5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 5:112

اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:112 in the Quran reader

(وہ قصہ بھی یاد کرو) جب حواریوں نے کہا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا تمہارا پروردگار ایسا کر سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے (طعام کا) خوان نازل کرے؟ انہوں نے کہا کہ اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا سے ڈرو

اذ قال الحواریون یعیسی بن مریم ہل یستطیع ربک جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ ( علیہ السلام) بن مریم ( علیہ السلام) کیا آپ کا رب مان لے گا۔ یہ مفعول فیہ ہے اُذْکُرْ محذوف کا یا قالواکا۔ استطاعت کا معنی (یہاں) اطاعت ہے (مان لینا درخواست کے مطابق کردینا) جیسے استجاب بمعنی اَجَابَکے آیا ہے۔ فَاسْتَجَابَ لَہُمْ اللہ نے قبول کرلیا) ابن ابی حاتم نے عامر شعبی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ حضرت علی ؓ نے ہل یستطع رَبُّککی تلاوت فرمانے کے بعد (اس کی تشریح میں) ہل یطیع ربک فرمایا تھا۔ آثار میں آتا ہے من اطاع اللّٰہ اطاعہ جو اللہ کی اطاعت کرتا ہے اللہ اس کی درخواست مان لیتا ہے۔ کسائی کی قرأت میں ہل تستطیع رَبَّکََآیا ہے۔ یہ عیسیٰ کو خطاب ہے اور ربک مفعول ہے یعنی اے عیسیٰ ( علیہ السلام) کیا آپ اپنے رب سے یہ درخواست کردیں گے اور آپ کے لئے یہ دعا کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی اور آپ کا رب آپ کی یہ درخواست قبول کرلے گا۔ حضرت علی ؓ ‘ حضرت عائشہ ؓ ‘ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد ؓ کی بھی یہی قرأت ہے اور حاکم نے حضرت معاذ ؓ بن جبل کی بھی یہی قرأت نقل کی ہے ‘ اس قرأت سے بھی تفسیر مندرجۂ بالا کی تائید ہوتی ہے (کہ یستطیع بمعنی یطیع کے ہے) (حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا حواری اللہ (کے مرتبہ) سے خوب واقف تھے یستطیع (ربک) ان تدعوہ (کیا آپ کا رب طاقت رکھتا ہے کہ آپ اس سے دعا کردیں اور وہ دعا پوری کرسکے) کہنے سے بہت بعید تھے رواہ ابن ابی شیبۃ و ابوالشیخ وغیرہما (حضرت عائشہ ؓ کی قرأت میں تستطیع ربکآیا ہے یستطیع ربک نہیں آیا یعنی استطاعت کا مخاطب حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) ہیں استطاعت کا فاعل اللہ نہیں ہے اس لئے آپ نے اس قرأت کی تغلیط کی جس میں یستطیعآیا ہے اور استطاعت کا فاعل اللہ کو قرار دیا ہے) بعض علماء نے کہا کہ اس جگہ استطاعت سے مراد ہے حکمت و ارادہ کا تقاضا ہوسکتا۔ قدرت رکھنے کا مفہوم مراد نہیں ہے اللہ کی قدرت میں تو حواریوں کو شک نہیں تھا (مگر وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ اللہ کی حکمت و ارادہ بھی آًشآ ہوسکتا ہے یا نہیں کہ آسمان سے خوان نازل فرما دے) جیسے کوئی شخص اپنے ساتھی سے کہے کیا آپ میرے ساتھ اٹھ کر بازار کو جاسکتے ہیں (اس سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ آپ میں اٹھ کر جانے کی طاقت بھی ہے یا نہیں بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ اٹھ کر چلنے کو مناسب سمجھتے ہیں یا نہیں) بعض علماء نے کہا کلام کا وہی مطلب ہے جو ظاہر الفاظ سے معلوم ہو رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ (ابتدائی ایمان تھا) اس وقت تک ان کے دلوں میں معرفت کا استحکام نہیں ہوا تھا جاہلیت اور کفر کا زمانہ ماضی قریب میں ہی ختم ہوا تھا اسی لئے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے ان کے قول کو بڑی گستاخی قرار دیتے ہوئے فرمایا اتقوا اللوفہ ان کنتم مو 7 منین یعنی اگر مو 7 من ہو تو اللہ کی قدرت میں شک نہ کرو۔ ان ینزل علینا مآئدۃ من السمآء کہ آسمان سے ہمارے لئے ایک خوان اتار دیے مائدہ وہ خوان جس پر کھانا چنا ہوا ہو۔ مائدہ بروزن فاعلہ مادَیَمْیُد سے اسم فاعل کا صیغہ ہے مَیْدٌدینا اور کھانا کھلانا گویا خوان بھی کھانا دینے والا ہوتا ہے اس لئے اس کو مائدہ کہا جاتا ہے۔ مجازاً کھانا جو خوان پر ہوتا ہے اس کو بھی مائدہ کہہ لیا جاتا ہے۔ جیسے بہنے کی نسبت نہر کی طرف مجازاً کی جاتی ہے۔ اہل کوفہ نے کہا (امید کا معنی حرکت کرنا ‘ ہلنا) کھانے والوں کی وجہ سے مائدہ حرکت میں آجاتا ہے اس لئے اس کو مائدہ کہا جاتا ہے۔ اہل بصرہ کے نزدیک مائدہ (اسم فاعل) ممیدۃ (اسم مفعول) کے معنی میں ہے یعنی کھانے والوں کی وجہ سے حرکت پانے والا۔ قال اتقوا اللہ عیسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا اللہ سے ڈرو۔ یعنی ایسے سوال کرنے سے خدا کا خوف کرو جن کی طرح گزشتہ امتوں نے بھی نہیں کئے۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو طلب معجزات سے منع کردیا۔ ان کنتم مومنین اگر تم ایماندار ہو کیونکہ اہل ایمان کے لئے معجزات کی طلب جائز نہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ اگر اللہ کی قدرت کی ہمہ گیری اور میری نبوت پر تمہارا ایمان ہے تو اللہ سے ڈرو اور اس کی قدرت میں شک نہ کرو۔ یا یہ مطلب ہے کہ اگر ایمان کے دعوے میں سچے ہو تو ایسے سوالات کرنے سے بچو۔ ابن ابی حاتم نے اور حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں اور ابوالشیخ نے العظمۃ میں اور ابوبکر شافعی نے الفیلانیات میں حضرت سلمان فارسی کی روایت سے لکھا ہے کہ جب حواریوں نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) بن مریم سے نزول مائدہ کی درخواست کی تو آپ کو سخت ناگوار ہوا اور آپ ( علیہ السلام) نے فرمایا اللہ نے زمین میں جو کچھ عطا فرما دیا ہے اسی پر قناعت کرو۔ مائدہ کی درخواست نہ کرو کیونکہ مائدہ اگر نازل ہوگیا تو اللہ کی طرف سے وہ ایک نشان ہوگا اور ثمود نے جب اپنے پیغمبر سے نشانی طلب کی تھی تو وہ تباہ ہوگئی اور اسی نشانی سے ان کی جانچ کی گئی (جس کی وجہ سے ان پر عذاب آگیا) بنی اسرائیل نے آپ کی فہمائش نہ مانی اس لئے۔
Ayah 5:113

قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَیْهَا مِنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:113 in the Quran reader

وہ بولے کہ ہماری یہ خواہش ہے کہ ہم اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل تسلی پائیں اور ہم جان لیں کہ تم نے ہم سے سچ کہا ہے اور ہم اس (خوان کے نزول) پر گواہ رہیں

قالوا کہنے لگے ہم نے مائدہ کی درخواست صرف اس لئے کی ہے کہ نرید ان ناکل منہا ہم اس میں سے کھائیں۔ وتطمئن قلوبنا اور ہمارے دلوں کو اطمینان ہو۔ دلیل سے تو قدرت کی ہمہ گیری کو مانتے ہی ہیں مشاہدہ دلیل کے ساتھ مل جائے گا تو علم شہودی کو کر اطمینان پیدا ہوجائے گا۔ ونعلم ان قد صدقتنا اور ہم جان لیں کہ (نبوت کے دعوے میں) آپ سچے ہیں یعنی ہمارا ایمان اور نبوت پر یقین بڑھ جائے۔ روایت میں آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ 30 روزے رکھو۔ 30 روزے رکھنے کے بعد اللہ سے جو کچھ مانگو گے ملے گا حسب الحکم انہوں نے 30 روزے رکھے اور پھر نزول مائدہ کی درخواست کی اور کہا ہم یقین رکھتے ہیں کہ آپ نے ہم سے یہ بات سچ فرمائی کہ 30 روزے رکھنے کے بعد اللہ ہماری دعا قبول فرما لے گا۔ ونکون علیہا من الشہدین اور ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے ہوجائیں یعنی ایمان بالغیب تو ہم کو حاصل ہی ہے نزول مائدہ کے بعد اللہ کی وحدانیت وقدرت اور آپ کی نبوت کا ایمان شہودی ہم کو حاصل ہوجائے گا۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم جب بنی اسرائیل کے پاس لوٹ کر جائیں گے تو جا کر اس کی شہادت دے سکیں گے۔ روایت میں آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے غسل کر کے کمبل کا لباس پہن کر دو رکعت نماز پڑھی اور سر جھکا کر آنکھیں بند کر کے رونے لگے۔
Ayah 5:114

قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَ١ۚ وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 5:114 in the Quran reader

(تب) عیسیٰ بن مریم نے دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما کہ ہمارے لیے (وہ دن) عید قرار پائے یعنی ہمارے اگلوں اور پچھلوں (سب) کے لیے اور وہ تیری طرف سے نشانی ہو اور ہمیں رزق دے تو بہتر رزق دینے والا ہے

قال عیسیٰ بن مریم اللہم ربنا پھر عرض کیا اے اللہ اے ہمارے رب۔ رَبَّنَا مکرر ندا ہے۔ اللّٰہم کی صفت نہیں ہے نہ بدل ہے کیونکہ اللّٰہمنہ موصوف ہوتا ہے نہ مبدل منہ علامہ تفتازانی نے اس کی صراحت کی ہے۔ انزل علینا مآئدۃ من السمآء ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل فرما دے۔ نکون لنا عیدا جو ہمارے لئے ایک خوشی کی بات ہوجائے۔ لاولنا واخرنا یعنی ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لئے۔ سدی نے کہا یعنی ہمارے زمانہ والوں کے لئے اور آئندہ لوگوں کے لئے خوشی کا دن ہوجائے ہم اس کو تہوار کا دن بنا لیں جو خوشی غم کے بعد آئے اس کو سرور کہتے ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا عید خوشی کے دن کو کہتے ہیں کیونکہ اس میں آدمی رنج سے خوشی کی طرف لوٹتا ہے۔ روایت میں آیا ہے کہ وہ اتوار کا دن تھا اس لئے عیسائیوں نے اتوار کا دن تہوار کا دن مقرر کر رکھا ہے۔ بعض لوگوں نے کہا عید کا معنی ہے عائدہ یعنی اللہ کی طرف سے حجت اور برہان لِاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنالنا سے بدل ہے اوّل سے مراد ہیں اہل زمانہ اور اخرنا سے مراد ہیں مستقبل میں آنے والے لوگ جو مذہب عیسوی پر ہوں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا (عیدً لاولنا واخرنا سے یہ مراد ہے کہ) اس میں سے جس طرح پہلے لوگ کھائیں اسی طرح آخری لوگ بھی کھائیں (یعنی خوان بابرکت ہو جو سب کے لئے کافی ہو اور اوّل سے آخر تک سب لوگ اس میں سے کھائیں) بظاہر لنا کان کی پہلی اور عیداً دوسری خبر ہے اور لاولنا واخرنا عیْدًاکی صفت ہے۔ وایۃ منک اور تیری طرف سے ایک نشانی ہوجائے یعنی ایسی دلیل ہوجائے جو تیری قدرت کی ہمہ گیری اور میری نبوت کی صداقت پر دلالت کرے۔ لفظ منک۔ ایۃ کی صفت ہے اور ایۃ کا عطف عیداً پر ہے۔ وارزقنا وانت خیر الرازقین اور ہم کو عطا فرما تو بہترین عطا فرمانے والا ہے۔
Ayah 5:115

قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مُنَزِّلُهَا عَلَیْكُمْ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّیْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 5:115 in the Quran reader

خدا نے فرمایا میں تم پر ضرور خوان نازل فرماؤں گا لیکن جو اس کے بعد تم میں سے کفر کرے گا اسے ایسا عذاب دوں گا کہ اہل عالم میں کسی کو ایسا عذاب نہ دوں گا

قال اللہ انی منزلہا علیکم اللہ نے فرمایا میں اس کو تم پر (بار بار) ضرور اتاروں گا۔ منزلباب تفعیل کا اسم فاعل ہے اور باب تفعیل کثرت اور تواتر فعل پر دلالت کرتا ہے۔ مطلب یہ کہ تمہاری درخواست کو منظور فرما کر میں متواتر طور پر کتنے ہی مرتبہ خوان نازل کروں گا۔ فمن یکفر بعد منکم فانی اعذبہ عذابا پھر تم میں سے جو حق شناسی نہ کرے گا اس کو ایسی سزا دوں گا۔ لا اعذابہ احدا من العلمین کہ ویسی سزا دینا میں کسی کو نہیں دوں گا۔ عذاباً بمعنی تعذیب ہے یعنی عذاب دینا یہ مفعول مطلق ہے یا مجازاً مفعول بہ ہے یا عذاب سے مراد ہے سزا کا طریقہ اور عذاب کا ڈھنگ یعنی اور ایسی سخت سزا دوں گا کہ کسی کو نہ دوں گا۔ الٰعلمین سے مراد ہیں عذاب پانے والے کافروں کے ہم عصر۔ یا آئندہ ہر زمانہ والے کیونکہ نزول مائدہ کے بعد جن لوگوں نے کفر کیا اللہ نے ان کو سور اور بندر بنا دیا اور آئندہ کسی اور پر ایسا عذاب نہیں آیا۔ حضرت سلمان ؓ فارسی کی مذکورۂ بالا حدیث کا تتمہ : جب حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے دعا کی تو ایک سرخ رنگ کا خوان لوگوں کی نظروں کے سامنے اوپر سے اترنے لگا ابر کا ایک ٹکڑا خون سے اوپر تھا اور ایک نیچے۔ خوان آکر لوگوں کے سامنے گرپڑا۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت عیسیٰ رونے لگے اور عرض کیا اے اللہ مجھے شکر گزاروں میں سے کر دے اور اس کو رحمت بنا دے عذاب نہ بنانا۔ یہودی بھی ایسی چیز اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے جس کی نظیر انہوں نے کبھی نہیں دیکھی تھی اور خوان میں سے نکلتی ہوئی ایسی خوشبو محسوس کر رہے تھے جس کی مثل کبھی کوئی خوشبو نہیں پائی تھی۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا تم میں سے جو سب سے زیادہ نیک اعمال ہو وہ کھڑا ہو اور بسم اللہ کہہ کے اس کا سرپوش کھولے حواریوں کے سردار شمعون صفار نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ( علیہ السلام) آپ ہی اس کے زیادہ مستحق ہیں۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے کھڑے ہو کر اور وضو کر کے ایک لمبی نماز پڑھی اور خوب روئے پھر بسم اللہ کر کے سر پوش ہٹایا اور فرمایا بسم اللہ خیر الرازقین۔ خوان میں ایک بریاں مچھلی تھی جس پر نہ کوئی سنا تھا نہ کانٹا۔ مچھلی سے روغن بہہ رہا تھا ‘ اس کے سر کی طرف نمک رکھا تھا اور دم کے پاس سرکہ ‘ اور چاروں طرف رنگا رنگ کی ترکاریاں رکھی تھیں لیکن گندنا نہ تھا پانچ روٹیاں بھی تھیں ایک پر زیتون دوسری پر شہد تیسری پر گھی چوتھی پر پنیر اور پانچویں پر گوشت کے ٹکڑے رکھے تھے۔ شمعون نے عرض کیا یا روح اللہ ! کیا یہ دنیوی کھانا ہے یا اخروی فرمایا تمہارے سامنے جو کھانا ہے وہ نہ دنیوی کھانے کی نوع کا ہے نہ آخرت کے کھانے کی قسم کا (بلکہ اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو تیار کیا ہے) تم نے مانگا تھا اب اس کو کھاؤ ‘ اللہ تمہاری مدد کرے گا اور اپنے فضل سے تم کو مزید عطا فرمائے گا حواریوں نے عرض کیا یا روح اللہ آپ ہی سب سے پہلے کھانا شروع کیجئے۔ فرمایا میں اس کو کھانے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ جس نے اس کی درخواست کی تھی وہی کھائے یہ سن کر حواریوں کو کھانے سے ڈر لگا (اس لئے کھانے پر ہاتھ نہیں ڈالا) حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے کھانے کے لئے فاقہ زدہ فقریوں ‘ بیماروں کوڑہ اور برص والوں اور لنگڑے لنچے اپاہجوں کو بلوایا اور فرمایا اللہ کا بھیجا ہوا رزق کھاؤ یہ تمہارے لئے مبارک ہے اور دوسروں کے لئے مصیبت۔ چناچہ سب نے کھایا ایک ہزار تین سو نادار بیمار اپاہج اور دکھی مردوں اور عورتوں نے شکم سیر ہو کر کھایا لیکن مچھلی اترنے کے وقت جیسی تھی ویسی ہی رہی اس کے بعد خوان اٹھ گیا اور لوگوں کی نظروں کے سامنے اوپر چڑھتا چلا گیا آخر نگاہ سے غائب ہوگیا جس بیمار اور اپاہج نے اس میں سے کھایا وہ تندرست ہوگیا اور جس فقیر نے کھایا وہ غنی ہوگیا یہ دیکھ کر نہ کھانے والوں کو پشیمانی ہوئی خوان اترنے کا یہ سلسلہ چالیس روز تک چاشت کے وقت قائم رہا مالدار نادار بڑے چھوٹے مرد عورت سب ہی خوان کے نزول کے وقت جمع ہوجاتے تو خوان سب کی نظروں کے سامنے رکھا ہوتا اور لوگ کھاتے جب سب کھا کر لوٹ جاتے تو خوان سب کی نظروں کے سامنے اٹھ جاتا اور چڑھتا جاتا آخر نظروں سے چھپ جاتا (یہ بھی کہا جاتا ہے کہ) ثمود کی اونٹنی کی طرح خوان ایک دن بیچ آتا ‘ ایک دن ناغہ ایک دن آمد۔ پھر اللہ نے حضرت عیسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ میں اپنا خوان اور رزق صرف فقراء کے لئے مقرر کرتا ہوں ‘ مالداروں کے لئے (اس میں) کچھ نہیں ہے یہ حکم مالداروں کو بہت کھلا کہ خود بھی شک میں پڑگئے اور دوسروں کے دلوں میں بھی شک پیدا کرنے لگے اور کہنے لگے دیکھو تو کیا یہ خوان واقعی آسمان سے اترتا ہے ( اگر ایسا ہے تو اس میں ناداروں اور مالداروں کی تفریق کیوں ہے) اللہ نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی اور فرمایا میں نے شرط لگا دی تھی کہ خوان نازل ہونے کے بعد جو کفر کرے گا میں اس کو ایسا عذاب دوں گا کہ سارے جہان میں کسی کو نہ دوں گا (اب انہوں نے کفر کیا ہے اس لئے عذاب کے مستحق ہوگئے) حضرت عیسیٰ نے عرض کیا اگر تو ان کو عذاب دے گا تو یہ تیرے بندے ہیں (تجھے عذاب دینے کا حق ہے) اور اگر معاف کر دے تو یقیناً بلاشبہ تو ہی غالب اور دانا ہے (مغفرت کرسکتا ہے اور مغفرت کی مصلحت سے بھی واقف ہے) الغرض ان میں سے 333 آدمیوں کی صورتیں مسخ کردی گئیں۔ رات کو بیویوں کے ساتھ (بھلے چنگے) سوئے اور صبح کو سوروں کی شکل میں اٹھے اور راستوں اور کوڑا گھروں میں مارے مارے پھرنے اور کوڑے کے اندر گندگی کھانے لگے لوگوں نے یہ حالت دیکھی تو گھبرا کر حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور روئے۔ سوروں نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو دیکھا تو آپ کے گرداگرد گھومنے اور رونے لگے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) ان کے نام لے کر پکارتے تھے اور وہ سروں سے اشارہ کرتے اور روتے تھے بات نہیں کرسکتے تھے اس حالت میں تین روز زندہ رہے پھر سب مرگئے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ خلاص بن عمرو نے حضرت عمار بن یاسر کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خوان اترا تو اس میں گوشت اور روٹی تھی اور بنی اسرائیل سے کہہ دیا گیا تھا کہ یہ مائدہ تمہارے لئے قائم رہے گا۔ جب تک تم اس میں سے خیانت نہ کرو گے اور چھپا کر نہ رکھو گے لیکن وہ دن بھی نہیں گزرا کہ انہوں نے خیانت کی اور (کچھ جنس) چھپا کر رکھ لی۔ آخر بندروں اور سوروں جیسی شکل ان کی کردی گئی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے فرمایا تھا تیس روزے رکھو پھر جو کچھ چاہو اللہ سے مانگو وہ تم کو عنایت فرمائے گا۔ حسب الحکم لوگوں نے روزے رکھے اور روزوں سے فراغت کے بعد عرض کیا اگر ہم کسی کا کام کرتے ہیں اور کام پورا کردیتے ہیں تو وہ ہم کو کھانا دیتا ہے (اب اللہ کے لئے ہم نے روزے رکھے ہیں اور اللہ سے کھانا مانگتے ہیں) چناچہ انہوں نے خوان اترنے کی درخواست کی (دعا قبول ہوئی) ملائکہ ایک خوان اٹھائے ہوئے خوان پر سات روٹیاں اور سات مچھلیاں تھیں لوگوں کے سامنے لا کر اس کو رکھ دیا۔ اوّل سے آخر تک سب لوگوں نے اس کو کھایا (اور جس طرح کھانا شروع کرنے کے وقت وہ تھا ویسا ہی آخر آدمی کے کھانے کے بعد رہا) کعب احبار نے کہا مائدہ سرنگوں اترا تھا آسمان و زمین کے درمیان ملائکہ اس کو اڑا کر لا رہے تھے گوشت کے علاوہ اس میں ہر چیز تھی۔ قتادہ نے کہا اس میں جنت کے پھل تھے۔ عطیہ عوفی نے کہا آسمان سے اتر کر ایک مچھلی آئی جس میں ہر چیز کا مزہ تھا۔ کلبی نے کہا اس میں چاوّل کی روٹی تھی۔ سعید بن جبیر ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ خوان میں سوائے گوشت اور روٹی کے ہر چیز تھی۔ وہب بن منبہ نے کہا اللہ نے جو کی چند چھوٹی روٹیاں اور مچھلیاں اتاری تھیں کچھ لوگ تو کھا کر جاتے اور دوسرے آکر کھاتے تھے یہاں تک کہ سب کھا چکتے اور کھانا پھر بھی بچ رہا۔ کلبی اور مقاتل نے کہا اللہ نے روٹیاں اور مچھلیاں اور قلچے اتارے تھے۔ لوگوں کی تعداد ہزار سے اوپر تھی۔ سب نے کھایا اور لوٹ کر اپنی اپنی بستیوں میں جا کر جب اس کا تذکرہ کیا تو جو لوگ نہیں آئے تھے وہ ہنس دیئے اور کہنے لگے تمہاری نظر بندی کردی گئی تھی اللہ کو جس کی بھلائی مقصود تھی وہ تو ایمان پر قائم رہا اور جس کی خرابی منظور تھی وہ کفر کی طرف لوٹ گیا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کو سوروں کی شکل پر کردیا۔ مسخ شدہ لوگوں میں کوئی بچہ یا عورت نہ تھی (سب مرد تھے) تین روز تک اسی حالت میں رہ کر سب مرگئے نہ کچھ کھایا نہ پیا نہ ان کی نسل ہوئی ہر مسخ شدہ شخص کی یہی کیفیت ہوتی ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ جہاں کہیں بنی اسرائیل ہوتے تھے خوان وہیں صبح شام من وسلویٰ کی طرح اترتا تھا۔ نزول مائدہ کے متعلق اکثر علماء کے یہ مختلف اقوال تھے جو ذکر کردیئے گئے۔ مجاہد اور حسن نزول مائدہ کی نفی کے قائل تھے ان کا خیال تھا کہ جب ان کو تنبیہ کی گئی کہ نزول مائدہ کے بعد اگر کفر کرو گے تو سنگین ترین عذاب میں مبتلا کردیئے جاؤ گے تو بنی اسرائیل کو اندیشہ ہوگیا کہ کہیں کوئی کفر کرنے لگے (اور عذاب سب پر پڑے) اس لئے انہوں نے معافی طلب کی اور عرض کیا ہم مائدہ کے طلب گار نہیں۔ واپسی درخواست کے بعد مائدہ نازل نہیں ہوا۔ رہ گیا لفظ انی منزلہا (جو نازل ہونے پر دلالت کر رہا ہے) تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس تنبیہ کے بعد بھی اگر تم نزول مائدہ کے طلبگار ہو گے تو اللہ ضرور نازل فرما دے گا۔ صحیح قول وہی ہے جو اکثر علماء کا مختار ہے کہ مائدہ نازل ہوا کیونکہ اللہ نے پہلے سے خبر دے دی تھی کہ میں ضرور نازل کروں گا اور اللہ کی اطلاع غلط نہیں ہوسکتی۔ پھر نزول مائدہ کے متعلق رسول اللہ ﷺ : کی احادیث صحابہ کے آثار اور تابعین کے اقوال بکثرت آئے ہیں جن کو (معنوی طور پر) متواتر کہہ سکتے ہیں۔
Ayah 5:116

وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ١ؕ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:116 in the Quran reader

اور (اس وقت کو بھی یاد رکھو) جب خدا فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری والدہ کو معبود مقرر کرو؟ وہ کہیں گے کہ تو پاک ہے مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں اگر میں نے ایسا کہا ہوگا تو تجھ کو معلوم ہوگا (کیونکہ) جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے اسے میں نہیں جانتا بےشک تو علاّم الغیوب ہے

واذا قال اللہ اور جب اللہ نے فرمایا۔ یا۔ فرمائے گا۔ سدی نے کہا جب اللہ نے عیسیٰ کو آسمان کی طرف اٹھایا تو اس وقت یہ بات فرمائی تھی کیونکہ قالماضی کا صیغہ ہے اور لفظ اذ کی وضع بھی ماضی ہی کے لئے ہے (اس قول پر اوّل ترجمہ صحیح ہوگا) باقی اہل تفسیر کا قول ہے کہ اللہ یہ بات قیامت کے دن فرمائے گا (اس تشریح پر دوسرا ترجمہ صحیح ہوگا جمہور کا ترجمہ یہی ہے) اس کلام کی غرض کافروں کو تنبیہ و سرزنش کرنا ہے۔ دیکھو اللہ نے فرمایا (یوم یجمع اللہ الرسل) دوسری آیت میں آیا ہے (ہذا یوم وینفع الصادقین صدقہم) ان دونوں آیتوں میں روز قیامت مراد ہے رہا اذکا ماضی کے لئے وضع ہونا اور صیغۂ ماضی کا ذکر ہونا تو اگر مستقبل میں آنے والا واقعہ یقینی ہو تو اس کے لئے ماضی کا صیغہ استعمال کرلیا جاتا ہے گویا آئندہ اس واقعہ کا ہونا اتنا یقینی ہے کہ وہ ہوچکا۔ اسی کی طرح (مستقبل کے لئے ماضی کا استعمال) آیت (ولو تری اذا فزعوا) میں استعمال کیا گیا ہے۔ یعیسی بن مریم ا انت قلت للناس اے عیسیٰ ( علیہ السلام) بن مریم کیا تو نے ہی لوگوں سے کہا تھا (اس آیت میں خطاب حضرت عیسیٰ : ( علیہ السلام) کو ہے لیکن) سرزنش کافروں کو ہے مسند الیہ (اَنْتَ ) مسند (قلت) پر مقدم لانے کی غرض ہے فعل کی نسبت کو عیسیٰ ( علیہ السلام) کی طرف محکم بنانا (کیونکہ اس طرز کلام میں نسبت کی تکرار ہوجاتی ہے ایک تو قلت کے اندر خود ہی اَنْتَ فاعل موجود ہے پھر قلتکا ربط اَنْتَسے دوبارہ ہے) بات یہ تھی کہ قول شرک کی نسبت عیسیٰ ( علیہ السلام) : کی طرف بہت ہی بعید تھی اس لئے قوت کے ساتھ اس کا ذکر کیا۔ اتخذونی وامی الہین کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو۔ مریم کی جگہ امی کا لفظ اس امر پر سرزنش کر رہا ہے کہ تو پیدا شدہ ہے اور مریم ( علیہ السلام) تیری والدہ ہے پھر الوہیت کے دعوے کا کیا جواز ہوسکتا ہے لہ الٰہ کو تو توالد اور تماثل سے پاک ہونا چاہئے۔ من دون اللہ اللہ کے علاوہ یہ اِلٰہَیْنکی صفت ہے یعنی اللہ کے علاوہ دو معبود یا اتخذوا کے فاعل یا مفعول سے حال ہے۔ لفظ دون مغایرت پر دلالت کرتا ہے۔ اس لفظ سے اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ دوسروں کی عبادت کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنا عبادت نہ کرنے کی طرح ہے جو شخص اللہ کی عبادت کے ساتھ عیسیٰ ( علیہ السلام) اور مریم ( علیہ السلام) کی بھی عبادت کرتا ہے وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتا۔ دون کا معنی کم بھی ہوسکتا ہے یعنی مجھے اور میری ماں کو معبود بناؤ مگر اللہ کی معبودیت سے کم درجہ کا۔ اس مطلب کی وجہ یہ ہے کہ عیسائی عیسیٰ ( علیہ السلام) اور مریم ( علیہ السلام) کو مستقل معبود تو جانتے نہیں ہیں بلکہ ان کی پرستش کو عبادتِ الٰہی کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ ابو روق نے کہا عیسیٰ ( علیہ السلام) یہ کلام سن کر لرز جائیں گے ان کا جوڑ جوڑ کانپ جائے گا اور ہر بن مُو سے خون پھوٹ نکلے گا پھر۔ قال سبحانک عرض کریں گے تو پاک ہے یعنی میں تیری پاکی کا اعتراف کرتا ہوں ہر طرح کے شرک سے یا میں تیرے پاک ہونے کا اقرار کرتا ہوں کہ تو حقیقت واقعہ جاننے کے لئے سوال اور جواب کا ضرورت مند ہو (حقیقت سے تو خود ہی واقف ہے تجھے مجھ سے دریافت کرنے کی ضرورت نہیں) ما یکون لی ان اقول ما لیس لی بحق میرے لئے سزاوار نہ تھا کہ جس چیز کے کہنے کا مجھے حق نہ تھا وہ بات کہتا۔ ان کنت قلتہ فقد علمتہ اگر میں نے یہ بات کہی ہوتی تو تجھے اس کا علم ضرور ہوتا یعنی مجھے عذر پیش کرنے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ اگر میں نے یہ بات کہی ہوتی تو تجھے علم ہوتا اور تو واقف ہے کہ میں نے یہ بات نہیں کہی۔ تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک جو میرے نفس میں ہے اس کو تو جانتا ہی ہے اور جو تیری ذات میں ہے اس کو میں نہیں جانتا یعنی میرے دل میں جو مخفی خیالات ہیں ان سے تو واقف ہے اور تیری پوشیدہ معلومات سے میں ناواقف ہوں۔ فِیْ نِفْسِکَمیں نفس سے ذات مراد ہے پہلے لفظ نفس کی مناسبت کی وجہ سے دوسری جگہ بھی لفظ نفس ہی استعمال کیا۔ انک انت علام الغیوب بلاشبہ تو ڈھکی چھپی باتوں سے بخوبی واقف ہے۔ غیوببکسر غین یا بضم غین ہے یہ اختلاف قرأت اوپر گزر چکا ہے۔ اَنْتَسے اَنَّکے اسم (یعنی ک) کی تاکید ہو رہی ہے اس جملہ سے مذکورۂ بالا دونوں جملوں کی تاکید ہو رہی ہے لفظاً بھی اور معناً بھی۔
Ayah 5:117

مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِیْ بِهٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ۚ وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْ١ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 5:117 in the Quran reader

میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا ہے وہ یہ کہ تم خدا کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے اور جب تک میں ان میں رہا ان (کے حالات) کی خبر رکھتا رہا جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو تو ان کا نگران تھا اور تو ہر چیز سے خبردار ہے

ما قلت لہم الا ما امرتنی بہ . میں نے ان سے نہیں کہی مگر وہی بات جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا۔ مَااَمَرْتُ کے بجائے مَاقُلتکہنے میں یہ نکتہ ہے کہ حکم دینا (درحقیقت) رب کا کام ہے اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) ربوبیت کی آمیزش اور شائبہ سے بھی اپنے کو الگ رکھنا چاہتے تھے۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے پہلے ً شرک کی تمہید قائم کی اس کے بعد آئندہ فقرہ میں پیام توحید اور نفی شرک کی صراحت کردی۔ ان ابعدوا اللہ ربی وربکم کہ اس اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب یعنی کسی کو (عبادت میں) اللہ کا شریک نہ بناؤ کیونکہ وہی میرا بھی خالق ہے جو تمہارا خالق ہے (اور میں تمہارا خالق نہیں) یہ فقرہ بہ کی ضمیر کا عطف بیان یا بدل ہے بدل میں یہ ضروری نہیں کہ مبدل منہ کو بالکل ساقط کردینا جائز ہو اس لئے موصول کا بقاء بغیر ضمیر کے لازم نہیں آتا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پورا فقرہ مفعول ہو اور فعل محذوف ہو یا مبتدا محذوف ہو اور یہ فقرہ خبر ہو۔ لیکن ما اہل تنی سے اس کو بدل قرار دینا جائز نہیں کیونکہ انمصدری ہے اور مصدر قول کا مقولہ نہیں ہوسکتا۔ اقنگکو مفسرہ قرار دینا بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ امر کا فاعل اللہ ہے (اور اللہ اعبدوا اللوفہ ربی نہیں فرما سکتا وہ خود رب ہے اس کا رب کوئی اور نہیں) پھر قول کی تفسیر اَنْسے ہو بھی نہیں سکتی۔ ہاں اگر قول کو بمعنی امر قرار دیا جائے تو ممکن ہے۔ گویا کلام کا مفہوم اس طرح ہوگا۔ میں نے ان کو حکم نہیں دیا مگر وہی جو تو نے مجھے حکم دیا تھا۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی طرف سے اپنے امر کی تفسیر کردی کہ میں نے ان کو یہ حکم دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو۔ وکنت علیہم شہیدا اور میں ان کا نگراں (اور ان کے احوال کا مشاہدہ کرتا) رہا ان کے کفر و ایمان کی دیکھ بھال کرتا رہا حق کی طرف بلاتا رہا اور باطل قول و عقیدہ سے روکتا رہا۔ ما دمت فیہم جب تک میں ان کے اندر رہا۔ فلما توفیتنی پھر جب تو نے مجھے لے لیا اور اپنی طرف اٹھا لیا۔ توفیکا معنی ہے کسی چیز کو پورا پورا لے لینا۔ موت بھی توفی کی ایک قسم ہے اللہ نے فرمایا ہے (اَللّٰہَ یَتَوَفَّی اَلَانْفُسَ حِیْنَ مَوْتِہَاوَالَّذِیْ لَّمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِہَا) اللہ ہی پورا پورا قبضہ میں لے لیتا ہے جانوں کو ان کے مرنے کے وقت اور (کچھ) جانوں کو ان کے سونے کے وقت (یعنی توفی کا استعمال صرف موت کے لئے ہی نہیں ہوتا بلکہ موت وفات کی ایک قسم ہے ورنہ سونے کے وقت ارواح کو اللہ جو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اس پر بھی آیت مذکورہ میں لفظ توفی کا اطلاق آیا ہے) کنت انت الرقیب علیہم تو ہی ان کا نگراں رہا یعنی ان کے اعمال و اقوال کا محافظ و نگران تھا پس جس کو تو نے بچانا چاہا اس کو دلائل ‘ انبیاء اور آسمانی کتابوں کے ذریعہ سے ہدایت عطا فرما دی اور توفیق دے دی۔ وانت علی کل شئی شہیدا اور تو ہر چیز سے پورا باخبر ہے میرے اور ان کے اقوال و اعمال تیرے سامنے ہیں۔
Ayah 5:118

اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ١ۚ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 5:118 in the Quran reader

اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر بخش دے تو (تیری مہربانی ہے) بےشک تو غالب اور حکمت والا ہے

ان تعذبہم فانہم عبادک اگر تو ان کو عذاب دے (تو بےجا نہیں) وہ تیرے بندے ہیں۔ مالک حقیقی جیسا چاہے ‘ اپنی ملک میں تصرف کرسکتا ہے اس پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا پھر انہوں نے تیرے علاوہ دوسروں کی پوجا کی باوجودیکہ تو نے ان کو پیدا کیا اور دوسروں کے گن گائے حالانکہ تو نے ان کو پرورش کیا اور نعمت عطا فرمائی۔ (اس صورت میں تو سزا دینا خلاف عدل ہو ہی نہیں سکتا) ۔ (1) [ ابن مردویہ کی روایت ہے کہ حضرت ابوذر ؓ نے فرمایا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ قربان رات آپ نے نماز کے اندر قیام کی حالت میں قرآن کی ایک آیت (بار بار) اتنی پڑھی کہ اگر ہم میں سے کوئی ایسا کرتا تو ہم اس پر غصہ کرتے فرمایا میں نے اپنی امت کے لئے دعا کی تھی راوی نے پوچھا پھر کیا جواب ملا فرمایا مجھے ایسا جواب ملا کہ اگر اس کی اطلاع لوگوں کو ہوجائے تو بہت لوگ نماز چھوڑ دیں۔ راوی نے عرض کیا کیا میں اس کی بشارت لوگوں کو نہ دے دوں فرمایا کیوں نہیں۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ : اگر یہ پیام آپ لوگوں کو بھیج دیں گے تو وہ عبادت کو چھوڑ کر اسی پر بھروسہ کر بیٹھیں گے یہ سن کر حضور ﷺ نے آواز دے کر راوی کو واپس بلا لیا اور یہ آیت (ان تعذبہم فانہم عبادک وان تغفرلہم فانک انت العزیز الحکیم) تلاوت فرمائی اسی کو ( نماز میں بار بار) تلاوت فرما رہے تھے مسلم اور نسائی نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔] وان تغفرلہم فانک انت العزیز الحکیم اور اگر تو ان کو معاف کر دے گا تو بیشک تو ہی غالب اور حکمت والا ہے یعنی تو ہی غالب قوت والا اور عذاب وثواب پر قادر ہے۔ تیری طرف سے معافی کسی کمزوری کی بنا پر نہیں ہوگی کہ اس کو عیب قرار دیا جاسکے۔ حاصل مطلب یہ کہ اگر تو عذاب دے تو یہ انصاف ہوگا اور معاف کر دے تو تیری مہربانی ہوگی۔ ایک شبہ عذاب اور مغفرت ہر ایک کو ان (شرطیہ) کے ساتھ ذکر کرنا بتارہا ہے کہ دونوں کا امکان ہے حالانکہ مشرک کی مغفرت نہ ہونے کی صراحت آیت میں آچکی ہے۔ ازالہ مشرک کی مغفرت اگرچہ فی نفسہٖ ممکن ہے لیکن اللہ نے چونکہ عدم مغفرت کی صراحت کردی ہے اس لئے ناممکن ہوگئی گویا عدم امکان اللہ کے قول کی وجہ سے ہوگیا مگر اس سے مغفرت کا فی ذات استحالہ تو ثابت نہیں ہوتا۔ نہ اس میں کافروں کے لئے مغفرت کی دعا ہے اسی لئے العزیز الحکیم فرمایا الغفور الرحیم نہیں فرمایا بلکہ تمام امور کو اللہ کے سپرد کرنا اور ہر چیز کو اللہ کے ارادہ اور حکمت سے وابستہ قرار دینا مقصود ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی قرأت ان تغفرلہم فانہم عبادک وان تعذبہم فانک انت العزیز الحکیم ہے گویا آپ نے العزیز الحکیم کے ساتھ تعذبپڑھا ہے تغفر نہیں پڑھا اسی لئے بعض علماء نے کہا کہ آیت میں (بر قرأت مشہورہ بمعنی کے لحاظ سے) تقدیم و تاخیر ہے (یعنی تغفر سے عبادک کا اور تعذب سے العزیز الحکیم کا معنوی ربط ہے مطلب اس طرح ہے کہ تو غالب و حکیم ہے اس لئے تو عذاب دے سکتا ہے اور وہ تیرے بندے ہیں اس لئے ان کو معاف کرسکتا ہے۔ لیکن ہم بتا چکے ہیں کہ مشہور قرأت ہی (معنوی لحاظ سے) زیادہ مناسب ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابراہیم کی یہ دعا جو اللہ نے نقل فرمائی ہے تلاوت فرمائی : رب انہن اضللن کثیرا من الناس فمن تبعنی فانہ منی ومن عصانی فانک غفور رحیم اور حضرت عیسیٰ کا یہ قول جو اللہ نے نقل فرمایا ہے تلاوت فرمایا : ان تعذبہم فانہم عبادک وان تغفرلہم فانک انت العزیز الحکیم پھر دعا کی الٰہی میری امت (کو بخش دے) میری امت (کو بخش دے) اور رونے لگے اللہ نے فرمایا جبرئیل ( علیہ السلام) محمد ﷺ سے جا کر دریافت کرو۔ ( اگرچہ) تیرا رب بخوبی واقف ہے کہ رونے کی کیا وجہ ہے۔ جبرئیل ( علیہ السلام) نے آکر حضور ﷺ سے دریافت کیا رسول اللہ ﷺ نے وہ دعا بتادی جو عرض کی تھی اللہ نے حکم دیا جبرئیل ( علیہ السلام) محمد ﷺ کے پاس جا کر کہہ دے کہ ہم تیری امت کے سلسلہ میں تجھے خوش کریں گے ناراض نہیں کریں گے۔
Ayah 5:119

قَالَ اللّٰهُ هٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْ١ؕ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 5:119 in the Quran reader

خدا فرمائے گا کہ آج وہ دن ہے کہ راست بازوں کو ان کی سچائی ہی فائدہ دے گی ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ابدالآباد ان میں بستے رہیں گے خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں یہ بڑی کامیابی ہے

قال اللہ ہذا یوم ینفع الصدقین صدقہم اللہ فرمائے گا یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو ان کی سچائی فائدہ رساں ہوگی یوم یا منصوب ہے خواہ اس کو قال کا مفعول فیہ قرار دیا جائے یعنی عیسیٰ ( علیہ السلام) کا یہ کلام قیامت کے دن ہوگا خواہ ہذا کو مبتدا اور اس کی خبر کو محذوف قرار دیا جائے یعنی عیسیٰ ( علیہ السلام) نے جو کچھ کہا وہ حق ہے اللہ یہ بات قیامت کے دن فرمائے گا اس صورت میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے قول کی تصدیق اور امت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے لئے مزید سرزنش ہوگی۔ خواہ یوں کہا جائے کہ ہذا مبتدا ہے اور یوم حقیقت میں خبر مرفوع تھا مگر چونکہ اس کی اضافت مبنی کی طرف ہے اس لئے فتح پر مبنی ہوگیا۔ اس پر یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ یوم کی اضافت تو صیغۂ مضارع کی طرف ہے اور مضارع معرب ہے مگر حقیقت میں یہ شبہ غلط ہے کیونکہ یوم کی اضافت پورے جملہ کی طرف ہے اور جملہ مبنی ہوتا ہے۔ جمہور نے یوم کو خبر ہونے کی بنیاد پر مرفوع بصورت مضموم پڑھا ہے یعنی بغیر تنوین کے۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے قول سے بظاہر یہ سمجھا جاسکتا تھا کہ کافروں کے لئے حضرت دعاء مغفرت کر رہے ہیں اس خیال کو دور کرنے کے لئے فرما دیا کہ آج سچوں کی سچائی فائدہ رساں ہوگی کاذب کافروں کے لئے کوئی فائدہ نہیں ان کی مغفرت نہ ہوگی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کے قول سے بظاہر جو خوف مترشح ہو رہا ہے اس کو دور کرنے کیلئے فرمایا ہو کہ آج سچوں کو ان کی سچائی فائدہ پہنچائے گی (اور تم سچے ہو تم کو کوئی خوف نہ کرنا چاہئے) مطلب یہ کہ دنیا میں جو لوگ (اعتقاد اور قول و عمل کے لحاظ سے) سچے تھے آخرت میں ان کی سچائی مفید ہوگی اور جو دنیا میں جھوٹے تھے وہ آخرت میں سچ بولیں اور لم نک من المصلین ولم نک نطعم المسکین کہیں اور شیطان اقرار کرے کہ ان اللہ عدوکم وعد الحق ووعدتکم۔۔ یا آخرت میں بھی جھوٹ بولیں اور کہیں وا اللہ ربنا ماکنا مشرکین بہرحال کوئی بات مفید نہ ہوگی ان کے منہ پر مہر کردی جائے گی اور ہاتھ پاؤں شہادت دیں گے جس سے ان کی رسوائی اور روسیاہی ہوگی۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک صادقین سے مراد انبیاء ہیں۔ کلبی نے کہا مؤمنوں کو ان کا ایمان فائدہ پہنچائے گا (یعنی صادقین سے مراد مؤمن ہیں) عطاء کے نزدیک یوم ینفع سے اسی دنیا کا دن مراد ہے کیونکہ آخرت تو دارالجزاء ہے دارالعمل نہیں ہے۔ لہم جنت تجری من تحتہا الانہر خلدین فیہا ابدا ان کی سچائی ان کو جنتیں دلوائی گئی جن کے (درختوں اور محلات کے) نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان جنتوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ نفع اور ثواب کا بیان ہے۔ ؓ ورضوا عنہ اللہ ان سے راضی ہوگا اور وہ اللہ سے خوش۔ کیونکہ محبت دونوں جانب سے ہوگی۔ صوفیہ نے یہی تشریح کی ہے لیکن عام اہل تفسیر نے توضیح مطلب اس طرح کی ہے کہ اللہ ان کی مخلصانہ کوشش کو پسند فرمائے گا یہ اللہ کی رضامندی ہوگی اور اللہ کی طرف سے عطا کئے ہوئے کامل ثواب سے اہل جنت خوش ہوں گے یہ ان کی رضامندی ہوگی یعنی ایک طرف سے سعی مشکور ہوگی اور دوسری طرف سے جزاء موفور۔ ذلک الفوز العظیم یہی بڑے درجہ کی کامیابی ہے کیونکہ یہ کامیابی لازوال ہے اور دنیوی کامیابی فنا پذیر ہے۔ اس سے آگے آیات میں اللہ نے اپنی ذات کی عظمت کا اظہار اور عیسائیوں کے عقیدہ کا ابطال فرمایا ہے۔
Ayah 5:120

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا فِیْهِنَّ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:120 in the Quran reader

آسمان اور زمین اور جو کچھ ان (دونوں) میں ہے سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

للہ ملک السموات والارض وما فیہن اللہ ہی کی ہے حکومت آسمانوں کی اور زمینوں اور ان چیزوں کی جو ان کے اندر ہیں۔ ما کا لفظ بےعقل مخلوق کے لئے مستعمل ہے اور من کا لفظ با عقل کے لئے اور استعمال میں باعقل کو بےعقل پر تغلیب دے دی جاتی ہے لیکن ما فیہن میں بےعقل کے ذیل میں باعقل کو داخل کردیا گیا ہے اور وہ لفظ استعمال کیا گیا ہے جو بےعقل کے لئے مخصوص ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جو ممکنات باعقل ہیں وہ بھی ذاتی امکان علمی قصور اور نقصان ارادہ کے اعتبار سے بےعقلوں کے ہم جنس ہیں بلکہ ممکن کی تمام صفات کاملہ کا وجود عدم کی طرح ہے اللہ نے فرمایا ہے ( انک ہیت وانہم میّتون) یعنی تم سب ذاتی اعتبار سے معدوم ہو (یعنی معدوم الاصل ہو اگرچہ موجود بالاعتبار ہو) اسی مضمون پر تنبیہ کرنے کے لئے بجائے منکے لفظ مَا ذکر کیا۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مَا کا اطلاق تمام اجناس پر ہوتا ہے (باعقل ہوں یا بےعقل) اور یہاں عموم مخلوق ہی مراد ہے۔ وہو علی کل شی قدیر اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے۔ نہ دنیا دنیا ‘ موجود کرنا۔ معدوم کرنا سب کا اس کو اختیار ہے۔ سورۂ مائدہ کی تفسیر 6 1 ذی قعدہ 1198 ھ ؁ کو ختم ہوئی۔ اور اس کا ترجمہ یکم ربیع الاوّل 1383 ھ ؁ کو پایہ تکمیل کو پہنچا۔ فاشکرلہ من قبل ومن بعد !