تارکول کی قمیض، پیپ کے پینے اور زقوم کھانے کی نسبت زیادہ آسان ہے۔
جب حضرت یوسف (علیہ السلام) قید خانہ پہنچے تو آپ نے اس میں کچھ ایسے لوگ پائے جن کی امیدیں ختم ہوچکی تھیں اور ان کی آزمائش وابتلا انتہائی سخت ہوچکی تھی تو آپ نے ان سے فرمایا : صبر کرو اور خوش رہو تمہیں اس پر اجر ملے گا تو انہوں نے آپ کو کہا : اے نوجوان : تیری گفتگو کتنی خوبصورت ہے ہمیں تیرے پڑوس کی وجہ سے برکتیں نصیب ہوئیں اے نوجوان ! تو کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : میں یوسف بن صفی اللہ یعقوب بن ذبیح اللہ اسحاق بن خلیل اللہ ابراہیم (علیہ السلام) ہوں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جب عورت نے اپنے شوہر کو کہا کہ اس عبرانی غلام نے مجھے رسوا کیا، میں چاہتی ہوں کہ آپ اسے قید کردیں تو اس نے آپ کو قید خانے میں قید کردیا تو آپ اس میں پریشان حال کو دلاسہ دیتے بیمار کی عیادت کرتے، زخمی کا علاج کرتے، ساری رات عبادت کرتے اور روتے یہاں تک کہ آپ کے ساتھ گھروں کی دیواریں، ان کی چھتیں اور دروازے بھی روتے، آپ کے سبب قید خانے کو پاکیزگی حاصل ہوئی اور قیدی آپ سے مانوس ہوئے : یہ صورتحال ہوگئی کہ جب کوئی آدمی قید خانے سے نکلتا تو وہ واپس لوٹ آتا اور قید خانے میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ بیٹھتا، قید خانے کے انچارچ نے آپ کے ساتھ محبت کرتے ہوئے اسے آپ کے لیے وسیع کردیا، پھر آپ کو کہا : اے یوسف ! میں آپ کے ساتھ اتنی محبت کرتا ہوں جتنی کسی اور چیز کے ساتھ نہیں کرتا، تو آپ نے فرمایا : میں تیری محبت سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اس نے کہا : ایسا کیوں ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : میرے باپ نے میرے ساتھ محبت کی تو میرے بھائیوں نے میرے ساتھ کیا جو کچھ کیا، میری مالکن نے میرے ساتھ محبت کی تو میرے اوپر وہ مصیبت نازل ہوئی جس کا مشاہدہ تم کررہے ہو۔
آپ قید میں تھے کہ بادشاہ اپنے نانبائی اور اپنے ساقی پر ناراض ہوگیا، سبب یہ تھا کہ بادشاہ نے لوگوں کے درمیان لمبا عرصہ
گزارا تو وہ اس سے تنگ ہوگئے تو انہوں نے خباز اور ساقی کے ذریعے سازش کی وہ دونوں کھانے اور شراب میں زہر ملادیں، خباز نے ان کی بات مان لی اور ساقی نے انکار کردیا، ساقی بادشاہ کے پاس گیا اور اسے اس بات کی خبر دی تو بادشاہ نے ان دونوں کو قید کرنے کا حکم جاری کردیا۔ تو یہ دونوں حضرت یوسف (علیہ السلام) سے مانوس ہوگئے، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ودخل معہ السجن فتیٰن ایک قول یہ ہے کہ خباز نے کھانے میں زہر ملا دی، جب کھانا پیش کیا گیا تو ساقی نے کہا : اے بادشاہ ! نہ کھایئے کھانا زہر آلود ہے۔ خباز نے کہا : اے بادشاہ نہ پیجئے ! شراب زہر آلود ہے۔ تو بادشاہ نے ساقی کو کہا : پیئو ! تو اس نے شراب پی لی اور شراب نے اسے کوئی نقصان نہ دیا، بادشاہ نے خباز کو کہا ؛ تم کھاؤ ! تو اس نے انکار کردیا، کھانا ایک جانور کو کھلایا گیا تو وہ اسی جگہ مرگیا، تو بادشاہ نے ان دونوں کو ایک سال کے لیے قید کردیا، اور وہ دونوں اس مدت میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ قید میں رہے ساقی کا نام منجا اور دوسرے کا مجلث ہے، یہ ثعلبی نے کعب سے بیان کیا ہے۔ نقاش نے کہا : ایک کا نام شرہم تھا اور دوسرے کا سرہم : طبری نے کہا : جس نے (خواب میں) دیکھا تھا کہ وہ شراب نچوڑتا ہے وہ نبو تھا، سہیل نے کہا : دوسرے کا نام بھی ذکر کیا گیا ہے اور میں نے اس کو محفوظ نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فتیٰن فرمایا، کیونکہ وہ دونوں غلام تھے اور غلام کو فتی کہتے ہیں خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا : اس کو ماوری نے ذکر کیا ہے۔ قشیری نے کہا : شاید ان کے عرف میں غلام کا نام فتی تھا، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تراودفتٰھا عن نفسہٖ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فتی خادم کا نام ہو اگرچہ وہ مملوک نہ ہو۔
ممکن ہے کہ بادشاہ نے ان دونوں کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ قید کیا ہو ایسا ممکن ہے کہ آپ کے بعد ان کو قید کیا ہو یا آپ سے پہلے ان کو قید کیا گیا ہو البتہ جس کمرے میں آپ تھے اس میں وہ آپ کے ساتھ داخل ہوئے۔ قال احدھمآ انی ارٰینیٓ اعصر خمرًا اس سے مراد انگور کو نچوڑنا ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) قیدیوں کو فرماتے تھے کہ میں خوابوں کی تعبیر بتاتا ہوں۔ دونوں جوانوں میں سے ایک نے دوسرے کو کہا : آؤ ہم اس عبرانی غلام کا تجربہ کریں : تو انہوں نے کسی چیز کو دیکھے بغیر آپ سے سوال کیا۔ یہ حضرت ابن مسعود ؓ کا قول ہے۔ طبری نے بیان کیا ہے کہ ان دونوں نے آپ سے آپ کے علم کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : میں خوابوں کی تعبیر بتاتا ہوں۔ تو انہوں نے اپنے خوابوں کے بارے میں پوچھا۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد نے کہا : ان کے سچے خواب تھے جو انہوں نے دیکھے اور ان کے متعلق آپ سے پوچھا : اسی وجہ سے ان کی تعبیر بھی صحیح اور سچی تھی۔ صحیح میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی : ” تم میں سے جو ازروئے خواب کے جتنا سچا ہوگا اتنا ہی وہ ازروئے کلام کے سچا ہوگا۔ “ ایک قول یہ بھی ہے کہ ان کے خواب جھوٹے تھے اور انہوں نے صرف تجربہ کرنے کے لیے آپ سے ان کے متلعق پوچھا۔ یہ حضرت ابن مسعود ؓ اور سدی کا قول ہے۔ ایک قول یہ ہے : ان دونوں میں سے جس کو پھانسی دی گئی وہ جھوٹا تھا اور دوسرا سچا، یہ ابومجلز کا قول ہے۔ ترمذی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نبی کریم ﷺ کی حدیث روایت کی : ” جس نے جھوٹا خواب بیان کیا قیامت کے دن اس کو دو جو باندھنے کا مکلف بنایا جائے گا اور وہ ان دونوں کو نہیں باندھ سکے گا “۔ ابو عیسیٰ ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حضرت علی ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت بیان کی آپ نے فرمایا : ” جس نے اپنے خواب کے بارے میں جھوٹ بولا اسے قیامت کے دن جو باندھنے کا مکلف بنایا جائے گا “۔ (ابوعیسیٰ نے) کہا : حدیث حسن۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جب ان دونوں نے اپنے خواب دیکھے تو وہ پریشان ہوگئے : حضرت یوسف (علیہ السلام) نے انہیں فرمایا : میں تمہیں پریشان کیوں دیکھ رہا ہوں ؟ انہوں نے کہا : اے ہمارے سردار ! ہم نے خواب میں ناپسندیدہ بات دیکھی ہے : آپ نے فرمایا : مجھے بتاؤ، تو انہوں نے آپ کو وہ بات بنائی اور کہا : ہمیں ہارے خوابوں کی تعبیر بتایئے : یہ بیان اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ ان کے خواب تھے۔ انانرٰئک من المحسنین آپ کا احسان یہ تھا کہ آپ مریض کی عیادت کرتے اور اسے دوا دیتے تھے، پریشان وغمزدہ کو دلاسہ دیتے، جب اس کی ضرورت ہوتی تو اس کی خدمت کرتے اور اس کے لیے (لوگوں کو) کہتے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ من المحسنین سے مراد العالمین الذی أحسنوا العلم یہ فراء کا قول ہے۔ ابن اسحاق نے کہا : من المحسنین لناان فسرتہ کہ اگر آپ اس کی وضاحت کردیں تو آپ ہمارے محسنین میں سے ہوں گے۔ جس طرح کوئی آدمی کہتا ہے : ایسا کرو تو تم احسان کرنے والے ہوگے۔ آپ نے فرمایا : تم نے کیا دیکھا ہے ؟ خباز نے کہا : میں نے دیکھا کہ میں نے تین تنوروں میں روٹیاں پکائیں انہیں تین ڈبوں میں رکھ دیا، اور ان کو اپنے سر پر رکھ لیا تو ایک پرندہ آیا اور اس میں سے کھا گیا۔ دوسرے نے کہا : میں نے دیکھا کہ میں نے سفید انگور کے تین گچھے لیے انہیں تین برتنوں میں نچوڑا، پھر اپنی پہلی عادت کے مطابق وہ میں نے بادشاہ کو پلادیا، یہی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انی ارٰینی اعصر خمرا یعنی انگور لغت عمان کے مطابق (انگور کو خمر کہتے ہیں ) ۔ یہ ضحاک کا قول ہے۔ حضرت ابن مسعود نے اسے انی ارٰ ینی اعصر خمرًا پڑھا ہے۔ اصمی نے کہا : مجھے معتمر بن سلیمان نے بتایا ہے کہ وہ ایک اعرابی کو ملے اس کے پاس انگور تھے تو انہوں نے اسے کہا : تیرے پاس کیا ہے ؟ تو اس نے کہا :” خمر “ ایک قول یہ ہے : اعصر خمرًا کا معنی ہے ” عنب خمر “ تو مضاف کو حذف کردیا گیا۔ اور خمرۃ، خمر اور خمور کہا جاتا ہے جس طرح کھجور کے بارے میں تمرۃ، تمر اور تمور کہا جاتا ہے۔ قال حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان دونوں کو فرمایا : لا یاتیکما طعام ترزقٰنہٖٓ یعنی کل تمہارے گھر سے تمہارے لیے کھانا نہیں لایا جائے گا۔ الانباتکمابتاویلہٖ مگر میں تمہیں اس کی تاویل بتادوں گا تاکہ تمہیں پتہ چل جائے گا۔ تو کھانا اسی طرح کا تھا جس طرح آپ نے فرمایا : یہ علم غیب تھا جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ خاص تھا۔ اور آپ نے بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس علم کے ساتھ اس لیے خاص فرمایا کہ آپ نے ایک ایسی قوم کی ملت کو چھوڑا تھا جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتی تھی یعنی بادشاہ کے دین کو۔ میرے (قرطبی) کے نزدیک اس کلام کا معنی ہے : تمہارے خوابوں کی تعبیر کا علم، تمہارے پاس لائے جانے والے کھانے کا علم اور اللہ کے دین کا علم، پس سب سے پہلے وہ سنو جو دین کے ساتھ تعلق رکھتا ہے تاکہ تم یدایت پاجاؤ اسی وجہ سے آپ نے ان کو تعبیر نہ بتائی بلکہ اسلام کی طرف دعوت دی، اور فرمایا : یٰصاحبی السجنء ارباب متفرقون خیر ام اللہ الواحد القھار۔ ایک قول یہ ہے : حضرت یوسف (علیہ السلام) نے انہیں تعبیر بتانے کو ناپسند کیا کیونکہ آپ کو پتہ چل گیا تھا کہ ایک کے لیے یہ تعبیر ناپسندیدہ ہے لہٰذا آپ نے ان کے سوال سے اعراض برتا اور دوسرے موضوع پر گفتگو شروع کردی اور فرمایا : لایاتیکما طعام ترزقنہٖٓ یعنی نیند کی حالت میں الا نبا تکما مگر میں تمہیں اس کی تفسیر بیداری کی حالت میں بتادوں گا، یہ سدی کا قول ہے۔ انہوں نے آپ کو کہا : یہ تو کاہنوں اور قیافہ شناسوں کا عمل ہے تو آپ نے انہیں فرمایا : میں کاہن نہیں ہوں، یہ تو ان علوم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھائے میں تمہیں کہا نت اور ستاروں کے ذریعے ان کی خبر نہیں دوں گا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے ہوگا۔ ابن جریج نے کہا : بادشاہ جب کسی آدمی کو قتل کرنا چاہتا تو اس کے لیے کھانا تیار کراتا اور اس کی طرف بھیجتا تھا۔ تو معنی یہ ہوگا : تمہارے پاس حالت بیداری میں کھانا نہیں لایا جائے گا تو اس اعتبار سے ترزقٰنہٖ کا معنی ہوگا بادشاہ یا اس کے علاوہ کسی اور کی طرف سے تمہارے پاس آئے گا۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ جو تمہیں اللہ تعالیٰ رزق دے گا۔ حضرت حسن نے کہا : آپ انہیں غیب چیز کی خبر دے رہے تھے، جس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دی۔ ایک قول یہ ہے : آپ نے ان دونوں کو اس طریقے سے اسلام کی دعوت دی اور آپ نے اس کو ایسا معجزہ بنادیا جس کے ذریعے انہوں نے غیب کے ذریعے خبر کی طرف راہنمائی حاصل کی۔
واتبعت ملۃ اٰبآء یٓ ابراھیم واسحق ویعقوب کیونکہ یہ انبیاء برحق تھے ماکان یعنی نہیں چاہیے کہ ان نشرک باللہ من شیء ” من “ تاکید کے لیے ہے۔ جس طرح تیرا قول : ماجائنی من احد۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ذٰلک من فضل اللہ علینا یہ آپ کے زنا سے بچنے کی طرف اشارہ ہے وعلی الناس یعنی ان مومنین پر جنہیں اللہ تعالیٰ نے شرک سے بچایا ہے۔ ایک قول یہ ہے : ذٰلک من فضل اللہ علینا کہ اس نے ہمیں انبیاء بنایا، وعلی الناس کہ ہم کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ ولٰکن اکثر الناس لا یشکرون یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید اور ایمان پر (اکثر لوگ نہیں کرتے) ۔
Ayahs 12:39–40آیت نمبر 39 تا 40
یٰصاحبی السجن یعنی اے قید خانے کے دوباسیو۔ آپ نے صحبت کا ذکر اس لیے کیا کہ وہ اس میں لمبی دیر مقیم رہے جس طرح کہ اصحاب الجنۃ اور اصحاب النار کہا جاتا ہے۔ ارباب متفرقون یعنی بچپن، بڑھاپے اور جوانی میں، یا اس سے مراد تعداد میں متفرق ہونا ہوگا۔ خیر ام اللہ الواحد القھار ایک قول کے مطابق خطاب ان دونوں جوانوں اور دیگر قیدیوں کے لیے ہے اور ان کے سامنے ایسے بت تھے جن کی وہ پوجا کرتے تھے تو آپ نے حجت کو لازم کرنے کے لیے یہ ارشاد فرمایا یعنی کئی معبود کوئی تفع ونقصان نہیں دے سکتے خیر ام اللہ الواحد القھار جس نے ہر چیز پر غلبہ پایا۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے آٰللہ خیر امایشرکون۔ (النمل) ایک قول یہ ہے : تفرق کے ذریعے آپ نے اس جانب اشارہ فرمایا کہ معبود متعدد ہوجائیں تو وہ ارادہ میں مختلف ہوجائیں گے اور بعض بعض سے بلند ہوجائیں گے اور آپ نے واضح کردیا کہ جب ان میں تفرق ہوگا تو وہ معبود نہیں ہوں گے۔
مایعبدون من دونہٖٓ الا اسمآءً آپ بتوں کے عجز اور کمزوری کو بیان کیا ارشاد فرمایا : ماتعبدون من دونہٖ یعنی اللہ تعالیٰ کے علاوہ کی تم عبادت نہیں کرتے مگر ایسے اسماء والوں کی عبادت کرتے ہو جن کا کوئی معنی نہیں۔ سمیتموھا یعنی جو نام تم نے اپنی طرف سے رکھے ہوئے ہیں۔ ایک قول یہ ہے : اسماء سے مراد مسمیات ہیں یعنی تم ایسے بتوں کی عبادت کرتے ہو جن کے لیے سوائے معبودیت کے نام کے اور کوئی چیز نہیں ہے، کیونکہ وہ جمادات ہیں۔ فرمایا : ماتعبدون جمع کا صیغہ ارشاد فرمایا حالانکہ آغاز میں خطاب صرف دو کو تھا کیونکہ آپ نے ان تمام لوگون (کو سمجھانے کا) قصد کیا جو شرک کے حوالے ان دونوں جیسے تھے۔ الا اسمآءً سمیتموھآانتم واٰبآؤکم مفعول ثانی کو دلالت کیوجہ سے حذف کردیا ہے معنی ہوگا۔ سمیتموھا آلھۃ من عند أنفسکم، مآ انزل اللہ، اللہ تعالیٰ نے کتاب میں نازل نہیں فرمایا۔ سعید بن جبیر نے کہا : من سلطٰن یعنی حجت میں سے ان الحکم الاللہ جو سب کا خالق ہے امرالاتعبدوٓا الا ایاہ۔ ذٰلک الدین القیم قیم بمعنی القویم ہے ولٰکن اکثرالناس الایعلمون لیکن بہت سے لوگ (اس حقیقت کو) نہیں جانتے۔
Ayah 12:41آیت نمبر 41
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : امآ احد کما فیسقی ربہ خمرًا یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ساقی کو کہا : تو تین دن کے بعد بادشاہ کو شراب پلانے والی سابقہ ڈیوٹی پر واپس چلا جائے گا اور دوسرے سے کہا : تجھے تین دن تک بلایا جائے گا اور سولی چڑھا دیا جائے گا پرندے تیرے سر سے (نوچ) کھائیں گے، اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے کوئی (خواب) نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا : تو نے دیکھا ہے یا نہیں قضی الامر الذی فیہ تستفتیٰن (اٹل) فیصلہ ہوچکا ہے اس بات کا جس کے متعلق تم دریافت کرتے ہو۔ اہل زبان نے بیان کیا ہے کہ سقی اور اسقی دونوں لغتیں ہیں معنی دونوں کا ایک ہے، جس طرح کہ شاعر نے کہا :
سقی قومی نبی مجد وأسقی نمیرا والقبائل من ھلال
اس شعر میں سقی اور أسقی ایک ہی معنی میں استعمال ہوئے ہیں، یعنی میری قوم نے نبی مجد، نمیر اور ہلال کے قبائل کو پلایا۔ نحاس نے کہا : جس بات پر اکثر اہل زبان کا اتفاق ہے وہ یہ ہے کہ سقا کا معنی یہ ہے کہ اس نے اس کو پکڑا اور پی لیا یا اس نے اپنے حلق میں پانی انڈیلا اور اسقا کا معنی ہے اس نے اسے پلایا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے : واسقینٰکم مآءً فراتًا (المرسلات :27) یعنی ہم نے تمہیں پلایا ماء فرات۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ ہمارے (مالکی) علماء نے کہا : اگر یہ کہا جائے کہ جس نے اپنے خواب میں جھوٹ بولا اور تعبیر کرنے والے نے اس کی تفسیر بیان کردی تو آیا اس کا حکم اسے لازم ہوجائے گا ؟ ہم نے کہا : ہم نے اسے یہ لازم نہ ہوگا۔ البتہ یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حوالے سے ہے کیونکہ وہ نبی ہیں اور نبی کی تعبیر فیصلہ ہوتا ہے آپ نے ارشاد فرمادیا کہ یہ معاملہ یوں ہوگا تو اللہ تعالیٰ نے معاملہ اسی طرح کردیا جس طرح آپ نے خبر دی اور یہ آپ کی نبوت کے ثبوت کے طور پر ہوا۔ اگر یہ کہا جائے : عبدالرزاق عن معمر عن قتادہ روایت ہے کہ انہوں نے کہا : ایک آدمی حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس آیا اس نے کہا : میں نے دیکھا کہ گویا میں ہرے بھرے مقام پر پہنچا ہوں پھر خشک جگہ پر پہنچا ہوں پھر شاداب مقام پر پہنچا ہوں پھر خشک مقام پر پہنچا ہوں، تو حضرت عمر ؓ نے اسے فرمایا : تو ایک ایسا آدمی ہے کہ تو ایمان لائے گا پھر کفر اختیار کرے گا پھر ایمان لائے گا اور پھر کفر اختیار کرے گا، پھر تو کفر کی حالت میں مرے گا، تو آدمی نے کہا : میں نے کوئی چیز نہیں دیکھی، تو حضرت عمر ؓ نے اسے فرمایا : تیرے لیے فیصلہ ہوچکا ہے جس طرح حضرت یوسف (علیہ السلام) کے (قیدی) ساتھی کے لیے ہوگیا تھا، تو ہم اس کا جواب یہ دیں گے : حضرت عمر ؓ کے بعد یہ معاملہ کسی اور کے لیے نہیں کیونکہ آپ کی زبان پر حق جاری تھا اور آپ کی کیفیت یہ تھی کہ جب آپ گمان کرتے وہ گمان ہوتا تھا اور جب آپ کلام فرمادیتے تو واقع ہوجاتا تھا جس طرح کہ روایات میں ہے اور ایسی روایات کثیر ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا تو آپ نے اسے فرمایا : میں آپ کو کاہن گمان کرتا ہوں تو وہ ویسا ہی تھا جیسا آپ نے گمان کیا : اس روایت کو امام بخاری (رح) نے روایت کیا ہے۔ ایک اور روایت ہے کہ آپ نے ایک آدمی سے اس کا نام پوچھا تو اس نے آپ کو کہا کہ اس کے دوزخ کے سارے نام ہیں، تو آپ نے اسے فرمایا : تو نے اپنے اہل کو پالیا اور وہ سارے جل چکے ہیں تو وہ اسی طرح تھا جس طرح آپ نے ارشاد فرمایا، یہ روایت صاحب مؤطا نے بیان کی ہے اس کی مزید تفصیل انشاء اللہ تعالیٰ سورة ” الحجر “ میں آئے گی۔