12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 12:42

وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader

اور دونوں شخصوں میں سے جس کی نسبت (یوسف نے) خیال کیا کہ وہ رہائی پا جائیگا اس سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف کئی برس جیل خانے ہی میں رہے۔

آیت نمبر 42 اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وقال للذی ظن اکثر مفسرین کے نزدیک یہاں ظن بمعنی أیقن ہے اور قتادہ نے ظن کی تفسیر کی ہے کہ اس سے مراد حالت ہے جو یقین کے برعکس ہوتی ہے، انہوں نے کہا : حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس کی نجات کا گمان کیا کیونکہ تعبیر کرنے والا گمان ہی کرتا ہے اور تیرا رب جس طرح چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، لیکن پہلا قول زیادہ صحیح اور انبیاء کے حال کے زیادہ مشابہ ہے اور (اس وجہ سے بھی کہ) آُ نے جو دو جوانوں کو خواب کی تعبیر بتائی وہ وحی تھی اور لوگوں کے حق میں یہ گمان ہوتا ہے جہاں تک انبیاء کی بات کا تعلق ہے تو ان کے لیے اس کا حکم حق اور سچ ہے خواہ وہ جس طرح بھی ہو۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اذکرنی عند ربک یعنی اپنے آقا کے پاس اور لغت میں آقا کو رب کہنا معروف ہے اعشی نے کہا : ربی کریم لا یکدر نعمۃ واذا تنوشد فی المھارق أنشدا ربی کریم سے مراد ہے کہ میرا آقا کریم ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی مراد یہ تھی کہ جو کچھ تو نے دیکھا اور خواب کی تعبیر کے حوالے سے تیری جو صورتحال ہے بادشاہ کے سامنے اس کا ذکر کرنا اور اس کو یہ کہنا کہ میں مظلوم ہوں اور بغیر جرم کے قید ہوں۔ صحیح مسلم اور دیگر کتب میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ رسول ﷺ نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی بھی یہ نہ کہے کہ اپنے رب کو پلا، اپنے کو کھلا، اپنے رب کو وضو کروا بلکہ اسے ربی کے بجائے سیدی، مولای کہنا چاہیے “۔ اور قرآن کریم میں اذکرنی عند ربک، الی ربک اور أنہ ربی احسن مثوای سے مراد ” صاحبی “ میرا صاحب یعنی عزیز مصر ہے۔ اور ہر وہ آدمی جو کسی چیز کی اصلاح واتمام کرتا ہے اسے ربہ یربہ، فھو رب لہ کہا جاتا ہے۔ علماء نے نبی کریم ﷺ کے ارشاد گرامی (جس میں رب کہنے کے بجائے سیدی، مولای کہنے کی ترغیب ہے) کے بارے میں کہا کہ یہ فقط نصیحت کے طور پر ہے نہ کہ اس وجہ سے ہے کہ اس نام کا اطلاق آدمی پر ” رب “ کے لفظ کے اطلاق کے حوالے سے قرآن کے مطابق ہے تو اس سلسلہ میں نہی کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم ان اسماء کے اطلاق کو اپنی عادت نہ بنالیں بلکہ ان کو ترک کرنا زیادہ عمدہ اور اولیٰ ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ آدمی کا عبدی اور أمتی کہنا دو معنوں کا احتمال رکھتا ہے : ایک معنی یہ ہے کہ عبودیت فی الحقیقت صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے ہے : تو کسی کا لوگوں میں سے اپنے مملوک کو عبدی اور أمتی کہنا اور اس کی نسبت اپنی ذات کی طرف ان کے ساتھ کرنا جب الفاظ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس کی نسبت اپنی طرف کی ہے تو یہ جائز نہیں ہے اور دوسرا معنی یہ ہے کہ اس نام کی وجہ مملوک کے دل میں اپنے آپ کو حقیر سمجھنے کا خیال پیدا ہوگا، اور یہ چیز اسے نافرمانی پر ابھارے گی۔ ابن شعبان نے الزاھی کے بارے میں کہا : لایفعل السید عبدی وأمتی ولا یقل المملوک ربی ولا ربتی کہ آقا عبدی اور متی نہ کہے اور غلام ربی اور ربتی نہ کہے “ تو یہ اسی معنی پر محمول ہوگا جس کو ہم نے ذکر کردیا ہے۔ اور ایک قول یہ ہے : کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : لایقل العبد ربی ولیقل سیدی کہ غلام ربی نہ کہے بلکہ سیدی کہے، کیونکہ رب اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ہے اور بالاتفاق اللہ کے لیے استعمال ہوتا ہے : جبکہ ” سید “ میں اختلاف ہے کہ کیا یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ہے یا نہیں ؟ تو اس سلسلہ میں اگر یہ کہا جائے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں نہیں تو فرق واضح ہوگیا کیونکہ اس صورت میں کوئی التباس اور اشکال نہیں رہتا اور اگر یہ کہا جائے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ہے تو اس صورت میں بھی یہ فرق ہوگا کہ اس کا استعمال اور شہرت اس طرح رب کا استعمال ہے اور ابن عربی نے کہا ہے : اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ہوسکتا ہے یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی شریعت میں جائز ہو۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : فانسٰہ الشیطٰن ذکرربہٖ ۔ فانسٰہ میں ہ ضمیر کے متعلق دو قول ہیں : ایک قول یہ ہے کہ یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی شیطان نے آپ کو اللہ تعالیٰ کا ذکر بھلا دیا یہ اس طرح کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ کے ساقی کو کہا : اذکرنی عندربک کہ اپنے مالک کے پاس میرا ذکر کرنا تو گویا آپ نے اس لیے کہا کہ وہ آپ کو نجات دلائے گا اور پہلی حالت میں واپس لوٹا دے گا تو اس وقت آپ اللہ تعالیی کی بارگاہ میں شکایت کرنا اور اس سے مدد طلب بھول گئے اور مخلوق سے استغاثہ کی طرف مائل ہوئے تو آپ کو قید میں ٹھہرا کر اس پر عقاب کیا گیا۔ عبدالعزیز بن عمیر کندی نے کہا : جبرئیل امین حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس قید خانہ میں آیا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) اسے پہچان گئے تو کہا : اے ذرانے والوں کے بھائی ! میں آپ کو خطا کاروں کے درمیان کیسے دیکھ رہا ہوں ؟ تو جبریل (علیہ السلام) نے کہا : اے طاہر بن طاہرین ! اے یاکبازوں کے بیٹے ! رب العالمین تمہیں سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے : کیا تمہیں بندوں سے مدد طلب کرتے ہوئے شرم نہیں آتی ؟ مجھے اپنی عزت کی قسم ! میں تجھے چند سال اور قید میں رکھوں گا : ہاں، تو آپ نے کہا : مجھے (اس مشقت کی) کوئی پرواہ نہیں۔ روایت ہے کہ جبریل (علیہ السلام) آپ کے پاس آئے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو عتاب کیا اور آپ کی قد کو لمبا کردیا۔ جبریل نے آپ سے کہا : اے یوسف ! آپ کو اپنے بھائیوں کے ہاتھوں قتل سے کس نے نجات دلائی ؟ آپ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے، جبریل نے کہا : کنوئے سے آپ کو کس نے نکالا ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے، جبریل نے کہا : فاحشہ عورت سے آپ کو کس نے بچایا ؟ آپ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے، جبریل نے کہا : عورتوں کے مکر کو آپ سے کس نے دور کیا ؟ آپ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے، جبریل نے کہا : پھر تو نے مخلوق یہ اعتماد کرلیا اور اپنے رب کو چھوڑ دیا کہ تو نے اس سے سوال نہیں کیا ؟ آپ نے کہا : اے پروردگار ! مجھ سے یہ کلمہ لغزش میں سرزد ہوگیا۔ اے ابراہیم، اسحٰق اور شیخ یعقوب (علیہم السلام) کے معبود ! میں تجھ سے رحم کا سوال کرتا ہوں، جبریل نے آپ سے کہا : تیری سزا یہ ہے کہ تو کئی سال قید میں رہے گا۔ ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رحم اللہ یوسف لولا الکمۃ التی قال : اذکرنی عند ربک۔ فلبث فی السجن نضع سنین اللہ تعالیٰ یوسف پر رحم فرمائے اگر وہ اذکرنی عند ربک کا کلمہ نہ کہتے تو کئی سال قید خانہ میں نہ رہتے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جب یوسف (علیہ السلام) نے نجات پانے والے جوان سے کہا : اذکرنی عندربک تو کئی سال تک قید کو لمبا کرکے آپ کو سزا دی گئی۔ اگر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے رب کو یاد کیا ہوتا تو وہ آپ کو چھٹکارا نصیب فرماتا۔ اسماعیل بن ابراہیم عن یونس عن الحسن روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اگر یوسف کا کلمہ یعنی اذکرنی عندربک نہ ہوتا آپ قید میں اتنا عرصہ نہ رہتے جتنا رہے۔ “ راوی نے کہا : پھر حسن روتے ہوئے کہتے ہیں : ہمیں بھی کوئی مسئلہ بنتا ہے تو ہم لوگوں کے سامنے اس کی شکایت کرتے ہیں۔ اور ایک قول یہ ہے کہ فانسٰہ کی ” ہ “ ضمیر نجات پانے والے جوان کی طرف لوٹ رہی ہے پس وہ بھولنے والا ہے : یعنی ساقی کو شیطان نے اس بات سے بھلا دیا کہ وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ذکر اپنے مالک کے سامنے کرے۔ اس آیت میں حذف ہے اصل میں ہے أنساہ الشیطان ذکرہ لربہ بعض علماء نے اس قول کو ترجیح دی ہے انہوں نے کہا : اگر شیطان نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا ذکر بھلایا ہوتا تو آپ کو قید میں ٹھہرانے کی سزا کا مستحق قرار نہ دیا جاتا کیونکہ بھولنے والا مواخذہ کا مستحق نہیں ہوتا۔ پہلے قول والوں نے یہ جواب دیا ہے کہ نسان بعض اوقات ترک کے معنی میں ہوتا ہے تو جب آپ نے اللہ کا ذکر ترک کیا اور شیطان نے آپ کو اس طرف بلایا تو آپ کو سزا دی گئی : دوسرے قول والوں نے ان کی تردید اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے ذریعے کی : وقال الذی نجامنھما واد کر بعد امۃ ٍ (یوسف :45) اور (اس وقت) بولا وہ شخص جو بچ گیا تھا ان دو (قیدیوں) سے اور (اب) اسے یوسف کی یاد آئی ایک عرصہ بعد۔ یہ ارشاد اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ بھولنے والا وہ ساقی تھا نہ کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ، اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ان عبادی لیس لک علیھم سلطٰن (الحجر :42) بیشک میرے بندون پر تجھے غلبہ حاصل نہیں ہوگا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے نسیان کی نسبت شیطان کی طرف کرنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے حالانکہ شیطان کو انبیاء پر غلبہ حاصل ہی نہیں ؟ ایک قول یہ ہے : نسیان سے سوائے ایک صورت کئ انبیاء بھی معصوم ہیں۔ اور اگر ان سے ایسے معاملات میں نسیان سرزد ہوجائے جب میں سرزد ہوسکتا ہے تو اسے مطلق شیطان کی طرف منسوب کیا جاسکتا ہے اور یہ نسبت نہیں کی جاسکتی ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے نسیان کی خبر دی ہو اور ہمارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ ہم ان کی طرف نسیان کی نسبت کریں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : نبی آدم فنسیت ذریتہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو نسیان ہوا تو ان کی اولاد کو بھی نسیان ہوا، آپ نے فرمایا : أنما أنا بشرأنی کما تنسون میں بشر ہوں میں بھولتا ہون جس طرح تم بھولتے ہو۔ اس پر بحث گزرچکی ہے۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : فلبث فی السجن بضع سنین، بضع زمانے کا ایک حصہ ہے جس میں اختلاف ہے۔ یعقوب نے عن ابی زید کہا : بضع اور بضع کہا جاتا ہے یعنی با کے فتح اور کسرہ کے ساتھ۔ اکثر علماء نے کہا : بضع ومائۃ نہیں کہا جاتا، اس کا اطلاق نوے تک ہوتا ہے، ہر وی نے کہا : عرب بضع کو تین سے لیکر نو کے درمیان کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ بضع اور بضعۃ ایک ہی ہے ان دونوں کا معنی عدد کا ایک حصہ ہے۔ ابوعبیدہ نے بیان کیا کہ بضع چار کے نصف سے کم حصے کو کہتے ہیں انکی مراد ایک سے لے کر چار کے درمیان کے اعداد ہیں۔ مگر اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو کہا : وکم البضع بضع کیا ہے ؟ تو حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا : تین سے نو تک کے درمیان۔ تو ُ آپ ﷺ نے فرمایا : اذھب فزایدفی الخطر۔ اکثر مفسرین کے نزدیک بضع سے مراد سات ہے یہ ثعلبی نے بیان کیا ہے۔ ماروی نے کہا : یہی حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور قطرب کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : تین سے نو تک، یہ اصمعی کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : تین سے دس تک۔ زجاج نے کہا : یہ تین سے پانچ کے درمیان ہے۔ فراء نے کہا : یضع کو دس اور بیس سے لے کر نوے تک کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے اور سو کے بعد اس کو ذکر نہیں کیا جاتا۔ وہ مدت جس میں حضرت یوسف (علیہ السلام) قید میں رہے اس کے بارے میں تین قول ہیں۔ ایک : سات سال، یہ ابن جریج قتادہ اور وہب بن منبہ کا قول ہے، وہب نے کہا : حضرت ایوب (علیہ السلام) سات آزمائش میں مبتلا رہے، اور حضرت یوسف (علیہ السلام) سات سال قید خانہ میں رہے۔ دوسرا : بارہ سال، حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ تیسرا : بارہ سال، یہ ضحاک کا قول ہے۔ مقاتل نے مجاہد عن ابن عباس کہا : حضرت یوسف (علیہ السلام) قید خانہ میں پانچ اور کچھ سال رہے۔ اس کا اشتقاق بضعت الشیء سے ہے یعنی قطعتہ۔ پس یہ عدد کا ایک قطعہ ہے پس اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو گزشتہ پانچ سال کی قید کے بعد سات یا نو سال قید کی سزا دی پس بضع عقوبت کی مدت ہے نہ کہ کل قید کی مدت۔ وہب بن منبہ نے کہا : حضرت یوسف (علیہ السلام) سات سال قید خانہ میں قید رہے اور حضرت ایوب (علیہ السلام) سات سال آزمائش میں رہے اور بخت نصر کو سات سال مسخ کا عذاب دیا گیا۔ عبداللہ بن راشد بصری نے عن سعید بن ابی عروبہ کہا کہ بضع کا اطلاق پانچ سے لے کر بارہ سال کے عرصے کے درمیان پر ہوتا ہے۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ اس آیت میں یقین کے حصول کے باوجود اسباب کو پکڑنے کے جواز پر دلیل ہے۔ بیشک تمام امور مسبب کے قبضہ میں ہیں لیکن اس نے ایک سلسلہ بنایا ہے اور بعض معاملات کو بعض کے ساتھ ملادیا ہے پس ان اسباب کو اختیار کرنا سنت ہے اور ان کو انتہا تک پہنچا دینا یقین ہے اور جو چیز اس کے جواز پر دلالت کرتی ہے وہ نسیان کی نسبت شیطان کی طرف کرنا ہے جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حضرت خضر (علیہ السلام) کے ساتھ ملاقات کے وقت پیش آیا۔ یہ واضح ہے پس اس میں غور کرو۔
Ayah 12:43

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader

اور بادشاہ نے کہا کہ میں (نے خواب دیکھا) دیکھتا (کیا) ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور اور (سات) خشک۔ اے سردارو ! اگر تم خوابوں کی تعبیر دے سکتے ہو تو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ۔

آیت نمبر 43 وقال الملک انی ارٰی سبع بقرٰت سمانٍ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کی آزادی قریب آئی تو بادشاہ نے خواب دیکھا۔ جبریل امین نازل ہوئے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو سلام کیا اور آزادی کی خوشخبری سنائی اور کہا : اللہ تعالیٰ تجھے قید سے نکالنے والا ہے اور زمین میں تجھے اقتدار دینے والا ہے، بادشاہ کو اور جابر لوگوں کو تیرا مطیع وفرماپردار بنائے گا اور تجھے تیرے بھائیوں پر کلمہ عطا فرمائے گا اور یہ اس خواب کی وجہ سے ہے جو بادشاہ نے دیکھا اور وہ یہ ہے اور اس کی تاویل ایسی، ایسی ہے پس آپ قید میں اس سے زیادہ نہیں رہے جتنا کہ بادشاہ نے خواب دیکھا تھا حتی کہ باہر آگئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے پہلے خواب کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے آزمائش اور سختی بنایا اور دوسری مرتبہ اسی کو خوشخبری اور رحمت بنایا۔ اور وہ یوں کہ بڑے بادشاہ ریان بن ولید نے خواب میں دیکھا کہ گویا خشک نہر سے سات موٹی گائیں تکلیں اور ان کے پیچھے سات دبلی پتلی، عجاف سے مراد کمزور گائیں ہیں۔ تو دبلی موٹی پر حملہ آور ہوئیں انہیں کانوں سے پکڑا اور سوائے سینگوں کے انہیں کھاگئیں، اور سات سرسبز خوشے دیکھے ان پر سات خشک خوشے جملہ آور ہوئے اور انہیں کھاگئے اور اب ان میں سے کوئی چیز باقی نہ بچی اور وہ خشک خوشے سرسبز و شاداب خوشوں کو کھانے کے باوجود خشک ہی رہے اسی طرح دبلی پتلی گاؤں میں بھی موٹی گاؤں کو کھانے کے باوجود کوئی اضافہ نہ ہوا۔ خواب نے بادشاہ کو پریشان کیا تو اس نے لوگوں کو اہل علم کو، جادو، علم نجوم اور کہانت کو جاننے والوں اور معززین قوم کی طرف پیغام بھیجا، اس نے انہیں کہا : یٰٓایھا الملا افتونی فی رء یای اس نے اپنا خواب ان کے سامنے بیان کیا، لوگوں نے کہا : اضغاث احلامٍ ابن جریج نے کہا کہ مجھے عطا نے کہا ہے : اضغاث احلامٍ سے مراد جھوٹے اور غلط خواب ہیں۔ جو نے عن الضحاک عن ابن عباس ؓ کہا : کچھ خواب سچے ہوتے ہیں اور کچھ اضغاث احلامٍ یعنی جھوٹے ہوتے ہیں۔ ہر وی نے کہا : اللہ تعالیٰ کا ارشاد اضغاث احلامٍ سے مراد اخلاط احلام ہے۔ لغت میں الضغث سے مراد کسی چیز کا گٹھہ ہوتا ہے جس طرح کہ سبزی، گھاس اور ان کے مشابہ دیگر اشیاء یعنی انہوں نے کہا : آپ کا خواب واضح نہیں ہے۔ احلام سے مراد غلط ملط خواب ہے۔ ابوعبیدہ نے کہا : اضغاث سے مراد وہ خواب ہے جس کی کوئی تاویل نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : سبع بقرٰتٍ سمان کے آخر سے ھا کو حذف کردیا گیا تاکہ مذکر اور مونث میں فرق رہے۔ سمان بقرات کی صفت ہے۔ قرآن کریم کے علاوہ سبع سمٰوٰتٍ طباقًا (الملک :3) اسی کی طرح ہے، جبکہ ” بقرہ “ کا مادہ اشتقاق اور معنی سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے کہا : بکری اور گائے جب شہر میں داخل ہوں تو اگر موٹی ہوں تو خوشحالی کا سال ہوتا ہے اور اگر وہ دبلی ہوں تو وہ سال سخت ہوتا ہے اور اگر وہ شہر سمندری شہر ہو تو اس میں ان کی تعداد اور حالت کے مطابق کشتیاں آتی ہیں ورنہ وہ پے در پے آزمائشیں ہیں، گویا کہ وہ آزمائشیں گائیں کا منہ ہیں، جس طرح کہ حدیث میں بعضھا بعضا کے الفاظ ہیں اور متن کے حوالے سے ایک اور حدیث میں ہے کا نھا صیاصی البقر یعنی گویا وہ گائیوں کے سینگ ہیں۔ اس میں مراد ان فتنوں کو گاؤں کے سینگوں کے ساتھ مشابہت دینا ہے اور اگر وہ مکمل طور پر زرد ہوں تو پھر وہ بیماریاں ہیں جو لوگوں پر حملہ آور ہیں اور اگر ان کے رنگ مختلف ہوں، بڑے سینگوں والی ہوں اور لوگ ان سے بھاگ رہے ہوں یا ان کے منہ سے آگ اور دھواں نکل رہا ہو تو وہ لشکر ہے یا غارت گری یا وہ دشمن ہے جو ان پر حملہ آور ہے اور ان کے گھروں میں اترا ہوا ہے۔ اور بعض اوقات ” بقرہ “ بیوی، خادم، غلہ اور سال پر بھی دلالت کرتی ہے کیونکہ اس میں بچہ، غلہ اور بنات ہوتا ہے۔” یاکلھن سبع عجاف “” عجاف “ عجف یعجف بروزن عظم یعظم ہے جبکہ عجف یعجف بروزن حمد یحمد بھی آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : یٰٓا یھا الملا افتونی رء یای، رؤیا کی جمع رؤی ہے یعنی مجھے اس خواب کے انجام کے متعلق خبر دو ان کنتم للرء یا تعبرون یہ عبور النہر سے مشتق ہے جس کا معنی ہے عبرت النھر یعنی میں نہر کے کنارے پر پہنچا، خواب کی تعبیر سے مراد اس کا انجام ہوتا ہے۔ للرؤیا میں لام تبیین کے لیے ہے یعنی اگر تم تعبیر کرسکتے ہو تو بیان کرو۔ زجاج نے کہا : رؤیا کے لیے ہے۔
Ayah 12:44

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader

انہوں نے کہا یہ تو پریشان سے خواب ہیں اور ہمیں ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں آتی۔

آیت نمبر 44 اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اضغاث احلامٍ فراء نے کہا : أضغاث أحلام بھی جائز ہے۔ نحاس نے کہا : نصب بہت دور کی بات ہے کیونکہ اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ تو نے کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جس کی تعبیر ہو، یہ تو صرف اضغاث احلام یعنی غلط ملط خواب ہیں۔ اضغاث کا واحد ضغث ہے۔ سبزی اور گھاس وغیرہ کے گھٹے کو ضغث کہتے ہیں۔ شاعر نے کہا : کضغث حلم غرمنہ حالمہ ومانحن بتاویل الاحلام بعٰلمین زجاج نے کہا : اس کا معنی یہ ہوگا کہ ہم غلط ملط خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے۔ انہوں نے اپنے آپ سے ایسے علم کی نفی کی جس کی تعبیر نہ ہو نہ کہ انہوں نے اپنے آپ سے علم التاویل کی نفی کی ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ انہوں نے اپنے آپ سے تعبیر کے علم کی ہی نفی کردی۔ اس بنیاد پر اضغاث سے مراد کا ایک مجموعہ ہوگا جس میں سے کچھ صحیح اور کچھ باطل ہوں اسی وجہ سے ساقی نے کہا : اناانبئکم بتاولیہٖ اس کو پتہ چل گیا کہ لوگ تعبیر کرنے سے عاجز آگئے ہیں یہ نہیں کہ انہوں نے یہ دعوی کیا ہے کہ ان کی تعبیر ہے ہی نہیں۔ ایک قول یہ ہے : انہوں نے تفسیر وتعبیر کا قصد و ارادہ ہی نہیں کیا بلکہ انہوں نے بادشاہ کے سینے سے ان کو مٹانا چاہا تاکہ اس کا دل ان میں مشغول نہ ہو۔ اس سے بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ انہیں اس کا علم تھا۔ الاحلام ” حلم “ کی جمع ہے اور حلم اسے کہتے ہیں جسکو سونے والا دیکھتا ہے اسی سے حلم اور احتلم ہے اسی طرح حلمت بکذاوحلمتہ بھی ہے شاعر نے کہا : فحلمتھا وبنو رفیدۃ دونھا لایبعدن خیالھا المحلوم اس کی اصل انات ہے جبکہ اسی سے حلم ہے جو طیش کی ضد ہے نیند کے اندر دکھائی جانے والی بات کو حلم اس وجہ سے کہتے ہیں کہ نیند اطمینان اور سکون کی حالت ہوتی ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ اس آیت میں اس آدمی کے قول کے بطلان پر دلیل ہے جو یہ کہتا ہے کہ خواب اس آدمی پر واقع ہوجاتی ہے جو اس کی تعبیر بتاتا ہے کیونکہ لوگوں نے کہا : اضغاث احلام حالانکہ ایسا ہوا نہیں اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس کی تعبیر خشک سالی اور خوشحالی کے ساتھ کی اور معاملہ ایسا ہی تھا جیسا کہ آپ نے اس کی تعبیر کی۔ اس میں اس بات کے فاسد ہونے پر دلیل ہے کہ خواب اڑتے پرندے کی ٹانگ پر ہوتا ہے۔ جب اس کی تعبیر کی جائے تو واقع ہوجاتا ہے۔
Ayahs 12:45–46

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader

اب وہ شخص جو دونوں قید یوں میں سے رہائی پا گیا تھا اور جسے مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی بول اٹھا کہ میں آپ کو اس کی تعبیر (لا) بتاتا ہوں۔ مجھے (جیل خانے) جانے کی اجازت دیجئے۔

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader

(غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا) یوسف ! اے بڑے سچے (یوسف ! ) ہمیں اس خواب کی تعبیر بتائیے کے سات موٹی گایوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا کر (تعبیر بتاؤں) عجب نہیں کہ وہ (تمہاری قدر) جانیں۔

آیت نمبر 45 تا 46 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : قال الذئ نجامنھما بادشاہ کا ساقی واد کر بعد امۃٍیعنی عرصہ بعد یہ حضرت ابن عباس ؓ اور دیگر سے مروی ہے، اور اسی سے إلی أمۃ معدودۃ ہے۔ ابن درستویہ نے کہا : أمتہ سے مراد حین نہیں لیا جاسکتا جب تک کہ اس میں مضاف کو حذف نہ مانا جائے اور مضاف الیہ کے قائم مقام نہ رکھا جائے گویا کہ دار کر بعد حین امۃ یا بعد زمن أمۃ یا اس جیسے الفاط کہے گئے ہیں۔ واللہ اعلم۔ اور أمۃ لوگوں کی بڑی جماعت کو بھی کہتے ہیں۔ اخفش نے کہا : یہ لقطا واحد ہے جبکہ معنی میں جمع، اور حیوانات کی ہر جنس ایک امت ہے حدیث طیبہ میں ہے : لولاأن الکلاب أمۃ من الأمم الأمرت بقتلھا یعنی اگر کتے ایک امت نہ ہوتے تو میں انہیں قتل کرنے کا حکم دیتا۔ اللہ کے ارشاد واد کر سے مراد یہ ہے کہ اس کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ضرورت یاد آئی اور وہ آپ کا قول اذکرنی عندربک ہے۔ عفان نے ہمام عن قتادہ عن عکرمہ عن عباس ؓ روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے واد کر بعد أمۃ پڑھا ہے۔ نحاس نے کہا : حضرت ابن عباس، عکرمہ اور ضحاک کی معروف قرأت واذکر بعد امۃ ہے ہمزہ کے فتحہ اور میم کی تخفیف کے ساتھ معنی ہوگا کہ وہ اس کو یاد آیا بھول جانے کے بعد۔ شاعر نے کہا : أمھت وکنت لا أنی حدیثا کذاک الدھر یودی بالعقول شبیل بن عزرۃ الضبعی سے ہے : بعد أمہ الف کے فتحہ، میم کے سکون اور ھا کے ساتھ اور یہ الأمہ کی مثل ہے یہ دونوں لغتیں ہیں اور دونوں کا معنی نسیان ہے۔ جب کوئی بھول جائے تو کہا جاتا ہے : أمہ یامہ أمھا۔ اس بنیاد پر واد کر بعد امہ ہوگا۔ اس کو نحاس نے ذکر کیا ہے۔ اور رجل امہ سے مراد وہ آدمی ہے جس کی عقل جاتی رہی ہو۔ جوہری نے کہا : جو زہری کی حدیث میں أمہ بمعنی اقرار اور اعترف ہے تو یہ لغت غیر مشہورہ ہے۔ اشہب عقیلی نے کہا : بعد إمۃ یعنی بعد نعمۃ، یعنی اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر بجات کے ذریعے انعام فرمایا۔ ایک قول یہ ہے : وہ نوجوان حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی قضا کی وجہ سے بھول گیا تاکہ آپ کچھ مدت قید خانہ میں رہیں۔ اور ایک قول یہ ہے : وہ بھولا نہیں تھا بلکہ وہ اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں بادشاہ کو دوبارہ اس کا جرم یاد نہ آجائے جس کی وجہ سے بادشاہ نے اسے اور نانبائی کو قید کیا تھا واذکر یعنی اس نے ذکر کیا اور خبردی۔ نحاس نے کہا : اذکر کی اصل اذتکر ہے ذال، تا کا قریب المخرج حرف ہے اس کو اس میں ادغام کرنا جائز نہیں کیونکہ ذال مجہورہ ہے اور تا مہموسہ، اگر ادغام کیا جائے تو جہر جاتا رہے گا سوتا کا حرف مجہورہ کے ساتھ ابدال کیا گیا جو دال ہے اور تا کو دال سے بدلنا اس کو طا کے ساتھ بدلنے سے بہتر ہے کیونکہ طامطبقہ ہے تو اس طرح یہ اذد کر ہوگیا پس ذال لو دال میں ادغام کردیا گیا دال کی رخاوت اور لین کی وجہ سے۔ پھر ارشاد فرمایا : اناانبئکم بتاویلہٖ یعنی میں تمہیں خبر دیتا ہوں۔ حضرت حسن نے اناأتیکم بتاولیہ پڑھا ہے۔ بادشاہ نے کہا : ایک عجمی کافر انہیں کیسے بتائے گا ؟ نحاس نے کہا : انبئکم کا معنی ہے : میں تمہیں صحیح اور عمدہ خبردوں گا، یعنی میں پوچھوں گا پھر تمہیں خبر دوں گا۔ فارسلون وہ مخاطب تو بادشاہ کو ہوا مگر تعظیما جمع کا صیغہ استعمال کیا یا پھر وہ بادشاہ اور اہل مجلس کو مخاطب ہوا۔ یوسف ندا مفرد ہے اسی طرح الصدیق یعنی بہت زیادہ سچ بولنے والا۔ افتنا یعنی انہوں نے اسے بھیجا وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس آیا اور کہا : اے صدیق ! اور آپ سے بادشاہ کے خواب کے متعلق پوچھا۔ العلی ارجع الی الناس یعنی بادشاہ اور اس کے اصحاب کی طرف۔ لعلھم یعلمون اس کا مفعول التعبیر ہے یا اس کا مفعول مکانک من الفضل والعلم ہے یعنی شاید وہ علم وفضل میں آپ کے مقام و مرتبہ کو جان لیں اور آپ کو آزاد کردیں۔ اور یہ احتمال بھی ہے کہ الناس سے مراد بادشاہ ہو اور تعظیما اسے ایسا کہا گیا ہو۔
Ayah 12:47

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ تم لوگ سات سال متواتر کھیتی کرتے رہو گے تو جو (غلہ) کا ٹو تو تھوڑے سے غلے کے سوا جو کھانے میں آئے اسے خوشوں میں ہی رہنے دینا۔

آیت نمبر 47 اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : قال تزرعون جب اس نے آپ کو خواب کے بارے میں بتایا تو آپ نے اس کے سامنے اس کی تفسیر کرنا شروع کی، آپ نے فرمایا : سات موٹی تازہ گاؤں اور شادات خوشوں سے مراد سات سرسبز و شاداب سال ہیں۔ اور دبلی پتلی اور لاغر گائیں اور خشک خوشے سات قحط والے سال ہیں۔ تزرعون سبع سنین دابًا یعنی لگاتار، مسلسل، یہ مصدر علی غیر المصدر ہے کیونکہ تزعون کا معنی تدأبون کعادتکم فی الزراعۃ سبع سنین یعنی تم اپنی عادت کے مطابق سات سال کاشت کرتے رہو گے۔ ایک قول یہ ہے : یہ حال ہے یعنی دائبین۔ ایک قول یہ ہے : سبع سنین کی یہ صفت ہے یعنی دائبۃ۔ ابو حاتم نے یعقوب سے دأنا حکایت کیا ہے حمزہ کی حرکت کے ساتھ۔ اسی طرح حفص نے عاصم سے روایت کیا ہے اور یہ دونون لغتیں ہیں۔ اس کے بارے میں دو قول ہیں، ابو حاتم کا قول ہے : یہ دئب سے ہے۔ نحاس نے کہا : اہل لغت صرف دأب کو ہی جانتے ہیں۔ دوسرا قول۔ یہ متحرک ہے کیونکہ اس میں حروف حلق میں سے ایک حرف ہے یہ فراء نے کہا : اور اسی طرح ہر وہ حرف جس کا پہلا حرف مفتوح اور دوسرا ساکن ہو تو اس کی ثقیل جائز ہے جب اس کا دوسرا حرف ہمزہ، ھا، عین، غین، حا اور خاہو اور اس کی اصل عادت ہے، شاعر نے کہا : کدابک من أم الحویرث قبلھا جس طرح حویرث کی ماں سے پہلے تمہاری عادت اور طریقہ ہے۔ اسکے متعلق گفتگو سورة ” آل عمران “ میں گزر چکی ہے۔ فما حصدتم فذروہ فی سنبلہٖ ایک قول یہ ہے : (آپ نے حکم اس لیے دیا) تاکہ اسے گھن نہ لگ جائے اور وہ زیادہ باقی رہنے والا ہوجائے : دیار مصر میں ایسا ہی ہوتا ہے الاقلیلاً مماتاکلون یعنی ضروری مقدار اس میں نکال لو، آپ کی طرف سے یہ قول امر ہے جبکہ پہلا خبر یہ بھی احتمال ہے کہ پہلا بھی امر ہو مگر زیادہ ظاہر بات یہی ہے کہ وہ خبر ہے، تو تزرعون کا معنی ” ازرعو “ ہوگا۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ یہ آیت کریمہ مصالح شرعیہ یعنی حفظ الادیان، حفظ النفوس، حفظ العقول، حفظ الانساب اور حفظ الاموال کے حوالے سے اصل وضابطہ ہے پس ہر وہ چیز جو ان امور میں سے کسی امر کے حصول کی ضامن ہو تو وہ مصلحت ہے اور جوان میں سے کسی چیز کو ختم کرنے والی کی ہو وہ مفسدہ ہے اس کو دور کرنا مصلحت ہوگی۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ شرائع کا مقصود لوگوں کو ان کئے دینوی مصالح کی طرف رہنمائی کرنا ہے تاکہ ان کے ذریعے ان پر اللہ تعالیٰ کی معرفت و عبادت حاصل ہوجائے جو اخروی سعادت تک پہنچانے والی ہیں۔ اس کی رعایت اللہ تعالیٰ کا وہ فضل و رحمت ہے جو اس نے اپنے بندوں پر فرمایا جو نہ تو اس پر واجب ہے اور نہ ہی کسی کو اس پر واجب ہے اور نہ ہی کسی کو اس کا استحقاق ہے یہ تمام اہل سنت کے جملہ محققین کا مذہب ہے اس کی تفصلات اصول فقہ میں ہیں۔
Ayah 12:48

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader

پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سا ل) آئیں گے کہ جو (غلہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ سب کھا جائیں گیں پھر وہی تھوڑا سا رہ جائے جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے۔

آیت نمبر 48 اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : سبع شداد یعنی قحط والے سال۔ یاکلن مجاز ہے اور معنی ہوگا یاکلن أھلھن، ما قدمتم لھن یعنی جو تم نے اپنے لیے ذخیرہ کیا ہوا ہوگا۔ جس طرح کہ کہنے والے کا قول : نھارک یا مغرور سھو وغفلۃ ولیلک نوم والردی لک لازم اے مغرور ! تیرا دن بھول اور غفلت ہے اور تیری رات نیند ہے اور گھٹیا پن تجھے لازم ہے۔ (سہود غفلت کی نسبت دن کی طرف اور نیند کی نسبت رات کی طرف) حالانکہ دن نہیں بھولتا اور رات نہیں سوتی بلکہ دن میں بھولا جاتا ہے اور رات میں سویا جاتا ہے۔ حضرت زید بن اسلم نے اپنے باپ سے بیان کیا : حضرت یوسف (علیہ السلام) دو آدمیوں کا کھانا رکھتے اور اسے ایک آدمی کے قریب کرتے تو وہ اس کا بعض حصہ کھا لیتا یہاں تک کہ جب وہ دن آیا تو آپ نے وہ اس کے قریب کیا تو وہ سارا کھا گیا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : یہ ان سات سخت سالوں میں سے پہلا دن ہے۔ الاقلیلاً استثنا کی وجہ سے نصب دی گئی ہے۔ مماتحصنون یعنی اس میں سے جو تم محفوظ رکھتے ہو تاکہ تم اسے کاشت کرو، کیونکہ بیج کو باقی رکھنے میں خوراک کی حفاظت ہے۔ ابوعبیدہ نے کہا : تم جس کو حرز میں رکھتے ہو۔ قتادہ نے کہا : تحصنون کا معنی تدخرون یعنی تم ذخیرہ کرتے ہو۔ معنی ایک ہی ہے، یہ بات ضرورت کے وقت کے لیے کھانے کو ذخیرہ کرنے کے جواز پر دلالت کرتی ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ یہ آیت کافر کے خواب کے صحیح ہونے میں اصل ہے اور اس کی تعبیر وہی کی جائے گی جو اس نے دیکھا بالخصوص جب اس کا تعلق کسی مومن کے ساتھ ہو۔ (اگر کافر کے خواب کی یہ صورتحال ہے تو) اس خواب کی کیا کیفیت ہوگی جو نبی کے لیے اللہ کی نشانی، رسول کے لیے معجزہ، مصطفیٰ کریم ﷺ کی تبلیغ کے لیے تصدیق اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان واسطہ کے لیے محبت بن رہا ہو۔
Ayah 12:49

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader

پھر اس کے بعد ایک ایسا سال آئے گا کہ خوب مینہ برسے گا اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے۔

آیت نمبر 49 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ثم یاتی من بعد ذٰلک عام یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے ایسی خبر ہے جو بادشاہ کے خواب میں نہیں تھی بلکہ یہ اس علم غیب میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیا تھا۔ حضرت قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ایک سال کے علم کا اضافہ فرمادیا جس کے متعلق انہوں نے آپ سے نہیں پوچھا تھا اس کا سبب آپ کی فضیلت کا اظہار اور علم ومعرفت میں آپ کا مقام و مرتبہ کا اعلان تھا۔ فیہ یغاث الناس یہ الإغاثہ یا الغوث سے مشتق ہے۔ آدمی نے مدد طلب کی، اس نے کہا : واغوثاہ۔ اور اسم لغوث، الغواث اور الغواث ہے اور استغاثنی فلان فاغثتہ یعنی فلاں نے مجھ سے مدد طلب کی تو میں نے اس کی مدد کی ۔ اور اسم الغیاث ہے، واؤ، ماقبل کے کسرہ کی وجہ سے یا ہوگیا۔ اور الغیث بارش کو کہتے ہیں۔ قدغاث الغیث الارض سے مراد بارش کا زمین کو پہنچا ہے۔ اور غاث اللہ البلادیغیثھا غیثا، اور غیثت الارض تغاث غیثا فھی، ارض مغیثۃ مغیوثہ، تویغاث الناس کا معنی ہوگا ان پر بارش برسائی جائے گی۔ فیہ یعصرون حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ انگور اور تیل نچوڑیں گے، امام بخاری نے اس کو ذکر کیا ہے۔ حجاج نے ابن جریج سے روایت کیا : وہ انگور کو بطور شراب، تل اور زیتون کو بطور تیل نچوڑیں گے۔ ایک قول یہ ہے : دودھ دھنا مراد ہے (اس کو نچوڑنے کے قول کے ساتھ ذکر کرنا) اس کی کثرت کی وجہ سے ہوگا۔ اور یہ نباتات کی کثرت پر دلالت ہے۔ ایک قول یہ ہے : یعصرون سے مراد ہے نجات پائیں گے اس صورت میں یہ العصرۃ سے مشتق ہوگا۔ ابوعبیدہ نے کہا :” العصر “ ص کی حرکت کے ساتھ ملجاء ومنجاء کو کہتے ہیں۔ اسی طرح العصرہ بھی ہے۔ ابوزبید نے کہا : صادیا یستغیث غیر مغاث ولقد کان عصرۃ المنجود المنجود سے مراد فزع ہے اور اعتصرت بفلان وتعصرت یعنی میں نے اس کی پناہ لی۔ ابوالغوث نے کہا : یعصرون سے مراد یستغلون ہے کہ وہ غلہ حاصل کریں گے اس صورت میں یہ عصر العنب سے مشتق ہوگا۔ اور اعتصرت مالہ سے مراد یہ ہوگا کہ میں نے اس کے قبضہ سے اس کو نکالا۔ عیسیٰ نے تعصرون پڑھا ہے یعنی تا کے ضمہ اور صاد کے فتحہ کے ساتھ، معنی ہوگا : تم پر بارش پر سائی جائے گی، جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وانزلنا من المعصرٰت مآء ثجاجا۔ (النباء) اور یہی معنی ہوگا تعصرون کا یعنی تاء کے ضمہ اور صاد کے کسرہ کے ساتھ۔
Ayahs 12:50–51

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader

(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میر پاس لے آؤ۔ جب قاصد انکے پاس گیا۔ تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے۔ بیشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے۔

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader

بادشاہ نے (عورتوں سے) پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا ؟ سب بول اٹھیں کہ حاشا للہ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے) کہ میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور وہ بیشک سچا ہے۔

آیت نمبر 50 تا 51 وقال الملک ائتونی بہٖ یعنی قاصد گیا اور بادشاہ کو خبر دی تو بادشاہ نے کہا : ائتونی بہٖۚفلما جآءہ الرسول یعنی اس نے آپ کو نکلنے کے لیے کہا تو آپ نے فرمایا : ارجع الیٰ ربک فسئلہ مابال النسوۃ یعنی عورتوں کی حالت الٰتی قطعن ایدیھن، تو آپ نے نکلنے سے انکار کردیا یہاں تک کہ بادشاہ کے نزدیک آپ کی برأت ثابت ہوجائے اور یہ ثابت ہوجائے کہ آپ بغیر جرم کے قید میں رہے۔ ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ئ فرمایا : ” کریم بن کریم بن کریم بن کریم یوسف بن اسحاق بن ابراہیم ہیں “۔ آپ نے فرمایا : ” اگر میں قید خانہ میں اتنی مدت رہتا جتنی مدت حضرت یوسف (علیہ السلام) رہے تھے، پھر مجھے قاصد بلانے آتا تو میں اس کے بلانے پر چلا جاتا “۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی فلماجآءہ الرسول قال ارجع الیٰ ربک فسئلہ مابال النسوۃ الٰتی قطعن ایدیھن۔ آپ نے فرمایا : ” اور اللہ کی رحمت ہو لوط (علیہ السلام) پر انہوں نے رکن شدید کی پناہ لی تھی جب انہوں نے کہا : لوان لی بکم قوۃً اواٰویٓ الیٰ رکن شدیدٍ ۔ (ہود) پس ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو نبی بھی معبوث فرمایا وہ اپنی قوم میں سے اعلیٰ ترین خاندان سے معبوث فرمایا “۔ امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ حضرت لوط (علیہ السلام) پر رحم فرمائے انہوں نے رکن شیدید کی پناہ لی تھی اور اگر میں قید خانہ میں اتنی مدت رہتا جتنی مفت حضرت یوسف (علیہ السلام) رہے تھے تو میں بلانے کے بلانے پر چلا جاتا اور ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے زیادہ حقدار ہیں اس بات کے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا : اولم تؤمن ؕقال بلیٰ ولٰکن لیطمئن قلبی (بقرہ :260) کیا تو ایمان نہیں رکھتا آپ نے کہا : کیوں نہیں لیکن (میں نے ایسا اس لیے کیا) تاکہ میرا دل مطمئن ہوجائے “۔ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا :” اللہ تعالیٰ میرے بھائی یوسف پر رحم فرمائے آپ صبر کرنے والے، بردبار تھے اگر میں قید خانہ میں اتنی مدت رہتا جتنی آپ رہے تھے تو میں بلانے والے کے بلانے پر چلا جاتا اور (اپنے بےقصور ہونے کے) عذر تلاش نہ کرتا “۔ اسی طرح کی حدیث عبدالرحمٰن بن قاسم جو امام مالک کے ساتھی ہیں ان کی سند سے صحیح بخاری کی کتاب التفسیر میں مروی ہے، اور دیوان میں ابن قاسم کی اس کے علاوہ کوئی روایت نہیں۔ طبری کی روایت میں ہے : ” اللہ تعالیٰ حضرت یوسف (علیہ السلام) پر رحم فرمائے اگر میں قید ہوتا پھر میری طرف قاصد بھیجا جاتا تو میں جلدی جلدی نکلتا، حضرت یوسف (علیہ السلام) بردبار اور پرسکون طبیعت کے مالک تھے ”۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” مجھے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے صبر اور ان کے کریم پر تعجب ہوتا ہے اللہ ان کی مغفرت کرے جب ان سے گائیوں کے متعلق سوال کیا گیا، اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو ان کو بالکل جواب نہ دیتا اور یہ شرط رکھتا کہ (پہلے) وہ مجھے قید خانے سے نکالیں اور مجھے ان پر تعجب ہوتا ہے جب ان کے پاس قاصد آیا، اگر میں ان کی جگہ پر ہوتا تو میں دروازے کی طرف جلدی کرتا “۔ ابن عطیہ نے کہا : حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ فعل اطمینان اور صبر تھا اور گھر کی براءت کا مطالبہ تھا، روایت کے مطابق اس کا سبب یہ تھا کہ آپ کو یہ خوف تھا کہ آپ نکلیں، بادشاہ کے ہاں مقام و مرتبہ حاصل کرلیں اور وہ دوگزر کرتے ہوئے آپ کے جرم سے خاموشی اختیار کرلے تو لوگ ہمیشہ اسی آنکھ سے آپ کو دیکھتے رہیں گے اور کہتے رہیں گے : یہ ہے وہ جس نے اپنے آقا کی بیوی کو بہلایا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے چاہا کہ آپ اپنی براءت کو واضح کردیں اور پاکدامنی اور بھلائی میں سے اپنے مقام و مرتبہ کو ثابت کردیں اور اس وقت آپ مقام و مرتبہ کے لیے نکلیں گے، پس اس وجہ سے آپ نے قاصد کو کہا : اپنے مالک کے پاس لوٹ جا اور اسے کہہ کہ عورتوں کا کیا معاملہ ہے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کا مقصد صرف یہ تھا کہ تو اس کو کہہ کہ میرے جرم کو دیکھ اور میرے معاملہ میں غور وفکر کر کہ کیا تو نے حق کے ساتھ قید کیا یا ظلم کے ساتھ اور آپ نے عزیز کی بیوی کا نام نہیں لیا یا تو یہ آپ کی حسن معاشرت ہے یا پھر عزیز کی مذمت کے حوالے سے اس کی رعایت فرماتے ہوئے۔ اور اگر یہ کہا جائے : نبی کریم ﷺ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے صبر، انائت اور جلدی نہ نکلنے کی تعریف کیسے فرمائی حالانکہ اپنے آپ کو اس مقام سے ہٹالیا جس مقام کی وجہ سے آپ نے ان کی تعریف فرمائی ؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے لیے ایک اور رائے اختیار فرمائی اس میں بھی عمدگی موجود ہے آپ فرماتے ہیں : اگر میں ہوتا تو نکلنے میں جلدی کرتا، پھر اس کے بعد میں نے اپنا عذر پیش کیا، اور وہ یہ ہے کہ یہ قصص اور واقعات اس لیے پیش کیے جاتے ہیں تاکہ قیامت تک کے لیے لوگ ان کی اقتدا کریں، تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو زیادہ محتاط بات پر ابھارنا چاہا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کے واقعات میں احتیاط کو چھوڑنا بعض اوقات قید میں رہنے ہی کو لازم کردیتا ہے اور اس کے قید سے نکلنے کی صورت کو دوبارہ ختم بھی کرسکتا ہے اگرچہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم کی وجہ سے اس سے امن حاصل تھا جبکہ آپ کے علاوہ دیگر لوگوں کو یہ امن حاصل نہیں ہوتا تو وہ حالت جس پر نبی کریم ﷺ نے اپنے آپ کو بیان فرمایا وہ احتیاط کی حالت ہے اور جو کچھ یوسف (علیہ السلام) نے کیا وہ بہت بڑا صبر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : فسئلہ مابال النسوۃ آپ نے تمام عورتوں کا ذکر کیا کہ کنایۃً ان میں عزیز کی بیوی بھی داخل ہوجائے اور صراحۃ اس کا ذکر نہ ہو یہ آپ کا حسن معاشرت ہے۔ کلام میں حذف ہے اصل میں فاسالہ أن یتصرف مابال النسوۃ ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : بادشاہ نے عورتوں اور عزیز مصر کی طرف پیغام بھیجا۔ عزیز مصر فوت ہوچکا تھا۔ پس اس نے انہیں بلایا قال ماخطبکن اور کہا : تمہارا معاملہ کیا ہے۔ اذراودتن یوسف عن تفسہٖ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان عورتوں میں سے ہر ایک نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ اپنی مطلب براری کے لیے کہا تھا، جس طرح کہ پہلے گزر چکا ہے یا پھر ہر ایک کے قول سے مراد یہ ہے کہ عزیز کی بیوی نے ظلم کیا تو یہ ان عورتوں کی طرف سے مطلب براری ہی تھا۔ قلن حاش للہ یعنی معاذ اللہ۔ ماعلمنا علیہ من سوٓءٍ ، سوٓءٍ سے مراد زنا ہے قالت امرات العزیز الئن حصحص الحق جب اس نے عورتوں کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی براءت کا اقرار کرتے دیکھا اور اسے یہ خوف لاحق ہوا کہ انکار کی صورت میں عورتیں اس کے خلاف گواہی دیں گی تو اس نے بھی اقرار کرلیا۔ اور یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کی مہربانی تھی۔ حصحص الحق یعنی واضح اور ظاہر ہوگیا۔ اس کی اصل حصص ہے ایک قول یہ ہے : اصل حصحص ہی ہے جس طرح کببوا کے بارے میں کبکبوا اور کفف کے بارے میں کفکف ہے، یہ زجاج وغیرہ کا قول ہے۔ الحص کی اصل کسی چیز کا استصال ہے۔ حص شعرہ کہا جاتا ہے جب وہ اس کو جڑ سے اکھیڑدے۔ ابوالقیس بن الاسلت نے کہا : قد حصت البیضۃ رأسی فما أطعم نوما غیر تھجاع اور سنۃ حضائ سے مراد ایسا سال ہے جس میں بھلائی نہ ہو۔ جریر نے کہا : یأوی إلیکم بلامن ولا جحد من ساقہ السنۃ الحصاء والذیب شاعر نے گویا کہ ” الضبع “ کہنا چاہا ہے، اور اس سے مراد قحط زدہ سال ہے، قافیہ کی وجہ سے ان کی جگہ ” الذیب “ کو ذکر کردیا ہے۔ حصحص الحق کا معنی یہ ہے کہ حق اپنے ظاہر اور ثابت ہونے کی وجہ سے باطل سے جدا ہوگیا۔ شاعر نے کہا : ألا مبلغ عنی خدا شا فإنہ کذوب إذا ما حصحص الحق ظالم ایک قول یہ ہے : یہ حصۃ سے مشتق ہے معنی یہ ہوگا : حق کا حصہ باطل سے جدا ہوگیا۔ مجاہد اور قتادہ نے کہا : اس کی اصل عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے، حص شعرہ جب اسے جڑ سے اکھیڑلیا گیا ہو، اسی سے الحصۃ الأرض ہے یہ اس وقت بولا جاتا ہے جب اسے کاٹ لیا جائے اور الحصحص کسرہ کے ساتھ مٹی اور پتھر کو کہتے ہیں، جوہری نے یہ ذکر کیا ہے۔ اناراودتہ عن نفسہٖ وانہ لمن الصدقین یہ بھی عزیز کی بیوی کا قول ہے اگرچہ اس سے اس کے بارے میں پوچھا نہیں گیا تھا۔ اس نے یہ بات تو بہ کے اظہار کے لیے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی سچائی اور کرامت کو ثابت کرنے کے لیے کی، کیونکہ اقرار کرنے والے کا اپنے خلاف اقرار کرنا اس کے خلاف دی جانے دی جانے والی شہادت کی نسبت زیادہ قوی ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی سچائی کو ثابت کرنے کے لیے شہادت اور اقرار دونوں کو جمع کردیا تاکہ گمان کسی آدمی کی عقل کو نہ ڈھانپ لے اور نہ ہی اس میں شک کی آمیزش ہو۔ خطبکن اور راودتن میں نون کے مشادہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ مذکر میں پائی جانے والی میم اور واؤ کی طرح ہے۔
Ayahs 12:52–53

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader

(یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لئے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں) خیانت نہیں کی اور خدا خیانت کرنیوالوں کے مکروں کو رو براہ نہیں کرتا۔

وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader

اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امّارہ (انسان کو) برائی ہی سکھاتا رہتا ہے مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے۔ بیشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے۔

آیت نمبر 52 تا 53 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ذٰلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب اس میں اختلاف ہے کہ یہ بات کس نے کہی، ایک قول یہ ہے : یہ عزیز مصر کی گفتگو میں سے ہے اور یہ اس کے قول الٰن حصحص الحق کے ساتھ متصل ہے یعنی اس نے کہا کہ میں نے سچائی کا اقرار کیا تاکہ وہ جان لے کہ میں نے غیب میں اس کے ساتھ خیانت نہیں کی یعنی اس کے خلاف جھوٹ نہیں بولا اور اس کی عدم موجودگی میں برائی کے ساتھ اس کا ذکر نہیں کیا بلکہ میں نے سچ بولا اور خیانت سے نکل گئی پھر اس نے کہا : ومآ ابری نفسی بلکہ میں نے اسے پھسلانا چاہا تھا : اسی بنیاد پر وہ صانع کا اقرار کررہی تھی اور اسی وجہ سے اس نے ان ربی غفوررحیم کہا۔ اور ایک قول یہ ہے : یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی گفتگو کا حصہ ہے یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : یہ قاصد کو واپس لوٹا نے والا جو کام میں نے کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے تاکہ عزیز جان لے کہ میں نے اس کی عدم موجودگی میں اس کے ساتھ خیانت نہیں کی۔ یہ حسن، قتادہ اور دیگر لوگوں کا قول ہے۔ بالغیب کا معنی وھو غائب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ گفتگو بادشاہ کی موجودگی میں کی اور فرمایا : لیعلم (غیب کا صیغہ استعمال کیا) اس سے مقصود بادشاہ کی توقیر واحترام تھا۔ ایک قول یہ ہے : آپ نے یہ گفتگو اس وقت کی جب قاصد دوبارہ آپ کے پاس آیا اور آپ ابھی قید خانہ میں تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : قاصد حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس خبر لے کر آیا، اور جبریل (علیہ السلام) آپ کے ساتھ گفتگو کررہے تھے : تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : ذٰلک لیعلم انی کم اخنہ بالغیب وان اللہ لا یھدی کید الخآئنین یعنی میں نے اپنے آقا کی عدم موجودگی میں اس کے ساتھ خیانت نہیں کی۔ جبریل (علیہ السلام) نے آپ سے کہا : اے یوسف ! (اس وقت بھی آپ نے خیانت نہیں کی) جب آپ نے چادر کھولی اور اس طرح بیٹھے جس طرح مرد (اپنی) عورت کے پاس بیٹھتا ہے ؟ تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے عرض کیا : ومآ ابری نفسی الایۃ۔ سدی نے کہا : عزیز کی بیوی نے آپ کو کہا اس وقت بھی خیانت نہیں کی جس وقت اے یوسف ! تو نے اپنی سروال اتاردی تھی ؟ تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : ومآابری نفسی۔ اور ایک قول یہ ہے : ذٰلک لیعلم عزیز کی گفتگو کا حصہ ہے : یعنی یہ اس وجہ سے ہوا تاکہ یوسف جان لے کہ میں نے اس کی عدم موجودگی میں اس کے ساتھ خیانت نہیں کی، اور میں اس کی امانت پر اسے انعام وجزا دینے سے غافل نہیں ہوا۔ وان اللہ لایھدی کید الضآئنین اس کا معنی ہے : اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو ان کے فریب کے ہوتے ہوئے ہدایت نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ومآ ابری نفسی ایک قول یہ ہے : یہ عورت کی گفتگو کا حصہ ہے۔ قشیری نے کہا : ظاہر یہ ہے کہ ذٰلک لیعلم اور ومآابرئ نفسی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی گفتگو کا حصہ ہے۔ میں (قرطبی) نے کہا : جب یہ احتمال ہے کہ یہ عورت کے کلام میں سے ہو تو پھر اس احتمال پر عمل کرنا زیادہ بہتر ہے تاکہ ہم حضرت یوسف (علیہ السلام) کو چادر اور سروال کھولنے سے بری قرار دیں اور جب ہم اسے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کلام سمجھیں گے تو پھر یہ ان امور میں سے ہوگا جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دل میں آئے تھے جس طرح کہ پہلے گزر چکا ہے وھم بھا (یوسف :24) کے متعلق مختار قول گزرا ہے۔ ابوبکر انباری نے کہا : بعض لوگوں نے کہا : ذٰلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب سے لے کر ان ربی غفور رحیم تک عزیز کی بیوی کی گفتگو کا حصہ ہے، کیونکہ یہ اس کے قول اناراودتہ عن نفسہٖ وانہ لمن الصدقین کے ساتھ متصل ہے۔ یہ لوگوں کا مذہب ہے جو حضرت یوسف (علیہ السلام) سے ھم کی نفی کرتے ہیں۔ پس جس نے ان کے قول پر بناء کی ہے اس نے کہا : قالت امرات العزیز سے لے کر ان ربی غفور رحیم تک کا کلام متصل ہے اور اس میں الحقیقت وقف تام نہیں ہے۔ ہم (قرطبی) نے اس قول کو اختیار نہیں کیا اور نہ ہی اس جانب گئے ہیں۔ حضرت حسن نے کہا : جب یوسف (علیہ السلام) نے کہا : ذٰلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب تو اللہ کے نبی کو اپنے ہی نفس کا تزکیہ اچھا نہ لگا تو فرمایا : ومآابرئ نفسی کیونکہ اپنے ہی نفس کا تزکیہ مذموم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فلاتزکوٓا انفسکم (النجم :32) اپنے آپ کو پاک و طاہر قرار نہ دو ۔ ہم (قرطبی) نے اس سورة ” النساء “ میں بیان کردیا ہے ایک قول یہ ہے : یہ عزیز کی گفتگو کا حصہ ہے یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں بدگمانی سے میں اپنے آپ کو بری قرار نہیں دیتا۔ ان النفس لامارۃ بالسوٓء یعنی اس میں برائی کی خواہش ہوتی ہے۔ الامارحم ربی استثنا کی وجہ سے محل نصب میں ہے اور مابمعنی من ہے یعنی إلامن رحم ربی جس پر میرا رب رحم فرمائے تو وہ اس سے بچ جاتا ہے۔ اور ماکا بمعنی من استعمال ہونا کثیر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فانکحوا ماطاب لکم من النسآء (النساء :3) یہاں بھی بمعنی من ہے۔ یہ استثنا منقطع ہے، کیونکہ یہ نفس امارہ کے زنا سے بچنے کے ذریعے رحم کیے جانے کی استثنا ہے۔ نبی کریم ﷺ سے مروی روایت میں ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا :” تم اپنے ایسے ساتھی کے بارے میں کیا کہتے ہو کہ اگر تم اس کی عزت کرو، اطاعت کرو اور اسے کپڑے پہناؤ تو وہ تمہیں برائی کی انتہا تک لے جائے اور اگر تم اس کی اہانت کرو، اسے ننگا کرو اور اس کی مخالفت کرو تو وہ تمہیں بھلائی کی انتہا تک لے جائے “۔ ان (صحابہ) نے کہا : یارسول اللہ ! یہ زمین میں برادوست ہے، آپ نے فرمایا : ” مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! یہ تمہارے ان نفوس کا دوست ہے جو تمہارے پہلوؤں میں ہیں “۔
Ayah 12:54

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ Open ayah 12:54 in the Quran reader

بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤ نگا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحب اعتبار ہو۔

آیت نمبر 54 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وقال الملک ائتونی بہٖ استخلصہ لنفسی جب بادشاہ کے سامنے آپ کی برأت ثابت ہوگئی، اس واقعہ میں آپ کی امانت متحقق ہوگئی اور وہ آپ کے صبر اور حوصلے کو بھی پہچان گیا تو اس کے نزدیک آپ کا مقام بڑھ گیا اور اسے آپ کی دوستی کی عمدگی کا یقین ہوگیا تو اس نے کہا : ائتونی بہٖ استخلصہ لنفسی بادشاہ کی گفتگو کو ملاحظہ کرو کہ جب آپ کا علم ثابت ہوا تو اس نے صرف ائتونی بہٖ کہا اور جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دوبارہ یہ معاملہ کیا تو اس نے ائتونی بہٖ استخلصہ لنفسی کہا۔ حضرت وہب بن منبہ سے روایت ہے انہوں نے کہا : جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بلایا گیا تو آپ دروازے پر کھڑے ہوگئے اور فرمایا : مخلوق میں سے مجھے میرا رب کافی ہے، اس کا پڑوس عزت والا ہے، اس کی تعریف اعلی ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پھر آپ داخل ہوئے، جب بادشاہ نے آپ کی طرف دیکھا تو اپنے تخت سے نیچے اترا اور آپ کو سجدہ کرتے ہوئے گر پڑا پھر بادشاہ نے آپ کو اپنے ساتھ تخت پر بیٹھا یا اور کہا : انک الیوم لدینا مکین امین حضرت یوسف نے اسے کہا : اجعلنی علیٰ خزآئن الارض ۚانی حفیظ یعنی خزانوں کی (حفاظت کرنے والا) علیم اس کے اندرتصرف کے طریقون کو (جاننے والا) ۔ ایک قول یہ ہے : حساب کو یاد کرنے والا، زبانوں کو جاننے والا۔ حدیث میں ہے :” اللہ میرے بھائی یوسف پر رحم فرمائے اگر آپ اجعلنی خزآین الارض نہ کہتے تو اسی وقت وہ آپ کو بنا دیتا لیکن اس نے اس معاملہ کو ایک سال تک مؤخر کردیا “۔ اور اس واقعہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) بادشاہ کے پاس گئے تو آپ نے کہا : یا اللہ ! اس کی بھلائی میں سے تیری بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس کے شر اور دیگر لوگوں کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں، پھر آپ نے بادشاہ کو عربی میں سلام کیا تو اس نے کہا : یہ کون سی زبان ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ میرے چچا اسماعیل کی زبان ہے پھر آپ نے اسے عبرانی میں بلایا تو اس نے کہا : یہ کون سی زبان ہے ؟ آپ نے فرمایا : میرے باپ ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کی زبان۔ بادشاہ ستر زبانوں میں گفتگو کرتا تھا تو جب بھی بادشاہ کسی زبان میں گفتگو کرتا حضرت یوسف (علیہ السلام) اسے اسی زبان میں جواب دیتے تو بادشاہ آپ کی اس صورتحال سے متعجب ہوا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عمر اس وقت تیس سال تھی۔ پھر اس نے آپ کو اپنے تخت پر بٹھایا اور کہا : میں آپ سے اپنا خواب سننا چاہتا ہوں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : ہاں اے بادشاہ ! تو نے سات موٹی تازہ گائیں دیکھیں۔ آپ کے سامنے دریائے نیل کو ان سے ظاہر کردیا گیا وہ نیل کے کنارے سے تیرے پاس آئیں ان کے تھن دودھ سے بہہ رہے تھے اسی دوران تو نے ان کی طرف دیکھا اور ان کی خوبصورتی سے توحیران ہوا۔ اس دوران نیل کا پانی جذب ہوگیا اور اس کی خشکی ظاہر ہوگئی تو اس کے کیچڑ سے سات دبلی پتلی گائیں نکلیں جن کے بال بکھرے ہوئے، پراگندہ اور پیٹ سکڑے ہوئے تھے، ان کی نہ کوئی کھیریاں تھیں اور نہ ہی تھن۔ ان کے دانت داڑیں تھیں اور کتے کے پاؤں جسے پاؤں تھے اور سونڈ درندوں جیسے تو وہ موٹی تازہ گائیوں کے ساتھ مل گئیں انہوں نے انہیں درندوں کی طرح چیراپھاڑا، ان کے گوشت کھاگئیں، ان کی جلدوں کو پھاڑدیا، ان کی ہڈیوں کو انہوں نے توڑ دیا اور ان کے دماغ نکال دیئے اس دوران تو ان کو دیکھتا رہا اور حیران ہوا کہ انہوں نے کیسے غلبہ حاصل کرلیا حالانکہ وہ کمزور ہیں ؟ پھر ان میں کوئی موٹا پا ظاہر نہ ہوا اور نہ ہی انہیں کھانے کے بعد ان میں کوئی اضافہ ہوا۔ سات سرسبز و شاداب اور نرم ونازک خوشے تھے جو دانوں اور پانی سے بھرے ہوئے تھے، ان کی دوسری جانب سات خشک خوشے تھے جن میں نہ کوئی پانی تھا اور نہ ہی شادابی، ان کی ٹہنیاں مٹی اور پانی میں تھیں اسی دوران تو اپنے آپ سے کہتا ہے : یہ کون سی چیز ہے ؟ یہ شاداب پھل ہیں اور وہ سیاہ خشک جبکہ ان کا اگنے والا تنا ایک ہی ہے، ان کی جڑیں پانی میں ہیں، تب ہوا چلی تو اس نے سیاہ خشک پتوں کو شاداب پھلدار پتوں پر ڈال دیا تو ان میں آگ بھڑک اٹھی تو اس نے انہیں جلا دیا، تب ہواچلی تو وہ سیاہ راکھ بن گئے تو اے بادشاہ ! تو خوف زدہ ہو کر بیدار ہوگیا، بادشاہ نے کہا : اللہ کی قسم ! اس کی حقیقت کیا ہے اگرچہ یہ اس سے بھی زیادہ عجیب تھی جو آپ سے سنی اے صدیق ! میرے خواب کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ تو کھانا جمع کرے گا اور ان شاداب سالوں میں بہت زیادہ کھیتی کاشت کرے گا، اگر تو کسی پتھر یا کیچڑ پر کاشت کرے گا تو وہ بھی آگے گا اور اس میں بھی اللہ تعالیٰ بڑھوتری اور برکت ظاہر فرمائے گا پھر تو ان خوشوں سے فصل اٹھائے گا اس کے لیے بڑے بڑے بھڑولے بنائے جائیں گے : تو خوشے اور پودے جانوروں کا چارہ بنیں گے جبکہ دانے لوگوں کے لیے ہوں گے، تو لوگوں کو حکم دے گا، وہ اپنے کھانے میں سے تیرے بھڑولوں میں پانچواں حصہ پہنچائیں گے تو جو کھانا تو جمع کرے گا وہ تمام شہر والے لوگوں اور اردگرد رہنے والے لوگوں کے لیے کافی ہوگا گردو نواح سے لوگ تیرے پاس آئیں گے اور تجھ سے لے کرجائیں گے اور تیرے پاس اتنا خزانہ جمع ہوجائے گا کہ تم سے پہلے کسی کے پاس بھی جمع نہیں ہوا ہوگا۔ تو بادشاہ نے کہا : ان امور کی تدبیر کون کرے گا ؟ اگر سب شہر والوں کو جمع کیا جائے تو وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے اور وہ اس سلسلہ میں اعانت سے کام لینے والے نہیں، تو اس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : اجعلنی علیٰ خزآئن الارض۔ خزآئن الارض سے مراد علی خزائن ارضک ہے یہ خزانۃ کی جمع ہے اور اضافت کے عوض اس پر الف، لام آیا ہے، جس طرح نابغہ کا قول ہے : لھم شیمۃ لم یعطھا اللہ غیرھم من الجود والاحلام غیر کو اذب (والاحلام اصل میں احلامک ہے تو اضافت کے عوض احلام پر الف لام آیا ہے) اللہ تعالیٰ کا ارشاد : استخلصہ لنفسی مجزوم ہے کیونکہ یہ جواب امر ہے اور یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ذٰلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب قید خانے میں جاری ہوا، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بادشاہ کے پاس کیا گیا ہو پھر اس نے دوسری مجلس میں ائتونی تاکیدا کہا ہو۔ استخلصہ لنفسی یعنی میں اس کو اپنے لیے خالص بنالوں گا، اپنی مملکت کے امور اس کے سپرد کروں گا۔ تو وہ گئے اور آپ کو لے آئے۔ اس بات پر فلما کلمہ دلالت کرتا ہے، یعنی بادشاہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ کلام کیا اور آپ سے خواب کے بارے میں پوچھا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جواب دیا، قال بادشاہ نے کہا : انک الیوم لدینا مکین امین مکین سے مراد متمکن کا قول نافذ ہو ” امین “ تجھے دھوکے کا کوئی خوف نہیں ہوگا۔