12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 12:18

وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:18 in the Quran reader

اور ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا حقیقت الحال یوں نہیں تم اپنے دل سے یہ بات بنا لائے ہو اچھا صبر اور وہی خوب ہے اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں خدا ہی سے مدد مطلوب ہے۔

آیت نمبر 18 وجآء وعلیٰ قمیصہٖ بدمٍ کذبٍ اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : بدمٍ کذبٍ مجاہد نے کہا : وہ بکری یا بھیڑ کے بچے کا خون تھا جس کو انہوں نے ذبح کیا۔ قتادہ نے کہا : وہ ہرن کا خون تھا وجاء واعلیٰ قمیصہ بدم مکذوب فیہ دم کی صفت مصدر کیساتھ لگائی گئی تو تقدیر عبارت یوں ہوگی : بدم ذی کذب جیسے واسال القریۃ بعض اوقات فاعل اور مفعول دونوں کا نام مصدر کے ذدیعے رکھا جاتا ہے۔ ھذا ضرب الامیر یعنی مضروبہ، اسی طرح ماء سکب یعنی مسکوب، ماء غور یعنی غائر اور رجل عدل یعنی عادل۔ حضرت حسن ؓ اور حضرت عائشہ ؓ نے بدم کذاب پڑھا ہے دال کیساتھ یعنی تازہ خون کے ساتھ، تازہ خون کو الکذب کہا جاتا ہے، اور انہوں نے یہ بھی حکایت کیا ہے کہ تبدیل ہوا خون ہے۔ یہ شعبی کا قول ہے۔ اور الکذب اس سفیدی کو بھی کہتے ہیں جو احداث کے ناخنوں میں نکلتی ہے : تو ہو سکتا ہے کہ قمیض میں خون اس سفیدی کے مشابہ ہو جو رنگوں کے اختلاف کی صورت میں ناخن میں نکلتی ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ ہمارے علماء (رح) نے کہا : جب انہوں نے خون کو اپنی سچائی کی علامت بنانا چاہا تو اللہ تعالیٰ نے علامت کو اس کے معارض علامت بنا دیا اور وہ ہے قمیض کا پھٹنے سے محفوظ رہنا کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ بھیڑ یا حضرت یوسف (علیہ السلام) کو پھاڑے اور آپ نے قمیض پہنی ہوئی ہو اور قمیض پھٹنے سے محفوظ رہی۔ جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے قمیض میں غور وفکر کیا اور اس میں کوئی پھٹن اور اثر نہ پایا تو اس کے ذریعے آپ نے ان کے جھوٹ پر استدلال کیا اور انہیں کہا : یہ بھیڑیا حکیم کب کا بن گیا ہے کہ یوسف کو کھاتا ہے اور قمیض نہیں پھاڑتا ؟ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور دیگر کا قول ہے۔ اسرائیل نے سماک بن حرب عن عکرمہ عن ابن عباس ؓ روایت کیا ہے آپ نے فرمایا : خون بکری کے بچے کا تھا۔ سفیان نے سماک عن عکرمہ عن ابن عباس ؓ سے روایت کیا آپ نے کہا : جب آپ (حضرت یعقوب علیہ السلام) نے اس کی طرف دیکھا تو فرمایا : تم نے جھوٹ بولا، اگر بھیڑیے نے کھایا ہوتا تو ضرور قمیض پھٹتی۔ ماوروی نے حکایت کی کہ قمیض کے بارے میں تین نشانیاں ہیں۔ جب وہ اس پر جھوٹا خون لگا کرلے آئے، جس وقت پیچھے سے آپ کی قمیض کو پھاڑا گیا اور جس وقت آپ کے باپ کے چہرے پر اسے ڈالا گیا اور بینائی لوٹ آئی۔ میں نے کہا : یہ مردود ہے، پس وہ قمیض جس پر وہ خون لگا کر لائے وہ اس کے علاوہ تھی جس کو پھاڑا گیا اور جس کے ذریعے خوشخبری لائی گئی۔ ایک قول یہ ہے : وہ قمیض جس کو پھاڑا گیا وہ وہی تھی جس کو لانے کی وجہ سے بینائی واپس آگئی جس طرح کہ اس کا بیان انشاء اللہ تعالیٰ سورت کے آخر میں آئے گا، ایک رویت یہ ہے کہ انہوں نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو کہا : بلکہ چوروں نے اسے قتل کیا ہے ان کے قول مختلف ہوگئے تو آپ نے ان پر الزام لگایا اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کو کہا : تم یہ گمان کرتے ہو کہ بھیڑیے نے اسے کھالیا ہے، اگر اس نے اسے کھایا ہوتا تو اس کی جلد تک پہنچنے سے پہلے اس کی قمیض ضرور پھٹ گئی ہوتی حالانکہ مجھے قمیض میں کوئی پھٹن دکھائی نہیں دے رہی اور تمہارا یہ گمان ہے کہ چوروں نے اسے قتل کردیا ہے، اگر وہ اسے قتل کرتے تو وہ اس کی قمیض ضرور لے لیتے وہ تو کپڑے ہی لیتے ہیں، تو اس وقت انہوں نے کہا : ومآانت بمومنٍ لنا ولو کنا صٰدقین حضرت حسن اور دیگر سے ہی روایت ہے یعنی اگر ہم سچائی کے ساتھ موصوف بھی ہوں تب بھی آپ ہم پر ضرور الزام لگائیں گے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ فقہاء نے اس آیت کے ذریعے فقہ کے مسائل میں نشانیوں کو عمل میں لانے پر استدلال کیا ہے جس طرح قسامت وغیرہ، اور اس پر اجماع ہوا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے قمیض کے صحیح ہونے کے ذریعے ان کے جھوٹ پر استدلال کیا ہے، اسی طرح اگر علامات میں تعارض واقع ہوجائے تو دیکھنے والے کو علامات اور نشانیوں کو دیکھنا چاہے اور ان میں سے جو ترجیح پا جائیں جانب ترجیح کے ذریعے فیصلہ دینا چاہیے اور یہ الزام کی قوت ہے اور اس کے ذریعے فیصلہ دینے میں کوئی اختلاف نہیں، یہ ابن عربی کا قول ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : قال بل سولت لکم انفسکم امرًاؕ فصبر جمیل اس میں تین مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1 ۔ روایت ہے جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو انہوں نے کہا : فاکلہ الذئب آپ نے انہیں کہا : کیا بھیڑیے نے اس کو کوئی عضو نہیں چھوڑا وہ میرے پاس لے آؤ تاکہ میں اس کے ذریعے انس حاصل کروں ؟ کیا اس نے میرے لیے کوئی کپڑا نہیں چھوڑا جس میں میں اس کی خوشبو سونگھوں ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ! یہ اس کی قمیض ہے جو اس کے خون میں لت پت ہے، یہی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وجآوعلیٰ قمیصہ بدم کذبٍ اس وقت حضرت یعقوب (علیہ السلام) روئے اور اپنے بیٹوں کو کہا : اس کی قمیض مجھے دکھاؤ، انہوں نے قمیض دکھائی آپ نے اس کو سونگھا اور چوما، پھر آپ اس کو الٹ پلٹ کرنے لگے تو اس میں کوئی سوارخ اور پھٹن دکھائی نہ دیا تو آپ نے فرمایا : اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ! میں نے آج تک ایسا مضبوط بھیڑیا نہیں دیکھا وہ میرے بیٹے کو کھا گیا اس نے اسے قمیض سے ایسے نکال لیا ہے کہ قمیض کو بالکل پھاڑا ہی نہیں اور آپ کو پتا چل گیا کہ معاملہ اس طرح نہیں جس طرح انہوں نے کہا ہے اور یہ معلوم ہوگیا کہ بھیڑیے نے اسے نہیں کھایا، آپ نے ناراض شخص کی طرح ان سے اعراض کرلیا اس حال میں کہ آپ پریشان بھی تھے اور رو بھی رہے تھے اور کہا : اے میرے بیٹوں کی جماعت ! میرے بیٹے کی طرف میری رہنمائی کرو اگر وہ زندہ ہوا تو میں اسے اپنے پاس لے آؤں گا اور اگر مردہ ہوا تو میں اس کا کفن دفن کروں گا۔ تو اس وقت انہوں نے کہا : ہمارے باپ کو دیکھو کس طرح ہماری گفتگو کی تکذیب کرتا ہے ؟ آؤ اسے کنویں سے نکالیں، اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیں اور اپنے باپ کے پاس اس کا کوئی عضو لے آئیں تاکہ یہ ہماری گفتگو کی تصدیق کرے اور اس کی امید ختم ہو، یہوذا نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر تم نے ایسا کیا تو میں جب تک زندہ رہوں گا تمہارا دشمن بن جاوں گا اور تمہارے باپ کو تمہاری بری کاروائی سے آگاہ کروں گا، انہوں نے کہا : اگر تو ہمیں اس کام سے روکتا ہے تو آؤ ہم کسی بھیڑیے کا شکار کریں، اس نے کہا : انہوں نے بھیڑیے کا شکار کیا اسے خون میں لت پت کیا اور رسیوں کے ساتھ باندھ دیا پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پاس آئے اور کہا : اے ہمارے باپ ! یہ وہ بھیڑیا ہے جو ہمارے ریوڑ کا نقصان کرتا ہے ان کی چیر پھاڑ کرتا ہے اور شاید یہ وہی ہے جس نے ہمارے بھائی کو قتل کرکے ہمیں اذیت دی ہے ہمیں اس بات میں کوئی شک نہیں اور یہ اس پر اس کا خون بھی ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا : اس کو چھوڑو، انہوں نے اسے چھوڑدیا تو بھیڑیا آپ کی خاطر اپنی دم ہلانے لگا اور آپ کے قریب ہونے لگا حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اسے کہا : قریب آ، قریب آ یہاں تک کہ آپ نے اس کے رخسار پر اپنا رخسار رکھ دیا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) مئ اسے کہا : اے بھیڑیے ! تو نے میرے بیٹے کی وجہ سے کیوں تکلیف پہنچائی اور مجھے لمبی پریشانی کا وارث بنادیا ؟ پھر کہا : اے اللہ ! اسے قوت گویائی دے دی، تو اللہ نے اسے قوت گویائی دے دی، اس نے کہا : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو نبی چن کیا ہے نہ میں نے اس کا گوشت کھایا، نہ میں نے اس کے کپڑے پھاڑے اور نہ ہی میں نے اس کا کوئی بال بیکا کیا، اور اللہ کی قسم ! اور نہ ہی مجھے آپ کے بیٹے کے بارے میں کوئی خبر ہے، میں تو ایک اجنبی بھیڑیا ہوں مصر کے نواحی علاقے سے اپنے گمشدہ بھائی کی تلاش میں آیا ہوں مجھے نہیں معلوم کہ زندہ ہے یا مرگیا ہے۔ پھر آپ کے بیٹوں نے مجھے شکار کرکے باندھ دیا ہے، بیشک انبیاء کے گوشت مجھ پر اور تمام وحشی جانوروں پر حرام ہیں، اور اللہ کی قسم ! میں ایسے شہروں میں نہیں رہتا جن میں انبیاء کی اولادیں جانوروں پر جھوٹے الزام لگائیں تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اسے چھوڑدیا اور فرمایا : اللہ کی قسم ! تم تو اپنے خلاف میرے پاس حجت لائے ہو یہ بھیڑیا ایک جانور ہے جو اپنے بھائی کی تلاش میں اس کے پیچھے نکلا ہوا ہے اور تم نے اپنے بھائی کو ضائع کردیا ہے۔ مجھے معلوم ہوگیا ہے کہ بھیڑیا اس الزام سے بری ہے جس میں پکڑکے تم اسے لائے ہو۔ بل سولت یعنی مزین کردیا لکم انفسکم امرًاتمہارے لیے ایسا معاملہ جو اس کے علاوہ ہے جس کو تم بیان کرتے ہو اور جس کا تم تذکرہ کرتے ہو۔ پھر آپ نے اپنی تسلی کے لیے فرمایا : فصبرجمیل۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ زجاج نے کہا : یعنی میرا مقام اور جس کا میں عقیدہ رکھتا ہوں فصبر جمیل ہے۔ قطرب نے کہا : یعنی میرا صبر، صبر جمیل ہے ایک قول یہ ہے : اس سے مراد یہ ہے کہ صبر جمیل میرے لیے زیادہ مناسب ہے، یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر محذوف ہے۔ روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے صبر جمیل کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا : ” صبر جمیل وہ ہے جس کے ساتھ شکوہ نہ ہو “۔ انشاء اللہ اس کا بیان سورت کے آخر میں آئے گا۔ ابوحاتم نے کہا : عیسیٰ بن عمر نے سہل بن یوسف کے گمان کے مطابق فصبرا جمیلاً پڑھا ہے، اس نے کہا : اور اسی طرح اشہب عقیلی نے پڑھا ہے، اسی طرح مصحف انس اور ابی صالح میں ہے۔ مبرونے کہا : فصبر جمیل رفع کے ساتھ پڑھنا نصب کی نسبت زیادہ بہتر ہے کیونکہ معنی یہ ہے : قال رب عندی صبر جمیل اس نے کہا : نصب صرف مصدر کی بنیاد پر ہے، یعنی فلأ صبرن صبرا جمیلا، (شاعر نے) کہا : شکا إلی جملی طول السری صبرا جمیلا فکلانا مبتلی صبر جمیل وہ ہے جس میں نہ جزع ہو اور نہ شکوہ ہو۔ ایک قول یہ ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ میں تمہارے ساتھ غمگین چہرے اور پیشانی پر بل ڈال کر نہیں رہوں گا بلکہ میں تمہارے ساتھ جس حالت میں پہلے تھا اسی حالت میں رہوں گا، اس میں اس بات پر بھی دلیل ہے کہ آپ نے انہیں مواخذہ سے معاف کردیا تھا۔ حبیب بن ابی ثابت سے روایت ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بھنویں ان کی دونوں آنکھوں پر گر گئی تھیں اور کسی کپڑے کے ساتھ انہیں اٹھاتے تھے۔ آپ کو کہا گیا : یہ کیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : زمانے کی طوالت اور پریشانیوں کی کثرت، تو اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی : اے یعقوب (علیہ السلام) ! کیا مجھ سے شکوہ کرتا ہے ؟ تو آپ نے عرض کیا : اے میرے پروردگار ! یہ غلطی ہے جو مجھ سے سرزد ہوگئی پس تو مجھے معاف فرما۔ واللہ المستعان یہ مبتدا اور خبر ہے علیٰ ماتصفون یعنی اس احتمال پر جو تم کذب میں سے بیان کرتے ہو۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ ابن ابی رفاعہ نے کہا : اہل رائے کو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے گمان کے وقت ( ایک مرتبہ آپ کا گمان درست تھا جبکہ دوسری دفعہ درست نہیں تھا) اپنی رائے کو درست کرنا چاہیے۔ جب آپ کے بیٹوں نے آپ کو کہا : اناذھبنا نستبق وترکنا یوسف عند متاعنافاکلہ الذئب تو آپ نے فرمایا : بل سولت لکم انفسکم امرًا فصبر جمیل تو یہاں آپ کا گمان درست تھا۔ پھر انہوں نے کہا : ان ابنک سرقۚ وماشھدنآ الابما علمنا وما کنا للغیب حٰفظین۔ (یوسف) آپ نے فرمایا : بل سولت لکم انفسکم امرًا تو یہاں آپ کا گمان درست نہ تھا۔
Ayah 12:19

وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:19 in the Quran reader

(اب خدا کی شان دیکھو) کہ اس (کنوئیں) کے قریب ایک قافلہ آوارد ہوا اور انہوں نے (پانی کے لئے) اپنا سقا بھیجا اس نے کنویں میں ڈول لٹکایا (تو یوسف اس سے لٹک گئے) وہ بولا زہے قسمت یہ تو (نہایت حسین) لڑکا ہے۔ اور اسکو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپالیا۔ اور جو کچھ وہ کرتے تھے خدا کو سب معلوم تھا۔

آیت نمبر 19 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وجآءت سیارہ یعنی گزرنے والا قافلہ جو شام سے مصر کی طرف چل رہا تھا وہ راستہ بھول گئے اور تھک گئے یہاں تک کہ انہوں نے کنویں کے قریب پڑاؤ ڈالا اور کنواں آبادی سے دور صحراء میں تھا۔ وہ چرواہوں کے لیے تھا اور اس کا پانی کھاری تھا لیکن جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اس میں ڈالا گیا تو وہ میٹھا ہوگیا۔ فارسلواواردھم معنی کا اعتبار کرتے ہوئے اس کا ذکر کیا گیا کیونکہ اگر لفظوں کا اعتبار ہوتا تو فارسلت واردھم ہوتا جس طرح کہ وجآءت ہے۔ وارد سے مراد وہ شخص ہے جو پانی کے پاس جاتا ہے تاکہ لوگوں کو پانی پلائے اس کا نام مالک بن دعر تھا وہ عرب عاربہ سے تھا۔ فادلی دلوہ یعنی ارسلہ ادلیٰ دلوہ کہا جاتا ہے جب وہ اس (ڈول) کو ڈالے تاکہ وہ اسے پانی سے بھرے۔ اور ” دلاھا “ سے مراد ہے کہ اس نے اسے نکالا۔ اصمعی وغیرہ سے منقول ہے : دلایدلودلوا سے مراد جذب اور اخرج ہے اسی طرح ادلی ہے جب وہ اسے کہ اسے پھینکے، اور جب یہ ثقیل ہوجائے تو پھر یہ وادی کے بجائے یائی ہوجاتا ہے کیونکہ یا، واو کی نسبت زیادہ خفیف ہے یہ کو فیوں کا قول ہے۔ خلیل اور سیبویہ نے کہا : جب یہ تین حروف سے تجاوز کرجائے تو یائی ہوجاتا ہے۔ مستقبل کی اتباع کرتے ہوئے دلو کی جمع قلت ادل آتی ہے اور جب کثرت بنانی ہو تو ” دلی “ اور دلی آتی ہے پس واو کو یا سے بدل دیا جاتا ہے۔ البتہ جمع کا باب مختلف ہوتا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ واحد اور جمع میں فرق کیا جائے اور دلاء بھی آتی ہے۔ پس حضرت یوسف علیہ السلارسی کے ساتھ چمٹ گئے جب باہر نکلے تو آپ چودھویں کے چاند کی طرح حسین بچے تھے اور عام بچوں کی نسبت زیادہ خوبصورت تھے۔ صحیح مسلم میں آپ ﷺ نے حدیث اسراء میں فرمایا :” تو میں یوسف کے پاس تھا جن کو حسن کا ایک حصہ عطا فرمایا گیا ہے “۔ کعب احبار نے کہا : حضرت یوسف (علیہ السلام) خوبصورت چہرے والے، گھنے بالوں والے، موٹی آنکھوں والے، معتدول تخلیق والے، سفید رنگ والے، سخت کلائیوں اور پنڈلیوں والے، دبلے پیٹ والے اور چھوٹی ناف والے تھے، جب آپ مسکراتے تو آپ کی مسکراہٹ سے روشنی دکھائی دیتی اور جب آپ گفتگو کرتے تو آپ کے کلام میں آپ کے دانتوں سے سورج کی شعاع دیکھتا، کوئی آدمی بھی اس صورت کو بیان نہیں کرسکتا۔ اور آپ کا حسن رات کے وقت دن کی روشنی طرح تھا۔ جس دن حضرت آدم (علیہ السلام) کو اللہ نے پیدا کیا اور ان میں روح پھونکی اس دن جو کیفیت آپ کی تھی آپ سے خطا سرزد ہونے سے پہلے پہلے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) آپ کی اس حالت کے مشابہ تھے۔ ایک قول یہ ہے : آپ کو یہ خوبصورتی اپنی جدہ حضرت سارہ سے وراثت میں ملی تھی ان کو حسن کا چھٹا حصہ عطا کیا گیا تھا۔ جب مالک بن دعر نے آپ کو دیکھا تو کہا : یٰبشرٰی ھٰذا غلٰم یہ اہل مدینہ اور اہل بصرہ کی قرات ہے سوائے ابن ابی اسحاق کے کہ اس نے یٰبشرٰی ھٰذا غلٰم پڑھا۔ اس نے الف کو یا سے بدل دیا کیونکہ یا ماقبل کو کسرہ دیتی ہے اور جب الف کو کسرہ دینا جائز نہیں تو اس کے عوض اسے ” یا “ سے بدل دیا گیا، جبکہ اہل کوفہ نے ” یابشری “ پڑھا ہے بغیر اضافت کے اس کے معنی کے بارے میں دو قول ہیں ایک یہ کہ۔۔۔۔۔ یہ بچے کا نام ہے۔ اور دوسرا۔۔۔۔۔ اے بشرمی یہ تیرا زمانہ اور تیرا مقام ہے۔ قتادہ اور سدی نے کہا : جب ڈول والے نے اپنا ڈول ڈالا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) اس کے ساتھ لپٹ گئے تو اس نے کہا : یٰبشرٰی ھٰذاغلٰم۔ قتادہ نے کہا : اس نے اپنے دوستوں کو خوشخبری دی کہ اس نے غلام پالیا ہے۔ سدی نے کہا : اس نے ایک آدمی کو پکارا جس کا نام بشرمی تھا۔ نحاس نے کہا : قتادہ کا قول زیادہ بہتر ہے، کیونکہ قرآن میں بہت کم کسی کا نام آیا ہے، بلکہ قرآن میں کنایۃ ذکر آتا ہے، مثلا اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ویوم یعض الظالم علیٰ یدیہ (الفرقان :27) اس سے مراد عقبہ بن معیط ہے اس کے بعد فرمایا : لیتنی لم اتخذفلاناخلیلاً ۔ (الفرقان) یہ امیہ بن خلف ہے۔ یہ نحاس کی ندا کا معنی ہے : جو حاضر ہے اس لے لیے خوشخبری ہے۔ اور یہ تبشرت کے قول سے زیادہ مؤکدہ ہے۔ جس طرح آپ کہتے ہیں : یا عجباہ، یعنی عجب ھذا من ایاتک وأیاتک، فاحضر، یہ سیبویہ کا مذہب ہے۔ اسی طرح سہیلی نے کہا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ اس طرح آپ کہتے ہیں : واسروراۂ ! البشری۔ یہ الاستبشار سے مصدر ہے۔ یہ زیادہ صحیح ہے، کیونکہ اگر یہ اسم ہوتا تو ضمیر کی طرف مضاف نہ ہوتا۔ اس صورت میں بشری محل نصب میں ہوتا، کیونکہ یہ ندا مضاف ہے اور ندا کا معنی بیان ہے یعنی انبتھوا الفرحتی وسروری، اور سدی کے قول کے مطابق یہ محل رفع میں ہوگا جس طرح آپ کہتے ہیں : یازید ھذا غلام۔ اس کا محل نصب میں ہونا بھی ممکن ہے جس طرح : یا رجلا اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد : یٰحسرۃً علی العباد (یٰسین :30) البتہ بشری منون نہیں کیونکہ یہ غیر منصرف ہے۔ واسروہ بضاعۃً ، ہ ضمیر حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کنایۃ ہے جبکہ واو جمع آپ کے بھائیوں سے کنایۃ ہے اور ایک قول یہ ہے کہ ان تاجروں سے کنایۃ ہے جنہوں نے آپ کو خریدا تھا۔ ایک قول یہ ہے : یہ کنوئے پر وارد ہونے والے آدمی اور اس کے دوسرے دوستوں سے کنایۃ ہے۔ بضاعۃً حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ مجاہد نے کہا : مالک بن دعر اور اس کے دوستوں نے آپ کو ان تاجروں سے چھپایا جوان کے ساتھ اس جماعت میں تھے۔ انہوں نے انہیں کہا : یہ سامان ہے اہل شام میں سے کسی نے یا اس پانی والوں میں سے کسی نے یہ ہمیں دیا ہے تاکہ ہم اسے مصر پہنچادیں۔ اور انہوں نے یہ بات صرف اس خوف سے کی کہ کہیں وہ بھی ان کے ساتھ اس میں شریک نہ ہوجائیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے آپ کو ( قیمتی) سامان سمجھ کر چھپالیا جب آپ نے کنوئے سے نکلنا چاہا۔ اس قول کی وجہ یہ ہے کہ جب وہ آئے تو انہوں نے کہا : تم نے کتنا برا کام کیا ہے، یہ تو ہمارا غلام ہے۔ اور انہوں نے عبرانی زبان میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کہا : یا تو ہماری غلامی کا اقرار کرو تو ہم تمہیں ان کے ہاتھوں بیچ دیں گے تاہم تجھے لے لیں گے اور قتل کردیں گے۔ تو آپ نے کہا : میں تمہاری غلامی کا اقرار کرتا ہوں۔ آپ نے ان کی غلامی کا اقرار کیا تو انہوں (بھائیوں) نے آپ کو ان (قافلے والوں) کے ہاتھوں بیچ دیا : ایک قول یہ ہے : آپ کے بھائی یہوذا نے آپ کو کہا کہ آپ اپنے بھائیوں کی غلامی کا اعتراف کرلیں ورنہ مجھے ڈر ہے کہ یہ آپ کو قتل کردیں گے۔ تو اس طرح شاید اللہ تعالیٰ آپ کے لیے نکلنے کی کوئی راہ بنادے اور آپ قتل سے نجات پالیں، تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کے قتل کے خوف سے اپنی حقیقی صورتحال چھپالیں۔ مالک نے کہا : اللہ تعالیٰ کی قسم ! یہ غلام کی نشانی نہیں ہے۔ انہوں (بھائیوں) نے کہا : اس نے ہماری گود میں پرورش پائی ہے۔ ہمارے اخلاق سے مزین ہوا ہے اور ہمارے آداب سیکھے ہیں۔ تو اس نے کہا : اے بچے تو کیا کہتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : انہوں نے سچ کہا ہے، میں نے ان کی گود میں پرورش پائی ہے۔ اور ان کے اخلاق سے مزین ہوا ہوں، تو مالک بن دعر نے کہا : اگر اسے میرے ہاتھ بیچو تو میں اسے تم سے خرید لیتا ہوں۔ تو انہوں نے آپ کو اس کے ہاتھ بیچ دیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا مطلب ہے۔
Ayah 12:20

وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠ Open ayah 12:20 in the Quran reader

اور اسکو تھوڑی سی قیمت (یعنی) معدو دے چند درہموں پر بیچ ڈالا۔ اور انھیں ان (کے بارے) میں کچھ لالچ بھی نہ تھا۔

آیت نمبر 20 اس میں چھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وشروہ، شریت بمعنی اشتریت ہے۔ اسی طرح شریعت بمعنی بعت بھی ہے یعنی (خرید نا اور بیچنا دونوں میں یہ مستعمل ہے) شاعر نے کہا : وشریت بردًا لیتنی من بعد برد کنت ھامہ اس میں شریت بمعنی بعت ہے یعنی میں نے چادر بیچی۔ دوسرے شاعر نے کہا : فلما شراھا فاجیت العین عبرۃً وفی الصدر حزاز من اللوم حامز اس میں بھی شرا سے مراد بیچنا ہے۔ بثمنٍ بخسٍ یعنی تھوڑی قیمت۔ یہ یہاں مصدر ہے جسے اسم کی جگہ پر رکھ دیا گیا ہے، یعنی اصل میں ہے باعوہ بثمن مبخوس یعنی منقوص۔ آپ کے بھائی آپ کی قیمت کے ذریعے کوئی فائدہ نہیں چاہتے تھے بلکہ وہ تو صرف یہ چاہتے تھے کہ آپ اپنے باپ سے دور ہوجائیں۔ ایک قول یہ ہے : آپ کے بھائی یہوذا نے دور سے دیکھا کہ یوسف کو کنوئے سے نکالا گیا ہے تو اس نے دوسرے بھائیوں کو بتایا، وہ آئے اور انہوں نے آپکو آبکش کے ہاتھوں بیچ دیا، جبکہ ایک قول یہ ہے : نہیں بلکہ وہ تین فرلانگ کے فاصلہ سے خبر کی تصدیق کرنے کیلئے واپس آئے تو انہوں نے قافلہ کے نشانات دیکھے تو وہ ان کے پیچھے گئے اور انہیں کہا : یہ ہمارا غلام ہے جو ہم سے بھاگا ہوا ہے تو اس طرح انہوں نے آپکو اس کے ہاتھ بیچا۔ قتادہ نے کہا : بخس بمعنی ظلم ہے۔ ضحاک، مقاتل، سدی اور ابن عطا نے کہا : بخس بمعنی حرام ہے۔ ابن عربی نے کہا : اس کا کوئی خاص معنی نہیں بلکہ یہ اشارہ کرنا مقصود ہے کہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پوری قیمت نہیں لگائی، کیونکہ اگر آپ کے بھائیوں نے آپ کو بیچاتو وہ آپ کی قیمت سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہتے تھے بلکہ وہ تو صرف آپ کو باپ کے سامنے سے دور کرنا چاہتے تھے۔ اور اگر وارد ہونے والوں نے آپ کو بیچا تو انہوں نے آپ کو اپنا بناتے ہوئے مخفی رکھا، یا انہوں نے اپنے ساتھیوں کو کہا : ہمارے ساتھ سامان بھیجو تو انہوں نے سوچا کہ انہیں اس کے بدلے میں کوئی ثمن ادا نہیں کیے گئے اور جو کچھ انہوں نے اس میں سے لیا ہے وہ سارے کا سارا منافع ہے۔ میں (قرطبی) نے کہا : ابن عربی کا قول وانما الاشارہ فیہ الی انہ لم یستوف ثمنہ بالقیمۃ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اگر وہ آپ کی پوری قیمت وصول کرتے تو پھر یہ بیع جائز ہوتی حالانکہ ایسا نہیں۔ یہ بات سدی وغیرہ کی بات کی صحت پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ انہوں نے ایسی ذات پر بیع کی ہے کس کو بیچنا ہی جائز نہیں تھا پس اسی لیے ان کے لیے اس کی قیمت حلال نہ تھی۔ عکرمہ اور شعبی نے کہا : بخس کا معنی ہے قلیل یعنی تھوڑا۔ ابن حیان نے کہا : اس کا معنی زیف یعنی کھوٹا ہے۔ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے آپ کو بیس دوہموں میں فروخت کیا اور آپ کے بھائیوں میں سے ہر ایک نے دو درہم لیے اور وہ کل دس تھے۔ یہی قتادہ اور سدی کا قول ہے۔ ابوالعالیہ اور مقاتل نے کہا : بائیس دوہموں میں (انہوں نے آپ کو فروخت کیا) اور وہ کل گیارہ تھے ہر ایک نے دو دودرھم لیے۔ یہی مجاہد کا قول ہے۔ عکرمہ نے کہا : چالیس درہم کے بدلے آپ کو بیچا گیا۔ لیکن جو کچھ صحابہ سے مروی ہے وہ زیادہ اولیٰ ہے۔ اور بخس یہ ثمن کی صفت ہے۔ وراہم یہ ثمن کا بدل اور اس کی تفسیر ہے۔ اور کہا جاتا ہے دراہم اس بنیاد پر ہے کہ یہ درھام کی جمع ہے۔ اور بعض اوقات یہ اسم جمع بھی ہوتا ہے سیبویہ کے نزدیک۔ اور سیبویہ کے نزدیک ہی مدکسرہ کی وجہ سے یا بن جاتی ہے مگر یہ مدمقصود کی طرح نہیں کیونکہ بصریوں کے نزدیک مدمقصود جائز نہیں نہ شعر میں اور نہ ہی غیر شعر میں، نحویوں نے اس پر شعر بھی پیش کیا ہے : تنفی تداھا الحصی فی کل ھاجرۃ نفی الذارھیم تنقاد الصیاریف اس میں بھی دراھم کے بچائے الدادھیم ہے۔ معدودۃ یہ صفت ہے۔ یہ اس بات پر دلالت ہے کہ ان کے ہاں ثمن گن کردیئے جاتے تھے نہ کہ وزناً ۔ ایک قول یہ ہے۔ یہ قلت ثمن سے عبارت ہے، کیوں کہ دار ہم اتنے نہ بنتے تھے کہ ان کا وزن کیا جاسکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ” اوقیہ “ سے کم کا وزن نہیں کرتے تھے اور اوقیہ سے مراد چالیس درہم ہیں۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ قاضی ابن عربی نے کہا ہے : نقدین کی اصل تو وزن ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : لاتبعوالذھب بالذھب ولا الفغتہ بالفغۃ إلاوزنًا من زاداو داد فقد اربی تم سونے کو سونے کے بدلے اور چاندی کو چاندی کے بدلے نہ بیچو مگر وزن کرکے جس نے زیادتی کی یازیادتی چاہی تو اس نے سودی کام کیا۔ اور وزن کا فائدہ سوائے مقدار کے اور کوئی نہیں، جہاں تک عین وزن کا تعلق ہے تو کوئی منفعت نہیں، مگر اس میں عدد کو جاری کردیا گیا کثرت معاملہ کی وجہ سے لوگوں سے تخفیف کرتے ہوئے، تو اس وجہ سے پھر وزن کرنا ختم ہوگیا، یہاں تک کہ اگر مثقال یا ردہم بنائے جائیں تو ان کی ایک دوسرے کے ساتھ بیع جائز ہوگی بشرطیکہ اس میں کوئی نقصان نہ ہو اور نہ ہی ایک دوسرے سے راجح ہوں۔ پس اگر اس میں نقصان ہو تو پھر معاملہ وزن کے ساتھ ہوگا، اسی وجہ سے اس کو توڑنا یا کاٹنا فساد فی الارض میں سے ہے جس طرح کہ پہلے گزرچکا ہے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ علماء کا دراہم ودنانیر کے بارے میں اختلاف ہے کہ آیا یہ معین ہیں یا نہیں ؟ اس سلسلہ میں امام مالک سے بھی مختلف روایات ہیں۔ اشہب کا نقطہ نظریہ ہے کہ معین نہیں یہ امام مالک (رح) کا ظاہر قول ہے اور یہی حضرت امام ابوحنیفہ (رح) نے بھی کہا ہے۔ ابن قاسم کا نقطہ نظریہ ہے کہ معین ہے۔ اس نے یہ کرخی سے حکایت کیا ہے۔ یہی امام شافعی کا قول بھی ہے۔ اور اختلاف کا فائدہ یہ ہے کہ جب ہم کہیں گے کہ یہ معین نہیں ہوتے تو اس صورت میں جب کوئی آدمی کہے گا : بعتک ھذہ الدنا نیر بھذہ الدراھم کہ میں نے تجھے یہ دینار ان دراہم کے بدلے میں بیچے تو اس صورت میں تو دنیار، دنیار والے کے ذمے ہوجائیں اور دراہم، دراہم والے کے ذمے اور معین ہوں پھر ضائع ہوجائیں تو ان دونوں کے ذمے کوئی شے نہیں ہوگی اور جس طرح عروض وغیرہ میں سے اعیان کی بیع باطل ہوجاتی ہے اسی طرح یہ عقد بھی باطل ہوجائے گا۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ حضرت حسن بن علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے لقیط کے بارے میں فیصلہ کیا کہ وہ آزاد ہے اور وشروہ بثمن بخسٍ دراھم معدودۃ پڑھا، اس کے بارے میں گفتگو گزرچکی ہے۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وکانوافیہ من الزاھدین ایک قول یہ ہے : اس سے مراد آپ کے بھائی ہیں۔ ایک قول کے مطابق : قافلہ والے ہیں۔ ایک قول کے مطابق : آبکش مراد ہے۔ جو بھی مراد ہے یہ ان کے نزدیک قابل رشک نہیں تھے۔ یہ ہی بھائیوں کے نزدیک : کیونکہ ان کا مقصد مال کا حصول نہیں تھا بلکہ صرف باپ کی آنکھوں سے ان کو اوجھل کرنا مقصود تھا۔ اور نہ ہی قافلہ والوں کے نزدیک کیونکہ انہیں آپ کے بھائیوں نے کہا تھا کے یہ ہمارا بھاگا ہوا غلام ہے۔ اور زھد سے مراد قلب رغبت ہے۔ اور نہ ہی آبکش کے نزدیک کیونکہ اس کو دوسرے دوستوں کی شراکت داری کا خوف تھا۔ اور ان کا خیال ہے کہ ثمن میں سے قلیل انفراد میں اولیٰ ہے۔ مسئلہ نمبر 6 ۔ اس آیت میں کسی بڑی چیز کو انتہائی تھوڑی قیمت کے بدلے میں خریدنے کے جواز پر دلیل ہے اور یہ بیع بھی لازم ہوجائے گی۔ اسی وجہ سے امام مالک (رح) نے کہا : کسی نے اگر کوئی بڑا درہ ایک درھم کے بدلے بیچا پھر کہا کہ مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ درہ ہے، میں نے تو اسے مخشلبہ (موتی کی شکل کا سفید کچ) سمجھا تو اسے بیع لازم ہوجائے گی اور اس کی گفتگو کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جائے گی۔ ایک قول یہ ہے : وکانو افیہ من الزاھدین سے مراد ہے کہ وہ آپ کے حسن میں رغبت نہ رکھتے تھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اگرچہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو حسن کا نصف حصہ عطا فرمایا مگر آپ کی عزت وتعظیم کے طور کے نفوس کی رغبت کو آپ سے پھیردیا گیا۔ ایک قول یہ ہے : وکانوافیہ من الزاھدین اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ آپ کے مقام و مرتبہ کو نہ جانتے تھے۔ سیبویہ اور کسائی نے بیان کیا : زھدت وزھدت یعنی ھاء کے کسرہ اور فتح دونوں کے ساتھ۔
Ayah 12:21

وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١٘ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:21 in the Quran reader

اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے (جس کا نام زلیخا تھا) کہ اس کو عزت و اکرام سے رکھو ' عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سر زمین (مصر) میں جگہ دی اور غرض یہ تھی کہ ہم ان کو (خواب کی) باتوں کی تعبیر سکھائیں اور خدا اپنے کام پر غالب ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

آیت نمبر 21 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وقال الذی اشترٰئہ من مصرلامراتہٖ اکرمی مثوٰئہ ایک قول یہ ہے : یہاں الاشتراء یعنی الاستبدال ہے کیونکہ یہ عقد نہیں تھا۔ جس طرح : اولٰئک الذین اشتروا الضلٰلۃ بالھدٰی (البقرہ :16) ہے یعنی وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے خریدا (تبدیل کیا) ایک قول یہ ہے : انہوں نے ظاہری حالت میں اس کو خرایدای گمان کیا، تو ظاہر گمان کے مطابق اس لفظ کو جاری کردیا ضحاک نے کہا : وہ آدمی جس نے آپ کو خریدا وہ مصر کا بادشاہ تھا اور اس کا لقب عزیز ہے۔ سہیلی نے کہا : اس کا نام قطفیر ہے ابن اسحاق نے کہا : اطفیر بن رویحب نے اپنی بیوی راعیل کے لیے اسے خریدا۔ مارودی نے اسے ذکر کیا ہے۔ ایک قول کے مطابق : اس کا نام زلیخاء تھا۔ اللہ تعالیٰ نے عزیز (مصر) کے دل میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی محبت ڈال دی تھی تو اس نے اس کی وصیت اپنے اہل خانہ کو کی۔ اس بات کو قشیری نے ذکر کیا ہے۔ اس (عیزیز مصر کی بیوی) کے نام کے بارے میں ثعلبی بن ولید تھا۔ ایک قول کے مطابق : ولید بن ریان اور یہ عمالقہ کا ایک آدمی تھا، جبکہ ایک قول کے مطابق : وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک قول کی وجہ سے کہ : ولقد جآء کم یوسف من قبل بالبینٰت (غافر : 34) اور اس نے سال سو سال زندگی گزاری۔ ایک قول یہ ہے : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون حضرت یوسف (علیہ السلام) کے فرعون کی اولاد میں سے تھا جس طرح کہ اس کا بیان سورة غافر میں آئے گا اور یہ عزیز جس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بادشاہ کے خزانوں پر (نگرانی کے لیے) خریدا اس نے مالک بن وعر سے حضرت یوسف کو بیس دینار کے عوض خریدا اور اس کے ساتھ ایک حلۃ اور نعلین زائد دیے۔ ایک قول یہ ہے : اس نے آپ کو قافلہ والوں سے خریدا۔ ایک قول کے مطابق : انہوں نے آپ کی قیمت میں اتنی زیادتی کرلی کہ آپ کے وزن کے دو گنا وزن کئ برابر مسک، عنبر، ریشم، چاندی، سونا، موتی اور جواہر تھے جنکی قیمت سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔ قطفیر نے مالک بن دعر سے اس قیمت کے عوض آپ کو خرید لیا۔ یہ وہب بن منبہ کا قول ہے۔ وہب نے اس کے علاوہ بھی ایک بات کی ہے : جب مالک بن دعر نے حضرت یوسف کو ان کے بھائیوں سے خریدا تو ان کے درمیان ایک معاہدہ لکھا گیا : یہ جس کو مالک بن دعر نے بنی یعقوب میں سے بیس درہم کے عوض خریدا ہے اور فلاں فلاں ہیں ان کا غلام ہے۔ اور انہوں نے یہ شرط رکھی کہ یہ بھاگا ہوا ہے اور یہ اس کو بغیر قید اور بیڑیوں کے نہیں رکھے گا اور اس نے ان کو اس بات پر اللہ تعالیٰ کا عہد دیا۔ اس نے کہا : اس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) نے انہیں الودع کہا اور آپ کہہ رہے تھے : اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے اگرچہ تم نے مجھے ضائع کردیا، اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے اگرچہ تم نے مجھے رسوا کیا، اور اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر رحم کرے اگرچہ تم نے میرے اوپر رحم نہیں کیا۔ انہوں نے کہا : اس الوداع کی شدت کے سبب ریوڑ نے اپنے پیٹوں میں موجود تازہ خون باہر پھنک دیا۔ انہوں نے آپ کو اونٹ کے ایسے پالان پر بیٹھایا جس پر کوئی فرش اور بچھونا وغیرہ نہیں تھا اور آپ کو قید کرکے بیڑیاں پہنادیں۔ آپ آل کنعان کے قبرستان کے پاس گزرے تو آپ نے اپنی ماں کی قبر کو دیکھا اور ایک سیاہ فام حبشی ان کے پہرے پر مامور تھا وہ غافل ہوگیا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے آپ کو اپنی والدہ کی قبر پر گرادیا اور ان کی قبر پر لوٹ پوٹ ہونے لگے اور ان کی قبر سے گلے لگ گئے اور اضطراسب سے کہنے لگے : اے میری ماں ! سر اٹھا کع اپنے بیٹے کو دیکھ۔ وہ کس طرح زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے گلے میں غلامی کا طوق پڑا ہوا ہے انہوں نے میرے والد اور میرے درمیان جدائی ڈال دی ہے آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ہم کو اپنی رحمت کے مستقر میں جمع کردے، بیشک وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے جب اس حبشی نے حضرت یوسف کو پالان پر نہیں دیکھا تو وہ پیچھے دوڑا تو آپ ایک قبر پر تھے اس نے غور کیا تو وہ آپ ہی تھے تو اس نے اپنے پیر سے خاک پر ٹھوکر ماری اور آپ کو لوٹ پوٹ کردیا اور آپ کو درد ناک مارلگائی، تو آپ نے اسے فرمایا : ایسا مت کرو ! اللہ تعالیٰ کی قسم ! میں بھاگا ہوا نہیں، جب میں اپنی ماں کی قبر کے پاس سے گزراتو میں نے چاہا کہ میں اپنی ماں کو الوداع کہوں اور میں ایسا کام دوبارہ نہیں کروں گا کو تم کو ناپسند ہو۔ حبشی نے کہا : اللہ کی قسم ! تو بہت برا غلام ہے تو کبھی اپنے باپ کو پکارتا ہے اور کبھی اپنی ماں کو تو نے اپنے مالکوں کے سامنے ایسا کیوں نہیں کیا ؟ آپ نے اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھایا اور عرض کی : اے اللہ ! اگر تیرے نزدیک میرے یہ کام خطا ہیں تو میں اپنے داد ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے وسیلہ سے دعا کرتا ہوں کہ تو مجھے معاف کردے اور مجھ پر رحم فرما، تب آسمان کے فرشتوں نے چیخ و پکار کی اور حضرت جبریل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور کہا : اے یوسف : اپنی آواز کو پست رکھیں، آپ نے تو آسمان کے فرشتوں کو رلادیا ہے۔ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں زمین کو الٹ پلٹ کردوں اس کے اوپر والے حصہ کو نیچے کردوں ؟ آپ نے فرمایا : اے جبریل ٹھہرو ! اللہ تعالیٰ حلیم ہے جلدی نہیں کرتا۔ تو جبریل نے زمین پر اپنا پر مارا تو زمین پر اندھیرا چھا گیا اور گردوغبار اڑنے لگا اور سورج کو گہن لگ گیا اور قافلہ ایسا تھا کہ کوئی آدمی دوسرے کو نہیں پہچان رہا تھا، قافلہ کے سردار نے کہا : تم میں سے ضرور کسی نے ایسا کام کیا ہے جو پہلے نہیں کیا گیا تھا۔ میں اتنے لمبے عرصہ سے اس علاقہ میں سفر کررہا ہوں، اور میرے ساتھ کبھی اس قسم کا معاملہ پیش نہیں آیا۔ تو اس حبشی نے کہا : میں نے اس عبرانی غلام کو تھپڑ مارا تب اس نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور کچھ ایسا کلام کیا جس کو میں نہیں جانتا، کوئی شک نہیں کہ اس نے ہمارے خلاف دعا کی۔ سردار نے ان سے کہا : تو نے ہمیں ہلاک کرنا چاہا، اس (غلام) کو ہمارے پاس لاؤ۔ وہ آپ کو لایا، سردار نے آپ کو کہا : اے لڑکے ! اس نے تم کو تھپڑ مارا جس کے نتیجہ میں ہم پر وہ عذاب آیا جس کو تم نے دیکھا، اگر تم بدلہ لینا چاہو تو تم جس سے چاہو بدلہ لے لو اور اگر تم معاف کر دو تو تم سے یہی توقع ہے۔ آپ نے فرمایا : میں اس امید پر اس کو معاف کرتا ہوں کہ اللہ مجھے معاف فرمادے گا تو گردوغبار چھٹ گیا اور سورج ظاہر ہوگیا اور مشرق ومغرب میں روشنی پھیل گئی اور وہ تاجر صبح شام آپ کی زیارت کرنے لگا اور آپ کی تعظیم و تکریم کرنے لگا یہاں تک کہ آپ مصر پہنچ گئے اور آپ نے دریائے نیل میں غسل کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ سے سفر کی تھکاوٹ دور کردی اور آپ کا حسن و جمال لوٹا دیا وہ سردار آپ کو دن کے وقت لے کر شہر میں داخل ہوا اس حال میں کہ آپ کے چہرے کا نور شہر کی دیواروں میں پڑا رہا تھا۔ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خریدنے کے لیے پیش کیا تو بادشاہ کے وزیر قطفیر نے آپ کو خریدلیا۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے جو گزر چکا ہے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ وہ بادشاہ مرنے سے پہلے آپ پر ایمان لے آیا تھا اور اس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دین کی اتباع کی پھر جن دنوں میں حضرت یوسف (علیہ السلام) مصر کے خزانوں پر مامور تھے وہ بادشاہ مرگیا تو اس کے بعد قابوس بادشاہ بنا، وہ کافر تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اسے اسلام کی دعوت دی تو اس نے اس کا انکار کردیا۔ اکرمی مثوٰئہ یعنی اس کی منزل اور اس کے مقام کو کھانے اور اچھے لباس کی عمدگی کے ذریعے۔ یہ ثوی بالمکان سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہوتا ہے اقام بہ سورة عمران وغیرہ میں یہ گزر چکا ہے۔ عسٰی ان ینفعنا یعنی جب بالغ ہوگا تو ہماری مہمات میں ہمیں کافی ہوگا۔ اونتخذہ ولدًا حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ نامرد تھا اور اس کی اولاد نہیں تھی، اسی طرح امام ابن اسحاق نے کہا : قطفیر عورتوں کی مقاربت نہیں کرتا تھا اور اس کی الاد نہیں تھی۔ اگر یہ کہا جائے : اس نے اونتخذہ ولدًا کیسے کہہ دیا حالانکہ وہ بادشاہ تھا اور غلامی کے ساتھ اسے بیٹا بنانا تو وہ متضاد چیزیں ہیں ؟ تو اس کا جواب یہ دیا جائے گا : وہ اسے آزاد کرے گا اور پھر منہ بولا بیٹا بنالے گا اور منہ بولا بیٹا بنانا ان کے ہاں ایک مروج اور معلوم امر تھا۔ اور اسی طرح ابتداء اسلام میں بھی عام تھا جس طرح اس کا بیان انشاء اللہ سورة الاحزاب میں آئے گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا : فراست کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے اچھے تین آدمی تھے۔ ایک عزیز مصر جس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے چہرے سے سعادت کے آثار بھانپ لیے اور کہا : عسٰی ان ینفعنا اونتخذہ ولدًا شاید یہ ہم کو فائدہ پہنچائے یا ہم اس کو بیٹا بنالیں۔ (دوسری) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بیٹی جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں شرافت کے آثار دیکھ کر اپنے باپ سے کہا تھا : استاجزہ ان خیر من استاجرت القوی الامین۔ (القصص) اے اباجان ! آپ انہیں اجرت پر رکھ لیں۔ بیشک جن کو آپ اجرت پر رکھیں ان میں بہترین شخص وہ ہے جو طاقتور اور ایماندار ہو (تیسرے) حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں جب انہوں نے حضرت عمر ؓ کو خلیفہ نامزد کردیا۔ ابن عربی نے کہا : اس خبر کو نقل کرنے پر اتفاق کرلینے میں مفسرین پر تعجب ہے فراست عجیب علم ہے جس طرح کہ اس کا بیان سورة ” الحجر “ میں آئے گا اور ان کی نقل کردہ اس بات میں، یہ یوں نہیں، کیونکہ حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت عمر ؓ کو خلافت کا والی بنایا تو یہ اعمال میں تجربہ، صحبت میں مواظبت اور طوالت، اور ان کی طرف سے علم احسان کا مشاہدہ کرلینے کے بعد تھا اور یہ فراست کے طریقہ پر نہیں ہے، جہاں تک حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بیٹی کا تعلق ہے تو اس کے پاس بھی واضح علامات موجود تھیں جس طرح کہ سورة القصص میں آئے گا، البتہ عزیز مصر کے معاملہ کو فراست بنایا جاسکتا ہے کیونکہ اس کے پاس کوئی ظاہرہ علامت نہیں تھی۔ واللہ اعلم اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وکذٰلک مکنا لیوسف فی الارض کاف ضمیر محل نصب میں ہے، یعنی جس طرح ہم نے اس (یوسف) کو اس کے بھائیوں سے اور کنویں سے نکالا اسی طرح ہم نے اسے قرار بخشا ؛ یعنی وہ بادشاہ جس نے اسے خریدا اس کا دل ہم نے اس پر مہربان کردیا یہاں تک کہ وہ بادشاہ کی حکومت والے شہر میں امر اور نہی پر قارد ہوگیا۔ ولنعلمہ من تاویل الاحادیث ہم نے اسے قرار بخشا تاکہ ہم اپنی طرف سے کلام جے ذریعے اس کی طرف وحی کریں اور اسے اس کی تاویل و تفسیر سکھادیں اور خوابوں کی تعبیر اور کلام کی اتمام سکھادیں۔ واللہ غالب علیٰ امرہٖ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے یعنی کوئی چیز اللہ تعالیٰ پر غالب نہیں بلکہ وہ خود اپنے امر پر غالب ہے جس کام کا ارادہ فرماتا ہے کہہ دیتا ہے : ہوجال پس ہوجاتا ہے۔ اور ایک قول یہ ہے : حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے : یعنی اللہ تعالیٰ یوسف کے معاملہ پر غلالب ہے اس کی تدبیر کرتا ہے، اس کی حفاظت کرتا ہے اور اس کو کسی اور کے سپرد نہیں کرتا یہاں تک کہ اس تک کوئی فرد بھی نہیں پہنچ سکتا۔ ولٰکن اکثر الناس لایعلمون یعنی اس کے غیب پر مطلع نہیں ہے۔ اور ایک قول یہ ہے : اکثر سے مراد تمام لوگ ہیں کیونکہ کوئی بھی (خود بخود) غیب نہیں جانتا۔ اور ایک قول یہ ہے : یہ ظاہر پر جاری ہے، کیونکہ بعض اوقات وہ جس کو چاہتا ہے اپنے بعض غیب پر مطلع کردیتا ہے اور ایک قول یہ ہے : ولٰکن اکثرالناس لایعلمون کا معنی یہ ہے اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے امر پر غالب ہے اور وہ مشرک ہیں اور وہ لوگ جو تقدیر پر ایمان نہیں رکھتے۔ واللہ غالب علیٰ امرہ کے بارے میں حکماء نے کہا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کہا کہ اپنے بھائیوں کے سامنے خواب کو بیان نہ کرو تو اللہ تعالیٰ کا امر غالب آیا یہاں تک کہ آپ نے خواب بیان کردیا، پھر آپ کے بھائیوں نے آپ کو قتل کرنا چاہا تو اللہ تعالیٰ کا امر غالب آیا یہاں تک کہ آپ بادشاہ بن گئے اور انہوں نے آپ کے سامنے سجدہ کیا۔ پھر بھائیوں نے چاہا کے وہ اپنے باپ کی توجہ اپنی طرف مبذول کروالیں تو اللہ کا حکم غالب آیا یہاں تک کہ ان کے باپ کا دل ان کے بارے میں تنگ ہوگیا۔ اور ستر یا اسی سال کے بعد انہوں نے سوچا تو کہا : یٰاسفیٰ علیٰ یوسف (یوسف :84) پھر انہوں نے غور وفکر کیا کہ اس کے بعد وہ نیک لوگ ہوجائیں۔ یعنی توبہ کرنے والے ہوجائیں، پس اللہ تعالیٰ کا حکم غالب آیا یہاں تک کہ وہ گناہ بھول گئے اور انہوں نے اس پر اصرار کیا یہاں تک کہ ستر سال کے بعد اس معاملہ کے آخر میں انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے اس کا اقرار کیا اور انہوں نے اپنے باپ کو کہا : انا کنا خٰطین۔ (یوسف) ہم غلطی پر تھے۔ پھر انہوں نے چاہا کہ رونے کے ذریعے اور قمیض کے ذریعے وہ اپنے باپ کو دھوکہ دیں تو اللہ کا امر غالب آیا اور وہ دھوکہ نہ دے سکے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا : بل سولت لکم انفسکم امرًا یعنی تمہارے نفسوں نے تمہارے لیے یہ معاملہ آراستہ کردیا۔ پھر انہوں نے کوشش کی کہ اپنے باپ کے دل سے اس (یوسف) کی محبت کو زائل کریں تو اللہ تعالیٰ کا حکم غالب آیا اور ان کے دل میں محبت اور شوق اور زیادہ ہوگیا۔ پھر عزیز کی بیوی نے تدبیر کی کہ وہ عزیز مصر سے شکایت کرنے میں پہل کرے گی اور آپ پر غالب آجائے گی لیکن اللہ کا حکم غالب آیا یہاں تک کہ عزیز مصر نے کہا : واستغفری لذنبک انک کنت من الخٰطین۔ اپنے گناہ سے توبہ کرو بیشک تو خطاکاروں میں سے ہے۔ پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ساقی کے ذکر کے ذریعے قید خانے سے چھٹکارا پانے کی تدبیر کی مگر اللہ کا امر غالب آیا ساقی بھول گیا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کئی سال تک قید خانے میں ٹھہرے رہے۔
Ayah 12:22

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:22 in the Quran reader

اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا۔ اور نیکو کاروں کو ہم اسی طرح بدلا دیا کرتے ہیں۔

آیت نمبر 22 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ولما بلغ اشدہٓ سیبویہ کے نزدیک اشدہ جمع ہے اور اس کا واحد شدۃ ہے۔ کسائی نے کہا : اس کا اوحد شد ہے۔ جس طرح کہ شاعر نے کہا۔ عھدی بہ شد النھار کأنما خضب اللبان ورأسہ بالعظلم شد النھار سے مراد دن کا جوبن اور عروج ہے۔ ابوعبید کا گمان ہے کہ عربوں کے نزدیک لفظوں میں اس کا واحد نہیں ہے۔ اور اس کا معنی نقصان ہوتا ہے۔ مجاہد اور قتادہ نے کہا : ” الاشد “ تینتیس سال کی عمر ہے۔ حضرت ربیعہ، حضرت زید بن اسلم اور حضرت مالک بن انس نے کہا : الاشد نوجوان کی بلوغت کی عمر ہے۔ اس سلسلہ میں سورة ” النساء “ اور الانعام میں علماء کے مکمل اقوال گزرچکے ہیں۔ اٰتینٰہ حکمًا وعلمًا ایک قول یہ ہے : ہم نے اس کو حکومت کا والی بنادیا۔ اور وہ بادشاہ کی سلطانی میں فیصلہ کرتے تھے ہم نے ان کو فیصلہ کا علم دیا۔ مجاہد نے کہا : (اس سے مراد) عقل، فہم اور نبوت ہے۔ ایک قول یہ ہے : حکم سے مراد نبوت اور علم سے مراد علم دین ہے۔ ایک قول کے مطابق : خواب کی تعبیر کا علم (مراد ہے) اور جس نے کہا : آپ کو بچپن میں نبوت دے دی گئی تھی اس نے کہا جب آپ جو بن کو پہنچے تو ہم نے ان کی سمجھ اور علم میں اضافہ کردیا۔ وکذٰلٰک نجزی المحسنین اس سے مراد مؤمنین ہیں۔ ایک قول یہ ہے : اس سے مراد مصائب پر صبر کرنے والے ہیں جس طرح حضرت یوسف (علیہ السلام) نے صبر کیا۔ یہ ضحاک کا قول ہے۔ طبری نے کہا : اس آیت کریمہ میں اگرچہ ظاہر محسن ہوسکتا ہے مگر اس سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں : اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : جس طرح میں نے تمام کاروائی کے بعد یوسف کے ساتھ کیا پھر اسے عطا کیا جو کچھ عطا کیا اسی طرح میں آپ کو بھی آپ کی قوم کے ان مشرکوں سے نجات دوں گا جو آپ کے ساتھ دشمنی کا ارداہ رکھتے ہیں اور زمین میں تجھے قرار بخشوں گا۔