12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 12:23–24

وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَ١ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 12:23 in the Quran reader

تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے انکو اپنی طرف مائل کرنا چاہا اور دروازے بند کرکے کہنے لگی (یو سف) جلدی آؤ۔ انہوں نے کہا کہ خدا پناہ میں رکھے وہ (یعنی تمہارے میاں) تو میرے آقا ہیں انہوں نے مجھے اچھی طرح سے رکھا ہے (میں ایسا ظلم نہیں کرسکتا) بیشک ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے۔

وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ١ۚ وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ١ؕ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 12:24 in the Quran reader

اور اس عورت نے انکا قصد کیا اور انہوں نے اس کا قصد کیا اور اگر وہ پروردگار کی نشانی نہ دیکھتے (تو جو ہوتا ہوتا) یوں اس لئے (کیا گیا) کہ ہم ان سے برائی اور بےحیائی کو روک دیں۔ بیشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے۔

آیت نمبر 23 تا 24 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وراودتہ التی ھوفی بیتھا عن نفسہٖ وہ عزیز مصر کی بیوی ہے اس نے آپ سے مطالبہ کیا کہ آپ اس سے مطلب برادی کریں۔ المراودۃ کی اصل نرمی اور مہربانی کیساتھ ارادہ اور طلب ہے۔ اور الرد اور الریاد سے مراد کسی چیز کو بار بار طلب کرنا ہے۔ ایک قول کے مطابق : یہ روید سے ہے۔ کہا جاتا ہے : فلان یمشی رویدا یعنی فلاں نرمی سے چلتا ہے۔ مراودۃ سے مراد طلب میں نرمی ہے۔ مرد کے بارے میں کہا جاتا ہے : راودھاعن نفسھا اور عورت کے بارے میں : رادتہ عن نفسہ اور الرود سے مراد التانی ہے۔ کہا جاتا ہے : أرودنی یعنی اس نے مجھے مہلت دی۔ وغلقت الابواب غلق کثیر کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ غلق الباب نہیں کہا جاتا۔ جبکہ اغلق کثیر وقلیل دونوں کے لیے آتا ہے، جس طرح فرزوق نے ابوعمر و بن العلاء کے بارے میں کہا : مازلت أغلق أبوابًا و أفتحھا حتی أتیت أبا عمر وبن عمار میں دروازے بند کرتا رہا اور انہیں کھولتا رہا یہاں کہ میں ابوعمروبن عمار کے پاس پہنچ گیا۔ اس میں أغلق کئی دروازوں کے لیے استعمال ہوا۔ کہا جاتا ہے : وہ سات دروازے تھے اس نے ان کو بند کردیا پھر آپ کو اپنی طرف دعوت دی۔ وقالت ھیت لک یعنی ھلم أقبل اور تعال آگے بڑھو۔ اس کا نہ کوئی مصدر ہے اور نہ اس کی کوئی گردان ہوسکتی ہے۔ نحاس نے کہا : اس میں سات قرأتیں جائز ہیں۔ اس سلسلہ میں ازروئے اسناد کے صحیح وہ ہے جسے اعمش نے ابی وائل سے روایت کیا انہوں نے کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کو ھیت لک پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ انہوں نے کہا : تو میں نے کہا : بعض لوگ اس کو ھیت لک پڑھتے ہیں تو آپ (حضرت عبداللہ بن مسعود) نے کہا : میں اسی طرح پڑھتا ہوں جس طرح مجھے سکھایا گیا ہے۔ ابوجعفر نے کہا : بعض لوگ عن عبداللہ بن مسعود عن النبی ﷺ کہتے ہیں اور یہ کوئی بعید ازقیاس بات نہیں، کیونکہ ان کا قول : میں اسی طرح پڑھتا ہوں جسطرح مجھے سکھایا گیا۔ یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ مرفوع ہے۔ اور یہ قرأت ہے اور یہی ابوعمروبن علاء، عاصم، اعمش، حمزہ اور کسائی نے پڑھا ہے ابن ابی اسحاق نحوی نے قالت ھیت لک پڑھا ہے یعنی ھا کے فتحہ اور تا کسرہ کیساتھ۔ طرفہ نے کہا : لیس قومی بالأبعدین إذا ما قال داع من العشیرۃ ھیت طرفہ کے اس شعر میں محل استشہادھیت ہے اس میں ھا کے فتحہ اور تا کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ پس یہ تین قراءتیں ہیں ان میں ھا مفتوح ہے۔ ابوجعفر، نافع نے وقالت ھیت لک پڑھا ہے یعنی ھا کے کسرہ اور تا کے فتحہ کے ساتھ۔ یحییٰ بن وثاب نے وقالت ھیت لک پڑھا ہے ھا کے کسرہ اس کے بعد ساکن اور ات مضموم کے ساتھ۔ حضرت علی بن ابی طالب رضنی اللہ عنہ، حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور عکرمہ سے وقالت ھئت لک روایت ہے۔ ھا کے کسرہ کے بعد ہمزہ ساکن اور تا مضمومہ کے ساتھ، ابن عامر اور اہل شام سے وقالت ھئت منقول ہے ھا کے کسرہ اور تا کے فتحہ کے ساتھ : ابو جعفر نے کہا : ھیت لک التقائے ساکنین کی وجہ سے تا کے فتحہ کیساتھ کیونکہ یہ ایک آواز ہے جس طرح مۃ اور صۃ وغیرہ ضروری ہے کہ یہ مغرب نہ ہو۔ اور فتحہ خفیف حرکت ہے کیونکہ تا سے پہلے یا ہے جیسے این اور کیف اور جس نے تا کو کسرہ دیا اس نے اس وجہ سے اس کو کسرہ دیا کیونکہ اصل کسرہ ہی ہے کیونکہ ساکن کو جب حرکت دی جائے تو کسرہ کے ساتھ حرکت دی جاتی ہے۔ اور جس نے ضمہ دیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں غایت کا معنی پایا جاتا ہے : یعنی اس (عورت) نے کہا : تیرے لیے میری پکار۔ جب اضافت کو حذف کیا گیا تو اس کو مبنی برضمہ پڑھا گیا ہے، جیسے حیث اور بعد وغیرہ۔ اس کے بارے میں اہل مدینہ کی قرأت کے دو قول ہیں : ایک التقائے ساکنین کی وجہ سے فتحہ جیسے پہلے گزرچکا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ فعل ہو ھاء یھی جیسے جاء یجی پس ھئت کی صورت میں معنی ہوگا حسنت ھئیتک یعنی تیری ہیئت عمدہ ہے اور لک الگ کلام ہوگا جس طرح آپ کہتے ہیں ! لک اعنی اور جس نے ہمزہ اور تا کا ضمہ پڑھا تو اس صورت میں یہ فعل ہوگا تھیات لک کے معنی میں ہوگا۔ اسی طرح جس نے ھیت لک پڑھا۔ اور ابوعمرو نے اس قراءت کا انکار کیا ہے۔ ابوعبیدہ۔ معمر بن المثنی نے کہا : ابوعمرو سے اس آدمی کی قرأت کے بارے میں پوچھا گیا جس نے ھا کے کسرہ اور تا کے ضمہ کے ساتھ اس کو مہموز پڑھا تو ابوعمرو نے کہا : باطل ہے۔ اس نے اس کو تھیات سے بنایا ہے ! جاپورے عرب سے تعرض کر یہاں تک کہ یمن تک پہنچ جا کیا تو کسی ایک آدمی کو بھی پہچان لے گا جو یوں کہے ؟ کسائی نے بھی کہا : ھیت عربوں سے حکایت نہیں کیا گیا۔ عکرمہ نے کہا : ھیت لک یعنی تھیات لک وتزینت وتحسنت، اور یہ ناپسندیدہ قرأت ہے، کیونکہ یہ عربی میں سنی ہی نہیں گئی۔ نحاس نے کہا : یہ بصریوں کے نزدیک عمدہ ہے کیونکہ کہا جاتا ہے : ھاء الرجل یھاء ویھیء ھیاۃًپس یھئ، جاء یجئ کی طرح ہے اور ھئت جئت کی طرح ہے۔ اور ھیت میں ھا کا کسرہ ایسے لوگوں کی قرات ہے جو ھا پر اس کے کسرہ کو ترجیح دیتے ہیں۔ زجاج نے کہا : عمدہ ترین قرات ھنت لک ھا اور تا کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ طرفہ نے کہا : لیس قومی بالأبعدین إذا ما قال داع من العشیرۃ ھیت اس شعر میں طرفہ نے ھیت ھا اور تا کے فتحہ کیساتھ ہی پڑھا ہے۔ شاعر نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ کے بارے میں کہا ہے : أبلغ امیر المؤمنین اخا العراق إذا أتیتا إن العراق وأھلہ سلم إلیک فھیت ھیتا اس شعر میں بھی ھیت ہی ہے۔ حضرت ابن عباس اور حسن ؓ نے کہا : ھیت یہ سریانی زبان کا کلمہ ہے اس کے ذریعے وہ اپنی طرف بلاتے ہیں۔ سدی نے کہا قبطی زبان میں اس کا معنی ھلم لک ہے۔ ابوعبید نے کہا : کسائی کہا کرتا تھا : یہ اہل حوران کی لغت ہے۔ جو اہل حجاز میں آگئی اس کا معنی تعال ہے۔ ابوعبید نے کہا۔ حوران کے ایک بوڑھے عالم سے میں نے پوچھا تو اس نے ذکر کیا کہ یہ ان کی لغت ہے۔ یہ عکرمہ نے بھی کہا ہے۔ مجاہد نے کہا : یہ عربی لغت ہے اس کے ذریعے وہ اپنی طرف بلاتے ہیں اور یہ اشیاء پر آنے اور ابھارنے کا کلمہ ہے۔ جو ہری نے کہا : جب کوئی آدمی چیخے اور کسی کو بلائے تو اس وقت ھوت بہ اور ھیت بہ کہا جاتا ہے۔ اس نے کہا : قد رابنی أن الکری أسکتا لو کان معنیا بھا لھیتا جوہری نے ھیت کے ثبوت پر یہ شعر پڑھا جس میں لھیتا ہے۔ اس سے مراد ہے کہ چیخا، دوسرے نے کہا : یحدو بھا کل فتی ھیات اس مصرعہ میں بھی ھیات ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : قال معاذاللہ یعنی اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور جس طرف تو نے مجھے بلایا ہے اس سے اللہ کی امان طلب کرتا ہوں۔ یہ مصدر ہے یعنی اعوذباللہ معاذاً ، فعل کو حذف کردیا گیا ہے اور فعل محذوف کے سبب مصدر کو مفعول کی طرف مضاف کیا جاتا ہے، جس طرح آپ کہتے ہیں : مررت بزید مروعمرو یعنی مرودی بعمرو۔ انہ ربی یعنی اس (عورت) کا شوہر یعنی وہ میرا سردار ہے اس نے میری تکریم کی میں اس کے ساتھ خیانت نہیں کروں گا۔ یہ سدی، ابن اسحاق اور مجاہد کا قول ہے۔ زجاج نے کہا : اس سے، مراد یہ ہے کہ بیشک اللہ میرا رب ہے اس نے اپنی مہربانی سے مجھے والی بنایا، پس میں اس کام کا ارتکاب نہیں کروں گا جس کو اس نے حرام قرار دیا ہے۔ انہ لایفلح الظلمون حدیث میں ہے کہ اس نے آپ کو کہا : اے یوسف ! تیرے چہرے کی صورت کتنی خوبصورت ہے ! آپ نے جواب دیا : رحم میں میرے پروردگار نے میری تصویر بنائی، اس نے کہا : تیرے پال کتنے خوبصورت ہیں ! آپ نے جواب دیا : میری قبر میں سب سے پہلے مجھ سے جدا ہوں گے۔ اس نے کہا : اے یوسف ! تیری آنکھیں کتنی خوبصورت ہیں ! آپ نے جواب دیا انکے ساتھ اپنے پروردگار کو دیکھوں گا۔ اس نے کہا : اے یوسف ! اپنی نگاہ کو اٹھاؤ اور میرے چہرے کی طرف دیکھو۔ آپ نے جواب دیا : میں اپنی آخرت میں اندھا ہونے سے ڈرتا ہوں۔ اس نے کہا : اے یوسف ! میں تیرے قریب ہوتی ہوں اور تو مجھ سے دور ہوتا ہے۔ آپ نے کہا : میں اس طریقے سے اپنے پروردگار کا قرب چاہتا ہوں۔ اس نے کہا : اے یوسف ! میں نے تیری خاطر علیحدہ کمرہ بنادیا ہے پس میرے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ آپ نے فرمایا : کمرہ مجھے میرے پروردگار سے نہیں چھپا سکتا۔ اس نے کہا : اے یوسف ! ریشم کا بستر میں نے تیری خاطر بچھا دیا ہے۔ اٹھو اور میری حاجت پوری کرو۔ آپ نے فرمایا : تب تو جنت میں سے میرا حصہ جاتا رہے گا۔ اس کے علاوہ بھی اس نے گفتگو کی اور آپ اس کا جواب دیتے رہے یہاں تک کے آپ اس کی طرف مائل ہوئے۔ بعض لوگوں نے ذکر کیا ہے کہ عورتیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف شہوت کے ساتھ مائل ہوتی رہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے متنبہ فرمایا۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبوت کی ہیبت ڈال دی بعد ازاں جس نے بھی آپ کو دیکھا اس کو ہیبت نے آپ کے حسن سے مشغول رکھا۔ آپ کے ھم کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے البتہ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اس عورت کا ھم نافرمانی تھا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) مائل ہوتے اگر اپنے رب کی برہان نہ دیکھے لولآان راٰبرھان ربہ لیکن جب آپ نے اپنے رب کی دلیل کو دیکھ لیا تو آپ نے قصد نہ کیا اور یہ اس وجہ سے تھا کہ عصمت انبیاء لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : کذٰلک لنصرف عنہ السوٓء والفحشآء انہ من عبادنا المخلصین۔ اس صورت میں کلام میں تقدیم وتاخیر ہے یعنی لولآ ان راٰبرھان ربہٖ ھم بھا ہے۔ ابوحاتم نے کہا : میں غریب القرآن ابوعبیدہ کے سامنے پڑھا کرتا تھا جب میں ولقد ھمت بہٖ وھم بھا پر پہنچا تو ابو عبیدہ نے کہا : اس کلام میں تقدیم وتاخیر ہے۔ گویا کہ وہ یہ مراد لے رہے تھے کہ لولآان راٰبرھان ربہٖ لھم اگر آپ اپنے رب کی طرف سے (روشن) دلیل نہ دیکھ لیتے تو آپ بھی ضرور اس کا قصد کرتے۔ احمد بن یحییٰ نے کہا : یعنی زلیخا نے نافرمانی کا قصد کیا اس حال میں کہ وہ اس پر مصر تھی اور حضرت یوسف مائل ہوئے مگر جس طرف آپ مائل ہوئے اس میں واقع نہیں ہوئے لہٰذا دونوں کے ارادے میں فرق ہے۔ یہ دونوں قول ہر وی نے اپنی کتاب میں ذکر کیے ہیں۔ جمیل نے کہا : ھممت بھم من بثینۃ لو بدا شغیت غلیلات الھوی من فؤادیا دوسرا ھممت ولم أفعل وکدت ولیتنی ترکت علی عثمان تبکی حلائلٰہ یہ ساری نفس کی گفتگو ہے بغیر عزم کے۔ ایک قول یہ ہے : ھم بھا سے مراد یہ ہے کہ آپ نے اس کی زوجیت کا قصد کیا۔ ایک قول یہ ہے : ھم بھا سے مراد ہے آپ نے اس کو مارنے اور اپنے آپ سے دور کرنے کا قصد کیا اور رب کی دلیل نے مارنے سے روک لیا، کیونکہ اگر آپ اس کو مارت تو یہ وہم پیدا ہوجاتا کہ آپ نے حرام کا قصد کیا اور اس نے اس سے روک دیا پس اس وجہ سے آپ نے اسے مارا۔ اور ایک قول یہ ہے : یوسف کا قصد بھی معصیت تھا اور وہ اس کے پاس اس طرح بیٹھے جس طرح مرد اپنی بیوی کے پاس بیٹھتا ہے۔ اس قول کی طرف اکثر وعام مفسرین مائل ہوئے ہیں، جن میں سے قشیری ابونصر، ابن الانباری، نحاس اور مارودی وغیرہ ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : آپ نے سروال کا بندھن کھولا اور اس کے پاس خاتن کے بیٹھنے کی طرح بیٹھے۔ آپ سے ہی روایت ہے : وہ (زلیخا) اپنی گدیوں پر چت لیٹی اور آپ اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھے اور آپ نے اپنے کپڑے اتارے، حضرت سعید بن جبیر ؓ نے کہا : آپ نے اپنی سروال کا بندھن کھولا۔ مجاہد نے کہا : آپ نے سروال کو کھولایہاں تک کہ آپ الیتین تک پہنچ گئے اور اس کے پاس اس طرح بیٹھے جس طرح مرد اپنی بیوی کے پاس بیٹھتا ہے۔ ابن عباس ؓ نے کہا : اور جب آپ نے کہا : ذٰلک لیعلم انی لم اختہ بالغیب (یوسف :52) یہ اس وجہ سے تھا کہ وہ جان لے کہ میں نے چھپ کر خیانت نہیں کی۔ تو جبریل نے آپ کو کہا : اور نہ ہی اس وقت جب آپ نے قصد کیا تھا اے یوسف (علیہ السلام) ؟ تو اسوقت آپ نے فرمایا : ومآابرئ نفسی (یوسف :53) اور میں اپنے نفس کو بےقصور نہیں کہتا۔ مفسرین نے کہا : اس حالت میں (غلط کاری سے) رک جانا اخلاص پر دلالت کرتا ہے اور ثواب کے حصول کے لیے بہت بڑا کام ہے۔ میں (قرطبی) نے کہا : اللہ تعالیٰ نے جو حضرت ذوالکفل کی تعریف کی ہے اس کا یہی سبب ہے جس کا بیان انشاء اللہ سورة ص میں آئے گاط۔ اس بنیاد پر ” لولا “ کا جواب محذوف ہے : یعنی اگر آپ نے اپنے رب کی روشن دلیل کو نہ دیکھا ہوتا تو وہ آپ کر گزرتے جس کا آپ نے قصد کیا تھا۔ اور اسی کی طرح کلا لوتعلمون علم الیقین۔ (تکاثر) ہے اور اس کا جواب لن تنافسوا ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : یہ قول حضرت ابن عباس ؓ اور اسلاف کی ایک جماعت سے مروی ہے : انہوں نے کہا : اس میں حکمت یہ ہے کہ یہ گنہگاروں کے لیے مثال بن جائیں تاکہ وہ دیکھیں کہ ان کی توبہ کا انجام بھی اللہ تعالیٰ کی معافی اور عفو و درگزر ہے جس طرح اس آدمی کی توبہ کا انجام معافی ہوا جوان سے بہتر ہے (یعنی حضرت یوسف کی توبہ) اور گناہ کے قرب نے ان کو ہلاک نہیں کیا۔ یہ ساری صورتحال اس صورت میں ہوگی جس طرح اس گروہ نے روایت کیا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قصد یہاں تک پہنچ گیا کہ آپ زلیخا کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے اور ازاربند کو کھولنا شروع کردیا اور وہ زلیخا ان کے لیے چت لیٹ گئی اس کو طبری نے بیان کیا ہے۔ ابو عبیدقاسم بن سلام نے کہا : حضرت ابن عباس ؓ اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کا اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس کا قصد کیا۔ اور یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی کتاب کی تاویل کو زیادہ جانتے ہیں، اسی طرح انبیاء کی بہت زیادہ تعظیم کرنے والے ہیں اور بغیر علم کے ان کے بارے میں گفتگو کرنے والے نہیں۔ حضرت حسن نے کہا : اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے معاصی کو اس لیے ذکر نہیں کیا کہ ان کے ذریعے ان پر عارنہ لگے ان کا ذکر اس لیے کیا تاکہ تم توبہ سے مانوس نہ ہو۔ غزنوی نے کہا : انبیاء (علیہ السلام) کی لغزش میں کئی حکمتیں ہیں، مثلا خوف کی زیادتی، شرمندگی کی وجہ سے حیاء کی شدت، عجیب عمل سے خالی ہوجانا، امید کے بعد عفو و درگزر کی نعمت سے لطف اندوز ہونا اور ان کا لغزش والے لوگوں کی امیدوں کا امام ہونا وغیرہ۔ ابونصر قشیری نے کہا : ایک قوم نے کہا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) سے قصد کا ظہور ہوا اور ان کا یہ قصد طبعی تھا اور اس میں وہ فعل کرنے کا عزم مصمم نہیں تھا۔ اور جو قصد اس قبیل سے ہو اس کی وجہ سے بندے پر کوئی سزا نہیں ہوتی، جس طرح بعض اوقات ایک روزہ دار کے دل میں ٹھنڈا پانی پینے اور لذیز کھانا کھانے کی سوچ پیدا ہوتی ہے لیکن اگر اس نے نہ کھایا، نہ پیا اور نہ ہی کھانے پینے کا عزم مصمم کیا تو دل میں پیدا ہونے والے اس کلام کے سبب اس کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا۔ اب رب کی روشن دلیل نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اس قصد سے پھیر دیا تو وہ عزم مصمم نہ رہا۔ میں (قرطبی) نے کہا : یہ عمدہ بات ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : اس آیت کے بارے میں میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ اس واقعہ کے وقت حضرت یوسف کا نبی ہونا صحیح نہیں اور نہ ہی اس حوالے سے روایات ظاہر ہیں۔ اور اگر معاملہ یوں ہو تو پھر آپ ایک بندہ مومن ہیں آپ کو سلطنت اور علم عطا کیا گیا ہے، تو ایسی صورت میں وہ قصد جو فقط کسی کام کو کرنے کا ارادہ ہے اور اس میں فعل کا وقوع نہیں اس کا جواز ثابت ہوجاتا ہے۔ اور ایسی صورت میں خطا کا دل کے اندر ہوجانا بعید ازقیاس نہیں۔ اور اگر ہم اس وقت آپ کو نبی فرض کریں تو پھر میرے نزدیک سوائے اس قصد کے جو صرف دل کے اندر کھٹکتا ہے کچھ بھی جائز نہ ہوگا۔ اس صورت میں جو یہ ذکر کیا جاتا ہے کہ آپ نے اپنا ازاربند کھولا وغیرہ یہ صحیح نہ ہوگا، کیونکہ نبوت کے ساتھ تو عصمت (لازمی) ہوتی ہے اور جو یہ روایت کیا گیا ہے کہ آپ کو کہا گیا : تکون فی دیوان الانبیاء وتفعل فعل السفھاء تو اس کا معنی اس واقعے کے بعد انبیاء میں شمار ہونا ہوگا۔ میں (قرطبی) نے کہا : انہوں نے اس تفصیل میں سے جو کچھ ذکر کیا ہے وہ صحیح ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کا ارشاد : واوحینآالیہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ نبی تھے جس طرح ہم نے ذکر کیا اور یہ علماء کی ایک جماعت کا قول ہے۔ اور آپ نبی تھے تو پھر قصد سے مراد وہ ہوگا جو دل میں کھٹکتا ہے اور سینے میں ثابت نہیں ہوتا : اور یہی وہ چیز ہے جس پر مواخذے کو اللہ نے مخلوق سے اٹھالیا ہے (یعنی وسوسہ) کیونکہ اس کو انسان دور نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وما ابرئ نفسی (یوسف :53) اگرچہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قول ہے۔ لیکن معنی یہ ہے کہ اس قصد سے میرا نفس بری نہیں یا پھر آپ کا یہ قول تواضع اور اعتراف عجز کے طور پر ہوگا کیونکہ جس چیز سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو پاک کیا آپ کا نفس اس کی خالفت کررہا تھا : اور اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بلوغت کے وقت آپ کے حال کی خبر دی اور ارشاد فرمایا : ولمابلغ اشدہٓ اٰتینہ حکما وعلما جس طرح کہ اس کا بیان گزر چکا ہے۔ اور اجبنی کے ساتھ خیانت کی حرمت وغیرہ میں سے جو کچھ سکھایا آپ نے اس پر عمل کیا۔ اور آپ نے عزیز مصر کی بیوی سے اعراض پر تا۔ اور اس کی دعوت کو قبول نہیں کیا بلکہ اس سے پیٹھ پھیرلی اور اس سے بھاگے یہ ایسی حکمت ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاص کیا اور حقیقت میں یہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم کے مقتضیٰ پر آپ کا عمل تھا۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” فرشتوں نے عرض کیا : اے پروردگار ! یہ تیرا بندہ ہے جو برائی کرنا چاہتا ہے، حالانکہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم اس کی نگرانی کرو اگر اس نے برائی کی تو اس کی مثل اس کے نامہ اعمال میں لکھ دو اور اگر اس نے اس کو چھوڑ دیا تو اس کے حق میں نیکی لکھ دو پس اس نے صرف میری خاطر برائی کو چھوڑدیا “۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے پروردگار کی طرف سے خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :” جب میرا بندہ کوئی برائی کرنے کا قصد کرتا ہے اور پھر کرتا نہیں تو میں اس کی نیکی لکھ دیتا ہوں “۔ پس اگر بندہ برائی کا قصد کرے تو اس کو چھوڑنے کی وجہ سے اس کے لیے نیکی لکھی جاتی ہے نہ کہ گناہ۔ صحیح میں ہے :” اللہ تعالیٰ نے میری امت کی دل میں پیدا ہونے والے وسوسے کا گناہ اٹھالیا ہے جب تک کہ بندہ اس پر عمل نہ کرے یا اس کے بارے میں گفتگونہ کرے “۔ ابن عربی نے کہا : مدینہ السلام میں صوفیاء کے اماموں میں سے کوئی امام تھا جو ابن عطا کے نام سے معروف تھا : اس نے ایک دن حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں گفتگو کی یہاں تک کہ اس نے آپ کی طرف منسوب ناپسندیدہ باتوں سے آپ کی برأت کا تذکرہ کیا : اس کی مجلس میں ایک آدمی اٹھا جو تمام لوگوں مبغوض تھا اس نے کہا : اے شیخ : اے ہمارے سردار : تب تو یوسف نے قصد کیا البتہ اس نے پوار نہ کیا ؟ امام نے کہا : ہاں ! کیونکہ وہاں (رب کی بارگاہ) سے مہربانی تھی۔ عالم اور متعلم دونوں کی مٹھاس کو دیکھو، سوال کرنے والے کے بارے میں ایک عام آدمی کی ذہانت اور عالم نے جو جواب دیا اس کے اختصار اور مکمل ہونے کو دیکھو : اسی وجہ سے علماء صوفیہ نے کہا : ولمابلغ اشدہ اٰتینہ حکما وعلمًا کے ارشاد کا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمت وعلم غلبہ شہوت کو جدا کرنے کے لیے دیا تاکہ یہ ان کی عصمت کا سبب اور ذریعہ بن جائے۔ میں (قرطبی) نے کہا : جب اللہ نے جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تعریف کی اس کی وجہ سے ان کی عصمت وبرأت پختہ ہوگئی تو جو مصعب بن عثمان نے کہا ہے وہ صحیح نہ ہوا۔ مصعب نے کہا : سلیمان بن یسار لوگوں میں خوبصورت ترین آدمی تھا۔ ایک عورت اس کی مشتاق ہوگئی اور اس عورت نے اپنا آپ اس کے سپرد کردیا مگر وہ رک گیا اور اسے نصیحت کی اس عورت نے کہا : اگر تو نے ایسا نہ کیا میں تیری مشہوری کروں گی تو وہ نکلا اور اس نے اس عورت کو چھوڑ دیا۔ تو اس نے خواب میں حضرت یوسف صدیق (علیہ السلام) کو بیٹھے ہوئے دیکھا تو کہا : آپ یوسف ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں میں وہ یوسف ہوں جس نے قصد کیا تھا۔ اور تو سلیمان ہے جس نے قصد ہی نہ کیا ؟ یہ واقعہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ولایت کا درجہ نبوت کے درجے سے بلند ہو حالانکہ یہ محال ہے۔ اگر ہم حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں یہ فرض کرلیں کہ وہ نبی نہیں تھے تو آپ کا درجہ بھی ولایت ہوا۔ پھر تو آپ کو بھی اسی کی طرح محفوظ ہونا چاہیے : اور اگر سلیمان پر دروازے بند کردیے جاتے اور لمبی دیر تک گفتگو اور خطاب کے ذریعے اور کلام و جواب کے ذریعے متوجہ کیا جاتا تو اس پر بھی فتنہ اور بہت بڑے ابتلاء کا اندیشہ ضرور تھا۔ واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : لولاان ربواٰبرھان ربہ، ان محل رفع میں ہے یعنی لولا رویتہ برھان ربہ اگر اپنے رب کی دلیل کی رؤیت نہ ہوتی۔ اور سامع کو معلوم ہونے کہ وجہ سے جواب محذوف ہے یعنی لکان ماکان پھر ہوتا جو کچھ بھی ہوتا۔ یہ دلیل قرآن میں مذکور نہیں۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ زلیخاء گھر کے کونے میں پڑے یاقوت اور جو ہرات سے ڈھکے بت کی طرف گئی اور اسے کپڑے کے ساتھ ڈھانپ دیا تو آپ نے کہا : تو کیا کررہی ہے ؟ اس نے کہا : مجھے اپنے اس معبود سے حیاء آتی ہے کہ مجھے اس صورت میں دیکھ لے، تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : میں زیادہ اس بات کا حقداد ہوں کہ میں اللہ سے حیاء کروں۔ اس سلسلہ میں کی گئی گفتگو میں یہ عمدہ ترین بات ہے کیونکہ اس میں دلیل کا قائم کرنا ہے۔ ایک قول یہ ہے : آپ نے گھر کی چھت میں ولاتقربوا الزنیٰ انہ کان فاحشۃً وسآء سبیلا۔ (الارساء) لکھا ہوا دیکھا۔ (اور تن زنا کے قریب مت جاؤ یہ فحش کام ہے اور برا راستہ ہے) حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ایک ہاتھ ظاہر ہوا جس پر۔ ان علیکم لحٰفظین۔ (الانفطار) لکھا ہوا تھا۔ (بےشک تم پر نگران ہیں) بعض لوگوں نے کہا : آپ نے اللہ تعالیٰ کا عبد اور میثاق یاد کیا۔ اور ایک قول یہ ہے : ندا دی گئی کہ اے یوسف : آپ کا نام انبیاء (علیہم السلام) کے دیوان میں لکھا ہوا ہے اور آپ بیوقوفوں کا سا عمل کررہے ہو ؟ ایک قول یہ ہے : آپ نے دیوار پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی تصویر کو اس حال میں دیکھا کہ وہ ان کی انگلیوں کو پکڑکر دھمکی دے رہے تھے تو آپ رک گئے اور آپ کی انگلیوں سے آپ کی شہوت نکل گئی۔ یہ قتادہ، مجاہد۔ حسن بصری، ضحاک، ابو صالح اور سعید بن جبیر کا قول ہے۔ اعمش نے مجاہد سے روایت کیا : آپ نے اپنی سروال اتاری تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) مثالی صورت میں آپ کے سامنے آئے اور فرمایا : اے یوسف ! (علیہ السلام) تو آپ بھاگ کھڑے ہوئے۔ سفیان نے ابوحصین سے انہوں نے سعید بن جبیر سے روایت کیا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) ان کے سامنے مثالی صورت میں آئے اور آپ کے سینے پر ہاتھ مارا تو آپ کی شہوت آپ کی انگلیوں سے نکل گئی۔ مجاہد نے کہا : حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہر ایک کے بارہ بیٹے پیدا ہوئے سوائے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ان کے صرف دو بیٹے پیدا ہوئے اور اس شہوت کی وجہ سے آپکی اولاد کم ہوئی۔ اس کے علاوہ اقوال بھی ہیں۔ المختصر : وہ برھان اللہ کی آیات میں ایک آیت تھی جو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دکھائی یہاں تک کہ آپ کا ایمان مضبوط ہوا اور نافرمانی سے رک گئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : کذٰلک لنصرف عنہ السوٓء والفحشآء۔ کذٰلک میں کاف ضمیر محل رفع میں بھی ہوسکتی ہے اس صورت میں یہ مبتدا محذوف کی خبر ہوگی، تقدیر عبارت ہوگی : البراھین کذالک اور یہ مصدر محذوف کی صورت بھی ہوسکتی ہے۔ یعنی أریناہ البراھین رؤیۃ لذالک، السوٓء سے مراد شہوت ہے اور الفحشآء سے مراد مباشرت ہے۔ ایک قول یہ ہے : السوٓء سے مراد بری تعریف ہے اور الفحشآء سے مراد زنا ہے۔ ایک قول یہ ہے : السوٓء سے مراد اپنے صاحب سے خیانت کرنا ہے اور الفحشآء سے مراد فاحشہ عورت پر سوار ہونا ہے۔ ایک قول یہ ہے : السوٓء سے مراد عزیز مصر کی سزا ہے۔ ابن کثیر، ابوعمرو اور ابن عامر نے المخلصین لام کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی اطاعت کو خالص کیا، جبکہ قراء نے لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اس صورت میں اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے چنا ہے۔ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) میں یہ دونوں صفات موجود تھیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مخلص تھے اور اللہ تعالیٰ کی رسالت کے لیے چنے گئے تھے۔
Ayah 12:25

وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِ١ؕ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 12:25 in the Quran reader

اور دونوں دروازے کی طرف بھاگے (آگے یوسف پیچھے زلیخا) اور عورت نے ان کا کرتہ پیچھے سے (پکڑ کر جو کھینچا تو) پھاڑ ڈالا اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا۔ تو عورت بو لی کہ جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے اسکی اسکے سوا کیا سزا ہے کہ یا تو قید کیا جائے یا دکھ کا عذاب دیا جائے ؟

آیت نمبر 25 اللہ تعالیٰ کے ارشاد : واستبقا الباب وقدت قممیصہ من دبر میں دو مسئلے ہیں۔ مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : واستبقا الباب کے بارے میں علماء نے کہا : یہ قرآن معجز کے ان اختصارات میں سے ہے جن میں بہت سے معانی جمع ہیں۔ اور وہ یہ ہیں کہ جب آپ نے اپنے رب کی دلیل کو دیکھا تو اس عورت سے بھاگے تو دونوں نے آگے بڑھنے کی کوشش کی وہ اس لیے دوڑی تاکہ آپ کو اپنی طرف واپس لوٹالے، اور آپ اس لیے تیز دوڑے کہ اس بھاگ جائیں تو اس نے آپ کے نکلنے سے پہلے آپ کو پالیا۔ وقدت قمیصہ من دبر اور اس عورت نے پیچھے سے آپ کی قمیض پھاڑڈالی۔ من دبر، مراد من خلفہ، ہے۔ اس نے قمیض کو اوپر سے پکڑا تو قمیض گردن کے پاس سے پھٹی قمیض کے نیچے تک پہنچ گئی الاستباق سے مراد کسی چیز کی طرف سبقت کو طلب کرنا ہے، اسی سے سباق ہے اور قد سے مراد کانٹا ہے اواکثر طور پر لمبائی میں کاٹنے کے لیے یہ استعمال ہوتا ہے۔ نابغہ نے کہا : تقد السلوقی المضاعف نسجہ وتوقد بالصفاح نار الحباحب محل استشہاد تقد ہے یعنی قدیقد سے جس کا معنی ہے کاٹنا۔ جبکہ القط طاء کے ساتھ چوڑائی میں کاٹنے کیلئے استعمال ہوتا ہے مفضل بن حرب نے کہا : میں نے ایک مصحف میں فلمنا رأی قمیصہ عط من دبر پڑھا ہے عط کا معنی ہے پھٹنا۔ یعقوب نے کہا : القط سے مراد صحیح جلد اور صحیح کپڑے میں پھٹن ہے۔ استبقا میں الف اور اس کے بعد لام کے ساکن ہونے کی وجہ سے الف کو حذف کردیا گیا جس طرح تثنیہ کی صورت میں جاءنی عبداللہ کہا جاتا ہے۔ اور عربوں میں جاءنی عبداللہ حرف مدولین ہے۔ اور بعض ” عبدا اللہ “ کہتے ہیں یعنی الف اور ہمزہ دونوں کو ثابت رکھ کے جس طرح کی صورت میں کہا جاتا ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ آیت میں قیاس اور اعتبار پر بھی دلیل ہے اسی طرح عرف و عادت پر عمل کرنے پر بھی دلیل ہے اس کی وجہ قمیض کے آگے اور پیچھے سے پھٹنے کا ذکر ہے۔ اور یہ ایسا معاملہ ہے جو صرف مالکیوں کی کتابوں میں ہے۔ اور یہ اس لیے کہ جب قمیض کو پیچھے سے کھینچا جائے تو اس طرف سے پھٹتی ہے اور جب سامنے سے کھینچی جائے تو اس طرف سے پھٹتی ہے اور یہ اکثر ہوتا ہے۔ والفیا سید ھالدا الباب یعنی ان دونوں نے عزیز مصر کو دروازے پر پایا اور سید سے مراد خاوند لیا گیا ہے۔ اور قبطی خاوند کو سید کہتے ہیں اور ألفاہ، صادفہ، وارطہ، اور لاطعہ تمام ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ جب اس (زلیخاء) نے اپنے خاوند کو دیکھا تو بہانہ بنانے کے لیے اس نے اس کی توجہ مبذول کروانا چاہی اور کہنے لگی : قالت ماجزآء من ارادباھلک سوٓءا اس کی کیا سزا ہے جو تیرے گھروالوں کے ساتھ زنا کرنا چاہے ؟ سوٓءًا سے مراد زنا ہے۔ الاان یسجن اوعذاب الیم ضرب کی صفت وجیع بیان کی جاتی ہے۔ جس طرح آپ کہتے ہیں یضرب ضربا وجیعا اور ماجزآء مبتدا ہے اور ان یسجن اس کی خبر ہے۔ جب کہ اوعذاب، ان یسجن پر معطوف ہے کیونکہ ان یسجن کا معنی إلا الجن ہے اس کو عذاب الیم پڑھنا بھی جائز ہوگا اس صورت میں عبارت ہوگی اویعذب عذابًا الیما یہ کسائی کا قول ہے۔
Ayahs 12:26–29

قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَ هُوَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 12:26 in the Quran reader

(یوسف نے) کہا اسی نے مجھ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا۔ اس کے قبیلے میں سے ایک فیصلہ کرنیوالے نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر اس کا کرتہ آگے سے پھٹاہو تو یہ سچی اور یوسف جھوٹا ہے۔

وَ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:27 in the Quran reader

اور اگر کرتہ پیچھے سے پھٹا ہو تو یہ جھوٹی اور وہ سچا

فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَیْدِكُنَّ١ؕ اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ Open ayah 12:28 in the Quran reader

جب اس کا کرتہ دیکھا (تو) پیچھے سے پھٹا تھا (تب اس نے زلیخا سے کہا) کہ یہ تمہارا ہی فریب ہے (اور) کچھ شک نہیں کہ تم عورتوں کے فریب بڑے (بھاری) ہوتے ہیں۔

یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ٚ وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ١ۖۚ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِئِیْنَ۠ Open ayah 12:29 in the Quran reader

یوسف اس بات کا خیال نہ کر اور (زلیخا) تو اپنے گناہ کی بخشش مانگ بیشک خطا تیری ہی ہے۔

آیت نمبر 26 تا 29 قال ھی راودتنی عن نفسی وشھد شاھد من اھلھا اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ علماء نے کہا : جب اس عورت نے اپنے آپ کی برات ظاہر کردی تو پتہ چلا وہ محبت میں سچی نہ تھی کیونکہ محب کی شان تو محبوب کو ترجیح دینا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : ھی راودتنی عن نفسی تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس کے بہتان اور جھوٹ کے مقابلے میں سچ بیان کیا۔ نوف شامی وغیرہ نے کہا ہے : گویا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس واقعہ سے پردہ اٹھایا اور جب اس نے آپ سے بغاوت کی تو آپ کو غصہ آیا اور آپ نے سچ کہہ دیا۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ وشھدشاھد من اھلھا کیونکہ جب ان دونوں کے قول میں تعارض واقع ہو تو بادشاہ کو گواہ کی ضرورت پڑی تاکہ وہ سچے اور جھوٹے کی پہچان کرسکے تو اس عورت کے گھر کے آدمی نے گواہی دی یعنی اس کے گھر کے آدمی نے فیصلہ کردیا، کیونکہ یہ اس کی طرف سے فیصلہ تھا نہ کہ شہادت۔ اس گواہ کے بارے میں چار مختلف اقوال ہیں۔ پہلا : وہ بچہ تھا گود میں اس نے کلام کیا۔ سہیلی نے کہا : صحیح ہے۔ اس حدیث طیبہ کی وجہ سے جو نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : لم یتکلم فی المھدالاثلاثۃ گود میں سوائے تین بچوں کے اور کسی نے کلام نہیں کیا۔ ان میں آپ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے گواہ کا ذکر بھی فرمایا۔ ابونصر قشیری نے کہا : اس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ گھر میں گود میں ایک بچہ تھا اور وہ زلیخا کی خالہ کا بیٹا تھا۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا کہ آپ نے فرمایا : ” بچپنے میں چار نے کلام کیا “۔ اور آپ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے گواہ کا ذکر فرمایا۔ یہ بھی ایک قول ہے۔ دوسرا : کہ گواہ اصل کا پھٹنا تھا۔ اس کو ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت کیا ہے۔ اور یہ لغوی اعتبار سے صحیح مجاز ہے۔ کیونکہ زبان حال مقال کی نسبت زیادہ بلیغ ہوتی ہے اور بعض اوقات عرب کلام کو جمادات کی طرف منسوب کردیتے ہیں اور اسکی صفات کی خود اسی کے بارے میں خبر دیتے ہیں اور یہ ان کے اشعار اور کلام میں بہت زیادہ ہے اور اس سلسلہ میں کسی کا بڑا خوبصورت قول ہے : دیوار نے کیل کو کہا کہ تو نے مجھے کیوں چیرا ؟ اس نے اسے کہا : اس سے پوچھ اس نے مجھے کیوں گاڑا ؟ مگر اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد : من اھلھا اس کے قمیض ہونے کو باطل قرار دے دیتا ہے۔ تیسرا : وہ اللہ کی مخلوق میں سے مخلوق ہے نہ تو انسان، نہ ہی جن۔ یہ مجاہد کا قول ہے۔ اس کو بھی اللہ تعالیٰ کا ارشاد : من اھلھا رد کردیتا ہے۔ چوتھا : وہ عقلمند اور حکیم آدمی تھا۔ وزیر اپنے معاملات میں اس سے مشورہ لیتا تھا اور وہ عورت کے اہل میں سے تھا اور رہتا اس کے خاوند کے ساتھ تھا۔ اس نے کہا : میں نے دروازے کے پیچھے سے کھنچنے، خود کر ترجیح دینے اور قمیض کے پھٹنے کے بارے میں سنا یہ معلوم نہیں کہ تم میں سے کون آگے تھا ؟ پس اگر قمیض کی پھٹن اس (یوسف) کے آگے کی طرف سے ہے تو تو سچی ہے اور وہ اس کے پیچھے سے ہے تو پھر وہ سچا ہے۔ پھر ان سب نے قمیض کو دیکھا تو وہ پیچھے سے پھٹی ہوئی تھی۔ یہ حضرت حسن بصری، عکرمہ، قتادہ، ضحاک، مجاہد اور سدی کا قول ہے۔ سدی نے کہا : یہ اس کے چچا کا بیٹا تھا اور اس نے یہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا ہے اور اس باب میں یہی صحیح ہے۔ واللہ اعلم حضرت ابن عباس ؓ سے اسرائیل عن سماک عن عکرمہ روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : وہ داڑھی والا آدمی تھا۔ سفیان عن جابر عن ابن ابی ملیکہ عن ابن عباس کہا کہ آپ نے فرمایا : وہ بادشاہ کے خاص آدمیوں میں سے تھا۔ عکرمہ نے کہا : وہ بچہ نہیں تھا البتہ ایک حکیم آدمی تھا۔ سفیان نے عن منصور عن مجاہد روایت کیا ہے ؛ وہ ایک آدمی تھا۔ ابوجعفر نحاس نے کہا کہ وہ عقلمند اور حکیم آدمی تھا بادشاہ نے اس سے مشورہ لیا تو اس نے یہ دلیل پیش کی ؟ اگر وہ بچہ ہوتا تو اس کی شہادت تو عادت کو بطور دلیل پیش کرنے سے مستغنی کردیتی کیونکہ بچے کا کلام کرنا تو معجزہ و کرامت ہے اور یہ عادت سے استدلال کرنے کی نسبت زیادہ واضح تھا۔ یہ بات نبی کریم ﷺ کی حدیث۔ تکلم أربعۃ صغار، منھم صاحب یوسف، کے مخالف بھی نہیں کیونکہ اس کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ صغیر تھا، بوڑھا نہ تھا۔ اور اس سلسلے میں ایک اور دلیل بھی ہے اور وہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی نبی کریم ﷺ سے روایت ہے اور یہ روایت بھی متواتر ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا گواہ بچہ نہیں تھا۔ میں (قرطبی) نے کہا : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ، حضرت ابوہریرہ ؓ ، ابن جبیر، ہلال بن یساف اور ضحاک سے رویت ہے کہ وہ بچہ تھا گود میں۔ اگر یہ بچہ ہوتا تو اس کا صرف کلام کردینا ہی دلیل ہوتا اور قمیض کے ذریعے استدلال کرنے کی ضرورت نہ ہوتی اور اس صورت میں یہ خلاف عادت اور معجزہ کی ایک قسم بنتی۔ واللہ اعلم، انشاء اللہ سورة ” البروج “ میں ان بچوں کا بیان آئے گا جنہوں نے پنگھوڑے میں گفتگو کی۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ جب ہم یہ بات کہیں کہ وہ شاید چھوٹا بچہ تھا تو اس میں نشانیوں پر عمل کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہوگی۔ اور اگر وہ بڑا آدمی ہو تو پھر لقطہ اور بہت سے، مقامات پر علامت کے ذریعے کیے جانے والے فیصلہ کا حجت ہونا صحیح ہوجائے گا۔ حتی کہ امام مالک (رح) نے چوروں کے بارے میں کہا : جب ان کے پاس سامان ہو اور بہت سارے لوگ آکر اس کا دعوٰی کردیں جب کہ ان کے پاس کوئی بینہ نہ ہو تو سلطان اس سلسلہ میں غور وفکر اور تدبیر کرے گا اور اگر ان کے علاوہ دیگر لوگ نہ آئیں تو وہ سامان وہ ان کے سپرد کردے گا۔ اور امام محمد (رح) نے فرمایا کہ اگر گھر کے سامان میں مرد اور عورت کا اختلاف ہوگیا تو وہ مال جو مردوں کا ہوسکتا ہے وہ مرد کا ہوگا اور جو عورتوں کا ہوسکتا ہے وہ عورتوں کا ہوگا اور جو مرد اور عورت دونوں کا ہو سکتا ہے وہ مرد کا ہوگا وہ مرد کا ہوگا۔ شریح قاضی اور ایاس بن معاویہ فیصلہ کے سلسلہ میں علامات پر ہی عمل کرتے تھے اور اس سلسلہ میں دلیل یہی آیت ہے۔ واللہ اعلم۔ ان کان قمیصہ قدمن قبل، کان شرط کی وجہ سے محل جزم میں ہے۔ اور نحوی اعتبار سے اس میں اشکال ہیں کیونکہ حرف شرط ماضی کو مستقبل کے معنی میں کردیتے ہیں لیکن یہ قانون کان میں جاری نہیں ہوتا۔ مبرد محمد بن یزید نے کہا : یہ کان میں پائی جانے والی قوت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اور اس کے ذریعے تمام افعال کو تعبیر کردیا جاتا ہے۔ زجاج نے کہا : ان کان کا معنی ان یکن ہے یعنی ان یعلم اگر پتہ چل جائے اور علم کا وقوع ہوا نہیں (کہ اسے ماضی کہیں) تو اسی طرح کون (کاوقوع بھی نہیں ہوا) کیونکہ یہ علم کی طرف لے جاتا ہے۔ قد من قبل یہ فعل ماضی کے ذریعے کان کے بارے میں خبر ہے۔ جس طرح زہیر نے کہا : وکان طوی کشحا علی مستکنہ فلا ھو أبداھا ولم یتقدم اس شعر میں فلا ھوأبداھاولم یتقدم ماضی ہے جو کہ کان کی خبر ہے۔ یحییٰ بن یعمر اور ابن ابی اسحاق نے من قبل قاف، با اور لام کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اسی طرح دبر۔ زجاج نے کہا : ان دونوں کو غایت بنایا جائے گا جس طرح قبل اور بعد۔ گویا کہ اس نے کہا : من قبلہ ومن دبرہ۔ اور جب مضاف الیہ کو حذف کردیا گیا جو مراد تھا تو مضاف خود اپنی غایت بن گیا اس کے بعد کہ مضاف الیہ اس کی غایت تھی۔ اور غیر مضاف کے ساتھ مشابہت دیتے ہوئے من قبل اور من دبر یعنی لام اور را کے فتحہ کا ساتھ بھی جائز ہے۔ اور محبوب نے ابوعمرو سے من قبل اور من دبر بھی روایت کیا ہے، یعنی مخفف اور مجرور۔ فلماراٰقمیصہ قد من دبر قال انہ من کیدکن ایک قول یہ ہے : یہ عزیز مصر نے زلیخاء کو اس کے اس قول ماجزآء من ارادبا ھلک سوٓءًا کے وقت کہا۔ ایک قول کے مطابق : گواہ نے اسے کہا۔ کید کا معنی مکر اور بہانہ ہے۔ سورة ” الانفال “ میں یہ گزر چکا ہے۔ ان کیدکن عظیم اس نے عظیم کہا ان کے فتنہ اور کسی مشکل سے نکلنے کے لیے ان کے حیلہ کے بڑے ہونے کی وجہ سے۔ مقاتل نے عن یحییٰ بن ابی کثیر عن ابی ہریرہ ؓ کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” عورتوں کا مکر شیطان کے مکر سے برا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان کید الشیطٰن کان ضعیفا۔ (النساء) اور ان کیدکن عظیم۔ یوسف اعرض عن ھٰذا یعنی کسی کے سامنے اس کا ذکر نہ کرو اور اسے چھپاؤ، پھر زلیخاء کی طرف اس نے توجہ کی اور کہا : اور تو واستغفری لذنبک اپنے گناہ کی معافی مانگ یعنی اپنے شوہر سے اپنی غلطی کی معافی مانگ تاکہ وہ مجھے سزا نہ دے۔ انک کنت من الخٰطین اس نے من الخاطئات نہیں کہا کیونکہ اس نے مذکر اور مونث دونوں کے متعلق خبر دینے کا قصد کیا ہے اور مذکر کو اس نے غلبہ دیا ہے۔ اور اس کا معنی ہوگا : من الناس الخاطئین یا من القوم الخاطئین جیسے انھا کا نت من قوم کافرین، وکانت من القانتین ایک قول یہ ہے : یوسف کو اعرض اور زلیخا کو استغفری کہنے والا اس کا شوہر تھا۔ اس کے بارے میں دو قول ہیں۔ ایک : کہ وہ غیرت مند نہیں تھا، اس وجہ سے وہ ساکن رہا اور مصریوں میں سے اکثر میں غیرت موجود نہیں ہے۔ دوسرا : کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی غیرت کو سلب کرلیا اور اس میں حضرت یوسف (علیہ السلام) پر مہربانی تھی یہاں تک کہ اس کا غصہ ختم ہوگیا اور اس نے زلیخا کو معاف کردیا۔