Ayah 5:48وانزلنا الیک الکتاب بالحق مصدقا لما بین یدیہ من الکتاب مہیمنا الیہ : اور اے (محمد ﷺ ہم نے آپ کے پاس یہ کتاب (قرآن) اتار کر بھیجا ہے جو برحق ہے اور اپنے سے پہلی والی (آسمانی) کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔
اوّل الکتاب سے مراد قرآن ہے۔ الف لام عہدی ہے اور دوسری الکتاب سے عام کتب الٰہیہ سابقہ ہیں اس میں الف لام جنسی ہے۔
مہیمن کا ترجمہ۔ بروایت والبی حضرت ابن عباس نے شاہد کیا ہے۔ یہی قول مجاہد قتادہ اور سدی اور کسائی کا ہے۔ عکرمہ نے اس کا ترجمہ کیا بتانے والا۔ سعید بن جبیر اور ابوعبیدہ نے کہا صاحب امانت اور حسن بصری نے کہا۔ امین۔ سعید بن مسیب اور ضحاک نے کہا حاکم اور خلیل نے کہا نگران و محافظ۔ تمام معانی قریب قریب ہیں۔ مقصد سب کا یہ ہے کہ جس کتاب کے متعلق قرآن مجید شہادت دے کہ یہ اللہ کی کتاب ہے وہ ضرور اللہ کی کتاب ہے۔ ابن جریح نے کہا قرآن مجید گزشتہ کتب الٰہیہ کا امین ہے۔ اگر اہل کتاب اپنے کتابوں سے کچھ بیان کریں اور وہ بیان قرآن میں بھی ہو تو اس کی تصدیق کر دو ورنہ جھوٹ سمجھو یعنی اگر قرآن میں اس کی تصدیق ہو تو اس کو صحیح سمجھو اور قرآن میں تکذیب ہو تو اس کو غلط قرار دو اور اگر قرآن اس کے معاملہ میں خاموش ہو تو تم بھی خاموش رہو نہ تصدیق کرو نہ تکذیب کیونکہ اہل کتاب کے بیان میں صدق و کذب دونوں کا احتمال ہے۔ مہیمن برون مفعیل اصل میں ما یمن تھا۔ یہ لفظ امانت سے ماخوذ ہے۔ ہمزہ کو ہاء سے بدل دیا گیا ہے۔
فاحکم بینہم بما انزل اللہ پس لوگوں کے معاملات میں اس حکم کے مطابق فیصلہ کیجئے جو اللہ نے (قرآن میں) نازل کیا ہے۔ کیونکہ حکم قرآنی یا حکم سابق کے موافق ہوگا یا ناسخ۔
ولا تتبع اہوآء ہم اور (اگر لوگ آپ سے اللہ کے حکم کے خلاف فیصلہ کرانا چاہیں تو) آپ ان کی خواہشات پر نہ چلیں۔
عما جآءک من الحق اس حق کو چھوڑ کر جو آپ کے پاس (اللہ کی طرف سے) آگیا ہے۔ چونکہ اتباع (اس جگہ) مفہوم انحراف کو متضمن ہے اس لئے اس کے بعد عن لایا گیا۔ یا حال محذوف ہے یعنی معرضًا عما جاء ک۔
لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنہاجا (اے لوگو) تمہاری ہر امت کے لئے ہم نے شریعت اور (دین کی) کھلی ہوئی راہ مقرر کردی۔ شرعۃ ‘ گھاٹ۔ مراد شریعت۔ کیونکہ شریعت بھی دوامی زندگی تک پہنچانے والی راہ ہے۔ منہاج کھلا ہوا راستہ۔ مراد دینی راستہ۔ یہ لفظ نہج سے ماخوذ ہے۔ نہج کا معنی ہے وضح (کھل گیا واضح ہوگیا) بیضاوی نے اس آیت سے اس امر پر استدلال کیا ہے کہ ہم گزشتہ شریعتوں کے احکام پر مکلف نہیں ہیں۔
ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ اگر قرآن یا حدیث سے ثابت ہوجائے کہ اللہ نے سابق کتابوں میں یہ حکم دیا تھا اور قرآن و حدیث سے اس حکم کا منسوخ ہونا ثابت نہ ہو تو لامحالہ ہم بھی اس کے مکلف ہوں گے۔ کیونکہ وہ بھی ہماری شریعت کے احکام ہی میں داخل ہے (کیونکہ گزشتہ اقوام و ملل کے لئے اس حکم کا خاص ہونا ثابت نہیں اس لئے اس کو عام ہی قرار دیا جائے گا اور قیامت تک سب اس پر مامور ہوں گے) اب یہ کہنا کہ کتب سابقہ کے تمام احکام قابل ترک ہیں عقل سے بھی بغاوت ہے اور نقل کے بھی خلاف ہے۔ رہا شریعتوں کا باہم اختلاف تو وہ اصول میں نہیں ہے۔ اکثر فروعی مسائل میں ہے۔
ولو شآء اللہ لجعلکم امۃ واحدۃ اور اگر اللہ چاہتا تو تم کو ایک جماعت بنا دیتا کہ ہر زمانہ میں سب فروع میں بھی متفق ہوتے نہ کسی حکم کی منسوخی ہوتی نہ تبدیلی۔
ولکن لیبلوکم فیما اتاکم لیکن (اس نے نہ چاہا اور تم کو مختلف امتیں اور مختلف شریعتوں کا حامل بنا دیا) تاکہ ان احکام کے سلسلہ میں تمہاری جانچ کرے جو اللہ نے تم کو دیئے ہیں اور (جو ہر زمانہ اور ہر امت کے لئے جدا جدا مناسب ہیں) مطلب یہ ہے کہ اللہ کو یہ جانچنا مقصود ہے کہ تم میں سے کون اللہ کے حکم پر چلتا ہے اور کون اپنے باپ دادا کے دین کی اندھی تقلید پر جما رہتا ہے۔ بعض علماء نے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا ہے کہ اگر اللہ چاہتا کہ تم سب اسلام پر ہوجاؤ تو جبراً تم کو اسلام پر متفق بنا دیتا مگر اس نے تمہارے جانچنے کی غرض سے جبر نہیں کیا۔
فاستبقوا الخیرات پس نیک اعمال کی طرف بڑھو۔ یعنی فرصت کو غنیمت سمجھو اور اعمال صالحہ کی طرف سب سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو تاکہ سبقت کی فضیلت تم کو حاصل ہو ( رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے) جو شخص کوئی اچھا طریقہ جاری کرے گا اس کو اس طریقہ پر چلنے کا ثواب بھی ملے گا اور ان لوگوں کا ثواب بھی ملے گا جو (قیامت تک) اس طریقہ پر چلتے رہیں گے مگر ان چلنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
الی اللہ مرجعکم جمیعا تم سب کی واپسی اللہ ہی کی طرف ہوگی۔ یہ دعوت سبقت کی علت اور سبقت کرنے والوں کے لئے جزاء کا وعدہ اور سبقت میں کوتاہی کرنے والوں کے لئے عذاب کی وعید ہے۔
فینبئکم بما کنتم فیہ تختلفون پھر وہ تم کو جتلا دے گا جن باتوں میں تم اختلاف کرتے تھے یعنی حق پرست اور باطل پرست کی جزا سزا کا فیصلہ کر دے گا (جس سے معلوم ہوجائے گا کہ کون حق پر تھا اور کون باطل پر) ابن اسحاق نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ کعب بن اشرف۔ عبداللہ بن صوریا اور شاس بن قیس نے باہم مشورہ کیا اور کہا چلو محمد ﷺ کے پاس چلیں۔ شاید ہم انکو ان کے دین سے بہکا سکیں۔ یہ مشورہ کر کے خدمت گرامی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا محمد آپ جانتے ہیں کہ ہم یہود کے علماء اور سردار ہیں۔ ہم اگر اتباع کرلیں گے تو سب یہودی آپ کے پیچھے آجائیں گے اور ہمارے خلاف نہیں کریں گے ہمارا اپنی قوم سے کچھ جھگڑا ہے ہم آپ کے پاس مقدمہ لے کر آئیں گے۔ آپ ہم کو قوم والوں کے خلاف ڈگری دے دیں۔ اگر آپ ایسا کردیں گے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ حضور ﷺ نے اس بات سے انکار کردیا اور مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی۔
Ayah 5:49وان احکم بینہم بما انزل اللہ ولا تتبع اہوآء ہم واحذرہم ان یفتنوک عن بعض ما انزل اللہ الیک اور (ہم نے آپ پر یہ حکم بھی نازل کیا کہ) اللہ نے جو احکام نازل کئے ہیں ان کے مطابق ان کا باہمی فیصلہ کریں اور (اگر فیصلہ ان کی خواہشات کے خلاف ہو تو) ان کی خواہشات پر نہ چلیں اور احتیاط رکھیں کہ یہ کہیں اللہ کے نازل کردہ بعض احکام سے آپ کو بہکا نہ دیں۔ اس کلام کا عطف یا الکتاب پر ہے (اسی تقدیر پر ترجمہ مذکورہ ہوگا) یا الحق پر ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اَمَرْنَامحذوف کا اَنِ احْکُمْمفعول ہو۔ اَنِ یَّفْتِنُوْکَ ہُمْسے بدل ہے یعنی ان کی فتنہ انگیزی اور گمراہ کنی سے ڈریں۔ یا مفعول لہٗ ہے یعنی ان سے محتاط رہیں ان کی فتنہ انگیزی کے اندیشہ سے یا ان سے احتیاط رکھیں کہ کہیں یہ آپ کو گمراہی میں نہ ڈال دیں (اسی ترکیب کے مطابق ترجمہ کیا گیا ہے)
فان تولوا پھر اگر یہ لوگ منہ موڑ لیں۔ یعنی نازل شدہ حکم سے اعراض کریں اور دوسرے کسی حکم کے خواستگار ہوں۔
فاعلم انما یرید اللہ ان یصیبہم ببعض ذنوبہم تو یقین کرلیجئے کہ بس خدا ہی کو منطور ہے کہ ان کے بعض جرموں پر ان کو سزا دے یعنی خدا ہی کو منظور ہے کہ بعض گناہوں کی سزا ان کو دنیا ہی میں فوراً دے دی جائے۔ بعض ذنوب سے مراد ہے روگردانی کرنا۔ لیکن ضمیر (بہٖ ) لانے کی جگہ صراحت کے ساتھ بعض ذنوب کا لفظ ذکر کرنے سے اس امر پر تنبیہ کرنی مقصود ہے کہ گناہ تو ان کے بہت ہیں منجملہ دوسرے گناہوں کے ایک گناہ یہ بھی ہے کہ نازل شدہ حکم سے منہ موڑتے ہیں اور یہ بہت بڑا گناہ ہے۔
وان کثیرا من الناس لفاسقون اور ان لوگوں میں سے بہت آدمی فاسق ہیں یعنی یہودیوں میں سے بہت لوگ سرکش اور کفر میں حد سے آگے بڑھنے والے ہیں۔
Ayah 5:50افحکم الجاہلیۃ یبغون کیا پھر یہ لوگ دور جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں۔ جاہلیت سے مراد ہے جاہلیت کے دور کا مذہب۔ یعنی اپنی خواہشات پر چلنا۔ بعض اہل روایت نے لکھا ہے کہ اس آیت کا نزول بنی قریظہ اور بنی نضیر کے حق میں ہوا۔ ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی تھی کہ ان کا فیصلہ وہی کیا جائے جو اہل جاہلیت (دور اسلامی سے پہلے کے لوگ) کرتے تھے کہ جدا جدا قبائل کے مقتولوں میں نیچ اونچ کا لحاظ رکھتے اور ایک قبیلہ کے مقتول کو دوسرے قبیلے کے مقتول سے (قصاص اور دیت کے لحاظ سے) بڑا چھوٹا قرار دیتے تھے۔ آیت میں استفہام انکاری ہے یعنی (حکم جاہلیت کی طلب نہ کرنی چاہئے) آپ ایسا نہ کریں۔
ومن احسن من اللہ حکما لقوم یوقنون اور فیصلہ کرنے میں اللہ سے کون اچھا ہے۔ ایمان رکھنے والوں کے نزدیک۔ لِقَوْمٍ میں لام بیان کا ہے یعنی اہل ایمان ہی غور و فکر کرتے ہیں اور سوچ سمجھ کر اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اللہ سے بہتر اور برتر حکم والا اور کوئی نہیں ہوسکتا (مخلوق کا علم ناقص اور اللہ کا علم کامل ہے۔ مخلوق کے ساتھ جذبات اور میلانات لگے ہوئے ہیں اس لئے اس کے قائم کردہ قوانین اور جاری کردہ احکام میں بھی ماحول ‘ رسم و رواج ‘ قومیت ‘ وطنیت ‘ نسلیت اور لسانیت وغیرہ کے جذبہ کا لگاؤ ضروری ہے۔ لیکن اللہ ہر جذبہ سے پاک ہے۔ اس لئے اس کا بنایا ہوا قانون اور دیا ہوا حکم علم و عدل پر مبنی ہوتا ہے) ۔
ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کے حوالہ سے لکھا ہے کہ عبداللہ بن ابی بن سلول مسلمان ہوگیا تھا۔ لیکن پھر اس نے سوچا کہ میرے اور قبائل بنی قریظہ و بنی نضیر کے درمیان معاہدہ ہے اور ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف چکر چل جائے (اور یہودی غالب آجائیں) یہ سوچ کر وہ اسلام سے پھر گیا اور کافر ہوگیا۔ حضرت عبادہ بن صامت نے فرمایا میں بنی قریظہ اور بنی نضیر کے معاہدہ سے اللہ کے سامنے اظہار بیزاری کرتا ہوں۔ اب میرا تعاون ‘ اللہ ‘ اللہ کے رسول اور مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ اس پر آیت یایُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اور اِنَّمَا وَلِیْکُمُ اللّٰہُاور لَوْکَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَالنَّبِی وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَا اتَّخَذْتُمْ اَوْلِیَا نازل ہوئی۔
ابن اسحاق ‘ ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم اور بیہقی نے حضرت عبادہ بن صامت کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب بنی قینقاع کے یہودیوں میں باہم جنگ ہوئی تو (معاہدہ کے بموجب) عبداللہ بن ابی سلول انہی کے معاملہ میں الجھا رہا اور انہی کی طرف سے کھڑا ہوگیا لیکن عبادہ بن صامت رسول اللہ ﷺ کی طرف آگئے اور عرض کیا کہ میں ان کے معاہدہ سے دست بردار ہوتا ہوں اور اللہ کے اور اس کے رسول کے سامنے اظہار بیزاری کرتا ہوں۔ آپ قبیلہ بنی عوف بن خزرجی کے ایک فرد تھے (یعنی خزرجی تھے) اور آپ کا یہودیوں سے ایسا ہی معاہدہ تھا جیسا عبداللہ بن ابی کا تھا لیکن آپ نے کافروں کے تعاون و مدد سے اظہار بیزاری کردیا۔ آپ کے اور عبداللہ بن ابی کے متعلق آیت ذیل کا نزول ہوا۔
Ayah 5:51یا ایہا الذین امنوا لا تتخذوا والیہود والنصاری اولیآء اے ایمان والو یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست نہ بناؤ یعنی ان پر اعتماد نہ رکھو اور دوستوں کی ایسی معاشرت ان سے نہ رکھو۔ (1) [ قاضی عیاض کی روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کو حکم دیا کہ آپ نے جو کچھ لیا دیا ہو ایک چمڑے پر (لکھ کر) پیش کیجئے ‘ حضرت ابوموسیٰ کا کاتب عیسائی تھا ‘ کاتب نے حساب پیش کیا۔ حضرت عمر ؓ نے تعجب کیا اور فرمایا یہ بڑی یادداشت رکھتا ہے ‘ اچھا ہمارا ایک خط شام سے آیا ہے تم اس کو مسجد میں چل کر پڑھ دو ‘ حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا : یہ مسجد میں نہیں جاسکتا ‘ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کیا یہ جنب ہے ؟ حضرت ابو موسیٰ نے کہا : نہیں عیسائی ہے ‘ حضرت ابو موسیٰ کا بیان ہے کہ یہ سنتے ہی حضرت عمر ؓ نے میرے کچوکا مارا اور میری ران پر ضرب رسید کی اور فرمایا : اس کو نکال دو پھر آیت : لا تتخذوا والیہود والنصاری اولیائ تلاوت فرمائی۔ اخرجہ ابن ابی حاتم ‘ والبیہقی فی شعب الایمان۔]
بعضہم اولیاء بعض وہ تو باہم ایک دوسرے کے دوست ہیں یعنی چونکہ سب کا مذہب ایک ہے اس لئے آپس کی موالات اور تمہاری مخالفت و ضرر رسانی پر سب متفق ہیں ‘ اس آیت میں دوستی کی ممانعت کی وجہ بیان فرمائی ہے۔
ومن یتولہم منکم فانہ منہم اور تم میں سے جو ان کا دوست ہے وہ حقیقت میں انہی میں سے ہے۔ یعنی عبداللہ بن ابی جو ان کا دوست ہے حقیقت میں کافر و منافق ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابوالحباب تم کو یہود کی دوستی سے عبادۃ بن صامت پر جو کچھ ترجیح ملے گی وہ تمہارے لئے ہوگی عبادہ کے لئے نہیں ہوگی۔ ابن ابی نے کہا تو میں اس کو قبول بھی کرلوں گا۔
یہ بھی جائز ہے کہ فانہ منہم سے مجازی معنی (یعنی فاسق ہونا) مراد ہو مطلب یہ ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں سے جو مسلمان دوستی کرے گا وہ فاسق ہوگا اور فاسق کافر کے مشابہ ہوتا ہے ‘ فانہ منہمکہہ کر کلام میں زور پیدا کیا تاکہ ان کافروں سے اجتناب رکھنے کے حکم کی قوت کا اظہار ہوجائے۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو مسلمان مشرکوں کے ساتھ رہتا ہو میں اس کا ذمہ دار نہیں (کہ لڑائی کے وقت مسلمانوں کا لشکر اس کو کافر سمجھ کر قتل کر دے) طبرانی نے قابل وثوق سند سے حضرت خالد بن ولید کی روایت سے اور ابو داؤد ‘ ترمذی اور نسائی نے حضرت جریر بن عبداللہ کی روایت سے اس کو نقل کیا ہے۔
ان اللہ لا یہدی القوم الظلمین بلاشبہ اللہ ظالموں کو ہدایت یاب نہیں کرتا یعنی ان لوگوں کو ہدایت یاب نہیں کرتا جو کافروں سے دوستی کر کے خود اپنے اوپر بھی ظلم کرتے ہیں اور مسلمانوں کے دشمنوں سے تعاون کر کے مسلمانوں پر ستم بھی کرتے ہیں۔
Ayah 5:52فتری الذین فی قلوبہم مرض یسارعون فیہم اس لئے تم ایسے لوگوں کو کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے دیکھتے ہو کہ دوڑ دوڑ کر ان میں گھستے ہیں ‘ اس سے مراد عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے منافق ساتھی ہیں جو یہودیوں سے موالات اور تعاون میں تیزی سے گھس رہے تھے یسارعون یا تری کا دوسرا مفعول ہے اگر تری کا بمعنی تعلم مانا جائے اور اگر تریٰ سے مراد آنکھوں سے دیکھنا ہو تو جملہ حالیہ ہے۔
یقولون نخشی ان تصیبہ دآئرۃ کہتے ہیں کہ ہم کو اندیشہ ہے کہ ہم پر کوئی حادثہ پڑجائے یعنی زمانہ کی کوئی گردش آپڑے معاملہ الٹ جائے کافروں کے ہاتھ میں اقتدار پہنچ جائے اور محمد کا کام تکمیل کو نہ پہنچے اور مصیبت ہم پر پڑے ‘ کذا قال ابن عباس۔ بعض اہل تفسیر نے آیت کے مطلب کی اس طرح تشریح کی ہے ہم کو اندیشہ ہے کہ زمانہ کی کوئی گردش پڑجائے اور ہم کافروں سے مدد لینے کے ضرورت مند ہوجائیں یا خشک سالی آجائے اور کال پڑجائے اس وقت یہ لوگ ہمیں غلہ نہیں دیں گے۔
ابن جریر اور ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا یہودیوں میں میرے ہم معاہدہ لوگوں کی تعداد بہت ہے مگر میں اللہ اور اس کے رسول کے سامنے ان کی دوستی سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں اور اللہ اور اس کے رسول سے موالات کرتا ہوں ‘ اس پر ابن ابی نے کہا مجھے تو زمانہ کی گردشوں کا اندیشہ ہے میں اپنے ہم معاہدہ لوگوں کی دوستی سے دست بردار نہیں ہوسکتا۔ حضور ﷺ نے فرمایا ابوالحباب یہود کی دوستی سے جو تم کو عبادہ پر ترجیح حاصل ہوگی وہ تمہاری ہوگی ‘ عبادہ کی نہ ہوگی۔ ابن ابی نے کہا تو میں اس کو قبول کرلوں گا۔
فعسی اللہ ان یاتی بالفتح پس قریب امید ہے کہ اللہ فتح (سامنے) لے آئے ‘ الفتح سے مراد قتادہ اور مقاتل کے نزدیک رسول اللہ ﷺ : کی نصرت کا فیصلہ کن حکم اور کلبی و سدی کے نزدیک فتح مکہ اور ضحاک کے نزدیک خیبر فدک اور دوسری یہودی بستیوں کی فتح ہے۔
او امر من عندہ یا کوئی اور بات خاص اپنی طرف سے ‘ اس سے مراد ہے ‘ منافقوں کے پوشیدہ راز ظاہر کردینا اور ان کو قتل و رسوا کرنا یا بنی قریظہ کو قتل اور بنی نضیر کو جلا وطن کردینا اور جزیرۂ عرب سے یہودیوں کی جڑ اکھاڑ دینا۔
فیصبحوا علی ما اسروا فی انفسہم نادمین پھر یہ منافق اپنے پوشیدہ دلی خیالات پر پشیمان ہوں گے ‘ پوشیدہ دلی خیالات سے مراد ہے نفاق اور کافروں کی دوستی کا خیال ‘ یعنی ان کو اپنے پوشیدہ خیالات پر پشیمانی ہوگی ان ظاہر اعمال کا تو ذکر ہی کیا ہے جن سے واضح طور پر ان کے نفاق کی نشان دہی ہوتی ہے۔
Ayah 5:53ویقولون الذین امنوا ہولآء الذین اقسموا باللہ جہد ایمانہم اور مسلمان کہیں گے کہ کیا یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی پختہ قسمیں کھا کر کہا تھا۔ یقول جملہ استینافیہ ہے مطلب یہ ہے کہ جب اللہ فتح سامنے لے آئے گا تو منافق اس وقت نادم ہوں گے اور مسلمان بطور تعجب کہیں گے۔ جہد ایمان سے مراد ہیں پختہ قسمیں۔ یہ فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے یعنی یجتہدون جہد ایمانہم اور چونکہ جہد ایمانہم جملۂ حالیہ محذوف کا قائم مقام ہے۔ اسی لئے (باوجود مفعول مطلق ہونے کے) اس کا معرفہ لانا درست ہے یا جہد ایمان اوراقسموا کا معنوی اشتراک ہے ‘ دونوں کا ایک ہی معنی ہے اس لئے جہد ایمانہم اقسموا کا مفعول مطلق ہے۔
انہم لمعکم کہ ہم یقیناً تمہارے ساتھ ہیں یعنی مسلمان آپس میں بطور تعجب کہیں گے کہ کیا یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے قسمیں کھا کھا کر کہا تھا کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ ہیں یا اظہار مسرت کے طور پر مذکورہ بالا قول کہیں گے یا یہودیوں سے کہیں گے کہ انہی لوگوں نے پختہ قسمیں کھا کر کہا تھا کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اگر تم کو نکالا گیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل جائیں گے اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے۔
حبطت اعمالہم فاصبحو خاسرین ان کی ساری کارروائیاں برباد گئیں اور دنیا و دین میں یہ ناکام ہوگئے ‘ یہ آیت یا مؤمنون کا مقولہ ہے یا اللہ کا مقولہ ہے ‘ اللہ نے منافقوں کے اعمال کی بربادی اور ان کی نامرادی کی شہادت دی ہے۔
Ayah 5:54یا ایہا الذین امنوا من یرتد منہم عن دینہ اے اہل ایمان (1) [ قتادہ نے بیان کیا اللہ کو معلوم تھا کہ آئندہ کچھ لوگ مرتد ہوجائیں گے اس لئے اس آیت میں اس نے اطلاع دے دی ‘ چناچہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوتے ہی عام عرب اسلام سے پھرگئے صرف تین مسجدوں والے مرتد نہیں ہوئے ‘ مدینہ والے ‘ مکہ والے ‘ اور جو اثاد والے قبیلۂ عبدالقیس کے لوگ ‘ مرتدوں نے کہا ہم نماز پڑھیں گے زکوٰۃ نہیں دیں گے ہمارا مال چھینا نہیں جاسکتا ‘ حضرت ابوبکر سے اس سلسلہ میں گفتگو کی گئی کہ اس وقت آپ چشم پوشی کریں اور عرض کیا گیا کہ آئندہ جب ان میں دینی سمجھ آجائے گی تو زکوٰۃ دے دیں گے ‘ حضرت ابوبکر نے فرمایا جن چیزوں کو اللہ نے جمع کیا ہے میں ان میں تفریق نہیں کروں گا اگر اللہ اور اس کے رسول کی مقرر کردہ ایک رسی کے دینے سے بھی یہ انکار کریں گے تو میں ان سے جہاد کروں گا چناچہ اللہ نے آپ کے ساتھ بھی کچھ جماعتیں کردیں یہاں تک کہ مرتدوں سے جنگ ہوئی ان کو قتل کیا گیا آخر ماعون یعنی زکوٰۃ ادا کرنے کا انہوں نے اقرار کیا ‘ قتادہ نے کہا ہم آپس میں کہتے تھے کہ اس آیت کا نزول حضرت ابوبکر اور آپ کے ساتھیوں کے حق میں ہوا تھا ‘ یعنی آیت : فسوف یاتیہم اللّٰہ (یاتیہم کی جگہ یاتی قرآن مجید میں ہے ‘ ہم کا لفظ شاید زیادت کتابت کا نتیجہ ہو اور ممکن ہے حضرت قتادہ نے یونہی فرمایا ہو) یقوم یحبتہم ویحبونہا خرجہ عبد بن حمید و ابن جریر و ابن المنذر والشیخ والبیہقی وابن عساکر۔
صرف حضرت ابوبکر ؓ کے زمانہ میں مرتدوں سے جہاد کیا گیا ‘ صحابہ کی رائے شروع میں اس کے خلاف تھی اور حضرت ابوبکر کے خلاف انہوں نے ناگواری کا اظہار بھی کیا تھا لیکن آپ نے کسی کی ناگواری کی پرواہ نہیں کی ‘ آخر صحابہ نے بھی آپ کی رائے کی تعریف کی ‘ حضرت ابوموسیٰ اشعری کا بیان ہے میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آیت فسوف یاتی اللّٰہ بقوہم یحبہم ویحبونہ پڑھی تو حضور ﷺ نے فرمایا : یہ لوگ اہل یمن میں سے ہیں اور اہل یمن میں سے بھی بنی کندہ میں سے اور بنی کندہ میں سے بھی قبیلۂ سکون میں سے اور سکون میں سے قبیلہ نجیب میں سے۔
قاسم بن محمد کا بیان ہے میں حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے مجھے مرحبا کہا پھر آیت من یرتد منکن عن دینہ فسوف یاتی۔۔ تلاوت کی پھر میرے مونڈھے پر ہاتھ مار کر تین بار فرمایا میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اے اہل یمن وہ (محب محبوب قوم) تم میں سے ہوگی۔[ اخرجہ البخاری فی تاریخہ ]
میں کہتا ہوں حضرت ابوبکر کے لشکر نے اہل یمن کی مدد سے مرتدوں سے جہاد کیا تھا (لہٰذا دونوں روایتیں صحیح ہیں)] تم میں سے جو اپنے دین اسلام سے (کفر کی جانب) پھر جائے گا ‘ حسن بصری نے فرمایا اللہ کو معلوم تھا کہ رسول اللہ ﷺ : کی وفات کے بعد کچھ لوگ اسلام سے پھرجائیں گے ‘ اس لئے اس نے پہلے سے خبر دے دی کہ ایسا ہوگا۔
فسوف یاتی اللہ بقوم یحبہم ویحبونہ تو اللہ آئندہ ایسے لوگ پیدا کر دے گا جن سے اللہ کو محبت ہوگی اور ان کو اللہ سے محبت ہوگی یعنی مسلمانوں کی طرف سے مدافعت کے لئے تم میں سے ہی اللہ ایسے لوگوں کو پیدا کر دے گا جو اللہ کے محب بھی ہوں گے اور محبوب بھی۔
اس قوم سے مراد کون سی قوم ہے اس کے متعلق اقوال میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک حضرت علی ؓ مراد ہیں۔ حسن ‘ ضحاک اور قتادہ کے نزدیک حضرت ابوبکر اور آپ کے ساتھی مراد ہیں جنہوں نے مرتدوں اور زکوٰۃ دینے سے انکار کرنے والوں سے جہاد کیا تھا۔
اس کا واقعہ یہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ : کی وفات ہوتے ہی سوائے اہل مکہ اور اہل مدینہ اور بحرین کے قبیلہ عبدالقیس کے عام عرب مرتد ہوگئے اور بعض نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا حضرت ابوبکر نے ان سے جنگ کرنے کا ارادہ کیا مگر صحابۂ کرام نے اس ارادہ کو پسند نہیں کیا حضرت عمر ؓ نے فرمایا (یہ لوگ کلمہ گو ہیں) آپ ان سے کس طرح جہاد کرسکتے ہیں ‘ رسول اللہ ﷺ نے تو فرمایا ہے کہ مجھے لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم اس وقت تک ہے ‘ جب تک وہ لا الہ الا اللہ کے قائل نہ ہوجائیں جو لا الہ الا اللہ کا قائل ہوگیا اس نے اپنی جان و مال کو مجھ سے محفوظ کرلیا اور اس کا (اندرونی) محاسبہ اللہ کا کام ہے ہاں کسی حق کی وجہ سے (اس کلمہ گو کے جان و مال سے) تعرض کیا جاسکتا ہے ‘ حضرت ابوبکر نے فرمایا جو لوگ نماز اور زکوٰۃ ( کی فرضیت) میں فرق پیدا کرتے ہیں خدا کی قسم میں ان سے جہاد کروں گا کیونکہ (جس طرح نماز جسمانی عبادت ہے اسی طرح) زکوٰۃ مالی فرض ہے ‘ خدا کی قسم اگر یہ لوگ بکری کا بچہ بھی رسول اللہ ﷺ : کو دیتے تھے اور مجھے دینے سے انکار کریں گے تو میں اس پر ان سے جنگ کروں گا۔
حضرت انس کا بیان ہے کہ اداء زکوٰۃ سے انکار کرنے والوں سے جنگ کرنا صحابہ کو (شروع میں) پسند نہ تھا ‘ ان کا قول تھا کہ یہ لوگ تو اہل قبلہ ہیں اور اہل قبلہ سے جہاد نہیں کیا جاسکتا لیکن جب ابوبکر گردن میں تلوار لٹکائے تنہا ہی نکل کھڑے ہوئے تو صحابہ کو بھی نکلے بغیر کوئی چارہ نہیں رہا۔
حضرت ابن مسعود کا بیان ہے ہم کو شروع میں حضرت ابوبکر کا یہ فیصلہ پسند نہ تھا لیکن آخر میں ہم نے آپ کے خیال کی تعریف کی ‘ ابوبکر بن عیاش کا بیان ہے میں نے ابو حفص کو یہ کہتے سنا کہ انبیاء کے بعد حضرت ابوبکر سے افضل کوئی شخص پیدا نہیں ہوا ‘ رسول اللہ ﷺ کے بعد آپ ہی مرتدوں سے جنگ کرنے کے لئے کھڑے ہوگئے ‘ رسول اللہ ﷺ : کی زندگی ہی میں تین گروہ مرتد ہوگئے تھے (1) بنی مذحج جن کا سردار ‘ ذوالحمار ‘ عبہلہ بن کعب عنسی تھا اس کا لقب اسود تھا یہ ایک شعبہ باز کاہن تھا یمن میں اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور بلاد یمن پر قابض ہوگیا تھا رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل (گورنر یمن) اور آپ کے ساتھی مسلمانوں کو لکھا کہ لوگوں کو مضبوطی کے ساتھ دین پر قائم رہنے کی ترغیب دیتے رہیں اور اسود سے لڑنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں ‘ چناچہ فیروز دیلمی نے (گھر میں گھس کر) اسود کو اس کے بستر پر ہی قتل کردیا۔ حضرت ابن عمر کا بیان ہے کہ قتل کی رات کو ہی آسمان سے رسول اللہ ﷺ کو اسود کے قتل ہونے کی خبر مل گئی اور حضور ﷺ نے فرما دیاک آج رات اسود کو قتل کردیا گیا اور مبارک شخص نے اس کو قتل کیا ہے عرض کیا گیا وہ کون ہے فرمایا فیروز ‘ فیروز کامیاب ہوگیا۔ اس بشارت کو سنانے کے دوسرے روز حضور کی وفات ہوگئی اور مدینہ میں اسود کے قتل کی خبر (باضابطہ) ماہ ربیع الاوّل کے آخر میں پہنچی جبکہ اسامہ ؓ جہاد کے لئے جا چکے تھے سب سے اوّل حضرت ابوبکر کے پاس اسی فتح کی اطلاع آئی۔ (2) بنی حنیفہ جن کا سردار مسیلمہ کذاب تھا ‘ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ہی 10 ھ کے آخر میں اس نے نبوت کا دعویٰ کردیا تھا ‘ اسکا خیال تھا کہ محمد کے ساتھ مجھے بھی نبوت میں شریک کردیا گیا ہے چناچہ رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں اس نے مندرجہ ذیل خط بھی بھیجا تھا۔ مسیلمہ رسول خدا کی طرف سے محمد رسول اللہ کے نام۔ اما بعد ‘ یہ زمین آدھی میری اور آدھی آپ کی ہے ‘ یہ خط دو آدمیوں کے ہاتھ حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجا ‘ حضور ﷺ نے قاصدوں سے فرمایا اگر قاصدوں کو قتل نہ کرنے کا حکم نہ ہوتا تو میں تم دونوں کی گردنیں مار دیتا ‘ پھر آپ ﷺ نے جواب لکھوایا۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے مسیلمہ کذاب کے نام۔ اما بعد ‘ ساری زمین اللہ کی ہے اپنے بندوں میں سے وہ جس کو چاہتا ہے اس کا مالک بناتا ہے اور اچھا انجام پرہیزگاروں کا ہوتا ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ بیمار ہوگئے اور آپ کی وفات ہوگئی تو ابوبکر ؓ نے کثیر لشکر کے ساتھ خالد بن ولید کو مسیلمہ سے لڑنے بھیجا۔ آخر مطعم بن عدی کے غلام وحشی کے ہاتھوں سے مسیلمہ مارا گیا وحشی وہی شخص تھا جس نے حمزہ بن عبدالمطلب کو شہید کیا تھا اور مسیلمہ کو قتل کرنے کے بعد کہا کرتا تھا میں نے مسلمان ہونے سے پہلے سب سے بہتر آدمی کو شہید کیا تھا اور مسلمان ہونے کے بعد بدترین آدمی کو قتل کردیا۔
(3) بنی اسد ان کا سردار طلیحہ بن خویلد تھا ‘ یہ مدعیان نبوت میں سب سے آخری شخص تھا جس نے مرتد ہو کر نبوت کا دعویٰ رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی میں کردیا تھا لیکن اس سے جہاد حضور ﷺ کی وفات کے بعد کیا گیا۔ حضرت ابوبکر نے خالد بن ولید کو اس کے مقابلہ کے لئے بھیجا حضرت خالد نے شدید جنگ کے بعد اس کو شکست دی یہ بھاگ کر شام کو چلا گیا پھر کچھ مدت کے بعد دوبارہ مسلمان ہوگیا اور اس کا اسلام خلوص کے ساتھ رہا۔
رسول اللہ ﷺ : کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر ؓ کی خلافت میں بہت لوگ مرتد ہوگئے تھے جن کو ہم سات فرقے کہہ سکتے ہیں۔
1) بنی فزارہ۔ یہ عیینہ بن حصین کا قبیلہ تھا۔
2) بنی غطفان۔ یہ قرہ بن سلمہ قشیری کا قبیلہ تھا۔
3) بنی سلیم۔ یہ فجأۃ بن عبد یا لیل کا قبیلہ تھا۔
4) بنی یربوع۔ یہ مالک بن نویرہ کا کنبہ تھا۔
5) خاندان بنی تمیم کا کچھ حصہ ‘ یہ قبیلہ شجاج بنت منذر زوجۂ مسیلمہ کذاب کا تھا ‘ شجاج نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا تھا لیکن آخر میں مسلمان ہوگئی تھی۔
6) بنی کندہ یہ اشعث بن قیس کا خاندان تھا۔
7) بنی بکر بن وائل یہ بحرین کے باشندے اور حطیم کے قبیلہ والے تھے آخرکار حضرت ابوبکر ؓ کے ہاتھوں اللہ نے ان سب کا کام تمام کرا دیا اور اپنے دین کو فتحیاب کردیا۔
حضرت عائشہ ؓ : کا بیان ہے کہ حضور ﷺ : کی وفات ہوتے ہی عرب مرتد ہوگئے اور نفاق ان کے دلوں میں جم گیا اور میرے باپ پر وہ مشکلات پڑیں کہ اگر مضبوط پہاڑوں پر پڑتیں تو ان کا بھی چورہ کر دیتیں۔
حضرت عمر ؓ کی خلافت میں جبلہ بن ایہم کا قبیلۂ غسان مرتد ہوگیا تھا یہ ارتداد اس وقت ہوا جب (شاہ غسان) جبلہ بن ایہم سے (ایک غریب آدمی) کا بدلہ لینے کا حضرت عمر ؓ نے حکم دیا تھا اور وہ عیسائی ہو کر ملک شام کو چلا گیا تھا ‘ بعض علماء کے نزدیک قوم محب و محبوب سے مراد اشعری قبیلہ کے لوگ ہیں۔ عیاض بن غنم کا بیان ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ابو موسیٰ اشعری کی طرف اشارہ کر کے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کی قوم والے ‘ رواہ ابن جریر فی السنن والطبرانی والحاکم ‘ اشعری قبیلہ کے لوگ یمن کے باشندہ تھے۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے پاس یمن والے آئے ہیں جن کے دل بڑے کمزور اور نرم ہیں۔ ایمان (تو) یمن کا ہے اور حکمت (بھی) یمن کی ہے متفق علیہ ‘ کلبی نے کہا یہ یمن کے مختلف قبائل والے تھے ‘ قبیلۂ نخع کے دو ہزار افراد بنی کندہ اور بحیلہ کے پانچ ہزار اور مختلف قبائل کے تین ہزار ‘ ان سب نے حضرت عمر ؓ کی خلافت میں قادسیہ کی جنگ میں اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔
اذلۃ علی المؤمنین مسلمانوں پر مہربان ‘ اذلۃ ذلیل کی جمع ہے ماضی ذل مضارع یذل اور مصدر ذُلٌ ذِلَّۃٌ ذُلَالَۃَ ذَلاَلۃ اور مَذَلَّۃٌ ہے ذل بےعزت ہوگیا آسان ہوگیا ‘ کذا فی القاموس۔ ذلت اگر خود اپنی طرف سے بطور تواضع ہو تو قابل تعریف ہے اللہ نے فرمایا ہے واخفض لہما جناح الذل من الرحمۃ ‘ یعنی ماں باپ کے لئے عاجزی کے بازو بچھا دو ‘ اگر کسی دوسرے کی طرف سے کسی کی ذلت ہو تو یہ عذاب ہے ‘ اللہ نے فرمایا ہے ترہقہم ذلۃ۔ ضربت علیہم الذلۃ والمسکنۃ۔ ذلت کے مقابل عزت کا لفظ ہے یعنی غلبہ ‘ عزیز وہ شخص جو غالب ہو مغلوب نہ ہو ‘ عزت اگر خود ساختہ ہو تو قابل مذمت ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے ہل الذین کفروا فی عزۃ وشقاق کبھی مجازاً عزت بمعنی حمیت بھی مستعمل ہے ‘ اللہ نے فرمایا ہے اخذتہ العزۃ بالاثم فحسبنہ جہنم اگر عزت اللہ کی طرف سے ہو تو یہ نعمت اور کمال ہے ‘ اللہ نے فرمایا ہے وللّٰہ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین دوسری آیت میں آیا ہے من کان یرید العزۃ فللّٰہ العزۃ جمیعا نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے جو عزت اللہ کی طرف سے نہ ہو وہ ذلت ہے۔
بیضاوی نے لکھا ہے اذلۃ ذلیل کی جمع ہے ذلول کی جمع نہیں ہے ذلول کی جمع ہے ذلل ہے لیکن قاموس میں ہے ذلیل کی جمع ذلال اور اذلاء اور اذلۃ ہے اور ذلول کی جمع ذلل اور اذلۃ ہے پس اذلۃ ذلیل اور ذلول دونوں کی جمع ہے۔
میں کہتا ہوں اگر اذلۃ کو ذلول کی جمع قرار دی جائے تو اس کا معنی ہوگا آسان ‘ سہل ‘ جو صعب (دشوار) کی ضد ہے ‘ دونوں لفظوں (ذلیل و ذلول) کا معنی قریب قریب ہے۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ وہ تواضع کرنے والے نرم خو ‘ مہربان اور آپس میں جھکاؤ رکھنے والے ہیں۔
قیاس لغوی کا تقاضا تھا کہ علی المؤمنین کی جگہ للمؤمنین ہوتا لیکن بجائے لام کے علیٰ ذکر کیا گیا کیونکہ الکافرین کے ساتھ بھی علیٰ آیا ہے مشاکلت کا تقاضا تھا کہ المؤمنین کے ساتھ بھی علی ذکر کیا جائے پھر اس امر پر تنبیہ کرنا بھی مقصود ہے کہ باوجودیکہ دوسرے مؤمنوں پر ان کو برتری حاصل ہے اور ان کا مرتبہ اونچا ہے لیکن مؤمنوں کے سامنے وہ جھکے رہتے ہیں ‘ یا یوں کہا جائے کہ لفظ ذلت اپنے اندر شفقت اور مہربانی کا مفہوم رکھتا ہے اور عطف (بمعنی مہربانی) کے بعد علیٰ آتا ہے اس لئے اذلۃ کے بعد بھی علیٰ کو ذکر کیا ‘ یا یوں کہا جائے کہ اذلۃ کا لفظ اعزۃ کے مقابل ذکر کیا گیا ہے گویا اذلۃ کا معنی ہے غیر اعزۃ۔
اعزۃ علی الکافرین کافروں کے مقابلہ میں طاقتور۔ یعنی کافروں کے مقابلہ میں طاقتور ہیں ‘ عاجزی و کمزوری ظاہر نہیں کرتے۔ اسی مضمون کی دوسری آیت بھی آئی ہے فرمایا ہے اشدء علی الکفار ورحماء بینہم۔
یجاہدون فی سبیل اللہ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے۔
ولا یخافون لومۃ لآئم اور (اللہ کے احکام کی تعمیل کرنے میں) کسی برا کہنے والے کے برا کہنے سے خوف زدہ نہیں ہوں گے (کسی ملامت گر کی ملامت کا اندیشہ نہیں کریں گے) یہ یجاہدون کی ضمیر سے حال ہے ‘ اس صورت میں مطلب اس طرح ہوگا کہ وہ کافروں کی ملامت کا اندیشہ کئے بغیر جہاد کریں گے ‘ منافقوں کی حالت اس کے خلاف تھی۔ وہ مسلمانوں کے لشکر کے ساتھ یا تو مال غنیمت کی طمع میں نکلتے تھے یا اس خیال سے نکلتے تھے کہ نہ نکلنے کی صورت میں ان کے نفاق کا اظہار ہوجائے گا لیکن اس کے ساتھ یہودی دوستوں کے برا کہنے کا اندیشہ لگا رہتا تھا اس لئے کوئی ایسا کام نہ کرتے تھے جس پر یہودی ان کو آئندہ ملامت کرسکیں ‘ یا لایخافون کا عطف یجاہدون پر ہے یعنی ان کے اندر دو وصف پائے جاتے ہیں ایک تو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں دوسرے دین میں بڑے ٹھوس ہیں دینی کام میں ان کو کسی کے برا کہنے کا اندیشہ نہیں ‘ حضرت عبادہ بن صامت کا بیان ہے ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت ان شرطوں پر کی کہ حکم سنیں گے اور مانیں گے اور جہاں بھی ہوں گے حق بات کہیں گے اللہ کے معاملہ میں کسی برا کہنے والے کے برا کہنے کا اندیشہ نہیں کریں گے ‘ متفق علیہ۔
لومۃ ایک بار ملامت کرنا۔ دونوں کو نکرہ لانے سے اس طرح اشارہ ہے کہ کسی ملامت گر کی کسی ایک ملامت کی بھی ان کو پرواہ نہ ہوگی۔
ذلک یہ ‘ یعنی اللہ کا محب و محبوب ہونا مسلمانوں کے سامنے بچھ جانا ‘ کافروں کے مقابلہ میں اظہار قوت کرنا ‘ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا کسی کی ملامت کی پرواہ نہ کرنا اور قوم کے مرتد ہونے اور مسلمانوں کی ساکھ کم ہوجانے کے باوجود کسی کے برا کہنے سے نہ ڈرنا۔
فضل اللہ (اُن پر) اللہ کی مہربانی ہے اور اس کی دین ہے۔
یوتیہ من یشآء اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو دینا چاہتا ہے دیتا ہے پس جس کے اندر اوصاف مذکورہ میں سے کوئی صفت ہو اس کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے برخود غلط نہ ہوجانا چاہئے کیونکہ یہ محض اللہ کی عنایت ہے خود آوردہ کچھ نہیں۔
واللہ واسع اور اللہ بڑی وسعت والا ہے ‘ صوفیہ نے کہا اس کی وسعت بےکیف ہے ‘ تمام مظاہر میں اسی کے اوصاف کمالیہ پر تو انداز ہیں۔ یا اللہ کے وسیع ہونے کا معنی ہے اس کے فضل وقدرت کا وسیع ہونا۔
علیم وہ خوب جانتا ہے کہ اپنی قدرت کا استعمال کہاں کہاں کرے تقاضاء حکمت کے خلاف نہیں کرتا (یعنی اس کی قدرت اگرچہ نامحدود ہے مگر استعمال قدرت ‘ حکمت کے تحت ہے بغیر حکمت کے قدرت کا استعمال نہیں کرتا)
Ayah 5:55انما ولیکم اللہ ورسولہ والزین امنوا تمہارے دوست تو بس اللہ اور اس کا رسول اور اہل ایمان ہیں۔ اس کلام کا تعلق آیت لا تتخذوا الیہود والنصاری اولیائ سے ہے درمیانی آیات نہی کی تاکید کیلئے ذکر کی گئی ہیں یا بیچ کی آیات کو مستحقین دوستی کی تعیین کیلئے بطور تمہید ذکر کیا ہے جیسے آیت فسوف یاتی اللہ بقوم سے مستحق ولایت کی تعیین ہو رہی ہے۔
انماکلمۂ حصر ہے سابق کلام سے جو ممانعت مستفاد ہو رہی ہے اس کی تاکید اس کلام سے ہوتی ہے کیونکہ بصرہ کے اہل نحو کے نزدیک انما سے نفی کا استفادہ ہوتا ہے۔
مسلمانوں کے دوست تین تھے اللہ ‘ رسول اور اہل ایمان۔ اسکے باوجود اولیاء کی جگہ ولی (بصیغۂ مفرد) کہنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ حقیقت میں تو مستقل دوست تو ایک ہی ہے یعنی اللہ ‘ باقی رسول اور اہل ایمان کا دوست ہونا تو وہ ذیلی اور اللہ کی دوستی کی وجہ سے ہے۔
الذین یقیمون الصلوۃ ویوتون الزکوۃ جو ٹھیک ٹھیک نماز پڑھتے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں یہ الذین امنوا کی صفت ہے ‘ یا بدل ہے یا محذوف مبتدا کی خبر ہے یا فعل محذوف کا مفعول ہے۔
وہم راکعون (نماز پڑھتے ہیں) اور رکوع بھی کرتے ہیں ‘ اس کا عطف الذین یقیمون الصلوۃ پر ہے یعنی ان کی نماز بارکوع ہوتی ہے ‘ یہودیوں اور عیسائیوں کی نمازوں کی طرح بغیر رکوع کے نہیں ہوتی۔ یا راکعونکا معنی ہے خاشعون خاضعون یعنی وہ نماز و زکوٰۃ کی ادائیگی خشوع و خضوع کے ساتھ کرتے ہیں۔ جوہری نے لکھا ہے کہ رکوع کا استعمال کبھی عاجزی اور خضوع کے معنی میں بھی ہوتا ہے۔
یہ بھی جائز ہے کہ وہم راکعون ‘ جملہ حالیہ ہو اور یوتون الزکٰوۃ کی ضمیر سے حال ہو یعنی نماز کے رکوع کی حالت میں وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں ‘ طبرانی نے الاوسط میں مجہول راویوں کی سند سے حضرت عمار بن یاسر کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب ایک بار نفل نماز کے رکوع کی حالت میں تھے کہ ایک سائل آکر کھڑا ہوا آپ نے اسی حالت میں اپنی انگشتری اتار کر اس کو دے دی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ طبرانی کی (یہ روایت اگرچہ مجہول راویوں کی سند سے ہے لیکن) اس روایت کے دوسرے شواہد بھی آئے ہیں ‘ عبدالرزاق بن عبدالوہاب بن مجاہد نے اپنے باپ کی روایت سے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ آیت : انما ولیکم اللہ حضرت علی بن ابی طالب کے حق میں نازل ہوئی ‘ ابن مردویہ نے دوسری سند سے بھی حضرت ابن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے اور حضرت علی کا بھی یہی قول بیان کیا ہے۔ ابن جریر نے مجاہد کی روایت سے اور ابن ابی حاتم نے سلمہ بن کہیل کی روایت سے بھی ایسا ہی بیان کیا ہے ‘ ثعلبی نے حضرت ابوذر کی روایت سے اور حاکم نے علوم الحدیث میں خود حضرت علی کا قول اسی طرح لکھا ہے ‘ یہ تمام شواہد ایسے ہیں کہ ایک دوسرے کی تائید کررہا ہے۔
اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز کے اندر عمل قلیل کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی اسی پر اجماع ہے ‘ اس قصہ سے ایک بات یہ بھی ثابت ہوتی ہے کہ صدقۂ نافلہ (خیرات) کو زکوٰۃ کہنا درست ہے اور آیت کا نزول اگرچہ حضرت علی کے حق میں ہوا مگر مورد کی خصوصیت حکم کے عموم سے مانع نہیں اعتبار خصوصیت مورد کا نہیں الفاظ کے عموم کا ہے اور صیغۂ جمع کا استعمال اس کا قرینہ بھی ہے (کہ جو لوگ بھی ایسا کرتے ہوں ان کا یہی حکم ہے)
چونکہ دینے کا واقعہ رکوع کی حالت میں ہوا تھا اسلئے رکوع کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کردیا ورنہ آیت کی مراد یہ ہے کہ سائل کے مانگنے کے بعد فوراً بلاتاخیر دیتے ہیں (رکوع میں یا قیام صلوٰۃ میں یا قعود میں یا کسی اور دنیوی دینی کام میں) رکوع کا ذکر بطور تمثیل ہے۔
بیضاوی نے لکھا ہے کہ اگر روایت سے ثابت ہوجائے کہ یہ آیت حضرت علی کے متعلق نازل ہوئی تو صیغۂ جمع کا استعمال دوسروں کو ترغیب دینے کے لئے ہے کہ وہ بھی حضرت علی کی طرح کریں اور اسی حکم میں شامل ہوجائیں۔
میں کہتا ہوں کہ آیت میں اگر حضرت علی مراد ہوں تو اس صورت میں لفظ انما سے جو حصر معلوم ہو رہا ہے وہ (حصر حقیقی نہ ہوگا کہ حضرت علی کے سوا تمام لوگ اس حکم سے خارج ہوجائیں بلکہ) اضافی ہوگا یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کے مقابل ہوگا ان کی نفی ہوجائے گی دوسرے مؤمنوں کی نفی نہ ہوگی ‘ جیسے آیت : وما محمد الا رسول (میں حصر اضافی ہے) ۔
بغوی نے لکھا ہے بعض روایات میں حضرت ابن عباس کی طرف اس قول کی نسبت کی گئی ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت عبادہ بن صامت اور عبداللہ بن ابی بن سلول کے متعلق ہوا ‘ جب حضرت عبادہ یہود کی دوستی سے دستبردار ہوگئے اور فرمایا میں اللہ ‘ اللہ کے رسول اور مسلمانوں کا دوست ہوں تو انہی کے متعلق یا ایہا الذین آمنوا لا تتخذوا سے انما ولیکم اللّٰہ ورسولہ والذین امنوا۔۔ نازل ہوئی ان مؤمنوں سے مراد ہیں حضرت عبادہ اور دوسرے صحابہ کرام۔
بغوی نے یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام نے رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہماری قوم یعنی بنی قریظہ اور بنی نضیر نے تو ہم کو چھوڑ دیا اور ہم سے الگ ہوگئے اور قسم کھالی کہ ہمارے ساتھ نشست و برخاست نہیں رکھیں گے تو یہ آیت نازل ہوئی اس پر حضرت عبداللہ نے فرمایا ہم اللہ اور اس کے رسول اور مؤمنوں کی دوستی پر خوش ہیں ‘ جویبر کی روایت ہے کہ آیت : انما ولیکم اللّٰہ ورسولہ والذین امنوا کے سلسلہ میں ضحاک نے کہا یہ وہی مؤمن ہیں جن میں ہر ایک دوسرے کا دوست ہے۔
حضرت ابوجعفر محمد بن علی باقر نے فرمایا یہ آیت مؤمنوں کے متعلق نازل ہوئی ‘ دریافت کیا گیا حضرت لوگ تو کہتے ہیں کہ اس کا نزول حضرت علی بن ابی طالب کے متعلق ہوا فرمایا وہ بھی مؤمنوں میں سے تھے ‘ رواہ عبد بن حمید و ابن جریر و ابن المنذر و ابن ابی حاتم و ابو نعیم فی الحلیۃ۔
عکرمہ کا قول روایت میں آیا ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت ابوبکر کے متعلق ہوا ‘ بغوی نے لکھا ہے (حضرت علی کے متعلق جو روایات آئی ہیں ان کو چھوڑ کر باقی) روایات کی روشنی میں راکعون سے مراد ہوں گے رات دن نفل پڑھنے والے۔
Ayah 5:56ومن یتول اللہ ورسولہ والذین امنوا اور جن کے دوست اللہ ‘ اللہ کا رسول اور مؤمن ہوں (تو یہ اللہ کا گروہ ہوگا) حضرت ابن عباس نے فرمایا ان سے مراد مہاجر و انصار ہیں یعنی جو لوگ مہاجرین و انصار کی دوستی اختیار کریں گے۔
فان حزب اللہ ہم الغالبون اور اللہ کا گروہ ہی غالب آنے والا ہے ‘ اصل میں فان حزب اللّٰہ کی جگہ فانہم ہونا چاہئے (کیونکہ مرجع پہلے مذکور ہے) مگر غلبہ کو مدلل کرنے کے لئے لفظ حزب اللہ فرمایا (کہ یہ اللہ کا گروہ ہے) گویا یوں فرمایا کہ جو لوگ ان کے دوست ہوں گے وہ اللہ کا گروہ ہوں گے اور اللہ کا گروہ ہی غالب آنے والا ہے نتیجہ یہ نکلا کہ یہ ہی لوگ غالب آنے والے ہیں ‘ پھر لفظ حزب اللہ میں ان اولیاء کی عظمت کا اظہار بلندی شان کا ذکر اور عزت بخشی کی صراحت بھی ہے اور جو لوگ اللہ ‘ رسول اور مؤمنوں کو چھوڑ کر دوسروں سے دوستی کرتے ہیں ان پر تعریض بھی ہے کہ وہ شیطان کا گروہ ہے۔
قاموس میں ہے حزب کا معنی ہے وظیفہ ‘ گروہ ‘ ہتھیار ‘ جتھہ اور کسی شخص کے وہ ساتھی جو اس کے خیال پر ہوں۔ میں کہتا ہوں یہی (آخری) معنی یہاں مراد ہے ‘ بیضاوی نے لکھا ہے کہ جو لوگ کسی نازل شدہ مصیبت (کو دور کرنے) کے لئے جمع ہوجائیں ان کو حزب کہا جاتا ہے ‘ قاموس میں ہے حزبہ الامر اس پر مصیبت آپڑی۔
رافضی قائل ہیں کہ خلافت کا حصر صرف حضرت علی میں ہے اس قول پر استدلال روافض نے اس آیت سے کیا ہے اس جگہ ولی سے مراد ہے مسلمانوں کا ناظم اور امور انتظامیہ کا متولی پس اللہ نے اپنے لئے اور اپنے رسول کے لئے جس طرح ولایت کو ثابت کیا ہے اسی طرح علی ؓ کو بھی مسلمانوں کا والی قرار دیا ہے اور لفظ انماکو حضر کے لئے ذکر کیا ہے (تاکہ مسلمانوں کا والی اللہ ‘ اللہ کا رسول اور علی قرار پائیں کسی دوسرے کو یہ امتیازی وصف حاصل نہ ہو) اور چونکہ اللہ اور اللہ کے رسول کا والی ہونا عمومی ہے (تمام مسلمانوں کو حاوی ہے) اس لئے علی کی ولایت بھی عمومی ہے بس علی ہی امام ہیں آپ کے سوا کسی دوسرے کو خلیفہ ہونے کا حق نہیں ‘ اس کی تائید براء بن عازب اور زید بن ارقم کی روایت سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ (مقام) خم کے تالاب پر فروکش ہوئے تو علی کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ میں مؤمنوں کا والی خود ان کی ذات سے بھی زیادہ ہوں ‘ صحابہ نے عرض کیا بیشک ایسا ہی ہے حضور ﷺ نے فرمایا اے اللہ جس کا میں مولیٰ ہوں اس کا علی بھی مولیٰ ہے ‘ اے اللہ جو علی کا دوست ہو تو بھی اس سے دوستی رکھ اور جو علی کا دشمن ہو تو بھی اس کا دشمن ہوجا۔
اس واقعہ کے بعد عمر کی ملاقات علی سے ہوئی تو عمر نے کہا اے ابن ابی طالب تم کو مبارک ہو تم شبانہ روز (ہر وقت) ہر مؤمن مرد و عورت کے مولیٰ ہوگئے۔ رواہ احمد وغیرہ۔
یہ حدیث حد تواتر تک پہنچ چکی ہے تقریباً تیس صحابیوں کی روایت سے محدثین کی ایک جماعت نے صحاح سنن اور مسندوں میں اس کا ذکر کیا ہے ‘ علی بن ابی طالب ‘ بریدہ بن حصیب ‘ ابو ایوب عمرو بن مرہ ‘ ابوہریرہ ‘ ابن عباس ‘ عمار بن بریدہ ‘ سعد بن وقاص ‘ عبداللہ بن عمر ‘ انس بن مالک ‘ جریر بن مالک بن حویرث ‘ ابو سعید خدری ‘ طلحہ ‘ ابوالطفیل ‘ حذیفہ بن اسید اور بکثرت دوسرے صحابہ نے اس کو بیان کیا ہے ‘ بعض روایات کے الفاظ اس طرح ہیں۔ میں جس کا والی اس کی جان سے زیادہ ہوں علی بھی اس کا ولی (والی) ہے
غدیر خم کی یہ حدیث واضح طور پر علی کی خلافت کو ثابت کر رہی ہے ‘ عمران بن حصین راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے۔ علی ہر مؤمن کا ولی (والی) ہے رواہ الترمذی و ابن ابی الشیبہ۔ یہ دونوں حدیثیں آیت مذکورہ سے بھی زیادہ علی کی خلافت پر واضح طور سے دلالت کر رہی ہیں کیونکہ آیت کا نزول اگر علی کے لئے قرار دیا جائے تب بھی تمام مؤمنوں کو حکم ولایت شامل ہے اور دونوں حدیثوں میں تو علی کی خصوصی ولایت کی صراحت ہے (کوئی دوسرا اس میں شریک نہیں ہوسکتا) ۔
ہم کہتے ہیں کہ آیت اور حدیثوں سے سوائے حضرت علی کے دوسروں کی خلافت کی نفی پر دلیل لانی غلط ہے ‘ کیونکہ صاحب قاموس نے لکھا ہے وَلِی وَلْیٌسے اسم (صفت) ہے ولی کا معنی ہے ‘ محب ‘ دوست ‘ مددگار ‘ جوہری نے صحاح میں لکھا ہے ‘ ولاء اور تو الی دو یا زیادہ چیزوں کا اس طرح ہوجانا کہ ان کے درمیان بیگانگی نہ رہے ‘ مجازاً اس کا اطلاق قرب مکانی ‘ قرابت نسبی ‘ قرابت دینی۔ قرب دوستی ‘ قرب مدد ‘ قرب عقیدہ اور آقائیت پر ہوتا ہے اور ناظم امور (متولی انتظام) ہونے پر بھی ہوتا ہے۔ قاموس میں ہے مولیٰ کا معنی ہے مالک ‘ غلام ‘ آزاد کرنے والا ‘ آزاد کیا ہوا ‘ ساتھی قرابتدار ‘ جیسے چچا کا بیٹا بہن کا بیٹا ‘ ہمسایہ ‘ معاہد ‘ مہمان ‘ شریک ‘ رب ‘ ولی ‘ مددگار ‘ نعمت دینے والا ‘ انعام یافتہ ‘ محب ‘ تابع ‘ دوست قرآن میں یہ لفظ آیا ہے بندہ کی خدا سے جو نسبت محبت و قربت ہوتی ہے اس کو ولایت کہتے ہیں اور ولی کا اطلاق بندہ پر بھی ہوتا ہے جیسے کسی کو ولی اللہ کہا جاتا ہے اور اللہ پر بھی ہوتا ہے آیت میں آیا ہے اللّٰہ ولی الذین امنوا قرآن میں مولی کا اطلاق اللہ پر آیا ہے ‘ فرمایا ہے نعم المولی ونعم النصیر نیز جبرئیل اور نیک مؤمنوں پر بھی آیا ہے ‘ فرمایا ہے ان اللّٰہ ہو مولاہ وجبریل و صالح المؤمنین۔
خلاصہ یہ کہ یہ آیت اور یہ احادیث تعیین کے ساتھ حضرت علی کی خلافت پر ہی دلالت نہیں کرتیں دوسروں کی خلافت کی نفی تو بجائے خود رہی ہاں آیت سے حضرت علی کا مستحق ہونا اور احادیث سے حضرت علی کی محبت کا واجب ہونا اور آپ کی دشمنی کا حرام ہونا ضرور ثابت ہو رہا ہے جس طرح آیت سے یہودیوں اور عیسائیوں سے دوستی اور موالات رکھنے کی حرمت معلوم ہو رہی ہے۔
ابو نعیم مداینی کا بیان ہے کہ جب حسن مثنیٰ بن امام حسن مجتبیٰ سے کہا گیا کہ حدیث من کنت مولاہ میں حضرت علی کی خلافت کی صراحت ہے تو فرمایا سنو خدا کی قسم اگر رسول اللہ ﷺ : کی یہ مراد ہوں تو آپ ﷺ بالکل واضح طور پر بیان فرما دیتے ‘ حضور ﷺ مسلمانوں سے تو سب سے واضح کلام فرمایا کرتے تھے ‘ غدیر خم میں رسول اللہ ﷺ : کی اس تقریر کا باعث یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی کو امیر لشکر بنا کر یمن بھیجا حضرت علی نے خمس کے مال میں سے ایک باندی لے لی اس کی شکایت بعض لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے کی ‘ حضور ﷺ اس شکایت کو سن کر غضبناک ہوگئے اور فرمایا تم ایسے شخص سے کیا چاہتے ہو جو اللہ اور اللہ کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اللہ کا رسول بھی اس سے محبت رکھتے ہیں ‘ پھر آپ ﷺ نے یہ خطبہ دیا تاکہ حضرت علی کی محبت مسلمانوں کے دلوں میں جم جائے اور ان کی شکایت دور ہوجائے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس خطبہ میں جو یہ فرمایا ہے الستم تعلمون انی اولی بکل مؤمن اس سے مسلمانوں کو متنبہ کرنا مقصود ہے کہ علی کی محبت کا جو میں تم کو حکم دے رہا ہوں اس کی تعمیل تم پر واجب ہے اسی طرح آخر کلام میں جو حضور ﷺ نے دعا کی ہے اس کی غرض بھی علی کی محبت کی تاکید ہے۔
یہ آیت دو طرح سے رافضیوں کے مذہب کی تردید کر رہی ہے۔
(1) رافضیوں کے مذہب کی بناء تقیہ پر ہے مگر آیت : اذلۃ علی المؤمنین اعزۃ علی الکافرین یجاہدون فی سبیل اللہ لا یخافون لومۃ لائمتقیہ کی تردید کر رہی ہے (اس میں تعریف ان لوگوں کی گئی ہے جو علی الاعلان ڈنکے کی چوٹ جہاد کرتے ہوں اور کسی کے برا کہنے سے نہیں ڈرتے ہوں) حضرت علی ؓ نے تینوں خلفاء کی بیعت کی اور تینوں کے ساتھ مل کر 23 برس تک نمازیں پڑھیں اور جہاد کئے اور حضرت عمر ؓ سے اپنی صاحبزادی کا نکاح کرایا کیا سب کچھ تقیہ کے ساتھ لوگوں کے دباؤ کے زیر اثر تھا اگر ایسا تھا تو پھر آپ کا شمول اس آیت کے حکم میں نہ ہوگا ‘ اس قول کے کہنے کی جرأت سوائے رافضیوں کے کوئی سنی تو کر نہیں سکتا۔
(2) آیت فان حزب اللّٰہ ہم الغالبون بتارہی ہے کہ صرف اہل سنت کا فرقہ ہی فرقۂ ناجیہ ہے رافضی یا کوئی دوسرا بدعتی فرقہ نجات یافتہ نہیں ہوسکتا کیونکہ ہمیشہ اہل سنت غالب رہے ہیں بلکہ رافضی تو یہاں تک کہتے ہیں کہ حضرت علی نے محض تقیہ کے ساتھ دباؤ کے زیر اثر خلفاء ثلاثہ کا ساتھ دیا اور آپ کے بعد دوسرے اماموں نے خوف کی وجہ سے اپنے دین کا اظہار نہیں کیا اور اپنے ساتھیوں کو پوشیدہ طور پر دین کی تعلیم دیتے رہے اور پوشیدہ رکھنے کا ہی حکم دیتے رہے اور برابر کہتے رہے دیکھو دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں بہت ہی اخفاء سے کام لینا چاہئے ‘ امام باقر اور امام جعفر صادق کی طرف یہ لوگ ایسے ہی اقوال کی نسبت کرتے ہیں جو ان کی کتابوں میں موجود ہیں ‘ یہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت صاحب الامر (امام مہدی) سامرہ کے تہ خانہ میں ہزار برس سے چھپے ہوئے ہیں۔ واللہ اعلم۔
حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ رفاعہ بن زید بن تابوت اور سوید بن حارث بظاہر مسلمان ہوگئے تھے مگر باطن میں کافر تھے مسلمان دونوں کو دوست سمجھنے لگے تھے اس پر مندرجہ ذیل آیت کا نزول ہوا۔
Ayah 5:57یایہا الذین امنوا لا تتخذوا والذین اتخذوا دینکم ہزوا ولعبا من الذین اوتوا الکتاب من قبلکم والکفار اولیاء اے ایمان والو ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جنہوں نے تمہارے دین کو مذاق اور کھیل بنا رکھا ہے (خواہ وہ) ان لوگوں میں سے ہوں جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی (یعنی یہود) یا دوسرے کافر ہوں ‘ کیوں کہ وہ دل میں کافر ہیں ایمان کو ظاہر کرتے ہیں۔ ممانعت موالات کو استہزاء پر مبنی کرنا بتارہا ہے کہ ممانعت کی علت استہزاء ہے اور اس امر پر تنبہ ہے کہ ان کے استہزاء کا تقاضا تو یہ ہے کہ ان سے دشمنی کی جائے دوستی کا کیا ذکر۔
ہزواً اور لعباً اسم مفعول کے معنی میں ہے یعنی مسخرہ اور کھلونا۔ الکفار سے مراد مشرک ہیں ‘ حضرت ابن مسعود کی قرأت میں آیا ہے ومن الذین اشرکوا اس قرأت سے بھی قرأت سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے کہ کفار سے مراد مشرک ہیں۔ یہ بھی جائز ہے کہ الکفار سے مراد دونوں گروہ ہوں مشرک بھی اور اہل کتاب بھی ‘ اس صورت میں یہ تخصیص کے بعد تعمیم ہوگی ‘ اور اس امر کی طرف اشارہ ہوگا کہ استہزاء ہو یا کفر دونوں کا تقاضا ہے کہ موالات نہ کی جائے دشمنی رکھی جائے۔
واتقوا اللہ ان کنتم مؤمنین اور اللہ سے ڈرتے رہو اگر تم مؤمن ہو یعنی ممنوعات کو ترک کردو ‘ ان کنتم شرط ہے اس کو جزاء کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ کہ کلام سابق سے خود جزاء کا مفہوم معلوم ہو رہا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ پر اور اس کے وعد و وعید پر ایمان ‘ تقاضا یہ ہے کہ ممنوعات سے پرہیز رکھو۔
کلبی نے کہا کہ جب رسول اللہ ﷺ کا مؤذن نماز کی اذان دیتا اور لوگ نماز کے لئے کھڑے ہوجاتے اور یہودی مذاق سے کہتے کھڑے ہوگئے نہیں کھڑے ہوئے نماز پڑھی نہیں پڑھی یہ کہہ کر ہنستے اس پر اللہ نے آیت ذیل نازل کی۔