12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 12:68–70

وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 12:68 in the Quran reader

اور جب وہ ان ان مقامات سے داخل ہوئے جہاں جہاں سے (داخل ہونے کیلئے) باپ نے ان سے کہا تھا تو وہ تدبیر خدا کے حکم کو ذرا بھی ٹال نہیں سکتی تھی۔ ہاں وہ یعقوب (علیہ السلام) کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی۔ اور بیشک وہ صاحب علم تھے کیونکہ ہم نے ان کو علم سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader

اور جب وہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے حقیقی بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو جو سلوک یہ (ہمارے ساتھ) کرتے رہے ہیں اس پر افسوس نہ کرنا۔

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader

جب ان کا اسباب تیار کردیا تو اپنے بھائی کے شلیتے میں گلاس رکھ دیا پھر (جب وہ آبادی سے باہر نکل گئے) تو ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ قافلے والو ! تم تو چور ہو۔

آیت نمبر 68 تا 70 ولما دخلوا من حیث امرھم ابوھم یعنی مختلف دروازوں سے ماکان یغنی عنھم من اللہ من شیءٍ یعنی اگر وہ ان پر کوئی ناپسندیدہ بات واقع کرنے کا ارادہ فرمالے تو اللہ کی تقدیر سے انہیں کوئی چیز بچاسکتی۔ الا حاجۃ یہ استثنا ہے مگر متصل نہیں فی نفس یعقوب قضٰھا یعنی خدشہ تھا جو ان کے دل میں کھٹکا : اور وہ ان کی وصیت تھی کہ وہ جدا جدا رہیں۔ مجاہد نے کہا : نظر کا اندیشہ تھا، اس کے بارے میں گفتگو گزرچکی ہے۔ ایک قول یہ ہے : (متفرق داخل ہونے کی بنیاد اس خدشے پر تھی) کہ بادشاہ ان کی تعداد اور قوت کو نہ دیکھ لے کہ کہیں حسد کے مارے یا احتیاط ان کو پکڑ ہی نہ لے یہ بعض متاخرین کا قول ہے۔ نحاس نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے اور اس نے کہا : یہاں نظر کا کوئی مطلب نہیں ہے اور یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے بھائی کو اندیشے اور خوف والے کام سے محتاط کرے اور اس کی رہنمائی ایسے عمل کی طرف کرے جس میں سلامتی اور نجات ہو کیونکہ خیر خواہی ہے اور مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وانہ یعنی یعقوب (علیہ السلام) لذوعلم لما علمنٰہ یعنی اپنے دین کے معاملے کے بارے میں۔ ولٰکن اکثرالناس لایعلمون یعنی اپنے دین کے معاملے میں کو کچھ حضرت یعقوب (علیہ السلام) جانتے تھے وہ وہ نہیں جانتے تھے۔ ایک قول کے مطابق لذوعلمٍ سے مراد عمل والا ہے : کیونکہ علم، عمل کا پہلا سبب ہے لہٰذا یہاں سبب بول کر مسبب مراد لے لیا گیا ہے۔ ولما دخلوا علی یوسف اٰوٰٓی الیہ اخاہ قتادہ نے کہا : اٰوٰٓی الیہ سے مراد ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کو اپنے پاس بٹھایا۔ ایک قول یہ ہے : آپ نے حکم دیا کہ دو دو آدمی ایک جگہ پر بیٹھ جاؤ، تو ایک بھائی اکیلا رہ گیا سو اسے اپنے پاس بٹھایا اور فرمایا : میں نے تنہائی کی وجہ سے اس پر شفقت کی ہے اور دیگر بھائیوں سے علیحدہ راز میں اس بھائی کو فرمایا : انی انا اخوک فل تبتئس یعنی میں تمہارا بھائی ہوں تو پریشان نہ ہو بماکانوایعملون ان کی ان حرکتوں پر جو یہ کیا کرتے تھے۔ فلما جھزھم بجھازھم جعل السقایۃ فی رجل اخیہ جب بنیامین نے جان لیا کہ آپ حضرت یوسف (علیہ السلام) ہیں تو اس نے آپ کو کہا : مجھے ان کے حوالے نہ کرنا، تو آپ نے فرمایا : تو میرے بارے میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے غم کو جانتا ہے تو اس طرح تو ان کے غم میں اضافہ ہوجائے گا تو بنیامین نے نکلنے سے انکار کردیا : حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : تمہیں بغیر کسی نامناسب عمل کے قید کرنا ممکن نہیں، بنیامین نے کہا : مجھے اس کی بھی کوئی پرواہ نہیں، تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے صاع کو ان کے سامان میں ڈال دیا : یا تو خود ڈالا کہ کسی کو بھی اس کا پتہ نہ چلایا پھر اپنے کسی خاص آدمی کو یہ کام کرنے کا حکم دیا۔ اور التجھیز سے مراد کھولنا اور کام کو فوراً کرنا ہے۔ اسی سے جھزعلی الجریح ہے یعنی اس کو اس نے قتل کردیا اور اس کا معاملہ جلدی جلدی ختم کردیا۔ السقایۃ اور صاع ایک ہی چیز ہیں یہ ایک ایسا برتن ہے جس کے دوسرے ہوتے ہیں اور درمیان میں ایک پکڑنے والا قبضہ ہوتا ہے۔ بادشاہ اس کے ایک سرے سے پیتا تھا اور دوسرے سرے سے کھانے کو لیتا تھا : یہ نقاش کا قول ہے جو اس نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے اور ہر وہ چیز جس کے ذریعے پیا جائے تو وہ صواع ہے۔ شاعر نے کہا : تشرب الخمر بالصواع جھازا ہم صواع کے ذریعے اعلانیہ شراب پیتے ہیں۔ اس کی جنس میں اختلاف ہے : شعبہ نے ابوبشرعن سعید بن جبیر عن ابن عباس ؓ روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا : بادشاہ کا صواع چاندی کی ایسی چیز تھی جو مکوک کے مشابہ تھی ایسی چاندی سے بنا ہوا تھا جو جواہرات سے مرصع تھا اس کو سر پر رکھا جاتا تھا اور حضرت عباس ؓ کا بھی زمانہ جاہلیت میں ایک صاع تھا۔ نافع بن ازرق نے آپ سے پوچھا : صواع کیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : برتن : اس کے بارے میں اعشی نے کہا ہے : لہ درمک فی رأسہ و مشارب وقدر وطباخ وصاع ودیسق عکرمہ نے کہا : یہ چاندی کا تھا۔ عبدالرحمٰن بن زید نے کہا : سونے کا تھا : اسی کے ذریعے آپ نے ان کے کھانے کو تو لا مقصودان کی عزت واحترام میں مبالغہ تھا۔ ایک قول کے مطابق اس کے ذریعے اس وجہ سے کیل کیا جاتا تھا کہ کھانا کم تھا۔ اور صاع مذکر اور مونث دونوں طرح مستعمل ہے۔ جس نے اس کو مونث کہا اس نے اصوع بروزن ” أدور “ کہا ہے اور جس نے مذکر استعمال کیا ہے اس نے اصواع بروزن اثواب کہا ہے۔ اس کی کئی قرآتیں ہیں : صواع عام قرآت ہے : صوغ غین کے ساتھ یہ یحییٰ بن یعمر کی قرآت ہے : انہوں نے کہا : یہ ایک ایسا برتن تھا جس پر سونے کا پانی چڑھا ہو اتھا۔ صوع عین کے ساتھ یہ ابورجاء کی قرأت ہے صوع صاء مضموم، واو ساکنہ اور عین کے ساتھ حضرت ابی کی قرات ہے۔ صاع صاد اور عین کے درمیان الف کے ساتھ یہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی قرآت ہے۔ ثم اذن مؤذن ایتھا العیرانکم لسٰرقون یعنی منادی کرنے والے نے منادی کی اور اعلان کیا۔ وأذن تکثیر کے لیے ہے گویا کہ ندا دینے والے نے باربار منادی کی ایتھا العیر، العیر سے مراد وہ جانور ہے جس پر بوجھ لادا جاتا ہے جیسے گدھا، اونٹ اور خچر وغیرہ۔ مجاہد نے کہا : ان کی سواریاں گدھے تھے۔ ابوعبید نے کہا : العیر سے مراد وہ اونٹ ہے جو سفر کرتا ہے اور اس پر سواری کی جاتی ہے۔ اور اس کا معنی یا اصحاب العیر جس طرح اللہ کا ارشاد وسئل القریۃ (یوسف :82) یعنی واسال اھل القریۃ ہے۔ اور یا خیل اللہ ارکبی یعنی یا اصحاب خیل اللہ ہے۔ یہاں دو اعتراضات ہیں۔ پہلا اعتراض یہ ہے کہ اگر کہا جائے بنیامین اپنی خوشی سے وہاں بیٹھنے پر کس طرح راضی ہوئے حالانکہ اس میں غم کی زیادتی کے ساتھ باپ کی نافرمانی تھی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھی ان کی موافقت کرلی ؟ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کیطرف چوری کی نسبت کیسے کرلی حالانکہ وہ بری تھے یہ دوسرا اعتراض ہے۔ پہلے اعتراض کا جواب یہ ہے : حضرت یعقوب (علیہ السلام) پر پریشانی وغم اتنا غالب آچکا تھا کہ بنیامین کی گمشدگی نے اس میں کوئی اثر نہ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ جب بنیامین گم ہوئے تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا یٰٓاسفی علیٰ یوسف (یوسف :84) اور بنیامین کی طرف آپ نے کوئی دھیان نہیں دیاق۔ اور شاید حضرت یوسف (علیہ السلام) نے وحی کی وجہ سے ان کے ساتھ اتفاق کرلیا ہو۔ اس صورت میں کوئی اعتراض ہی نہیں۔ اور جہاں تک حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اپنے بھائیوں کی طرف چوری کی نسبت کرنے کا تعلق ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان لوگوں نے خود انہیں ان کے باپ سے چوری کیا اور کنویں میں پھینک دیا تھا پھر بیچ دیا تھا، لہٰذا وہ اس عمل کی وجہ سے اس نام کے مستحق تھے سو اس نام کا اطلاق ان پر صادق آتا تھا۔ جبکہ اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ آپ نے اس سے یہ مراد لیا تھا کہ اے قافلہ والو ! تمہاری حالت چوری کی سی ہے : اور مطلب یہ ہوگا کہ کسی اور آدمی کی چیز بادشاہ کی رضا مندی اور علم کے بغیر تمہارے پاس ہے۔ اس کا ایک اور جواب یہ بھی ہے کہ یہ اپنے بھائی کو ساتھ رکھنے اور ان سے جدا کرنے کا ایک حیلہ تھا، یہ جواب اس صورت میں ہوگا جب بنیامین کو ان کی خورجی میں صاع کے رکھے جانے کا علم نہ ہو اور نہ ہی آپ نے خود ان کو اس بات کی خبر دی ہو۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ کلام کا معنی استفہام ہے، یعنی کیا تم چور ہو ؟ جس طرح کہ وتلک تعنۃ یعنی أوتلک نعمۃ عنھاعلی ؟ اور مقصود یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف جھوٹ کی نسبت نہ کی جائے۔
Ayahs 12:71–72

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader

وہ انکی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ تمہاری کیا چیز کھو گئی ہے ؟

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader

وہ بولے کہ بادشاہ کے پانی پینے کا گلاس کھو گیا ہے اور جو شخص اس کو لے آئے اس کے لیے ایک بار شتر (انعام) اور میں اس کا ضامن ہوں۔

آیت نمبر 71 تا 72 اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ ولمن جآء بہٖ حمل بعیروانا بہٖ زعیم اکثر مفسرین کے نزدیک یہاں بعیر ٍسے مراد اونٹ ہے۔ جبکہ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ گدھا ہے یہ بعض عربوں کی لغت ہے یہ مجاہد کا قول ہے اور انہوں نے اسی کو اختیار کیا ہے اور مجاہد نے کہا : زعیم سے مراد وہ منادی کرنے والا ہے جس نے ایتھا العیر کہا تھا۔ زعیم، کفیل، جمیل، ضمین اور قبیل برابر ہیں اور زعیم سے مراد رئیس ہے۔ شاعر نے کہا : وإنی زعیم إن رجعت مملکا بسیر تری منہ الفرانق أزورا أنی زعیم یعنی میں رئیس ہوں۔ لیلی اخیلیہ نے اپنے بھائی کا مرثینہ کہتے ہوئے کہا : ومخرق عنہ القمیص تخالہ یوم اللقاء من الحیاء سقیما حتی اذا رفع اللواء رأیتہ تحت اللواء علی الخمیس زعیما مسئلہ نمبر 2 ۔ اگر کہا جائے : آپ نے اونٹ کے بوجھ کی ضمانت کیسے قبول کرلی حالانکہ وہ مجہول ہے اور مجہول کی ضمانت صحیح نہیں ؟ تو اسے یہ جواب دیا جائے گا کہ اونٹ کا بوجھ ان کے نزدیک معین و معلوم تھا جس طرح کہ وسق : لہٰذا اس کی ضمانت صحیح ہے البتہ یہ چور کے مال کا بدلہ تھا اور چور کے لیے ایسا صحیح نہیں اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ شاید یہ ان کی شریعت میں صحیح ہو یا پھر یہ جعل (کسی چیز کو ڈھونڈنے کی اجرت) ہو۔ اور اس آدمی کے لیے مال خرچ کرنے کے مترادف ہو جو تفتیش کرتا ہے اور ڈھونڈتا ہے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ بعض علماء نے کہا : اس آیت میں دو دلیلیں ہیں : ایک جعل کے جواز کی اس کو ضرورت کی بنا پر جائز قرار دیا گیا ہے اس میں جہالت جائز ہے جو کہ کسی اور عقد میں جائز نہیں : جب آدمی نے کہا : جس نے ایسا کیا تو اس کے لیے یہ ہوگا تو یہ صحیح ہے۔ جعل کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اس میں ایک طرف معلوم ہوتی ہے جبکہ دوسری ضرورت کی بنا پر مجہول ہوتی ہے بخلاف اجارہ کے : اس میں عوض اور معوص دونوں جہتوں سے مقرر ہوتا ہے : یہ ان عقود جائزہ میں سے ہے جس کو کسی ایک کے لیے فسخ کرنا ہوتا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ مجہول لہ کے لیے اس کو شروع سے پہلے اور بعد میں دونوں صورتوں میں فسخ جائز ہوتا ہے جب کہ وہ اپنے حق کو ساقط کرنے پر راضی ہو جبکہ جاعل کے لیے اسے اس وقت فسخ کرنا جائز نہیں ہوتا جب مجعول لہ کام میں شروع ہوجائے۔ عقد جعل میں متعاقدین کا حاضر ہونا شرط نہیں ہوتا جس طرح کہ دیگر عقود میں شرط ہوتا ہے : اس کی دلیل یہ آیت ہے ولمن جآء بہٖ حمل بعیرٍ یہ سب امام شافعی نے فرمایا ہے۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ جب آدمی نے کہا : جو میرے بھاگے ہوئے غلام کو لے کر آیا تو اس کے اتنے دینار، تو جب کوئی آدمی اسے لے آیا تو اسے لازم ہوجائے گی اور اگر بغیر ضمان کے لے کر آیا تب بھی مال لازم ہوگا جب وہ اجرت کے مطالبے پر اسے لے کر آیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : من جاء بابق فلہ اربعون درھما جو بھاگے ہوئے غلام کو لے کر آیا تو اس کے لیے چالیس درہم ہوں گے۔ اس میں آپ ﷺ نے اس بات میں کوئی تفریق بیان نہیں فرمائی کہ وہ عقد کی صورت میں لایا یا بغیر عقد کے لایا۔ ابن خویزمنداد نے کہا : اور اسی وجہ سے ہمارے اصحاب نے کہا : جس نے کسی آدمی کا کوئی ایسا کام کیا جس کا کرنا اس پر اس کے مصالح میں سے بذات خود لازم تھا تو اس کے لیے یہ مال لازم ہوگا، اور اگر وہ ایسا آدمی ہے اور اجرت پر کام ہے تو اس کے لیے اجرت مثل ہوگی میں (قرطبی) نے کہا : اس سب میں ہم نے امام شافعی کی مخالفت کی ہے۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ دوسری دلیل۔ کفالت کا جواز آدمی پر ہوگا : کیونکہ ضامن منادی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے علاوہ تھا، ہمارے علماء نے کہا : جب آدمی نے کہا تحملت، تکفلت، ضمنت، أناحمیل، انازعیم، أناکفیل، أناضامن، أناقبیل، ھولک عندی، ھولک علی، ھولک إلی یا ھولک قبلی تو یہ ساری کفالت ہے اور اسے لازم ہوگی۔ فقہاء کا اس میں اختلاف ہے کہ اگر کسی نے کفالت نالنفس یاکفالت بالوجہ کی تو کیا اسے مال کی ضمانت لازم ہوگی یا نہیں ؟ کو فیوں نے کہا : جس نے کسی آدمی کی کفالت بالنفس کی تو اسے وہ حق لازم نہیں ہوگا جو مطلوب پر تھا اگر مطلوب فوت ہوجائے۔ یہی امام شافعی کے دو مشہور قولوں میں سے ایک ہے۔ امام مالک، لیث اور امام اوزاعی نے کہا َ جب کسی نے کفالت بالنفس کی اس حال میں کہ اس پر مال لازم تھا تو اگر وہ اسے لے کر نہ آیا تو بطور تاوان اس پر مال لازم ہوگا اور پھر مطلوب پر رجوع کرے گا : اور اگر اس نے کفالت بالنفس بالوجہ کی اور کہا : میں مال کا ضامن نہیں ہوں گا تو اس پر مال کا ضامن نہیں ہوں گا تو اس پر مال میں سے کچھ نہیں ہوگا۔ اور جس نے بطور تاوان مال کو لازم قرار دیا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ کفیل کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ کفیل بالوجہ سے خون کا مطالبہ نہیں کیا جاتا بلکہ مال کا مطالبہ کیا جاتا ہے : پس جب وہ اس کا ضامن بنا اور پھر اسے نہ لایا تو گویا وہ اس پر غالب آگیا اور اس کے ہاتھوں سے نکل گیا لہٰذا اسے مال لازم ہوجائے گا۔ امام طحاوی نے احناف کی دلیل کو بیان کرتے ہوئے کہا : مکفول بہ کی موت کی وجہ سے مال کی ضمانت کے کوئی معنی نہیں کیونکہ اس نے کفالت بالنفس کو قبول کیا تھا نہ کہ کفالت بالمال کو، اور یہ تو محال ہے کہ جس کی اس نے ضمانت دی ہی نہیں وہ اسے لازم ہوجائے۔ مسئلہ نمبر 6 ۔ علماء کا اس بات میں اختلاف ہے کہ جب ایک آدمی دوسرے کی طرف سے مال کا کفیل بنا : تو کیا مطالبہ کرنے والے کے لیے ان دونوں میں سے جس سے چاہے مطالبہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ امام ثورمی، احناف، امام اوزاعی، امام شافعی، امام احمد اور اسحاق نے کہا : وہ جس سے چاہے لے سکتا ہے یہاں تک کہ اپنا حق پورا کرلے : اور یہی امام مالک کا قول تھا پھر انہوں نے اس سے رجوع کرلیا تھا اور کہا : وہ کفیل سے نہیں لے سکتا البتہ اگر مقروض کی مفلسی کا اعلان کردیا جائے یا وہ غیب ہوجائے تو پھر کفیل سے مطالبہ ہوگا ؟ کیونکہ جس پر حق لازم ہے اسی سے لینا زیادہ بہتر ہے، ہاں اگر وہ نہ رہے تو پھر کفیل سے لیا جاسکتا ہے، کیونکہ ایسی حالت میں تو وہ اس سے لینے میں معذور ہے : یہ حسن کا قول ہے۔ اور قیاس یہ ہے کہ ان دونوں میں سے جس سے چاہے مطالبہ کرسکے۔ ابن ابی لیلی نے کہا : جب آدمی کسی کے لیے مال کا ضامن بنا تو وہ مال کفیل پر لازم ہوجائے گا اور اصل اس سے بری ہوجائے گا، البتہ اگر مکفول لہ نے ان دونوں سے مطالبہ کرنے کی شرط لگالی ہوتا ان دونوں میں سے جس سے چاہے لے سکتا ہے، انہوں نے حضرت ابوقتادہ کی ضمانت کی وجہ سے میت کے بری ہوجانے والے واقعہ سے استدلال کیا ہے۔ یہی ابوثور کا بھی قول ہے۔ مسئلہ نمبر 7 ۔ ضمانت صرف ان حقوق میں دی جاسکتی ہے جن کی نیابت ہوسکتی ہے جن کا تعلق اموال کے ساتھ ہو اور وہ پختہ طریقہ سے ثابت بھی ہو : کفالت بالکتابت صحیح نہیں کیونکہ یہ ثابت ومستقردین نہیں : کیونکہ غلام اگر بدل کتابت دینے سے عاجز آجائے تو وہ پھر غلام بن جاتا ہے اور اس کی کتابت فسخ ہوجاتی ہے۔ اور جہاں تک ان حقوق کا تعلق ہے جو کوئی آدمی کسی کی طرف سے ادا نہیں کرسکتا تو ان میں کفالت وضمانت بھی نہیں ہوگی اور مدعی اسے قید کرے گا جس پر حد لازم ہے یہاں تک کہ اس کے معاملے کو وہ دیکھے۔ امام ابو یوسف اور امام محمد نے حدودوقصاص میں کفالت کو جائز قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا : جب حمزہ مقذوف یا مدعی قصاص نے کہا کہ میرے پاس بینہ حاضر ہے تو وہ تین دن کی ضمانت لے گا : امام طحاوی نے ان کے حق میں حمزہ بن عمروعن عمروبن مسعود وجریر بن عبداللہ واشوت کی روایت سے استدلال کیا ہے کہ انہوں نے صحابہ کی موجودگی میں کفالت بالنفس کا فیصلہ کیا۔
Ayahs 12:73–75

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ ہم (اس) ملک میں اس لئے نہیں آئے کہ خرابی کریں اور نہ ہم چوری کیا کرتے ہیں۔

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader

بولے کہ اگر تم جھوٹے نکلے (یعنی چوری ثابت ہوئی) تو اس کی سزا کیا ؟

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ کہ جس کے شلیتے میں وہ دستیاب ہو وہی اس کا بدل قرار دیا جائے۔ ہم ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں۔

آیت نمبر 73 تا 75 قولہ تعالیٰ : قالوا تاللہ لقد علمتم ماجئنالنفسد فی الارض روایت ہے کہ وہ کسی پر ظلم نہیں کرتے تھے اور نہ ہی کسی کی کھیتی کا نقصان کرتے تھے انہوں نے اپنے اونٹوں کے مونہوں کو باندھا ہوا تھا تاکہ وہ لوگوں کی کھیتیوں کو خراب نہ کریں۔ پھر کہا : وما کنا سٰرقین روایت ہے کہ انہوں نے وہ سامان واپس لوٹا دیا جو ان کی خورجیوں میں تھا : تو اس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ جو آدمی حاصل شدہ مال واپس لوٹا دے وہ چور کیسے ہوسکتا ہے ؟ قالوا فما جزآؤہٓ ان کنتم کٰذبین معنی یہ ہوگا : اگر تمہارا جھوٹ ظاہر ہوجائے تو پھر ایسا کرنے والے کی سزا کیا ہوگی ؟ تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے جواب دیا : جزآؤہ من وجدفی رحلہٖ فھو جزآؤہ یعنی اسے غلام نبالیا جائے گا۔ فھو جزآؤہ متبدا ہے اور من وھد فی رحلہٖ اس کی خبر ہے۔ تقدیر عبارت یوں ہوگی : جزاءہ استعبادمن وجدفی رحلہ یہ غلام بنانے سے کنایۃ ہے جس طرح کہا جاتا ہے : جزاء من سرق القطع فھذا جزاءہ جس نے چوری کی اس کی سزا قطع ید ہے پس یہی اس کی سزا ہے تو حملہ میں تاکید کا معنی پایا جارہا ہے۔ کذٰلک نجزی الظلمین یعنی ہم اس طرح ظالموں کے ساتھ کرتے ہیں یعنی جب وہ پوری کریں تو انہیں غلام بنالیتے ہیں، تو یہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے دین میں تھا اور ان کا یہ قول ان میں سے اس کا ہے جس کو چوری کے حوالے سے کوئی شک وشبہ نہیں تھا کیونکہ انہوں نے اس کی غلامی کو ثابت کیا جس کی خورجی میں سے پیالہ ملے، اور اہل مصر کے ہاں چور کا حکم یہ تھا کہ جس سے مال مل جائے اس سے دوگنا مال وصول کیا جاتا : یہ حضرت حسن اور سدی وغیرہ کا قول ہے۔ مسئلہ۔ سورة المائدہ میں گزر چکا ہے کہ چوری کی وجہ سے قطع ید کا ہونا پہلی سب شریعتوں کا ناسخ ہے اسی طرح کو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی شریعت میں چور کو غلام بنانے کا قانون تھا یہ اس کا بھی ناسخ ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 12:76

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader

پھر (یوسف (علیہ السلام) نے) بھائی کے شیلتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا۔ پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے لئے تدبیر کی، (ورنہ) بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیت خدا کے سوا اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے۔

آیت نمبر 76 قولہ تعالیٰ : فبداباوعیتھم قبل وعآء اخیہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کی خورجیوں سے شروع کیا کیونکہ اگر اپنے بھائی کی خورجی سے شروع کرتے تو ان کے دلوں میں الزام اور شک پیدا ہوسکتا تھا تو گویا اس طرح الزام اور شک کی نفی کردی۔ الوعاء واو کے کسرہ اور ضمہ کے ساتھ دو لغتیں ہیں : اور اس سے مراد وہ چیز ہے جس میں سامان کی حفاظت کی جاتی ہے اور اسے بچایا جاتا ہے۔ ثم استخرجھا من وعآء اخیہ یعنی بنیامین کی خورجی سے نکالا : استخرج کے ساتھ آنے والی ھاضمیر سے مراد سقایۃ ہے یا پھر صواع ہے یہ آدمی کے نزدیک ہوگا جو اسے مونث سمجھتا ہے : اور ولمن جآء بہٖ فرمایا یہ ضمیر مذکر کی ہے تو یہ اسکے نزدیک ہے جو اسکو مذکر سمجھتا ہے جبب آپ کے بھائیوں نے یہ صورتحال دیکھی تو اپنے سر جھکا لیے اور مختلف سوچیں سوچنے لگے، بنیامین کے پاس آئے اور کہا : اے بنیانین ! تیری بربادی ہو ! ہمیں آج کے دن کی طرح کبھی بھی شرمندگی نہ ہوئی، تیری ماں راحیل نے دو بیٹے جنے اور وہ دونوں چوری کے لیے، انہوں نے اپنے بھائیوں کو کہا : اللہ کی قسم ! میں نے اسے چوری نہیں کیا ؛ اور نہ ہی مجھے پتہ ہے کہ کس نے میرے سامان میں اسے رکھا ؟ روایت ہے کہ انہوں نے بنیامین کو کہا : اے نبی امین ! کیا تو نے چوری کی ہے ؟ بنیامین نے کہا : اللہ کی قسم ! نہیں : انہوں نے کہا : کس نے تیری خورجی میں پیالہ رکھا ؟ بنیامین نے کہا : جس نے تمہاری خورجیوں میں سامان رکھا کہا جاتا ہے کہ چیک کرنے والا جب آدمی کی خورجی سے فارغ ہوا تو اس نے اپنے اس فعل پر توبہ کرتے ہوئے استغفار کیا : حضرت قتادہ اور دیگر لوگوں کے کلام کا ظاہر یہ ہے کہ استغفار کرنے والے حضرت یوسف (علیہ السلام) تھے : کیونکہ وہی انہیں چیک کرنے والے تھے اور جانتے تھے کہ پیالہ کہاں ہے یہاں تک کہ بنیامین کی خورجی کی چیکنگ پر انہوں نے اختتام کیا اور کہا : میرا نہیں خیال کہ یہ نوجوان اس بات پر راضی ہو اور نہ ہی اس نے کوئی چیز لی ہے ؛ تو بھائیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کہا : اللہ کی قسم ! ہم تب تک مطمئن نہیں ہوں گے جب تک آپ اس کو چیک نہیں کریں گے : یہ بات آپ کے لیے بھی اور ہمارے لیے بھی اطمینان قلب کا باعث ہوگی : آپ نے اس کی تلاشی لی اور پیالہ نکال لیا : حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے لی جانے والی تلاشی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ منادی نے یہ کاروائی آپ کی رائے اور مشاورت سے کی : کہا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوا اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد : کذٰلک کدنالیوسف بھی اس کو تقویت دیتا ہے۔ کذٰلک کدنا لیوسف اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ کدنا کا معنی ہے صنعنا ہم نے کیا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے اس کا بمعنی دبرنا یعنی ہم نے تدبیر کی منقول ہے۔ ابن الانباری نے کہا : اردنا یعنی ہم نے ارادہ کیا۔ شاعر نے کہا : کادث و کدت و تلک خیر إرادۃ لو عاد من عھد الصبا ما قد مضی اس نے ارادہ کیا اور میں نے ارادہ کیا اور یہ اچھا ارادہ ہے کہ اگر وہ بچپن کے عہدے سے واپس لوٹ آئے جو کہ گزر چکا ہے اور اس واقعہ سے مقاصد کو حیلہ کے ذریعے حاصل کرنے کا جواز ثابت ہورہا ہے، بشرطیکہ وہ حیلہ شریعت کے مخالف نہ ہو اور نہ ہی شریعت کے کسی قانون کو ختم کرنے والا ہو، بخلاف امام ابوحنیفہ (رح) کے کہ انہوں نے حیلہ کو جائز قرار دیا ہے اگرچہ وہ اصول کے خلاف ہی کیوں نہ ہو اور حلت کو ختم ہی کیوں نہ کردے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ علماء کا اس بات پر اجتماع ہے کہ سال پوار ہونے سے پہلے آدمی اپنے مال میں بیع وہبہ کے ذریعے تصرف کرسکتا ہے، بشرطیکہ اس کی نیت زکوٰۃ سے فرار کی نہ ہو۔ اور اس پر اجماع ہے کہ جب سال پوار ہوجائے اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا وقت ہوجائے تو پھر اسقاط زکوٰۃ کا حیلہ کرنا یا مال میں کمی کرنا جائز نہیں اس طرح نہ اکٹھے مال میں تفریق کرنا اور نہ ہی متفرق مال کو جمع کرنا درست ہے۔ امام مالک نے فرمایا : جب آدمی نے سال پورا ہونے سے ایک ماہ یا اس کے لگ بھگ کے عرصہ سے پہلے زکوۃ سے فرار کی نیت سے اپنے مال میں کمی کی رو بھی سال مکمل ہونے پر اسے زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہوگی۔ آپ نے نبی کریم ﷺ کے ارشاد خشیۃ الصدقۃ سے استدلال کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا : اگر سال پورا ہونے سے ایک دن پہلے اس نے مال میں زکوٰۃ کی ادائیگی سے فرار احتیار کرتے ہوئے تفریق کی تو یہ بات اس کے لیے نقصان دہ نہیں۔ کیونکہ زکوٰۃ کا لزوم صرف سال کی تکمیل کی صورت میں ہوتا ہے اور سال کی تکمیل سے پہلے خشیۃ الصدقۃ کے ارشاد کا اطلاق اس پر ہوتا ہی نہیں۔ ابن عربی نے کہا : میں نے ابوبکر محمد بن ولید وغیرہ کو کہتے ہوئے سنا ہے : ہمارے شیخ قاضی القضاۃ ابوعبداللہ محمد بن علی وامفانی دس ہزار دینار کے مالک تھے۔ جب سال کا اختتام آیا تو انھوں نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور انھیں کہا : میری عمر زیادہ ہوگئی ہے اور میری طاقت کمزرو ہوگئی ہے، جبکہ یہ مال ہے جس کی مجھے کوئی ضرورت نہیں لہٰذا یہ تمہارا ہے۔ پھر انہوں نے مال دے دیا لوگ اٹھا کر ان کے بیٹوں کے گھر لے گئے، پھر جب سال کا اختتام آیا تو انھوں نے کسی کام کے لیے اپنے بیٹوں کو بلایا۔ بیٹوں نے کہا : اے ہمارے باپ ! ہمیں آپ کی زندگی کی امید ہے اور جب تک آپ زندہ ہیں مال میں کوئی رغبت نہیں، کیونکہ آپ اور آپ کا مال ہمارا ہی ہے۔ سو یہ مال لے لیجئے۔ لوگوں نے مال اٹھایا اور ان کے ساتھ رکھ دیا اور مال کو واپس اپنی جگہ رکھ دیا۔ امام ابوحنیفہ (رح) کی رائے کے مطابق انھوں نے اکٹھے مال کو متفرق اور متفرق کو پھر جمع کرکے اسقاط زکوٰۃ کا حیلہ کیا ہے اور یہ بہت بڑی بحث ہے۔ امام بخاری ؓ نے اپنی جامع میں ایک مربوط کتاب لکھی ہے جس کا نام انہوں نے ” کتاب الحیل “ رکھا ہے۔ میں (قرطبی) نے کہا : اس میں پھر کئی باب بنائے ہیں جن میں ایک باب باب الزکوۃ وألایفرق بین مجتمع ولا یجمع بین متفرق خشیۃ الصدقہ کے عنوان سے ہے۔ اس میں حضرت انس بن مالک والی حدیث بھی انھوں نے بیان کی ہے اور یہ بھی بیان کیا ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے ان کی طرف زکوٰۃ کے فریضہ کے بارے میں لکھا اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ والی حدیث بھی بیان کی کہ اعرابی جس کے بال پراگندہ تھے نبی کریم ﷺ کے پاس آیا۔ الحدیث، اور اس روایت کے آخر میں یہ الفاظ ہیں افلح ان صدق یا یہ الفاظ ہیں دخل الجنۃ ان صدق اور بعض لوگوں (امام ابوحنیفہ) نے کہا ایک سو بیس اونٹوں میں دو حصے زکوٰۃ ہے۔ اگر مالک نے جان بوجھ کر ان کو ہلاک کردیا یا انہیں ہبہ کردیا یا اس نے زکوٰۃ سے بچنے کا کوئی حیلہ کیا تو اس پر کچھ لازم نہ ہوگا۔ پھر حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث انہوں نے فوراً بعد بیان کی کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن تم میں سے کسی کا خزانہ قوت والا گنجا سانپ ہوگا جس کی آنکھ پر دو سیاہ نقطے ہوں گے اور وہ کہے گا : میں تیرا خزانہ ہوں “۔ مہلب نے کہا : اس باب میں امام بخاری نے اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ بتائیں کہ ہر وہ حیلہ جو کوئی آدمی اسقاط زکوٰۃ کے لیے اختیار کرے گا تو گناہ اسی پر ہوگا، کیونکہ جب نبی کریم ﷺ نے زکوٰۃ کے خوف سے ریوڑ کو جمع کرنے اور علیحدہ علیحدہ کرنے سے منع فرمایا ہے تو اس سے مفہوم سمجھ آجاتا ہے۔ اور آپ کے ارشاد أفلح إن صدق سے بھی یہ بات آتی ہے کہ جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کے فرائض میں سے کسی کو کم کرنے کے لیے کوئی حیلہ اختیار کیا تو وہ فلاح نہیں پائے گا، اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے پاس عذر قابل قبول ہوگا۔ اور جس نے سال پورے ہونے کے قریب مال میں صاحب مال کے تصرف کو جائز دیا ہے تو اس سے ان کی مراد یہ نہیں کہ اس طرح وہ زکوٰۃ سے فرار اختیار کرے۔ اور جس نے ایسا اس نیت سے کیا تو اس پر سے اس کا گناہ ساقط نہیں ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ اس کا حساب لے گا، اسی طرح ہے جیسا کہ کوئی آدمی رمضان کے چاند کے طلوع سے ایک دن قبل رمضان کے روزے سے بچنے کے لیے کوئی ایسا سفر اختیار کرلے جس کی اسے ضرورت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اس فرض سے اعراض مقصود ہے جو اس نے مومنین پر لازم قرار دیا ہے، تو اس پر وعید صادق آئے گی، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ قیامت کے دن جان بوجھ کر زکوٰۃ سے روکنے کی سزا کیا ہوگی اسے اونٹ کیسے روندے گا اور اس کے مال کو اس کے لیے قوت والے گنجے سانپ کی تمثیل دی جائے گی۔ یہ اس بات پر دلیل ہے کہ زکوٰۃ سے فرار جائز نہیں اور آخرت میں اس کا مطالبہ ہوگا۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ ابن عربی نے کہا : بعض شافعی علماء نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد : کذٰلک کدنا لیوسف ؕماکان لیاخذ اخاہ کے بارے میں کہا کہ یہ مباح لام کے لیے حیلہ اختیار کرنے پر دلیل ہے۔ مگر یہ بہت بڑا وہم ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد وکذٰلک مکنالیوسف فی الارض (یوسف : 21) کے بارے میں رکھا گیا ہے کہ مکنا لیوسف ملک نفسہ عن امزاۃ العزیز مکنا لہ ملک الأرض عن العزیز یعنی جس طرح ہم نے عزیز کی بیوی سے خوہ یوسف کو اپنے اوپر ملکیت و تسلط بخشا اسی طرح عزیز سے حکومت کی ملکیت واقتدار بھی یوسف کو بخش دیا۔ شفعوی نے کہا : اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد وخذبیدک ضغثًا بہٖ ولا تحنث (ص :44) ہے۔ اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک جھاڑو لے کر اسے ماریں اور حانث نہ ہوں۔ لیکن یہ حیلہ نہیں بلکہ یہ تو قسم کو الفاظ یا مقاصد پر محملو کرنا ہے۔ شفعوی نے کہا : اسی طرح حضرت ابو سعید خدری والی وہ حدیث ہے جو خبیر کے عامل کے بارے میں ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس کھجوریں لے آیا۔ الحدیث۔ اس حدیث کو بیان کرنے سے شافعیہ کا مقصود یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اسے ساری کھجوریں بیچنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ اور پھر جس آدمی کو بیچیں ہیں اس سے یا کسی اور سے جنیب کھجوریں خریدنے کا حکم ارشاد فرمایا جبکہ مالکیہ نے کہا : اس کا مقصود ہی اور ہے وہ یہ کہ تاکہ جنیب اور دراہم جمع نہ ہوجائیں جس طرح حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : غلہ، غلہ کے بدلے میں اور دراہم سود ہیں فی دین الملک یعنی بادشاہت میں، حضرت ابن عباس ؓ اور ابن عیسیٰ سے اس کا معنی بادشاہ کی عادات میں، روایت ہے یعنی وہ بغیر دلیل کے ظلم کرتا ہے۔ مجاہد نے کہا : فی حکمہ اور وہ ہے چوروں کو غلام بنالینا۔ الآ یشآء اللہ مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو وہ اس کی خورجی میں پیالے کے رکھنے کے لیے کوئی علت اور عذر بنادے۔ قتادہ نے کہا : بلکہ بادشاہ کا فیصلہ مارنے اور جرمانہ کرنے کا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے چاہا تو انکی زبانوں پر بنی اسرائیل کا حکم (چوروں کا غلام بنانا) جاری ہوگیا، جسطرح کہ پہلے گزر چکا ہے۔ نرفع درجٰتٍ من نشآء یعنی علم و ایمان کے ذریعے اس کو نرفع درجٰتٍ من نشآء بھی پڑھا گیا ہے جس کا معنی ہے نرفع من نشاء درجات، سورة الانعام میں یہ گزرچکا ہے۔ وفوق کل ذی علم علیم اسرائیل نے سماک عن عکرمہ عن ابن عباس روایت کیا ہے کہ یہ اس سے زیادہ علم والا ہوتا ہے اور وہ اس سے زیادہ علم والا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر علم والے سے اوپر ہے۔ سفیان نے عن عبدالاعلی عن سعید بن جبیر روایت کیا ہے۔ انہوں نے کہا : ہم حضرت عبداللہ عباس ؓ کے پاس تھے آپ نے گفتگو کی تو ایک آدمی نے حیرانگی کا اظہار کیا اور کہا : سبحان اللہ ! وفوق کل ذی علم علیم۔ تو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : کتنی بری بات تو نے کی ہے ؟ اللہ علیم ہے اور وہ پر عالم سے برتر ہے۔
Ayahs 12:77–79

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader

(برادران یوسف (علیہ السلام) نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہیں کہ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی۔ یوسف (علیہ السلام) نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے۔

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ اے عزیز اس کے والد بہت بوڑھے ہیں۔ اور اس سے بہت محبت رکھتے ہیں تو اس کو چھوڑ دیجئے اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے ہم دیکھتے ہیں کہ آپ احسان کرنے والے ہیں،

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader

(یوسف نے) کہا کہ خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اسکے سوا کسی اور کو پکڑ لیں۔ ایسا کریں تو ہم (بڑے) بےانصاف ہیں۔

آیت نمبر 77 تا 79 قولہ تعالیٰ : قالوٓا ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل معنی یہ ہوگا : یعنی اس نے اپنے بھائی کی پیروی کی ہے، اگر ہماری پیروی کرتا چوری نہ کرتا۔ انھوں نے یہ صرف اس لیے کہا تاکہ وہ اس کے فعل سے بری ہوں جائیں، کیوں کہ وہ ان کی ماں کا بیٹا نہیں تھا۔ اور اگر اس نے چوری کی ہے تو اس نے اپنے چور بھائی کا اثر قبول کرلیا ہے۔ کیونکہ نسب میں اشتراک اخلاق پر بھی اثر انداز ہوتا ہے اس چوری کے بارے میں اختلاف ہے جس کی نسبت انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف کی ہے : مجاہد وغیرہ سے روایت ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پھوپھی حضرت اسحاق کی اولاد میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے بھی بڑی تھی، اس کے بڑے ہونے کی وجہ سے حضرت اسحاق کا ٹپکا اس کے پاس تھا کیونکہ وہ عمر کے اعتبار سے وارث بنتے تھے یہ حکم ہماری شریعت کے ذریعے منسوخ ہوگیا ہے تو وہ ٹپکا جس نے پوری کیا تھا اسے غلام بنالیا گیا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پھوپھی نے آپ کو دودھ پلایا تھا اور وہ آپ کے ساتھ بہت زیادہ محبت کرتی تھی جب آپ کی پرورش مکمل ہوگئی اور آپ بڑے ہوگئے تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے انہیں کہا : یوسف کو میرے حوالے کردو، میں اس کو اپنی انکھوں سے ایک پل بھی اوجھل نہیں رکھ سکتا : میں اس کے ساتھ بہت زیادہ محبت کرتا ہوں اور اس کی جدائی کو میں پر داشت نہیں کرسکتا۔ تو آپ کی بہن نے آپ کو کہا : کچھ دن اسے میرے پاس چھوڑ دو تاکہ میں اس کا دیدار کرسکوں، جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) باہر گئے تو اس نے حضرت اسحاق کا ٹپکا لیا اور اسے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کپڑوں کے نیچے باندھ دیا، پھر کہا : حضرت اسحاق کا منطقہ گم ہوگیا ہے، اسے تلاش کرو کس نے لیا ہے ؟ اس نے تلاش کیا پھر کہا : گھر والوں کے کپڑوں میں تلاش کرو، تلاشی لی گئی تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس سے ملا۔ تو اس نے کہا : اللہ کی قسم ! اب یہ میرا ہے میں اس کے ساتھ جو چاہوں وہ سلوک کروں پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) اس کے پاس آئے تو اس نے آپ کو بھی اس کے بارے میں بتایا، تو آپ نے اس کو کہا : اگر اس نے ایسا کیا ہے تو اس کو تیرے سپرد کرتا ہوں : پھر اس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اپنے پاس رکھا یہاں تک کہ وہ فوت ہوگئیں۔ اس وجہ سے آپ کے بھائیوں نے یہ کہا : ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل اسی سے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی کی خورجی میں پیالہ رکھنے کا طریقہ سیکھا کیونکہ آپ کی پھوپھی نے آپ کو اپنے ہاں رکھنے کے لیے ایسا ہی کیا تھا۔ حضرت سعید بن جبیر نے کہا : حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ماں نے آپ کو اپنے نانا کے بت چوری کرنے کا حکم دیا، آپ نے انہیں چوری کیا، توڑا اور راستے پر پھینک دیئے، ماں، بیٹے کا یہ عمل برائی کو ختم کرنے کے لیے تھا، اسی چوری کی طرف بھائیوں نے نسبت کی تھی۔ حضرت قتادہ نے بھی اس کو بیان کیا ہے۔ زجاج کی کتاب میں ہے : وہ سونے کا بت تھا۔ عطیہ عوفی نے کہا : آپ اپنے بھائیوں کے ساتھ کھانے کے دسترخوان پر تھے کہ آپ نے گوشت کا ایک ٹکڑا دیکھا تو اسے چھپالیا اس وجہ سے انہوں نے چوری کی نسبت کردی۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ آپ کھانے کے دسترخوان سے مساکین کے لیے چرا لیتے تھے : اس کو ابن عیسیٰ نے بیان کیا ہے۔ ایک قول یہ ہے : انہوں نے آپ کی طرف چوری کی نسبت کرکے آپ پر الزام تراشی کی ہے یہی حضرت حسن نے کہا ہے۔ فاسرھایوسف فی نفسہٖ ولم یبدھالھم یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کی بات ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل کو اپنے جی میں چھپالیا۔ یہ ابن شجرہ اور ابن عیسیٰ کا قول ہے۔ ایک قول یہ ہے : آپ نے اپنی بات انتم شر مکانا کو اپنے جی میں چھپالیا پھر اس کو ظاہر کرتے ہوئے کہا : واللہ اعلم بما تصفون حضرت ابن عباس ؓ نے یہ کہا ہے یعنی تم نے جس کی طرف اس چوری کی نسبت کی ہے اس سے بہت بری جگہ پر ہو۔ اور واللہ بما تصفون کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ جو کچھ تم نے کہا ہے یہ جھوٹ ہے۔ اور اگر ہے بھی تو اللہ کی مرضی سے ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سارے بھائی انبیاء نہیں تھے۔ قالو یٰایھا العزیز ان لہ ابًا شیخًا کبیرًا فخذاحدنا مکانہ انہوں نے آپ کو عزیز کے نام سے مخاطب کیا کیونکہ اس وقت وہ پہلا معزول ہوچکا تھا یا مرچکا تھا۔ اور ان کے قول : ان لہ ابًا شیخًا کبیرًا سے مراد قدرومنزلت کے اعتبار سے بڑا ہے نہ کہ عمر کے اعتبار سے۔ فخذ احدنا مکانہ یعنی اس کے بدلے میں ہم میں سے کسی کو غلام بنالو۔ ایک قول کے مطابق یہ مجاز ہے : کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جس پر غلامی ثابت ہوچکا ہے اس کی جگہ کسی اور کو غلام بنانا جائز نہیں۔ اور یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ آپ کسی کے کام کو ناپسند کرتے ہوئے اسے کہیں : تم مجھے قتل کردو مگر اس طرح نہ کرو، تو اس سے تمہاری یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہ تمہیں قتل کردے بلکہ اسے اس کام سے روکنے میں مبالغہ کا اظہار مقصود ہوتا ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کا فخذ احدنا مکانہ کہنا حقیقت پر مبنی ہو : تو ایسی صورت میں ان کے انبیاء ہوتے ہوئے (اگرچہ پہلے گزر چکا ہے کہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے) ان کا کسی آزاد کو غلام بنا لینے کی بات کرنا بعید از قیاس ہے، تو اس سے مراد یہی ہوگا کہ انہوں نے ایسا کہا کہ بنیامین کی آزادی کا ایک حیلہ اختیار کیا : یعنی اس کی جگہ ہم میں سے کسی ایک کو پکڑلو یہاں تک کہ آپ کے صاحب کو لوٹا دیا جائے اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ بنیامین اپنے باپ تک پہنچ جائے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس بات کو رد کردیا کیونکہ حدود وغیرہ میں ضمانت۔ وہ بھی صرف مضمون کو حاضر کرنے کی۔ باہم مندی سے جائز ہے لازم نہیں۔ جبکہ ایسی ضمانت کہ جس میں ضامن پر وہ سزا لاگو کردی جائے جو مضمون پر تھی یہ بالا جماع جائز نہیں۔ اور ” الواضحۃ “ میں ہے کہ کفالت بالوجہ حدود میں جائز ہے، سوائے نفس کے اور جمہور فقہاء کے نزدیک نفس میں بھی جائز ہے البتہ امام شافعی کا اختلاف ہے انہوں نے ایک مرتبہ اسے ضعیف قرار دیا اور ایک مرتبہ جائز قرار دیا ہے۔ انانرٰئک من المحسنین یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کی مراد یہ ہو کہ جو تمام معاملات میں آپ نے ان کے ساتھ سلوک کیا اس کا انہوں نے اظہار کیا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کی مراد یہ ہو کہ اگر آپ اس سلسلہ میں ہمارے ساتھ مہربانی کردیں تو ہم اس کو اپنے اوپر بہت بڑا احسان خیال کریں گے۔ یہ ابن اسحاق کی بیان کردہ تاویل ہے۔ قال معاذاللہ یہ مصدر ہے ان ناخذ محل نصب میں ہے : یعنی من أن ناخذ، الا من وجدنا، ناخذکا مفعول ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ متاعنا عندہٓ یعنی ہم خدا کی پناہ مانگتے ہیں کہ ہم بری کو مجرم کے بدلے پکڑلیں، اور تمہارے ساتھ کئے ہوئے معاہدے کی خلاف ورزی کریں۔ انآ اذًا لظٰلمون یعنی اس کے علاوہ کسی اور کو پکڑنے کی صورت میں ہم ظلم کرنے والے ہوں گے۔
Ayah 12:80

فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader

جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر صلاح کرنے لگے۔ سب سے بڑے نے کہا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے خدا کا عہد لیا ہے ؟ اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں قصور کرچکے ہو۔ تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں یا خدا میرے لئے کوئی اور تدبیر کرے۔ اور وہ سب سے بہتر کرنیوالا ہے۔

آیت نمبر 80 فلما استئسوا منہ یعنی وہ مایوس ہوگئے یہاں استیئسوا بمعنی یئسوا ہے جیسے عجب اور استعجب، سخر اور استسخر دونوں ایک معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ خلصوا یعنی وہ علیحدہ ہوگئے اور وہ ان کے ساتھ نہیں تھا نجیا، خلصوا میں پائی جانے والی ضمیر سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ یہ واحد ہے اور جمع کا معنی دے رہا ہے جس طرح کہ اس آیت میں ہے اور اس کا اطلاق واحد پر بھی ہوتا ہے جیسے وقربنٰہ نجیًا۔ (مریم) اس کی جمع أنجیۃ آتی ہے۔ شاعر نے کہا : إنی إذا ما القوم کانوا انجیۃ واضطرب القوم إضطراب الأرشیۃ ھنالک أوصینی ولا توصی بیہ ابن کثیر نے استایسوا، ولا تایسوا۔ إنہ لایایس، أفلم یایس پڑھا ہے یعنی بغیر ہمزہ کے الف کے ساتھ : یعنی پہلے ہمزہ اور بعد میں یا پھر ہمزہ کو الف سے بدل دیا کیونکہ یا ساکن ماقبل مفتوح تھا جبکہ اصل جماعت کی قرات ہے کیونکہ مصدر یا کی تقدیم کے ساتھ ہی آتا ہے یأسا اور الإیاس، أیس کا مصدر نہیں بلکہ یہ أستہ أوسا وایاسا کا مصدر ہے جس کا معنی ہے اعطیتہ میں نے اسے عطا کیا۔ بعض لوگون نے کہا ہے : أیس اور یئس دونوں لغتیں ہیں : یعنی جب وہ اپنے بھائی کو لوٹا نے سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا جس میں ان کے علاوہ کوئی اور آدمی شامل نہیں تھا، اور جو مسئلہ انہیں درپیش تھا اس میں انہوں نے باہم سرگوشی کی۔ اور نجی فعیل بمعنی مناجی ہے۔ قال کبیرھم حضرت قتادہ نے کہا : وہ روبیل تھا، کو عمر میں ان سے بڑا تھا۔ مجاہد نے کہا : وہ شمعون تھا، کیونکہ وہ رائے میں بڑا تھا۔ کلبی نے کہا : وہ یہوذا تھا، کیونکہ وہ ان میں زیادہ عقلمند تھا۔ محمد بن کعب اور ابن اسحاق نے کہا : وہ لاوی تھا، کیونکہ وہ ابولانبیاء تھا۔ الم تعلموٓا ان اباکم قد اخذ علیکم موثقًا من اللہ یعنی اپنے بیٹے کی حفاظت اور اس تک اسے واپس لوٹانے کا عہد جو اللہ کے نام سے پختہ کیا گیا تھا۔ ومن قبل مافرطتم فی یوسف، ما، أن پر معطوف ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے اور معنی یہ ہوگا : کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے باپ نے تم سے وعدہ لیا ہوا ہے جو اللہ کے نام کے ساتھ پختہ کیا گیا ہے، اور تم یوسف کے بارے میں اپنی زیادتی کو جانتے ہو : یہ نحاس نے ذکر کیا ہے اور من قبل میں من، تعلموا کے متعلق ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مازائدہ ہو۔ اور من قبل اور فی یوسف میں پائے جانے والے حروف جر فعل فرطتم کے متعلق ہوں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما اور فعل مصدر ہون اور قبل فعل مضمر کے متعلق ہو : تقدیر عبارت یہ ہو : تفریطکم فی یوسف واقع من قبل : ما اور فعل مبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہوں اور خبر وہ فعل مضمر ہو جس کے متعلق من قبل ہے۔ فلن ابرح الارض یعنی اس سرزمین کو لازم پکڑوں گا اور اسی میں مقیم رہوں گا : برح براحًا و بروحا کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے ” زال “ اور جب اس پر نفی داخل ہوجائے تو یہ مثبت بن جاتا ہے۔ حتی یاذن لی ابی یعنی میرا باپ مجھے واپس لوٹنے کی اجازت دے دے کیونکہ مجھے ان سے شرم آتی ہے۔ اویحکم اللہ کی یعنی اللہ تعالیٰ بھائی کے ساتھ واپس لوٹنے کا فیصلہ فرمادے تو میں اس کے ساتھ اپنے باپ کے پاس جاؤں گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے : معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تلوار کے ذریعے فیصلہ فرمادے تو میں جنگ کروں گا اور اپنے بھائی کو حاصل کروں گا یا پھر کہا گیا ہے : معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تلوار کے ذریعے فیصلہ فرمادے تو میں جنگ کروں گا اور اپنے بھائی کو حاصل کروں گا یا پھر آجاؤں تو کسی کے ساتھ تو واپس پلٹوں گا۔ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا تھا لتأتننی نہ إلاأن یحاط بکم اور جس نے جنگ کی اور عاجز آگیا تو گویا اسے گھیر لیا گیا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہوذا جب غصے میں ہوتا اور تلوار لے لیتا تو ایک ہزار آدمی بھی اسے واپس نہ کرسکتا : وہ اپنے بال سینے یہ ڈال لیتا۔ حدیث میں ہے کہ یہوذا نے اپنے بھائیوں کو کہا : اور یہ غصے کے حوالے سے سب سے زیادہ سخت تھا۔ یا تم بادشاہ اور اس کے ساتھیوں کے لیے کافی ہوجاؤ اور میں اہل مصر کے لیے کافی ہوں یا پھر تم اہل مصر کا بندوبست کرو اور میں بادشاہ اور اس کے ساتھیوں کے لیے کافی ہوں : انہوں نے کہا : آپ بادشاہ اور اس کے ساتھیوں کا بندوبست کرو جبکہ ہم اہل مصر کے لیے کافی ہیں : تو اس نے ایک بھائی کو بھیجا کہ مصر کے بازار گن کر آؤ تو اس نے مصر میں نو بازار دیکھے، تو ان میں سے ہر ایک نے ایک بازار کو لے لیا : پھر یہوذا حضرت ہوسف (علیہ السلام) کے پاس گیا اور کہا : اے بادشاہ ! اگر تو نے ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ نہ بھیجا تو میں ایسی چیخ ماروں گا کہ جس کی وجہ سے تیرے شہر کی حاملہ عورتیں اپنے حمل گرادیں گی : اور یہ ان میں بالخصوص غصہ کے وقت ہوتا تھا : اس بات نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بھی غصہ دلادیا۔ تو یہوذا غصے میں آگیا اور اس کا غصہ شدت اختیار کر گیا، اس کے بال کھڑے ہوگئے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے سب بیٹوں کی یہی حالت تھی جب انہیں غصہ آتا تو ان کی جلد کا نپنے لگتی۔ جسم پھول جاتا اور ان کی پیٹھ کے بال کپڑوں کے نیچے سے ظاہر ہوجاتے، یہاں تک کہ ہر بال سے خون کا قطرہ بہنے لگتا اور اگر وہ زمین پر پاؤں مار دیتا تو زلزلہ بپا ہوجاتا تھا اور عمارتیں گرجاتی تھیں، اور اگر وہ چیخ مارتا تو عورتوں، جانوروں اور پرندوں میں سے جو بھی اسے سن لیتا وہ اپنے پیٹ میں جو کچھ ہوتا اسے گرا دیتا تھا، پھر اس کا غصہ تب تک نہیں تھمتا تھا جب تک کہ وہ خون نہ بہتایا پھر نسل یعقوب (علیہ السلام) میں سے کوئی ہاتھ اسے نہ روکتا : جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو پتہ چل گیا کہ ان کے بھائی یہوذا کا غصہ اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے تو آپ نے اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ قبطی زبان میں گفتگو کی اور اسے حکم دیا کہ وہ اپنا ہاتھ یہوذا کے دونوں کندھوں کے درمیان اس طرح رکھے کہ وہ دیکھ نہ پائے : تو بچے نے اسی طرح کیا تو یہوذا کا غصہ ختم ہوگیا، اس نے اپنی تلوار پھینک دی اور اپنے دائیں بائیں دیکھا کہ شاید اسے اپنے بھائیوں میں سے کوئی نظر آئے لیکن اسے کوئی نظر نہ آیا : تو وہ جلدی جلدی اپنے بھائیوں کے پاس گیا اور کہا : کیا تم میں سے کوئی میرے پاس آیا تھا ؟ انہوں نے کہا : نہیں : اس نے کہا : شمعون کہاں چلا گیا ہے ؟ انہوں نے کہا : وہ پہاڑ کی طرف گیا ہے : وہ نکلا اور اس کو مل گیا، اور وہ ایک چٹان کو اٹھا رہا تھا : اس نے کہا : اس کے ساتھ کیا کرو گے ؟ اس کو اس بازار میں لے جاؤں گا جو میرے حصے میں آیا ہے اور اس کے ذریعے بازار میں موجود ہر آدمی کو کچل دوں گا اس نے کہا : واپس لوٹ اور اسے چھوڑدے یا اسے دریا میں پھنک دے، تو اس کے ساتھ کچھ نہیں کرسکتا، اس ذات کی قسم جس نے ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنایا ہے : مجھے نسل یعقوب (علیہ السلام) میں سے کسی ہاتھ نے مس کیا ہے پھر وہ حضرت ہوسف (علیہ السلام) کے پاس گئے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) پکڑنے کے اعتبار سے ان سے بھی زیادہ سخت تھے آپ نے فرمایا : اے عبرانیو ! کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ قوت میں تم سے زیادہ پھر طاحونہ کے پتھروں میں سے ایک بڑا پتھر آپ نے لیا اسے اپنے پاؤں سے ٹھوکر ماری اور اسے دیوار کے پیچھے پہنچا دیا۔ الرکل کا لفظ یہاں استعمال ہوا ہے جس کا معنی ہے پاؤں سے ٹھوکر مارنا وقد رکلہ یرکلہ یہ جوہری کا قول ہے۔ پھر یہوذا کو آپ نے اپنے ایک ہاتھ سے پکڑا اور اپنے پہلو میں کھینچ لیا، اور کہا : میرے پاس لوہے کی سلاخیں لے آؤ میں ان کے ہاتھ اور پاؤں اور ان کی گردنیں اڑادوں : پھر آپ اپنے تخت پر براجمان ہوئے اپنی مسند پر بیٹھے اور اپنے ہیٹ کے بارے میں حکم فرمایا تو وہ آپ کے سامنے رکھا گیا تو اس سے گھنٹی کی آوازیں آئیں، آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا : کیا تم جانتے ہو یہ کیا کہہ رہی ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں ! آپ نے فرمایا : یہ کہہ رہی ہے کہ ان کے باپ کے دل پر جو پریشانی، غم اور کرب ہے وہ انہی کی وجہ سے ہے پھر دوبارہ آواز آئی اور آپ نے فرمایا : یہ آواز مجھے بتارہی ہے کہ انہوں نے اپنے ایک چھوٹے بھائی کو پکڑا، حسد میں مبتلا ہوئے اور اسے اپنے باپ سے چین لیا اور پھر اسے ضائع کردیا۔ انہوں نے کہا : اے عزیز ! ہماری پردہ پوشی کر اللہ تعالیٰ تیری پردہ پوشی کرے گا، ہمارے اوپر احسان کر اللہ تعالیٰ تیرے اوپر احسان کرے گا۔ پھر تیسری آواز آئی تو آپ نے فرمایا کہ یہ آواز بتارہی ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی کو کنویں میں پھنکا ہے، پھر اسے انتہائی سستا غلاموں کی قیمت پر بیچ دیا، اور اپنے باپ کو بتایا کہ اسے بھیڑیا کھا گیا ہے۔ پھر چوتھی مرتبہ صدا آئی تو آپ نے فرمایا : اس نے مجھے بتایا ہے کہ یہ اسی سال سے گناہ کررہے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے انہوں نے استغفار نہیں کیا اور نہ ہی توبہ کی ہے، پھر پانچویں مرتبہ آواز آئی تو آپ نے فرمایا : یہ کہتی ہے کہ جس بھائی کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ ہلاک ہوگیا ہے چند دنوں میں وہ واپس لوٹے گا اور ان کی کاروائی سے لوگوں کو آگاہ کرے گا۔ پھر چھٹی مرتبہ آواز آئی تو آپ نے فرمایا کہ یہ کہہ رہی ہے : اگر انبیاء کی اولاد ہوتے تو تم نے جھوٹ نہ بولا ہوتا اور نہ ہی اپنے والد کی با فرمانی کی ہوتی۔ میں نہیں سارے جہانوں کے لیے ضرور عبرت بناؤں گا، میرے پاس سلاخیں لاؤ میں ان کے ہاتھوں اور پاؤں کو کاٹوں تو انہوں نے آہ وزاری کی، روئے اور توبہ کی اور کہنے لگے : اگر ہمیں بھائی ہوسف (علیہ السلام) مل جائے اگر وہ زندہ ہے تو ہم اس کے تابعداد بن جائیں گے اور ہم مٹی بن جائیں گے جسے وہ اپنے پاؤں سے روندے گا ؟ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کی طرف سے اس منظر کو دیکھا تو آپ روپڑے اور انہیں فرمایا : میرے پاس سے چلے جاؤ ! میں نے تمہارے باپ کی عزت کی خاطر تمہیں چھوڑ دیا اگر وہ نہ ہوتے تو میں تمہیں عبرت کا نشان بنا دیتا ۔
Ayah 12:81

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader

تم سب والد صاحب کے پاس جاؤ اور کہو کہ ابّا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے تو اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اسکے لے آنیکا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب (کی باتوں) کے (جاننے اور) یاد رکھنے والے نہیں تھے۔

آیت نمبر 81 ارجعوٓا الیٰ ابیکم کا قول اسی نے کہا جس نے فلن ابرح الارض کہا تھا فقولو یٰٓابانآ ان ابنک سرق حضرت ابن عباس ؓ ضحاک اور ابورزین نے اس کو إن ابنک سرق پڑھا ہے، نحاس نے کہا : مجھے محمد بن احمد بن عمر نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں ابن شاذان نے بیان کیا انہوں نے کہا ہیں احمد بن ابی سریح بغدادی نے بیان کیا انہوں نے کہا : میں نے کسائی کو یاأبانا ابنک سرق پڑھتے ہوئے سنا ہے، یعنی سین کے ضمہ اور راء مک سورة کی شد کے ساتھ، یعنی تیرے بیٹے کی طرف چوری کو منسوب کیا گیا ہے، جیسے خونتہ، وفسقتہ وفجرتہ کہا جاتا ہے ان عادات کی طرف کسی کی نسبت کی جائے۔ زجاج نے کہا : سرق میں دو معنوں کا احتمال ہے۔ ایک یہ کہ اس سے چوری کا پتہ چلا ہے اور دوسرا کہ اس پع چوری کی تہمت لگی ہے۔ جوہری نے کہا السرق اور السرقۃ رامک سورة کے ساتھ یہ اس چوری شدہ چیز کو کہتے ہیں اور سرق یسرق کا مصدر فتحہ کے ساتھ آتا ہے۔ وما شھدنآ الابما علمنا میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ وما شھد نآ الا بما علمنا ان کی مراد یہ تھی کہ انہوں نے وہی کچھ بیان کی اجس کا ان کو علم تھا۔ اور جہاں تک اب کی صورتحال ہے تو ہم نے ظاہر کی گواہی دی ہے اور ہم غیب کو نہیں جانتے، گویا بنیامین کے قول : میری خورجی میں اسے اس نے رکھا ہے جس نے تمہاری خورجیوں میں تمہارہ سامان رکھا، نے تمہیں تہمت میں مبتلا کردیا : اس کا یہ معنی ابن اسحاق نے بیان کیا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کا معنی یہ ہے۔ ماشھدنا عند یوسف بأن السارق یسترق إلا بما علمنا من دینک یہ ابن زید کا قول ہے۔ وما کنا للغیب حٰفظین یعنی جس وقت ہم نے اسے آپ سے لیا ہم نہیں جانتے تھے کہ یہ چوری کرے گا ورنہ ہم اسے لیتے ہی نہ۔ مجاہد اور حضرت قتادہ نے کہا ہم نہیں جانتے تھے کہ آپ کا بیٹا چوری کرے گا اور ہمارے اس کام کا یہ انجام ہوگا۔ اور ہم نے تو صرف یہ کہا تھا : ہم اپنی بساط کے مطابق اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ان کی مراد یہ تھی کہ اس نے رات کے وقت چوری کی ہے جبکہ وہ سو رہے تھے اور حمیر کی لغت میں غیب سے مراد رات ہے۔ آپ ہی سے روایت ہے : ہم نہیں جانتے تھے کہ یہ اپنی رات، ان اور آنے جانے میں کیا کرے گا۔ ایک قول یہ ہے : جب تک ہمارے سامنے رہا کوئی گڑبڑ نہ ہوئی اور جب ہم سے غائب ہوگیا تو اس کے حالات ہم سے پوشیدہ ہوگئے۔ ایک قول کے مطابق اس کا معنی یہ ہے : چوری کا سامان اس کی خورجی سے پکڑا گیا ہے۔ اور ہم نے اس سامان کو نکالا اور اس کی طرف دیکھتے رہے اور ہمیں غیب کا کوئی علم نہیں۔ شاید انہوں نے اس کی طرف چوری کو منسوب کردیا ہو اور اس نے چوری نہ کی ہو۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ اس آیت سے یہ بات ثابت ہورہی ہے کہ جس طرح بھی پتہ چل جائے اس کی شہادت دینا جائز ہے، کیونکہ شہادت کا تعلق عقلا اور شر عاعلمم کے ساتھ ہے، لہٰذا یہ صرف اسی سے سنی جاتی ہے جس کو اس کا علم ہو، اور انہیں کی طرف سے اسے قبول کیا جاتا ہے۔ شہادات کے سلسلہ میں یہ قانون ہے، اسی وجہ سے ہمارے (مالکیہ) علماء نے کہا ہے : اندھے کی گواہی جائز ہے، کوشش کرکے شہادت جائز ہے، اور گونگے کی شہادت جبکہ اس کا اشارہ سمجھ آجائے جائز ہے، اسی طرح خط پر شہادت بشرطیکہ یہ یقین ہوجائے کہ یہ اس کا خط ہے صحیح ہے پس ہر وہ آدمی جسے جسی چیز کا علم ہوجائے تو اس کے لیے شہادت دینا جائز ہوگی اگرچہ اسے اس پر گواہ نہ بھی بنایا گیا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : الامن شھد بالحق وھم یعلمون۔ (الزخرف) یعنی مگر وہ جس نے سچی گواہی دی اس حال میں کہ وہ جانتے ہوں۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” خبردار ! میں تمہیں گواہوں کی اچھائی کے متعلق بتاؤں، گواہوں کی بھلائی یہ ہے کہ وہ گواہی دیں قبل اس کے کہ ان سے گواہی کے بارے میں پوچھا جائے “۔ اس کی تفصیل سورة ” البقرہ “ میں گزر چکی ہے مسئلہ نمبر 3 ۔ گزرنے والے کی شہادت کے متعلق امام مالک کا قول مختلف ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ کہے : فلاں کے پاس سے گزرا تو میں نے اسے یوں کہتے ہوئے سنا تو اگر اس نے پوری بات کو سن لیا ہو تو وہ شہادت دے سکتا ہے جبکہ امام مالک کا دوسرا قول یہ ہے کہ جب تک اسے گواہ نہ بنایا جائے تب تک وہ گواہی نہیں دے سکتا۔ اور صحیح بات یہ ہے کہ پوری بات سمجھ آجانے کی صورت میں اداء شہادت درست ہے۔ یہی علماء کی جماعت نے کہا ہے۔ اور یہی حق ہے، کیونکہ اس صورت میں اس نے مطلوب کو حاصل کرلیا ہے، اور اس پر علم کی ادائیگی لازم ہوچکی ہے، پس گواہوں کی بھلائی اس میں ہے جب وہ اس کو ظاہر کردیں اور برائی اس میں ہے جب وہ اس کو چھیالیں۔ واللہ اعلم مسئلہ نمبر 4 ۔ جب کسی آدمی نے ایسی گواہی دی کہ اس کی عمر اس کی متحمل نہیں تھی تو اس کو رد کردیا جائے گا کیونکہ اس نے باطل دعوی کیا ہے اور ظاہر نے اس کی تکذیب کردی ہے۔
Ayah 12:82

وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader

اور جس بستی میں ہم (ٹھہرے تھے) وہاں سے (یعنی اہل مصر سے) اور جس قافلے میں آئے ہیں اس سے دریافت کرلیجئے۔ اور ہم (اس بیان میں) بالکل سّچے ہیں۔

آیت نمبر 82 اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ وسئل القریۃ التی کنافیھا والعیر اسکے ذریعے وہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پاس اپنی شہادت کو ثابت کررہے ہیں اور اپنے آپ سے الزام کو ختم کر نیکی کوشش کر رہے ہیں تاکہ آپ ان پر الزام نہ لگائیں اور وسل القریۃ سے مراد اہل قریۃ ہیں مضاف محذوف ہے اور قریۃ سے مراد مصر ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد وہ گاؤں ہے جسمیں وہ اترے وسئل القریۃ کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ اگرچہ جمادات پر مبنی ہے مگر آپ اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں، اور اللہ تعالیٰ جمادات کو بھی آپکی خاطر زبان عطا فرمائے گا اور وہ گفتگو کریں گے اگر یہ معنی مراد لیا جائے تو پھر اضمار کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ سیبویہ نے کہا : کلم ھند کہہ کر غلام ھند مراد لینا جائز نہیں۔ کیونکہ یہ اشکال کا باعث ہے اور العیر میں وہی گفتگو ہے جو القریۃ میں تھی۔ وانا لصٰدقون یعنی اپنی بات میں ہم سچے ہیں۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ اس آیت میں فقہ کا ایک قاعدہ بھی ہے کہ ہر وہ آدمی جو حق پر ہے اور اسے معلوم ہو کہ اس کے بارے میں سمجھا جائے گا کہ وہ حق پر نہیں یا اس کا خیال ہو کہ اس طرح وہ تہمت والزام کو دور کرسکتا ہے اور اس حق کی وضاحت کرسکتا ہے جس پر وہ تو اسے ایسا کرلینا چاہیے تاکہ کسی کا کوئی اعتراض باقی نہ رہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی حضرت صفیہ کے ساتھ مسجد سے انہیں رخصت کرتے ہوئے گزرتے ہوئے دو آدمیوں کو یہ کہہ کر کہ ” یہ صفیہ بن حی “ ہے۔ ایسا ہی کیا، تو ان دونوں نے کہا : سبحان اللہ ! اور ان پر یہ بات گراں گزری، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” شیطان انسان کے خون تک پہنچ جاتا ہے اور مجھے اندیشہ لاحق ہوا کہ وہ تمہارے دل میں کوئی تہمت نہ ڈال دے “۔ اس کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔