12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 12:83

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader

(جب انہوں نے یہ بات یعقوب سے آ کر کہی تو) انہوں نے کہا (کہ حقیقت یوں نہیں) بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے بنالی ہے تو صبر ہی بہتر ہے عجب نہیں کہ خدا ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ بیشک وہ دانا (اور) حکم والا ہے۔

آیت نمبر 83 اس میں دو مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ قال بل سولت یعنی اس نے آراستہ کردیا یالکم انفسکم اس بات کو کہ میرے بیٹے نے چوری نہیں کی، بلکہ یہ تو صرف ایسے کام کے لیے ہوا ہے جس کو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔ فصبر جمیل یعنی میرا طریقہ صبر جمیل ہے یا صبر جمیل ہی مجھے زیبا ہے جس طرح کہ سورة کے آغاز میں گزر چکا ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ جب اسے اس کی اولاد کو یا اس کے مال کو کوئی مصیبت لاحق ہو تو صبر جمیل کے ذریعے تسلی حاصل کرے اسی طرٖ اس حلیم و حکیم کی رضا اور تسلیم کو حرز جان بنائے اور اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور سارے انبیاء کی پیروی کرے۔ سعید بن ابی عروبہ نے عن قتادہ عن حسن کہا ہے : بندے کے دو گھونٹوں سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی پسندیدہ گھونٹ نہیں جس کو بندہ پھرتا ہے ایک وہ مصیبت کا گھونٹ جس کو بندہ خوبصورت صبر اور خوبصورت تسلی کے ذریعے بھرتا ہے اور دوسرا غصہ کا گھونٹ جس کو بردباری اور عفو کے ذریعے بھرتا ہے۔ ابن جریج نے مجاہد سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد فصبر جمیل کے بارے میں کہا : یعنی میں کسی کو بھی اس کی شکایت نہیں کروں گا۔ مقاتل بن سلیمان نے عطا بن ابی رباح عن ابی ہریرہ عن رسول اللہ ﷺ روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا :” جس نے کسی کو آگاہ کردیا اس نے صبر نہیں کیا “۔ اور سورة ” البقرہ “ میں گزر چکا ہے کہ صبر صدمہ کے آغاز میں ہوتا ہے۔ اور ثواب اسے حاصل ہوتا ہے جس نے مصیبت کا ذکر کیا اور اناللہ وانا الیہ رٰجعون پڑھا اگرچہ مصیبت کا وقت گزرہی کیوں نہ چکا ہو۔ جو یبر نے ضحاک عن ابن عباس ؓ کہا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حوالے سے سو شہیدوں کا ثواب عطا کیا گیا۔ اور اسی طرح اس امت میں سے جس نے مصیبت کو برداشت کیا تو اس کو بھی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے اجر جیسا اجر دیا جائے گا۔ عسی اللہ ان یاتینی بھم جمیعًا کیونکہ آپ کے نزدیک یہ بات ثابت تھی کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا انتقال نہیں ہوا بلکہ صرف آپ کے بارے میں کوئی خبر نہیں، کیونکہ جب یوسف کو اٹھایا گیا تو وہ غلام تھے خود اپنے لیے کسی چیز کے مالک نہیں تھے پھر بادشاہ نے انہیں خرید لیا تو آپ اس کے گھر رہتے تھے اور لوگوں کے سامنے نہیں آتے تھے پھر آپ کو قید میں ڈال دیا گیا اور جب قدرت حاصل ہوئی تو آپ نے ایک ایسا حیلہ کیا جس کے ذریعے آپ کے متعلق آپ کے باپ کو پتہ چل جائے۔ اور آپ نے قاصد کی طرف کوئی توجہ نہ دی کیونکہ آپ کے بھائیوں کو یہ بات ناپسند تھی کہ وہ اس سلسلے کو پہنچانتے اور آپ نے بھم کہا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ تین بھائی تھے : ایک حضرت یوسف (علیہ السلام) ، آپ کا بھائی بنیامین اور تیسرا جو بنیامین کی وجہ سے پیچھے رہ گیا تھا اور جس نے کہا تھا : فلن ابرح الارض، انہ ھو العلیم یعنی میرے حال کو جانتا ہے۔ الحکیم اور جو کچھ گزر چکا اس میں دانا ہے۔
Ayah 12:84

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader

پھر انکے پاس سے چلے گئے اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف (ہائے افسوس) اور رنج والم میں (اس قدر روئے کہ) انکی آنکھیں سفید ہوگئیں اور ان کا دل غم سے بھر رہا تھا۔

آیت نمبر 84 اس میں تین مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1 ۔ وتولی عنھم یعنی آپ نے ان سے اعراض کیا : اس کی وجہ یہ تھی کہ جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) تک بنیامین کی خبر پہنچی تو آپ کی پریشانی بہت زیادہ ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ہوسف (علیہ السلام) کے حوالے سے جو مصیبت آپ کو لاحق ہوئی تھی اسے تازہ فرمادیا۔ آپ نے فرمایا : یٰٓاسفی علی یوسف اور اپنے بیٹے بنیامین کو بھول گئے اس کا کوئی ذکر نہ کیا، یہ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے۔ اور حضرت سعید بن جبیر نے کہا ہے : حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو حضرت یوسف کے واپس لوٹنے کی امید نہیں تھی ورنہ آپ یٰٓاسفی علیٰ یوسف نہ کہتے۔ حضرت قتادہ اور حضرت حسن ؓ نے کہا : اس کا معنی یاحزناہ ہے۔ مجاہد اور ضحاک نے کہا :” یاجزعاہ “ کثیر نے کہا : فیا أسفا للقلب کیف انصرافہ وللنفس لما سلیت فتسلت ہائے افسوس دل کے لیے اس کا پھیرنا کیسے ممکن ہوگا اور نفس کو جب میں نے تسلی دی تو اس نے تسلی پالی۔ الأسف فوت شدہ چیز پر شدت غم کو کہتے ہیں۔ اور ندا کا مطلب یہ ہوگا : اے افسوس آ کہ یہ تیرا وقت ہے۔ زجاج نے کہا : اصل میں یا اسفی تھا یا کو الف سے بدل دیا گیا فتحہ کی خفت کی وجہ سے وابیضت عینٰہ من الحزن کہا گیا ہے کہ چھ سال تک آپ نے نہ دیکھا اور آپ نابینا ہوگئے، یہ مقاتل کا قول ہے۔ ایک قول یہ ہے : آنکھ سفید ہوگئی مگر تھوڑا سا نظر آتا تھا اللہ تعالیٰ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی حالت کو بہتر جانتا ہے۔ اور آپکی آنکھیں رونے کی وجہ سے سفید ہوگئیں اور چونکہ رونے کا سبب حزن تھا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے من الحزن کہا ہے۔ کہا گیا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نماز پڑھ رہے تھے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) آپ نے سامنے لمبے لیٹے ہوئے تھے تو آپ نے نید میں خراٹا لیا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) آپ کیطرف متوجہ ہوئے پھر دوبارہ خراٹا لیا تو دوبارہ متوجہ ہوئے پھر تیسری مرتبہ خراٹا لیاتو انتہائی خوشی و مسرت سے آپنے توجہ فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کیطرف وحی فرمائی : میرے صفی اور میرے خلیل کے بیٹے کو دیکھو کھڑا میری مناجات میں ہے اور دیکھتا غیر کو ہے۔ مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ! میں ضرور وہ دونوں آنکھیں چھین لوں گا جن کے ذریعے وہ متوجہ ہوا ہے۔ اور اس کے درمیان اور جس کی طرف اسنے توجہ کی اس کے درمیان اسی سال تک جدائی ڈال دوں گا تاکہ عاملین کو پتہ چل جائے کہ میرے سامنے کھڑا ہو تو اس پر میری نظر کی نگہبانی لازم ہے مسئلہ نمبر 2 ۔ یہ اس بات پر دلالت ہے کہ نماز میں توجہ۔ اگرچہ نماز کو باطل نہیں کرتی۔۔۔ مگر اس میں نقص اور پکڑ پر دلالت کرتی ہے۔ امام بخاری نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نماز میں توجہ کرنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا : ” یہ وہ جھپٹا ہے جو شیطان بندے کی نماز سے مار لیتا ہے “۔ سورة ” المومنون “ میں انشاء اللہ تعالیٰ آئے گا کہ علماء اس حوالے سے کیا کہتے ہیں۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ نحاس نے کہا : اگر لوگ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے حزن کی شدت کے متعلق پوچھیں تو اس کے تین جوابات ہیں جو علماء نے بیان کیے ہیں۔ نمبر 1: جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو پتہ چلا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں تو انہیں ان کے دین کا خوف لاحق ہوا۔ اس وجہ سے ان کی پریشانی شدت اختیار کرگئی۔ نمبر 2: ایک قول یہ بھی ہے کہ چونکہ آپ نے بچپن میں انہیں بھائیوں کے سپرد کیا تھا اس وجہ سے پریشان ہوئے اور اس پر شرمندہ بھی ہوئے۔ نمبر 3: یہ تیسرا جواب زیادہ واضح ہے اور یہ کہ پریشانی کوئی ممنوع چیز نہیں ممنوع تو واویلا، کپڑوں کو پھاڑنا اور ایسا کام کرنا ہے جو نہیں کرنا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” آنکھیں بہتی ہیں دل پریشان ہوتا ہے اور ہم ایسی بات نہیں کہتے جو رب کو ناراض کردے “۔ اور اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے ارشاد : فھو کظیم کے ذریعے بیان فرمادیا۔ اس کا معنی ہے کہ حزن و پریشانی سے بھرا ہوا ہے اور اس پر کنٹرول کیے ہوئے اس کی شکایت اور اظہار نہیں کرتا اسی سے کظم الغیظ ہے اس سے مراد غصے کا چھپانا ہے۔ مکظوم سے مراد یہ کہ جس پر حزن کے راستے مسدود ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اذنادٰی وھو مکظوم۔ (القلم) یعنی کرب و پریشانی سے بھرا ہوا۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ مکظوم بمعنی کا ظم ہو اس سے مراد وہ ہے جو خوف پر مشتمل ہو اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ کظیم سے مراد ہے۔ شاعر نے کہا : فإن أک کا ظما لمصاب شاس فإنی الیوم منطلق لسانی ابن جریج نے مجاہد عن عباس ؓ کیا کہ آپ نے فرمایا : آپ کی آنکھیں پریشانی کی وجہ سے چلی گئیں فھو کظیم آپ نے فرمایا : فھومکروب یعنی آپ رنج ومشقت میں تھے۔ مقاتل بن سلیمان نے عطاء عن ابن عباس ؓ فھوکظیم کے بارے میں کہا : فھوکمد آپ پوشیدہ پریشانی میں تھے۔ کہتے ہیں : آپ جانتے تھے کہ یوسف زندہ ہے جبکہ یہ معلوم نہ تھا کہ وہ کہاں ہے، اس سے آپ باطنی طور پر پریشان تھے۔ جوہری نے کہا : الکمد سے مراد پوشیدہ غم ہے۔ اس سے کمد الرجل کمدوکمید کہتے ہیں۔ نحاس نے کہا : کہا جاتا ہے کہ فلان کظیم عکاظمہ یعنی ایسا پریشان جو اپنی پریشانی کی شکایت نہیں کرتا۔ شاعر نے کہا : فحضغت قومی واحتسبت قتالھم والقوم من خوف المنایا کظیم
Ayahs 12:85–86

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader

(بیٹے) کہنے لگے کہ واللہ اگر آپ یوسف کو اسی طرح یاد کرتے رہیں گے تو یا تو بیمار ہوجائیں گے یا جان ہی دیدیں گے۔

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader

انہوں نے کہا کے میں تو اپنے غم واندوہ کا اظہار خدا سے کرتا ہوں۔ اور خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

آیت نمبر 85 تا 86 قولہ تعالیٰ : قالوا تاللہ تفتؤتذکریوسف یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو آپ کے بیٹے نے کہا تاللہ تفتؤاتذکر یوسف کسائی نے کہا : فتأت وفتئت افعل ذالک یعنی مازلت۔ فراء کا خیال ہے کہ لامضمرہ ہے یعنی لاتفتا اس نے شعر بطور استشہاد بیان کیا ہے : فقلت یمین اللہ أبرح قاعدًا ولو قطعوا راسی لدیک وأوصالی یہاں ابرح اصل میں لا ابرح ہے۔ نحاس نے کہا : جو حسن نے کہا ہے وہ صحیح ہے۔ خلیل اور سیبویہ کا خیال ہے کہ ” لا “ قسم میں مضمر ہوتا ہے کیونکہ اس میں کوئی اشکال نہیں اور اگر واجب ہوتا تو لام اور نون کے ساتھ ہوتا۔ اور آپ کے بیٹوں نے آپ کو یہ بات اس لیے کہی کیونکہ وہ یقین سے جانتے تھے کہ آپ ہمیشہ ایسا ہی کرتے تھے ؟ کہا جاتا ہے : مازال یفعل کذا اور مافتی اور فتأ دونوں لغتیں ہیں اور دونوں انکار کے ساتھ ہی استعمال ہوتے ہیں۔ شاعر نے کہا : فما فتئت حتی کأن غبارھا سرادق یوم ذی ریاح ترفع یعنی مابرحت فتفتا تبرح۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : تزال ہے۔ حتیٰ تکون حرضًا یعنی آپ بیمار ہوجائیں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد نے کہا : بیماری کی وجہ سے قریب الموت ہونا مراد ہے اور یہ موت سے کم درجہ ہے۔ شاعر نے کہا : سری ھی فأمرضنی وقدمًا زادنی مرضا کذاک الحب قبل الیوم مما یورث الحرضا قتادہ نے کہا : اس کا معنی پڑھاپا ہے۔ ضحاک نے کہا : اس کا معنی نشان کا مٹنا ہو اور محو ہونا ہے۔ محمد بن اسحاق نے کہا : اس سے مراد ذہنی توازن کا کھونا ہے۔ فراء نے کہا : عارض سے مراد فاسد الجسم اور فاسد العقل ہے۔ اسی طرح حرض کا معنی بھی یہی ہے۔ حضرت ابن زید نے کہا : حرض سے مراد ارزل العمر کی طرف لوٹنا ہے۔ حضرت ربیع بن انس نے کہا : ہڈیوں پر جسم کا خشک ہوجانا مراد ہے مورج نے کہا : غم سے پگھلنا مراد ہے۔ اخفش نے کہا : غم سے چل بسنا مراد ہے۔ ابن الانباری نے کہا : ہلاک ہونے والا معنی ہے۔ یہ تمام معنی قریب قریب ہیں اور حرض کی اصل پریشانی عشق یا بڑھاپے کیوجہ سے جسم اور عقل میں فساد کا آجانا ہے عرجی نے کہا : إنی امرؤ لج بی حب فاقرضنی حتی بلیت وحتی شفنی السقم نحاس نے کہا : حرض حرضًا، حرض حروضًا، حروضۃ کہا جاتا ہے جب آدمی مصیبت میں مبتلا ہو اور اسے بخار ہوجائے۔ اسی طرح رجل حارض وحرض۔ البتہ حرضا کا تثنیہ اور جمع نہیں آتا۔ اسی طرح قمن اور حری میں ان کا بھی تثنیہ اور جمع نہیں آتا۔ ثعلبی نے کہا : عربوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو مذکر کے لیے حارض اور مؤنث کے لیے حارضہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں پس جب اس لفظ کے ساتھ وصف بیان کرتے ہیں تو تثنیہ جمع اور مؤنث استعمال کرتے ہیں۔ اور حرض یحرض، حراضۃ فھو حریض، وحرض کہا جاتا ہے اور ” رجل محرض “ کہا جاتا ہے شاعر نے کہا : طلبتہٰ الخیل یوما کاملا ولو الفتہ لأضحی محرضا امروالقیس نے کہا : أری المرء ذا الأذاد یصبح محرضًا کا حراض بکر فی الدیار مریض نحاس نے کہا : اہل لغت نے بیان کیا ہے کہ جب غم کسی کو بیمار کردے تو احرضہ الھم کہتے ہیں اور رجل حارض سے مراد احمق آدمی لیا جاتا ہے۔ انس نے حرضا حا کے ضمہ اور را کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے یعنی اشنان کی لکڑی کی طرح۔ حضرت حسن نے حا اور را کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ جوہری نے کہا : الحرض والحرض دونوں کا معنی اشنان ہے۔ اوتکون من الھٰلکین یعنی مردہ۔ یہ ان سب کا قول ہے اور ان کا مقصود یہ تھا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) رونے سے اور پریشان رہنے سے باز آجائیں یہ ان کی محبت پر دال ہے جبکہ اس کا سبب بھی وہی تھے۔ قال انما اشکوا بثی لغت میں بث کی حقیقت وہ مہلک اشیاء ہیں جو انسان پروارد ہوتیں ہیں جن کو پوشیدہ رکھنا انسان کے بس میں نہیں ہوتا۔ یہ بثثتہ سے مشتق ہے جسکا معنی ہے فرقتہ، تو مصیبت کو مجاز أبث کہہ دیا گیا۔ ذوالرمہ نے کہا : وقفت علی ربع لمیۃ ناقتی فما زلت أب کی عندہ وأخاطبہ وأسقیہ حتی کا د مما أبثہ تکلمنی زلت أحجارہ وملاعبہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : بثی سے مراد ہے ھمی میرا غم۔ حضرت حسن نے کہا : حاجتی، اپنی حاجت۔ ایک قول ہے : غم کی سختی، اور اس کی حقیقت وہی ہے جو ذکر کردی گئی ہے۔ وحزنی الی اللہ معطوف علیہ ہے۔ یہ اسی کا اعادہ ہے مترادف لفظ کے ذریعے۔ واعلم من اللہ مالاتعلمون یعنی میں جانتا ہوں کہ یوسف کا خواب سچا ہے اور میں اسے سجدہ کروں گا۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ حضرت قتادہ نے کہا : میں اللہ تعالیٰ کے اپنے ساتھ احسانات کو جانتا ہوں جو مجھے اس کے ساتھ حسن ظن کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ایک قول کے مطابق حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ملک الموت کو کہا : کیا تو نے یوسف کی روح قبض کرلی ؟ اس نے کہا : نہیں، تو اس گفتگو نے آپ کی امید کو اور زیادہ پختہ کردیا۔ سدی نے کہا : آپ اس بات کو زیادہ جانتے تھے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں، اس کیوجہ یہ تھی کہ جب آپکے بیٹے نے آپ کو بادشاہ کی سیرت، عدل، اخلاق اور گفتگو کے بارے میں بتایا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے محسوس کرلیا تھا کہ وہ آپ کا بیٹا ہے سو آپ کو لالچ پیدا ہوا اور آپ نے کہا : شاید وہ یوسف ہو اور آپ نے کہا : زمین میں صریق صرف نبی ہوتا ہے۔ ایک قول یہ ہے : میں مجبور کی دعا کی قبولیت کو زیادہ جانتا ہوں جتنا تم نہیں جانتے۔
Ayah 12:87

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader

بیٹا (یوں کرو کہ ایک دفعہ پھر) جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو۔ اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو کہ خدا کی رحمت سے بےایمان لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں۔

آیت نمبر 87 یٰبنی اذھبوا فتحسسوا من یوسف واخیہ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زندگی کا یقین تھا۔ اس صورت کئی صورتیں ہیں : یا تو خواب کے ذریعے، یا اللہ تعالیٰ نے بھیڑیے کو بولنے کی طاقت دی اور بھیڑیے نے بتایا جس طرح کہ واقعہ کی ابتدا میں ہے یا ملک الموت نے خبر دی کہ اس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی روح کو قبض نہیں کیا اور یہ زیدہ ظاہر ہے۔ التحسس حواس کے ذریعے کسی چیز کو طلب کرنا ہے۔ یہ حس سے باب تفعل ہے یعنی اس آدمی کے پاس جاؤ جس نے تم سے تمہارا بھائی طلب کیا اور تم سے اسے لینے کا حیلہ اختیار کیا اور اس کے متعلق اور اس کے مذہب کے متعلق پوچھو اور روایت ہے کہ ملک الموت نے آپ کو کہا : اسے یہاں تلاش کرو ! اور اس نے مصر کی جانب اشارہ کیا۔ اور ایک قول کے مطابق حضرت یعقوب (علیہ السلام) سامان کی واپسی، بھائیوں کی قید اور کرامت کے اظہار کے ذریعے حضرت یوسف (علیہ السلام) پر آگاہ ہوئے اسی وجہ سے آپ نے انہیں مصر کی طرف ہی متو کہ کیا کسی اور طرف نہیں، ولاتایئسوامن روح اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کی کشادگی سے مایوس نہ ہو۔ یہ ابن زید کا قول ہے۔ مراد یہ ہے کہ مومن اللہ کی کشادگی کی امید رکھتا ہے اور کافر سختی میں ناامید ہوتا ہے۔ حضرت قتادہ اور ضحاک نے کہا : روح اللہ سے مراد اللہ کی رحمت ہے۔ انہ لایایئس من روح اللہ الا القوم الکٰفرون یہ اس بات پر دلیل ہے کہ ناامیدی گناہ کبیرہ ہے۔ سورة ” الزمر “ میں انشاء اللہ اس کا بیان آئے گا۔
Ayah 12:88

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader

جب وہ یوسف کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ عزیز ہمیں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں۔ آپ ہمیں (اس کے عوض) پورا غلہ دیجئے اور خیرات کیجئے کہ خدا خیرات کرنے والوں کو ثواب دیتا ہے۔

آیت نمبر 88 فلمادخلواعلیہ قالوایٰٓایھا العزیز یعنی روکنے والے مسناواھلناالضر یہ ان کے مصر آنے کی تیسری دفعہ تھی۔ کلام میں حذف ہے یعنی وہ مصر کی طرف نکلے، جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس گئے تو انہوں نے کہا : مسنا یعنی ہمیں پہنچی ہے۔ واھلنا الضر یعنی بھوک اور حاجت، اس میں مصیبت یعنی بھوک کے وقت شکوہ کے جواز پر دلیل ہے، بلکہ جب فقر کی وجہ سے اسے اپنے اوپر کسی مصیبت کا خوف ہو تو اس پر واجب ہے۔ اور اس کے علاوہ جس آدمی سے نفع کی امید ہو اس کے سامنے اپنی حاجت کو ظاہر کرنا چاہیے، جس طرح کہ ڈاکٹر کے سامنے درد وغیرہ کی شکایت کرنا واجب ہے تاکہ وہ علاج کرے۔ اور یہ چیز توکل میں قدح کا باعث نہیں یہ اس صورت میں ہوگا جب شکوہ ناراضگی کی صورت میں نہ ہو۔ اور مصائب میں صبر اختیا کرنا زیادہ بہتر ہے۔ اور سوال کرنے سے بازرہنا افضل ہے اور شکوہ میں عمدہ کلام یہ ہے کہ غلام کا سوال مصیبت کا زوال ہے اور یہی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا قول ہے : انمآ اشکوا بثی وحزنیٓ الی اللہ واعلم من اللہ مالاتعلمون یعنی اس کی کاریگری کی خوبصورتی، مہربانی کی عجیب صورت اور اپنے بندوں پر اس کی توجہ، جہاں تک ایسے آدمی کے سامنے شکوہ کرنے کا تعلق ہے جو اس کا ازالہ نہ کرسکے تو یہ بےوقوفی ہے، البتہ وہ فقط تسلی اور معاملے کو ظاہر کرنے کے لیے ہو تو (پھر درست ہے) جس طرح کے ابن درید نے کہا : لاتحسبن یا دھر إنی ضارع لنکبۃ تعرقنی عرق المدی مارست من لو ھوت الأفاک من جوانب الجو علیہ ماشکا لکنھا نفثۃ مصدور اذا حاش لغام من نواحیھا غما وجئنا بمضاعۃ۔ لابضاعۃ سے مراد مال کو وہ ٹکڑا ہے جس کے ذریعے کسی چیز کی خرایدای کا قصد کیا جاتا ہے۔ آپ کہتے ہیں : أبضعت الشئ ذاستبضعتہ یعنی میں نے اسے مال بنایا۔ ضرب المثل میں ہے : کمستبضع التمرالی ھجر ( بحرین کا ایک شہر) مزجاۃ، بضاعۃ کی صفت ہے۔ الازجاء کسی چیز کو دور پھینک دینا اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد : الم تران اللہ یزجی سحابًا (النور :43) ہے معنی یہ ہوگا کہ یہ مسترد کردیا جانے والا مال ہے جس کو ہر ایک قبول نہیں کرتا۔ ثعلب نے کہا : البضاعۃ المزجاۃ سے مراد تھوڑا مال ہے جو پورا نہ ہو۔ یہاں اس کے تعین میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے : وہ جنگلی جانوروں کے گوشت کے خشک ٹکڑے تھے۔ اس کو واقدی نے حضرت علی ابن ابی طالب ؓ سے روایت کیا ہے۔ ایک قول یہ ہے : کہ اس کا معنی رسیوں اور کپڑوں کی بوسیدگی ہے۔ یہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے ایک قول یہ ہے۔ بدوؤں کا سامان اون اور گھی تھا۔ یہ عبداللہ حارث کا قول ہے۔ ایک قول ہے : سبزدانے اور صنوبر تھا اور وہ بطم ہے یعنی شام میں پائے جانے والے ایک درخت کا بیج ہے۔ اسے کھایا جاتا ہے اور صابن بنانے کے لیے اس سے تیل بھی نچوڑا جاتا ہے یہ ابو صالح کا قول ہے۔ پس انہوں نے اسے دراہم کے بدلے بیچا جو کھانے میں مروج نہیں تھے اور لوگوں کے درمیان رائج تھے، تو انہوں نے کہا : اس نے ہم سے اسے ایسے عمدہ رداہم کے حساب سے لیا جو کھانے میں مروج ہوتے ہیں۔ اور ایک قول کے مطابق اس سے مراد ردی دراہم ہیں، یہ بھی حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ اور ایک قول یہ ہے : اس پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تصویر نہیں تھی جبکہ مصر کے دراہم پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تصویر ہوتی تھی۔ اور ضحاک نے کہا : اس سے، مراد جوتے اور چمڑا ہے اور انھیں سے مروی ہے کے وہ چھانا ہوا ستو تھا۔ فاوف لنا الکیل وتصدق علینا اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ فاوف لناالکیل ان کی مراد یہ تھی کہ جس طرح عمدہ رداہم کے بدلے میں آپ بیچتے ہیں ہمارے دراہم کے بدلے میں بھی ہمارے لیے آپ اس میں کوئی کمی نہ کریں، یہ اکثر مفسرین کا قول ہے۔ ابن جریج نے کہا : فاوف لنا الکیل سے ان کی مراد وہ کیل تھا جو آپ پہلے اپنے بھائیوں کے لیے کرچکے تھے۔ وتصدق علینا یعنی عمدہ اور ردی سکوں کے بھاؤ کے حوالے سے ہمارے اوپر مہربانی کیجئے۔ یہ حضرت سعید بن جبیر، سدی اور حسن کا قول ہے۔ کیونکہ صدقہ تو اولاد انبیاء پر حرام ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کا معنی یہ ہے : وتصدق علینا یعنی ہمارے حق سے زیادہ دے کر مہربانی کریں۔ یہ سفیان بن عیینہ کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : صدقہ صرف ہمارے نبی پر حرام تھا۔ ابن جریج نے کہا : ہمارے بھائی کو ہماری طرف لوٹا کر مہربانی کیجئے۔ ابن شجرہ نے کہا : تصدق علینا کا مطلب ہے کہ ہم سے درگزر فرمایئے۔ بطور استشہاد شاعر کا شعر پیش کیا ہے : تصدق علینا یا بن عفان واحتسب وأمر علینا الأشعری لیالیا ان اللہ یجزی المتصدقین یعنی آخرت میں اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔ یہ تعریض ہے، کیونکہ ان کے نزدیک بادشاہ ان کے دین پر نہ تھا، اسی وجہ سے انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اللہ آپ کو اپنے صدقہ کی جزا دے گا۔ بلکہ انہوں نے ایسے لفظ بولے جن میں اس مراد کا وہم بھی ہے۔ اور ایسا وہم بھی ہے جس سے تاویل کے ذریعے ان کا نکلنا بھی ممکن ہے۔ یہ نقاش کا قول حدیث طیبہ میں ہے۔” تعریض میں جھوٹ سے بچنے کی وسعت ہے “۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ امام مالک اور دیگر علماء نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ کیل کرنے والے کی اجرت بائع پر ہے۔ ابن قاسم اور ابن نافع نے کہا کہ امام مالک نے فرمایا : انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کہا : فاوف لنا الکیل تو حضرت یوسف (علیہ السلام) ہی کیل کرنے والے تھے اسی طرح وزن کرنے والے اور گنتی کرنے والے کی صورتحال ہوگی، کیونکہ جب آدمی کھانے کے سامان میں سے کئی معلوم پیمانے بیچتا ہے اور اس پر عقد لازم کرتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ مشتری کے حق کو اپنے حق سے علیحدہ اور جدا کرے، مگر یہ کہ اس میں سے معین کو بیچے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ جہاں تک گننے کی اجرت کا تعلق ہے تو وہ بھی بالغ پر ہوگی کیونکہ مشتری تو اپنے دراہم دینے والا ہے، دیتے ہوئے کہے گا : یہ صحیح ہے تو آپ نے ان کے ردی ہونے کا دعوی کرنا ہے سو خود ان کو دیکھ لو اور یہ وجہ بھی ہے کہ نفع بائع کے لیے ہے تو اجرت بھی اسی پر ہونی چاہیے، اسی طرح جس پر قصاص لازم ہے اس پر گننا لازم نہیں، کیونکہ اس پر خود اپنا ہاتھ کاٹنا تو لازم نہیں بلکہ اس پر لازم ہے کہ قصاص لینے والے کے مطالبہ کی صورت میں فدیہ دے اور اس فدیے پر صلح کرے، لہٰذا ہاتھ کاٹنے والے کی اجرت قصاص لینے والے پر ہے جبکہ امام شافعی نے اپنے مشہور قول میں کہا ہے کہ یہ اجرت اس پر ہوگی جس سے قصاص لیا جاتا ہے جس طرح کہ بائع پر ہوتی ہے۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ آدمی کے لیے اپنی دعا میں اللھم تصدق علی کہنا مکروہ ہے، کیونکہ صدقہ اس کی طرف سے ہوتا ہے جو ثواب حاصل کرنا چاہ رہا ہوتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ تو تمام نعمتوں کے ذریعے ثواب عطا فرماکے فضل فرمانے والا ہے اس کے علاوہ کوئی پروردگار نہیں۔ حضرت حسن نے ایک آدمی کو اللھم تصدق علی کہتے ہوئے سنا، تو فرمایا : اے فلاں ! اللہ تعالیٰ صدقہ نہیں کرتا صدقہ تو وہ کرتا ہے جو ثواب حاصل کرنا چاہتا ہے۔ کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ان اللہ یجزی المتصدقین نہیں سنا تو تو یہ کہہ : اللھم أعطنی وتفضل علی یا الہٰی ! مجھے عطا فرما اور میرے اوپر اپنا فضل فرما۔
Ayahs 12:89–93

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader

(یو سف نے) کہا تمہیں معلوم ہے کہ جب تم نادانی میں پھنسے ہوئے تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا ؟

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader

وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو ؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے۔ خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader

وہ بولے خدا کی قسم خدا نے تم کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور بیشک ہم خطاکار تھے۔

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader

(یوسف (علیہ السلام) نے) کہا کہ آج کے دن (سے) تم پر کچھ عتاب (وملامت) نہیں ہے۔ خدا تم کو معاف کرے اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے۔

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader

یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو ۔ وہ بینا ہوجائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل و عیال کو میرے پاس لے آؤ۔

آیت نمبر 89 تا 93 قولہ تعالیٰ : قال ھل علمتم مافعلتم بیوسف واخیہ استفہام بمعنی تذکیر وتوبیح ہے، اور یہی وہ بات ہے جو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمائی : لتنبئھم بامرھم ھٰذا (لیوسف :15) میں تجھے ضرور ان کے اس معاملے سے آگاہ کروں گا۔ اذانتم جٰھلون یہ اس بات پر دلیل ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جب انہوں نے پکڑا تھا اس وقت وہ ابھی چھوٹے تھے اور نبی نہیں کیونکہ جہالت کی صفت اسی صورت میں بیان کی جاسکتی ہے اور یہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اب ان کی حالت بہتر ہے۔ یعنی یہ تم نے اس وقت کیا جب تم چھوٹے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حسن ؓ نے اس کا یہ معنی بیان کیا ہے۔ اور ان کا قول ان کنا لخٰطین (اگرچہ ہم غلطی پر تھے) اس بنیاد پر ہے، کیونکہ بڑے ہوگئے مگر اپنے باپ سے شرم محسوس کرتے ہوئے اور ڈرتے ہوئے انہوں نے اپنی کاروائی سے اپنے باپ کو آگاہ نہ کیا۔ ایک قول کے مطابق : اس کا معنی یہ ہوگا کہ وہ اس کاروائی کے انجام سے ناواقف تھے۔ واللہ اعلم۔ قالوٓاء انک لانت یوسف جب وہ آپ کے پاس پہنچے اور انہوں نے کہا : مسنا واھلنا الضر تو وہ آپ کے سامنے جھک گئے اور آپ کے سامنے انہوں نے عاجزی اختیار کی تو آپ کا دل ان کے لیے نرم ہوگیا اور آپ نے انہیں اپنا تعارف کرایا۔ فرمایا : ھل علمتم مافعلتم بیوسف واخیہ تو وہ متنبہ ہوئے اور کہا : انک لانت یوسف یہ ابن اسحاق کا قول ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ حضرت ہوسف (علیہ السلام) مسکرائے تو انہوں نے آپ کو یوسف کے مشابہ سمجھا تو سمجھ گئے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جب آپ نے انہیں فرمایا : ھل علمتم مافعلتم بیوسف پھر حضرت یوسف مسکرائے۔ جب آپ مسکرائے تو گویا آپ کے اوپر والے دانت پر ؤے ہوئے موتی تھے، تو انہوں نے آپ کو یوسف کے مشابہ جانا تو استفہامیہ انداز میں کہا : ء انک لانت یوسف حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ کے بھائیوں نے آپ کو نہ پہچانا یہاں تک کہ آپ نے تاج اتارا تو آپ کے سرمبارک میں ایک علامت تھی اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) میں بھی وہ علامت شامہ کی مثل تھی تو جب آپ نے انہیں فرمایا : ھل علمتم مافعلتم بیوسف پھر اپنا تاج اتارا تو وہ آپ کو پہچان گئے اور انہوں نے کہا : ء انک لانت یوسف حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے آپ کی طرف ایک خط لکھا جس میں آپ نے اپنے بیٹے کا مطالبہ کیا خط میں تھا : یعقوب صفی اللہ ابن اسحاق ذبیح اللہ ابن ابراہیم خلیل اللہ کی طرف سے عزیز مصر کی طرف۔ امابعد۔ بیشک ہم آزمائش اور امتحان کا گھرانہ ہیں اللہ تعالیٰ نے میرے داد ابراہیم (علیہ السلام) کو نمرود اور اس کی آگ کے امتحان میں مبتلا کیا، پھر میرے باپ اسحاق کو ذبح کے ذریعے آزمایا، پھر اس نے مجھے اپنے ایسے بیٹے کے ذریعے آزمایا جو مجھے ساری اولاد سے محبوب تھا یہاں تک کہ رورو کے میری بینائی چلی گئی بیشک نہ میں نے چوری کی اور نہ ہی کوئی چور میں نے پیدا کیا۔ والسلام۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خط پڑھا تو آپ کے اعضاء کا نپنے لگے جلد میں تھرتھراہٹ طاری ہوگئی اور آنکھوں سے رونے کی وجہ سے آنسوں بہنے لگے اور آپ کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا تو یہ بھید کھل گیا۔ ابن کثیر نے انک پڑھا ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ قراءت بھی بطور استفہام ہو جیسے تلک نعمۃ کیا یہ تعمت ہے ؟ قال انا یوسف یعنی میں مظلوم ہوں اور مراد آپ کا قتل ہے۔ اور آپ نے انا ھو یوسف نہ کہا اس واقعہ کی تعظیم کی وجہ سے۔ قد من اللہ علینا یعنی نجات اور بادشاہ کے ذریعے اللہ نے ہمارے اوپر احسان فرمایا انہ من یثق ویصبر یعنی جو اللہ سے ڈرتا ہے، مصائب پر صبر کرتا ہے اور گناہوں سے اجتناب کرکے صبر اختیار کرتا ہے۔ فان اللہ لایضیع اجر المحسنین یعنی جو اس کی آزمائش میں صبر کرنے والے ہوتے ہیں اور اس کی اطاعت کو برقرار رکھنے والے ہوتے ہیں۔ ابن کثیر نے کہا : انہ من یتق یا کو ثابت رکھ کے پڑھا ہے یہ قرأت بھی جائز ہے اس صورت میں من بمعنی الذی ہوگا اور یتقی صلہ ہوگا یا ثابت رہے گی اور یصبر کو رفع دیا جائے گا۔ اور یصبر کو اس بنیاد پر جزم دینا بھی جائز یوگا کہ یتقی کو آپ محل جزم میں بنائیں اور من شرطیہ ہو اور یا ثابت رہے۔ اور جزم کی علامت اس ضمہ کے حذف کو بنالیں جو اصل میں یا پر تھا جس طرح شاعر نے کہا ہے : ثم ناری إذا دخلت دمشقا یا یزید بن خالد بن یزید پھر تو جب دمشق میں داخل ہو تو ندادے اے یزید بن خالد بن یزید اس میں نادی میں ” ی “ ثابت ہے۔ ایک شاعر نے کہا : ألم یأتیک والأنباء تنمی بما لاقت لبون بنی زیاد جماعت کی قرات ظاہر ہے ” انہ “ میں ” ھاء “ گفتگو سے کنایہ اور جملہ اس کی خبر ہے۔ قالوات اللہ لقد اٰثرک اللہ علینا اصل میں دوہمزہ تھے دوسرے کو مخفف کردیا گیا اس کو ثابت رکھنا جائز نہیں اسم فاعل مؤثر ہے جبکہ مصدر ایثار ہے۔ کہا جاتا ہے أثرت التراب آثارۃ فأنا مشیریہ بھی افعل کا وزن تھا پھر اس میں تعلیل کردی گئی اصل میں اثیر تھا یا کی حرکت ثاکو دی یا (ماقبل مفتوح) کو الف سے بدلا پھر الف کو التقائے ساکنین کی وجہ سے حذف کردیا گیا۔ اور اثرت بروزن معلت ہوگیا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہم پر فضیلت عطا فرمائی اور آپ کو علم، بردباری، جاتا ہے، اثرت التراب إثارۃ فأنامشیریہ بھی افعل کا وزن تھا پھر اس میں تعلیل کردی گئی اصل میں اثیر تھا یا کی حرکت ثا کو دی یا ( ماقبل مفتوح) کو الف سے بدلا پھر الف کو لتقائے ساکنین کی وجہ سے حذف کردیا گیا۔ اور اثرت بزوزن فعلت ہوگیا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہم پر فضیلت عطا فرمائی اور آپ کو علم، بردباری، حکمت، عقل اور بادشاہی کے ذریعے منتخب فرمایا۔ وان کنا لخٰطئین یعنی گناہ کا ریہ خطی یخطأ سے مشتق ہے اس وقت بولا جاتا ہے جب کوئی آدمی غلطی کردے۔ اور اس کے ضمن میں معانی کا سوال بھی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا گیا کہ انہوں نے وان کنا لخٰطین کیسے کہا حالانکہ انہوں نے تو جان بوجھ کے یہ کیا تھا ؟ آپ نے فرمایا : اگرچہ انہوں نے جان بوجھ کے ایسا کیا مگر جان بوجھ کر بھی تب ہی کیا تھا کہ راہ حق سے غلطی کرلی تھی، اور اسی طرح ہر وہ آدمی جو گناہ کرتا ہے تو وہ اس راستے سے ہٹ جاتا ہے جو صحیح اور حق کا راستہ ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ شبہ اور گناہ میں پڑجاتا ہے۔ لایثریب علیکم الیوم یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا۔ اور آپ نے بردباری کی انتہا کردی۔ الیوم کا معنی الوقت ہے اور التثریب سے مراد التعییر والتوبیح ہے یعنی اب نہ تم پر کوئی عار ہے، نہ سختی اور نہ ہی علامت، یہ سفیان ثوری وغیرہ کا قول ہے۔ اسی سے نبی کریم ﷺ کا ارشاد :” جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے تو وہ اسے حد لگائے ولا یثرب علیھا یعنی اس کو عارنہ دلائے “۔ مبشر نے کہا : فعغوت عنھم عفو غیر مثرب وترکتھم لعقاب یوم سرمد میں نے انہیں ایسا معاف کیا کہ ان پر کوئی عار نہیں اور میں نے انہیں قیامت کے دن کی سزا کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ اصمعی نے کہا : شربت علیہ وعربت علیہ اس کا مطلب ہوگا کہ اس نے یہ تب کہا جب تو اس کے ساتھ برائی سے پیش آیا۔ زجاج نے کہا : معنی یہ ہوگا کہ جو میرے اور تمہارے درمیان حرمت اور بھائی چارے کے حقوق ہیں ان میں اب کوئی فساد نہیں تمہارے لیے میرے پاس معافی اور درگزر ہے۔ تثریب کی اصل إفساد ہے اور یہ اہل حجاز کی لغت ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن دروازے کے دونوں کو اڑ پکڑے اور لوگوں نے بیت اللہ کی پناہ لی ہوئی تھی آپ نے فرمایا :” سب تعریفیں اللہ کے لیے جس نے اپنا وعدہ سچا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور گروہ کو شکست دی “۔ پھر فرمایا :” اے معشرقریش ! تمہارا کیا خیال ہے “۔ انہوں نے عرض کی : بھلائی، کریم بھائی اور کریم بھائی کے بیٹے اگرچہ آپ قدرت رکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : ” میں بھی وہی کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسف نے کہا : لاتثریب علیکم الیوم۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ کے ارشاد سے حیاء محسوس کرتے ہوئے میں پسینے میں شرابور ہوگیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جب ہم مکہ میں داخل ہوئے تھے تو میں نے ان کو کہا تھا : آج ہم تم سے انتقام لیں گے اور تمہارا بندوبست کریں گے۔ جب نبی کریم ﷺ نے یہ فرمایا تو مجھے اپنی بات سے شرم آرہی تھی۔ یغفر اللہ لکم اس میں دعا کا معنی ہے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ وہ ان کی پردہ پوشی فرمائے اور ان پر رحم فرمائے۔ اخفش نے لاتثریب علیکم پر وقف کو جائز قرار دیا ہے جبکہ پہلی صورت مستعمل ہے، کیونکہ علیکم پر وقف اور الیومؕ یغفر اللہ لکم سے ابتدا کی صورت میں آج ہی مغفرت کے یقین کا اظہار ہے اور یہ تو صرف وحی کی صورت میں ہی ہوسکتا ہے۔ عنا خراسانی نے کہا : نوجوان سے ضرویات کو طلب کرنا بوڑھے سے طلب کرنے کی نسبت آسان ہے، آپ نہیں دیکھتے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : لا تثریب علیکم الیومؕ یغفر اللہ لکم جبکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا : سوف استغفرلکم ربی عنقریب میں تمہارے لیے اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کروں گا۔ اذھبوابقمیصی ھٰذا، ھٰذا قمیض کی صفت ہے اور قمیص مذکر ہے۔ جہاں تک شاعر کے قول کا تعلق ہے : تدعو ھوازن والقمیص مفاضۃ فوق النطاق یشد بالأزرار شعر میں القمیص مفاضۃ سے معلوم ہورہا ہے کہ قمیص مونث ہے۔ اس میں تقدیر عبارت : والقمیص درع مفاضۃ ہے یہ نحاس کا قول ہے۔ ابن سدی نے اپنے باپ سے عن مجاہد روایت کی : حضرت یوسف (علیہ السلام) نے انہیں کہا : اذھبوا بقمیصی ھٰذا فالقوہ علیٰ وجہ ابی یات بصیرًا اس کے کہا : حضرت یوسف کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس بات سے آگاہ کیا گیا تھا کہ ان کی قمیص حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بنیائی کو لوٹا دے گی، لیکن وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وہ قمیص تھی جو اللہ تعالیٰ نے انہیں جنت کے ریشم سے آگ میں پہنائی تھی، آپ نے حضرت اسحاق کو پہنائی، حضرت اسحاق (علیہ السلام) نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو پہنائی اور حضرت (علیہ السلام) نے وہ قمیض چاندی کے ایک ٹکڑے میں ڈال کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی گردن میں لٹکا دی اس وجہ یہ تھی کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حوالے سے نظر کا خوف رہتا تھا۔ جبریل امین نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خبر دی کہ اپنی قمیض بھیجو اس میں جنت کی خوشبو ہے اور جنت کی خوشبو کسی بیمار یا مصیبت میں مبتلا آدمی پر پڑے تو اس کو شفا مل جاتی ہے۔ حسن نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اس کے متعلق نہ بتایا ہوتا تو آپ کو پتہ نہ چلتا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بینائی انہیں واپس مل جائے گی۔ اور جس نے قمیض اٹھائی تھی وہ یہوذا تھا، اس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کہا : میں نے ہی آپ کی قمیض کو جھوٹا خون لگا کر ان تک پہنچائی تھی اور ان کو پریشان کیا تھا اور میں ہی اب اسے اٹھاؤں گا تاکہ ان کو خوش کروں اور ان کی بینائی ان تک واپس لوٹے، سو اسی نے قمیض اٹھائی، سدی نے اسے بیان کیا ہے۔ وأتونی باھلکم اجمعین تاکہ مصر کو اپنا گھر بنالیں۔ مسروق نے کہا : ان کے مردوں اور عورتوں کی تعداد ترانوے تھی۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ قمیض وہ تھی جس کو پیچھے سے پھاڑا گیا تھا تاکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو پتہ چل جائے کہ آپ زنا سے محفوظ رہے۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے، حضرت انس ؓ کی حدیث مرفوعا نبی کریم ﷺ سے مروی ہے، قشیری نے اس کو ذکر کیا ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 12:94–99

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader

اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد کہنے لگے کہ اگر مجھ کو یہ نہ کہو کہ (بوڑھا) بہک گیا ہے تو مجھے تو یوسف کی بو آرہی ہے۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader

وہ بولے کہ واللہ آپ اسی قدیم غلطی میں مبتلا ہیں۔

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader

جب خوشخبری دینے والا آپہنچا تو کرتہ یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور وہ بینا ہوگئے (اور بیٹوں سے) کہنے لگے کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ؟

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader

بیٹوں نے کہا کہ ابّا ہمارے لئے ہمارے گناہوں کی مغفرت مانگیے بیشک ہم خطاکار تھے۔

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader

انہوں نے کہا میں اپنے پروردگار سے تمہارے لئے بخشش مانگوں گا۔ بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

جب (یہ سب لوگ) یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا مصر میں داخل ہوجائیے۔ خدا نے چاہا تو خاطر جمع سے رہیئے گا۔

آیت نمبر 94 تا 99 قولہ تعالیٰ : ولما فصلت العیر یعنی جب قافلہ مصر سے شام کی طرف نکلا، کہا جاتا ہے : فصل فصولا، وفصلا، یہ لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ قال ابوھم یعنی آپ نے فریبیوں میں سے جو آپ کے پاس تھا اور مصر نہیں گیا تھا اسے کہا اور وہ آپ کے پوتے تھے انی لاجدریح یوسف یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کے کچھ بیٹے گئے ہوں اور باقیوں کو آپ نے فرمایا ہو : انی لاجد ریح یوسف لولآ ان یفندون حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ہوا چلی اور وہ حضرت یوسف کے پیراہن کی خوشبو آپ تک اٹھالائی حالانکہ دونوں کے درمیان آٹھ راتوں کی مسافت تھی۔ حضرت حسن نے کہا : دس راتوں کی مسافت تھی۔ انہیں سے ایک ماہ کی مسافت بھی مروی ہے۔ حضرت مالک بن انس نے فرمایا : پیراہن کی خشبو تخت بلقیس کی طرح پہنچی کہ وہ بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی آنکھ جھپکنے سے پہلے پہنچ گیا تھا۔ مجاہد نے کہا : ہوا چلی اس نے پر اہن کو الٹ پلٹ کیا تو دنیا میں جنت کی خوشبوئیں پہنچ گئیں اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) تک پہنچ گئیں، آپ نے جنت کی خوشبو پائی تو آپ کو پتہ چل گیا کہ دنیا میں جنت کی خوشبو صرف پیراہن کی وجہ سے ہوسکتی ہے، تو اس وقت آپ نے فرمایا : انی لاجد یعنی میں سونگھ رہا ہوں۔ تو وہ سونگھنے کی حس کی وجہ سے پائی گئی۔ لولآ ان تفندون حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد نے کہا : اگر تم مجھے بیوقوف نہ سمجھو، اسی سے بابغہ کا شعر ہے : إلا سلیمان إذقال الملیک لہ قم فی البریہ فاحدوھا عن الفند عن الفند یعنی عن السفہ، حضرت سعید بن جبیر اور ضحاک نے کہا : لولاأن تکذبون یعنی اگر تم مجھے نہ جھٹلاؤ۔ الفند سے مراد الکذب ہے۔ قدافند أفنادا یعنی اس نے جھٹلایا۔ اسی سے شاعر کا شعر ہے : ھل فی افتخار الکریم من أود أم ھل لقول الصدوق من فند یعنی من کذب ایک قول کے مطابق : لولاان تقبحون ہے یہ ابوعمرو کا وقول ہے۔ التنفید سے مراد التقبیح ہے، شاعر نے کہا : یا صاحبی دعا لومی و تفنیدی فلیس مافات من أمری بمردود ابن الاعرابی نے کہا : لولآ ان تقندون یعنی اگر تم میری رائے کو کمزور نہ سمجھو تو یہ ابن اسحاق کا قول ہے۔ الفند سے مراد بڑھاپے کی وجہ سے رائے کا کمزور ہونا ہے۔ چوتھا قول تضللون تم مجھے گمراہ نہ خیال کرو تو یہ ابو عبیدہ کا قول ہے۔ اخفش نے کہا : تلومونی، یعنی تم مجھے ملامت نہ کرو تو۔ التفنید سے مراد ملامت اور رائے کا ضعف ہے۔ حضرت، حسن حضرت قتادہ اور مجاہد نے بھی کہا : تھرمون یعنی تم مجھے بوڑھا نہ سمجھو تو۔ یہ تمام اقوال قریب المعنی ہیں، یہ عاجزی اور رائے کے ضعف کی طرف راجع ہے، جب کوئی چیز کسی کو عاجز کردے تو کہا جاتا ہے : فندہ تفنیدا جس طرح کسی نے کہا : اھلکنی باللوم والتفنید اس نے مجھے ملامت اور عاجز کرکے ہلاک کردیا۔ جب کوئی غلط کلام کرے تو کہا جاتا ہے : أفند، الفند سے مراد کلام اور رائے میں خطا ہے، جس طرح نابغہ نے کہا : فا حددھا عن الفند یعنی عقل میں فساد بپا کرنے سے تو اسے روک۔ اور اسی سے کہا گیا ہے کہ ملامت تفنید ہے، شاعر نے کہا : یا عاذلی دعا الملام وأقصرا طال الھوی و أطلتما التفنیدا اور أفند فلانا الدھر کہا جاتا ہے جب وہ اسے خراب کردے۔ اسی سے مقبل کا قول ہے : دع الدھر یفعل ما أراد فإنہ إذا کلف الافناد بالناس أفندا قالوات اللہ انک لفی ضلٰلک القدیم یعنی صحیح رستے سے چلے جانے میں۔ حضرت ابن عباس اور ابن زید نے کہا : حضرت یوسف (علیہ السلام) کی محبت میں سے آپ اپنی ماضی کی غلطی میں ہیں۔ سعید بن جبیر نے کہا : آپ اپنے پرانے جنون میں ہیں۔ حضرت حسن نے کہا : یپ نافرمانی ہے۔ حضرت قتادہ اور سفیان نے کہا : آپ اپنی پرانی محبت میں مبتلا ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ انہوں نے یہ اس لیے کہا تھا کہ ان کے نزدیک حضرت یوسف فوت ہوچکے تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اولاد میں سے آپ کے پاس تھا اس نے یہ کہا جبکہ ان کو کوئی خبر نہ تھی۔ ایک قول یہ بھی ہے : آپ کے اہل اور قرابت داروں میں سے جو آپ کے پاس تھا اس نے یہ کہا تھا۔ ایک قول کے مطابق پوتوں نے کہا اور وہ چھوٹے تھے۔ واللہ اعلم۔ فلمآان جآء البشیرالقٰئہ علیٰ وجھہٖ ، علیٰ وجھہٖ سے مراد علی عینیہ ہے یعنی آپ کی دونوں آنکھوں پر فارتد بصیرًا، ان زائدی ہے، اور بشیر سے مراد شمعون یا یہوذا ہے۔ یہوذا نے کہا : آج میں پیراہن لے کر جاؤں گا جس طرح کہ خون سے لت پت قمیص لے کے گیا تھا، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ سدی سے مروی ہے کہ اس نے بھائیوں کو کہا : تم جانتے ہو کہ پریشانی والی قمیض میں لے کے گیا تھا سو مجھے جانے دو تاکہ خوشی والی قمیص بھی میں لے کر جاؤں۔ یحییٰ بن یمان نے حضرت سفیان سے روایت کرتے ہوئے کہا : جب خوشخبری سنانے والا حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : تو نے یوسف کو کس دین پر چھوڑا ہے ؟ اس نے کہا : اسلام پر۔ آپ نے فرمایا : اب نعمت مکمل ہوگئی۔ حضرت حسن نے کہا : جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری لانے والا آیا تو آپ کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس کے ذریعے آپ اسے بدلہ دیتے تو آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ہمارے پاس کچھ نہیں ہے اور سات راتوں سے ہم نے کچھ نہیں کھایا، لیکن (اس کے بدلے میں) اللہ تعالیٰ نے تیرے اوپر موت کی سختیوں کو آسان فرمادیا ہے۔ میں (قرطبی) نے کہا : یہ دعا سارے انعامات سے بڑی ہے اور سب تحائف اور ذخائر سے زیادہ فضیلت والی ہے اور یہ آیت کریمہ خوشخبری کے وقت کچھ نہ کچھ خرچ کرنے کے جواز پر دلیل ہے۔ باب میں حضرت کعب بن مالک ؓ کی طویل حدیث ہے جس میں یہ بھی ہے :” جب وہ آدمی میرے پاس آیا جس کی خوشخبری دیتے ہوئے میں نے آواز سنی تو میں نے اپنے کپڑے اتارے اور اس کی خوشخبری کے بدلے اسے وہ پہنا دیئے “۔ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے، اور یہ پوری حدیث ان تین آدمیوں کے واقعے کے بیان میں گزر چکی ہے جو پیچھے رہ گئے تھے اور حضرت کعب کا خوشخبری سنانے والے کو اپنے کپڑے دے دینا باوجود اس کے کہ ایسا کرنے کے جواز پر کوئی اور دلیل بھی نہیں تھی کہ جب آدمی کو کسی کے ذریعے خوشخبری کے حصول کی امید ہو (تو کیا وہ ایسا کرسکتا ہے یا نہیں ) ، تو یہ غم اور مصیبت کے زوال کے بعد خوشی کے اظہار کے جواز کی دلیل ہے۔ اس باب سے بچوں کے قرآن مقدس سیکھنے کی وجہ سے خوشی کے اظہار کا جواز اور اس سبب سے لوگوں کو کھانا کھلانے کا جواز ثابت ہورہا ہے، اور حضرت عمر نے سورة ” البقرہ “ کے حفظ کے بعد اونٹ ذبح کیا تھا۔ واللہ اعلم قال الم اقل لکم ۚانی اعلم من اللہ مالاتعلمون انہیں اپنا ارشاد : انما اشکوابثی وحزنی الی الی اللہ واعلم من اللہ مالاتعلمون یاد کروایا۔ قالوایٰٓابانااستغفرلنا ذنوبنآ اناکنا خٰطئین کلام میں حذف ہے۔ تقدیر عبارت : فلما رجعوا من مصر قالو یا أبانا ہے یہ اس بات پر دلیل ہے کہ جس نے آپ کو کہا تھا : قالوت اللہ انک لفی ضلٰلک القدیم وہ آپ کے پوتے تھے یا آپ کے قریبی رشتہ دار تھے آپ کا بیٹا نہیں تھا، کیونکہ وہ تو غائب تھے۔ اور انہوں نے آپ سے مغفرت کا سوال اس لیے کیا کہ انہوں نے آپ کو پریشان کیا جس کا گناہ سوائے آپ کی معافی کے ساقط نہیں ہوسکتا تھا۔ میں (قرطبی) نے کہا : یہ حکم اس آدمی کے لیے بھی ثابت ہوگا جس نے کسی مسلمان کی جان، مال یا اس کے علاوہ کسی چیز میں زیادتی کی ہو، تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس سے معافی مانگے اور اسے ظلم اور اس کی مقدار کے متعلق بتائے، کیا مطلق معافی مانگنا اسے نفع سے گا یا نہیں ؟ اس میں اختلاف ہے، صحیح بات یہ ہے کہ یہ نفع بخش نہیں، کیونکہ اگر اس نے اسے زیادتی کے بارے میں آگاہ کیا جس کی ایک خاص حد اور نقصان تھا تو بعض اوقات مظلوم کا دل اسے معاف کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جس نے اپنے کسی بھائی کی عزت یا کسی چیز میں زیادتی کی ہوئی ہو تو اسے چاہیے کہ آج اس سے معافی مانگ لے قبل اس کے کہ دراہم و دینار نہیں ہوں گے اگر اس کا کوئی نیک عمل ہوا تو اس کی زیادتی کی مقدار اس کے نیک عمل سے لیا جائے گا اور اگر اس کی نیکیاں نہ ہوں گی تو مظلوم کے گناہ اس سے لے کر ظالم کو دے دیئے جائیں گے۔ مہلب نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کے : اخذمنہ بقدر مظلمۃ ارشاد سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مقدار معلوم ہونی چاہیے اور واضح طور پر اس کی طرف اشارہ چاہیے واللہ اعلم۔ قال سوف استغفرلکم ربی حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : آپ نے اپنی دعا کو سحری تک موخر فرمایا۔ مثنی بن صباح نے طاؤس سے راویت کرتے ہوئے کہا : جمعہ کی رات کی سحری تھی، اور یہ عاشوراء کی رات تھی۔ ترمذی کی کتاب میں حافظہ کی دعا کے حوالے سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے آپ نے فرمایا : ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے کہ اتنے میں حضرت علی ابن ابی طالب ؓ آئے انہوں نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ! یہ قرآن میرے سینے میں خلط ملط ہوگیا اور میں اس پر قابو نہ پاسکا، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا : ” کیا میں تجھے ایسے کلمات نہ سکھا دوں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے بھی فائدہ دے گا اور جس کو تو وہ سکھائے گا اسے بھی فائدہ دے گا اور جو کچھ تو حاصل کرے گا اسے تیرے سینے میں ثابت کردے گا “۔ حضرت علی ؓ نے عرض کی ہاں یارسول اللہ ﷺ تو سرکاردوعالم ﷺ نے مجھے وہ کلمات سکھائے، آپ نے فرمایا :” جب جمعہ کی رات ہو تو ہوسکے تو رات کے آخری ثلث میں آٹھ وہ ساعت مشہودہ ہے اور اس میں کی جانے والی دعا قبول ہوتی ہے، میرے بھائی یعقوب نے اپنے بیٹوں کو کہا تھا۔ سوف استغفرلکم ربی وہ کہہ رہے تھے یہاں تک کہ جمعہ کی رات آئی “ حضرت ایوب بن ابی تمیمہ سختیانی نے حضرت سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے انہوں نے فرمایا : سوف استغفرلکم ربی یعنی عنقریب میں اپنے رب سے تمہارے لیے استغفار کروں گا ایام بیض کی راتوں میں یعنی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کی رات میں کیونکہ ان راتوں میں دعا قبول ہوتی ہے۔ عامر شعبی سے مروی ہے انہوں نے کہا : سوف استغفرلکم ربی سے مراد یہ ہے کہ میں یوسف کو کہوں گا اگر اس نے تمہیں معاف کردیا تو میں اپنے رب سے تمہارے لیے استغفار کروں گا : سنید بن داؤد نے اس سند کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ حدیثا ھشیم قال حدثنا عبدالرحمن بن اسحاق عن محارب بن دثارعن عمہ انہوں نے کہا کہ میں سحری کے وقت مسجد میں آتا تھا تو میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے گھر کے پاس سے گزرتا تو انہیں یہ کہتے ہوئے سنتا تھا : اے اللہ ! تو نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کو ملا اور کہا : کچھ ایسے کلمات ہیں جو میں آپ سے سنتا ہوں آپ سحری کے وقت کہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بھی تو سوف استغفرلکم ربی کے قول کے ذریعے اپنے بیٹوں کو سحری تک مؤخر کیا۔ فلمادخلواعلی یوسف یعنی اس محل میں داخل ہوئے جو آپ کا تھا۔ اٰوٰٓی الیہ ابویہ کہا گیا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خوشخبری سنانے والے کے ساتھ دوسوسواریاں اور زادراہ بھیجا اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے گزارش کی کہ وہ اپنے اہل خانہ اور سب بیٹوں کو ساتھ لائیں۔ جب وہ آپ کے پاس پہنچے تو اٰوٰٓی الیہ ابویہ یعنی اپنے پاس بلایا اور ابویہ سے مراد آپ کا باپ اور خالہ ہے کیونکہ آپ کی ماں تو بنیامین کی ولادت کے وقت انتقال فرماگئیں تھیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی ماں کو زندہ کیا تاکہ وہ آپ کو سجدہ کرے اور آپ کا خواب ثابت ہوجائے، یہ حضرت حسن کا قول ہے اور سورة ” بقرہ “ میں یہ گزرچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے والدین کو زندہ کیا اور وہ آپ پر ایمان لائے۔ ادخلو مصر ان شآء اللہ اٰمنین ابن جریج نے کہا : یعنی سوف استغفر لکم ربی انشاء اللہ ہے انہوں نے کہا : یہ قرآن کی تقدیم و تاخیر ہے : (یعنی انشاء اللہ کے الفاظ پہلی آیت کے ساتھ ہیں) نحاس نے کہا : ابن جریج کا نقطہ نظر یہ ہے کہ وہ مصر میں داخل ہوچکے تھے تو انہیں آپ نے ادخلوامصران شآء اللہ کیسے کہا ؟ یہ قول بھی ہے کہ آپ نے ان شآء اللہ تبرکا کہا۔ اٰمنین یعنی قحط سے امن میں یا فرعون سے امن میں، کیونکہ وہ فرعون کی اجازت کے بغیر مصر میں داخل نہیں ہوتے تھے۔