12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 12:55

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ Open ayah 12:55 in the Quran reader

(یوسف علیہ السلام) نے کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجئے کیونکہ میں حفاظت بھی کرسکتا ہوں اور اس کام سے واقف ہوں۔

آیت نمبر 55 اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : قال اجعلنی علیٰ خزآئن الارض حضرت سعید بن منصور نے کہا : میں نے حضرت مالک بن انس کو کہتے سنا ہے : مصرزمین کا خزانہ ہے : جہاں تک اجعلنی علیٰ خزآئن الارض کا تعلق ہے تو اس میں حذف ہے یعنی اجعلنی علی حفظ خزائن الررض مضاف کو حذف کردیا گیا۔ انی حفیظ یعنی جو میرے سپرد کیا جائے گا میں اس کی حفاظت کرنے والا ہوں گا علیم اس کے معاملات کو جاننے والا ہوں۔ تفسیر میں ہے : میں حساب کرنے والا اور لکھنے والا ہوں، اور آپ سب سے پہلے آدمی تھے جس نے کاغذوں میں لکھا۔ ایک قول یہ ہے : حفیظ خوارک کے اندازے کو علیم خوشحالی کے سالوں کو۔ جویبر نے ضحاک عن حضرت ابن عباس کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اللہ تعالیٰ میرے بھائی یوسف پر رحم فرمائے اگر آپ نے اجعلنی علیٰ خزآئن الارض نہ کہا ہوتا تو وہ اسی وقت آپ کو یہ عہدہ سونپ دیتا لیکن اس نے یہ عہدہ آپ سے ایک سال مؤخر کردیا۔ ” حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : امارت کا سوال کرنے والے دن سے جب سال گزراتو بادشاہ نے آپ کو بلایا۔ آپ کی طرف متوجہ ہوا، آپ کو قلاوہ پہنایا، آپ کے لیے سونے کا تخت بچھایا گیا جس پر ہیرے جواہرات جڑے ہوئے تھے، آپ کو استبرق کا حلہ پہنایا گیا، چارپائی کی لمبائی تیس ذراع اور چوڑائی دس ذراع تھی، اس پر تیس بستر اور ساٹھ تکیے تھے پھر اس نے آپ کو نکلنے کا حکم دیا تو آپ جھومتے ہوئے نکلے، آپ کا رنگ برف کی طرح (سفید) اور چہرہ چاند کی طرح تھا، دیکھنے والاآپ کے چہرے کی رنگت کی صفائی سے اپنا چہرہ دیکھ سکتا تھا، آپ تخت پر براجمان ہوئے، بادشاہ آپ کے قریب ہوئے اور بادشاہ عورتوں کے ساتھ آپ کے کمرہ میں داخل ہوا، مصر کی شاہی اس نے آپ کے سپرد کی اور قطفیر اپنے عہدے سے الگ ہوگیا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس کی جگہ لی۔ ابن زید نے کہا : مصر کے بادشاہ فرعون کے پاس کھانے کے علاوہ بہت سارے خزانے تھے، بادشاہ نے وہ سارے خزانے آپ کے سپرد کردیئے اور ان راتوں میں قطفیر ہلاک ہوگیا، تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے عزیز کی بیوی راعیل سے شادی کرلی جب آپ اس کے پاس گئے تو آپ نے کہا : کیا یہ اس سے بہتر نہیں جو تو چاہتی تھی ؟ اس نے کہا : اے صدیق ! مجھے ملامت نہ کرو، میں حسین و جمیل اور نرم ونازک عورت تھی جس طرح کہ آپ نے دیکھا، اور میرا شوہر عورتوں کے پاس نہیں آتا تھا اور آپ کو جو اللہ تعالیٰ نے حسن عطا فرمایا اس کی وجہ سے میرا نفس مجھ پر غالب آگیا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اسے باکرہ پایا، اس کے قریب گئے تو اس سے دو بچے پیدا ہوئے : إفراثیم بن یوسف اور منشابن یوسف۔ وہب بن منبہ کے کہا : حضرت یوسف (علیہ السلام) کی شادی زلیخا جو کہ عزیز مصر کی بیوی تھی کے ساتھ بھائیوں کے کہنے پر ہوئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زلیخا، کا شوہر مرگیا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) قید خانہ میں تھے، اس کا مال ضائع ہوگیا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے روتے روتے اس کی بینائی جاتی رہی، لوگ اس سے دور ہوگئے، یعض اس پر رحم کرتے اور بعض رحم نہ کرتے تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنی قوم کے ایک لاکھ لوگوں کے ساتھ ہر ہفتے کچہری لگاتے۔ زلیخا کو کہا گیا کہ تو اپنی بات ان کے سامنے بیان کرنا شاید آپ تیرا مسئلہ حل کردیں، پھر اسے کہا گیا : ایسا مت کرنا، ہوسکتا ہے تیری طرف سے جو بہلاوا اور قید والا معاملہ ہوا تو وہ انہیں یاد آجائے تو وہ تیرے ساتھ نارواسلوک کریں گے۔ زلیخا نے کہا : میں اپنے حبیب کے اخلاق کو جانتی ہوں۔ پھر زلیخا نے آپ کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ جب آپ کچہری میں بلند جگہ پر کھڑے ہوئے تو اس نے باآواز بلند ندا دی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : یہ کون ہے ؟ اس کو لے آؤ۔ وہ بولی : میں وہی ہوں جو آپ کی خدمت کرتی تھی، آپ کے بال سنوارتی تھی، میں نے اپنے گھر میں آپ کی تربیت کی، آپ کو عمدہ طریقے سے ٹھہرا یا لیکن مجھ سے جہالت کی وجہ سے وہ زیادتی ہوگئی جو ہوئی۔ سو میں نے اپنے لیے کی مصیبت کو پالیا، میرا مال ضائع ہوگیا، میری ذلت ورسوائی کا سلسلہ دزاز ہوگیا، بصارت چلی گئی، ان میں سے کوئی میرے ساتھ مہربانی سے پیش آتا ہے اور کوئی مہربانی نہیں کرتا۔ اور یہ مفسدین کی جزا ہے، حضرت یوسف (علیہ السلام) بہت سخت روئے۔ پھر آپ نے اسے فرمایا : کیا دل میں میری محبت میں سے کچھ باقی ہے ؟ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! آپ کے چہرے کی طرف ایک نظر میرے لیے دنیا ومافیہا سے زیادہ محبوب ہے۔ مجھے اپنے گھوڑے کا اگلا حصہ پکڑا دیں۔ آپ نے اسے وہ پکڑا دیا، اس نے اسے اپنے سینے پر رکھ دیا، تو آپ نے زلیخا کے دل کی دھڑکن کی حرکت اور ارتعاش کو اپنے ہاتھ میں محسوس کیا، آپ روئے پھر آپ اپنے مقام پر تشریف لے گئے اور زلیخا کی طرف ایک قاصد بھیجا، اگر تو بغیر شوہر کے ہے تو ہم تیرے ساتھ شادی کرلیتے ہیں اور اگر تو شوہر والی ہے تو ہم تجھ سے مستغنی ہوتے ہیں۔ اس نے قاصد کو کہا : میں اللہ کی پناہ میں آتی ہوں اس بات سے کہ بادشاہ میرے ساتھ مذاق کرے ! انہوں نے میری جوانی، میری غنا، میرے مال اور عزت کے ہوتے مجھے نہیں چاہا تو آج جب کہ میں بوڑھی، اندھی اور فقیر ہوچکی ہوں تو وہ مجھے کیسے چاہیں گے ؟ قاصد نے آپ کو اس کی گفتگو سے آگاہ کیا، جب اگلے ہفتے آپ ے شریف لائے تو اس نے آپ کو پھر پکارا۔ تو آپ نے فرمایا : کیا قاصد نے تجھے پیغام نہیں پہنچایا ؟ اس نے کہا : میں نے آپ کو بتایا تھا کہ آپ کے چہرے کی طرف ایک نظر دیکھا میرے لیے دنیا ومافیہا سے زیادہ پسندیدہ عمل ہے۔ آپ نے اس کے معاملات کی اصلاح کی اور شادی کرلی۔ پھر اس نے آپ کے ساتھ شب زفاف گزاری، حضرت یوسف (علیہ السلام) اٹھے نماز پڑھی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی، وہ بھی آپ کے پیچھے کھڑی ہوگئی، آپ نے اللہ تعالیٰ سے اس کی جوانی، حسن و جمال اور بصارت کے لوٹانے کی دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا شباب اور حسن و جمال واپس لوٹا دیا حتیٰ کہ وہ بہلا وے والے دن سے بھی زیادہ خوبصورت ہوگئی، اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اللہ کے محارم سے بچنے کے صلہ میں یہ اکرام فرمایا۔ آپ نے اس کے ساتھ جماع کیا اس حال میں کہ وہ کنواری تھی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس سے (گزشتہ معاملات کے متعلق) پوچھا تو اس نے کہا : اے اللہ کے نبی ! میرا شوہر نامرد تھا، عورتوں کے ساتھ جماع نہیں کرسکتا تھا اور آپ بےمثال حسن و جمال والے تھے۔ پھر دونوں نے بڑی ہی خوبصورت زندگی گزاری۔ اللہ تعالیٰ ہر روز ان کے لیے بھلائی کو تازہ فرماتا، پھر زلیخا نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے دوبچے پیدا کیے۔ ایک افراثیم اور دوسرا منشاء۔ اور روایت ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دل میں زلیخا سے بھی دوگنی محبت زلیخا کی پیدا کردی۔ آپ نے اسے فرمایا : تجھے کیا ہوا کہ تو میرے ساتھ اسطرح محبت نہیں کرتی جسطرح پہلے کرتی تھی ؟ تو اس نے کہا : جب اللہ تعالیٰ کی محبت کا ذائقہ چکھا ہے تو اس نے مجھے ہر چیز سے بےنیاز کردیا ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ بعض اہل علم نے کہا : اس آیت میں اس بات پر دلیل موجود ہے کہ ایک فاضل آدمی اور کافر بادشاہ کی طرف سے کوئی ذمہ داری سرانجام دے سکتا ہے بشرطیکہ وہ جانتا ہو کہ وہ اسے کوئی کام سپرد نہیں کرے گا جو وہ نہیں کرنا چاہتا اور وہ اپنی مرضی کے مطابق معاملات کرسکتا ہے۔ لیکن اگر اس کا کام اس فاجر کے اختیار اس کی خواہش اور اس کے فجور کے مطابق ہوا تو یہ جائز نہیں ہوگا اور بعض لوگوں نے کہا ہے : یہ صرف حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ خاص ہے اور آج کے زمانے میں کسی کے لیے جائز نہیں، بہرحال پہلی صورت بہتر ہے بشرطیکہ اس شرط کے مطابق ہو جو ذکر کی گئی ہے۔ واللہ اعلم۔ ماوردی نے کہا : اگر بادشاہ ظالم ہو تو پھر اس کی طرف سے ولایت کو قبول کرنے کے حوالے سے دو طرح کا اختلاف ہے۔ (1) ولایت کو قبول کرنے کا جواز بشرطیکہ امور مفوضہ میں حق کے مطابق کرے، کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) فرعون کی طرف سے والی بنے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس کے حق میں اس کا دنیاوی فعل معتبر ہوگا نہ کہ کسی اور کا۔ (2) یہ جائز نہیں، کیونکہ ایسی صورت میں ظالموں کی طرف سے ولایت کو قبول کرنا ان کی معاونت کرنے اور ان کے اعمال کو درست سمجھنے کے مترادف ہے ان کی طرف سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی فرعون کی طرف سے ولایت کے قبول کرنے کے دو جواب دیئے گئے ہیں۔ (1) حضرت یوسف (علیہ السلام) کا فرعون نیک سیرت آدمی تھا، اور سرکش فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تھا۔ (2) حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس کی املاک کو دیکھا نہ کہ اس کے اعمال کو لہٰذا آپ کی طرف سے اس کی متابعت کا معاملہ نہ رہا۔ ماوردی نے کہا ہے : ظالم کی طرف سے ولایت کو قبول کرنے کے معاملہ میں ان دونوں قولوں کے اطلاق کے بجائے تفصیل کو بیان کرنا زیادہ صحیح ہے اور اس کی تین اقسام بنتی ہیں۔ نمبر 1 ۔ ایسے معاملات کہ جن کا نفاذ بغیر کسی اجتہاد کے جائز ہوتا ہے جیسے زکوٰۃ اور صدقات وغیرہ تو ان میں ظالم کی طرف سے ولایت جائز ہوگی۔ اس کے مستحق پر نص نے اس میں اجتہاد سے مستغنی کردیا ہے۔ نمبر 2 ۔ وہ معاملات جن میں کسی کے لیے علیحدگی اختیار کرنا ممکن نہ ہو اور جن کے مصارف میں اجتہاد لازم آتا ہو جیسے مال فئ وغیرہ تو ان معاملات میں ظالم کی طرف سے ولایت کو قبول کرنا جائز نہ ہوگا کیونکہ ایسی صورت میں وہ بغیر حق کے تصرف کرے گا اور ایسے معاملات میں پڑے گا جن کا وہ استحقاق نہیں رکھتا۔ نمبر 3 ۔ وہ امور جن کو وہ تفویض کرسکتا ہو اور ان میں اجتہاد کا عمل دخل بھی ہو جیسے قضا یا اور احکام تو اگر نظر وفکر باہم رضا مند آدمیوں کے درمیان فیصلے کی تنقید کے بارے میں ہو اور دو مجبورآدمیوں کے درمیان واسطہ اور وسیلہ کے طور پر ہو تو جائز ہے اور اگر بالجبر کوئی معاملہ لازم کرنا مقصود ہو تو پھر جائز نہیں۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ آیت کریمہ میں اس بات پر بھی دلیل ہے کہ آدمی جس کام کا اہل ہو اس کے لیے اپنے آپ کو پیش کرسکتا ہے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے : امام مسلم نے حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ کی روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا : ” اے عبدالرحمٰن ! امارت کا سوال نہ کر، اگر تیرے سوال کی وجہ سے تجھے امارت دی گئی تو تجھے اسی کے سپرد کردیا جائے گا اور اگر بغیر سوال کے تجھے ملی تو اس پر تیری مدد کی جائے گی “۔ حضرت ابی بردہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت ابو موسیٰ نے کہا : میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور میرے ساتھ دواشعری آدمی تھے، ان میں سے ایک میری دائیں جانب تھا جبکہ دوسرا بائیں جانب تو ان دونوں نے کسی عہدہ کا سوال کیا جبکہ نبی کریم ﷺ مسواک فرما رہے تھے آپ نے فرمایا :” اے ابوموسیٰ یا (آپ نے فرمایا) اے عبداللہ بن قیس ! تو کیا کہتا ہے ؟ حضرت ابوموسیٰ نے کہا کہ میں نے عرض کیا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ! انہوں نے مجھے اپنی دل کی بات سے آگاہ نہیں کیا اور نہ ہی میں نے یہ محسوس کیا کہ عہدہ کے طالب ہیں۔ آپ نے فرمایا : گویا میں آپ کی مسواک کو آپ کے ہونٹ کے نیچے دیکھتا ہوں کہ اسے دبا دیا گیا، آپ نے فرمایا :” ہم ایسے آدمی کو عہدہ نہیں دیتے جو عہدہ لینا چاہے “۔ حضرت ابوموسیٰ نے پوری حدیث کو ذکر کیا، امام مسلم وغیرہ نے بھی اس کو روایت کیا ہے۔ اس کا پہلا جواب تو یہ ہوگا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دلایت کا مطالبہ اس وجہ سے کیا کہ آپ کو علم تھا کہ عدل، اصلاح اور فقراء کو ان کے حقوق دینے کے حوالے سے کوئی بھی ان کی طرح نہیں تھا تو آپ نے یہ خیال کیا کہ یہ آپ پر فرض ہے کیونکہ وہاں آپ کے علاوہ اور ایسا کوئی نہیں تھا، آج بھی یہی حکم ہے (یعنی اگر ایسی صورت ہو تو مطالبہ جائز ہے) اگر کوئی آدمی یہ جانتا ہو کہ وہ قضاء و حساب میں حق کو قائم رکھ سکتا ہے اور اس کے علاوہ کوئی بھی ایسا آدمی نہیں جو اصلاح کرسکے اور اس کے قائم مقام ہوسکے تو یہ کام اس پر لازم ہوجاتا ہے۔ اس پر لازم ہے کہ وہ والی بنے اور اس کا مطالبہ کرے، اور علم وفضل میں جن اوصاف کے سبب وہ اس کا مستحق ہے ان کے بارے بتائے جس طرح حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا، اور اگر وہاں کوئی ایسا آدمی ہو جو حق کو قائم کرسکتا ہے اور ان امور کی اصلاح کرسکتا ہے اور آدمی کو بھی علم ہو تو بہتر یہ ہے کہ وہ مطالبہ نہ کرے اس کی وجہ نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد ہے جو آپ نے حضرت عبدالرحمٰن کو فرمایا :” امارت کا سوال نہ کرو “ کیوں کہ ایسی صورت میں اس کا مطالبہ، اس میں پائی جانے والی آفات کی کثرت کے جاننے کے باوجود اس عہدہ کا لالچ اور اس سے چھٹکارا کے حصول کا مشکل ہونا، اس بات پر دلیل ہے کہ وہ اپنی ذات کے لیے اور ذاتی اغراض کے لیے مطالبہ کررہا ہے۔ جس آدمی کی کیفیت یہ ہو ممکن ہے اس پر اس کا نفس غالب آجائے اور وہ ہلاکت میں پڑجائے : سرکاردوعالم ﷺ کے ارشاد :” اسکو اس کے سپرد کردیا جائے گا “ کا یہی معنی ہے۔ اور جس آدمی نے اس کی آفات کو جاننے کی وجہ سے اور حقوق میں کوتاہی کے خوف کی وجہ سے اس کا انکار کیا اور اس سے بھاگا، پھر اس کو اس میں مبتلا کردیا گیا تو اس کے لیے اس سے چھٹکارے کی امید کی جاسکتی ہے، یہی سرکاردوعالم ﷺ کے ارشاد :” اس پر اس کی مدد کی جائے گی “ کا معنی ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ آپ نے یہ نہیں فرمایا : میں کافی ہوں، کریم ہوں اگرچہ آپ اسطرح تھے جسطرح کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” کریم ابن کریم ابن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم “ اور نہ ہی آپ نے فرمایا : میں خوبصورت ہوں، جمال والا ہوں، بلکہ آپ نے فرمایا : انی حفیظ علیم تو آپ نے تو حفظ وعلم کیوجہ سے مطالبہ کیا، نسب اور جمال کیوجہ سے نہیں۔ تیسرا جواب یہ ہے آپ نے یہ بات اس آدمی کے سامنے کہی جو آپ کو جانتا نہیں تھا تو آپ نے اپنا تعارف کرانا چاہا، تو اس وجہ سے آپ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : فلاتزکوٓاانفسکم (النجم :32) سے مستثنیٰ ہوگئے۔ جو تھا جواب : آپ نے اس کو اپنے اوپر فرض متعین کیونکہ وہاں آپ کے علاوہ کوئی اور نہیں تھا، یہی بات زیادہ ظاہر ہے۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ آیت کریمہ اس بات پت بھی دلیل ہے کہ آدمی میں پائے جانے والے علم وفضل کے ذریعے لوگوں کے سامنے اپنی صفات کو بیان کرنا جائز ہے۔ ماوردی نے کہا : مطلقا تمام صفات کو بیان کرنا جائز نہیں ہے بلکہ صرف اسی معاملے کے ساتھ خاص ہے جو اس کو درپیش ہو یا بیان کرنے والے کے ساتھ کس کا تعلق ہو، اور اس کے علاوہ تمام صورتوں میں ممنوع ہے کیونکہ اس میں اپنا ہی تزکیہ اور دکھلاوا ہے، اور اگر اس نے اپنے سے زیادہ فضیلت والے آدمی کو ممتاز کردیا تو یہ خود اس کی اپنی فضیلت و شرافت کے زیادہ مناسب ہوگا : پس حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جیسا کہ آپ کے حالات میں گزر چکا ہے ضرورت نے اس اظہار کی طرف دعوت دی اور دوسری بات یہ تھی کہ اہلیت کی وجہ سے آپ کامیابی کی امید بھی رکھتے تھے۔
Ayahs 12:56–57

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:56 in the Quran reader

اس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو ملک (مصر) میں جگہ دی اور وہ اس ملک میں جہاں چاہتے تھے رہتے تھے۔ ہم اپنی رحمت جس پر چاہتے ہیں کرتے ہیں اور نیکو کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے۔

وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 12:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے رہے ان کے لئے آخرت کا اجرت بہت بہتر ہے۔

آیت نمبر 56 تا 57 وکذٰلک مکنا لیوسف فی الارض ۚیتموامنھا حیث یشآء یعنی ان کو بادشاہ کے دل کے قریب کرکے اور قید سے نجات دے کر ہم نے جوان پر انعام کے ذریعے ہم نے انکو زمین میں تسلط واقتدار بحشا، یعنی جس طرح وہ چاہتے تھے اسی طرح ہم نے ان کو اقتدار عطا فرمایا۔ ال کیا طبری نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ولذلک مکنالیوسف فی الارض مباح چیز تک پہنچنے کے لیے اور جو اس میں خوشی، اصلاح اور حقوق کا حصول ہوتا ہے اس کے لیے حیلہ کے جواز پر دلیل ہے، اسی کی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وخذبیدک ضغثًا فاضرب بہٖ ولا تحنث (ص :44) ہے (اور اپنے ہاتھ میں سبز وخشک گھاس کا مٹھا پکڑ پس اس کے ساتھ مار اور حانث نہ ہو) اسی طرح ” حیلہ کے جواز “ پر حضرت ابوسعید خدری ؓ کی بیان کردہ وہ روایت ہے جو خیبر کے عامل کے بارے میں ہے جس نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں کھجور پیش کی تھی اور پھر سرکاردوعالم ﷺ نے اسے جو کچھ ارشاد فرمایا تھا۔ میں (قرطبی) نے کہا : یہ تاویل آنے والی وضاحت کی بنیاد پر باطل ہے۔ (مکنا کو لام کے بغیر اور لام کے ساتھ ذکر کرنے کی دونوں صورتیں صحیح ہیں) جیسے کہا جاتا ہے مکناہ ومکنالہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے : مکنھم فی الارض مالم نمکن لکم (الانعام : 6) طبری نے کہا : بڑے بادشاہ ولید بن ریان نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اطفیر کی ذمہ داری پر خلیفہ مقرر کیا اور اس کو معزول کردیا۔ مجاہد نے کہا : اس نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس نے ڈیڑھ سال بعد آپ کو بادشاہ بنا دیا۔ مقاتل نے روایت بیان کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اگر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے انی حفیظ علیم کے ساتھ انشاء اللہ کہا ہوتا تو اسی وقت آپ کو بادشاہ بنادیا گیا ہوتا “۔ پھر اطفیر فوت ہوا تو ولید نے آپ کی شادی اطفیر کی بیوی راعیل سے کردی، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس کے ساتھ دخول کیا تو آپ نے اسے باکرہ پایا۔ اس سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دوبیٹے إفراثیم اور منشا پیدا ہوئے اور جس کا گمان یہ ہے کہ وہ زلیخاء تھی تو اس کے حوالے سے حقیقت یہ ہے کہ آپ نے اس کے ساتھ شادی نہیں کی تھی بلکہ جب اس نے آپ کو بھیڑ میں دیکھا تو رو پڑی پھر اس نے کہا : ” ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے نافرمانی کی وجہ سے بادشاہوں کو غلام بنا دیا اور سب تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے اطاعت کی وجہ سے غلاموں کو بادشاہ بنادیا “ تو آپ نے اسے اپنے ساتھ رکھ لیا پھر وہ آپ کے عیال میں رہی یہاں تک کہ اس کا انتقال ہوگیا جبکہ آپ نے اس کے ساتھ شادی نہیں کی۔ اس کو ماوردی نے ذکر کیا ہے۔ یہ وہب کی بیان کردہ بات کے برعکس ہے اس کو ثعلبی نے بھی ذکر کیا ہے ” واللہ اعلم “ جب بادشاہ نے مصر کی حکومت حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سپرد کی تو آپ نے لوگوں کے ساتھ مہربانی کا سلوک فرمایا اور انہیں اسلام کی دعوت دینا شروع کی یہاں تک کہ انہوں نے ایمان قبول کرلیا اور آپ نے ان میں عدل قائم فرمایا تو مرد اور عورتیں آپ کے ساتھ محبت کرنے لگے۔ حضرت وہب، حضرت سدی، حضرت ابن عباس ؓ اور دیگر نے کہا : پھر سرسبز و شاداب سال آگئے تو آپ نے زراعت کی اصلاح کا حکم ارشاد فرمایا اور کسانوں کو زراعت میں وسعت دینے کو کہا، جب غلہ حاصل ہوا تو آپ نے اسے ذخیرہ کرنے کا حکم دیا پھر آپ نے اس کے لیے گودام بنوائے اس سال ان گوداموں میں اتنا غلہ جمع ہوا کہ وہ غلہ کی کثرت کی وجہ سے تنگ پڑگئے پھر اسی طرح ہر سال غلہ جمع ہوتا رہا یہاں تک کہ شاداب سال گزر گئے اور قحط زدہ سال آگئے تو جبریل امین اترے اور کہا : اے مصر والو ! بھوکے ہوجاؤ، اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوہر سات بھوک مسلط فرمادی۔ یہ بعض اہل عقل نے کہا ہے کہ بھوک اور قحط کی دوعلامتیں ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ نفس عادت سے زیادہ کھانے کو پسند کرتا ہے اور پہلے کی نسبت اسے بھوک بھی جلدی لگتی ہے اور وہ ضرورت سے زیادہ کھانا کھاتا ہے۔ اور دوسری علامت یہ ہوتی ہے کہ کھانا مفقود ہوجاتا ہے تو یہ دونوں علامتیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں جمع ہوگئیں۔ مرد، عورتیں اور بچے الجوع الجوع پکارتے ! کھانے کھاتے مگر سیر نہ ہوتے اور بادشاہ بھی الجوع الجوع کی صدا لگاتا۔ پھر بادشاہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بلایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے اس سے نجات بخشی پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے پورے مصر میں یہ پیغام عام کردیا کہ اے لوگو ! کوئی بھی کھیتی کاشت نہ کرے اس طرح وہ بیج ضائع کرے گا اور کوئی چیز نہیں اگے گی اور وہ سال اتنے خطرناک آئے کہ اس کو بیان کیا جاسکتا، خضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جب قحط کی ابتدا ہوئی تو بادشاہ کو آدھی رات کے وقت بھوک لگ گئی، تو اس نے کہا : اے یوسف ! الجوع الجوع ! تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا : یہ قحط کی علامت ہے۔ پھر جب قحط زدہ سالوں میں سے پہلا سال آیا تو اس میں وہ سب کچھ ختم ہوگیا جو ان لوگوں نے شاداب سالوں میں جمع کیا ہوا تھا تو اہل مصر نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کھانا خرید نا شروع کردیا۔ آپ نے پہلے سال انہیں کھانا نقدی کے بدلے میں بیچا یہاں تک کہ مصر میں کوئی درہم و دینار نہ بچا تو آپ نے دوسرے سال زیورات اور جواہر کے بدلے میں انہیں کھانا بیچا حتیٰ کہ لوگوں کے پاس زیورات میں سے بھی کوئی چیز نہ بچی۔ تیسرے سال آپ نے انہیں مویشیوں اور چوپایوں کے بدلے میں کھانا بیچا، یہاں کہ وہ بھی سارے بک گئے۔ چوتھے سال غلاموں اور لونڈیوں کے بدلے دیا اور سب پر قبضہ کرلیا۔ پانچویں سال زمین کے بدلے میں کھانا بیچا یہاں تک کہ آپ سب زمینوں کے مالک ہوگئے۔ چھٹے سال ان کے بچوں اور بیویوں کے بدلے میں انہیں کھانا دیا اور ان سب کو غلام بنالیا اور ساتویں سال خود ان کے اپنے بدلے ان کو کھانا دیا حتیٰ کہ ساتویں سال مصر میں ہر کوئی آپ کا غلام تھا، تو لوگوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم نے اس سے بڑا کوئی بادشاہ نہیں دیکھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے مصر کے بادشاہ کو کہا : میرے رب کی اس قدرت کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے جس کا اظہار اس نے میرے حوالے سے فرمایا : اب یہ سب کچھ تمہارا ہے، اس کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے ؟ بادشاہ نے کہا : میں نظام حکومت آپ کے سپرد کرتا ہوں آپ جس طرح چاہیں کریں۔ ہم آپ کے تابعدار ہوں گے اور میں آپ کی اطاعت وفرمانبرداری سے کنارہ کشی اختیار کرنے والا نہیں ہوں بلکہ میں تو آپ کے غلاموں میں سے ہوں، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : میں نے انہیں بھوک سے اس لیے آزاد نہیں کیا تھا کہ ان غلام بنالوں، میں نے ان سے مصیبت کو اس لیے نہیں ہٹایا تھا کہ میں خود ان پر مصیبت بن جاؤں، میں اللہ کو اور آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے سب مصریوں کو آزاد کیا اور ان کے مال ان کو واپس لوٹائے اور خود تیری ملکیتیں تجھ پر اس شرط کے ساتھ واپس ہوٹا تا ہوں کہ تو میرے طریقے پر چلے گا۔ اور روایت ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ان سالوں میں سپرد ہو کر کھانا نہ کھاتے تھے، آپ کو کہا گیا : کیا آپ بھی بھوکے ہوتے ہیں حالانکہ آپ کے قبضہ میں (مصر کی) سرزمین کے خزانے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : مجھے یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ میں سیر ہو کر کھاؤں گا تو بھوکے کو بھول جاؤں گا، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے شاہی باورچی کو فرمایا کہ وہ آپ کا کھانا نصف دن کو بنایا کرے تاکہ بادشاہ بھی بھوک محسوس کرے اور بھوکوں کو بھول نہ جائے اسی وجہ سے بادشاہوں نے نصف دن کو اپنے کھانے پکوانے شروع کیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : نصیب برحمتنا من نشآء یعنی اپنے احسان کے ذریعے رحمت کا معنی نعمت اور احسان ہے۔ ولا نضیع اجر المحسنین یعنی ان کا ثواب۔ حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب نے کہا کہ محسنین سے مراد صابرین ہیں۔ اس کی وجہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کنویں، غلامی اور قید میں صبر کرنا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے محارم سے صبر کرنا جبکہ عورت نے آپ کو اپنی طرف دعوت دی۔ ماوردی نے کہا : اس حالت میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جو کچھ ملا اس میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس ابتلا اور آزمائش پر ثواب تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبتلا کیا تھا جبکہ دوسرا قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر انعام فرمایا جبکہ ثواب آخرت اسی حالت پر باقی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ولا جزالاٰخرۃ خیر یعنی جو کچھ ہم آخرت میں دیتے ہیں وہ اس سے بہتر اور زیادہ ہے جو ہم دنیا میں عطا کرتے ہیں، کیونکہ آخرت کا دائمی ہے جبکہ دنیا کا اجر ختم ہونے والا ہے آیت کا ظاہر تو ہر مومن اور متقی کے لیے عموم پر دلالت کررہا ہے۔ انہوں نے شعر پڑھا : أما فی رسول اللہ یوسف أسوۃ لمثلک محبوسا علی الظلم والأفک أقام جمیل الصبر فی الجس برھۃ فال بہ الصبر الجمیل إلی الملک اور ان میں سے کسی نے اس کے دوست کی طرف لکھا : وراء مصیق الخوف متسع الأمن وأول مفروح بہ آخرالحزن فلا تیأسن فاللہ ملک یوسفا خزائنہ بعد الخلاص من السجن اور کسی نے یہ شعر پڑھا ہے : إذا الحادثات بلغن النھی وکادت تذوب لھن المھج وحل البلاء وقل العزاء فعند التنا ھی یکون الفرج اور اس معنی میں بہت زیادہ اشعار ہیں۔
Ayah 12:58

وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ Open ayah 12:58 in the Quran reader

اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائی (کنعان سے مصر میں غلہ خریدنے کیلئے) آئے تو یوسف (علیہ السلام) نے پاس گئے تو یوسف (علیہ السلام) نے انکو پہچان لیا اور وہ انکو نہ پہچان سکے۔

آیت نمبر 58 قولہ تعالیٰ : وجآء اخوۃ یوسف یعنی جب انہیں قحط لاحق ہوا تو وہ مصر آئے تاکہ غلہ حاصل کریں۔ یہ قرآن کریم کا معجزانہ اختصار ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا : جب لوگ قحط میں مبتلا ہوئے تو کنعان میں بھی قحط آگیا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو بھیجا، جبکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا معاملہ ان کی نرمی، مہربانی، حسن سلوک، عدل اور سیرت کی وجہ سے پوری دنیا میں پھیل چکا تھا۔ جب لوگوں پر مصیبت آئی تو حضرت یوسف (علیہ السلام) لوگوں کی خاطر سودے کے وقت خود موجود ہوتے اور ان کی تعداد کے مطابق انہیں کھانا دیتے۔ ہر آدمی کو ایک وسق (ساٹھ صاع) ملتا۔ وجآء اخوۃ یوسف فد خلواعلیہ فعرفھم یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) نے انہیں پہچان لیا وھم لہ منکرون اور انہوں نے نہ پہچانا کیونکہ انہوں نے تو آپ کو بچپن میں چھوڑا تھا اور ان کا یہ وہم و گمان بھی نہ تھا کہ آپ غلامی کے بعد اس مقام پر پہنچ جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ مدت بھی لمبی گزر چکی تھی۔ چالیس سال کی مدت گزری اور ایک قول یہ بھی ہے کہ انہوں نے اس لیے نہ پہچانا کیونکہ ان کا خیال یہ تھا کہ یہ کافر بادشاہ ہے۔ ایک قول کے مطابق : انہوں نے آپ کو ریشمی لباس میں ملبوس دیکھا جبکہ آپ کی گردن میں سونے کا ہار تھا اور سر پر تاج اور آپ نے فرعون مصر کا سا لباس اور حلیہ بنارکھا تھا جبکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے انہیں اسی دور کے لباس اور حلیہ میں دیکھا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اس وجہ سے نہ پہچانا ہو کہ یہ ایک خلاف عقل اور خارق عادت معاملہ تھا اور اس سے مقصود امتحان تھا جو اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے لیا۔
Ayahs 12:59–61

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 12:59 in the Quran reader

جب یوسف (علیہ السلام) نے انکے لئے ان کا سامان تیار کردیا تو کہا کہ (پھر آنا تو) جو باپ کی طرف سے تمہارا ایک اور بھائی ہے اسے بھی میرے پاس لیتے آنا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں ناپ بھی پوری پوری دیتا ہوں۔ اور مہمانداری بھی خوب کرتا ہوں ؟

فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ Open ayah 12:60 in the Quran reader

اور اگر تم اسے میرے پاس نہ لاؤ گے تو نہ تمہیں میرے ہاں سے غلہ ملے گا اور نہ تم میرے پاس ہی آسکو گے۔

قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ Open ayah 12:61 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں اس کے باپ سے تذکرہ کرینگے اور ہم (یہ کام) کر کے رہیں گے۔

آیت نمبر 59 تا 61 ولماجھزھم بجھازھم کہا جاتا ہے : جھزت القوم تجھیزا یعنی میں نے ان کو ان کے سفر کے لیے ان کا سامان دے دیا اور شادیوں کا جہیز وہی ہوتا ہے جس کی شوہر کو بطور ہدیہ ضرورت ہوتی ہے۔ بعض کو فیوں نے الجھازجیم کے کسرہ کو بھی جائز قرار دیا ہے اس آیت کریمہ میں الجھاز سے مراد کھانے کا وہ سامان ہے جو انہیں آپ کے پاس سے ملا۔ سدی نے کہا : حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے پاس گیارہ اونٹ تھے جبکہ وہ خود دس تھے۔ انہوں نے حضرت یوسف کو کہا : ہمارا ایک اور بھائی بھی ہے جو پیچھے رہ گیا ہے اور اس کا اونٹ ہمارے ساتھ ہے۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ وہ کیوں پیچھے رہ گیا ؟ تو انہوں نے کہا : اس کے باپ کی اس کے ساتھ محبت کی وجہ سے۔ اور انہوں نے آپ کو بتایا کہ اس کا ایک بڑا بھائی بھی تھا جو جنگل میں گیا اور ہلاک ہوگیا، آپ نے انہیں فرمایا : میں تمہارے اس بھائی کو دیکھنا چاہتا ہوں جس کا تم نے ذکر کیا ہے تاکہ میں تمہاری صداقت اور اس کے ساتھ اس کے باپ کی محبت جان سکوں۔ روایت ہے کہ شمعون کو بطور رہن آپ کے پاس چھوڑ آئے اور پھر آپ کے بھائی بنیامین کو لے گئے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ترجمان کو کہا کہ انہیں کہو : تمہاری زبان ہماری زبان کے خلاف اور تمہارا لباس ہمارے لباس کے مخالف ہے تم کہیں جاسوس تو نہیں تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم جاسوس نہیں بلکہ ہم ایک باپ کے بیٹے ہیں اور وہ بوڑھا آدمی ہے، اس نے کہا : تمہاری تعداد کتنی ہے ؟ انہوں نے کہا : ہم بارہ تھے ہمارا ایک بھائی جنگل گیا تھا اور وہیں ہلاک ہوگیا۔ آپ نے فرمایا : دوسرا کہاں ہے ؟ انہوں نے کہا : ہمارے باپ کے پاس : آپ نے فرمایا : کون تمہاری سچائی کو جانتا ہے ؟ انہوں نے کہا : یہاں ہمیں کوئی بھی نہیں جانتا۔ ہم نے آپ کو اپنے نسب کے بارے میں آگاہ کردیا ہے، تو اب آپ کو ہم کس طرح اطمینان ہوسکتا ہے ؟ تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : ائتونی باخ لکم من ابیکم (اپنے باپ سے اپنے بھائی کو میرے لے آؤ) اگر تم سچے ہو : تو میں مطمئن ہوجاؤں گا الاترون انی اوفی الکیل یعنی میں وزن پورا کرتا ہوں اور اس میں کوئی کمی نہیں کرتا اور تمہارے بھائی کے لیے ایک اونٹ کا وزن زیادہ دے رہا ہوں فان لم تاتونی بہٖ فلا کیل لیکم عندی اگر تم اس کو میرے پاس لے کر نہ آئے تو پھر میرے پاس تمہارے لیے کچھ نہیں۔ آپ نے انکو دھمکی دی کہ اگر وہ اسے نہ لیکر آئے تو آپ انہیں غلہ نہیں بیچیں گے اللہ تعالیٰ کا ارشاد : الاترون انی اوفی الکیل کے دو احتمال ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ نے انہیں بھاؤ میں رخصت دی تو گویا وزن زیادہ ہوگیا اور دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ آپ نے انہیں زیادہ وزن دیا ہو۔ واناخیرالمنزلین اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ آپ بہتر مہمان نواز ہیں، کیونکہ آپ نے ان کی عمدہ ضیافت فرمائی، یہ مجاہد کا قول ہے۔ اور دوسرا معنی یہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس تم آئے ہو ان میں امانت داری کے اعتبار سے بہتر ہوں۔ پہلی تاویل کے مطابق یہ النزل سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے ” کھانا “ اور دوسری صورت میں المنزل سے ماخوذ ہے جس کا معنی گھر ہے۔ فان لم تاتونی بہٖ فلا لکم عندی یعنی میں اس کے بعد تمہیں کوئی چیز نہیں بیچوں گا کیوں کہ آپ نے انہیں اس حالت میں پورا وزن دے دیا۔ ولا تقرکون یعنی میں تمہیں اپنے ہاں قربت کا یہ مقام نہیں دوں گا۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ وہ آپ سے دور ہوجائیں گے اور واپس لوٹ کے نہیں آئیں گے کیونکہ آپ نے انہیں واپس لوٹنے پر ابھارا ہے۔ سدی نے کہا : آپ نے ان سے واپس لوٹنے تک رہن کا مطالبہ کیا، تو شمعون آپ کے پاس رہن کے طور پر رہا۔ کلبی نے کہا : آپ نے ان میں سے شمعون کو اس لیے منتخب فرمایا کہ کنویں کے واقعہ کے دن اس کی رائے اور گفتگو سب سے عمدہ تھی۔ اور تقرکون نہی کی وجہ سے محل جزم میں ہے اسی وجہ سے اس میں سے نون اور یا کو حذف کردیا گیا کیونکہ یہ آیت کے آخر میں ہے۔ اگر یہ خبر ہوتی تو تقرکون نون کے فتح کے ساتھ ہوتا۔ قالو سنراودعنہ اباہ یعنی ہم اس سے اس کا مطالبہ کریں گے اور یہ گذارش کریں گے وہ اسے ہمارے ساتھ بھیجیں۔ وانا لفعلون یعنی ہم اس کو یہاں تک لانے کے ضامن ہیں اور اس سلسلہ میں کوشش کریں گے۔ مسئلہ : اگر یہ کہا جائے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی کا مطالبہ کرکے اپنے باپ پر پریشانی ڈالنے کو کیسے جائز سمجھا ؟ تو اس کا یہ جواب دیا جائے گا کہ اس کے چار جواب ہوسکتے ہیں۔ 1 ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی آزمائش کرنے کے لیے آپ کو اس کا حکم دیا ہوتا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو بہت زیادہ ثواب عطا فرمایا جائے۔ اور آپ نے اللہ کے اس حکم کی تعمیل کی ہو۔ 2 ۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے ذریعہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حالات سے آگاہ کرنا مراد ہو۔ 3 ۔ اس لیے بھی ہوسکتا ہے کہ جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پاس ان کے دونوں بیٹے اکٹھے واپس جائیں گے تو ان کی خوشی دوگنی ہوجائے گی 4 ۔ اپنے بھائی کے سامنے رشتے کے ظاہر ہونے سے پہلے لاقات کے ذریعے محبت و خوشی پیش کرنا مقصود ہو۔ البتہ پہلا معنی اور توجیہہ زیادہ ظاہر ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 12:62

وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 12:62 in the Quran reader

اور (یوسف (علیہ السلام) نے) اپنے خدّام سے کہا کہ ان سرمایہ (یعنی غلہ کی قیمت) ان کے تھیلوں میں رکھدو عجب نہیں کہ جب یہ اپنے اہل و عیال میں جائیں تو اسے پہچان لیں (اور) عجب نہیں کہ یہ پھر یہاں آئیں۔

آیت نمبر 62 وقال لفتیٰنہ یہ اہل مدینہ، ابوعمرو اور عاصم کی قرات ہے اور یہی ابوحاتم، نحاس اور دیگر لوگوں کے نزدیک مختار ہے، جبکہ سب کو فیوں نے اسے لفتیانہ پڑھا ہے اور ابوعبید کے نزدیک مختار ہے۔ انہوں نے کہا : حضرت عبداللہ کے مصحف میں بھی اس طرح ہے، شبلی نے کہا : یہ دونوں عمدہ لغتیں ہیں۔ جس طرح کہ الصبیان اور الصبیہ۔ نحاس نے کہا : لفتیٰنہ سواداعظم کے مخالف ہے کیونکہ سواواعظم کے نزدیک نہ اس میں الف ہے اور نہ نون لہٰذا اس منقطع سند کی بنیاد پر سواداعظم کو نہیں چھوڑا جائے گا اور یہ وجہ بھی ہے کہ فتیۃ، فتیان کی نسبت زیادہ مناسب ہے کیونکہ فتیۃ عربوں کے نزدیک کم تعداد کے لیے بولا جاتا ہے اور تھوڑے لوگوں کا خورجیوں میں سامان رکھنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اور ان غلاموں نے ان کے سامان کو برابر کردیا تھا اسی وجہ سے ان کے لیے اپنا سامان اپنی خورجیوں میں رکھنا ممکن ہوا تھا۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ وہ لوگ غلام نہ ہوں بلکہ آزاد ہوں اور آپ کے معاونین ہوں۔ اور ان کا سامان وہ دراہم اور دینار تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جوتے، وہ سامان جس کو بطور سالن استعمال کیا جاتا ہے اور زادراہ تھا اور اسے رحل کہتے ہیں۔ ابن انباری نے کہا : برتن کو بھی رجل کہا جاتا ہے اور گھر کو بھی رحل کہتے ہیں اور لعلھم یعرفونھا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ ہوسکتا ہے کہ راستے میں وہ محفوظ نہ رہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ آپ نے ایسا اس لیے کہا تاکہ جب وہ اسے پائیں تو واپس لوٹیں کیونکہ آپ جانتے تھے کہ وہ بغیر قیمت کے کھانے کو قبول نہیں کریں گے۔ ایک قول کے مطابق یہ آپ نے اس لیے کہا تاکہ وہ کھانے کی خریداری کے لیے دوبارہ آپکے پاس آئیں۔ ایک قول کے مطابق آپ نے ایسا اس لیے کیا کہ آپ نے اپنے باپ اور بھائیوں سے کھانے کی قیمت لینے کو برا سمجھا۔ ایک قول یہ ہے کہ ایسا کرنے کی حکمت یہ تھی کہ وہ لوگ آپ کی فضیلت و مہربانی کو دیکھیں اور دوبارہ آپ کے پاس آنے کی طرف راغب ہوں۔
Ayahs 12:63–65

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:63 in the Quran reader

جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس گئے تو کہنے لگے کہ (ابّا) جب تک ہم بنیامین کو ساتھ نہ لیجائیں ہمارے لئے غلے کی بندش کردی گئی ہے تو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیجئے تاکہ ہم پھر غلہ لائیں اور ہم اس کے نگہبان ہیں۔

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:64 in the Quran reader

(یعقوب) نے کہا کہ میں اس کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرتا۔ مگر ویسا ہی جیسا اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا۔ سو خدا ہی بہتر نگہبان ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ Open ayah 12:65 in the Quran reader

اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو دیکھا کہ ان کا سرمایہ ان کو واپس کردیا گیا ہے۔ کہنے لگے ابّا ہمیں (اور) کیا چاہئے ؟ (دیکھئے) یہ ہماری پونجی بھی ہمیں واپس کردی گئی ہے۔ اب ہم اپنے اہل عیال کے لئے پھر غلّہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی نگہبانی کرینگے اور ایک بار شتر زیادہ لائیں گے (کہ) یہ غلّہ (جو ہم لائے ہیں) تھوڑا ہے۔

آیت نمبر 63 تا 65 فلما رجعوٓا الیٰ ابیھم قالو ایٰٓا بانامنع منا الکیل انہوں نے یہ اس وجہ سے کہا کیونکہ انہیں فان لم تاتونی بہٖ فلا کیل لکم عندی کہا گیا تھا۔ اور انہوں نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اپنے ساتھ ہونے والے معاملے اور ملنے والی عزت و آرام سے آگاہ کیا اور یہ بھی بتایا کہ شمعون بطور رہن ان کے پاس اس وقت تک رہے گا جب تک کہ وہ (یوسف) ان کی سچائی وصداقت کو جان نہیں لیتے۔ فارسل معنآ اخانانکتل یعنی انہوں نے اس وقت کہا : ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیجئے نکتل اصل میں نکتال تھا لام کلمہ سے ضمہ کو جزم کے لیے حذف کردیا گیا۔ اور پھر الف کو التفائے ساکنین کی وجہ سے حذف کردیا گیا۔ اہل حرمین، ابوعمرو اور عاصم کی قرات (نکتل) نون کے ساتھ ہے جبکہ سارے کو فیوں نے یکتل یا کے ساتھ پڑھا ہے۔ پہلا ابوعبید کا مختار ہے تاکہ جو کچھ انہیں ملے اس میں وہ سب شریک ہوجائیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ جب یا کے ساتھ ہو تو اس وقت یہ صرف بھائی کے لیے ہوگا۔ نحاس نے کہا : یہ لازم نہیں : کیونکہ کلام دو صورتوں میں سے کسی ایک سے خالی نہیں : یہ معنی بھی ہوسکتا ہے : فأرسل أخانایکتل معنا (ہمارے بھائی کو بھجئے وہ ہمارے ساتھ وزن کرے گا) تو اس صورت میں یہ سب کے لیے ہوگا یا تقدیم وتاخیر ہوگا کلام میں ان سب کے داخل ہونے پر دلیل ہوگی، اس (توجیہہ) پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے : فان لم تاتونی بہٖ فلا کیل لکم عندی۔ وانا لہ لحٰفظون یعنی ہم اسے تکلیف کے پہنچنے سے اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ قال ھل امنکم علیہ الا کمآ امنتکم علیٰ اخیہ من قبل یعنی تم نے یوسف کے ساتھ زیادتی کی تو اس کے بھائی کے حوالے سے میں تم ہر کیسے اعتماد کرسکتا ہوں ؟ فاللہ خیر ضٰفظًا بیان کی بنیاد پر یہ منصوب ہے۔ یہ اہل مدینہ، ابو رعمرو اور عاصم کی قرات ہے۔ سارے کو فیوں نے اسے حال کی بنیاد پر حافظ پڑھا ہے۔ زجاج نے کہا : بیان کی بنیاد پر ہے اس آیت کریمہ میں اس بات پر دلالت ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بنیامین کو ان کے ساتھ بھیجنے کے حوالے سے جواب ارشاد فرمایا : آیت کا معنی یہ ہوگا : اللہ تعالیٰ کا اس کی حفاظت کرنا تمہارے حفاظت کرنے سے بہتر ہے۔ کعب احبار نے کہا : جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا : فاللہ خیر حٰفطًا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : مجھے میری عزت اور جلال کی قسم ! تیرے میرے اوپر توکل کرنے کے بعد میں تیرے دونوں بیٹوں کو تیرے پاس واپس لوٹاؤں گا۔ ولما فتحوامتاعھم آیت کریمہ میں کوئی بھی مشکل معنی نہیں یعنی واضح ہے۔ مانبغی، ما محل نصب میں استفہام کے مقام پر ہے : معنی یہ ہوگا : ہم اس کے علاوہ کس چیز کا مطالبہ کرتے ہیں ؟ اس نے ہمارے لیے وزن پورا کیا اور ثمن بھی ہمیں واپس لوٹا دیئے اس سے انہوں نے اپنے باپ کو مطمئن کرنے کی کوشش کی۔ ایک قول یہ ہے کہ مانافیہ ہے یعنی ہم آپ سے دراہم اور سامان نہیں چاہتے بلکہ ہمیں ہمارا ہی سامان کافی ہے جو ہماری طرف لوٹا دیا گیا۔ علقہ سے روایت ہے ردت إلینارا کے کسرہ کے ساتھ کیونکہ اصل میں ” رددت “ ہے جب دال میں مدغم کیا گیا تو دال کی حرکت کو را کی حرکت سے بدل دیا گیا۔ اور نمیرا ھلنا سے مراد ہے ہم ان کے لیے کھانا لائیں گے شاعر نے کہا : بعثتک مائزا فمکثت حولا متی یأتی عیاثک من تغیث میں نے تجھے کم عقلی کی حالت میں بھیجا تو پورا سال ٹھہر گیا، کب تیرا مددگارآئے گا جو مدد کرے گا۔ سلمی نے نون کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ہم کھانا لانے میں ان کی مدد کریں گے۔ ونزداد کیل بعیرٍؕ ذٰلک کیل تیسیر یعنی بنیامین کے اونٹ کا بوجھ (زیادہ لائیں گے) ۔
Ayah 12:66

قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ Open ayah 12:66 in the Quran reader

(یعقوب (علیہ السلام) نے) کہا کہ جب تک تم خدا کا عہد نہ دو کہ اس کا میرے پاس (صحیح وسالم) لے آؤ گے میں اسے تمہارے ساتھ نہیں بھیجنے کا۔ مگر یہ کہ تم گھیر لئے جاؤ (یعنی بےبس ہوجاؤ تو مجبوری ہے) جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا تو (یعقوب (علیہ السلام) نے) کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا خدا ضامن ہے۔

آیت نمبر 66 اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : تؤتون کا مطلب ہے تعطونی، موثقًا من اللہ یعنی ایسا عہد جس پر یقین کیا جاسکے۔ سدی نے کہا : انہوں نے اللہ کی قسم اٹھائی کہ وہ ضرور اسے واپس لوٹائیں گے اور اسے کسی کے سپرد نہیں کریں گے لتاتننی میں ” لام “ لام قسم ہے۔ الاان یحاط بکم مجاہد نے کہا : (اس کا مطلب ہے) مگر تم ہلاک ہوجاؤ یا مرجاؤ۔ قتادہ نے کہا : مگر یہ کہ تم پر غلبہ پالیا جائے۔ زجاج نے کہا : محل نصب میں ہے۔ فلمآ اٰتوہ موثقھم قال اللہ علیٰ مانقول وکیل یعنی اس قسم کی حفاظت کرنے والا ہے۔ ایک قول یہ ہے : عہد کی حفاظت کرنے والا، تدبیر وعدل کے ذریعے اسے قائم کرنے والا ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ یہ آیت کریمہ کفالت بالعین اور وثیقہ بالنفس کے جواز میں اصل ہے علماء کا اس میں اختلاف ہے۔ امام مالک، آپ کے اصحاب اور اکثر علماء نے کہا ہے : یہ اس صورت میں جائز ہے جب متحمل بہ مال ہو۔ امام شافعی نے مال میں کفالت بالوجہ کو ضعیف قرار دیا ہے : اور ان کا قول امام مالک کے قول کی طرح ہے۔ عثمان بتی نے کہا : جب کسی نے قصاص یا زخم کی کفالت بالنفس کی تو اس کو نہ لانے کی صورت میں اس پر دیت اور زخم کا تاوان لازم ہوگا اور اسے ظلم کرنے والے کے بال میں سے ادا کیا جائے گا کیونکہ کفیل پر قصاص لازم نہیں ہوتا۔ یہ کفالت بالوجہ کے بارے میں تین اقوال ہیں۔ اور صحیح وہ تفریق ہے جو امام مالک نے کی کہ کفالت یا ضمانت مال میں ہوسکتی ہے اور احد اور تعزیر میں نہیں ہوسکتی جس طرح کہ اس کا بیان آئے گا۔
Ayah 12:67

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 12:67 in the Quran reader

اور ہدایت کی کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں خدا کی تقدیر تو تم سے روک نہیں سکتا۔ (بیشک) حکم اسی کا ہے۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اہل توکل کو اسی پر بھروسا رکھنا چاہئے۔

آیت نمبر 67 اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ جب انہوں نے جانا چاہا تو آپ کو انہیں نظربدلنے کا اندیشہ لاحق ہوا : تو آپ نے انہیں شہر میں ایک دروازے سے داخل نہ ہونے کا حکم فرمایا۔ شہر کے چار دروازے تھے۔ آپ کو انہیں اس وجہ سے نظر بد کا اندیشہ ہوا کہ ایک آدمی کے گیارہ بیٹے ہوسکتے ہیں اور وہ سب خوبصورت، کمال کے حامل اور بھاری بھرکم تھے۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ ، ضحاک اور قتادہ وغیرہ کا قول ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ اگر آیت کا معنی یہ ہو تو اس میں نظر سے بچنے پر دلیل ہے اور اس بات پر دلیل ہے کہ نظر حق ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بیشک نظر آدمی کو قبر میں اور اونٹ کو ہنڈیا میں داخل کرسکتی ہے “۔ اور اس سے بچنے کے حوالے سے سرکار دو عالم ﷺ کا ادشار : اعوذبکلمات اللہ التامۃ من کل شیطان وھامۃ ومن کل عین لامۃ بھی اس پر دلالت کرتا ہے۔ امام مالک نے حضرت محمد بن ابی امامہ بن سہل بنن حنیف ؓ سے روایت بیان کی کہ انہوں نے اپنے باپ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ابوسہل بن حنیف نے خرار (مدینہ کی وادی) سے غسل کیا، اپنا جبہ اتارا تو عامر بن ربیعہ دیکھ رہے تھے۔ راوی نے کہا : سہل سفید رنگت والا اور خوبصورت شخص میں نے آج تک نہیں دیکھا۔ سہیل کو اسی وقت بخار چڑھ گیا اور بخار شدت اختیا کر گیا نبی کریم ﷺ کو لایا گیا کہ سہیل کو بخار چڑھ گیا ہے اور وہ آپ کے پاس نہیں جاسکتا رسول اللہ ﷺ سہیل کے پاس تشریف لائے تو حضرت سہیل نے عامر کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کے بارے میں آپ کو بتایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی کیوں اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے ؟ تم نے تبارک اللہ أحسن الخالقین اللھم بارک فیہ کیوں نہ کہا بیشک نظر کا لگنا حق ہے تم اس کے لیے وضو کرو۔ “ حضرت عامر نے وضو کیا پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چلے گئے اور وہ بالکل تندرست تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت عامر کو کچھ اعضاء دھونے کا حکم دیا تو حضرت عامر نے اپنا چہرہ، ہاتھ، کہنیاں، گھٹنے اور پاؤں کے اطراف اور ازار کے اندر جسم کا حصہ ایک برتن میں دھویا پھر اسے (غسالہ) کو حضرت سہیل کے اوپر بہادیا گیا تو حضرت سہیل نبی کریم ﷺ کے ساتھ چلے گئے اور انہیں کوئی مسئلہ نہ رہا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ایک دن سوار ہوئے آپ کی طرف ایک عورت نے دیکھا تو کہا : تمہارا یہ امیر دونوں پہلوؤں میں پتلی اور نازک کمر والا ہے۔ آپ اپنے گھر واپس لوٹے تو گر پڑے آپ کو وہ بات بتائی گئی جو اس عورت نے کہی تو آپ نے اس کی طرف پیغام بھیجا اس نے آپ کے لیے غسل کیا۔ ان دونوں روایات سے معلوم ہوا کہ نظر کا لگنا حق ہے اور یہ آدمی کو مار ڈالتی ہے جس طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے یہ علماء امت کا قول سنت ہے، جبکہ بدعتیوں کے ایک گروہ نے اس کا انکار کیا ہے وہ سنت، اس امت کے اجماع اور ایک امر واقع کے منکر ہیں، اس لیے کہ کتنے ہی لوگ ہیں جن کو نظر بد نے قبر میں داخل کردیا ہے اور کتنے ہی خوبصورت اونٹ ہیں جن کو اس نے ہنڈیا میں پہنچا دیا ہے ؟ لیکن یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وماھم بضآزین بہٖ من احدٍ الاباذن اللہ (البقرہ : 102) (اور وہ اللہ کے اذن کے بغیر کسی کو کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتے) اصمعی نے کہا : میں نے ایک آدمی کو دیکھا جس کی نظر لگتی تھی اس نے سنا کہ ایک گائے بہت زیادہ دودھ دیتی ہے اس کو یہ بہت اچھا لگا اس نے پوچھا : وہ کون سی گائے ہے ؟ لوگوں نے کوئی اور گائے بتائی اور اس کو مخفی رکھا تو وہ دونوں گائیں مرگئیں۔ اصمعی نے کہا : میں نے اس آدمی کو کہتے ہوئے سنا : جب میں کسی چیز کو دیکھتا ہوں اور وہ مجھے اچھی لگتی ہے تو میں ایک حرارت پاتا ہوں جو میری آنکھوں سے نکلتی ہے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ کب اسے کوئی چیز اچھی لگے تو وہ بارک اللہ فیہ کہے کیونکہ جب وہ برکت کی دعا کرے گا تو لازمی طور پر برائی کو اس سے ہٹالیا جائے گا۔ کیا آپ حضرت عامر کو کہے جانے والے نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد کو نہیں دیکھتے : ألا برکت تو نے بارک اللہ فیہ کیوں نہ کہا۔ یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جب نظر لگانے والا بارک اللہ فیہ کہہ دیتا ہے تو نظر نہ لگتی ہے اور نہ ہی نقصان کرتی ہے۔ البتہ اگر وہ یہ الفاظ نہ کہے تو پھر نظر لگ جاتی ہے۔ پوری تبریک یہ ہے : تبارک اللہ أحسن الخالقین اللھم بارک فیہ۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ نظر لگانے والی کی نظر جب لگ جائے اور وہ بارک اللہ فیہ نہ کہے تو اسے غسل کرنے کا حکم دیا جائے گا اور اگر وہ انکار کرے تو اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا جائے امرو جوب پر دلالت کرتا ہے، بالخصوص یہ امر، کیونکہ بعض اوقات نظر لگنے والے کی ہلاکت کا اندیشہ ہوتا ہے اور کسی کو بھی نہیں چاہیے کہ وہ اپنے بھائی کو ایسے کام سے روکے جس کی وجہ سے اس کے ایک بھائی کا فائدہ ہوسکتا ہے اور وہ نقصان سے بچ سکتا ہے بالخصوص اس صورت میں کہ جب وہ نقصان اس کی وجہ سے ہورہا ہو۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ جس آدمی کو اپنی آنکھ لگنے کا پتہ چل جائے اسے لوگوں میں جانے سے روک دیا جائے گا تاکہ لوگ اس کی تکلیف سے محفوظ رہیں۔ بعض علماء نے کہا ہے : امام اسے گھر میں نظر بند کرنے کا حکم دے گا اور اگر اس کے رزق کا مسئلہ ہو تو اس کی کفالت کرے گا اور لوگوں سے اس کی اذیت کو روکا جائے گا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اسے ملک بدر کیا جائے گا : البتہ امام مالک کی وہ روایت کو ہم نے ذکر کی ہے وہ ان اقوال کو روکا جائے گا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اسے ملک بدر کیا جائے گا : البتہ امام مالک کی وہ روایت جو ہم نے ذکر کی ہے وہ ان اقوال کی تردید کرتی ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے نہ تو حضرت عامر کی قید کا حکم دیا اور نہ ہی ملک بدری کا، بلکہ بعض اوقات نیک آدمی کی بھی نظر لگ جاتی ہے اور نہ تو اس میں یہ بات قدح کا باعث ہے اور نہ ہی اس کی وجہ سے اس پر فسق کا حکم لگایا جاسکتا ہے : اور آدمی نے کہا ہے : اسے قید کیا جائے اور نظر بندی کا حکم دیا جائے گا تو احتیاطا ہے اور تکلیف کو دور کرنے کے لیے ہے۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر 6 ۔ امام مالک نے حمید بن قیس مکی سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ کے پاس جعفر بن ابی طالب کے دو بیٹے لائے گئے تو آپ نے ان کی دائی کو فرمایا : ” کیا بات ہے میں ان دونوں کو کمزور دیکھتا ہوں ؟ “ تو دائی نے کہا : یارسول اللہ ! ان دونوں کو جلدی نظر لگ جاتی ہے، اور آپ نے ہمیں ان کو دم کرنے سے نہ روکا البتہ ہم نہیں جانتے کہ آیا وہ موافق آتا ہے یا نہیں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ان کو دم کرو کیونکہ اگر تقدیر سبقت لے گئی تو نظر سبقت لے جائے گی۔ “ یہ حدیث منقطع ہے۔ البتہ حضرت اسماء بنت عمیس خثعمی والی روایت محفوظ ہے جو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کی ہے۔ اس میں ہے کہ دم ان چیزوں میں سے ہے جن کے ذریعے مصیبت کو روکا جاتا ہے اور نظر انسان میں اثر بھی کرتی ہے اور تکلیف بھی دیتی ہے یعنی اسے کمزور کرتی ہے اور اس میں نقاہت پیدا کرتی ہے : اور یہ اللہ تعالیٰ کی قضا اور تقدیر سے ہے اور کہا جاتا ہے کہ نظر بڑوں کی نسبت چھوٹوں میں جلدی اثر کرتی ہے۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر 7 ۔ حدیث ابوامامہ میں نبی کریم ﷺ نے نظر لگانے کو اس آدمی کے لیے غسل کرنے کا حکم فرمایا ہے جس کو نظر لگی ہے اور اس روایت میں دم کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔ “ ہمارے (مالکیہ) علماء نے کہا ہے : دم اس صورت میں ہوگا جب نظر لگانے والے کا پتہ نہ ہو، اور جب لگانے والے کا پتہ چل جائے تو پھر حدیث ابوامامہ کے مطابق اسے وضو کا حکم دیا جائے گا۔ واللہ اعلم۔ ومآ اغنی عنکم من اللہ من شیءٍ یعنی ایسی چیز سے جس سے میں تمہیں محتاط رہنے کا حکم دیتا ہوں یعنی احتیاط، تقدیر کے ساتھ کوئی نفع نہیں دیتی۔ ان الحکم یعنی امر اور قضاء الاللہ ؕ علیہ توکلت یعنی میں نے اعتماد اور بھروسہ کیا۔ وعلیہ فلیتوکل المتوکلون اور اسی پر توکل کرنے والوں کو توکل کرنا چاہیے۔